Ads Top

Saya By Bushra Ali Memon Episode 9سایہ از بشریٰ علی میمن قسط نمبر9



سایہ
از
بشریٰ علی میمن
Saya
By
Bushara Ali Memon

 سایہ از بشریٰ علی میمن Saya  By Bushara Ali Memon

سایہ👤
از بشری میمن
قسط نمبر 09 

ماہین نے اچانک آنکھیں کھول دیں. خیام ابھی تک رو رہا تھا. ماہین بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کے مونھ سے سوائے خرخراہٹ کے کچھ نہیں نکل رہا تھا. وہ رو رہی تھی مگر اس کی آواز کہیں دور دب چکی تھی.
قاتل پاپا قاتل پاپا. ماہین کی آواز آ تو رہی تھی مگر یوں جیسے کوئی کنویں کی گہرائی سے بول رہا ہو. 
کون ہے قاتل. خیام ماہین کو گود میں لیے اس سے پوچھنے لگا. بیٹا بولو, قاتل کون ہے اور کس کا قتل ہوا ہے. میرے بچے بول کچھ. خیام کی حالت غیر ہو رہی تھی. 
پاپا, پاپا ...... قاتل پاپا. ماہین کے نرخرے سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں. اس بچی کی اذیت نے خیام کو نیم پاگل کر دیا تھا. یوں لگ رہا کہ اس کی روح کو ذبح کیا جا رہا ہے. کسی بالغ کو اس حالت میں دیکھنا مشکل تھا چہ جائیکہ اتنی چھوٹی گڑیا اور اس قدر دردناک حالت میں. تکلیف ماہین کو تھی اور چرکے خیام کے دل پر لگ رہے تھے. آج اگر کوئی اس سے ماہین کے بدلے اس کی زندگی مانگ لیتا تو وہ اقرار کرنے میں ذرا سا تؤقف نہ کرتا. 
ماہین کا جسم اور ہڈیان چٹخ رہی تھیں. وہ یوں بل کھا رہی تھی جیسے کوئی رسی کو مروڑتا ہے. 
پاپا مجھے بچاؤ پاپا. ماہین کے مونھ سے صاف آواز برآمد ہوئی. خیام نے بچی کو بے اختیار اپنے سینے سے لپٹا لیا. 
مجھے بچاؤ پاپا وہ مجھے مار دے گا ..... وہ بہت گندا ہے پاپا.
ماہین کی تکلیف پر خیام رونے لگا اور اس کے چہرے پر بوسے دینے لگا. 
میرا دل نکال لو, مگر اس کو چھوڑ دو. خیام زیر لب بڑبڑایا. میری بچی کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جا رہی. 
پاپا, مجھے فرش پر چھوڑ دیں. ماہین نے خیام سے کہا. کیوں میرا کاکا. خیام نے پوچھا. 
پاپا مجھے پیاس لگی ہے. ماہین کی بات سن کر خیام نے قریب رکھا شیشے کا جگ اٹھایا اور اس سے شیشے کے گلاس میں پانی انڈیل کر ماہین کو پلایا. پاپا, گلاس مجھے دے دیں. ماہین نے خیام سے گلاس لیتے ہی کھینچ کر اس کے سر پر دے مارا. ماہین نے گلاس اس شدت سے خیام کے سر پر مارا کہ گلاس کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا اور خیام کے سر سے خون رسنے لگا. خضر ڈر کے مارے ایک طرف دبکا یہ تمام منظر دیکھ رہا تھا. اس نے آگے بڑھ کر خیام کو سنبھالنا چاہا مگر ماہین نے پاس پڑا شیشے کا جگ اس کے سر پر کھینچ مارا اور کمرے سے نکل کر دوڑ لگا دی. 
**********************
آپ نے ہمیں کہاں پھنسا دیا غضنی بھائی, اس سے تو ہم رینٹ کے گھر میں اچھے تھے. اللہ پاک میری بچی پر اپنا کرم فرما, پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہو گی. نیلم پریشانی میں ہاتھ کی تلیاں مسل رہی تھی. 
میں خود پریشان ہوں بھابھی. کیا خیام کے بچے میرے بچے نہیں ہیں. غضنی روہانسا ہو کر بولا. کہاں پھنسا دیا ہے, وہ بڑبڑا رہا تھا.
مجھے کیا پتہ تھا کہ اس گھر میں اس طرح کی آفات ہی, بخدا اگر پتہ ہوتا تو بہن میں کسی کو بھی ایسے گھر میں داخل ہونے نہ دیتا چہ جائیکہ اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو ایسی منحوس جگہ دلواتا. غضنفر شرمندگی اور خفت میں بولے چلا جا رہا تھا.
جو ہونا تھا وہ ہوچکا, اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے. لیکن آگے جو ہونے والا ہے اس کو روکنا ضروری ہے. مگر کون ہوگا جو اس سب کو روکنے میں ہماری مدد کرے گا. مسئلہ اب یہ ہے کہ اس مشکل سے باہر کیسے نکلا جائے. اے پاک پروردگار! مدد فرما, اپنے حبیب کے صدقے مدد فرما. غضنفر نے روتے ہوئے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی. 
**********************
مولوی ہارون صاحب نے اپنے شاگرد کے ہاتھ خیام کے لیے ایک چٹھی بھیجی تھی. اس چٹھی میں لکھا تھا, سید جلال شاہ جیلانی سے رابطہ کریں اور گوٹھ محمد ادریس شاہ جائیں.
مولوی ہارون بذات خود یہ بتانے سے قاصر تھے کہ گوٹھ محمد ادریس جانے کا راستہ کون سا ہے. بس انہیں اتنا معلوم تھا کہ گوٹھ مولوی محمد لطیف کی شرقی جانب یہ گوٹھ ہے. سید جلال شاہ کی ظاہری شباہت بارے بھی مولوی ہارون کچھ بتانے سے قاصر تھے. 
میں نے انہیں نظر بھر کر نہیں دیکھا ہوا. رنگ ان کا گندمی ہے غالبا یا سانولا ہے. سچ تو یہ ہے کہ میں نے انہیں کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا. 
+++++++++++++++++++
عابد حسین شاہ کے دیے ہوئے تعویز کا اثر تھا کہ ماہین گھر سے باہر نہیں نکل پائی. وہ اسی گھر میں چوپائے کی طرح گھوم رہی تھی رہی تھی. خیام کے سر سے خاصا خون نکل گیا تھا اور وہ فرش پر لیٹا اپنا سر سہلا رہا تھا. خضر کے سر کی پچھلی جانب گہری چوٹ آئی تھی جس باعث وہ بے ہوش ہو چکا تھا. خیام نے اس کے سر پر پٹی کر دی تھی اور ایمرجنسی کو کال ملا رہا تھا مگر نمبر ڈائل نہیں ہو رہا تھا. خیام نے خضر کو بستر پر لٹایا اور ماہین کی تلاش میں کمرے سے باہر نکل گیا. 
ماہین کو ڈھونڈتے ہوئے خیام کچن کی طرف نکل آیا جہاں سے اسے بے ہنگم انداز سے کچھ کھانے کی آواز آ رہی تھی گویا کوئی جانور کچا گوشت چبا رہا ہو. 
خیام نے جیسے ہی کچن میں جھانکا تو اس کے ہوش اڑ گئے. ماہین, ایک مری ہوئی بلی کی لاش بھنبھوڑ رہی تھی. ماہین کا مونھ گال اور ناک بلی کے خون سے لتھڑے ہوئے تھے اور وہ بلی کی آنتیں چبا رہی تھی.
خیام کو یہ منظر دیکھ کر قے ہو گئی. اس نے ماہین کے ہاتھ سے مردہ بلی چھین کر باہر لان میں پھینک دی اور اس کا مونھ دھلوا کر اسے کمرے میں لے گیا. 
خیام سوچنے لگا کہ سید جلال شاہ کے پاس کیسے جایا جائے. ماہین کو اس گھر سے باہر نکالنے کا معنی اس بچی کی موت ہے. عابد شاہ کے تعویزوں کا اثر ہے جو ہم تینوں ابھی تک زندہ ہیں. لیکن جلال شاہ تک پہنچنا بھی ضروری ہے جن کے بارے میں مولوی ہارون نے سخت تاکید کر رکھی تھی.
***********************
نیلم کچھ کھا لو, کب تک یونہی روتی رہو گی, اللہ بہتر کرے گا ان شاءاللہ. ماہین ٹھیک ہو جائے گی, غضنفر گئے ہیں. بول رہے تھے خیام بھائی نے کسی پیر صاحب کا بتایا ہے وہ اس کو لینے جائیں گے. صائمہ نے نیلم کو تسلی دی.
کیسے چپ رہوں صائمہ, میری ماہین, میرا خیام وہاں اکیلے ہیں. پتہ نہیں ان پر کیا گزر رہی ہو گی. میری بچی ماہین, اللہ کوئی راستہ دکھا. کیوں ہو رہا ہمارے ساتھ یہ سب. ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے. ہم نے تو کسی کا برا نہیں چاہا, پھر کیوں کوئی مخلوق ہمارے پیچھے لگ گئی ہے ......
ہم وہ گھر چھوڑ دیں گے. ہم چلے جائیں گے جہاں سے آئے تھے. اللہ ہماری مدد فرما. نیلم دعائیں کیے جا رہی تھی اور گڑگڑا رہی تھی.
اللہ بہتر کرے گا نیلم بھابھی, جیسے اللہ نے میری جھولی بھر دی ہے ویسے ہی اللہ آپ کی مرادیں بھی پوری کرے گا. ان شاءاللہ
جھولی بھری مطلب ...... صائمہ ... نیلم نے پوچھا.
ٹینشن چل رہی ہے اتنی تو اس وجہ سے بتا ہی نہیں پائی, میرا تیسرا ماہ چل رہا. صائمہ نے بتایا
مبارک ہو صائمہ, اللہ مبارک کرے اور نیک صالح اولاد عطا کرے. نیلم نے دعا دی
صائمہ نے آمین کہا ...... 
تم جس کنڈیشن میں ہو, ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم تمہارا خیال رکھیں, الٹا تم ہمیں سنبھال رہی ہو صائمہ. نیلم نے افسوس بھرے لہجے میں کہا.
نیلم ایک بار پھر دکھی ہوگئی تھی. 
ایسے مت کہو نیلم بھابھی, خیام بھائی اور آپ میرے اپنے ہیں.
آپ کا بیٹا روشن ہمارے لیے مبارک ثابت ہوا. اسی کو گود میں لیا تو اللہ نے میری سنی. اور ویسے بھی بھابھی آپ نے بھی تو مجھے سنبھالا تھا, جب میں نے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی, یاد ہے. 
ہاں یاد ہے صائمہ, ہم کتنے خوش تھے نا۔ نیلم نے رندھی آواز میں کہا
اللہ بہتر کرے گا, مت روئیں بھابھی, صائمہ نیلم کو سمجھانے لگی۔
************************
ماریہ آنٹی ...... ماہین کو کیا ہوا ہے. ماہرہ نے پوچھا تو ماریہ دکھی ہوگئی. 
وہ بیمار ہیں ماہرہ بی بی. ماریہ نے جواب دیا 
امی بھی روتی رہتی ہیں۔ پاپا بھی نہیں ملنے آئے, مجھے ماہین یاد آ رہی ہے, وہ ہمارے بنا کیسے رہتی ہو گی. ماہرہ رونے لگی ۔۔۔ 
صائمہ نے سنا تو موںھ پر ہاتھ رکھ کر ہچکیوں سے رونے لگی, لیکن وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ صائمہ ہمت ہارتی تو نیلم کو کون سنبھالتا
***********************
چاند کی آخری تاریخیں چل رہی تھیں, اس لیے زمین کو کالی چادر نے ڈھانپ رکھا تھا. ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا. تب ہی وہ چھپتا چھپاتا گیٹ سے اندر کود گیا۔ بڑی جان لیوا خاموشی تھی, اتنا گہرا سناٹا کہ وہ اپنی سانسوں کی آواز صاف سن سکتا تھا۔
اتنے میں موبائل کی سکرین جل اٹھی. ہاں خیام میں گھر کے اندر پہنچ چکا ہوں۔ غضنی خیام سے فون پر ہمکلام ہوا.
رکو ..... تم اندر مت آنا. اندر آکر پھر باہر جانے کا مطلب اپنی موت کو دعوت دینا ہے. میں زخمی ہوں لیکن خضر شدید زخمی تھا, نجانے ہوش میں آکر کہاں چلا گیا ہے. خضر پتہ نہیں کہاں بھاگ گیا ہے. میں نے ڈھونڈا مگر نہیں مل رہا. تم اندر آؤ گے تو پھنس جاؤ گے. میں جانتا ہوں یہ آسیب مجھے مارنے سے زیادہ تڑپانا چاہتا ہے. اگر اس نے مجھے مارنا ہوتا تو شاید اب تک مار چکا ہوتا. یہ شاید مجھ سے کوئی انتقام لے رہا ہے. تم ایسا کرو غضنی, سید جلال شاہ جیلانی سے ملو جا کر ۔ گوٹھ ادریس جاؤ۔ وقت بہت کم ہے, ایک وہی آخری امید ہیں۔ ہو سکے تو مولوی ہارون صاحب کا ایک بندہ ساتھ لیتے جاؤ. خیام غضنی کو بتانے لگا.
تمہیں کیسے اکیلا چھوڑ کر جاؤں یار. غضنی رونے والا ہو گیا تھا. تجھے زیادہ تو نہیں لگی, وہ خیام سے پوچھنے لگا۔
مجھے کچھ نہیں ہوگا غضنی تو جلدی جا, گھر میں اب زیادہ راشن بھی نہیں بچا۔ پینے کا پانی بھی کم ہے. شاید چند دن مزید گزارا ہو جائے. غضنی, جاؤ اور جلال شاہ کو ڈھونڈ کر لاؤ.
عابد حسین شاہ غالبا ابھی تک عمل کر رہے ہیں, ان کے عمل کی تاثیر ابھی تک موجود ہے. لیکن ہمیں اس شیطان سے مکمل چھٹکارا چاہیے کیونکہ وہ ابھی تک ماہین کے وجود پر قابض ہے. 
یہ شیطان بار بار پوچھنے پر بھی کچھ بتانے کے بجائے ماہین کو اذیت دیتا ہے. وہ اس ننھی شہزادی کو اذیت دے کر دراصل ہم سب کو ذہنی کرب میں مبتلا کر رہا ہے. 
جاؤ ....... جلدی کرو۔ خیام غضنی پر چلایا.
میں جا رہا ہوں خیام, بچوں بھابھی کی فکر مت کرو وہ محفوظ پناہ میں ہیں۔ میں نے راشد انکل کو سب بتا دیا تھا. وہ ہماری طرف نکل چکے ہیں, سوری کہ تجھ سے بنا پوچھے ان کو بتا دیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ آ رہے ہیں. تجھ سے لاکھ غصہ سہی لیکن بات ان کے پوتے پوتیوں کی ہے۔ غضنی کی اطلاع پر خیام کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اللہ حافظ خیام. غضنی بولا 
اللہ سفر مبارک کرے. آمین ثم آمین خیام نے دعا دی اور لائن کٹ گئی ۔۔۔
(جاری ہے)
تحریر: بشریٰ علی میمن

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.