Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No.5 || 5معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان
#معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط5

روز کی طرح آج بھی حیا کی آنکھ فجر کی آذان کے ساتھ کھل گئی اس نے اٹھ کے وضو کیا اور نماز پڑھ کے جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو اس کی زبان پر ایک ہی دعا تھی یا اللّه میرے بھیا کی حفاظت کرنا اُنہیں اپنے حفظ_و_امان میں رکھنا، 
نماز کے بعد وہ تھوڑی دیر باہر گارڈن میں آگئی ننگے پیر اسےگھاس پر چلنا اچھا لگ رہا تھا تھوڑی دیر ٹھلنے کے بعد وہ اندر آگئی اسنے چائے بنائی اتنے میں برہان بھی اٹھ کے باہر آگئے کیا کر رہی ہو گڑیا برہان نے پیار سے اپنی چھوٹی سی بہن کو کہا جو ان کو اپنی بیٹی کی طرح ہی عزیز تھی، 
بڑے بھیا میں چائے بنا رہی ہو آپ پیوگے حیا نے معصومیت سے پوچھا، ہاں کیوں نہیں گڑیا میرے لیے بھی ایک کپ اور یہی آجاوُ کچھ بات بھی کرنی ہے آپ سے، حیا چائے بنا کے لے آئی اور ڈائینگ ٹیبل پر برہان کے پاس آکے بیٹھ گئی،
برہان نے حیا کے چہرے کی طرف دیکھا اُنہیں سمجھ نہیں آیا اپنی بات کہاں سے شروع کرے اتنی معصوم تھی ایک تو وہ کیسے بات کرو حیدر کے آنے سے پہلے اس سے بات کرنی ہوگی اگر حیدر کے سامنے اس نے انکار کیا تو حیدر کسی صورت اس کی شادی نہیں کرے گا، کیا ہوا بڑے بھیا آپ کو کچھ بات کرنی تھی نہ کہیے،حیا کے بولنے پر برہان اپنی سوچ سے باہر آیا، 
گڑیا آپ کو آگے پڑھائی کرنی نہیں ہے کیا آپ کالج نہیں جارہی ،آخر برہان نے اس کے معصوم زھن کے حساب سے ہی اسے سمجھانا بہتر سمجھا، وہ_ ہ_ ہ بڑےے بھیااا ،ہاں بولو گڑیا برہان نے حیا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا وہ شاید ڈر رہی تھی کچھ بولتے ہوئے، 
بھابھھھی نے کہااا میری_ی_ی شا_شادی_ ی!!!!!! حیا گڑیا کیوں ڈر رہی ہو اچھا آپ لندن جا کے پڑھنا چاہوگی برہان نے پیار سے پوچھا ،لندن!! پر وہ تو بہت دور ہے نہ بڑے بھیا ،بیٹا وہ دور ہے پر وہ ایک اچھی جگہ ہے پڑھنے کے لحاظ سے جیسے آپ لندن انگلینڈ کچھ بھی کہہ سکتی ہو بہت سے لوگ لندن پڑھنے جاتے ہیں وہ پڑھنے کے لیے ایک اچھی جگہ ہے یماری حیا لندن میں پڑھے اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی، برہان نے اسے پیار سے سمجھایا،
 اچھا آپ بھی چلو گے ساتھ حیا سن کے خوش ہوگئی اسے ویسے بھی ابھی بہت پڑھنا تھا کچھ بننا تھا ،نہیں گڑیا میں کیسے جاسکتا میرا تو بزنس یہاں ہے پاکستان میں حیدر بھی نہیں جاسکتا اس پر اس ملک کے لوگوں کی زمیداریاں ہیں،میں اکیلی نہیں جاوُگی بھیا مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے حیا کی آنکھے فوراً پانی سے بھرگئی، 
ارےے گڑیا میری!!ہم آپ سے پوچھ رہے ہے ابھی بھیج نہیں رہے اور ہم آپ کو اکیلے نہیں بھیجے گے برہان نے اس کی آنکھوں سے آنسوں صاف کیے ،
پھر میں کس کے ساتھ جاوُگی حیا نے بھری ہوئی آنکھوں سے برہان کو دیکھا،وہ میرے پاٹنر ہے نہ فاروق صاحب جو اس دن گھر آئے تھے ان کے بیٹے کے ساتھ بھجے گے روہان بہت اچھا لڑکا ہے، برہان کی بات سن کے حیا ایک دم کھڑی ہوگئی،کیا ہوا گڑیا حیا کو ایسے ڈر کے کھڑا ہوتےدیکھ برہان بھی کھڑا ہو گیا،
میںںں نہ_نہ_نہیں جاوُں_ں گی_ی بھیا نے کہا تھھھھھا کہہہ کسی کےےے ساتھ نہیںں جاتےےے، حیا نے روتے ہوئے کہا اسے حیدر کی بات اب تک یاد تھی جب وہ بارہ سال کی تھی اور اسکول سے اپنے کسی دوست کے پاپا۔ کے ساتھ گھر آگئی تھی حیدر کو پہچنے میں تھوڑی سی دیر ہوئی حیا کو وہاں نہ پاکے وہ۔ بہت پریشان ہوگیا جب اس نے کہا تھا گڑیا بھائی کے سوا کبھی کسی کے ساتھ نہیں جانا نہ کسی سے بات کرنا سب سے دور رہنا جو لڑکی کسی غیر کے ساتھ جاتی یا بات کرتی اللّه اسے گناہ دیتے ہے اس سے ناراض ہوجاتے ہیں اور میری گڑیا تو لاڈلی ہے نہ اللّه کی وہ کیسے ناراض کرسکتی اللّه کو اور کبھی کوئی میری گڑیا کو ہاتھ بھی لگائے گا وہ ہاتھ حیدر کاٹ دے گا،
گڑیا آپ غلط سمجھ رہی ہو میری پوری بات تو سنو ،برہان نے بیچارگی سے کہا حیا کو سمجھانا اتنا بھی اسان نہیں تھا، نہیں بڑےےے بھیا وہ_ہ_ہ بھیا کو اچھا نہیں لگتا میں کسی اور کےےے ساتھ نہیںں جاوُں گی۔ ی حیا بولتے کے ساتھ کمرے میں بھاگ گئی ،اسے اب حیدر ہی سمجھا سکتا ہے میرے بس کی بات نہیں برہان نے افسوس سے کہا اور گھڑی کی طرف دیکھا اسے آفس کی دیر ہورہی تھی وہ آفس جانے کے لیے کھڑا ہوگیا  
*************
سر اس سے آگے ہمیں چل کے جانا ہوگا گاڑی نہیں جاسکتی میجر رفیق کی بات پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا ،بلال احمد اپنے اپنے بیگ لےلو ساتھ حیدر نے ان سب کو بیگ ساتھ لینے کا کہا اور خود بھی اپنا بیگ کندھوں پر لیے گاڑی سے باہر کھڑا ہوگیا،
حیسے ہی وہ لوگ گاڑی سے باہر نکلے تیز ٹھنڈی ہوا نے ان کا استقبال کیا سب نے ہی اپنے آرمی یونیفارم کے اُوپر لیدر کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور گلے میں مفلر لیے خود کو اچھے سے پیک کیا اور اگے کی طرف بڑھے تھوڑی دیر میں سورج طلوع ہونے والا تھا ابھی ہلکا ہلکا اندھیرا تھا، 
آخری بار جو ڈرائیور نے کال کی اس کی لوکیشن کے حساب سے ہمیں پندرہ کلو میٹر چلنا پڑے گا حیدر نے موبائل میں لوکیشن دیکھتے ہوئے کہا جو اس نے رستے میں ہی نکال لی تھی، سر پھر تو ہم قریب ہی ہے میجر رفیق کے چہرے پر امید سی تھی،وہ لوگ تھوڑی دور ہی چلے تھے کے سورج طلوع ہوگیا پر بادل اور موسم کی وجہ سے ابھی بھی وہ لوگ کچھ بھی سہی سے نہیں دیکھ پارہے تھے اوپر سے دھوند اتنی ذیادہ تھی کے حیدر کو اپنے سے آگے چلتے ہوئے بلال اور احمد بھی نہیں دیکھ رہے تھے، 
سر اور کتنا آگے چلنا ہے احمد نے پیچھے مڑتے ہوئے کہا،لوکیشن کے حساب سے ہم پہنچ گئے ہیں بس یہی جگہ ہے جہاں سے اس ڈرائیور نے کال کی آخری بار حیدر نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا، یہاں تو کچھ نظر ہی نہیں آرہا بلال نے چارو جانب نظر دوڑائی،میجر رفیق اور میں اس طرف جارہے ہیں تم اور میجر بلال اس طرف جاوُں حیدر کے حکم پر وہ لوگ فوراً اس طرف چلے گئے جب کے میجر رفیق اور حیدر بھی دوسری طرف، سر یہاں تو پہاڑ ہی پہاڑ ہیں کچھ اور نہیں دیکھ رہا میجر رفیق کی آواز میں پریشانی تھی اتنی جلدی ہار نہیں مانوں میجر، مل جائے گے سب ہمت رکھوں حیدر نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور اگے بھڑگیا،
یہاں تو مجھے جنگل ہی جنگل نظر آرہاں ہے احمد نے بلال کو دیکھ کے کہا،ہاں آگے چلتے ہے کچھ تو لنک ملے گا جس سے ہم ان سب تک پہنچ سکے بس کہی طوفان پھر سے شروع نہ ہوجائے احمد نے موسم کو دیکھتے ہوئے کہا ٹھنڈی ہوا اتنے تیز تھی کے ہڈیوں میں بیٹھ رہی تھی، 
 وہ دیکھ بلال احمد نے دور اشارہ کیا جہاں ایسا لگ رہاں تھا کچھ ہے کہی بس تو نہیں چل دونوں نے ایک ساتھ دوڑ لگائی،او مائے گوڈ بلال نے قریب پہنچتے ہی کہا احمد جلدی حیدر والوں کو انفارم کرو ،احمد نے وکی ٹوکی کے ذریے حیدر اور رفیق کو بھی بلوایا، 
یا اللّه سامنے کا منظر دیکھتے ہی حیدر کے منہ سے یہی الفاظ نکلے،رفیق تو گھٹنوں کے بل۔زمین پر بیٹھ گیا،
سامنے پوری بس برف سے اتنی ڈھکی ہوئی تھی کہ بس کا کلر تک نظر نہیں آرہا تھا بس کے رائٹ سائٹ پر بڑا سا پتھر گرا ہوا تھا وہ شاید طوفان کی واجہ سے پہاڑ سے آکے گرا بس کے آگے اور پیچھے بڑے بڑے درخت گرے ہوئے تھے،
وہ لوگ آگے آئے اس بڑے سے پتھر کی وجہ سے وہ سب دورازے تک نہیں پہنچ پارہے تھے حیدر سامنے آیا تاکہ بس کے اوپر چڑھ سکے ادھر تو کھائی ہے حیدر کے بولنے پر باقی سب بھی بھاگ کے آئے بس کے لفٹ سائٹ کھائی تھی بہت گھری کے کوئی گرتا تو نظر تک نہیں آتا،
جو کرنا ہے بہت دھیان سے کرنا ہے ورنہ بس کھائی میں گرسکتی ہے بلال کے بولنے پر سب نے ہاں میں سر ہلایا احمد تم یہاں کی۔لوکیشن بہیج دو آرمی کواٹر میں آُنہیں کہوں جلد سے جلد یہاں ہلی کوفٹر بہیجے اور بلال تم پیچھے سے چڑھنا میں آگے سے تاکہ بلنس آوٹ نہ ہو اور رفیق تم اس پتھر پر چڑھ کر بس سے برف ہٹاوُں اور اندر کا منظر دیکھ کے بتاوُں حیدر کے آرڈر کرتے ہی سب اپنے کاموں پر لگ گئے،
ون ٹو تھری دونوں ایک ساتھ بولتے ہی درخت جو نیچے گرے ہوئے ان کے ذریے اوپر چڑھ گئے ان کے چڑھتے ہے بس تھوڑا ہلی حیدر نے ہاتھ کے اشارے سے بلال کو رکنے کا کہا جب تک احمد اپنا کام کر کے آگیا تھا وہ رفیق کے ساتھ اوپر چڑھا دونوں نے برف ہٹاکر اندر جھانکا ،
ڈرائیور کا سر سامنے ہنڈل پر گرا ہوا سب ٹیچر اور بچے نیم بیہوشی میں تھے حیدر اور بلال ایک ساتھ بس پہ پیٹ کے بل لیٹے حیدر نے ہاتھ کے اشارے سے رفیق سے اندر کا ہال پوچھا جس کی بےچین نظرے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھی،
سر شائد سب بچے ٹیچر بیہوش ہے احمد نے اپنے اندازے سے جواب دیا ،میں اور بلال لفٹ سائٹ ونڈو توڑ کر اندر جائے گے تم اور رفیق رائٹ سائٹ سے خیال رہے ایک ساتھ کرنا ہے ورنہ بس کھائی میں گر سکتی، 
اوکے سر سب نے ایک ساتھ کہا حیدر کا اشارہ ملتے ہی سب کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے،بس ہلنے لگی لفٹ سائٹ سے بس کا ایک ٹائر نیچے کی طرف ہوا بس ایک دم ٹیری ہو گئی وہ لوگ سب جلدی سے رائٹ سائٹ آگے تاکہ ادھر ذیادہ وزن رہے 
حیدر نے بلال کو اشارہ کیا بس کے اوپر برف کی تے تھی جس کی وجہ سے اندر مکمل اندھرا تھا بلال اشارہ ملتے ہی آگے آیا سب نے اپنی جیب سے ٹارچ نیکال کے اون کی حیدر اور بلال سب کی سانسیں چیک کر رہے تھے رفیق اور احمد کو وہی روکا تھا تاکہ بس کا وزن کم زیادہ نہ ہو رفیق کی نظر یہاں وہاں اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھی کہ احمد نے اسے اپنے پاس والی سیٹ پر متوجہ کیا رفیق نے جب وہاں دیکھا اس کی آنکھ میں نمی آگئی اس نے اپنے بیٹے کا گال تھپتھپایا سانسیں چیل کی جو بہت سلو چل رہی تھی، 
سب ذندا ہے پر سب کی سانسیں سلو چل رہی ہے حیدر نے پاس آکے کہا احمد اور بلال سب کے چہرے پر تھوڑا تھوڑا پانی ڈھال کر اُنہیں جگانے کی کوشش کررہے تھے اتنے میں اُنہیں ہلی کوفٹر کو آواز آئی حیدر نے رائٹ سائٹ کے کھڑکی سے ہاتھ ہلایا ،
کیسے بھی کر کے ان سب کو کھڑکی سے باہر نکلنا ہے حیدر نے کہا سب ٹیچرز کو تھوڑا ہوش آگیا تھا حیدر نے پہلے انہیں باہر نکالا، احمد رفیق دونوں بس کا وزن بلنس کر رہے تھے حیدر نے رفیق کو بلایا اگلے ہلی کوفٹر میں تم اپنے بیٹے اور جتنے ہو سکے ان بچوں کو لے کے جانا، اگلے ہلی کوفٹر کے آتے ہی حیدر نے اشارہ کیا بلال اور احمد کنارے پر کھڑے تھے بس کے، تیز ہوا چلنے لگی تھی جس سے بس اور ہلنے لگی،
میجر رفیق جاچکے تھے اب حیدر اپنی مدد سے ان بچوں کو جو نیم بیہوش تھے ایک ایک کر کے ان سب کو اوپر چھڑایا بس ہوا کے ساتھ تیز ہلنے لگی آخری بچے کو حیدر نے اوپر پہنچایا کے بہت تیز طوفان آیا حیدر رسی کے ذریے نیچے آرہا کے ایک دم جھٹکے سے آدھی سے ذیادہ بس کھائی میں،
بلال احمد!!!!!! حیدر رسی سے ہوا میں لٹکا ہوا سر طوفان بہت تیز ہے ہمیں جانا ہوگا رونہ ہلی کوفٹر گر سکتا ہلی کوفٹر چلانے والے آفسر نے کہا تم جاوں بچوں کو سیف لے کے جاوں میں ان کے بغیر نہیں آوُ گا،
 پر سر !!!!میں نے کہا تم جاوُں حیدر نے چیخ کے کہا اور نیچے کود گیا،
اس کے جھمپ مارتے ہی ہلی کوفٹر چل گیا،بلال احمد اس نے تیز آواز دی بلال اور احمد کھڑکی کے قریب آگئے اور باہر نکلنے لگے وہ بھاگ کے ان کے قریب آنے لگا کے بس پوری تیز ہوا کے ساتھ کھائی میں،
بلال_ ___ احمدد حیدر کے قدم وہی جم گئے 
***********
برہان اپنے آفس میں بیٹھا تھا کے فرقان صاحب اندر آئے برہان نے کھڑے ہوکے ہاتھ ملایا پلز سیٹ برہان نے سامنے رکھی چیئر کی طرف اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئے،
فرقان صاحب نے چیئر پر بیٹھ کے اپنی بات شروع کی ،میں نے بات کرلی ہے روہان سے اُسے اس شادی سے کوئی عتراض نہیں ہے پر وہ ذیادہ شو شاہ مناکر رہا ہے،
پر یہ ہماری گڑیا کی شادی ہے ایک ہی تو بہن ہے ہماری اس کی ہی شادی ہم سادگی سے کردیں کیسی بات کر رہے آپ برہان کو ان کی بات پر عتراض ہوا،
بات تمہاری ٹھیک ہے تم اپنے قریبی رشتےداروں کو بولا۔لینا روہان اتنے سال باہر رہا ہے اسے اپنے یہاں کی اس طرح کی شادی پسند نہیں ہے تم پلز سمجھو فرقان صاحب کے لہجے میں التجا تھی،
اچھا ٹھیک ہے میں حیدر سے بات کروگا اس بارے میں اور میں نے بھی حیدر سے بات کرلی ہے وہ ایک کام سے گیا ہے آجائے پھر میں تمہیں بتاوُں گا کے شادی کب کرنی
ہاں تم بات کرلو حیدر سے پھر مجھے شادی کی ڈیٹ فکس کر کے بتا دینا میں روہان کو اطلاع کردوگا وہ آجائے گا،
ٹھیک ہے ہوسکے تو روہان کو دو دن پہلے ہی بولا لو تہ کے میں اور حیدر اس سے مل لیں اچھے سے برہان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،
 ہاں میں اس بات کرلوگا پہلے تم حیدر سے بات کرو فرقان صاحب کی کال آگئی وہ اشارے سے بعد میں آنے کا کہہ کر چلے گئے
برہان کو یہ فکر ستارہی تھی کہ حیدر کیسے مانے گا اور وہ مانے گا تب ہی حیا مانے گی
*************
حیدر کو لگا سب ختم ہوگیا اس کی آنکھ سے آنسوُں کا ایک قطرہ گرا___بلال___احمد___وہ انہیں پکارتے ہوئے ان کی طرف آیا اس نے نیچے دیکھا جہاں پہاڑوں سے بس ٹکڑا کر نیچے گر رہی تھی حیدر نے ایک دم ہاتھ آگے کیا جیسے ہاتھ سے روک لےگا بس کو گرنے سے__ایک پہاڑی سے بس ٹکرا کے بلاسٹ ہوگئی_____بلال___احمد___حیدر گٹھنے کے بل بیٹھتا چلا گیا___اس کی آنکھ سے آج ایک کے بعد ایک آنسوں گر رہے تھے تم دونوں مجھے اکیلا چھوڑ گئے مجھ سے پہلے بازی لے گئے 
واپس آجاوُ یارو حیدر کا لہجا ٹوٹا ہوا تھا اس کے دوستوں میں تو اس کی جان تھی کتنا چاہتے تھے وہ اسے حیدر اوپر سے کتنا ہی غصہ کرے بلال کی حرکتوں پر وہ اس کی ان حرکتوں کو جیتا تھا احمد بلال کتنا آپس میں لڑے ہمیشہ وہ ہی ان کی لڑائی چھڑواتا تھا__بلال احمد اس نے اتنی آہستہ سے کہا کے اس کے خود کے کانوں تک اپنی آواز نہیں گئی،
ابھی نہیں مرے لیکن تو ہمیں بچانے کی جگہ یہاں بیٹھ کےبچوں کی طرح روئے گا تو جب تک ضرور مر جائے گے اس کے کانوں میں بلال کی غصے سے بھری ہوئی آواز آئی،
بلال!!!!. اس نے یہاں وہاں نظرے گھومائی تھوڑی نیچے ایک لکڑی پر بلال لٹک رہا تھا اسے کافی چونٹ آئی تھی پر حیدر نے شکر آدا کیا وہ ذندہ ہے، 
بلال!!!!احمد کہا ہے حیدر نے چیخ کے پوچھا کیوکہ اسے احمد نہیں دیکھ رہا تھا،
وہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگ رہا ہے کمینے نے آج تک مجھے اتنا مارا ہے اسے اب احساس ہوگیا اس لیے معافی مانگ رہا ہے،بلال کے کہنے پر حیدر نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا،
مطلب کیا بول رہاں ہے حیدر نے پھر سے چیخ کے پوچھا،
حیدر یہ کمینہ بکواس کر رہا ہے تو جلدی سے رسی لے کے آجا میں اس کے پیروں میں لٹک رہاں ہوں تھوڑی دیر ہوئی میرے ہاتھ چھوٹ جائے گے احمد کی آواز آئی دیکھائی وہ پھر بھی نہیں دیا،
میں لے کے آیا اچھے سے پکڑ کے رکھنا حیدر کہتے کے ساتھ بھاگ کے گیا اپنے بیگ کے پاس جس میں رسی تھی،
تو نے کمینہ کسے بولا رک تجھے لات مارتا ہو جب گرے گا نہ اس کھائی میں مزا آئے گا ابھی مارتا ہو لات بلال کو غصہ ہی آگیا،
میں تو مزاق کر رہا تھا یار دیکھ لات نہیں مارنا،
تجھے کیا لگتا میں تیری اسے منتیں کروں گا مار کے دیکھ لات تجھے بھی ساتھ لے کر مروگا اکیلےنہیں مروں گا ہم تو ڈوبے گے سنم تمہیں بھی لے ڈوبے گے احمد نے بھی اسے غصے میں جواب دیا بلال کچھ بولتا اس سے پہلے حیدر کی آواز آئی،
تم یہاں بھی لڑرہے ہو کمینوں انسان بن جاوُں لو رسی پکڑوں حیدر نے بولتے کے ساتھ رسی نیچے پھینکی جسے بلال نے پکڑ لیا،اور پھر احمد نے حیدر نے رسی پیچھے درخت سے باندھ دی تھی وہ اکیلے ان دونوں کو نہیں کھینچ سکتا تھا،
حیدر ان کو اپنی پوری جان سے کھینچ رہا تھا وہ بھی آرمی والے تھے رسی کے ذریے پتھروں پر پیر رکھ کے چڑھ رہے تھے کے طوفان میں اور تیزی آگئی اپر سے ایک بڑا پتھر ان کی طرف گرا 
بلال احمد بچوووو حیدر نے چیخ کے کہا،
احمد کو وہ پتھر نہیں دیکھا پرحیدر کی آواز آگئی بلال کو وہ پتھر اپنی طرف اتا ہوا نظر آیا پر وہ سائڈ میں ہوتا تو پتھر احمد پر گرتا احمدددد سائڈ میں ہوجا بلال نے تیز آواز میں کہا اتنے میں وہ پتھر آکے بلال کو لگا بلال نے اپنے بچاوُ کے لیے ایک ہاتھ اگے کیا پر پتھر بلال کے سر اور ہاتھ پر آکے گرا بلال کے لگ کے پتھر ایک طرف کھائی میں گرتا چلا گیا،
بلال کے سر سے خون بہنے لگا اس کی پکڑ ڈھلی ہوئی اس کی ہاتھ کی ہڈی پر بھی بہت بری لگی تھی ایک دم اس کا ہاتھ رسی سے چھوٹ گیا،
احمد نے حیدر کی بات سنی اس سے پہلے وہ امل کرتا ایک پتھر بلال پر گرا بلال!!!!بلال کا ہاتھ چھوٹ گیا بلال نیچے کھائی میں جاتا اس سے پہلے احمد نے ایک ہاتھ اس کا پکڑا،
احمد نے ایک ہاتھ سے رسی کو پکڑا اور ایک ہاتھ سے بلال کو _____حیدر جلدی اوپر کھینچ احمد نے چیخ کے کہا وہ ذیادہ دیر نہیں پکڑ سکتا تھا بلال کو،حیدر نے نیچے جھانکا جہاں احمد نے بلال کو مشکل سے پکڑا ہوا تھا بلال بیہوش ہو گیا تھا حیدر نے اپنی پوری طاقت لگا کے ان دونوں کو اوپر کھینچا،
بلال آنکھیں کھول بلال حیدر نے اس کا گال تھپتھپایا بلال اٹھ بلال حیدر اسے پاگلوں کی طرح پکار رہا تھا،احمد جلدی سے فرسٹ ایڈ بوکس لے آیا اس کے ماتھے پے پٹی کی خون کا روکنا بہت ضروری تھا ،حیدر چل اسے جلدی ہوسپٹل لے کر جانا ہوگا احمد نے نم آنکھوں سے کہا ،
حیدر نے اسے کندھے پر دھالا اور بھاگنے لگا انہیں جلد سے جلد اپنی گاڑی تک پہچنا تھا احمد نے بھی سب کے بیگ آٹھائے اور دونوں دوڑنے لگے آرمی ٹریننگ میں حیدر اس سے بھاری سامان آٹھا کے بھاگا تھا اس لیے بلال جیسے ہٹے کٹے مرد کو اٹھا کے بھاگنا مشکل کام نہیں تھا پر طوفان بہت ذیادہ تھا جس سے انہیں گاڑی تک پہچنے میں پریشانی ہورہی تھی ،
حیدر بغیر طوفان کی پرواہ کیےبھاگ رہا تھا اس وقت اسے اپنے اس دوست کی جان بچانی تھی گاڑی تک کا سفر انہوں نے دس منٹ میں تے کیا احمد تو چلا گاڑی حیدر بول کے پیچھے بلال کو لے کے بیٹھ گیا،
احمد نے ڈرئیونگ سیٹ سمبھالی اور اپنے برابر والی سیٹ پر سب بیگ رکھے، اور فل سپیڈ سے گاڑی بھگائی جلد سے جلد کسی بھی قریبی ہاسپٹل چل حیدر نے پیچھے سے کہا اس کی آواز میں نمی شامل تھی خود احمد کی آنکھیں بھی نم تھی، 
 ہاسپٹل پہنچتے ہی اسے آئی سی یو میں لے جایا گیا حیدر وہی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑا ہوگیا اس کی نظرے بس آئی سی یو کے دروازے پر تھی،احمد قریبی بینچ پر ہاتھوں پر سر گرائے بیٹھا تھا، 
ڈاکٹر کے باہر آتے ہی حیدر اسکی طرف لپکا کیسا ہے بلال احمد بھی جلدی سے ان کی طرف آیا، دیکھیں پیشنٹ کے سر پر گہری چوٹ آئی ہے اور ایک ہاتھ بھی فیکچر ہوا ہے باقی چوٹ گہری نہیں ہے پر سر پر جو چوٹ آئی ہے اس کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا ان کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے، ڈاکٹر بول کے چلا گیا،
میں نے کہا تھا سامنے سے ہٹ جا ہٹ جا کیوں نہیں ہٹا بلال کیوں پریشان کر رہا ہے حیدر کی آواز میں نمی تھی، 
میری وجہ سے احمد کی آواز پر حیدر نے اس کی طرف دیکھا ہاں یار میری وجہ سے وہ ہٹ جاتا تو وہ پتھر مجھ پر گرتا کمینہ ہے ایک نمبر کا مجھے ستاراہا ہے اب احمد کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے اسے کچھ ہوگیا نہ تو میں خود کو معاف نہیں کروگا احمد نے حیدر کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں اس وقت سرخ ہورہی تھی، 
حیدر اس کے پاس آیا وہ ٹھیک ہو جائے گا ،آپ پلز یہ سامان لا کے دیں پیچھے سے نرس کی آواز آئی جس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی، میں جاتا ہوں احمد بول کے پرچی لے کر چلا گیا،حیدر بھر وہی آئی سی یو کے باہر نماز پڑھنے لگا وہ جب جب سجدے میں جا رہا اس کی آنکھوں سے آنسوں گررہے
***************
حیا کا دل بہت بیچین ہورہا تھا اس نےنماز میں اپنے بھیا کے لیےبہت دعا کی پھر بھی پتا نہیں کیوں وہ بار بار کروٹ بدل رہی پر نیند نہیں آرہی،
ایک دم دروازہ کھول کر حنا آئی اب تک سو رہی ہے مہارانی ناشتا کون بنائے گا حنا نے غصے سے کہا، وہ_ہ_ ہ بھابھی_ی مجھےے بھوککک نہیں حیا ایک دم ڈر گئی اس کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے، 
تمہیں بھوک نہیں تو میں بھی بھوکی رہے جاوُ جاکے میرا ناشتا بناوُں نوکروں کے ہاتھ کا مجھے نہیں پسند کیا تمہیں نہیں پتا حنا نے اس کے سر پر آکے غصے سے کہا، 
جی جی بھابھی_ی ابھی۔ی لائی حیا بولتے ہی کمرے سے بھاگ گئی ناشتے اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں اسے شام ہوگئی پر دل اب بھی بیچین تھا،اس نے ہمت کر کے حیدر کو کال کی دو تین بیل بعد حیدر نے کال اٹھائی بھیا آپ ٹھیک ہونا حیدر کے کال اٹھاتے ہی حیا نے سوال کیا ہاں گڑیا میں ٹھیک ہوں حیدر نے کافی حد تک اپنی آواز کو نارمل بنایا،اچھا بلال بھیا کیسے ہے وہ بھی آپ کے ساتھ گئے تھے نہ حیا نے معصومیت سے پوچھا حیدر نے جانے سے پہلے اسےبتایا تھا کے وہ اوربلال کام سے جارہے، 
اس بار آگے سے مکمل خاموشی تھی بھیا کیا ہوا حیا نے پریشان ہوکر کہا کچھ نہیں گڑیا وہ ٹھیک ہے ہم جلد آئے گے اب مجھے کام ہے نہ میں آپ سے بعد میں بات کروں گا ٹھیک ہے گڑیا، حیدر نے پیار سے کہا، 
جی ٹھیک ہے بھیا بس میرا دل عجیب ہو رہا تھا اس لیے کال کی اپنا کھیال رکھنا بھیا، آپ بھی گڑیا پریشان نہیں ہو اپنا خیال رکھوں ٹھیک ہے حیدر نے پیار سے کہہ کر کال کٹ کی،
بھیا بزی ہوگے میں مغرب کی نماز پڑھ لیتی ہوں حیا سوچتی ہوئی واش روم چلی گئی وضو کی نیت سے،

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.