Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 58

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


Novel Snipper 
by 
Riaz Aqiz Kohler 
Episode 58
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر 
  از 
 ریاض_عاقب_کوہلر
58 قسط نمبر 
سنائپر
قسط نمبر 58
ریاض عاقب کوہلر
تھوڑا سا آگے آتے ہی میں نے پوچھا ۔”یہاں سے ہم مرناہ گرجائیں گے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہم مرناہ گر ،پکتیکا اور زرغون شہر وغیرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے پہاڑیوں کے بیچوں بیچ مختصر رستوں سے آگے بڑھیں گے ۔“
میں نے کہا۔”گردیز کیمپ بھی تو رستے ہی میں آتا ہے نا ۔“
”نہیں وہ دوسری جانب ہے ،اس سے کم وقت تو غزنی پہنچنے میں لگے گا۔“
”وہاں سے صغیر شہید پارٹی تو دو دونوں میں ہم تک پہنچ گئے تھے ۔“
وہ گردیز سے ارگون اور ساروبی تک گاڑیوں میں آئے تھے ۔وہاں سے مختصر رستے پر مرناہ گر پہنچ گئے ۔“
میں نے پوچھا ۔”اس کا مطلب گردیز سے میران شاہ والا رستا انھیں قریب پڑتا ہو گا ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”بہت قریب پڑتا ہے اور گاڑی کا رستا ہے ،مگر وہ رستا ہمارے لیے محفوظ نہیں اس لیے چکر کاٹ کر اس طرف سے آنا پڑتا ہے ۔“
”ہونہہ!“کرکے میں خاموش ہو گیا۔
اس نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔”ویسے پکتیکا کے مضافات میں موبائل فون کے سگنل بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔“
”اس کا مطلب آگے شہروں میں موبائل فون کے سگنل آتے ہیں ۔“
”بالکل آتے ہیں ۔AWCC یعنی افغانستان وائرلیس کمونیکیشن،روشن،ADIA وغیرہ۔“
”پھر تو رابطوں میں سہولت رہتی ہو گی ۔“
”بہت زیادہ ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اب کام شروع ہے ان شاءاللہ جلد ہی سرحدی پہاڑوں پر بھی سگنل آنے شروع ہو جائیں گے ۔“
میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔”گویا اس بہانے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں سے بات چیت ہو جایا کرے گی۔“
کمانڈر عبدالحق ہنسا ۔”لگتا ہے بات کافی بڑھ گئی ہے ۔“
”ہاں بھائی ،بہت مخلص گھرانا ہے ۔اس کے ساتھ انھوں نے میری زندگی بھی بچائی ہے ۔“ میں اسے اپنے برف باری میں پھنسنے کی تفصیلات بتانے لگا ۔
عبدالحق نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”یہ تو اللہ پاک کا نظام ہے ،انسان کو وہاں سے دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ۔“
”بے شک ۔“میں نے تائیدی انداز میں سرہلادیا ۔
عبدالحق ان رستوں کا شناورتھا۔اور پھر کافی عرصے سے اس کا واسطہ پہاڑوں سے پڑ رہا تھا تبھی وہ ڈھلان پر کافی تیزی سے حرکت کرتا تھا ۔دوپہر ڈھلے ہم ایک چشمے کے کنارے دن کا کھانا کھا رہے تھے ۔
کھانے کے بعد گرم قہوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں نے پوچھا ۔ ”ویسے بہتر ہوتا کہ آپ مجھے نقشہ بنا کر دے دیتے ۔“
”دراصل میں غزنی کے علاقے میں مصروف عمل مجاہدوں سے آپ کا رابطہ بھی کرانا چاہتا تھا۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا مطلب وہ کوئی اور مجاہد ہیں ؟“
وہ مجھے سمجھاتا ہوا بولا ۔”بالکل ،افغانستان میں مختلف گروپ کفر سے برسرپیکار ہیں اور ہر گروپ کا علاحدہ کمانڈر ہے ۔آپ کو تو بس ہمارے گروپ کے کچھ لوگ جانتے ہیں ،باقی گروپس کے لیے آپ بالکل ہی انجان اور لاتعلق شخص ہوں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا افغانستان میں کام کرنے والے تمام گروپس آپ کو جانتے ہیں ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔”لیکن میں انھیں اپنی پہچان کراسکتا ہوں ،تمام چھوٹے کمانڈروں کے پاس بھی مختلف پاس ورڈز اور خفیہ معلومات ہوتی ہیں جن میں میں آپ کو حصہ دار نہیں بنا سکتا اسی وجہ سے مجھے خود آپ کے ساتھ سفر طے کرنا پڑا ۔“
”ویسے افغانستان میں کتنے گروپ کام کر رہے ہیں ۔“قہوہ پی کر ہم آگے چل پڑے تھے ۔
”کافی زیادہ گروپ ہیں ........“وہ ان گروپوں کی تفصیل بتانے لگا ۔شام تک ہم ایک چھوٹی سی آبادی کے قریب پہنچ گئے تھے ۔دونوں نے مشورے سے وہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ایک بھلے آدمی کے گھر سے ہمیں کھانا اور ٹھکانہ مل گیا تھا ۔صبح سویرے نماز پڑھ کر ہم نے ناشتا کیا اور اللہ پاک کا نام لے کر چل پڑے ۔اگلے دودن ہم نے آرام سے سفر کرتے ہوئے رستے ہی میں گزارے تھے ۔اس دوران ہمیں دریائے غزنی بھی عبور کرنا پڑا ۔ہم دن کو سفر کرتے اور رات کو کسی کے مہمان بن جاتے ۔ تیسرے دن سہ پہر ڈھلے ہم مجاہدین کے ایک خفیہ ٹھکانے تک پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر عبدالحق نے اپنی پہچان کروائی ،فوراََ ہمیں خوش آمدید کہا گیا ۔
رات کے کھانے پر کمانڈر بسم اللہ جان ہماری آمد کی غایت پوچھ رہا تھا ۔
”ایک ذاتی کام ہی سمجھ لو ۔“عبدالحق نے تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا ۔شاید میری مرضی معلوم کیے بغیر وہ کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا ۔
بسم اللہ جان نے تفصیل جاننے میں دلچسپی ظاہر کیے بغیر کہا ۔”بس یہ بتا دیں کہ ہم کیا مدد کر سکتے ہیں ۔“
عبدالحق نے کہا۔”فی الحال تو کوئی نہیں البتہ جب بھی کسی مدد کی ضرورت ہوئی آپ کوضرور تکلیف دیں گے ۔“
بسم اللہ جان خوش دلی سے بولا۔”خوش آمدید۔“
رات کو جب ہم بستر پر لیٹے تو میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”میرا خیال ہے اب آپ کی ذمہ داری بھی ختم ہو گئی ہے ۔“
”نہیں یار !....آپ جس دشمن کے خلاف کام کر رہے ہیں وہ میرا بھی اتنا ہی دشمن ہے ۔“
”ویسے یہاں تک میں پہنچ تو گیاہوں مگر کوئی لائحہ عمل ذہن میں نہیں آرہا ۔“میں نے اس موضوع پر مزید بات نہ کر کے گویا اس کی بات مان لی تھی ۔
عبدالحق اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”پہلے ان کے کیمپ کا جائزہ لے لیں پھر منصوبہ بھی بنا لیں گے ۔“
٭٭٭
اگلے دن ہم نے اپنے ہتھیار مجاہدین کے ٹھکانے پر چھوڑے اور ایک رہنما کو ساتھ لے کر غزنی شہر کی طرف چل پڑے۔ امریکن آرمی کا کیمپ شہر کے مضافات میں تھا ۔ کیمپ کیا پورا قلعہ تھا۔ سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات کہ حقیقتاََ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا ۔امریکنز کی رہائش تک چار پانچ حفاظتی حصار بنے ہوئے تھے ۔اتنی فول پروف سیکیورٹی دیکھ کر میرے دماغ میں کیمپ کے اندر گھسنے کا خیال بھک سے اڑ گیا تھا ۔
”میرا خیال میں اندر گھسنے کی کوشش کرنا نری خود کشی ہی ہو گی ۔“میں نے آنکھوں سے لگی دوربین کمانڈرعبدالحق کی طرف بڑھائی۔
میرے ہاتھوں سے دوربین لے کر اس نے آنکھوں سے لگانے کی زحمت کیے بغیر کہا ۔” مجھے پہلے سے معلوم تھا ،مگر میں چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ آپ خود جائزہ لے لیں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”آپ پہلے یہ کیمپ دیکھ چکے ہیں ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”اگر دیکھ چکا ہوتا تو اپنے ساتھ کسی رہنما کو کیوں لاتا ،مگر ان کے تمام کیمپ اسی طرح سے فول پروف بنائے گئے ہیں اور یہ بھی باقی کیمپوں کی طرح ہی ہے ۔ امریکن بس اپنی فلموں ہی میں دلیری دکھا سکتے ہیں ،حقیقتاََ اتنے بزدل ہیں کہ میں بتا نہیں سکتا ۔“
”کیا یہ کیمپ سے باہر نہیں نکلتے ۔“
”نکلتے ہیں ،مگر بہت کم اور خاطر خواہ انتظام کے بعد ایک قافلے کی صورت باہر آتے ہیں ۔ سب سے آگے ایک خصوصی گاڑی چلتی ہے جس میں جیمر نصب ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ٹائم بم یا آئی ڈی وغیرہ چال نہیں کر سکتی ۔اور اگر اتفاق سے آئی ای ڈی پھٹ بھی جائے تب بھی آگے والی گاڑی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔عقب میں چلنے والی گاڑیوں میں بھی کئی افغان اور امریکن ہتھیار بردار تیاری حالت میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہیلی کاپٹر بھی عموماََقافلے کے ساتھ ہی چلتا ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”پاکستان میں تو البرٹ بروک وغیرہ اتنا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔“
”کیونکہ وہاں وہ امریکنوں کی حیثیت سے سفر نہیں کرتے ۔وہاں وہ دہشت گردوں کی گاڑیوں میں چھپ کر حرکت کرتے ہیں اور کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان گاڑیوں میں کوئی امریکی جا رہا ہے ۔“
اس دن ہم امریکن کیمپ کا چاروں اطراف سے جائزہ لے کر واپس آگئے ۔واپس پہنچتے ہوئے شام ہو گئی تھی ۔صبح ناشتے کے بعد سے ہم کچھ نہیں کھا سکے تھے ،کیمپ پہنچتے ہی ہم نے سب سے پہلے کھانا کھانا پسند کیا ۔رات کو سونے سے پہلے ہم ایک مناسب لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے ۔

میں نے کہا ۔”بھائی مجھے اس کا ایک ہی حل نظر آرہا ہے کہ ان کا کوئی اہم آدمی اپنے قبضے میں کریں اور پھر مذاکرات کے ذریعے اپنی شرائط منوا لیں ۔“
”صحیح کہا۔“عبدالحق نے میری تائید میں سر ہلایا۔”مگر اصل مسئلہ ہی کسی اہم آدمی کو پکڑنے کا ہے ۔ان بزدلوں کے ہوٹل اور تفریح کے دوسرے انتظامات حفاظتی حصار کے اندر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرح نہ انھیں باہر نکلنا پڑتا ہے اور نہ انھیں کوئی خطرہ ہوتا ہے ۔“
”ان کے کیمپ پر تو حملہ کیا جا سکتا ہے نا ۔“
”شاید ،مگر اس طرح ہم انھیں جانی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں کسی کو پکڑ نہیں سکتے ۔کیونکہ یہ حملہ دور سے راکٹ وغیرہ پھینک کر ہی کیا جا سکے گا ۔ورنہ کیمپ کے حفاظتی انتظامات تو آپ نے خود دیکھ ہی لیے ہیں ۔“
”شہر میں خریداری وغیرہ کے لیے تو جاتے ہوں گے ۔“
”ضرورت کا سامان انھیں کیمپ کے اندر ہی پہنچا دیا جاتا ہے ۔اور سامان لانے والے مخصوص افراد ہوتے ہیں جنھیں شناخت کے کئی مراحل سے گزر نا پڑتا ہے ۔“
”اب یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان کے کسی قافلے پر گھات لگائی جائے ۔“
”ہاں ،لیکن وہ تب ہی ممکن ہے کہ ہمیں پہلے سے ان کے قافلے کے جانے کے وقت اور سمت کے بارے معلو م ہو جائے ۔اس صورت میں بھی ہمیں کمانڈر بسم اللہ جان کی مدد کی ضرورت پڑے گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا کمانڈر ہماری مدد نہیں کرے گا ؟“
”کیوں نہیں ۔“
”بہتر تو یہی ہو گا کہ انھیں ساری بات بتا کر مشورہ مانگا جائے ،شاید وہ کسی دوسری تجویز کی طرف رہنمائی کر دیں ۔“
”ٹھیک ہے کل ان سے بات کر یں گے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ متفق ہو گیا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر بسم اللہ جان صبح سویرے ہی کہیں نکل گیا تھا ۔ان کی واپسی کہیں رات گئے ہوئے تھی ۔یوں ایک دن بعد ہی ان سے بات ہو سکی۔ ساری بات سن کر وہ گہری سوچ میں کھوگیا تھا۔چند لمحوں بعد اس نے زبان کھولی ۔
”ان کے قافلے تو پندرہ بیس دن بعد حرکت کر ہی لیتے ہیں ،لیکن ایک تو ضروری نہیں کہ ہر قافلے میں کوئی اہم شخصیت موجود ہو ۔اور دوسرا قافلے کی حفاظت کے لیے عموماََ ہیلی کاپٹر بھی ساتھ چلتا ہے ۔ایسی صورت میں قافلے پر حملہ تو کیا جا سکتا ہے کسی کو گرفتار کرنا مشکل ہو تا ہے ۔“
میں پھیکے انداز میں بولا ۔”گویا ہمارا منصوبہ کسی کام کا نہیں ۔“
کمانڈر بسم اللہ جان نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”ایک طریقہ توہے ،لیکن اس میں زیادہ محنت کرنا پڑے گی ۔“
ہم نے بیک زبان پوچھا ۔”وہ کیا ؟“
”غیرملکی میڈیا کے کافی نمائندے افغانستان کے بڑے شہروں میں موجود ہیں ،اسی طرح ان شہروں میں کچھ دوسرے مقاصد سے آئے ہوئے امریکی شہری بھی موجود ہوتے ہیں ........“
”مگر ہمیں میڈیا کے نمائندوں یا عام امریکنز سے کیا مطلب ۔“میں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔
کمانڈر بسم اللہ نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔”میرا خیال ہے میری بات درمیان ہی میں ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”تو میں کہہ رہا تھا کہ ان میں امریکن سی آئی اے کے کچھ ایجنٹ بھی چھپے ہوتے ہیں ۔اب ان سیکرٹ ایجنٹس کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے اس بارے میں بس اتنی ہی رہنمائی کر سکتا ہوں کہ اس کے لیے ایسے افراد کی نگرانی کرنا پڑے گی اور یہ کافی تھکا دینے والا کام ہے ۔“
”گویا اب مجھے جاسوس بننا پڑے گا ۔“
”جی ۔“کمانڈربسم اللہ جان نے اثبات میں سر ہلایا۔”اور شہر میں رہنے کے لیے آپ کے پاس اپنی شناخت موجود ہونا چاہیے یہ نہ ہو دوسروں کو پکڑتے ہوئے اپنی جان پھنسا بیٹھیں ۔“
میں نے کہا ۔”اب کام تھوڑا مشکل ہو گیا ہے ۔“
”نہیں اس کا بھی کوئی نہ کوئی بندوبست کر لیں گے ۔“عبدالحق نے مجھے تسلی دی ۔
میں نے پوچھا ۔”وہ کیسے ؟“بسم اللہ جان بھی اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔
عبدالحق نے کہا ۔”افغانستان میں کافی کنسٹریکشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پاکستانی مزدور اور انجینئر وغیرہ کام کر رہے ہیں ۔“
”تو ۔“میں نے مزید وضاحت چاہی ۔
”آپ کسی بھی کمپنی میں بہ طور مزدور وغیرہ شامل ہو کر اپنے پاکستانی شناختی کارڈ پر آسانی سے گھوم سکتے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”ویزا وغیرہ بھی تو بنانا ہو گا نا ؟“
”ویسے سردیوں میں تو کنسٹریکشن کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جاتا ہے ۔“اس سے پہلے کہ عبدالحق میرے سوال کا جواب دیتا بسم اللہ جان نے ایک اور نکتہ اٹھایا ۔
”یہ امریکہ نہیں ہے کہ یہاں ویزوں کی اتنی جانچ پڑتال ہو اور نقلی ویزہ بنانا اتنا مشکل نہیں ہے ۔باقی کنسٹریکشن کمپنیاں سائیٹوں کا کام سردی کی وجہ سے روک دیتی ہیں لیکن تھوڑا بہت دفتری سٹاف موجود رہتا ہے ۔“عبدالحق نے ایک ہی سانس میں ہم دونوں کا اعتراض ختم کر دیا تھا ۔
اس کے بعد ہم باقی تفصیلا ت طے کرنے لگے ۔اگلے دن عبدالحق نے وہاں سے کابل جانا تھا کیونکہ اس کی واقفیت جس کنسٹریکشن کمپنی میں تھی وہ کابل کے مضافات میں کام کر رہی تھی ۔وہیں پر اس نے میرے لیے ویزہ وغیرہ بھی بنوانا تھا ۔میں نے بھی اس کے ساتھ چلنے پر اصرار کیا تھا لیکن اس نے منع کر دیا کیونکہ میرا سڑک کے ذریعے کابل جانا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔خود عبدالحق کے پاس افغانستان کی شناخت موجودتھی ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر عبدالحق مجھ سے اجازت لے کر رخصت ہو گیا ۔ جاتے ہوئے اس نے ایک کیمرے والے موبائل فون میں میری چند تصاویرکھینچ لی تھیں ۔ایک مجاہد کو میں نے اپنے ذاتی کام میں گھسیٹ لیا تھا ۔گو ان مجاہدین کی زندگی کا مقصد ہی کفر کے خلاف برسر پیکار رہنا ہے ،لیکن ان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے ۔
اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر میں فارغ تھا ۔فروری کے وسط میں سردی کا زور ٹوٹنے لگتا ہے مگر یہاں ابھی تک سخت سردی پڑ رہی تھی ۔کمانڈر عبدالحق نے یہی کہا تھا کہ اسے میرے کام میں ہفتے سے زیادہ وقت لگ جائے گا ۔ اب اسے ڈیڑھ ہفتہ بھی لگ سکتا تھا اور دو سے تین ہفتے بھی ۔اس کی واپسی تک مجھے کوئی کام نہیں تھا ۔خود کو مصروف رکھنے کے لیے میں فارغ اوقات میں مختلف ورزشیں کر کے وقت گزارتا رہتا ۔اس طرح پلوشہ کی یادوں سے بھی کچھ افاقہ ہو جاتا اور کسرت بھی ہو جاتی ۔
کمانڈر عبدالحق کو گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا جب ایک رات کمانڈر بسم اللہ جان میرے پاس آگیا۔میں سونے کے لیے لیٹ چکا تھا ۔
”آپ غالباََ سو رہے ہیں ۔“مجھے رضائی میں گھسا دیکھ کر وہ واپس مڑنے لگا ۔
میں نے جلدی سے کہا ۔”ارے نہیں بھائی آئیں بیٹھیں،فارغ آدمی کو اتنی جلدی کہاں نیند آتی ہے ۔“
”اچھا ۔“کر کے وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
”آپ کام میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے آپ کے پاس نہیں بیٹھتا ورنہ میرا دل چاہتا ہے کہ رات گئے تک آپ کے ساتھ گپ شپ کروں ۔“
”گویا فراغت آپ کو راس نہیں آرہی ۔“اس نے بہ ظاہر ہنستے ہوئے پوچھا ۔نامعلوم کیوں مجھے اس کا لہجہ معنی خیز لگا تھا ۔
”آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں ،مجھے مسلسل فارغ رہنا پڑ رہا ہے اور یہ بے کاری نرا سر درد ہی تو ہے ۔“
”ویسے ایک کام تو ہے اس بہانے ہماری بھی مدد ہو جائے گی اور آپ کو بھی ہلنے جلنے کا موقع مل جائے گا ۔“اس کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ صرف اسی خاطر ہی میرے پاس آیا تھا ۔ اور گفتگو کا رخ اتفاقاََ ایسے موضوع کی جانب مڑ گیا کہ اسے اپنی بات کرنے میں آسانی ہو گئی تھی ۔
میں خوش دلی سے بولا ۔”کمانڈر آپ بے جھجک کام بتائیں ،اگر میرے بس میں ہوا تو انکار نہیں سنو گے ۔“
”عبدالحق بھائی کہہ رہے تھے کہ آپ کا نشانہ بہت اچھا ہے ۔“کام بتانے سے پہلے اس نے تصدیق کرنا ضروری سمجھا تھا ۔
میں نے انکساری سے کہا ۔”لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔“
اس نے متبسم ہو کر کہا ۔”تو لوگوں کے سمجھنے کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا نا وہ کیا کہتے ہیں ....
برا کہے جسے دنیا اسے برا کہیے 
زبان خلق کو نقارہ خدا کہیے
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”گویا آپ کے نزدیک اچھا نشانہ باز ہونا برائی کی علامت ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔”بالکل ،مخالفین کو ایسا آدمی بہت برا لگتا ہے ۔“
”غالباََ آپ یہی چاہتے ہیں کہ وہ مجھے برا ہی سمجھتے رہیں ۔“میں نے جوابی وار کیا ۔
”پرسوں ایک خصوصی تقریب منائی جا رہی ہے ،محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق اگلے تین چار دن موسم صاف رہے گا ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ محفل ایک کھلی جگہ منعقد ہو گی ۔ ایک بڑا سا کیک کاٹا جائے گا اور اس دوران آپ ہمیں یقین دلا سکتے ہیں کہ دشمن آپ کو یونھی برا نہیں سمجھتے۔“آخری فقرہ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔
”یہ پکی اطلاع ہے ۔“میں ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا ۔
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”لیکن اس دن میں نے کمانڈر عبدالحق کے ساتھ کیمپ کا جائزہ لیا تھا۔ مجھے تو کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آئی جہاں سے ہم کیمپ کے اندر موجود کسی شخص کو نشانہ بنا سکیں ،کیونکہ کیمپ کے نزدیک جو دو ٹیکریاں ہیں وہاں افغان آرمی تعینات ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”جنوبی ٹیکری پر کل رات ہمارا قبضہ ہو جائے گا ،سارا منصوبہ بنا لیا گیا ہے ۔اور میرا خیال ہے کہ جنوبی ٹیکری سے کیمپ کے اندر مناسب طریقے سے فائر کیا جا سکے گا ۔“
”شاید اس ٹیکری پر بغیر شور شرابہ کیے قبضہ نہ کیا جا سکے ۔“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔”ایک بھی گولی چل گئی تو بھانڈا پھوٹ جائے گا ۔اور ہم نے وہاں کافی وقت گزارنا ہے ۔“
وہ تیقّن سے بولا ۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔اس ٹیکری پر جو لوگ تعینات ہیں ان میں ہمارا ایک آدمی موجود ہے۔ کل رات کو تمام کے کھانے میں زود اثر بے ہوشی کی دوا شامل ہو جائے گی اور اس کے بعد یقینا کوئی مزاحمت کے قابل نہیں رہے گا ۔“
”یہ سارا منصوبہ آپ نے میری نشانہ بازی کی وجہ سے بنا یا ہے یا کوئی اور وجہ ہے ۔“
”ایسے منصوبے ہم وقتاََ فوقتاََ بناتے رہتے ہیں ،کیونکہ ہم دشمن کو آرام سے رہنے نہیں دے سکتے ۔ ویسے یہ منصوبہ پچیس دسمبر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا ،لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے جو تقریب کھلے میدان میں ہونا تھی وہ بند سٹیڈیم میں منائی گئی ۔بس ہم نے اپنا جو آدمی وہاں تک پہنچایا تھا اسے کہہ دیا کہ وہ کسی مناسب موقع کی آمد تک وہیں ٹکا رہے ۔اور اب وہ مناسب موقع آگیا ہے ۔ہم نے جو منصوبہ پہلے بنایا تھا اس کے مطابق ہم وہاں راکٹ فائر کرتے ہیں گو وہ تمام راکٹ اندازے سے فائر کیے جا تے ہیں اور کبھی کبھار ہی کوئی راکٹ نشانے پر لگتا ہے لیکن ہمارا اصل مقصد افراتفری پھیلانا اور انھیں یہ باور کراتے رہنا ہے کہ ہم موجود ہیں ۔“
”تو یہ کام آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں یوں کسی تقریب کا انتظار کرنے کا کیا مطلب ؟“
”کیونکہ تقریب کے وقت تمام اکھٹے ہوتے ہیں اور ایک بھی راکٹ نشانے پر لگ جائے تو کافی تباہی پھیلا سکتا ہے ،دوسرا ان کے جشن کے موقع پر ایسی کارروائی ان میں زیادہ مایوسی پھیلاتی ہے ۔“
”میرے گولی چلانے سے تو ایک دم افراتفری پھیل جائے گی اور اس صورت میں میں تین چار سے زیادہ افراد کو نشانہ نہیں بناپاﺅں گا ۔شاید آپ کے راکٹوں کو بھی ضائع کرنے کا باعث بن جاﺅں۔“
”ہمارے پاس ایسے موقعوں کے لیے ون او سیون راکٹ ہیں جن کا لانچر نہیں ہوتابس راکٹ ہی کو سیدھائی دے کر ہم مطلوبہ سمت میں ان کا رخ کر کے رکھ دیتے ہیں ۔یوں کبھی کبھار تو ایک آدمی کا بھی نقصان نہیں ہوتا اور کبھی چند افرادہلاک ہو جاتے ہیں ،جبکہ آپ کے فائر سے دو تین تو مردار ہو ہی جائیں گے ۔خاص کر بڑے آدمیوں کی موت سے ان کے مورال پر کافی اثر پڑے گا ۔“
”جب تک میں تقریب کی جگہ کا فاصلہ ناپ نہیں لیتا تب تک یہ کہنا قبل از وقت ہو گا،کہ میں کتنوں کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔اس ضمن میں مجھے کچھ سامان بھی درکار ہو گا ۔“اس کا سارا منصوبہ سمجھ میں آتے ہی میں نے اسے اپنی ضروریات سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا ۔
”آپ اپنی ضروریات کے بارے بتائیں ۔“
”سب سے پہلے تو ایک دور مار رائفل چاہیے ہوگی ،اس کے ساتھ دوربین ،ونڈ میٹر ،لیزر رینج فائینڈر ........“میں اسے مطلوبہ سامان کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا ۔
وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔”چلیں میں آپ کو اپنے پاس موجود سامان دکھا دیتا ہوں جو چیز کم ہوگی اس کا بندوبست ان شاءاللہ کل ہو جائے گا ۔“
میں سر ہلاتا ہوا بستر سے نکل کر اس کے ہمراہ ہو لیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم ایک تہہ خانے میں موجود تھے ۔وہاں ہتھیاروں کے درمیان ڈریگنوو اور گلیل سنائپر رائفل کے علاوہ رینج ماسٹر بھی موجود تھی ۔ اور رینج ماسٹر کی موجودی میں دوسری رائفلوں سے مجھے کیا مطلب ہو سکتا تھا ۔یہ تمام امریکن اور افغان فوجیوں سے چھینا گیا سامان تھا ۔سوائے ونڈ میٹر کے مجھے اپنے مطلب کی ہر چیز مل گئی تھی ۔یہاں تک کہ ایک اچھی کوالٹی کا سائیلنسر بھی موجود تھا ۔
”سامان تو قریباََ مکمل ہی ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
کمانڈر بسم اللہ جان خوش ہوتے ہوئے بولا ۔”ویسے ان میں سے کافی چیزیں ایسی ہیں جن کے استعمال کے بارے ہم نہیں جانتے تھے ۔ہمارے نزدیک وہ بالکل فالتو تھیں پھر بھی میں نے یہ سوچ کر رکھ چھوڑی تھیں کہ شاید کبھی کام آجائیں ۔آج لگتا ہے میرا یہ فیصلہ مفید ثابت ہوا ۔“


میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اب سب سے اہم کام یعنی فاصلہ ناپنا رہ گیا ہے کہ اس ٹیکری سے تقریب کی جگہ کا فاصلہ کتنا ہو گا ۔“
”ویسے آپ کتنے فاصلے سے کسی آدمی کو نشانہ بنا لیں گے ۔“
”دو کلومیٹر ۔“میں نے رینج ماسٹر کی رینج کے مطابق کہا ۔
”مطلب کمانڈر عبدالحق کی آپ کے بارے بتلائی گئی بات حقیقت ہے ۔“
”اب میں کمانڈر عبدالحق کو جھوٹا تو نہیں کہہ سکتا نا ۔“میں نے لطیف انداز میں چوٹ کی اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
مجھے بستر تک پہنچا کر اس نے اجازت لی اور رخصت ہو گیا ۔
٭٭٭
اگلے دن میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر رائفل کو صفر کر لیا تھا ۔سائیلنسر کی موجودی میں مجھے فائر کرتے ہوئے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا ۔ رینج ماسٹر رائفل کی تو بور سائیٹنگ بھی ہو جاتی ہے ۔لیکن جب فائر کرنے کی سہولت موجود ہو تو بور سائیٹنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔(بورسائیٹنگ بغیر گولی چلائے رائفل کو صفر کرنے کا طریقہ ہے )
رات کو کمانڈر بسم اللہ جان اپنے کچھ آدمیوں کے ساتھ مذکورہ ٹیکری پر پہنچ گیا تھا ۔انھیں سارے افغان فوجی بے ہوش ہی ملے تھے ۔پوری پوسٹ قبضے میں لیتے ہی اس نے موبائل فون پر کال کر کے اپنے ساتھیوں کو مطلع کر دیا ۔اس کے ایک ساتھی نے مجھ تک بھی یہ اطلاع پہنچا دی تھی ۔
میں نے صبح سویر ے وہاں پہنچنا تھا ۔طلوع آفتاب کے ساتھ ہی میں ایک ڈبل کیبن میں بیٹھا اس ٹیکری کی طرف روانہ تھا جہاں مجاہدین کا قبضہ ہو چکا تھا ۔
ہم نے بہ مشکل آدھا رستا طے کیا تھا کہ کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آ گئی ۔اس نے میرے ساتھ بات کرنا چاہی ۔اور میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
وہ سلام وغیرہ کے بعد بولا ۔”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے یہاں آپ کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔“
”کیوں ؟“میں نے حیرانی کے اظہار میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
وہ مایوس کن لہجے میں بولا ۔”میں نے اس جگہ کا فاصلہ ناپا ہے دو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ بن رہا ہے ۔“
”یہ طے کرنا میرا کام ہے ۔“ٹیکری کی بلندی ذہن میں لاتے ہوئے میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔
”جیسے آپ کی مرضی ۔“اس نے میری آمد کو میری صواب دید پر چھوڑ دیا تھا ۔
ڈرائیوربے خوف وخطر ،گاڑی کو اس ٹیکری کے عقب میں لے گیا تھا ۔پہلے والی تین گاڑیاں بھی وہیں چھپا کر کھڑی کی گئی تھیں ۔ہماری رہنمائی کے لیے دو آدمی ٹیکری سے نیچے آئے ہوئے تھے ۔ان کی ہدایات پر ڈرائیور نے گاڑی پہلے والی گاڑیوں کے ساتھ کھڑی کی اور ہم ان کی رہنمائی میں اوپر چڑھنے لگے ۔ٹیکری کے اوپر پہنچتے ہی کمانڈر بسم اللہ جان ہمیں اپنا منتظر نظر آیا ۔اس کے چہرے پر چھائے تاثرات یقینا میرے منھ سے کوئی امید بھری خبر سننے کے خواہاں تھے ۔میں نے بھی اس سے مصافحہ کرتے ہی فاصلہ ناپنے والے آلے (لیزر رینج فائینڈر )کے متعلق دریافت کیا ۔
”آئیں میرے ساتھ ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر پوسٹ کی شمالی جانب لے گیا ۔امریکن کیمپ بالکل ہی میرے سامنے تھا ۔ایک وسیع میدان کے بیچوں بیچ تقریب کے لیے جگہ بنائی گئی تھی ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کی خاطر شامیانے وغیرہ نہیں لگائے گئے تھے ۔یو کی شکل میں صوفہ سیٹ اور کرسیاں ترتیب سے لگائی گئی تھیں ۔ایک جانب چند چوڑی میزیں جوڑ کر کھانا وغیرہ رکھنے کی جگہ بنائی گئی تھی ۔میں نے فاصلہ ناپنے والا آلہ تھامتے ہی ترتیب سے رکھے صوفوں کا فاصلہ ناپا ۔وہ بائیس سو میٹر تھا ۔جبکہ رینج ماسٹر کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔
”کتنا فاصلہ ہے ۔“فاصلہ ناپتے ہی میں نے کمانڈر بسم اللہ جان سے تصدیق چاہی ۔
اس نے مایوسی بھرے انداز میں کہا ۔”بائیس سو ۔“
اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے اپ ہل ،ڈاﺅن ہل پروٹیکٹر کے ذریعے ہدف کا زوایہ معلوم کیا ۔وہ جگہ ہماری ٹیکری سے تیس ڈگری نشیب میں تھی ۔کوسائن فیکٹر کو استعمال کرتے ہوئے میں نے رائفل پر لگانے والی رینج معلوم کی جو کہ انیس سو پانچ میٹر بن رہی تھی ۔
(اس سے پہلے غالباََ میں بتا چکا ہوں کہ جب بھی کوئی سنائپر نیچے سے بلندی کی طرف یا بلند مقام سے نیچے کی طرف فائر کرتا ہے تو وہ ہدف کی براہ راست پڑھی جانے والی رینج نہیں لگاتا بلکہ افقی رینج لگاتا ہے ۔اس مقصد کے لیے اسے ہدف چاہے وہ نیچے ہو یا اوپر اس کا زاویہ درکار ہوتا ہے کہ سنائپر سے ہدف کی بلندی یا گہرائی کا کتنا زاویہ بن رہا ہے ۔اور پھر اس زاویے اور فاصلے کو ایک مخصوص تناسب سے جمع تفریق کرنے سے مطلوبہ رینج معلوم ہوجاتی ہے ۔قبیل خان کے جانشین سردارجہانداد خان کو میں نے اسی فارمولے کو بروے کار لاتے ہوئے بلندی کی طرف فائر کر کے کیفر کردار تک پہنچایا تھا ۔)
”میرا خیال ہے فائر کرنے کے لیے یہ جگہ مناسب رہے گی ۔“ایک ہموار سطح دیکھ کر میں نے کمانڈر بسم اللہ جان کو کہا ۔”یہاں ایک کمبل وغیرہ بچھوا دیں تاکہ میں آرادم دہ حالت میں لیٹ کر فائر کر سکوں ۔“
اس نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا ۔”کیا فاصلہ ناپنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہے ؟“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”فاصلہ بائیس سو میٹر ہی بن رہا ہے ۔لیکن نشیب میں ہونے کی وجہ سے رائفل پر رینج انیس سو میٹر لگے گی ۔“
”وہ کیوں ؟“اس کی حیرانی برقرار تھی ۔
”اس کیوں کو کھوجنے کے لیے آپ کو میری شاگردی اختیا ر کرنا پڑے گی ۔“ہنستے ہوئے میں رائفل کی میگزین بھرنے لگا ۔
”اس کا فیصلہ آپ کے فائر کے بعد ہی کر سکوں گا ۔“میرے پر اعتماد لہجے نے اسے خوش کر دیا تھا ۔
میں نے برجستہ کہا۔”فائر کے بعد شاید میری پیش کش برقرار نہ رہے ۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”یہ بھی ممکن ہے فائر کے بعد مجھے ہی اپنے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑے ۔“
میں نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”ا ب اتنے بھی برے دن نہیں آئے۔“
”چلو دیکھ لیں گے ۔“
دو میگزینیں بھر کر میں نے رائفل کے ساتھ رکھیں ۔اتنی دیر میں میری بتائی ہوئی جگہ پر ایک آدمی نے نرم کورین کمبل بچھا دیا تھا ۔رائفل پر ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر میں نے صوفوں کی جانب سیدھائی دی ۔ایلی ویشن ڈرم پرمطلوبہ رینج لگائی اوررائفل کو کاک کر کے سیفٹی لگادی ۔اب بس ان کے آنے کی دیر تھی ۔دھوپ خوب روشن تھی تقریب کی جگہ پر ہلکی پھلکی چہل پہل نظر آنے لگی تھی ۔ملازم کھانے کی میز پر برتن وغیرہ لگا رہے تھے ۔کچھ صوفوں اور ان کے سامنے پڑی شیشوں کی میزوں کو صاف کر رہے تھے ۔
رائفل کو وہیں چھوڑ کر میں کھڑا ہو گیا ۔”سادہ کپڑے کی چھوٹی سی جھنڈی درکار ہو گی ۔“
”جھنڈی ....؟“بسم اللہ جان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں ۔“میں وضاحت کرتا ہوا بولا ۔”ونڈ میٹر نہیں ہے نا تو ہوا کی رفتار ناپنے کے لیے ایک جھنڈی سامنے لگوا دو ۔“
”اب جھنڈے سے کیسے ہوا ناپی جائے گی؟“کمانڈر بسم اللہ جان کی سمجھ میں میری بات نہیں آرہی تھی ۔اور آ بھی کیسے سکتی تھی ،یہ تو سنائپرز کے اپنے تجربات ہوتے ہیں اور وہ کوئی سنائپر تو نہیں تھا ۔
میں اسے سمجھاتے ہوئے بولا ۔”ہوا کی وجہ سے جھنڈے کا کپڑا اس کے ڈنڈے کے ساتھ ایک مخصوص زاویہ بناتا ہوا لہراتا ہے ۔ہوا جتنی تیز ہوتی ہے کپڑا اتنا ہی سیدھا اڑتا ہے ۔اس زاویے کو ناپ کر ہم سنائپر ز اندازہ لگالیتے ہیں کہ ہوا کی رفتار کیا ہے اور پھر رفتار معلوم کر کے ہم دائیں بائیں فرق ڈالنے والی ناب کے ذریعے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر مناسب رینج لگا سکتے ہیں ،اس طرح کہ ہوا گولی پر اثر انداز نہ ہو سکے ۔“
”اتنے بکھیڑے ،مجھ سے تو نہیں پالے جائیں گے ۔“
میں نے کہا ۔”کامیاب فائر کرنے کے لیے ایسے بکھیڑے پالنا پڑتے ہیں کمانڈر جی ۔“کہتے ہوئے میں رہائشی بینکر کی طرف بڑھ گیا ۔ وہ جلدی سے بولا ۔”اپنے چہرے پر کپڑا لپیٹ لو ، ہم نے افغان فوجیوں کو قتل نہیں کرنا ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلا کر چہرے پر مفلر لپیٹ لیا ۔اندر موجود مجاہدوں نے بھی اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے ۔اس پوسٹ پر بیس کے قریب افغان فوجی موجود تھے ۔تمام کو انھوں نے باندھ دیا تھا۔ بسم اللہ جان کے دومسلح ساتھی ان کی نگرانی کر رہے تھے اور باقی افغان فوجیوں کا اسلحہ ، ایمونیشن اور دوسری کام کی چیزیں نیچے لے جا کر اپنی گاڑی میں لوڈ کررہے تھے ۔
اندر کا جائزہ لے کر ہم باہر نکل آئے ۔ایک طرف پلاسٹک کی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ ان پر بیٹھ ہم وقت گزارنے لگے ۔تھوڑی دیر تک مجاہدین ایمونیشن اور ہتھیاروں وغیرہ کو دو گاڑیوں میں لوڈ کر چکے تھے ۔آدھے افراد کو کمانڈر بسم اللہ جان نے واپس جانے کا حکم دیا کیونکہ فائر ہونے کے بعد ہم نے وہاں سے فرار ہونا تھا اور مناسب یہی تھا کہ اس سے پہلے سامان والی گاڑیاں اپنے ٹھکانے کی طرف بھیج دی جاتیں ۔
تقریب والی جگہ پر لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی ۔رائفل کے پیچھے لیٹ کر میں لیوپولڈ سائیٹ کے سے تقریب والی جگہ کا جائزہ لینے لگا ۔رینج ماسٹر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ عام انسانی آنکھ سے پچیس گنا زیادہ طاقتور ہے ۔اس میں پورا منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔آنے والے گورے سائیٹ کے اندر صاف نظر آرہے تھے ۔زیادہ تر تو صوفوں پر بیٹھ گئے تھے البتہ اکادکا دائیں بائیں جوڑیوں میں کھڑے ہو کر بات چیت کر رہے تھے ۔باوردی بیرے انھیں مشروبات پیش کر رہے تھے ۔ غالباََ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ وہ کون سا مشروب تھا ۔افغان فوج کے چندآفیسر بھی مجھے صوفوں پر بیٹھے ہوئے نظر آئے تھے۔ان کی پہچان مجھے فوجی وردی کی وجہ سے ہو پائی تھی۔اکادکا خواتین بھی نظر آرہی تھیں ۔
میری نظریں پھسلتی ہوئی ایک لڑکی پر مرکوز ہوئیں اور میں چونک گیا ۔الگ تھلگ بیٹھی ہاتھ میں پکڑے جام سے ہلکی ہلکی چسکیاں لے رہی تھی ۔وہ میجر جینیفر ہنڈسلے تھی ۔لیکن اس وقت بھی وہ ٹریسی والکر کا روپ دھارے ہوئے تھی ۔
تمام کے انداز سے یہی لگ رہا تھا کہ انھیں کسی کا انتظار ہے ۔درمیان میں پڑاٹو سیٹر صوفہ سیٹ خالی پڑا تھا اس کے ساتھ پڑے ہوئے سنگل سیٹ صوفوں پر دو آدمی بیٹھے تھے ۔باقی تمام کرسیاں اور صوفے بھی تقریباََ بھر چکے تھے ۔
پھر ایک لمبے تڑنگے سفید سوٹ والے آدمی کی آمد پر تمام نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی تھی ۔درمیان والے صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اس نے تمام کو بیٹھنے کا اشارے کیا اور سب نے اپنی جگہ پرنشست سنبھال لی ۔میں نے نظر بھر کر سامنے لگے جھنڈے کو دیکھا جو بالکل ہلکے انداز میں ہل کر واضح کر رہا تھا کہ ہوا کی رفتار اتنی زیادہ نہیں تھی کہ گولی کو ہدف سے دائیں بائیں کر سکتی ۔مطمئن ہو کر میں دوبارہ سائیٹ میں دیکھنے لگا ۔جبکہ میرے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے نے سیفٹی ہٹا دی تھی ۔
”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے مزید انتظار فضول ہوگا ۔“میرے ساتھ لیٹے بسم اللہ جان نے بھی فائر کرنے کا عندیہ دیا ۔
میں نے درمیانی صوفے پر پھیل کر بیٹھے آدمی کے چہرے پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ۔”میرا بھی یہی خیال ہے ۔بس مہمان خصوصی کا انتظار تھا ۔“یہ کہتے ہی میں نے سانس روکا اور ایک جھٹکے سے ٹریگر دبا دیا ۔اس وقت وہ گلاس کو منہ کی طرف لے جا رہا تھا لیکن اس کے مقدر کا رزق یقینا پورا ہو چکا تھا تبھی گلاس کے ہونٹوں تک پہنچنے سے پہلے رینج ماسٹر کی گولی اس کے ماتھے تک کا سفر طے کر چکی تھی ۔ طاقت ور گولی نے اس کی کھوپڑی کا دایاں حصہ ہی اڑادیا تھا ۔
”وہ مارا ۔“بسم اللہ جان نے پر جوش انداز میں نعرہ لگایا ۔مگر میں نے اس کی بات پر دھیان دیے بغیر رائفل کو دوبارہ کاک کر کے دائیں جانب بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف بیرل کا رخ موڑا تمام لوگ ایک لمحے کے لیے سن ہو گئے تھے ۔میرے فائر کرنے سے پہلے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دونوں آدمی صوفے پر تڑپنے والے کو مدد دینے کے لیے اس کے قریب ہوئے ،مگر وہ ہر قسم کی مدد سے دور جا چکا تھا ۔ دائیں جانب والے آدمی کے ساکت ہوتے ہی میں نے دوبارہ ٹریگر دبایا اور وہ آدمی بھی اپنی کھوپڑی کے چوتھائی حصے سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔رینج ماسٹر کی گولی اس کی کھوپڑی سے گزرکر بائیں طرف موجود آدمی کے کندھے کو بھی زخمی کر گئی تھی ۔ایک نے جان سے ہاتھ دھوئے جبکہ دوسرا زخمی ہو کر تڑپنے لگا تھا ۔صوفے سے نیچے گرنے کی وجہ سے مجھے اس کا صحیح نشانہ نہیں مل رہا تھا ۔اس پر وقت ضائع کیے بغیر میں دوسروں کو نشانہ بنانے لگا ۔سرعت سے میں نے میگزین میں موجود باقی تین گولیاں فائرکیں ۔میرا نشانہ زیادہ تر وہ بنے جو شاک کی سی کیفیت میں اپنی جگہ پر ہکا بکا بیٹھے یا کھڑے رہ گئے تھے ۔
میگزین خالی ہوتے ہی میں نے نئی میگیزین لگائی اور رائفل کاک کر کے اپنا اگلا شکار ڈھونڈنے لگا ۔وہاں چیخ و پکار مچ گئی تھی ۔کچھ لوگ صوفوں کے عقب میں پناہ لے رہے تھے ۔کچھ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔اور کچھ ہمدردی دکھاتے ہوئے تڑپنے والوں کی مددکی کوشش کررہے تھے ۔میری انگلی نے دو مرتبہ ٹریگر دبا کر مزید دوکو ان کے انجام تک پہنچایا ۔اسی دوران مجھے وہ زخمی ہمت کر کے اٹھتا ہوا نظر آیا ۔اس کے کندھے میں تواتفاق سے گولی لگی تھی البتہ اس کے سر میں میں جان بوجھ کر گولی اتارنا چاہتا تھا ۔اس کے سیدھا ہوتے ہی میری بیرل کا رخ اس کی جانب گھوما اسی وقت کوئی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا کہ وہ جینیفر تھی ۔زخمی کو اپنے جسم کے پیچھے چھپاتے ہوئے اس کی نظریں اسی جانب اٹھی تھیں جہاں ہم موجود تھے ۔وہ زبردست سنائپر تھی اور اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کس جگہ سے فائر کیا جا رہا ہے ۔مگر پھر بھی اس کا یوں بے وقوفوں کے انداز میں کسی کو بچانے کے لیے اپنے جسم کی آڑ مہیا کرنا میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔
اچانک ایک خیال میرے ذہن میں لہرایا اور میں چونک گیا ۔”کیا اس نے پہچان لیا تھا کہ فائر کرنے والا میں ہوں اور اسی وجہ سے یوں دلیرانہ انداز میں میرے کھڑی ہو گئی تھی ۔“
اسی وقت ایک دوسرا آدمی ان کے قریب پہنچا ۔یقینا وہ جینیفر کی وجہ سے ہمت کر کے قریب آیا تھا ۔اوریہ بہادری اسے مہنگی پڑی ۔جونھی جینیفر کی نظر اس پر پڑی اس نے چیخ کر اسے واپس جانے کو کہا ۔ گو اس کے الفاظ تو میرے کانوں تک نہیں پہنچے تھے مگر اس کے ہاتھوں کے اشارے اور انداز سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی ۔مگر اس کی یہ نصیحت یا مشورہ بے سود رہا تھا ۔جب تک دوسرے کی سمجھ میں جینیفر کی بات آتی ،رینج ماسٹر کی گولی اسے سمجھا چکی تھی ۔اس کے بائیں کان کے ساتھ لگنے والی گولی نے اسے دائیں جانب اچھال دیا تھا ۔اس کا آدھا جسم صوفے پر اور آدھا نیچے تھااس حالت میں تڑپتے ہوئے وہ کافی مضحکہ خیز نظر آرہا تھا 
میں نے دوبارہ رائفل کاک کی لیکن جینیفر وہاں سے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آرہی تھی ۔میرے ہمراہ لیٹے ہوئے کمانڈر بسم اللہ جان نے کہا ۔”ذیشان بھائی !....دوران جنگ ، لڑائی میں شامل عورتوں مردوں کی تخصیص ختم ہو جایا کرتی ہے ۔“یقینا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں جینیفر کے عورت ہونے کی وجہ سے اس پر گولی نہیں چلا پا رہا ۔اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ میں جینیفر پر گولی نہ چلا کر کچھ غلط کر رہا ہوں ۔ اس وقت میں اس سے ہونے والی آخری ملاقات کو سوچ رہا تھا جب میں نے اسے بتایا تھا کہ اس کے سامنے آنے کی صورت میں میں اس پر گولی چلانے سے خود کو نہیں روک پاﺅں گا ۔اور اب اپنے الفاظ پر عمل کرنے کا وقت آگیا تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں ”الوداع جینی !“ کہا اور میری انگلی کا دباﺅ ٹریگر پر بڑھنے لگا۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.