Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No.12 || 12معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان

 #معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط12

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
واو یہ تو بہت پیارا ہے مشعل نے ایک ڈریس جو کے نارنگی رنگ کی خوبصورت فروک تھی خود کے لگا کے کہا،حیدر بھی دور کھڑا یہ دیکھ رہا تھا،حیا تم لے لو یہ بہت پیاری ہے مشعل نے حیا کی طرف دیکھا،
نہیں یہ تو تم پر اچھی لگ رہی ہے نا بھیا حیا نے حیدر کو بھی بیچ میں گھسیٹ لیا،حیدر کچھ کہتا اس سے پہلے اس کا فون بجنے لگا وہ ان دونوں کو شوپ میں چھوڑ کے باہر آگیا،
حیا کے کہنے پر وہ مشعل نے پیک کروا لیا یار حیا میرا پرس تو میں گاڑی میں بھول آئی مشعل کے چہرے پر پریشانی آگئی ،کوئی بات نہیں بھیا بل دے دیگے حیا نے آرام سے کہا،نہیں میں نہیں لوگی ان آرمی کے بندے سے پیسے جب دیکھوں مجھے ڈانٹتے رہتے ہیں میں ابھی گاڑی سے اپنا بیگ لائی مشعل بولتی ہوئی باہر بھاگی جب کے حیا ایک دم اکیلے ہونے سے گھبرانے لگی،
بھیا کو بلانے کی گرز سے حیا دوکان سے باہر آئی پر اسے حیدر کہی نظر نہیں آیا اب ڈر کے اس نے یہاں وہاں دیکھا دن کا ٹائم تھا مول میں بہت سے لوگ یہاں سے وہاں جارہے تھے دور سے اسے حیدر نظر آیا بلیک شرٹ میں پر وہ فون پر بات کرتے ہوئے کہی جا رہا تھا بھیا!!! حیا نے آواز دینا چاہی پر حیدر ایک جگہ موڑ گیا حیا بھی فوراً حیدر کے پیچھے گئی،
***************** 
حیدر فون پر بات کرتے ہوئے باہر آیا جب اس کی نظر برابر والی شوپ پر گئی جہاں ڈمی نے بہت پیارا لہنگا پہنا ہوا تھا حیدر یہ لینے اندر بڑھ گیا کچھ دیر میں اسے پیک کرا کے واپس برابر والی شوپ میں آیا تو وہاں مشعل حیا دونوں غائب تھی،
یہ دونوں کہا گئی اس نے دوکان دار سے پوچھا تو اس نے بتایا کے باہر کی طرف گئی اس نے بل پے کر کے سب سامان لیا اور باہر آیا کے اسے سامنے سے مشعل آتی ہوئی نظر آئی،مشعل حیا کہا ہے حیدر نے اس کے دائیں بائیں نظر دوڈائی،
وہ تو میرے ساتھ نہیں ہے وہ تو اندر ہے دوکان میں مشعل نے نہ سمجھنے والے تاثرات سے حیدر کو دیکھا اندر نہیں ہے وہ اسے یہاں کا رستہ بھی ٹھیک سے نہیں پتا تم اسے اکیلے چھوڑ کے کہا گئی تھی بولو حیدر ایک دم دھاڑا،
وہ_وہ میں پرس لینے گئی تھی مشعل نے روتے ہوئے کہا سب کے سامنے حیدر نے اسے سہی کی سنا دی تھی،افف کہا ڈھونڈو حیا کو حیدر نے چاروں طرف دیکھا حیا اسے دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی،
بعد میں اپنے رونے کا شگول پورا کرنا ابھی ڈھونڈنا ہے حیا کو جلدی کرو حیدر نے غصے میں اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے سیدھے ہاتھ کی طرف بڑھ گیا،وہ تو ہمیشہ حیدر کے ساتھ ہی آتی اسے تو اتنے بڑے مول میں راستے تک نہیں معلوم پتا نہیں کہا ہوگی حیدر کے چہرے پر پریشانی فکر کیا نہیں تھا اس وقت،
***************** 
اس کی آنکھ دھیرے دھیرے کھولی پر آنکھو پر پٹی سے اسے کچھ نظر نہیں آیا اس نے تیز تیز چیخنا شروع کر دیا پر وہاں کوئی ہوتا تو سنتا،کوئی ہے مجھے یہاں سے نکالو،
 اس نے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے جھٹکا دیا اس کی کلایوں سے خون بہنے لگا پر یہ کیا رسی ڈھلی ہو گئی، اس نے کچھ اور جھٹکے دیے کے اس کا ایک ہاتھ آزاد ہو گیا اس نے جلدی سے پٹی اتار کے اپنے چاروں اور دیکھا،
اسے بس آندھیرا آندھیرا ہی نظر آیا اس نے اپنے پیروں کوبھی رسی سے آزاد کیا اور پھر یہاں سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگا اس کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھ رہی تھی بہت دیر بعد اسے ایک ہوا دان نظر آیا،
اس نے ادھر اودھر ہاتھ مارا اسے ایک لوہے کی روڈ مل گئی شاید یہ وہ ہی تھی جس سے احمد نے اس کے سر پر وار کیا تھا، اس نے کرسی لاکے ہوا دان کے نیچے رکھی اور اس پر چڑھ کے روڈ کے زریے ہوادان کا شیشہ توڑا، 
کچھ دیر میں وہ اس ہوا دان کے ذریے باہر کود گیا یہ چھوٹا سا کمرا سنسان جگہ تھا اس نے بس بھاگنا اسٹارٹ کر دیا اسے جلد سے جلد یہاں سے نکلنا تھا،
کچھ دیر میں وہ سڑک پر تھا اس نے ایک ٹیکسی کو روکا اب اس کا رُخ اپنے گھر کی طرف تھا،
___________

میرے پاس تو سب ہی سوٹ ہیں یہاں تو شیروانی پہنتے ہیں افف پاکستان اور یہاں کی رسمیں فاروق صاحب نے اسے فون کر کے بتایا کے اسے کل رخستی میں شیروانی ہی پہنی ہے وہ پاکستان آکے اچھا خاصا پچھتا رہا تھا،
اس نے اپنا بیگ بند کر کے سائڈ میں رکھا اور اپنا والٹ اٹھا کے باہر آگیا اب اسے شوپنگ مال جانا تھا،
کچھ دیر میں وہ ایک شوپ پر موجود تھا تھوڑی ہی دیر میں اس نے ایک شیروانی پسند کر لی اسے پیک کروا کے وہ باہر ہی جا رہا تھا کے اس نے ایک جگہ بھیڑ دیکھی وہ ایک پل کے لیے روکا پھر اپنا سر جھٹک کے آگے بڑھ گیا اسے کا کیا جائے اس بھیڑ سے،
ابھی اس نے چند قدم ہی آگے بڑھائے تھے کے بھیڑ میں اسے ایک چہرا جانا پہچانا سا نظر آیا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم خود با خود اس بھیڑ کی طرف اٹھ گئے،
***************
اس نے گھر پہنچتے ہی اپنے لینڈلائن سے ایک نمبر ڈائل کیا،کہا مرے ہوئے تھے تم کل سے میں تم سے رابطہ کرنے کی کوشش میں ہوں فون میں سے کسی کے دھاڑنے کی آواز آئی، 
سوری چھوٹے صاحب میرا موبائل ٹوٹ گیا رات نشے میں اور میں نے رات اتنی پی لی کے مجھے کچھ ہوش نہیں رہاں شکیل نے اپنے ماتھے سے پسینا صاف کرتے ہوئے ڈر ڈر کے کہا، 
موبائل ٹوٹ گیا تو گھر کے نمبر سے کال نہیں کر سکتے تھے اب ادھر آکے مرو مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے سعد نے غصے میں بولتے ہی فون رکھ دیا، 
شکیل نے فون کو گھور کے دیکھا اور واپس رکھ دیا اپنا سر ہاتھوں میں گرائے سوفے پر بیٹھ گیا اگر میں ان کو بتا دیتا کے مجھے کسی نے اٹھا لیا تھا تو یہ مجھے جان سے مار دیتے انہیں لگتا اب میں ان کے کام کا نہیں کیوں کے میری شکل ان لوگوں نے دیکھ لی جس نے مجھے اٹھایا تھا، 
پر کون لوگ تھے جنہوں نے مجھے اٹھایا کہی آرمی والے تو نہیں شکیل نے اپنی آنکھوں کو بند کر کے سوچنے کی کوشش کی ،نہیں اگر آرمی ہوتی تو مجھے ایسی سنسان جگہ کیوں رکھتی پھر کون تھے وہ لوگ شکیل کو اپنے سر میں درد ہی درد محسوس ہو رہا تھا، 
ابھی وہاں جانا ہوگا ورنہ سعد مجھے جان سے مار دے گا شکیل بولتے کے ساتھ کھڑا ہوگیا پر میں اسے ان نشانات کی کیا وجہ بتاوُ گا شکیل نے خود کو آئنے میں دیکھا ہلکا سا ہونٹ پھٹا ہوا تھا اور سر پر بھی نیل پڑی ہوئی تھی، 
اففف کچھ بھی بہانا بنا لوگا پر مجھے ابھی وہاں جانا ہوگا شکیل جلدی سے ایک سوٹ لے کے واش روم میں گھوس گیا، 
*******************
حیا حیدر کے پیچھے جارہی تھی کے ایک جگہ وہ رک گیا فون رکھ کے وہ جیسے ہی موڑا حیا جب تک وہاں پہنچ گئی تھی، بھیا!!حیا کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے جب اس نے سامنے والے کی شکل دیکھی سامنے کوئی اور لڑکا تھا جو اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا،
 واٹ!!! اس لڑکے نے حیا کی طرف دیکھا،حیا نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہوتی گئی یہ تو اس کے بھیا نہیں تھے اس لڑکے نے کندھے اچکائے اور وہاں سے چلا گیا، 
حیا نے یہاں وہاں دیکھا یہ کون سی جگہ ہے میں کہا آگئی حیا کی آنکھوں میں فوراً آنسوں آگے وہ پیچھے موڑ کے بھاگنے لگی کے ایک عورت سے اس کی زور دار ٹکڑ ہوگئی،
اس عورت کا تو کچھ نہیں بگڑا پر اس موٹی عورت سے ٹکرا کے حیا دور جاگری،حیا کی کونی بھی چھیل گئی، 
ہائے بیڑا غرک ہو تیرا لڑکی میرا اتنا مہنگا فون توڑ دیا حیا اپنے ہاتھ کی پرواہ کیے بغیر کھڑی ہوگئی اور اس عورت کو چیختے ہوئے دیکھ رہی تھی، حیا کے ایک دم بھاگنے سے وہ عورت جو دونوں ہاتھوں میں شوپنگ بیگ لیے کندھے اور کان کے بیچ میں موبائل دبائے بات کرتی ہوئی جا رہی تھی حیا سے ٹکرانے سے اس کا موبائل زمیں بوس ہوگیا، 
انٹی__یہ غلطی___سے حیا نے آنکھوں میں آنسوں لیے فون کے طرف دیکھا،کون سی غلطی کیسی غلطی مجھے میرا فون دو میرا پچاس ہزار کا فون تھا لڑکی مجھے یا تو پیسے دو یا ایسا نیا فون اس عورت نے بیگ وہی پھینک کے کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ لیے ،اس عورت کے تیز تیز بولنے کی وجہ سے مال کی ساری بھیڑ ادھر جما ہوگئی، 
 روہان جب لوگوں کو آگے سے ہٹاتا ہوا بھیڑ میں آیا تو اسے حیا نظر آئی آنکھوں میں آنسوُں لیے وہ اس عورت کی ڈانٹ سن رہی تھی،
 دو میرے پیسے مجھے اس عورت نے آگے بڑھ کے حیا کا بازو پکڑا،آااااااا حیا کے بازوں پر جہاں گرنے سے چونٹ لگی تھی اس عورت نے وہی سے اس کا بازو پکڑ لیا جس سے حیا کے منہ سے ہلکی سےچیخ نکل گئی،
چھوڑو اس کا ہاتھ روہان نے اس عورت کو گھور کے اس کا ہاتھ جھٹکا اور حیا کو اپنے پاس کر لیا یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا روہان کو خود بھی نہیں پتا تھا اسے اتنا غصہ کیوں آرہا،
اوو تم جو بھی ہو مسٹر مجھے اس لڑکی سے پیسے لینے ہیں اس نے میرا موبائل توڑ دیا اس عورت نے نیچے زمیں پر گرا اپنا موبائل اٹھا کر دکھایا جس کی اسکرین ٹوٹی ہوئی تھی،
روہان نے حیا کی طرف دیکھا جو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے کھڑی تھی جیسے اسے سب نہیں دیکھ رہے ایسے وہ بھی کسی کو نہیں دیکھ رہی،کتنا نقصان ہوا ہے آپ کا روہان نے اپنے جیب سے چیک بک نکالی
 پورے پچاس ہزار کا تھا میرا فون اس عورت نے لالچائی نظروں سے چیک بک کی طرف دیکھا،
جب کے روہان کو اس عورت کے جھوٹ پر حیرت ہوئی وہ فون دس ہزار کا بھی نہیں تھا،روہان نے چیک پھاڑا اور اس کی طرف بڑھایا پکڑو ایک لاکھ اور اب نظر نہیں آنا اس عورت نے جلدی سے چیک تھام لیا،
روہان اس عورت کو وہی چھوڑ کر حیا کا ہاتھ پکڑے اس بھیڑ سے باہر آیا،اس وقت کئی سوال روہان کے دماغ میں آرہے تھے پر اس بھیڑ سے جانا ذیادہ ضروری تھی،
میرا ہاتھ___چھوڑوو حیا کو جیسے ہی اندازا ہوا کوئی غیر لڑکا اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے لے جا رہا ہے اس نے اپنا ہاتھ کھنچنا اسٹارٹ کر دیا،روہان جو باہر جا کے اس سے سوال کرنے والا تھا حیا کی بات سن کے وہی رک گیا،
کس کے ساتھ آئی تھی بولوں روہان نے غصے میں اس کے ہاتھ پر اپنی پکڑ اور بھی مضبوط کی،میرا ہاتھ حیا کو تو بس یہ نظر آرہا تھا کے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا،
پہلے بتاوُ کس کے ساتھ آئی تھی روہان کی دھاڑ سے حیا اندر تک کانپ گئی،بھیا___بھیا کے ساتھ حیا نے کانپتے لہجے میں بس اتنا کہا اس وقت اس کا خوف سے برا حال تھا،
کون سے بھیا نام بتاوُ روہان نے ایک بار پھر غصے سے سوال کیا،حیدر__حیدر بھیا__حیا نے روتے ہوئے اٹک اٹک کے کہا وہ مسلسل اپنے ہاتھ کو روہان کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی پر روہان جیسے مرد کے سامنے حیا بلکل کانچ کی نازک گڑیا ہی تو تھی،
حیا کی بات سن کے روہان نے جیب سے موبائل نکال کر اس پر حیدر کا نمبر ڈائل کیا،
***************
پورے مال میں وہ حیا کو ڈھونڈ چکا تھا پر اسے وہ کہی نہیں ملی حیدر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اسے کہا ڈھونڈے اسے یہ بھی ڈر تھا کہی کسی نے اس سے دشمنی کے چکر میں حیا کو تو نہیں اٹھا لیا،
ایک گھنٹا ہونے کو آیا آخر حیدر کی آنکھوں میں نمی آگئی اس کی گڑیا کسی مصیبت میں نہ ہو بس وہ بار بار اپنے دل کو سمجھا رہا تھا، 
کہی ہم نہیں ملے ہو تو وہ گاڑی کے پاس ہمارا ویٹ کر رہی ہو مشعل بھی اب پریشان ہوگئی تھی وہ بھی جانتی تھی حیا کتنی معصوم ہے اس کے زھن میں ایک آئیڈیا آیا اس نے فوراً حیدر سے کہا، 
ہاں ہو سکتا ہے چلو وہی دیکھتے حیدر اسے لیے پارکنگ میں آگیا پر وہاں بھی حیا کو نا پاکر اس نے اپنے بالو میں ہاتھ پھیرتے ہوئے یہاں وہاں دیکھا، 
اتنے میں اس کا فون رنگ کرنے لگا تین بار مسلسل فون بجتا رہاں جو بھی تھا بہت ڈھیٹ تھا اس وقت حیا کو ڈھونڈنا ذیادہ ضروری تھا پر بار بار بجتے فون کی وجہ سے اسے فون اٹھانا پڑا، 
اس نے بغیر نام دیکھے فون کان سے لگایا، آپ کہا ہوں میجر حیدر!! فون میں سے روہان کی آواز آئی ایک دفع کے لیے وہ پہچان نہیں سکا پر جب ذھن نے کام کرنا اسٹارٹ کیا تو وہ آواز پہچان گیا، 
آپ کی بہن میرے پاس ہے روہان کے دوبارا کہنے پر حیدر جیسے ہوش میں آیا کہا ہے بتاوُں میں آوُ حیدر نے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے چاروں اور دیکھا ہم اندر ہیں مال کے آپ کیسے ڈھونڈوں گے اتنے بڑے مال میں آپ کہا ہو بتاوُ میں لے کر آتا ہوں روہان کے کہنے پر حیدر نے جلدی سے بتایا اور فون رکھ دیا اب اس کی بیچین نظرے مال کے گیٹ پر تھی
*************
سعد اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈھالے اپنے خوبصورت بیڈروم میں یہاں سے وہاں چکر لگا رہا تھا جب شکیل نے دروازا نوک کیا،
آجاوُ سعد نے دروازے کی سمت دیکھ کر کہا شکیل نے ڈرتے ڈرتے اندر قدم رکھا نہاں دھوں کے وہ پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا پر چوٹ کے نشان اب بھی تھے،سعد نے اسے غور سے دیکھا اور انگلی سے اشارا کر کے پاس بلایا، 
چھوٹے صاحب کل رات میں نے کچھ ذیادہ پی لی تھی اور نشے میں ہوش نہیں رہاں میں گھر جاتے ہوئے گر گیا جس سے مجھے چوٹ لگ گئی اور موبائل بھی گر کے ٹوٹ گیا سعد کا گھورنا وہ سمجھ گیا تھا جبھی جلدی سے پاس اکر اس نے طوطے کی طرح بولنا اسٹارٹ کر دیا،
میں نے کچھ پوچھا سعد نے اب کی بار مشکوک نظروں سے شکیل کو گھورا،نہیں وہ___وہ چھوٹے صاحب مجھے لگا آپ میرے سر پر لگی چوٹ کا پوچھوں گے شکیل نے اپنے ماتھے سے پسینا صاف کرتے ہوئے کہا، 
 یہ بہانے بازی کسی اور کے سامنے کرنا ،ضرور کسی سے جھگڑا ہوا ہے سعد نے اسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا، 
جی صاحب__چھوٹا سا وہ شکیل کو سچ بتانے سے بہتر یہ جھوٹ ہی لگا اس لیے وہ فوراً سعد کی بات مان گیا، لڑو مرو کچھ بھی کرو پر مجھے ہر کام ٹائم پر چاہیے سمجھے سعد نے اسے گریبان سے پکڑتے ہوئے دھاڑتے ہوئے کہا، 
جی جی چھوٹے صاحب شکیل کی تو جان ہی نکل گئی سعد کو اتنے غصے میں دیکھ کے پر اسے اتنے غصے کی وجہ اب تک سمجھ نہیں آئی، 
تمہیں پتا ہے جو آرڈر تین مہینے بعد کا تھا وہ اب مجھے پرسوں کرنا ہے ہر حال میں اوپر سے ڈیڈ بھی ملک سے باہر ہیں سعد نے اس کا گریبان چھوڑ کے دور ہوتے ہوئے کہا، 
پر چھوٹے صاحب ابھی تو دس بچے باقی ہیں آرڈر تو پورا نہیں ہوا تو ہم کیسے انہیں یہ بچے سپلائے کر سکتے،شکیل کو اب سعد کے غصے کی وجہ سمجھ میں آگئی، 
وہ مجھے نہیں پتا کیا ہوگا کیسے ہوگا پر میں نے ڈیڈ سے کہا تھا کے میں ان کے پیچھے سے سب سمبھال لوگا اور اچانک شیخ نے دو دن میں سب بچے مانگے تھوڑے کم ذیادہ ہوں بھی تو اسے فرق نہیں پڑے گا،سعد نے سگریٹ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا، 
ٹھیک ہے چھوٹے صاحب ایسی بات ہے تو آپ فکر نہیں کروں ہم پرسوں ان سب بچوں کو وہاں تک پہنچا دے گے،سب کام آرام سے ہوجائے گا، 
وہ تو ہونا ہی ہے اگر تھوڑی سی بھی گڑبڑ ہوئی تو یاد رکھنا میں تمہیں جان سے مار دوگا سعد نے سگریٹ کو ایش ٹرے مسلتے ہوئے کہا اور ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کیا،
***************
روہان نے دوسری طرف منہ کر کے حیدر سے بات کی حیا کا ہاتھ اب تک اس کے ہاتھ میں تھا اسے یہ چیز گوارا نہیں تھی کے اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے حیا کسی اور کے ساتھ گھومے پھیرے،
حیا کو یہاں اکیلے دیکھ کے اسے یہی لگا کے ضرور یہاں بھی وہ کسی سے ملنے آئی تھی پر حیدر سے بات کرکے اسے اندازا ہوگیا کے یہ حیدر کی آنکھوں میں دھول جھوک کے یہاں آئی ہے اس لیے روہان کسی حال میں اس کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا،
کیا مصیبت ہے روہان نے فون رکھ کے اسےگھورا جو اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی بس اپنا ہاتھ آزاد کرنے میں لگی ہوئی تھی پر اس جیسی نازک لڑکی کے بس میں یہ نہیں تھا کہ روہان جیسے مرد سے اپنا ہاتھ چھوڑوا سکے
میرا ہاتھ ،حیا نے پانیوں سے بھری ہوئی آنکھوں سے روہان کو دیکھا ایک پل کے لیے روہان کو اس جیسا معصوم کوئی نہیں لگا پر دوسرے ہی پل وہ حیا کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھ گیا،
مجھے___چھوڑو حیا نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ سےنظرے اٹھا کے اسے دیکھا جو اسے بغیر دیکھے بس آگے چلتا جارہا تھا ایکدم رک کے وہ یہاں وہاں دیکھنے لگا حیا نے پہلے اس کا رکنا دیکھا پھر نظرے اٹھا کے دیکھا تو وہ مال سے باہر آچکی تھی اس کے دل میں اور خوف جما ہوگیا،
میرا ہاتھ چھوڑو حیا نے اپنی پوری جان لگا دی اب باقاعدہ وہ کانپ رہی تھی،کہ ایک بار پھر روہان آگے بڑھ گیا، 
گڑیا حیدر اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھاں جب کے حیا کے کانوں میں جیسے ہی اپنے بھیا کی آواز آئی اس نے اپنے ہاتھ سے نظرے اٹھا کے سامنے دیکھا جہاں حیدر کھڑا تھا، 
بھیا حیدر کو دیکھ کے حیا کےجسم میں جیسے جان آگئی ہو،روہان نے بغیر کچھ کہے حیا کا ہاتھ چھوڑ دیا حیا نےحیرت سے پہلے اسے دیکھا جس کے چہرے پر پھتر جیسے تاثرات تھے حیا اسے وہی چھوڑتی ہوئی بھاگ کے حیدر کے سینے سے لگ گئی،
پھر جو وہ روئی حیدر کی آنکھیں بھی اس نے نم کردی بس گڑیا میں ہونا ایک منٹ رکوں حیدر نے پہلے اسے دل کھول کے رونے دیا پھر اسے سر پر پیار کیا جب اس کی نظر سامنے گئی جہاں اب بھی روہان کھڑا تھا جو ان کے علاوہ ہر جگہ دیکھ رہا تھا،  
حیا نے حیدر کو پکڑ لیا جیسے اب نہیں جانے دے گی کہی گڑیا میں ان سے بات کر لو ایک منٹ بیٹا حیدر نے پیار سے اسے سمجھایا،
نہیں__یہ اچھے__نہیں ہے بھیا__انہوں نے___مجھے چھووا حیا نے روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بڑی مشکل سے کہا روہان نے حیرت سے اسے دیکھا وہ اتنی بھی دور نہیں کھڑا تھا کے حیا کی آواز اس تک نہ جاسکے جب کے حیدر نے پہلے حیا کو دیکھا پھر روہان کو، 
گڑیا آپ کہا گئی تھی پہلے یہ بتاوُ حیا نے آرام آرام سے روتے ہوئے سب بتایا اس حیدر جیسے آدمی سے لے کے اس موٹی عورت تک پر اس میں یہ کہی نہیں تھا کے اسے روہان نے چھووا، 
 روہان نے غصے میں حیا کو دیکھا اور پلٹ کر چلا گیا،
میں گاڑی لے آئی حیا تم آگئی مشعل بولتے ہوئے حیا کے گلے لگ گئی اسے حیدر نے گاڑی پارک سےنکالنے کے لیے بھیجا تھا، تم گڑیا کو لے کے گاڑی میں بیٹھوں میں آتا ہوں حیدر نے پیار سے حیا کاگال تھپتھپایا اور آگے بڑھ گیا، 
روہان روکوں__وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ رہاں کے پیچھے سے حیدر کی آواز آئی،روہان نے پلٹ کے اسے دیکھا اس کے چہرے پر اس وقت کوئی تاثر نہیں تھا وہ ہاتھ باندھ کے گاڑی سے ٹیک لگا کے کھڑا ہوگیا، 
وہ حیا نے جو کہا___آپ اس بات کی صفائی لینے آئے ہیں روہان نے حیدر کی بات کاٹ کے اپنی طرف سے جملہ پورا کیا، 
نہیں مجھے معلوم ہے کے آپ نے بس اسکا ہاتھ پکڑا ہوگا جو اسے اچھا نہیں لگا نا غلط آپ ہو نا وہ اس لیے میں بس یہ کہنا چاہتا تھا آپ کچھ غلط نہیں سمجھنا میری حیا بہت معصوم ہے اس نے جو کہا اپنی معصومیت کی وجہ سے کہا حیدر نے اپنی طرف سے وضاحت دینا ہی بہتر سمجھا کیوکہ وہ روہان کے چہرے پر حیا کی بات سے غصہ دیکھ چکا تھا، 
ہاں جانتا ہوں کتنی معصوم ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں__روہان نے دل میں سوچا پر کہا تو بس اتنا، جی کوئی بات نہیں میں اتنی چھوٹی باتیں دل پر نہیں لیتا روہان کے کہنے پر حیدر نے مسکرا کے اسے خدا حافظ کہا اسے حیا کے پاس جانا تھا جلد سے جلد روہان نے بھی حیدر کے جاتے ہی اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا، 
 ***************
اتنا کیوں رو رہی ہو یار مشعل نے اب کی بار تنگ آکر کہا حیدر کے جانے سے اب تک وہ بس رو رہی تھی انہوں نے مجھے چھووا حیا بس ایک ہی بات بول رہی تھی جب سےاب تک، 
اچھا کہا ہاتھ لگایا مجھے بتاوُ مشعل نے پریشانی سے ہوچھا،یہاں پر حیا نے اپنا ہاتھ آگے کر کے اپنی کلائی دکھائی جہاں ابھی بھی روہان کی پکڑ کا نشان تھا، 
اففف پاگل لڑکی وہ تمہیں ہم تک لا رہے تھی جبھی پکڑا ہوگا تم ذیادہ نہیں سوچوں مشعل نے اس کےآنسوں صاف کیے اتنے میں گاڑی کا دروازا کھول کے حیدر اندر بیٹھا اس نے پیچھے موڑ کے پانی کی بوتل مشعل کو پکڑائی،
 گڑیا پانی پی لو مشعل کے ہاتھ سے حیا پانی نہیں پی رہی تو حیدر نے پیار سے کہا حیا نے چوپ چاپ پانی پی لیا،اب آپ ٹھیک ہونا گڑیا حیدر کے پوچھنے پر حیا نے ہاں میں سر ہلایا پر اب تک وہ اپنی آنکھیں رو رو کے سوجھا چکی تھی، 
حیدر نے گاڑی اسٹارٹ کی پہلے مشعل کو اس کےگھر چھوڑا پھر حیا کو لیےگھر آگیا سب شوپنگ بیگ لائونچ میں رکھے اور حیا کو اسکے روم میں لے جاکے بیڈ پر بٹھایا گڑیا آپ کو ایسےنہیں بولنا چاہیے تھے ،


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.