Ads Top

Hijaz Ki Andhi By Annayt Ullah Altamash Episode No 27`حجاز کی آندھی عنایت اللہ التمش قسط نمبر27

Hijaz Ki Andhi
By
Annayat Ullah Altmash

حجاز کی آندھی
از
 عنایت اللہ التمش

Hijaz Ki Andhi  By  Annayat Ullah Altmash  حجاز کی آندھی  از  عنایت اللہ التمش

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 27

’’سورج کے پجاریو!‘‘اس نے فوج سے خطاب کیا۔ ’’تم اس سورج کی کرنیں ہو جو ہمارا معبود ہے ۔تم وہ کرنیں ہو جو دشمن کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں ۔لیکن کیا ہو گیا ہے تمہاری غیرت کو……تم سے تو دنیا ڈرتی تھی آج تم خود ڈرے ہوئے مویشیوں کی طرح اس قلعے میں بند ہو گئے ہو۔ کیا تم اتنے بزدل ہو گئے ہو کہ تمہیں یہ بھی احساس نہیں رہا کہ تم اپنی کنواری بیٹیوں بہنوں کو مسلمانوں کے حوالے کر آئے ہو ۔مسلمانوں نے تمہاری عورتوں کو لونڈیاں اور کنیزیں بنا لیا ہے……اور اپنے کسانوں کا حال دیکھو جن کی کھیتیاں سونا اگلتی ہیں مگر آج ہمارے کسانوں کی کمائی کے مالک مسلمان ہیں……‘‘
یزدگرد ابھی بول ہی رہا تھا کہ پوران اپنا گھوڑا یزدگرد کے پہلو میں لے گئی اور بازو لہرا کر بولی:
’’اگر تمہاری غیرت مر گئی ہے تو میں تمہاری بیٹیوں اور بہنوں کی عزت کی خاطر لڑوں گی۔ شہنشاہِ فارس کی ماں لڑے گی۔ ہم دونوں،عورتوں کو اکٹھا کرکے فوج بنا لیں گی اور تم دیکھو گے کہ مسلمانوں کی لاشیں کس طرح تمہاری آنکھوں کے سامنے تڑپتی ہیں۔‘‘
فوج پر سناٹا طاری تھا۔ پوران کی بات سن کر فوج میں کچھ بے چینی سی پیدا ہو گئی۔
’’کیا تمہاری غیرت گوارا کرلے گی کہ شہنشاہ کی ماں اور بہن میدان میں اُتریں؟ ‘‘پورا ن نے اور زیادہ جوشیلی آواز میں کہا۔’’ یہ سوچ لو کہ مدائن بھی ہاتھ سے نکل گیا تو کہاں جاؤ گے؟یہ سورج عتاب میں آگیا تو جل کر راکھ ہو جاؤ گے۔ مرو گے بھی نہیں اور زندہ بھی نہیں رہو گے۔ کوڑھیوں کی طرح اس زمین پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے اور بھیک مانگتے پھرو گے، تم جانتے ہو کہ کوڑھیوں کو کوئی بھیک تک نہیں دیتا……‘‘
پوران نے اپنی جوشیلی تقریر ابھی ختم نہیں کی تھی کہ یزدگرد کی ماں نورین اپنا گھوڑ اآگے لے آئی۔
’’میں اپنے اس اکلوتے بیٹے کو سلطنتِ فارس کی آن پر قربان کر رہی ہوں۔‘‘ نورین نے بڑے ہی جوشیلے انداز میں کہا۔’’ تم عورتوں کی طرح بناؤ سنگھار کر کے گھروں میں بیٹھ جاؤ ۔میں اور پوران عورتوں کی فوج بنا کر لڑیں گی اور تم شہر کی دیوار پر کھڑے ہو کر دیکھنا……‘‘
’’نہیں!‘‘اچانک فوج میں سے ایک آواز بلند ہوئی۔’’نہیں……ہم اتنے بے غیرت نہیں ہوئے ۔لڑنا ہمار کام ہے۔‘‘
’’جو ہو گیا سو ہو گیا ۔‘‘ایک اور آواز آئی۔’’ اب یہاں سے مسلمان ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔‘‘
ان دو آوازوں کے ساتھ ہی ساری فوج میں ہڑبونگ بپاہو گئی۔ جوشیلے نعروں سے زمین و آسمان لرزنے لگے ۔فوج زندگی کا آخری معرکہ لڑنے کیلئے تیار ہو گئی۔ نعروں جیسا شوروغل بہت ہی بلند تھا۔اتنا بلند کہ گھوڑے بھی ہنہنانے لگے۔
٭
اس وقت سعد ؓبن ابی وقاص اپنے دو تین سالاروں کے ساتھ شہرکی دیوار سے کچھ دور دور گھوڑوں پر آہستہ آہستہ چلے جارہے تھے۔ شہر سے اٹھنے والا شوروغل اتنا بلند تھا کہ باہر بھی سنائی دے رہا تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے گھوڑا روک لیا۔ سالار بھی رک گئے۔
’’یہ شور سن رہے ہو؟‘‘ سعدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’ یہ نعرے، ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’ان کے جرنیل اپنی فوج کو جوش دلا رہے ہوں گے۔‘‘ ایک سالار نے کہا۔
’’جوش تو وہ دلاتے ہی رہتے ہوں گے ۔‘‘سعد ؓنے کہا۔’’ لیکن آج کا اتنا زیادہ ہنگامہ بتا رہا ہے کہ ان کا شہنشاہ آیا ہو گا……اور مجھے صاف پتا چل رہا ہے کہ یہ لوگ باہر آکر ایک اور حملہ کریں گے اور یہ حملہ بہت ہی زور دار ہو گا۔ ہمیں اس کیلئے تیار ہو جانا چاہیے۔‘‘
’’آنے دو۔‘‘ ایک سالار نے کہا۔’’ اب ہم منجیقیں ان پر استعمال کریں گے۔‘‘
شہر کے اندر کا شوروغل جس طرح اچانک سے اٹھا تھا ،اسی طرح اچانک خاموش ہو گیا۔ اب صرف یزدگرد بول رہا تھا۔
’’مسلمانوں کو یہیں پر ختم کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے۔‘‘ یزدگرد کہہ رہا تھا۔’’ طریقہ یہ ہے کہ باہر نکل کر ان پر اس قدر سخت حملہ کیا جائے جو ابھی تک نہیں کیا گیا ۔ اس حملے کیلئے ایسے جانبازوں کی ضرورت ہے جنہیں اپنی جان کی پرواہ نہ ہو اور جن کے دلوں میں سلطنتِ فارس کی محبت ہو ۔میں کسی کو حکم نہیں دوں گا۔ مجھے رضا کار جانبازوں کی ضرورت ہے اور مجھے زیادہ سے زیادہ افسروں کی ضرورت ہے جو افسر سپاہی حملے میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ آگے آجائیں۔‘‘
فوج میں اس قدر جوش و خروش پید اہو چکا تھا کہ ساری فوج آگے آ گئی۔ اس فوج میں وہ سپاہی بھی شامل تھے جو دیوار کے اوپر موجود رہتے تھے۔ انہیں بھی یزدگرد کے حکم سے نیچے بلا لیا گیا تھا۔
مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ساری کی ساری فوج سے حملہ نہیں کروانا تھا۔ طے یہ پایا گیا تھا کہ منتخب جانبازوں سے حملہ کروایا جائے گا۔ جرنیلوں سے کہا گیا کہ وہ وطن کی آن پر مر مٹنے والے جنونی سی قسم کے افسروں اور سپاہیوں کو منتخب کریں ۔چنانچہ ایک فوج تیار کر لی گئی جس میں ایسے کمانڈر شامل کیے گئے جو شجاعت اور جنگی مہارت میں شہرت یافتہ تھے۔ چونکہ رات ہو گئی تھی اس لیے حملہ اگلی صبح کو کرنا تھا۔
٭
اگلی صبح سورج ابھی نکلا ہی تھا کہ شہر کے تمام دروازے بیک وقت کھلے اور اندر سے گھوڑ سوار فوج اور پیادے بھی رُکے ہوئے سیلاب کی طرح نکلنے لگے ۔سعدؓ بن ابی وقاص نے گذشتہ روز اندر کا شور وغل سن کر یہ کہہ دیا تھا کہ یہ اگلے حملے کی تیاری ہو رہی ہے۔ انہیں ایک سالار نے مشورہ دیا تھا کہ منجیقوں کو حملہ آوروں پر استعمال کیا جائے گا۔ سعد ؓنے یہ مشورہ قبول کر لیاتھا ۔رات ہی کو منجیقیں اس طرح رکھ دی گئی تھیں کہ ہر دروازے کے سامنے ایک ایک منجیق آگئی تھی ۔باقی منجیقوں کا رُخ بھی اوپر کے بجائے کچھ نیچے کر دیا گیا تھا۔
سعد ؓنے یہ مشورہ قبول کر لیاتھا ۔رات ہی کو منجیقیں اس طرح رکھ دی گئی تھیں کہ ہر دروازے کے سامنے ایک ایک منجیق آگئی تھی ۔باقی منجیقوں کا رُخ بھی اوپر کے بجائے کچھ نیچے کر دیا گیا تھا۔
جوں ہی شہر سے فوج نکلنے لگی اس پر سنگباری شروع ہو گئی۔ چونکہ منجیقیں چھوٹی تھیں اس لئے ان میں پتھر بھی چھوٹے استعمال ہوئے تھے۔ لیکن اتنے بھی چھوٹے نہیں کہ کچھ نقصان ہی نہ کریں۔ کم و بیش دس کلو وزنی پتھر پھینکا جاتا تھا ۔بعض منجیقیں اس سے زیادہ وزنی پتھر بھی پھینک سکتی تھیں ۔اتنا وزنی پتھر جس آدمی کو بھی لگتا تھا وہ وہیں ڈھیرہو جاتا تھا ۔گھوڑے بھی اتنے وزنی پتھر کی ضرب کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ منجیق سے نکلا ہوا پتھر توپ سے نکلے ہوئے گولے کی طرح جاتا تھا۔

جب فوج پر پتھر برسنے لگے تو پتھروں سے گرنے والے سواروں نے دروازوں کا راستہ بند کر دیا۔ بعض گھوڑے بھی گر پڑتے تھے اور بعض بِدک کر پیچھے کو دوڑتے تھے ۔اس طرح فوج کے باہر آنے میں اچھی خاصی رکاوٹ پیدا ہو گئی ۔فوجیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ دروازوں میں گرے ہوئے آدمیوں اور گھوڑوں کے اوپر سے گزر کر باہر نکلیں۔ اس حکم کی تعمیل میں فوجی اپنے گرے ہوئے ساتھیوں کو کچلتے مسلتے ہوئے باہر نکلے۔
پتھر پھینکنے کی رفتار تیز نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ منجیق میں پتھر رکھنے اور پیچھے کھینچنے اور چھوڑنے میں کچھ وقت لگ جاتا تھا ۔پھر بھی یہ خاطر خواہ نقصان کر رہی تھیں۔ شہر کی فوج کے یہ سوار اور پیادے بلا شک و شبہ جانباز اور نڈر تھے ۔وہ باہر چلے آرہے تھے ۔لیکن ان کے حملے میں جو جان ہونی چاہیے تھی وہ نہیں تھی۔ ایسی شدت پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
یزدگرد ،اس کی ماں اور پوران دیوار پر کھڑے نظر آئے ۔فارس کا پرچم ان کے ساتھ تھا ۔سعدؓ بن ابی وقاص نے بھی شہنشاہِ فارس اور اس کے پرچم کو دیکھا۔
’’خدا کی قسم!‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ اس جھنڈے کو دیوار کے باہر گرنا چاہیے ۔‘‘ انہوں نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا۔’’ کیاکوئی تیر انداز وہاں تک تیر پہنچا سکتا ہے؟‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے گھوڑ ے کو ایڑ لگائی اور اپنے محافظوں کے ساتھ اس جگہ تک پہنچے جس کے بالمقابل یزدگرد دیوار پر کھڑا تھا۔ فاصلہ اتنا زیادہ تھا کہ وہاں تک تیر پہنچانا ممکن نہ تھا ،چند ایک تیر انداز مجاہدین آگے بڑھے اور انہوں نے تیر چلائے لیکن تیر ذرا نیچے دیوار پر لگتے تھے۔ تیر انداز اور آگے بڑھے تو فاصلہ اتنا کم ہو گیا کہ مجاہدین دیوار کے تیر اندازوں کی زَد میں آگئے اوپر سے آیا ہوا تیر اپنا کام کر جاتا تھا۔
’’انہیں پیچھے ہٹا لو۔‘‘ سعدؓ نے حکم دیا۔’’ ہم بلا جواز جانی نقصان کے بغیر یہ شہر لے لیں گے ۔ایک منجیق کا منہ اُدھر کر کے پتھر پھینکو۔‘‘
فوراً ایک منجیق کو گھسیٹ کر وہاں تک لے گئے اور اس میں پتھر ڈال ہی رہے تھے کہ یزدگرد نے دیکھ لیا اور وہ فوراً نورین اور پوران کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا تھوڑی ہی دیر بعد وہ دیوار پر ایک اور جگہ نظر آیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی جان کی بازی لگائے ہوئے ہے ۔وہ اپنے حملہ آور دستوں کو اوپر سے للکار رہا تھا۔ لیکن اس کی للکار رائیگاں جا رہی تھی۔ جس کی ایک وجہ تو سنگباری تھی اور دوسری وجہ جو زیادہ تر مؤرخوں نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ یزدگرد کی تما م فوج پر جرنیل سے لے کر نیچے سپاہیوں تک یہ تاثر مکمل طور پر پختہ ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دی ہی نہیں جا سکتی ، لہٰذا فارس کی فوج پر مسلمانوں کی جو ہیبت طاری تھی وہ سنگباری نے اور زیادہ پختہ کر دی۔
جوش و خروش سے نعرے تو لگائے جا سکتے ہیں لیکن میدانِ جنگ میں نعرے محض بیکار ثابت ہوتے ہیں۔اگر جذبہ اور حوصلہ مضبوط نہ ہو تو میدانِ جنگ میں گھوڑے اور ہتھیار بھی بیکار ہو جاتے ہیں ۔آتش پرستوں کو اپنے بیشمار ہاتھیوں پر بھروسہ تھا ۔وہ سمجھتے تھے کہ انسان ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔بلکہ ہاتھی انسانوں کو کچل اور مسل ڈالتا ہے۔ لیکن مسلمانوں نے ہاتھیوں کو بھی کاٹ کر دکھا دیا اور جو بچ گئے تھے انہیں بھگا بھی دیا تھا۔ فارس کی فوج پر یہی دہشت کافی تھی ۔یورپی مؤرخوں نے تعصب کے باوجود پوری تفصیل سے لکھا ہے کہ فارس کی فوج پر مسلمانوں کی جو دہشت اور ہیبت طاری ہو گئی تھی۔ اس نے اس فوج کے کہیں بھی قدم نہ جمنے دیئے ۔اس حملے کے متعلق جو ہم بیان کررہے ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ شجاعت جنگی قیادت اور جنگی مہارت کے لحاظ سے جو فارسی افسر اور سپاہی شامل تھے ان کی جانبازی میں کوئی شک نہیں تھا ۔انہوں نے جو حملہ کیا وہ بھی کم شدید نہیں تھا ۔پھر بھی مسلمانوں کے آگے وہ ٹھہر نہ سکے۔
جب دونوں فوجیں معرکے میں الجھ گئیں تو سنگباری روک دی گئی۔ ایسی صورتِ حال بھی پیدا ہوئی جس میں مسلمانوں پر فارسیوں کا دباؤ اچھا خاصا بڑ ھ گیا تھا لیکن مسلمانوں میں لڑنے کا جو جذبہ تھا وہ اتنا شدید تھا کہ مسلمان صورت ِحال پر غالب آجاتے تھے اور جب دو تین مرتبہ مسلمانوں نے فارسیوں کے دباؤکو برداشت کر کے اپنا دباؤ ڈالا تو فارسیو ں کا حوصلہ ٹوٹے لگا ۔دونوں طرف کی فوجوں میں ایک فرق تھا وہ یہ کہ فارسی جوش اورجذبے سے لڑرہے تھے اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے سالار عقل سے کام لے رہے تھے۔ مثلاً ایک جگہ مسلمان اس طرح پیچھے ہٹتے گئے جیسے پسپا ہو رہے ہوں۔ فارسی ان پر دباؤ ڈالتے آگے ہی آگے بڑھتے گئے ۔انہیں اس وقت ہوش آیا جب وہ مجاہدین کے گھیرے میں آچکے تھے۔ اس وقت انہیں پتہ چلا کہ یہ مسلمانوں کی ایک چال تھی اور مجاہدین نے انہیں اس طرح گھیرے میں لینا تھا۔ اب فارسی اپنی جانیں بچانے کیلئے لڑنے لگے لیکن جس پھندے میں وہ آگئے تھے اس سے بچ نکلنا ان کیلئے ممکن نہ تھا۔
دوسرے فارسیوں نے جب یہ حال دیکھا تو وہ محتاط ہو گئے اور پیچھے دیکھنے لگے کہ ان کی پسپائی کا راستہ صاف ہے یا نہیں۔ دیوار پر یزدگرد کھڑا دیکھ رہاتھا۔ پہلے تو وہ اپنے حملہ آوروں کو للکار رہا تھا لیکن میدانِ جنگ کی نئی صورتِ حال دیکھ کر اس کی زبان بند ہو گئی۔ اس نے اپنی ماں اور پھر پوران کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر مایوسی کا تاثر بڑا ہی گہرا تھا۔ اس نے میدانِ جنگ سے نظریں پھیر لیں اور آہستہ آہستہ چل پڑا۔ دیوار سے اس نے اندر کی طرف دیکھا تو اسے ایسا منظر نظر آیا جو اس کی برداشت سے باہر تھا۔ اس کے زخمی فوجی کھلے ہوئے دروازوں سے اندر آرہے تھے۔ بعض اچھے بھلے سوار اور پیادے بھی باہر سے بھاک کر اندر آرہے تھے۔ پوران اور نورین بھی اس کے پاس آگئیں ۔یزدگرد نے دونوں کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دیوار سے اتر گیا۔
بعض اچھے بھلے سوار اور پیادے بھی باہر سے بھاک کر اندر آرہے تھے۔ پوران اور نورین بھی اس کے پاس آگئیں ۔یزدگرد نے دونوں کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دیوار سے اتر گیا۔
فارس کی فوج کا جانی نقصان بے تحاشہ تھا ۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا نقصان بہت ہی کم تھا۔ کسی بھی تاریخ میں مسلمانوں کے نقصان کے اعدادوشمار نہیں ملتے۔ صرف ایک مجاہد کا ذکر تقریباً ہر مؤرخ نے کیا ہے یہ تھا’’ زہرہ بن حویہ‘‘ جس کا پہلے کئی معرکوں میں ذکر آچکا ہے ۔زہرہ سالار تھا اور غیر معمولی طور پر بہادر اور نڈر تھا۔ اس کی شجاعت کے واقعات کچھ کم نہیں کہ یہاں پھر سنائے جا سکیں۔ قارئین کی یاد دہانی کیلئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جب فارسیوں کو شکست دے کر قادسیہ سے مجاہدین کے لشکر نے بھاگتے ہوئے فارسیوں کے تعاقب میں مدائن کی طرف پیش قدمی کی تھی، تو سعدؓ بن ابی وقاص نے زہرہ بن حویہ کو سالار بنا کر مجاہدین کے ایک دستے کے ساتھ بُہر شیر بھیجا تھا۔ اس کے ساتھ سالار ہاشم بن عتبہ بھی تھا ۔بُہر شیر کے باہر زہرہ نے بڑا ہی سخت معرکہ لڑا تھا اور فارسیوں کی فوج بیشمارنقصان اٹھا کر شہر میں چلی گئی تھی۔

علامہ شبلی نعمانی نے طبری اور بلاذری اور چند مؤرخوں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ بُہر شیر کے محاصرے میں زہرہ بن حویہ نے فارس کے کسی فوجی کی زرہ پہن رکھی تھی۔ قادسیہ کی چار روزہ جنگ میں اور اس سے پہلے کے معرکوں میں اس نے یہی زرہ استعمال کی تھی۔ اس زرہ نے تلواروں اور برچھیوں کے بے شمار وار روکے تھے ۔اس زرہ نے نہ جانے کتنے ہی تیر روکے تھے ۔زہرہ تو محفوظ رہے تھے لیکن زرہ کی کئی کڑیا ں ٹوٹ گئی تھیں۔
یزدگرد نے بُہر شیر کی فوج سے یہ حملہ کرایا جو اوپر بیان ہوا ہے، تو اس روز بھی زہرہ نے یہی ٹوٹی ہوئی کڑیوں والی زرہ پہن رکھی تھی۔ اس کے کسی ساتھی نے اسے یہ کہا کہ یہ زرہ بیکار ہو گئی ہے ، اسے بدل لو۔ ’’فارسیوں کی کئی زرہیں موجود ہیں۔‘‘
ؔؔ’’ہاں ابنِ حویہ!‘‘اس کے ایک اور ساتھی نے کہا۔’’ یہ زرہ تیر کو نہیں روک سکے گی۔‘‘
’’میں ایسا خوش نصیب کہاں!‘‘زہرہ بن حویہ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ ’’میرے نصیب اتنے اچھے نہیں کہ دشمن کے تیر دوسروں کو چھوڑ کر میری طرف آئیں۔‘‘
یہ تھا شوقِ شہادت……مسلمانوں کی اصل طاقت یہی تھی کہ ہر مجاہد اﷲ کی راہ میں جان دینے کو سعادت اور خوش نصیبی سمجھتا تھا۔ یہ اتفاق تھا یا اﷲ تعالیٰ نے زہرہ کی دعا قبول کر لی تھی کہ فارسیوں کی طرف سے جو پہلا تیر آیا وہ زہرہ بن حویہ کے پہلو میں اتر گیا۔ وہاں سے زرہ کی زیادہ کڑیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ۔تیر جسم کے اندر خطرناک حد تک چلا گیا تھا۔
’’ابنِ حویہ، ٹھہر جا! ‘‘اس کے ایک ساتھی نے کہا۔’’ میں یہ تیر نکال دیتا ہوں، پھر تم پیچھے چلے جانا۔‘‘
چار پانچ مجاہدین اس کے پاس آگئے۔ سب کہہ رہے تھے کہ تیر نکال دیتے ہیں۔
’’نہ میرے بھائیو! ‘‘زہرہ نے کہا۔’’ اسے نہ نکالنا۔ میں اسی وقت تک زندہ ہوں جب تک یہ میرے جسم میں ہے۔‘‘
طبری اور بلاذری وغیرہ نے لکھا ہے کہ زہرہ نے پہلو میں تیر لیے ہوئے ایک جگہ فارسیوں کے ایک دستے پر حملہ کیا۔ اس دستے کے ساتھ فارس کا ایک نامور جرنیل شہربراز تھا۔ زہرہ نے اس کا پرچم دیکھ لیا تھا۔ اس نے چند ایک مجاہدین کے ساتھ شہربراز کے گرد محافظوں کا جو حصار تھا وہ توڑا اور اسے تلوار سے مار ڈالا۔ زہرہ بن حویہ کو یقینا یہ احساس تھا کہ وہ اپنی زندگی کا آخری معرکہ لڑ رہا ہے۔
اس فارسی جرنیل کا پرچم گرنے سے اوراس کے مارے جانے سے ان فارسی جانبازوں میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ شہر کے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔
کچھ دیر بعد زہرہ بن حویہ پہلو میں تیر لیے ہوئے شہید ہو گئے۔
یزدگرد کا حملہ بھی ناکا م ہو چکا تھا۔ اس نے جس جانباز اور منتخب فوج کو باہر نکالا تھا اس کی بہت تھوڑی سی نفری واپس شہر میں جا سکی تھی ۔باقی سب باہر مرے پڑے تھے یا زخمی تھے، جو مجاہدین کی منت سماجت کر رہے تھے کہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور ان کی مرہم پٹی کر دیں۔بُہر شیر کو مسلمانوں سے بچانا ناممکن ہو گیا تھا۔
دوسرے ہی دن شہر کا ایک دروازہ کھلا۔ پانچ چھ گھوڑ سوار باہر آئے۔ سب سے آگے والے گھوڑ سوار کی پوشاک بتاتی تھی کہ اس کا تعلق شاہی خاندان کے ساتھ ہے یا وہ کوئی بڑا افسر ہے۔ اس کے ایک پہلو کے ساتھ والے سوار نے سفید جھنڈا اٹھا رکھا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ صلح اور سمجھوتے کا پیغام لائے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ترجمان بھی تھا جو عرب اور عجم کی زبانیں جانتا تھا۔ گھوڑ سوار کچھ اور آگے آکررُک گئے ۔ترجمان ذرا آگے آگیا:- تفصیل سے پڑھئے

’’شہنشاہِ فارس یزدگرد کے ایلچی آئے ہیں۔‘‘ ترجمان نے عربی زبان میں بلند آواز سے کہا۔’’ یہ عربی سپہ سالار سے ملنا چاہتے ہیں ۔امن اور دوستی کا پیغام لائے ہیں۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص کا بھتیجا ہاشم بن عتبہ قریب ہی کھڑا تھا۔ وہ ان کی طرف بڑھا۔
’’ہم شہنشاہ کے ایلچی کا استقبال دل و جان سے کرتے ہیں۔‘‘ ہاشم بن عتبہ نے کہا۔’’ میرے ساتھ آئیں۔‘‘
ہاشم بھی گھوڑے پرسوار تھا۔ وہ انہیں سعدؓ بن ابی وقاص کے خیمے میں لے گیا۔سعدؓ وہاں نہیں تھے۔و ہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے اور محاصرے کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ شاہِ فارس کا ایلچی آیا ہے ۔وہ فوراً اپنے خیمے میں پہنچے ۔ ایلچی اور ترجمان فرش پر بچھی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھے تھے۔ ایلچی کا جسم خاصا فربہ تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص کو دیکھ کر ایلچی احتراماً اٹھنے لگا۔ لیکن موٹاپے کی وجہ سے اسے اٹھنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔
’’میری تعظیم میں اٹھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ سعدؓ نے ایلچی کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر بٹھاتے ہوئے کہا۔’’ تمہارے جرنیل میدانِ جنگ میں بھی کرسیاں تخت اور قالین لے آتے ہیں۔‘‘ سعدؓ نے ایلچی کو اٹھنے نہ دیا۔ اس سے ہاتھ ملایا اور اس سے ذرا دور ہٹ کر بیٹھ گئے اور کہا۔ ’’آپ کے رستم کا تخت ہمارے پاس ہے، جس پر بیٹھ کر وہ جنگ کے میدان میں اپنی فوج کو لڑایاکرتا تھا۔ اس کے قالین اور تکیے بھی ہمارے پاس ہیں اور اس کی شاہانہ کرسیاں بھی ہمارے پاس ہیں۔اس کے دربار کا سارا ہی سازوسامان ہمارے قبضے میں ہے لیکن ہم ان چٹائیوں پر بیٹھا کرتے ہیں……تمہیں زحمت تو ہو گی لیکن ہم اپنے طور طریقے نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
’’آپ نے جس احترام سے میرا استقبال کیا ہے، اس سے مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں زمین پر بیٹھا ہو ں یا نرم و ملائم مخمل کے گدوں پر ۔‘‘ ایلچی نے کہا۔ ’’سب سے پہلے شہنشاہِ فارس یزدگرد کاسلام قبول کریں۔ پھر شہنشاہ کی ایک پیشکش پر غور کریں۔ آپ یقینا اس پیش کش کو قبول کریں گے ۔یہ ہمارے شہنشاہ کی فیاضی ہے کہ وہ اپنی آدھی سلطنت آپ کو دے رہاہے۔‘‘
’’اپنے شہنشاہ کا پورا پیغام سناؤ۔ ‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے کہا۔
’’شہنشاہِ فارس کا فیصلہ یہ ہے ۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’ کہ ہماری سلطنت کا جو علاقہ آپ نے لے لیا ہے وہ آپ کا اور دجلہ سے اُس طرف کا علاقہ فارس کا۔‘‘
’’یعنی شہنشاہ دجلہ کو عرب اور عجم کے درمیان حدّ ِ فاضل بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔
’’بالکل یہی!‘‘ایلچی نے کہا۔’’ شہنشاہ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ صرف آپ کی رضا مندی درکار ہے۔ بُہر شیر آپ کا ہوگا اور مدائن ہمارا۔ شہنشاہ نہیں چاہتے کہ مزید خون بہایا جائے۔‘‘
’’ہم تمہارے شہنشاہ کے چاہنے یا نہ چاہنے کے پابند نہیں۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ اب شہنشاہ کو ہمارے فیصلوں کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر تمہارا شہنشاہ یہ پیش کش اس روز کرتا جس روز ہم بُہر شیر پہنچے تھے تو اس پر غور کیا جا سکتا تھا ۔تم نے بُہر شیر کو بچانے کے کیا کیا جتن نہیں کیے ۔دو تین دن پہلے تمہارے شہنشاہ نے کتنا سخت حملہ کروایا تھا ۔یہ اس کا آخری وار تھا جو بیکار گیا۔ اب شہنشاہ مدائن کو بچانے کیلئے آدھی سلطنت پیش کر رہا ہے ……نہیں محترم ایلچی!شہنشاہ سے کہنا کہ ہمیں یہ پیش کش قبول نہیں۔‘‘

فارس کے ایلچی نے بہت کوششیں کیں ،بہت باتیں کیں، زروجواہرات کی پیش کش بھی کی، لیکن سعد ؓبن ابی وقاص ٹس سے مس نہ ہوئے۔
’’پھر آپ اپنی شرائط بتائیں۔‘‘ ایلچی نے کہا۔’’ شہنشاہ یہیں پر جنگ بندی چاہتے ہیں۔‘‘
’’شرائط پیش کرنے کا وقت تو گزر گیا ہے۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ ہم نے شرائط پیش کی تھیں ۔تمہارے شہنشاہ نے ہمارے ایلچیوں کا مذاق اڑایا تھا۔ اس نے ہمارے ایک بہت ہی معزز اور قابل احترام ایلچی کے سر پر مٹی کا بھرا ٹووکرا رکھ دیا تھا۔ تمہارے رستم نے کہاتھا کہ خدا نے نہ چاہا تو بھی عرب کو تباہ و برباد کر دوں گا۔ جنگ کا فیصلہ تمہارے شہنشاہ نے کیا تھا۔ اب شہنشاہ کو جنگ کا نتیجہ قبول کر نا چاہیے۔‘‘
’’میں حیران ہوں کہ آپ جیسا دانشمند سپہ سالار اتنی بڑی پیش کش ٹھکرا رہا ہے۔‘‘ ایلچی نے کہا۔
’’محترم ایلچی!‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ میں اس سے بھی بڑی پیشکش قبول نہیں کر سکتا ۔ہمارے خلیفہ کا واضح حکم ہے کہ مدائن کو فتح کرنا ہے۔ میں اپنے خلیفہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے ایلچی کو رخصت کر دیا۔
٭
تمام مؤرخوں نے یزدگرد کی اس پیش کش کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ایلچی رخصت ہوا تو سعد ؓبن ابی وقاص نے سالاروں کو بلا کر کہا کہ شہر پرسنگباری پہلے سے تیز کر دی جائے۔
سارے لشکر میں یہ بات پھیل گئی کہ شہنشاہِ فارس کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے اور اس کے عوض اس نے دجلہ تک کے علاقے سعد ؓبن ابی وقاص کوپیش کیے ہیں۔ جس وقت سعدؓ یہ حکم دے رہے تھے کہ سنگباری تیز کر دی جائے، اس وقت لشکر سے نعرے گرجنے لگے ۔
’’ہماری منزل مدائن ہے۔‘‘
’’ہم مدائن سے بھی آگے جائیں گے۔‘‘
’’ہم اپنے شہیدوں کے خون کی پوری قیمت لیں گے۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے جب یہ نعرے سنے جو بلند سے بلند تر ہوتے جا رہے تھے، ان کے چہر ے پر رونق آگئی۔ انہو ں نے گھوڑا دوڑا دیا اور محاصرے میں گھومنے لگے۔
’’تم نے میری تائید کر دی ہے۔‘‘ سعدؓ نے کئی جگہوں پر گھوڑا روک کر مجاہدین سے کہا۔’’ میں نے شاہِ فارس کے ایلچی کو یہی جواب دے کر واپس بھیجا ہے کہ ہم اب اس کی کوئی شرط اور کوئی معاوضہ قبول نہیں کریں گے……میرے رفیقو!میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں شہیدوں سے بے وفائی نہیں کروں گا۔ امیر المومنین کا بھی یہی حکم ہے کہ مدائن کو فتح کر لیا جائے۔‘‘
مجاہدین کے نعروں نے سعدؓ کو نیا حوصلہ دیا اور سعدؓ بن ابی وقاص کا عزم سن کر مجاہدین کے حوصلوں میں نئی روح پھونکی گئی ۔یہ قوتِ ارادی تھی بلکہ روحانی قوت کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ جس کے بھروسے پر مجاہدین یہ ارادے باندھ رہے تھے کہ وہ مدائن تک پہنچیں گے۔ وہ تو ابھی بُہر شیر کو بھی فتح نہیں کر سکے تھے۔
بعض مؤرخ لکھتے ہیں کہ محاصرہ نو مہینے جاری رہا،اور بعض نے لکھا ہے کہ محاصرہ اٹھارہ مہینے جاری رہا تھا۔ بہرحال یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ محاصرے کا عرصہ ایک سال کے لگ بھگ تھا ۔اس ایک سال کے دوران امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے کچھ کمک بھی بھیجی تھی ۔زخمی مجاہدین ٹھیک ہو کر لڑنے کے قابل ہو گئے تھے۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے جو جاسوس اور مخبر بنائے تھے وہ اپنا پورا کام کر رہے تھے۔ کچھ دنوں بعد ایک جاسوس نے آکر بتایا کہ بُہر شیر اور مدائن میں کچھ خفیہ سی نقل و حرکت ہوتی رہتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بُہر شیر سے فوج ہٹائی جا رہی ہو۔
دو تین دن اور گزرے تو سعد ؓکو سالاروں نے بتایا کہ دیوار پر جو تیر انداز ہر وقت موجو د رہتے ہیں ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
’’میں بھی یہی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ میں اس انتظار میں ہو ں کہ یہ تعداد مزیدکم ہو جائے تو ہم دروازے توڑنے یا کمندیں پھینک کر دیوار پر چڑھنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
کچھ دن اور گزرے تو رات کے وقت مجاہدین میں کچھ شوروغل سا اٹھا۔ سالار بھی جاگ اٹھے اور سعد ؓبن ابی وقاص کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ خیمے سے باہر آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دجلہ کی طرف آسمان سرخ ہوا جا رہا تھا۔ (۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی) اس طرف شہر کی چوڑائی اتنی زیادہ تھی کہ جا کر نہیں دیکھا جا سکتا تھا کہ اُدھر کیا ہو رہا ہے۔ سرخ روشنی سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ آگ لگی ہوئی ہے لیکن یہ معلوم کرنا ممکن نہیں تھا کہ یہ آگ کسی ایک مکان کو یا بہت سے مکانوں کو لگی ہے۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے یہ خیال ظاہر کیا کہ آتش پرست شہر کو آگ لگا رہے ہیں اور آگ اسی صورت میں لگائی جاتی ہے جب شہر خالی کرنا ہوتا ہے۔
سعدؓ بن ابی وقاص کے کہنے پر دو گھوڑ سوا ر بھیجے گئے کہ وہ دریا کے کنارے اتنی دور تک چلے جائیں جہاں سے انہیں شہر کا دریا کے کنارے والا حصہ نظر آجائے اور وہ دیکھیں کہ آگ کہاں لگی ہوئی ہے۔
’’انہوں نے پل جلا ڈالا ہے۔‘‘ گھوڑ سواروں نے آکر اپنے سپہ سالار کو بتایا۔’’ پورے کا پورا جل رہا ہے۔‘‘
’’انہوں نے ہمارے لیے مدائن کا راستہ بند کر دیا ہے۔‘‘ سعد ؓبن ابی وقاص نے کہا ۔’’صبح دیکھیں گے کہ بُہر شیر میں کیا رہ گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں شہر خالی مل جائے۔‘‘
صبح طلوع ہوئی تو سب سے پہلے جو تبدیلی بُہر شیر میں نظر آئی وہ یہ تھی کہ دیوار پر ایک بھی آدمی نظر نہیں آرہا تھا۔ سعدؓ کے حکم سے ایک جگہ دیوار پر کمند پھینکی گئی اور تین چار مجاہدین اوپر چلے گئے۔ ان کی حفاظت کیلئے نیچے بہت سے تیر انداز کمانوں میں تیر ڈالے ہوئے کھڑے کر دیئے گئے تھے تاکہ اوپر کوئی فارسی کمند اتارنے یا کمندچڑھنے والوں پر تیر یا برچھی چلانے لگے تو ان پر تیروں کی بوچھاڑیں پھینکی جائیں۔
مجاہدین اوپر چلے گئے اور دیوار سے شہر کو دیکھا۔
’’شہر خالی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ ایک مجاہد نے بلند آوازسے کہا۔
’’یہ دھوکا بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ نیچے اُتر کر دروازہ کھول دو۔‘‘
تھوڑی ہی دیر بعد دروازہ کھل گیا ۔سعد ؓبن ابی وقاص نے قعقاع کو حکم دیا کہ وہ اپنے قبیلے کو ساتھ لے کر سب سے پہلے شہر میں داخل ہو ۔ قعقاع غیر معمولی طور پر دلیر سپہ سالار تھے ۔انہوں نے اپنے قبیلے کو للکارا اور یہ لوگ شہر میں داخل ہو گئے اور سیلاب کی طرح سارے شہر میں پھیل گئے۔ انہوں نے شہر کے باقی دروازے بھی کھول دیئے اور تمام لشکر شہر میں داخل ہو گیا اور شہر میں پھیل گیا ۔مکانوں کے اندر جا کر دیکھا تو مکان خالی تھے۔ ہر گھر میں وہی سامان پڑا تھا جو لوگ اٹھا کر نہیں لے جا سکتے تھے۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ قیمتی اشیاء اور مال و دولت اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
سارے شہر میں صرف ایک بوڑھا آدمی ملا جو خود ہی باہر آگیا تھا۔ اسے سعدؓ بن ابی وقاص کے سامنے لے جایا گیا۔ تقریباً تما م تاریخوں میں اس معمر آدمی کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کا نام کسی نے نہیں لکھا۔
’’تم اس شہرمیں کیوں رہ گئے ہو؟‘‘سعد ؓنے اس سے پوچھا۔ ’’کیا تم بتا سکتے ہو کہ لوگ کہاں اور کیوں چلے گئے ہیں؟‘‘
’’یہی بتانے کیلئے باہر نکلا ہوں۔‘‘ بوڑھے نے عربی زبان میں کہا۔’’ میں اگریہاں رہ بھی گیا تو تمہارا کیا بگاڑسکتا ہوں؟ سب نے کہا کہ تم بھی چلو ، یہاں رہ گئے تو مسلمان تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ میں نے کہا کہ میں اب زندہ رہ کر کروں گا بھی کیا……اس مکان کو چھوڑتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا تھا۔ جو مکان میرے باپ نے بنایا تھا اور جس میں اس نے پوری عمر گزاری تھی۔ میرے دو جوان بیٹے فارس کی فوج میں گئے تھے ۔دونوں مارے گئے ہیں۔ میری دو بیٹیاں نوجوان ہیں میں نے انہیں مدائن بھیج دیاہے ۔یہ ایک رواج ہے کہ فاتح مفتوح شہر کی عورتوں کو اپنا مال سمجھ لیتے ہیں۔ میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں ،قتل کرنا چاہو تو کر دو۔‘‘
’’نہیں میرے بزرگ!‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے کہا۔’’ ہم نہتّوں پر، بوڑھوں پر، بچوں پر، اور عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے ۔ ہم لوٹ مار بھی نہیں کیاکرتے۔ کیاتم دیکھ نہیں رہے کہ میرے آدمی گھروں میں داخل ہو کر خالی ہاتھ واپس آرہے ہیں۔ جب تک میں نہیں کہوں گا وہ کسی گھر میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگائیں گے……ہمیں بتاؤ کہ یہ شہر کس طرح خالی کیا گیا؟‘‘
’’دو روز پہلے مدائن سے حکم آیا تھا کہ رات کے وقت شہر خالی کر دیا جائے۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ لوگوں نے دو تین راتیں لگا کر شہرخالی کردیا ۔میں دیکھ رہا تھاکہ لوگ اپنا قیمتی سامان لے جا رہے تھے۔ لوگ چلے گئے تو فوج بھی چلی گئی ۔گذشتہ رات میں نے چھت پر جاکر دیکھا ،پل جل رہا تھا۔ یہ میرے بچپن کی یادگار تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا دریا تک گیا ۔پل کو اُس سرے تک آگ لگی ہوئی تھی اور پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ دریا کے اس کنارے جو بیشمار چھوٹی بڑی کشتیاں بندھی رہتی تھیں، وہ ہمارے فوجی مدائن کی طرف لے جا رہے تھے۔‘‘
’’کیا اب وہاں ایک بھی کشتی نہیں؟‘‘سعدؓ نے پوچھا۔
’’ایک بھی نہیں۔ ‘‘بوڑھے نے جواب دیا۔’’ دریا کے اس طرف کنارے پر تمہیں دور دور تک کوئی کشتی نہیں ملے گی، تم سپہ سالار ہو، تم سمجھ سکتے ہو کہ کشتیاں کیوں لے گئے ہیں اور پل کو کیوں جلایا گیا ہے ۔ دریا کی حالت دیکھ لو۔ چونکہ یہاں دریا تنگ ہے اس لئے پانی بہت گہرا ہے اور دریا کی کیفیت سیلابی ہے ۔کوئی نامور تیراک بھی دریا میں اترنے کی جرأت نہیں کر سکتا……لیکن میں آ پ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ فتح تمہاری ہو گی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ سعدؓ نے پوچھا۔
’’وہ اس طرح کہ تم لوٹ مار کرنے نہیں آئے۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے شہنشاہ نے تمہیں آدھی سلطنت کی پیش کش کی ہے جو تم نے قبول نہیں کی۔‘‘
’’لیکن میں اپنے لشکر کو پار کیسے لے جاؤں گا؟‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ نہ کوئی کشتی ہے نہ پُل ہے……کیاتم دریا پار کرنے کا کوئی اور ذریعہ بتا سکتے ہو؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعدؓبن ابی وقاص اس کی رہنمائی چاہتے تھے۔انہوں نے بوڑھے سے یہ بھی پوچھا کہ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں سے دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہو اور گہرائی کم ہو ۔بوڑھے کو ایسی جگہ کا علم نہیں تھا۔ اس نے اتنا ہی بتایا کہ بہت ہی دور دریا کے نیچے کی طرف دریا دو تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے لیکن وہ جگہ بہت دور تھی۔ بوڑھے نے یہ بھی بتایا کہ وہ سارا علاقہ دلدلی ہے۔‘‘
سعد ؓبن ابی وقاص نے اس بوڑھے کو اس حکم کے ساتھ پیچھے بھجوا دیا کہ اسے عزت و احترام کے ساتھ رکھا جائے اور اس کے ساتھ معزز مہمانوں جیسا سلوک کیا جائے۔

جاری ھے...

Next Episode


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.