ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 56
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 56
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
56 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر 56
ریاض عاقب کوہلر
اس کے کلاشن کوف سیدھی کرتے ہی میں نے حرکت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اس کے تیوردیکھ کر واضح لگ رہا تھا کہ وہ جو کہہ رہا تھا ویسا ہی کرنا چاہتا تھا ۔
میں نے ہاتھ سر سے بلند کرتے ہوئے کہا ۔”اچھا میری آخری بات سن لو اس کے بعد جو مرضی آئے کرنا ۔“
”سناﺅ ۔“میری بے بسی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے کلاشن کوف کی بیرل زمین کی طرف جھکائی۔
اس وقت تک میں ایک سرسری نظر تینوں پر ڈال چکا تھا ۔وہ تمام اس کے عقب میں کھڑے تھے اور وہ سب سے آگے کھڑا تمسخرانہ نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا ۔ہمارے درمیان بس دو تین قدموں کا فاصلہ تھا ۔باقی تینوں اس سے چند قدم دور تھے ان تمام کے انداز میں بے پروائی تھی۔
اس کی کلاشن کوف کا رخ نیچے کی طرف ہوتے ہی میں زقند بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اس سے پہلے کہ میرا ارادہ اس پر ظاہر ہوتا میں نے کلاشن کوف کی بیرل کو پکڑ کر اس کے دھانے کا رخ خود سے موڑتے ہوئے اپنے گھٹنے کو زوردار انداز میں اس کی ٹانگوں کے درمیان اٹھا دیا ۔
”اوغ ۔“کی آواز کے ساتھ وہ نیچے جھکا اور میں نے ایک جھٹکے سے کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔یہ سب کچھ اس سرعت سے ہوا تھا کہ وہ تینوں ہکا بکا کھڑے رہ گئے تھے ۔ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ اس علاقے میں اکثریت ایسے لڑاکوں کی تھی جو صرف ہتھیار کا استعمال ہی جانتے تھے ۔جسمانی داﺅ پیچ سے وہ لوگ نا بلد تھے ۔البتہ مجاہدین کے کیمپوں میں خالی ہاتھ لڑنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے ۔دہشت گردوں میں بھی اکا دکا ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو ہاتھ پیر کا استعمال جانتے ہوں،مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد ہی میں مجھے ٹکرائے تھے۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے اس کا بٹ زوردار انداز میں گھٹنوں کے بل جھکے آدمی کے سر میں مارا،وہ منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔ا س کے ساتھ ہی میں نے بیرل کا رخ ان تینوں کی طرف موڑ دیا ۔ وہ تینوں بھی ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر حواسوں میں آئے ،لیکن انھوں نے ذرا سی دیر کر دی تھی وہ جب تک کلاشن کوف کا رخ میری طرف کرتے میں ٹریگر دبا چکا تھا ۔
دو بندے ٹانگوں میں گولی کھا کر چیختے ہوئے نیچے گرگئے ،تیسرے آدمی نے ٹریگر دبانے کے ساتھ ہی پیچھے کی جانب چھلانگ لگا دی تھی ۔اس نے کلاشن کوف برسٹ پر سیٹ کی ہوئی تھی ۔اگر وہ تیزی میں درستی نہ بھول جاتا تو یقینا آج میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا ۔ٹریگر دباتے ہی چونکہ اس نے پتھر کی جانب چھلانگ لگائی تھی اس لیے بیرل کا رخ مجھ سے بائیں طرف ہو گیا تھا ۔اس کے باوجود مجھے بائیں بازو میں شدید جلن کا احساس ہوا ،اس کے جلد بازی میں فائر کیے گئے برسٹ میں سے ایک بھولی بھٹکی گولی میرے بازو کا مزاج پوچھ چکی تھی ۔
اچانک ڈھلان کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔گولیاں میرے دائیں بائیں لگی تھیں۔ اگر میرے سامنے ان کا ایک آدمی بے ہوش نہ پڑا ہوتا تو ان گولیوں کا نشانہ میرے جسم نے بننا تھا۔میں نے فوراََ خود کو زمین پر گرایا اور قریبی پتھر کے پیچھے رینگ گیا ۔میرے بائیں بازو میں جلن تو ہو رہی تھی مگر بازو ٹھیک ٹھاک کام کر رہا تھا ،اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ گولی میرے بازو کو چھوتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
اب اسی پتھر کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے پیچھے میں چھپا تھا ۔اوپر والوں سے زیادہ مجھے اس آدمی سے خطرہ تھا جو نالے ہی میں چھپا تھا ۔آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف نظر دوڑانے پر مجھے ایک کلاشن کوف کی بیرل اپنی جانب اٹھی نظر آئی، اس کا باقی جسم پتھر کے پیچھے غائب تھا ۔ایک دو چھوٹے چھوٹے برسٹ چلا کر وہ مجھے اپنے ساتھ الجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔
اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا تھا فقط کلاشن کوف پتھر کے پیچھے سے جھلک رہی تھی ۔کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر میں نے کلاشن کوف کے اوپر نشانہ سادھتے ہوئے ٹریگر دبایا۔اس فاصلے سے نشانہ چوکنے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا ۔گولی کلاشن کوف کے فرنٹ ہینڈ گارڈ پر لگی تھی ۔کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا پڑی ۔
میں نے فوراََ کلاشن کوف کا رخ ڈھلان کی طرف کرتے ہوئے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور ٹریگر دبا دیا ۔دو تین گولیوں کے بعد ۔”ٹرنچ ۔“کی آواز نے مجھے کلاشن کوف کے خالی ہونے کی بری خبر سنائی ۔یقینا کلاشن کوف کی میگزین بھری ہوئی نہیں تھی ،کیونکہ میں تو چند گولیاں ہی فائر کر سکا تھا ۔میری اپنی کلاشن ذرا فاصلے پر پڑی تھی ۔وہاں تک جانے کے لیے مجھے دشمن کے سامنے ظاہر ہونا پڑتا جس کا نتیجہ موت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا تھا ۔
ٹانگوں پر گولیاں کھانے والے کراہتے ہوئے اپنی جگہ پر تڑپ رہے تھے ۔یقینا انھیں طبی امداد کی ضرورت تھی ورنہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے انھیں جان کے لالے پڑ سکتے تھے ۔
اسی وقت نالے موڑ سے ہونے والی فائرنگ کی آواز نے مجھ پر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ وہاں پر دشمن کی کافی پارٹیاں موجود تھیں ۔وہاں مزید لیٹنا بھی موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لینا تھا ۔اور ایک بار اگر میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتا تو میری زندگی کی ضمانت ضبط ہوتے دیر نہ لگتی ۔
اس پتھر سے بیس پچیس گز دور جھاڑیوں کا جھنڈ تھا، وہاں تک پہنچ کر میں اپنے فرار میں آسانی پیدا کر سکتا تھا ۔جھاڑیوں تک پہنچنے کے لیے مجھے جلدی کرنا تھی ورنہ دشمن کے نزدیک پہنچنے کے بعد یہ ممکن نہ رہتا ۔دشمن اس لیے بھی دور دور تھے کہ ان کے خیال کے مطابق میں مسلح تھا ۔جبکہ میں بغیر ایمونیشن کے بالکل بے دست و پا ہو گیاتھا ۔
میں ابھی اس صورت حال سے نکلنے کی ذہنی ورزش ہی کر رہا تھا کہ بے ہوش پڑے آدمی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھ بیٹھا ،میری کلاشن کوف اس سے دو تین قدم ہی دور پڑی تھی ۔میں نے نیفے میں اڑسا تیس بور نکال کر کاک کر تے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لیاتھا ۔
ہوش میں آتے ہی وہ چند لمحے کنپٹی مسلنے کے بعد زمین پر ہاتھ ٹیکتے ہوئے اٹھنے لگا۔اسی وقت خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں زقند بھر کر پتھر کے پیچھے سے نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ مکمل کھڑا ہو پاتا ،اس کا دایاں بازو مروڑتے ہوئے میں نے اس کی پیٹھ اپنی چھاتی سے لگالی تھی۔
پتھر کے عقب میں چھپا وہ آدمی جس کی کلاشن کوف کو میں نے نشانہ بنایا تھا ۔مجھے اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس نے پتھر کے پیچھے سے نکل کر اپنی کلاشن کوف اٹھانا چاہی ۔
بائیں ہاتھ سے اپنے اسیر کی کلائی تھامتے ہوئے میں نے دائیں ہاتھ میں پکڑا تیس بور کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے شخص کی طرف سیدھا کیا اور ٹریگر دبادیا ،مگر گولی فائر نہیں ہوئی تھی ۔اس طرح کے مقامی اسلحے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے رک جاتا ہے ۔اس وقت مجھے گلگارے کو تحفہ دیے ہوئے گلاک کی سخت کمی محسوس ہوئی تھی ۔اس بے چاری نے تو اصرار بھی کیا تھا کہ میں پستول اپنے ساتھ لے جاﺅں ۔مگر اس وقت مجھے کسی ایسی صورت حال میں پھنسنے کا گمان نہیں تھا ۔
پستول کو نیچے پھینک کر میں نے اسی لمبے آدمی کو ڈھال کی طرح اپنے سامنے پکڑ لیا ۔اس کے ساتھیوں نے چند ہوائی فائر کیے مجھے نشانہ بنانے کی صورت ان کے اپنے آدمی کو پہلے گولی لگتی ۔پتھر کے چھپے آدمی نے بھی کلاشن کوف اٹھا کر میری جانب تان لی تھی لیکن میرے سامنے ان کا ساتھی ڈھال کی صورت میں موجود تھا ۔
ایک ہاتھ سے اس کا مروڑا ہوا بازو پکڑکر دوسرا بازو میں نے اس کی گردن میں ڈالا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کلاشن کوف کے قریب پہنچ گیا۔نیچے جھک کلاشن کوف اٹھانے کی صورت میں وہ میری گرفت سے نکل جاتا ۔میں نے ایک پاﺅں سلنگ میں ڈال کر کلاشن کوف کو دھیرے سے زمین سے اٹھایا۔اس دوران اس نے مچل کر میری گرفت سے نکلنا چاہا ۔
اس کے گلے میں ڈالے ہوئے بازو کے پھندے کو مزید کستے ہوئے میں نے اسے خاموش دھمکی دی ۔کسی اکھڑ سے اکھڑ آدمی کو بھی سمجھانے کے لیے زبان سے زیادہ عملی دھمکی کام آتی ہے ۔اسے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ حرکت کرنا اس کی گردن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔جسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اس نے تعاون کا اعلان کرتے دیر نہیں کی تھی ۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے بیرل اس کی پیٹھ سے لگائی اور اس کے گلے سے بازو نکال لیا ۔کلاشن کوف کی سرد بیرل گردن میں پڑے ہوئے بازو سے بھی زیادہ ڈرانے والی تھی ۔وہ میرے سامنے بے حس و حرکت کھڑا رہا ۔اس کا دوسرا ساتھی مجھے دھمکیاں دینے لگا ۔
”اگر ایک منٹ کے اندر اندر تم غائب نہ ہوئے تو ان دونوں کے ساتھ لیٹے نظر آﺅ گے ۔“ میں نے زمین پر پڑے زخمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی ۔اس نے فوراََ ایک بڑے پتھر کے عقب میں آڑ لے لی تھی۔
میرے پاس وقت کم تھا ،دیر ہونے کی صورت ان کے مزید ساتھی پہنچ جاتے اور میرا پکڑا جانا یقینی ہو جاتا۔اس لمبے آدمی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھ کر میں الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا ۔اس کے ساتھیوں کو میری حکمت علی سمجھ میں آ گئی تھی ۔انھوں نے مجھے دھمکانے کے لیے تیز فائرنگ شروع کر دی ، لیکن ان کی کوئی بھی گولی ان کے ساتھی سے اتصال کیے بغیر مجھ تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔
درختوں کے جھنڈ میں گھستے ہی میں دشمن کی تمام پارٹیوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اپنے قیدی کو میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا ۔
بغیر کسی لیت و لعل کے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کے بٹ سے اس کے سر کی مضبوطی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔وہ ایک بار پھر منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔میں مڑ کر بھاگ پڑا ۔ان کے تعاقب سے پہلے میں وہاں سے دور نکل جانا چاہتا تھا ۔وہ گھنی جھاڑیاں میری کافی مددگار ثابت ہو رہی تھیں ۔
دس پندرہ منٹ بعد ہی میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔یقینا انھوں نے اپنے بے ہوش ساتھی کوتلاش کر لیا تھا ۔
غزنی خیل والی لڑائی کے بعداس جھڑپ کے دوران بھی میں نے پوری کوشش کی تھی کہ شلوبر کے کسی آدمی کو جان سے نہ ماروں ۔کیونکہ میں حتی الوسع کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا تھا ۔ اور اس کوشش میں مجھے خاطر خواہ کامیابی ہوئی تھی ۔گزشتا روز سے لے کر اب تک شلوبر کا کوئی آدمی میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوا تھا ۔البتہ زخمی ہونے والوں کی تعداد دو درجن کے قریب پہنچ گئی تھی ۔
نالے کے درمیان میں درخت موجود نہیں تھے ۔جھاڑیوں کے جھنڈ چونکہ ڈھلان پر تھے اس لیے مجھے ڈھلان پر ترچھا بھاگنا پڑ رہا تھا ۔فرلانگ بھر دور مجھے ان کے چیخنے ،چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں نہ جانے وہ کیا حکمت علی تیار کر رہے تھے ۔ان آوازوں پر کان دھرے بغیر میں جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میری نظر نالے کے درمیان میں پڑی ۔ان کے نو دس آدمی نالے کے بیچوں بیچ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ان کا ارادہ مجھ سے آگے بڑھ کر ان جھاڑیوں کے جنگل کو گھیرنے کا تھا ۔اگر ایسا ہو جاتا تو میں نے چوہے دان میں پھنس جانا تھا ۔
ایک دم رک کر میں نے ایسی جگہ پر پوزیشن سنبھالی جہاں سے پورا نالہ میری نظروں کے سامنے تھا ،اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کو سنگل راﺅنڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے سب سے آگے والوں کی ٹانگوں پر شست لے کر مسلسل تین بار ٹریگر دبا دیا ۔
دو آدمی منھ کے بل گر کر تڑپنے لگے ۔باقی ایک دم بکھر کے دائیں بائیں پڑے پتھروں کی آڑ میں ہو گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے اندازے سے جوابی فائرنگ شروع کر دی ۔دو تین مزید گولیاں ضائع کر کے میں کروٹ تبدیل کرتا ہوا ایک جھاڑی کی آڑ میں پہنچا اور جھکے جھکے وہاں سے آگے بڑھنے لگا ۔انھیں ابھی تک پتھروں کی آڑ سے نکلنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی ۔
تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میں کھڑے ہو کر دوڑ پڑا ۔کلومیٹر بھر آگے نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا اور ان کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے مجھے اگلے نالے میں پہنچنا تھا ۔کیونکہ جلد ہی انھیں یقین ہو جانا تھا کہ میں آگے بڑھ گیا ہوں اور اس کے بعد وہ تیز رفتاری سے نالہ موڑ تک پہنچ سکتے تھے ۔
میرے بائیں بازو میں ہلکی ہلکی جلن اور اچھا خاصا درد ہو رہا تھا ۔یقینا گولی نے کافی گہری خراش ڈالی تھی ۔اپنے بازو کی جلد پر مجھے خون کی نمی بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ رک کر بازو پر پٹی وغیرہ لپیٹ سکتا ۔بس اطمینان تھا تو اتنا کہ گولی بازو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی تھی اور رگڑ کھاتے ہوئے نکل گئی تھی ۔
نالے موڑ کے قریب پہنچنے تک میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ۔کلومیٹر بھر کا فاصلہ جو میدانی علاقے میں دس بارہ منٹ میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے اور تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی ،پہاڑی علاقے میں اس سے دگنا وقت لگا کر بھی اتنافاصلہ بہ مشکل طے ہو پایا تھا ۔اور اس کے ساتھ میراسانس یوں پھولا ہوا تھا جیسے میلوں کی مسافت طے کر کے آرہا ہوں ۔
اس جگہ پرتین نالے آکر اس چوڑے نالے میں مل رہے تھے ۔ایک نالہ دائیں طرف سے ، دوسرا بائیں اور ایک نالہ سیدھا آکر اس چوڑے نالے میں مل رہا تھا ۔کیندار نامی گاﺅں کو دایاں نالہ جاتا تھا، لیکن دائیں نالے میں جانے کے لیے مجھے وہ چوڑا نالہ عبور کر نا پڑتا جبکہ دشمن نالے میں موجود تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔سیدھا جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ،کہ ایک تو اس نالے میں جھاڑیاں کم نظر آرہی تھیں دوسرا اس نالے میں جاتے ہوئے میں دشمن کو دور سے نظر آسکتا تھا ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں بائیں طرف کے نالے میں گھس گیا کہ اس وقت میری پہلی ترجیح اپنی جان کو بچانا تھا۔ کیندارگاﺅں کو بعد میں بھی ڈھونڈ اجاسکتا تھا ۔
بائیں نالے میں مڑتے ہی میں نالے کے دائیں کنارے کے ساتھ آگے بڑھنے لگا ۔ایک خاص فرق یہ پڑا تھا کہ اس جگہ سے چڑھائی شروع ہو رہی تھی حالانکہ پہلے میں اترائی میں بھاگتا ہوا آرہا تھا ۔چڑھائی میں دوڑنا ناممکن تھا ،میں تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ بتدریج اونچائی کی طرف چلے گئے تھے ۔میں بھی نالے میں سیدھاچلنے کے بجائے ترچھا ہو کر اوپر کی طرف چلنے لگا۔ فرلانگ بھر چلنے کے بعد ہی مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔لیکن فائرنگ کا رخ متعین نہیں تھا ۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ میرے جانے کی سمت سے آگاہ نہیں تھے اور اندازے ہی سے فائر کر رہے تھے ۔اس نالے کے دونوں کناروں پر گھنی جھاڑیوں کے جھنڈ موجود تھے ،جبکہ سیدھے نالے میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں ۔اور وہی جھاڑیاں مجھے چھپنے میں مدددے رہی تھیں ۔
میں نے قدم روکتے ہوئے ایک جھاڑی کی اوٹ سے نالہ موڑ کی جانب نگاہ دوڑائی ،وہاں پندرہ بیس کے قریب مسلح افراد دکھائی دے رہے تھے ۔یقینا وہ میرے جانے کی سمت کا تعین کر رہے تھے۔ گو وہاں سے مجھے ان کے تیور تو نظر نہیں آ رہے تھے البتہ میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ سخت غصے میں تھے ۔ وہ مجھے ناکارہ کرنے آئے تھے ،اس کے بجائے اپنے تین چار آدمی زخمی کرا بیٹھے تھے ۔اور اتنے آدمیوں کے گھیرے سے ایک بندے کا یوں آرام سے نکل جانا انھیں ہضم نہیں ہو ریا تھا ۔وہ لمبا آدمی جسے میں نے دو مرتبہ کلاشن کوف کا بٹ مار کر بے ہوش کیا تھا وہ مجھے نمایاں نظر آرہا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اگر میں اب ان کے قابو میں آجاتا تو اس لمبے نے تو مجھے بغیر وضاحت سنے ہی گولی مار دینا تھی ۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو پارٹیوں میں تقسیم ہوئے آدھے سیدھے جانے والے نالے میں گھس گئے جبکہ بقایا اس نالے میں آگئے جس میں میں موجود تھا ۔البتہ دائیں مڑنے والے نالے کو انھوں نے نظر انداز کر دیا تھا ۔
اسی وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ نیچے ہی نیچے چلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو مجھے وہیں چھپے ہوئے ان کے آگے نکل جانے کا انتظار کرنا چاہیے ،اس کے بعدمیں واپس جا کر کیندار جانے والے نالے میں گھس کر خود کو محفوظ کر سکتا تھا ۔اس طرح ان کے تعاقب سے بھی میری جان چھوٹ جاتی اور میری منزل بھی کھوٹی نہ ہوتی ۔
لیکن جب میں نے اس پارٹی کومزیدتین حصوں میں منقسم ہوتے دیکھا تو مجھے اپنے منصوبے میں ترمیم کرنا پڑی ۔ان میں سے چا رآدمی نالے کے بائیں کنارے کی طرف بڑھے اور پھیل کر ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔چار آدمی دائیں ڈھلان پر چڑھنے لگے کہ جس جانب میں چھپا ہواتھا ۔جبکہ باقی نالے کی تہہ میں آگے بڑھنے لگے ۔
اس کے ساتھ دوسری پارٹی کے آدمی جو سیدھے نالے میں گھسے تھے انھوں نے اپنے تین آدمی نالہ موڑ ہی پر چھوڑ دیے تھے۔گویا میں کسی طرح اپنی تلاش میں آنے والوں کی نظر میں آنے سے بچ بھی جاتا تب بھی واپس نہیں جا سکتا تھا ۔
اپنے منصوبے پر مٹی ڈالتے ہوئے میں جھاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھنے لگا ۔ان کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کم کرنا پڑی تھی ۔اب آگے بڑھنے کے بجائے میں اوپر چڑھنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا ۔پچاس ساٹھ گز چلنے کے بعد ایک دم چلغوزے کے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،ان درختوں کی وجہ سے میں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا،کیونکہ اب کھڑا ہونے کے باوجود میں دور سے نظر نہیں آ سکتا تھا ۔
اس پہاڑی کی بلندی اتنی زیادہ نہیں تھی جلد ہی میں چوٹی کے قریب پہنچ گیا تھا ۔چوٹی سے پچاس ساٹھ گز نیچے ہی درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔پہلے تو میں نے خطرے سے بچنے کا سوچا اور انھی درختوں کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ،مگر پھر مجھے خیال آیا کہ دشمن کے بلندی پر پہنچنے کی صورت میں میں دونوں جانب سے گھیرے میں آ جاتا اور اس وقت کسی کی بھی نظر مجھ پر پڑ جاتی تو میرا وہاں سے بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ۔یہ خیال آتے ہی میں نے محتاط انداز میں بلندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔چھدری چھدری جھاڑیوں اور اکادکا پتھریلی چٹانوں کی آڑ لیتا ہوا میں حتی الوسع کوشش کر رہا تھا کہ کسی کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے ۔بد قسمتی یہ تھی کہ صبح سویرے ہی مجھے دشمن کا سامنا کر نا پڑ گیا تھا اس وجہ سے دن گزرنے ہی میں نہیں آرہا تھا ۔اگر اندھیرا چھا جاتا تو مجھے مزید سہولت مل جانا تھی ۔پھر میں دور سے کسی کو نظر نہ آتا اور اس اندھیرے میںپہاڑی علاقے میں ایک آدمی کو تلاش کرنا کسی بڑے اتفاق ہی کے مرہون منت ہو سکتا تھا ۔اورعموماََ ایسے اتفاقات ظہور پذیر نہیں ہوا کرتے ۔
لیکن اندھیرا چھانے میں ابھی آدھے دن سے زیادہ وقت پڑا تھا ۔اور اتنی دیر ان موذیوں کی نظروں سے بچ کر حرکت کرنا نہایت دشوار تھا ۔سب سے بڑھ کروہ یہاں کے مقامی تھے سارا علاقہ ان کا دیکھا بھالا تھا ۔وہ مجھ سے زیادہ تیزی سے ان پہاڑوں میں سفر کر سکتے تھے اورانھیں سانس کا مسئلہ بھی میدانی علاقوں کے لوگوں کی نسبت کم پیش آتا تھا۔
میں اپنا سفری تھیلابھی پیچھے ہی پھینک آیا تھا ۔اب میرے پاس جیبوں میں موجود نقدی،پنڈلی سے بندھے خنجر اور کلاشن کوف کے علاوہ ضرورت کاکوئی سامان باقی نہیں بچا تھا ۔کلاشن کا ایمونیشن بھی تھیلے ہی میں رہ گیا تھا۔شلوبرقبیلے سے فائرنگ کا تبادلہ ہونے کی صورت میں میں چند گولیوں سے کب تک ان کی پیش قدمی روک پاتا۔
وہ کافی طویل پہاڑی تھی ۔اور اوپر پہنچ کر میں کافی تیزی سے حرکت کر کے کسی مناسب نالے یا دوسری پہاڑی کا رخ کر سکتا تھا ۔اورجتنا زیادہ میں دور ہوتا جاتا میری تلاش میں آنے والوں کاایک دوسرے سے فاصلہ بڑھتا جاتا ۔اس فائدہ یہ ہوتا کہ اگر اتفاقاََ کوئی پارٹی مجھ سے ٹکرابھی جاتی تو دوسرے اس کی مدد کو بر وقت نہیں پہنچ سکتے تھے ۔اور اتنا موم کا پتلا میں بھی نہیں تھا کہ تین چار آدمیوں کے قابو میں آجاتا ۔
میں محتاط انداز میں حرکت کرتا ہوا دھیرے دھیرے سے چوٹی کے قریب پہنچتا جا رہا تھا ۔ایک گھنی جھاڑی کے قریب پہنچ کر میں لمحہ بھر سانس لینے کو رکا ،وہاں سے چوٹی تک پندرہ بیس قدم کا فاصلہ باقی تھا لیکن رستے میں کوئی نظری آڑ میسر نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر پہنچ سکتا ۔لیکن بلندی پر پہنچنا بھی ضروری تھا اس لیے خطرہ مول لیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔نالے کی طرف نظر دوڑانے پر مجھے کوئی نظر نہ آیا کہ وہاں سے نہ تو نالے کی تہہ نظر آتی تھی اور نہ نالے میں موجود کوئی شخص اس جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔البتہ میرے پیچھے ڈھلان چڑھنے والے افراد مجھے دیکھ سکتے تھے ،اسی طرف نالے کے دوسرے کنارے پر ڈھلان چڑھنے والوں کی نظر بھی اس جانب اٹھ جاتی تو انھیں میں نظر آسکتا تھا ،کیونکہ نالے کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔دل ہی دل میں خدا کو یاد کرتے ہوئے میں نے اوپر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔وہ تھوڑا سا فاصلہ میں نے دوڑ کر طے کرنے کی کوشش کی تھی ۔گو بلندی پر دوڑنا قریباََ ناممکن ہوتا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس پھولنے تو کیا اکھڑنے لگتا ہے ،لیکن چند قدم لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔اور پھر میں اوپر پہنچ کر ایک پتھر کی آڑ لینے ہی والا تھا کہ مخالف پہاڑی کی طرف سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری اور بلا شک و شبہ اس فائرنگ کا نشانہ میری ذات تھی ۔بالکل آخری لمحات میں میں دیکھ لیا گیا تھا بہ قول شاعر ....
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
گولی چلانے والا کا نشانہ خطا جانے کے باوجود میرا مقصد پورا نہیں پایا تھا ۔نظر آکر میں نے ایک بار پھر انھیں ہدف مہیا کر کے اپنے گرد گھیرا ڈالنے کا موقع دے دیا تھا ۔بہ ہر حال میرے پاس سوگ منانے یا سر پیٹنے کا وقت نہیں تھا ۔دوسری جانب اترنے کے بجائے میں نے بلندی پر ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔وہ پہاڑی پانچ چھے سو گز طویل تھی ۔اس کا رخ قریباََجنوب مغرب بن رہا تھا ۔فائرنگ کی آواز تواتر سے آنا شروع ہو گئی تھی ۔گو اب میں ان کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن ان کی فائرنگ کے باعث دائیں بائیں پھرنے والی تمام پارٹیاں اس جانب متوجہ ہو گئی تھیں ۔اس کے ساتھ لازمی بات ہے انھوں نے یہ بات مخابرے پر بھی دوسری پارٹیوں کو بتا دی ہو گی ۔تھکن محسوس کرنے کے باوجود میری ٹانگوں میں بجلی بھرگئی تھی اور میں جلد از جلد وہاں سے دور ہو کر کسی ایسی جگہ پہنچنا چاہتا تھا جہاں میری تلاش کے لیے انھیں دوبارہ منتشر ہونا پڑ جاتا ۔ بائیں جانب موجود نالا اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ جنوب مغرب کی جانب مڑ رہا تھا ،یقینا نالے کی تہہ میں موجود آدمیوں نے سامنے کی طرف آکر مجھے پکڑنے کی کوشش کرنا تھی ۔البتہ اس پہاڑی کے دائیں جانب جو دو تین نالے لگ رہے تھے میں ان میں سے کسی نالے میں اتر سکتا تھا اور میںنے ایسا ہی کیا ۔ایک نالا چھوڑ کر دوسرے کے نظر آتے ہی میں ڈھلان اترنے لگا۔ اب میرے قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی تھی ۔میں بہ مشکل ایک تہائی ڈھلان اتر پایا تھا کہ مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔وہ چاروں آدمی جو میرے پیچھے پیچھے اس ڈھلان پر چڑھ رہے تھے یہ معلوم ہوتے ہی کہ میں بلندی پر ہوں انھیں نے اوپر پہنچتے ہوئے دیر نہیں لگائی تھی ۔بہ ہر حال ابھی تک وہ مجھ سے دور تھے اور اتنے فاصلے سے وہ مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔اپنے قدموں میں مزید تیزی لاتے ہوئے میں حتی الوسع کسی آڑ کو اپنے عقب میں رکھ کر آگے بڑھتا گیا ۔نالے میں اترنے کے بعد ہی میں اگلی چڑھائی چڑھ سکتا تھا ۔
جونھی میں نالے میں اترا ایک مرتبہ پھر عقب میں فائر کی آواز سنائی دینے لگی ۔وہ مجھے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو نے دے رہے تھے ۔سامنے کی پہاڑی پر زیادہ درخت نہیں تھے لیکن اس پر چڑھنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا ۔نیچے اترتے وقت ایک اور پریشان کن بات میرے مشاہدے میں آئی تھی ،کہ جس نالے میں میں اترا تھا وہ اس سیدھے نالے سے ٹکرا رہا تھا جہاں شلوبر قبیلے والوں کی دوسری پارٹی میری تلاش میں گئی تھی ۔اس لیے بجائے نالے میں آگے بڑھنے کے میرا بلندی پر پہنچنا ضروری تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میں یہ سب کچھ طے کر چکا تھا ،اس لیے نالے میں رکنے کے بہ بجائے میں نے بلندی کا سفر شروع کر دیا تھا ۔ایک بار پھر میرا سانس پھولنے لگا تھا لیکن وہ وقت سانس بحال کرنے کا نہیں تھا ۔غزنی خیل قبیلے کے ساتھ ہمدردی کرنا مجھے کچھ زیادہ ہی مہنگا پڑ رہا تھا ۔شلوبر قبیلے والے غزنی خیلوں پر آیا ہوا غصہ مجھ پر نکال رہے تھے ۔یا شاید ان کی نگاہ میں میرا قصور ناقابل معافی تھا ۔حالانکہ اپنے تیئں میں نے ان کے کسی آدمی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا ،ورنہ بازو یا ٹانگ پر لگنے والی گولی کو سر میں مارنا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔
میری کوشش یہ تھی کہ کسی چٹان ،جھاڑی یا درخت وغیرہ کی آڑ لے کر چلوں ۔ان کے نالے میں اترنے تک میں کلاشن کوف کی کارگر رینج سے دور نکل جانا چاہتا تھا ورنہ نالے میں کھڑے ہو کر وہ مجھے آسانی سے نشانہ بنا لیتے ۔
(ویسے ایک بات میں قارئین کی معلومات کے لیے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اونچائی اور نشیب میں فائر کرتے وقت کسی بھی ہتھیار کی کارگر رینج بڑھ جایا کرتی ہے ،لیکن یہ سنائپروں کا طریقہ کار ہے اور یہ حساب ایک کلیے کے تحت کیا جاتا ہے ، عام آدمی اس بات سے واقف نہیں ہوتا ہے )
پوری کوشش کے باوجود میں مطلوبہ بلندی تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ وہ بھاگتے ہوئے نیچے آرہے تھے ۔میں بہ مشکل دو سو میٹراوپر پہنچا ہوں گا کہ انھوں نے نالے میں پہنچ کر فائرنگ شروع کر دی ۔
فائر کی آواز کانوں میں پڑتے ہی میں فوراََ نیچے لیٹا اور ایک قریب پتھر کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کے لیے تیار ہو گیا ۔وہ چاروں بغیر کسی آڑ کا سہارا لیے نالے درمیان میں کھڑے تھے ۔میری کلاشن کوف کا سیفٹی لیورسنگل راﺅندپرسیٹ تھا ۔مطلوبہ رینج لگا کر میں نے شست لے کر درمیانی آدمی کی ٹانگوں کو نشانہ بنانے لگا۔یوں بھی ان کے رکے ہونے کی وجہ سے وہ آسان ہدف کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔لبلبی دباتے ہی مذکورہ آدمی نیچے گر گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی باقی آڑ کی تلاش میں پہاڑی کی جڑ کی طرف بھاگے ۔ان کے چھپنے کا تماشا دیکھنے کے بجائے میں بلندی پر چڑھنے لگا ۔پہاڑی کی جڑ میں چھپنے کی وجہ سے میں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اور جلد ہی انھیں اس بات کا احساس ہوجانا تھا ۔ اور میرے گمان کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی ان کی طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی ۔وہ نالے کے دوسرے کنارے پر جا کر کسی پتھر وغیرہ کی آڑ لے کر فائرنگ کر رہے تھے ۔اتنی دیر میں میں مزید دور ہو گیا تھا ۔دائیں بائیں پڑے پتھروں سے ٹکرانے والی گولیوں نے مجھے فوراََ ہی یہ باور کر ادیا تھا کہ میں اب تک ان کی رینج ہی میں تھا ۔
ایک مرتبہ پھر مناسب آڑ کے پیچھے لیٹ کر میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔زخمی آدمی اب تک اسی جگہ پر موجود تھا ۔زمین پر بیٹھ کر وہ اپنی ٹانگ پر کپڑا لپیٹ رہا تھا کیونکہ خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے یہ کام نہایت ضروری تھا ۔ میں اگر چاہتا تو آسانی سے اس کا عدم آباد کا ٹکٹ کٹوا سکتا تھا ،لیکن اب تک میں انھیں جان سے مارنے سے گریز کر رہا تھا ۔
میں نے فائر کرنے والوں کی پوزیشنوں کا جائزہ لیا دو آدمی آڑ کے اوپر سے فائر کر رہے تھے اور ان کے سر میں گولی مارنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔تیسرا آدمی پتھر کی آڑ کی دائیں جانب سے فائر پر شروع تھا۔ میں نے اسی کے کندھے پر نشانہ سادھ کر فائر کر دیا ۔اس کی چیخ سنتے ہی باقی دونوں مکمل طور پر پتھر کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔
میں وقت ضائع کیے بغیر دوبارہ اوپر چڑھنے لگا ۔اس مرتبہ مجھے نشانہ بنانے کے بجائے وہ اپنے ساتھیوں کو سنبھالنے لگے ۔اس دوران میں ان کی رینج سے نکل گیا تھا ۔بلندی پر پہنچتے ہی میں نے دو تین منٹ رک کر سانس سیدھا کیا اور پھر ایک طرف کوبڑھ گیا ۔
دشمن نے اوپر چڑھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔چار میں سے دو زخمی ہو گئے تھے اور زخمی ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ کر انھوں نے میرا تعاقب کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ انھوں نے ریڈیو سیٹ کے ذریعے اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہاں بلا لیا ہو۔میری بلا سے کوئی وجہ بھی تھی مجھے جلد از جلد وہاں سے دور نکلنا تھا ۔بیٹھے بٹھائے مفت کی مصیبت گلے پڑ گئی تھی ۔نہ روشن خان مجھے اس دن سیلاب خان کے پاس لے جاتا اور نہ میرا سفر کھوٹا ہوتا ۔اس ہنگامے میں پھنسنے پر اگر میرا کوئی فائدہ ہوا تھا توبس اتنا کہ نوشاد گل کے ذریعے مجھے تھوڑی بہت معلومات مل گئی تھی ۔وہ بھی ادھوری سی کہ وہ ٹریسی اور البرٹ بروک کے ساتھ ایک بار غزنی خیل گیا تھا ۔اب نامعلوم وہ مستقل وہیں رہتے تھے یا ایک بار ہی کسی وجہ سے وہاں گئے تھے ۔خیر کچھ بھی تھا اب مجھے ایک بار تو غزنی تک جانا تھا ۔اگر البرٹ مجھے وہاں نہ بھی ملتا تب بھی شاید اس کے بارے کوئی ہلکا سا سراغ مل جاتا ۔البرٹ سے بھی بڑھ کر مجھے میجر جینیفر ہنڈسلے کو تلاش کرنا تھا ۔ قوی امید تھی کہ اس معاملے میں وہ میری مددضرور کرتی ۔گو اس بارے وہ گزشتا ملاقات میں سرسری سی معذرت کر چکی تھی ،مگر اس وقت میں نے اس پر اتنا زور بھی نہیں دیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ واپس لوٹ چکی ہوتی ۔بہ ہر حال یہ بعد کی باتیں تھیں اس وقت تو مجھے جان بچانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔ شلوبر قبیلے کے لوگ پیر تسمہ پا کی طرح میرے پیچھے پڑے تھے ۔میرے تعاقب میں آنے والے گو اس پہاڑی کے نیچے ہی رک گئے تھے مگر ابھی تک میں خطرے کی حدود سے نہیں نکلا تھا ۔
پہاڑی آگے جا کر ایک دوسرے بلند پہاڑ سے مل رہی تھی ،درمیان میں کوئی نالہ وغیرہ بھی نہیں تھا ۔دوسری پہاڑی کی انتہائی بلندی پر مجھے برف کی سفیدی نظر آ رہی تھی ۔میرے پاﺅں میں اس وقت سپورٹس شوز تھے،گلگارے کے والد شمریز خان کے بوٹ میرے سفری تھیلے ہی میں رہ گئے تھے ۔ایک بار تو میں نے اوپر نہ چڑھنے کا سوچا ،کیونکہ برف کی وجہ سے اپنے ساتھ پیش آنے والا حادثہ مجھے بھولا نہیں تھا ،لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ۔”میں نے کون سا وہاں رہنا ہے ،اس بلندی کو عبور کر کے آگے گزر جاﺅں گا ۔“
یہ سوچتے ہی میرے قدم ایک بار پھر بلندی کی جانب بڑھ گئے ۔کافی مشکل چڑھائی تھی ۔ مجھے صبح سے مسلسل کبھی دوڑنا پڑ رہا تھا اور کبھی چڑھائیاں چڑھنا پڑ رہا تھا ۔ایسی صورت میں تھکن ہونا اچنبھے کی بات نہیں تھی ۔البتہ میں ایسے حالات میں جینا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ابھی تک مجھ میں کافی جان موجود تھی اور میں اتنا نہیں تھکا تھا کہ گر پڑتا ۔
وہاں نصف بلندی تک درخت موجود تھے ۔ جوں جوں میں بلند ہوتا گیا تیز ہوا کے ساتھ سردی بھی بڑھتی گئی ۔گو چڑھائی چڑھتے ہوئے زیادہ مشقت کی وجہ سے پسینہ آجاتا ہے اور سردی کم ہی لگتی ہے ،مگر انسان کو سردی کے بڑھ جانے کا احساس ضرور ہو جاتا ہے ۔
گھڑی دیکھنے پر سوئیاں ایک کا ہندسہ عبور کرتی نظر آئیں۔مجھے دوڑتے، بھاگتے ،نشیب و فراز عبور کرتے قریباََ ساڑھے پانچ گھنٹے ہورہے تھے ۔کیونکہ غزنی خیل سے میں صبح آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوا تھا ۔
مزید آدھے گھنٹے بعد میں اوپر پہنچ گیا تھا ۔چند لمحے میں سستانے بیٹھا لیکن ٹھنڈی ہوا میرا مزاج پوچھنے لگی تھی ۔آرام کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں کھڑا ہو گیا ۔دوسری جانب نیچے اترنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑ کر نگاہ دوڑائی ،حد نگاہ تک پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے ۔میرے پاس دوربین موجود نہیں تھی ورنہ میں اپنے دوستوں کی حرکت دیکھنے کی کوشش ضرور کرتا ۔
نیچے اترتے وقت میری رفتار کافی تیز تھی ۔بیس پچیس منٹ میں میں دوسری جانب موجود نالے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے میں بہتا پانی دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ صبح سے میں پانی نہیں پی سکا تھا ۔ہاتھوں کا اوک بنا کر میں چھوٹے بڑے پتھروں کے درمیان جاری شفاف پانی سے لطف اندوز ہونے لگا ۔خوب سیر ہو کر ٹھنڈا پانی پینے کے بعد میں نالے ہی نالے میں آگے بڑھ گیا ۔بلندی پر چلنے والی تیز ہوا وہاں بالکل ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی ۔اس نالے کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا ۔نالے کے بائیں کنارے پر جھاڑیوں کا گھنا جھنڈ تھا جو بلندی کی طرف بتدریج چھدرا چھدرا ہوتا گیا تھا ۔البتہ دائیں جانب اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے میں مناسب رفتار سے چل رہا تھا ۔لیکن سکون شایدمیری قسمت میں نہیں تھا ۔میں نالے موڑ سے سو ڈیڑھ سو گز ہی دور تھا کہ مجھے چھے سات آدمی موڑ مڑ کر اس جانب آتے دکھائی دیے ۔ٹھٹک کر رکتے ہوئے میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی ،مگر میری تیزی کسی کام نہیں آئی تھی ۔انھوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور بغیر سیکنڈ ضائع کیے انھوں نے کلاشن کوفوں کا رخ میری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
ایک بار پھر میری دوڑ شروع ہو گئی تھی ۔چڑھائیاں سر کرنا اس دن میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میں نے ہاتھوں میں پکڑ لی تھی ۔اگر وہ اسی طرح دوڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے تو مجھے جلد ہی آلیتے ۔یہ سوچتے ہی میں نے رکتے ہوئے ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر تین چار گولیاں فائر کر دیں ۔اپنے زخمی ساتھی انھیں بھولے نہیں تھے ۔وہ فوراََ پتھروں کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کرنے لگے ۔میرے پاس ایمونیشن نہ ہونے کے برابر تھا ،میں ان کے ہر فائر کا جواب نہیں دے سکتا تھا ۔اس لیے مزید گولیوں کی بچت کرتے ہوئے میں نے فائر بند کیا اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔
جیسے ہی ان کی طرف سے فائرنگ رکی میں جھاڑیوں کی آڑ سے نکل کر ایک پتھر پیچھے لیٹا اور نالے کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے تھے ۔انھیں چند قدم لینے دینے کے بعد میں نے ایک گولی فائر کی لیکن جس جگہ سے میں فائر کر رہا تھا وہاں سے لیٹ کر انھیں نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ البتہ گولی چلنے کی آواز نے انھیں بدحواس ہو کر لیٹنے پر ضرور مجبور کر دیا تھا ۔امید تھی کہ وہ اتنی جلدی اٹھنے کی ہمت نہ کرتے ۔البتہ لیٹے لیٹے انھوں نے فائر ضرور کھول دیا تھا ۔
میں نے رینگتے ہوئے قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اور ایک بار پھر اوپر چڑھنے لگا ۔یہ ایک طویل اور لمبی ڈھلان تھی جو بتدریج اوپر کو اٹھتی گئی تھی ۔نقشہ بینی کی اصطلاحات میں ایسی ڈھلان کو پہاڑ کا بازو کہتے ہیں یعنی پہاڑ کی وہ شاخ جس کی بلندی بتدریج کم ہو کر زمین سے مل جائے ۔
بیس پچیس قدم اوپر جاتے ہی مڑ کر دیکھنے پر وہ مجھے حرکت کرتے نظر آئے ،مگر اب وہ جھاڑیوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور میرے گولی فائر کرنے پر وہ زمین پر لیٹ کر آڑ لینے کے بجائے جھاڑیوں کی آڑ لینے کی کوشش کرتے ۔میں نے گولی ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور قدموں میں تیزی پیدا کر دی ۔یقینا جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہی انھوں نے بھی اپنی رفتار تیز کردینا تھی ۔مقامی ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے زیادہ تیز رفتاری سے پہاڑی چڑھ سکتے تھے ۔مگر میری مثال اس وقت ایسے ہرن کی سی ہو گئی تھی جو جان بچانے کے خوف میں وہ چوڑی کھائی بھی پھلانگ جاتا ہے جسے اس کا تعاقب کرنے والا طاقتور شیر عبور نہیں کر سکتا ۔
اکادکا فائر کی میرے کانوں میں تسلسل سے آرہی تھی ۔یقینا وہ گھنی جھاڑیوں کو فائر کے ذریعے چھان رہے تھے ۔کسی جھاڑی میں چھپنے کی تجویز بھی میرے زیر غور تھی لیکن ان کے گھنی جھاڑیوں پر فائر کرنے نے مجھے اس تجویز پر عمل کرنے سے باز رکھا تھا ۔
مختلف مقامات سے اٹھنے والی فائر وں کی آواز سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہ آئی کہ وہ پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے ۔جھاڑیوں کا جھنڈ زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں نبھا سکتا تھا ۔میں اسی صورت میں بچ سکتا تھا کہ ان کے جھاڑیوں کے جنگل سے نکلنے سے پہلے بلندی پر پہنچ جاتا ۔
جلدہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے آگے اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔میں نے رفتار مزید تیز کر دی،مگر میں زیادہ دیر اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا دل جیسے حلق کے رستے باہر آنے کو تیار ہو گیا تھا ۔مجبورا مجھے بھاگنا ترک کرنا پڑا ۔لمحہ بھر رک کر میں نے اپنے سانس بحال کیے اور پھر تیز قدموں سے اوپر چڑھنے لگا ۔
میں بہ مشکل سو ایک سو بیس گز ہی اوپر پہنچا ہوں گا کہ ایک مرتبہ پھر تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑا پتھر پڑا تھا ۔اس کی آڑ لینے کے لیے میں نے رفتار بڑھائی مگر اس سے پہلے ہی مجھے یوں لگا جیسے میری دائیں ران میں کوئی گرم انگارہ گھس گیا ہو۔میں منھ کے بل نیچے گرا ۔اپنے ہاتھ سامنے ٹیکتے ہوئے میں نے خود کو زیادہ زخمی ہونے سے بچالیاتھا ۔وہاں سے رینگتے ہوئے پتھر تک جانا ناممکن تھا ۔کوشش کر کے میں سیدھا ہوا اورجھک کر پتھر کی جانب بڑھا ۔میری دائیں ٹانگ سے بڑی تیزی سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا ۔پتھر کے قریب پہنچنے تک مجھے ایک اور جھٹکا لگا ،اس مرتبہ گولی میری دائیں پنڈلی کا گوشت پھاڑتی ہوئی نکل گئی تھی ۔بائیں پاﺅں پر زور دیتے ہوئے میں نے ایک جھٹکا لیا اور پتھر کے پیچھے پہنچ گیا ۔
آڑ میں جاتے ہی میں نے بغیر وقت ضائع کیے گلے سے لپٹا مفلر کھول کر اپنی ران پر لپیٹنے لگا۔ گولی ران کے اندر ہی رہ گئی تھی ۔مگر اس وقت گولی نکالنے سے زیادہ خون کے بہاﺅ کو روکنا ضروری تھا۔ران پر کس کر مفلر لپیٹنے کے بعد میں نے خنجر نکال کر اپنی قمیص کا دامن پھاڑا اور اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ کر پٹی کی شکل دیتے ہوئے پنڈلی پر لپیٹنے لگا ۔
پہلے پہل گولی کا زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم میں درد اور جلن بڑھتی جاتی ہے ۔خاص کر جس زخم میں گولی اندر ہی رہ جائے وہ زیادہ تکلیف دیتا ہے ۔
دونوں زخموں پر پٹی باندھنے کے بعد میں نیچے کی طرف متوجہ ہوا ۔یقینا دشمن کو معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے گولی لگ چکی ہے ۔تین آدمی بڑی تیز رفتاری سے اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔سب سے آگے والے کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں سانس روکا اور ٹریگر دبا دیا ....بس بہت رعایت ہو گئی تھی ۔میری جان چھوڑنے پر وہ یوں بھی آمادہ نہیں ہورہے تھے ،یہاں تک کہ اب تو سچ مچ مجھے جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔وہ اچھل کر پیچھے کو الٹا اور نیچے لڑھکنے لگا ۔اس ساتھ آنے والے فوراََ نیچے لیٹ گئے اس کے ساتھ انھوں نے موسلا دھار فائر کھول دیا ۔میں اس پتھر کے پیچھے محفوظ تھا ۔البتہ ان کی گولیوں سے بچنے کے لیے مجھے اپنا سر بھی آڑ کے پیچھے کرنا پڑ گیا تھا ۔دونوں نے پوری پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی ۔جوں ہی ان کا فائر رکا میں نے اس پتھر کے دائیں جانب سے کلاشن کوف کا دہانہ نکال کر شست سادھ لی ۔ایک آدمی کو تو پتھر کی آڑ مل گئی تھی دوسرا یوں ہی لیٹ گیا تھا ۔اس کے ساتھ اس نے یہ بے وقوفی بھی کی تھی کہ کہنیاں ٹیک کر درست فائر کرنے کے لیے اپنا سر زمین سے بلند کیا ہوا تھا ۔ان کی دو میگزینوں کے جواب میں میں نے ایک اور گولی فائر کر دی ۔ہدف نے اٹھا ہوا سر اپنی کلاشن کوف پر ٹیک دیا۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اسے زیادہ تڑپنے کا موقع نہیں دیا تھا ۔
اتنی دیر میں پتھر کے پیچھے آڑ لیے ہوئے آدمی نے میگزین تبدیل کرلی تھی ۔اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی بدحواسی میں اس نے ایک بار پھر ٹریگر یوں دبایا کہ انگلی اٹھانا اسے بھول گیا تھا ۔میگزین زیادہ دیر تک گولیاں فراہم نہیں کر سکی تھی ۔برسٹ کی صورت فائر ہونے والی تیس گولیاں ختم ہونے میں وقت ہی کتنا صرف ہوتا ہے ۔زیادہ تر گولیاں اس پتھر سے ٹکرائی تھیں جو مجھے آڑ مہیا کیے ہوئے تھا ۔کچھ دائیں بائیں زمین میں لگ کر گرد اڑانے کا سبب بنی تھیں ۔
میں اس کے فائر کے رکنے کا منتظر رہا ۔جونھی اس کا فائر رکا میں ایک بار پھر پتھر کی آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف جھانکنے لگا ۔(قارئین یہ بات یاد رکھیں کہ دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے فائرر کے لیے کسی بھی آڑ کی دائیں طرف کا استعمال ہی مناسب رہتا ہے ،کیونکہ آڑ کی بائیں جانب کا استعمال کرنے کی صورت میں اس کا زیادہ جسم دشمن کو نظر آسکتا ہے )
وہ پتھر کے عقب میں بے حس لیٹا تھا ۔میرے خیال میں وہ میگزین تبدیل کر رہا تھا ۔مگر منٹ بھر بعد بھی جب اس کی جانب سے فائر نہ ہوا تو مجھے شک ہونے لگا کہ اس کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔
اسی وقت مجھے درختوں کے جھنڈ سے ان کے باقی چارساتھی آگے بڑھتے نظر آئے ۔یقینا وہ اپنے ساتھیوں کے انجام سے بے خبر تھے تبھی تو یوں بے فکری سے آگے بڑھ رہے تھے ۔وہ بھی چونکہ میری طرف متوجہ تھا اس لیے اسے بھی اپنے ساتھی نظر نہیں آئے تھے ورنہ وہ انھیں ضرور متنبہ کرتا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کی بیرل کا رخ آنے والوں کی طرف موڑا ،میرا ارادہ کم از کم دو آدمیوں کو نشانہ بنانے کا تھا ۔ درمیان والے آدمی کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی، اپنے پہلے ساتھی کی طرح وہ اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔باقی تینوں نے فوراََ آڑ لینے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں میں ایک اور بار ٹریگر دبا چکا تھا ۔ان کا چوتھا آدمی بھی مجھے مارنے کی حسرت لیے پہلے والے تین کے پاس پہنچ چکا تھا ۔کلاشن کوف کے آٹومیٹک ہونے نے میرے کام کو آسان بنا دیا تھا ۔
بچنے والے دونوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ان کے اضطراری فائر سے گھبرا کر ان کے آگے لیٹے ہوا ساتھی گھبرا کربا آواز بلند انھیں فائر سے منع کرنے لگا ۔کیونکہ وہ ان کے اور میرے درمیان میں لیٹا ہوا تھا ۔انھیں منع کرتے کرتے وہ اس پتھر کی اونچائی کا حساب نہیں رکھ پایا تھا جس کے پیچھے وہ چھپا ہوا تھا ۔اس کی کھوپڑی کا عقبی حصہ پتھر کے اوپر سے جھلکا اور مجھے بس اتنا ہی ہدف درکار تھا ۔سو گز سے چلائی ہوئی کلاشن کوف کی طاقتور گولی نے کھوپڑی کے عقب سے گھس کر اسے دنیا کی ہر فکر اور اندیشے سے دور کر دیا تھا ۔
مرنے سے پہلے اس نے بچنے والوں دونوں ساتھیو ں کو مرنے والوں کے انجام سے با خبر کر دیا تھا ۔بلکہ ان دونوں نے بھی دیکھ لیا تھا ٹانگوں اور بازوﺅں میں لگنے والی گولیاں اب سر اور ماتھے میں پیوست ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔
اچانک ان میں سے ایک آدمی نے اٹھ کر نیچے کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ۔یقینا وہ خوفزدہ ہوگیا تھا ۔لیکن اب چاہے وہ خوفزدہ ہو کر ، چاہے کسی مقصد سے بھاگتے میں انھیں رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔وہ بہ مشکل تین قدم ہی لے پایا تھا ۔اس سے آگے گولی نے اسے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔اس کے تڑپتے ہوئے جسم کو ایک بڑے پتھر نے نیچے لڑھکنے سے روکا تھا ۔
اب ہم دو بچ گئے تھے ۔ممکن تھا کہ اسے مزید ساتھیوں کی کمک مل جاتی ،مگر فی الحال وہ بھی اکیلا تھا ۔اپنے آخری ساتھی کے ہلاک ہوتے ہی اس نے بھی اپنی کلاشن کو ف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برسٹ میری جانب فائر کرنے لگا ۔مجبورا مجھے پتھر کے پیچھے سر چھپانا پڑا ۔
اچانک اس کے فائر سے مجھے محسوس ہوا جیسے وہ کھڑا ہو گیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی اس کا فائر آہستہ آہستہ دور ہٹنے لگا ۔یقینا وہ بھاگنے کی کوشش میں تھا ۔اور اس مقصد کے لیے وہ مجھے سر اٹھانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ ہر برسٹ تین چار گولیوں کا فائر کر رہا تھا ۔میں اس کے فائر ہونے والے برسٹ گننے لگا۔ساتویں اٹھویں برسٹ پر میں نے رسک لیتے ہوئے پتھر سے جھانکا ۔وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹیکے نئی میگزین لگا رہا تھا ۔اگر مجھے پتھر سے جھانکنے میں دو سیکنڈ کی بھی دیر ہوجاتی تووہ دوبارہ فائر شروع کر چکا ہوتا۔جب میں نے جھانکا اس وقت وہ کلاشن کوف کو کاک کر رہا تھا ۔جبکہ میری کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اور یقینا وہ مجھ سے تیز رفتا ر فائر نہیں تھا ۔نئی میگزین سے گولی چلانے کی حسرت دل میں لیے وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا تھا ۔
آخری دشمن کے مرتے ہی میں نے اپنا سر پتھر پر ٹیک دیا تھا ۔ایک دم مجھے اپنے زخموں میں ہونے والی تکلیف کا احساس ہونے لگا ۔مجھے نہایت ناگفتہ بہ صورت حال کا سامنا تھا ۔میری دائیں ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں ۔پٹی باندھنے کے باوجود خون رس رہا تھا ۔اور پوری ٹانگ جیسے پھوڑا بنی ہوئی تھی۔ایسی حالت میں پہاڑی پر چڑھنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔البتہ بہت زیادہ ہمت کر کے نیچے اترنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔
کلاشن کوف کی میگزین اتار کر دیکھنے پر مجھے فقط دو گولیاں نظر آئیں ۔میگزین لگا کر میں نے سیفٹی لگائی اور کلاشن کوف کا بٹ ڈنڈے کی طرح نیچے ٹیک کر اس کے سہارے کھڑا ہوگیا ۔میری ٹانگ میں اتنا شدید درد اٹھا تھا کہ کراہیں روکنے کے لیے مجھے سختی سے ہونٹ بھینچنے پڑ گئے تھے ۔
لمحہ بھر درد کو سہارنے کے بعد میں نے اترائی میں قدم بڑھا دیے ۔چند قدم لینے کے بعد ہی میں بے دم ہو کر بیٹھ گیا ۔درد بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔دائیں ٹانگ جیسے مفلوج ہوتی جا رہی تھی ۔میں دائیں ٹانگ کونیچے لگانے کے بجائے بائیں ٹانگ پر کودتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اچانک مجھے عقب میں آہٹ سنائی دی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،چار مسلح افراد ڈھلان سے نیچے آتے دکھائی دیے ۔
میری کلاشن کوف میں فقط دو گولیاں باقی تھیں ۔میرے اندازے کے مطابق جو آدمی سب سے پہلے میری گولی کا نشانہ بنا تھا ،اس کی میگزین میں گولیاں موجود ہونی چاہیے تھیں ۔وہ وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر پڑا تھا ۔میں اس قابل نہیں تھا کہ تیزی سے حرکت کرتا ۔لیکن اب زندگی ،موت کا مسئلہ بن گیا تھا ۔میں نے تیزی سے حرکت کرنے کی کوشش کی اور دو تین قدم لیتے ہی میرا بایاں پاﺅں ایک چھوٹے سے پتھر کے اوپر آکر پھسلا ، میں منھ کے بل گر ااوراس کے ساتھ ہی لڑھکتے ہوئے نیچے جانے لگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میری دائیں ٹانگ پر کوئی ہتھوڑے مار رہاہو۔ کوشش کے باوجود میں خود کوروک نہیں پارہا تھا ۔شاید میری مشکل ایک پتھر کی چٹان نے حل کی تھی ۔شاید میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت تک میں اپنے حواس کھو چکا تھا ۔اور ایسے وقت میں جب دشمن سر پر پہنچ چکا ہو بے ہوش جانے کا مطلب زندگی سے ہاتھ دھو لینا تھا ۔میری ساری کوششیں اور تگ و دو رایگاں گئی تھیں ۔بہ قول شاعر
زندگی تم نے کب وفا کی ہے
اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے
جاری ہے
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 56
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
56 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر 56
ریاض عاقب کوہلر
اس کے کلاشن کوف سیدھی کرتے ہی میں نے حرکت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اس کے تیوردیکھ کر واضح لگ رہا تھا کہ وہ جو کہہ رہا تھا ویسا ہی کرنا چاہتا تھا ۔
میں نے ہاتھ سر سے بلند کرتے ہوئے کہا ۔”اچھا میری آخری بات سن لو اس کے بعد جو مرضی آئے کرنا ۔“
”سناﺅ ۔“میری بے بسی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے کلاشن کوف کی بیرل زمین کی طرف جھکائی۔
اس وقت تک میں ایک سرسری نظر تینوں پر ڈال چکا تھا ۔وہ تمام اس کے عقب میں کھڑے تھے اور وہ سب سے آگے کھڑا تمسخرانہ نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا ۔ہمارے درمیان بس دو تین قدموں کا فاصلہ تھا ۔باقی تینوں اس سے چند قدم دور تھے ان تمام کے انداز میں بے پروائی تھی۔
اس کی کلاشن کوف کا رخ نیچے کی طرف ہوتے ہی میں زقند بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اس سے پہلے کہ میرا ارادہ اس پر ظاہر ہوتا میں نے کلاشن کوف کی بیرل کو پکڑ کر اس کے دھانے کا رخ خود سے موڑتے ہوئے اپنے گھٹنے کو زوردار انداز میں اس کی ٹانگوں کے درمیان اٹھا دیا ۔
”اوغ ۔“کی آواز کے ساتھ وہ نیچے جھکا اور میں نے ایک جھٹکے سے کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔یہ سب کچھ اس سرعت سے ہوا تھا کہ وہ تینوں ہکا بکا کھڑے رہ گئے تھے ۔ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ اس علاقے میں اکثریت ایسے لڑاکوں کی تھی جو صرف ہتھیار کا استعمال ہی جانتے تھے ۔جسمانی داﺅ پیچ سے وہ لوگ نا بلد تھے ۔البتہ مجاہدین کے کیمپوں میں خالی ہاتھ لڑنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے ۔دہشت گردوں میں بھی اکا دکا ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو ہاتھ پیر کا استعمال جانتے ہوں،مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد ہی میں مجھے ٹکرائے تھے۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے اس کا بٹ زوردار انداز میں گھٹنوں کے بل جھکے آدمی کے سر میں مارا،وہ منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔ا س کے ساتھ ہی میں نے بیرل کا رخ ان تینوں کی طرف موڑ دیا ۔ وہ تینوں بھی ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر حواسوں میں آئے ،لیکن انھوں نے ذرا سی دیر کر دی تھی وہ جب تک کلاشن کوف کا رخ میری طرف کرتے میں ٹریگر دبا چکا تھا ۔
دو بندے ٹانگوں میں گولی کھا کر چیختے ہوئے نیچے گرگئے ،تیسرے آدمی نے ٹریگر دبانے کے ساتھ ہی پیچھے کی جانب چھلانگ لگا دی تھی ۔اس نے کلاشن کوف برسٹ پر سیٹ کی ہوئی تھی ۔اگر وہ تیزی میں درستی نہ بھول جاتا تو یقینا آج میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا ۔ٹریگر دباتے ہی چونکہ اس نے پتھر کی جانب چھلانگ لگائی تھی اس لیے بیرل کا رخ مجھ سے بائیں طرف ہو گیا تھا ۔اس کے باوجود مجھے بائیں بازو میں شدید جلن کا احساس ہوا ،اس کے جلد بازی میں فائر کیے گئے برسٹ میں سے ایک بھولی بھٹکی گولی میرے بازو کا مزاج پوچھ چکی تھی ۔
اچانک ڈھلان کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔گولیاں میرے دائیں بائیں لگی تھیں۔ اگر میرے سامنے ان کا ایک آدمی بے ہوش نہ پڑا ہوتا تو ان گولیوں کا نشانہ میرے جسم نے بننا تھا۔میں نے فوراََ خود کو زمین پر گرایا اور قریبی پتھر کے پیچھے رینگ گیا ۔میرے بائیں بازو میں جلن تو ہو رہی تھی مگر بازو ٹھیک ٹھاک کام کر رہا تھا ،اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ گولی میرے بازو کو چھوتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
اب اسی پتھر کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے پیچھے میں چھپا تھا ۔اوپر والوں سے زیادہ مجھے اس آدمی سے خطرہ تھا جو نالے ہی میں چھپا تھا ۔آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف نظر دوڑانے پر مجھے ایک کلاشن کوف کی بیرل اپنی جانب اٹھی نظر آئی، اس کا باقی جسم پتھر کے پیچھے غائب تھا ۔ایک دو چھوٹے چھوٹے برسٹ چلا کر وہ مجھے اپنے ساتھ الجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔
اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا تھا فقط کلاشن کوف پتھر کے پیچھے سے جھلک رہی تھی ۔کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر میں نے کلاشن کوف کے اوپر نشانہ سادھتے ہوئے ٹریگر دبایا۔اس فاصلے سے نشانہ چوکنے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا ۔گولی کلاشن کوف کے فرنٹ ہینڈ گارڈ پر لگی تھی ۔کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا پڑی ۔
میں نے فوراََ کلاشن کوف کا رخ ڈھلان کی طرف کرتے ہوئے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور ٹریگر دبا دیا ۔دو تین گولیوں کے بعد ۔”ٹرنچ ۔“کی آواز نے مجھے کلاشن کوف کے خالی ہونے کی بری خبر سنائی ۔یقینا کلاشن کوف کی میگزین بھری ہوئی نہیں تھی ،کیونکہ میں تو چند گولیاں ہی فائر کر سکا تھا ۔میری اپنی کلاشن ذرا فاصلے پر پڑی تھی ۔وہاں تک جانے کے لیے مجھے دشمن کے سامنے ظاہر ہونا پڑتا جس کا نتیجہ موت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا تھا ۔
ٹانگوں پر گولیاں کھانے والے کراہتے ہوئے اپنی جگہ پر تڑپ رہے تھے ۔یقینا انھیں طبی امداد کی ضرورت تھی ورنہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے انھیں جان کے لالے پڑ سکتے تھے ۔
اسی وقت نالے موڑ سے ہونے والی فائرنگ کی آواز نے مجھ پر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ وہاں پر دشمن کی کافی پارٹیاں موجود تھیں ۔وہاں مزید لیٹنا بھی موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لینا تھا ۔اور ایک بار اگر میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتا تو میری زندگی کی ضمانت ضبط ہوتے دیر نہ لگتی ۔
اس پتھر سے بیس پچیس گز دور جھاڑیوں کا جھنڈ تھا، وہاں تک پہنچ کر میں اپنے فرار میں آسانی پیدا کر سکتا تھا ۔جھاڑیوں تک پہنچنے کے لیے مجھے جلدی کرنا تھی ورنہ دشمن کے نزدیک پہنچنے کے بعد یہ ممکن نہ رہتا ۔دشمن اس لیے بھی دور دور تھے کہ ان کے خیال کے مطابق میں مسلح تھا ۔جبکہ میں بغیر ایمونیشن کے بالکل بے دست و پا ہو گیاتھا ۔
میں ابھی اس صورت حال سے نکلنے کی ذہنی ورزش ہی کر رہا تھا کہ بے ہوش پڑے آدمی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھ بیٹھا ،میری کلاشن کوف اس سے دو تین قدم ہی دور پڑی تھی ۔میں نے نیفے میں اڑسا تیس بور نکال کر کاک کر تے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لیاتھا ۔
ہوش میں آتے ہی وہ چند لمحے کنپٹی مسلنے کے بعد زمین پر ہاتھ ٹیکتے ہوئے اٹھنے لگا۔اسی وقت خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں زقند بھر کر پتھر کے پیچھے سے نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ مکمل کھڑا ہو پاتا ،اس کا دایاں بازو مروڑتے ہوئے میں نے اس کی پیٹھ اپنی چھاتی سے لگالی تھی۔
پتھر کے عقب میں چھپا وہ آدمی جس کی کلاشن کوف کو میں نے نشانہ بنایا تھا ۔مجھے اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس نے پتھر کے پیچھے سے نکل کر اپنی کلاشن کوف اٹھانا چاہی ۔
بائیں ہاتھ سے اپنے اسیر کی کلائی تھامتے ہوئے میں نے دائیں ہاتھ میں پکڑا تیس بور کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے شخص کی طرف سیدھا کیا اور ٹریگر دبادیا ،مگر گولی فائر نہیں ہوئی تھی ۔اس طرح کے مقامی اسلحے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے رک جاتا ہے ۔اس وقت مجھے گلگارے کو تحفہ دیے ہوئے گلاک کی سخت کمی محسوس ہوئی تھی ۔اس بے چاری نے تو اصرار بھی کیا تھا کہ میں پستول اپنے ساتھ لے جاﺅں ۔مگر اس وقت مجھے کسی ایسی صورت حال میں پھنسنے کا گمان نہیں تھا ۔
پستول کو نیچے پھینک کر میں نے اسی لمبے آدمی کو ڈھال کی طرح اپنے سامنے پکڑ لیا ۔اس کے ساتھیوں نے چند ہوائی فائر کیے مجھے نشانہ بنانے کی صورت ان کے اپنے آدمی کو پہلے گولی لگتی ۔پتھر کے چھپے آدمی نے بھی کلاشن کوف اٹھا کر میری جانب تان لی تھی لیکن میرے سامنے ان کا ساتھی ڈھال کی صورت میں موجود تھا ۔
ایک ہاتھ سے اس کا مروڑا ہوا بازو پکڑکر دوسرا بازو میں نے اس کی گردن میں ڈالا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کلاشن کوف کے قریب پہنچ گیا۔نیچے جھک کلاشن کوف اٹھانے کی صورت میں وہ میری گرفت سے نکل جاتا ۔میں نے ایک پاﺅں سلنگ میں ڈال کر کلاشن کوف کو دھیرے سے زمین سے اٹھایا۔اس دوران اس نے مچل کر میری گرفت سے نکلنا چاہا ۔
اس کے گلے میں ڈالے ہوئے بازو کے پھندے کو مزید کستے ہوئے میں نے اسے خاموش دھمکی دی ۔کسی اکھڑ سے اکھڑ آدمی کو بھی سمجھانے کے لیے زبان سے زیادہ عملی دھمکی کام آتی ہے ۔اسے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ حرکت کرنا اس کی گردن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔جسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اس نے تعاون کا اعلان کرتے دیر نہیں کی تھی ۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے بیرل اس کی پیٹھ سے لگائی اور اس کے گلے سے بازو نکال لیا ۔کلاشن کوف کی سرد بیرل گردن میں پڑے ہوئے بازو سے بھی زیادہ ڈرانے والی تھی ۔وہ میرے سامنے بے حس و حرکت کھڑا رہا ۔اس کا دوسرا ساتھی مجھے دھمکیاں دینے لگا ۔
”اگر ایک منٹ کے اندر اندر تم غائب نہ ہوئے تو ان دونوں کے ساتھ لیٹے نظر آﺅ گے ۔“ میں نے زمین پر پڑے زخمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی ۔اس نے فوراََ ایک بڑے پتھر کے عقب میں آڑ لے لی تھی۔
میرے پاس وقت کم تھا ،دیر ہونے کی صورت ان کے مزید ساتھی پہنچ جاتے اور میرا پکڑا جانا یقینی ہو جاتا۔اس لمبے آدمی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھ کر میں الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا ۔اس کے ساتھیوں کو میری حکمت علی سمجھ میں آ گئی تھی ۔انھوں نے مجھے دھمکانے کے لیے تیز فائرنگ شروع کر دی ، لیکن ان کی کوئی بھی گولی ان کے ساتھی سے اتصال کیے بغیر مجھ تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔
درختوں کے جھنڈ میں گھستے ہی میں دشمن کی تمام پارٹیوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اپنے قیدی کو میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا ۔
بغیر کسی لیت و لعل کے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کے بٹ سے اس کے سر کی مضبوطی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔وہ ایک بار پھر منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔میں مڑ کر بھاگ پڑا ۔ان کے تعاقب سے پہلے میں وہاں سے دور نکل جانا چاہتا تھا ۔وہ گھنی جھاڑیاں میری کافی مددگار ثابت ہو رہی تھیں ۔
دس پندرہ منٹ بعد ہی میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔یقینا انھوں نے اپنے بے ہوش ساتھی کوتلاش کر لیا تھا ۔
غزنی خیل والی لڑائی کے بعداس جھڑپ کے دوران بھی میں نے پوری کوشش کی تھی کہ شلوبر کے کسی آدمی کو جان سے نہ ماروں ۔کیونکہ میں حتی الوسع کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا تھا ۔ اور اس کوشش میں مجھے خاطر خواہ کامیابی ہوئی تھی ۔گزشتا روز سے لے کر اب تک شلوبر کا کوئی آدمی میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوا تھا ۔البتہ زخمی ہونے والوں کی تعداد دو درجن کے قریب پہنچ گئی تھی ۔
نالے کے درمیان میں درخت موجود نہیں تھے ۔جھاڑیوں کے جھنڈ چونکہ ڈھلان پر تھے اس لیے مجھے ڈھلان پر ترچھا بھاگنا پڑ رہا تھا ۔فرلانگ بھر دور مجھے ان کے چیخنے ،چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں نہ جانے وہ کیا حکمت علی تیار کر رہے تھے ۔ان آوازوں پر کان دھرے بغیر میں جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میری نظر نالے کے درمیان میں پڑی ۔ان کے نو دس آدمی نالے کے بیچوں بیچ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ان کا ارادہ مجھ سے آگے بڑھ کر ان جھاڑیوں کے جنگل کو گھیرنے کا تھا ۔اگر ایسا ہو جاتا تو میں نے چوہے دان میں پھنس جانا تھا ۔
ایک دم رک کر میں نے ایسی جگہ پر پوزیشن سنبھالی جہاں سے پورا نالہ میری نظروں کے سامنے تھا ،اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کو سنگل راﺅنڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے سب سے آگے والوں کی ٹانگوں پر شست لے کر مسلسل تین بار ٹریگر دبا دیا ۔
دو آدمی منھ کے بل گر کر تڑپنے لگے ۔باقی ایک دم بکھر کے دائیں بائیں پڑے پتھروں کی آڑ میں ہو گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے اندازے سے جوابی فائرنگ شروع کر دی ۔دو تین مزید گولیاں ضائع کر کے میں کروٹ تبدیل کرتا ہوا ایک جھاڑی کی آڑ میں پہنچا اور جھکے جھکے وہاں سے آگے بڑھنے لگا ۔انھیں ابھی تک پتھروں کی آڑ سے نکلنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی ۔
تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میں کھڑے ہو کر دوڑ پڑا ۔کلومیٹر بھر آگے نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا اور ان کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے مجھے اگلے نالے میں پہنچنا تھا ۔کیونکہ جلد ہی انھیں یقین ہو جانا تھا کہ میں آگے بڑھ گیا ہوں اور اس کے بعد وہ تیز رفتاری سے نالہ موڑ تک پہنچ سکتے تھے ۔
میرے بائیں بازو میں ہلکی ہلکی جلن اور اچھا خاصا درد ہو رہا تھا ۔یقینا گولی نے کافی گہری خراش ڈالی تھی ۔اپنے بازو کی جلد پر مجھے خون کی نمی بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ رک کر بازو پر پٹی وغیرہ لپیٹ سکتا ۔بس اطمینان تھا تو اتنا کہ گولی بازو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی تھی اور رگڑ کھاتے ہوئے نکل گئی تھی ۔
نالے موڑ کے قریب پہنچنے تک میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ۔کلومیٹر بھر کا فاصلہ جو میدانی علاقے میں دس بارہ منٹ میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے اور تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی ،پہاڑی علاقے میں اس سے دگنا وقت لگا کر بھی اتنافاصلہ بہ مشکل طے ہو پایا تھا ۔اور اس کے ساتھ میراسانس یوں پھولا ہوا تھا جیسے میلوں کی مسافت طے کر کے آرہا ہوں ۔
اس جگہ پرتین نالے آکر اس چوڑے نالے میں مل رہے تھے ۔ایک نالہ دائیں طرف سے ، دوسرا بائیں اور ایک نالہ سیدھا آکر اس چوڑے نالے میں مل رہا تھا ۔کیندار نامی گاﺅں کو دایاں نالہ جاتا تھا، لیکن دائیں نالے میں جانے کے لیے مجھے وہ چوڑا نالہ عبور کر نا پڑتا جبکہ دشمن نالے میں موجود تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔سیدھا جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ،کہ ایک تو اس نالے میں جھاڑیاں کم نظر آرہی تھیں دوسرا اس نالے میں جاتے ہوئے میں دشمن کو دور سے نظر آسکتا تھا ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں بائیں طرف کے نالے میں گھس گیا کہ اس وقت میری پہلی ترجیح اپنی جان کو بچانا تھا۔ کیندارگاﺅں کو بعد میں بھی ڈھونڈ اجاسکتا تھا ۔
بائیں نالے میں مڑتے ہی میں نالے کے دائیں کنارے کے ساتھ آگے بڑھنے لگا ۔ایک خاص فرق یہ پڑا تھا کہ اس جگہ سے چڑھائی شروع ہو رہی تھی حالانکہ پہلے میں اترائی میں بھاگتا ہوا آرہا تھا ۔چڑھائی میں دوڑنا ناممکن تھا ،میں تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ بتدریج اونچائی کی طرف چلے گئے تھے ۔میں بھی نالے میں سیدھاچلنے کے بجائے ترچھا ہو کر اوپر کی طرف چلنے لگا۔ فرلانگ بھر چلنے کے بعد ہی مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔لیکن فائرنگ کا رخ متعین نہیں تھا ۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ میرے جانے کی سمت سے آگاہ نہیں تھے اور اندازے ہی سے فائر کر رہے تھے ۔اس نالے کے دونوں کناروں پر گھنی جھاڑیوں کے جھنڈ موجود تھے ،جبکہ سیدھے نالے میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں ۔اور وہی جھاڑیاں مجھے چھپنے میں مدددے رہی تھیں ۔
میں نے قدم روکتے ہوئے ایک جھاڑی کی اوٹ سے نالہ موڑ کی جانب نگاہ دوڑائی ،وہاں پندرہ بیس کے قریب مسلح افراد دکھائی دے رہے تھے ۔یقینا وہ میرے جانے کی سمت کا تعین کر رہے تھے۔ گو وہاں سے مجھے ان کے تیور تو نظر نہیں آ رہے تھے البتہ میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ سخت غصے میں تھے ۔ وہ مجھے ناکارہ کرنے آئے تھے ،اس کے بجائے اپنے تین چار آدمی زخمی کرا بیٹھے تھے ۔اور اتنے آدمیوں کے گھیرے سے ایک بندے کا یوں آرام سے نکل جانا انھیں ہضم نہیں ہو ریا تھا ۔وہ لمبا آدمی جسے میں نے دو مرتبہ کلاشن کوف کا بٹ مار کر بے ہوش کیا تھا وہ مجھے نمایاں نظر آرہا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اگر میں اب ان کے قابو میں آجاتا تو اس لمبے نے تو مجھے بغیر وضاحت سنے ہی گولی مار دینا تھی ۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو پارٹیوں میں تقسیم ہوئے آدھے سیدھے جانے والے نالے میں گھس گئے جبکہ بقایا اس نالے میں آگئے جس میں میں موجود تھا ۔البتہ دائیں مڑنے والے نالے کو انھوں نے نظر انداز کر دیا تھا ۔
اسی وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ نیچے ہی نیچے چلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو مجھے وہیں چھپے ہوئے ان کے آگے نکل جانے کا انتظار کرنا چاہیے ،اس کے بعدمیں واپس جا کر کیندار جانے والے نالے میں گھس کر خود کو محفوظ کر سکتا تھا ۔اس طرح ان کے تعاقب سے بھی میری جان چھوٹ جاتی اور میری منزل بھی کھوٹی نہ ہوتی ۔
لیکن جب میں نے اس پارٹی کومزیدتین حصوں میں منقسم ہوتے دیکھا تو مجھے اپنے منصوبے میں ترمیم کرنا پڑی ۔ان میں سے چا رآدمی نالے کے بائیں کنارے کی طرف بڑھے اور پھیل کر ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔چار آدمی دائیں ڈھلان پر چڑھنے لگے کہ جس جانب میں چھپا ہواتھا ۔جبکہ باقی نالے کی تہہ میں آگے بڑھنے لگے ۔
اس کے ساتھ دوسری پارٹی کے آدمی جو سیدھے نالے میں گھسے تھے انھوں نے اپنے تین آدمی نالہ موڑ ہی پر چھوڑ دیے تھے۔گویا میں کسی طرح اپنی تلاش میں آنے والوں کی نظر میں آنے سے بچ بھی جاتا تب بھی واپس نہیں جا سکتا تھا ۔
اپنے منصوبے پر مٹی ڈالتے ہوئے میں جھاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھنے لگا ۔ان کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کم کرنا پڑی تھی ۔اب آگے بڑھنے کے بجائے میں اوپر چڑھنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا ۔پچاس ساٹھ گز چلنے کے بعد ایک دم چلغوزے کے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،ان درختوں کی وجہ سے میں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا،کیونکہ اب کھڑا ہونے کے باوجود میں دور سے نظر نہیں آ سکتا تھا ۔
اس پہاڑی کی بلندی اتنی زیادہ نہیں تھی جلد ہی میں چوٹی کے قریب پہنچ گیا تھا ۔چوٹی سے پچاس ساٹھ گز نیچے ہی درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔پہلے تو میں نے خطرے سے بچنے کا سوچا اور انھی درختوں کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ،مگر پھر مجھے خیال آیا کہ دشمن کے بلندی پر پہنچنے کی صورت میں میں دونوں جانب سے گھیرے میں آ جاتا اور اس وقت کسی کی بھی نظر مجھ پر پڑ جاتی تو میرا وہاں سے بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ۔یہ خیال آتے ہی میں نے محتاط انداز میں بلندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔چھدری چھدری جھاڑیوں اور اکادکا پتھریلی چٹانوں کی آڑ لیتا ہوا میں حتی الوسع کوشش کر رہا تھا کہ کسی کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے ۔بد قسمتی یہ تھی کہ صبح سویرے ہی مجھے دشمن کا سامنا کر نا پڑ گیا تھا اس وجہ سے دن گزرنے ہی میں نہیں آرہا تھا ۔اگر اندھیرا چھا جاتا تو مجھے مزید سہولت مل جانا تھی ۔پھر میں دور سے کسی کو نظر نہ آتا اور اس اندھیرے میںپہاڑی علاقے میں ایک آدمی کو تلاش کرنا کسی بڑے اتفاق ہی کے مرہون منت ہو سکتا تھا ۔اورعموماََ ایسے اتفاقات ظہور پذیر نہیں ہوا کرتے ۔
لیکن اندھیرا چھانے میں ابھی آدھے دن سے زیادہ وقت پڑا تھا ۔اور اتنی دیر ان موذیوں کی نظروں سے بچ کر حرکت کرنا نہایت دشوار تھا ۔سب سے بڑھ کروہ یہاں کے مقامی تھے سارا علاقہ ان کا دیکھا بھالا تھا ۔وہ مجھ سے زیادہ تیزی سے ان پہاڑوں میں سفر کر سکتے تھے اورانھیں سانس کا مسئلہ بھی میدانی علاقوں کے لوگوں کی نسبت کم پیش آتا تھا۔
میں اپنا سفری تھیلابھی پیچھے ہی پھینک آیا تھا ۔اب میرے پاس جیبوں میں موجود نقدی،پنڈلی سے بندھے خنجر اور کلاشن کوف کے علاوہ ضرورت کاکوئی سامان باقی نہیں بچا تھا ۔کلاشن کا ایمونیشن بھی تھیلے ہی میں رہ گیا تھا۔شلوبرقبیلے سے فائرنگ کا تبادلہ ہونے کی صورت میں میں چند گولیوں سے کب تک ان کی پیش قدمی روک پاتا۔
وہ کافی طویل پہاڑی تھی ۔اور اوپر پہنچ کر میں کافی تیزی سے حرکت کر کے کسی مناسب نالے یا دوسری پہاڑی کا رخ کر سکتا تھا ۔اورجتنا زیادہ میں دور ہوتا جاتا میری تلاش میں آنے والوں کاایک دوسرے سے فاصلہ بڑھتا جاتا ۔اس فائدہ یہ ہوتا کہ اگر اتفاقاََ کوئی پارٹی مجھ سے ٹکرابھی جاتی تو دوسرے اس کی مدد کو بر وقت نہیں پہنچ سکتے تھے ۔اور اتنا موم کا پتلا میں بھی نہیں تھا کہ تین چار آدمیوں کے قابو میں آجاتا ۔
میں محتاط انداز میں حرکت کرتا ہوا دھیرے دھیرے سے چوٹی کے قریب پہنچتا جا رہا تھا ۔ایک گھنی جھاڑی کے قریب پہنچ کر میں لمحہ بھر سانس لینے کو رکا ،وہاں سے چوٹی تک پندرہ بیس قدم کا فاصلہ باقی تھا لیکن رستے میں کوئی نظری آڑ میسر نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر پہنچ سکتا ۔لیکن بلندی پر پہنچنا بھی ضروری تھا اس لیے خطرہ مول لیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔نالے کی طرف نظر دوڑانے پر مجھے کوئی نظر نہ آیا کہ وہاں سے نہ تو نالے کی تہہ نظر آتی تھی اور نہ نالے میں موجود کوئی شخص اس جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔البتہ میرے پیچھے ڈھلان چڑھنے والے افراد مجھے دیکھ سکتے تھے ،اسی طرف نالے کے دوسرے کنارے پر ڈھلان چڑھنے والوں کی نظر بھی اس جانب اٹھ جاتی تو انھیں میں نظر آسکتا تھا ،کیونکہ نالے کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔دل ہی دل میں خدا کو یاد کرتے ہوئے میں نے اوپر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔وہ تھوڑا سا فاصلہ میں نے دوڑ کر طے کرنے کی کوشش کی تھی ۔گو بلندی پر دوڑنا قریباََ ناممکن ہوتا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس پھولنے تو کیا اکھڑنے لگتا ہے ،لیکن چند قدم لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔اور پھر میں اوپر پہنچ کر ایک پتھر کی آڑ لینے ہی والا تھا کہ مخالف پہاڑی کی طرف سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری اور بلا شک و شبہ اس فائرنگ کا نشانہ میری ذات تھی ۔بالکل آخری لمحات میں میں دیکھ لیا گیا تھا بہ قول شاعر ....
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
گولی چلانے والا کا نشانہ خطا جانے کے باوجود میرا مقصد پورا نہیں پایا تھا ۔نظر آکر میں نے ایک بار پھر انھیں ہدف مہیا کر کے اپنے گرد گھیرا ڈالنے کا موقع دے دیا تھا ۔بہ ہر حال میرے پاس سوگ منانے یا سر پیٹنے کا وقت نہیں تھا ۔دوسری جانب اترنے کے بجائے میں نے بلندی پر ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔وہ پہاڑی پانچ چھے سو گز طویل تھی ۔اس کا رخ قریباََجنوب مغرب بن رہا تھا ۔فائرنگ کی آواز تواتر سے آنا شروع ہو گئی تھی ۔گو اب میں ان کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن ان کی فائرنگ کے باعث دائیں بائیں پھرنے والی تمام پارٹیاں اس جانب متوجہ ہو گئی تھیں ۔اس کے ساتھ لازمی بات ہے انھوں نے یہ بات مخابرے پر بھی دوسری پارٹیوں کو بتا دی ہو گی ۔تھکن محسوس کرنے کے باوجود میری ٹانگوں میں بجلی بھرگئی تھی اور میں جلد از جلد وہاں سے دور ہو کر کسی ایسی جگہ پہنچنا چاہتا تھا جہاں میری تلاش کے لیے انھیں دوبارہ منتشر ہونا پڑ جاتا ۔ بائیں جانب موجود نالا اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ جنوب مغرب کی جانب مڑ رہا تھا ،یقینا نالے کی تہہ میں موجود آدمیوں نے سامنے کی طرف آکر مجھے پکڑنے کی کوشش کرنا تھی ۔البتہ اس پہاڑی کے دائیں جانب جو دو تین نالے لگ رہے تھے میں ان میں سے کسی نالے میں اتر سکتا تھا اور میںنے ایسا ہی کیا ۔ایک نالا چھوڑ کر دوسرے کے نظر آتے ہی میں ڈھلان اترنے لگا۔ اب میرے قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی تھی ۔میں بہ مشکل ایک تہائی ڈھلان اتر پایا تھا کہ مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔وہ چاروں آدمی جو میرے پیچھے پیچھے اس ڈھلان پر چڑھ رہے تھے یہ معلوم ہوتے ہی کہ میں بلندی پر ہوں انھیں نے اوپر پہنچتے ہوئے دیر نہیں لگائی تھی ۔بہ ہر حال ابھی تک وہ مجھ سے دور تھے اور اتنے فاصلے سے وہ مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔اپنے قدموں میں مزید تیزی لاتے ہوئے میں حتی الوسع کسی آڑ کو اپنے عقب میں رکھ کر آگے بڑھتا گیا ۔نالے میں اترنے کے بعد ہی میں اگلی چڑھائی چڑھ سکتا تھا ۔
جونھی میں نالے میں اترا ایک مرتبہ پھر عقب میں فائر کی آواز سنائی دینے لگی ۔وہ مجھے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو نے دے رہے تھے ۔سامنے کی پہاڑی پر زیادہ درخت نہیں تھے لیکن اس پر چڑھنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا ۔نیچے اترتے وقت ایک اور پریشان کن بات میرے مشاہدے میں آئی تھی ،کہ جس نالے میں میں اترا تھا وہ اس سیدھے نالے سے ٹکرا رہا تھا جہاں شلوبر قبیلے والوں کی دوسری پارٹی میری تلاش میں گئی تھی ۔اس لیے بجائے نالے میں آگے بڑھنے کے میرا بلندی پر پہنچنا ضروری تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میں یہ سب کچھ طے کر چکا تھا ،اس لیے نالے میں رکنے کے بہ بجائے میں نے بلندی کا سفر شروع کر دیا تھا ۔ایک بار پھر میرا سانس پھولنے لگا تھا لیکن وہ وقت سانس بحال کرنے کا نہیں تھا ۔غزنی خیل قبیلے کے ساتھ ہمدردی کرنا مجھے کچھ زیادہ ہی مہنگا پڑ رہا تھا ۔شلوبر قبیلے والے غزنی خیلوں پر آیا ہوا غصہ مجھ پر نکال رہے تھے ۔یا شاید ان کی نگاہ میں میرا قصور ناقابل معافی تھا ۔حالانکہ اپنے تیئں میں نے ان کے کسی آدمی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا ،ورنہ بازو یا ٹانگ پر لگنے والی گولی کو سر میں مارنا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔
میری کوشش یہ تھی کہ کسی چٹان ،جھاڑی یا درخت وغیرہ کی آڑ لے کر چلوں ۔ان کے نالے میں اترنے تک میں کلاشن کوف کی کارگر رینج سے دور نکل جانا چاہتا تھا ورنہ نالے میں کھڑے ہو کر وہ مجھے آسانی سے نشانہ بنا لیتے ۔
(ویسے ایک بات میں قارئین کی معلومات کے لیے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اونچائی اور نشیب میں فائر کرتے وقت کسی بھی ہتھیار کی کارگر رینج بڑھ جایا کرتی ہے ،لیکن یہ سنائپروں کا طریقہ کار ہے اور یہ حساب ایک کلیے کے تحت کیا جاتا ہے ، عام آدمی اس بات سے واقف نہیں ہوتا ہے )
پوری کوشش کے باوجود میں مطلوبہ بلندی تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ وہ بھاگتے ہوئے نیچے آرہے تھے ۔میں بہ مشکل دو سو میٹراوپر پہنچا ہوں گا کہ انھوں نے نالے میں پہنچ کر فائرنگ شروع کر دی ۔
فائر کی آواز کانوں میں پڑتے ہی میں فوراََ نیچے لیٹا اور ایک قریب پتھر کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کے لیے تیار ہو گیا ۔وہ چاروں بغیر کسی آڑ کا سہارا لیے نالے درمیان میں کھڑے تھے ۔میری کلاشن کوف کا سیفٹی لیورسنگل راﺅندپرسیٹ تھا ۔مطلوبہ رینج لگا کر میں نے شست لے کر درمیانی آدمی کی ٹانگوں کو نشانہ بنانے لگا۔یوں بھی ان کے رکے ہونے کی وجہ سے وہ آسان ہدف کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔لبلبی دباتے ہی مذکورہ آدمی نیچے گر گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی باقی آڑ کی تلاش میں پہاڑی کی جڑ کی طرف بھاگے ۔ان کے چھپنے کا تماشا دیکھنے کے بجائے میں بلندی پر چڑھنے لگا ۔پہاڑی کی جڑ میں چھپنے کی وجہ سے میں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اور جلد ہی انھیں اس بات کا احساس ہوجانا تھا ۔ اور میرے گمان کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی ان کی طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی ۔وہ نالے کے دوسرے کنارے پر جا کر کسی پتھر وغیرہ کی آڑ لے کر فائرنگ کر رہے تھے ۔اتنی دیر میں میں مزید دور ہو گیا تھا ۔دائیں بائیں پڑے پتھروں سے ٹکرانے والی گولیوں نے مجھے فوراََ ہی یہ باور کر ادیا تھا کہ میں اب تک ان کی رینج ہی میں تھا ۔
ایک مرتبہ پھر مناسب آڑ کے پیچھے لیٹ کر میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔زخمی آدمی اب تک اسی جگہ پر موجود تھا ۔زمین پر بیٹھ کر وہ اپنی ٹانگ پر کپڑا لپیٹ رہا تھا کیونکہ خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے یہ کام نہایت ضروری تھا ۔ میں اگر چاہتا تو آسانی سے اس کا عدم آباد کا ٹکٹ کٹوا سکتا تھا ،لیکن اب تک میں انھیں جان سے مارنے سے گریز کر رہا تھا ۔
میں نے فائر کرنے والوں کی پوزیشنوں کا جائزہ لیا دو آدمی آڑ کے اوپر سے فائر کر رہے تھے اور ان کے سر میں گولی مارنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔تیسرا آدمی پتھر کی آڑ کی دائیں جانب سے فائر پر شروع تھا۔ میں نے اسی کے کندھے پر نشانہ سادھ کر فائر کر دیا ۔اس کی چیخ سنتے ہی باقی دونوں مکمل طور پر پتھر کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔
میں وقت ضائع کیے بغیر دوبارہ اوپر چڑھنے لگا ۔اس مرتبہ مجھے نشانہ بنانے کے بجائے وہ اپنے ساتھیوں کو سنبھالنے لگے ۔اس دوران میں ان کی رینج سے نکل گیا تھا ۔بلندی پر پہنچتے ہی میں نے دو تین منٹ رک کر سانس سیدھا کیا اور پھر ایک طرف کوبڑھ گیا ۔
دشمن نے اوپر چڑھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔چار میں سے دو زخمی ہو گئے تھے اور زخمی ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ کر انھوں نے میرا تعاقب کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ انھوں نے ریڈیو سیٹ کے ذریعے اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہاں بلا لیا ہو۔میری بلا سے کوئی وجہ بھی تھی مجھے جلد از جلد وہاں سے دور نکلنا تھا ۔بیٹھے بٹھائے مفت کی مصیبت گلے پڑ گئی تھی ۔نہ روشن خان مجھے اس دن سیلاب خان کے پاس لے جاتا اور نہ میرا سفر کھوٹا ہوتا ۔اس ہنگامے میں پھنسنے پر اگر میرا کوئی فائدہ ہوا تھا توبس اتنا کہ نوشاد گل کے ذریعے مجھے تھوڑی بہت معلومات مل گئی تھی ۔وہ بھی ادھوری سی کہ وہ ٹریسی اور البرٹ بروک کے ساتھ ایک بار غزنی خیل گیا تھا ۔اب نامعلوم وہ مستقل وہیں رہتے تھے یا ایک بار ہی کسی وجہ سے وہاں گئے تھے ۔خیر کچھ بھی تھا اب مجھے ایک بار تو غزنی تک جانا تھا ۔اگر البرٹ مجھے وہاں نہ بھی ملتا تب بھی شاید اس کے بارے کوئی ہلکا سا سراغ مل جاتا ۔البرٹ سے بھی بڑھ کر مجھے میجر جینیفر ہنڈسلے کو تلاش کرنا تھا ۔ قوی امید تھی کہ اس معاملے میں وہ میری مددضرور کرتی ۔گو اس بارے وہ گزشتا ملاقات میں سرسری سی معذرت کر چکی تھی ،مگر اس وقت میں نے اس پر اتنا زور بھی نہیں دیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ واپس لوٹ چکی ہوتی ۔بہ ہر حال یہ بعد کی باتیں تھیں اس وقت تو مجھے جان بچانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔ شلوبر قبیلے کے لوگ پیر تسمہ پا کی طرح میرے پیچھے پڑے تھے ۔میرے تعاقب میں آنے والے گو اس پہاڑی کے نیچے ہی رک گئے تھے مگر ابھی تک میں خطرے کی حدود سے نہیں نکلا تھا ۔
پہاڑی آگے جا کر ایک دوسرے بلند پہاڑ سے مل رہی تھی ،درمیان میں کوئی نالہ وغیرہ بھی نہیں تھا ۔دوسری پہاڑی کی انتہائی بلندی پر مجھے برف کی سفیدی نظر آ رہی تھی ۔میرے پاﺅں میں اس وقت سپورٹس شوز تھے،گلگارے کے والد شمریز خان کے بوٹ میرے سفری تھیلے ہی میں رہ گئے تھے ۔ایک بار تو میں نے اوپر نہ چڑھنے کا سوچا ،کیونکہ برف کی وجہ سے اپنے ساتھ پیش آنے والا حادثہ مجھے بھولا نہیں تھا ،لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ۔”میں نے کون سا وہاں رہنا ہے ،اس بلندی کو عبور کر کے آگے گزر جاﺅں گا ۔“
یہ سوچتے ہی میرے قدم ایک بار پھر بلندی کی جانب بڑھ گئے ۔کافی مشکل چڑھائی تھی ۔ مجھے صبح سے مسلسل کبھی دوڑنا پڑ رہا تھا اور کبھی چڑھائیاں چڑھنا پڑ رہا تھا ۔ایسی صورت میں تھکن ہونا اچنبھے کی بات نہیں تھی ۔البتہ میں ایسے حالات میں جینا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ابھی تک مجھ میں کافی جان موجود تھی اور میں اتنا نہیں تھکا تھا کہ گر پڑتا ۔
وہاں نصف بلندی تک درخت موجود تھے ۔ جوں جوں میں بلند ہوتا گیا تیز ہوا کے ساتھ سردی بھی بڑھتی گئی ۔گو چڑھائی چڑھتے ہوئے زیادہ مشقت کی وجہ سے پسینہ آجاتا ہے اور سردی کم ہی لگتی ہے ،مگر انسان کو سردی کے بڑھ جانے کا احساس ضرور ہو جاتا ہے ۔
گھڑی دیکھنے پر سوئیاں ایک کا ہندسہ عبور کرتی نظر آئیں۔مجھے دوڑتے، بھاگتے ،نشیب و فراز عبور کرتے قریباََ ساڑھے پانچ گھنٹے ہورہے تھے ۔کیونکہ غزنی خیل سے میں صبح آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوا تھا ۔
مزید آدھے گھنٹے بعد میں اوپر پہنچ گیا تھا ۔چند لمحے میں سستانے بیٹھا لیکن ٹھنڈی ہوا میرا مزاج پوچھنے لگی تھی ۔آرام کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں کھڑا ہو گیا ۔دوسری جانب نیچے اترنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑ کر نگاہ دوڑائی ،حد نگاہ تک پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے ۔میرے پاس دوربین موجود نہیں تھی ورنہ میں اپنے دوستوں کی حرکت دیکھنے کی کوشش ضرور کرتا ۔
نیچے اترتے وقت میری رفتار کافی تیز تھی ۔بیس پچیس منٹ میں میں دوسری جانب موجود نالے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے میں بہتا پانی دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ صبح سے میں پانی نہیں پی سکا تھا ۔ہاتھوں کا اوک بنا کر میں چھوٹے بڑے پتھروں کے درمیان جاری شفاف پانی سے لطف اندوز ہونے لگا ۔خوب سیر ہو کر ٹھنڈا پانی پینے کے بعد میں نالے ہی نالے میں آگے بڑھ گیا ۔بلندی پر چلنے والی تیز ہوا وہاں بالکل ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی ۔اس نالے کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا ۔نالے کے بائیں کنارے پر جھاڑیوں کا گھنا جھنڈ تھا جو بلندی کی طرف بتدریج چھدرا چھدرا ہوتا گیا تھا ۔البتہ دائیں جانب اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے میں مناسب رفتار سے چل رہا تھا ۔لیکن سکون شایدمیری قسمت میں نہیں تھا ۔میں نالے موڑ سے سو ڈیڑھ سو گز ہی دور تھا کہ مجھے چھے سات آدمی موڑ مڑ کر اس جانب آتے دکھائی دیے ۔ٹھٹک کر رکتے ہوئے میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی ،مگر میری تیزی کسی کام نہیں آئی تھی ۔انھوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور بغیر سیکنڈ ضائع کیے انھوں نے کلاشن کوفوں کا رخ میری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
ایک بار پھر میری دوڑ شروع ہو گئی تھی ۔چڑھائیاں سر کرنا اس دن میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میں نے ہاتھوں میں پکڑ لی تھی ۔اگر وہ اسی طرح دوڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے تو مجھے جلد ہی آلیتے ۔یہ سوچتے ہی میں نے رکتے ہوئے ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر تین چار گولیاں فائر کر دیں ۔اپنے زخمی ساتھی انھیں بھولے نہیں تھے ۔وہ فوراََ پتھروں کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کرنے لگے ۔میرے پاس ایمونیشن نہ ہونے کے برابر تھا ،میں ان کے ہر فائر کا جواب نہیں دے سکتا تھا ۔اس لیے مزید گولیوں کی بچت کرتے ہوئے میں نے فائر بند کیا اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔
جیسے ہی ان کی طرف سے فائرنگ رکی میں جھاڑیوں کی آڑ سے نکل کر ایک پتھر پیچھے لیٹا اور نالے کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے تھے ۔انھیں چند قدم لینے دینے کے بعد میں نے ایک گولی فائر کی لیکن جس جگہ سے میں فائر کر رہا تھا وہاں سے لیٹ کر انھیں نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ البتہ گولی چلنے کی آواز نے انھیں بدحواس ہو کر لیٹنے پر ضرور مجبور کر دیا تھا ۔امید تھی کہ وہ اتنی جلدی اٹھنے کی ہمت نہ کرتے ۔البتہ لیٹے لیٹے انھوں نے فائر ضرور کھول دیا تھا ۔
میں نے رینگتے ہوئے قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اور ایک بار پھر اوپر چڑھنے لگا ۔یہ ایک طویل اور لمبی ڈھلان تھی جو بتدریج اوپر کو اٹھتی گئی تھی ۔نقشہ بینی کی اصطلاحات میں ایسی ڈھلان کو پہاڑ کا بازو کہتے ہیں یعنی پہاڑ کی وہ شاخ جس کی بلندی بتدریج کم ہو کر زمین سے مل جائے ۔
بیس پچیس قدم اوپر جاتے ہی مڑ کر دیکھنے پر وہ مجھے حرکت کرتے نظر آئے ،مگر اب وہ جھاڑیوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور میرے گولی فائر کرنے پر وہ زمین پر لیٹ کر آڑ لینے کے بجائے جھاڑیوں کی آڑ لینے کی کوشش کرتے ۔میں نے گولی ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور قدموں میں تیزی پیدا کر دی ۔یقینا جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہی انھوں نے بھی اپنی رفتار تیز کردینا تھی ۔مقامی ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے زیادہ تیز رفتاری سے پہاڑی چڑھ سکتے تھے ۔مگر میری مثال اس وقت ایسے ہرن کی سی ہو گئی تھی جو جان بچانے کے خوف میں وہ چوڑی کھائی بھی پھلانگ جاتا ہے جسے اس کا تعاقب کرنے والا طاقتور شیر عبور نہیں کر سکتا ۔
اکادکا فائر کی میرے کانوں میں تسلسل سے آرہی تھی ۔یقینا وہ گھنی جھاڑیوں کو فائر کے ذریعے چھان رہے تھے ۔کسی جھاڑی میں چھپنے کی تجویز بھی میرے زیر غور تھی لیکن ان کے گھنی جھاڑیوں پر فائر کرنے نے مجھے اس تجویز پر عمل کرنے سے باز رکھا تھا ۔
مختلف مقامات سے اٹھنے والی فائر وں کی آواز سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہ آئی کہ وہ پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے ۔جھاڑیوں کا جھنڈ زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں نبھا سکتا تھا ۔میں اسی صورت میں بچ سکتا تھا کہ ان کے جھاڑیوں کے جنگل سے نکلنے سے پہلے بلندی پر پہنچ جاتا ۔
جلدہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے آگے اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔میں نے رفتار مزید تیز کر دی،مگر میں زیادہ دیر اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا دل جیسے حلق کے رستے باہر آنے کو تیار ہو گیا تھا ۔مجبورا مجھے بھاگنا ترک کرنا پڑا ۔لمحہ بھر رک کر میں نے اپنے سانس بحال کیے اور پھر تیز قدموں سے اوپر چڑھنے لگا ۔
میں بہ مشکل سو ایک سو بیس گز ہی اوپر پہنچا ہوں گا کہ ایک مرتبہ پھر تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑا پتھر پڑا تھا ۔اس کی آڑ لینے کے لیے میں نے رفتار بڑھائی مگر اس سے پہلے ہی مجھے یوں لگا جیسے میری دائیں ران میں کوئی گرم انگارہ گھس گیا ہو۔میں منھ کے بل نیچے گرا ۔اپنے ہاتھ سامنے ٹیکتے ہوئے میں نے خود کو زیادہ زخمی ہونے سے بچالیاتھا ۔وہاں سے رینگتے ہوئے پتھر تک جانا ناممکن تھا ۔کوشش کر کے میں سیدھا ہوا اورجھک کر پتھر کی جانب بڑھا ۔میری دائیں ٹانگ سے بڑی تیزی سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا ۔پتھر کے قریب پہنچنے تک مجھے ایک اور جھٹکا لگا ،اس مرتبہ گولی میری دائیں پنڈلی کا گوشت پھاڑتی ہوئی نکل گئی تھی ۔بائیں پاﺅں پر زور دیتے ہوئے میں نے ایک جھٹکا لیا اور پتھر کے پیچھے پہنچ گیا ۔
آڑ میں جاتے ہی میں نے بغیر وقت ضائع کیے گلے سے لپٹا مفلر کھول کر اپنی ران پر لپیٹنے لگا۔ گولی ران کے اندر ہی رہ گئی تھی ۔مگر اس وقت گولی نکالنے سے زیادہ خون کے بہاﺅ کو روکنا ضروری تھا۔ران پر کس کر مفلر لپیٹنے کے بعد میں نے خنجر نکال کر اپنی قمیص کا دامن پھاڑا اور اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ کر پٹی کی شکل دیتے ہوئے پنڈلی پر لپیٹنے لگا ۔
پہلے پہل گولی کا زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم میں درد اور جلن بڑھتی جاتی ہے ۔خاص کر جس زخم میں گولی اندر ہی رہ جائے وہ زیادہ تکلیف دیتا ہے ۔
دونوں زخموں پر پٹی باندھنے کے بعد میں نیچے کی طرف متوجہ ہوا ۔یقینا دشمن کو معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے گولی لگ چکی ہے ۔تین آدمی بڑی تیز رفتاری سے اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔سب سے آگے والے کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں سانس روکا اور ٹریگر دبا دیا ....بس بہت رعایت ہو گئی تھی ۔میری جان چھوڑنے پر وہ یوں بھی آمادہ نہیں ہورہے تھے ،یہاں تک کہ اب تو سچ مچ مجھے جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔وہ اچھل کر پیچھے کو الٹا اور نیچے لڑھکنے لگا ۔اس ساتھ آنے والے فوراََ نیچے لیٹ گئے اس کے ساتھ انھوں نے موسلا دھار فائر کھول دیا ۔میں اس پتھر کے پیچھے محفوظ تھا ۔البتہ ان کی گولیوں سے بچنے کے لیے مجھے اپنا سر بھی آڑ کے پیچھے کرنا پڑ گیا تھا ۔دونوں نے پوری پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی ۔جوں ہی ان کا فائر رکا میں نے اس پتھر کے دائیں جانب سے کلاشن کوف کا دہانہ نکال کر شست سادھ لی ۔ایک آدمی کو تو پتھر کی آڑ مل گئی تھی دوسرا یوں ہی لیٹ گیا تھا ۔اس کے ساتھ اس نے یہ بے وقوفی بھی کی تھی کہ کہنیاں ٹیک کر درست فائر کرنے کے لیے اپنا سر زمین سے بلند کیا ہوا تھا ۔ان کی دو میگزینوں کے جواب میں میں نے ایک اور گولی فائر کر دی ۔ہدف نے اٹھا ہوا سر اپنی کلاشن کوف پر ٹیک دیا۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اسے زیادہ تڑپنے کا موقع نہیں دیا تھا ۔
اتنی دیر میں پتھر کے پیچھے آڑ لیے ہوئے آدمی نے میگزین تبدیل کرلی تھی ۔اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی بدحواسی میں اس نے ایک بار پھر ٹریگر یوں دبایا کہ انگلی اٹھانا اسے بھول گیا تھا ۔میگزین زیادہ دیر تک گولیاں فراہم نہیں کر سکی تھی ۔برسٹ کی صورت فائر ہونے والی تیس گولیاں ختم ہونے میں وقت ہی کتنا صرف ہوتا ہے ۔زیادہ تر گولیاں اس پتھر سے ٹکرائی تھیں جو مجھے آڑ مہیا کیے ہوئے تھا ۔کچھ دائیں بائیں زمین میں لگ کر گرد اڑانے کا سبب بنی تھیں ۔
میں اس کے فائر کے رکنے کا منتظر رہا ۔جونھی اس کا فائر رکا میں ایک بار پھر پتھر کی آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف جھانکنے لگا ۔(قارئین یہ بات یاد رکھیں کہ دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے فائرر کے لیے کسی بھی آڑ کی دائیں طرف کا استعمال ہی مناسب رہتا ہے ،کیونکہ آڑ کی بائیں جانب کا استعمال کرنے کی صورت میں اس کا زیادہ جسم دشمن کو نظر آسکتا ہے )
وہ پتھر کے عقب میں بے حس لیٹا تھا ۔میرے خیال میں وہ میگزین تبدیل کر رہا تھا ۔مگر منٹ بھر بعد بھی جب اس کی جانب سے فائر نہ ہوا تو مجھے شک ہونے لگا کہ اس کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔
اسی وقت مجھے درختوں کے جھنڈ سے ان کے باقی چارساتھی آگے بڑھتے نظر آئے ۔یقینا وہ اپنے ساتھیوں کے انجام سے بے خبر تھے تبھی تو یوں بے فکری سے آگے بڑھ رہے تھے ۔وہ بھی چونکہ میری طرف متوجہ تھا اس لیے اسے بھی اپنے ساتھی نظر نہیں آئے تھے ورنہ وہ انھیں ضرور متنبہ کرتا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کی بیرل کا رخ آنے والوں کی طرف موڑا ،میرا ارادہ کم از کم دو آدمیوں کو نشانہ بنانے کا تھا ۔ درمیان والے آدمی کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی، اپنے پہلے ساتھی کی طرح وہ اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔باقی تینوں نے فوراََ آڑ لینے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں میں ایک اور بار ٹریگر دبا چکا تھا ۔ان کا چوتھا آدمی بھی مجھے مارنے کی حسرت لیے پہلے والے تین کے پاس پہنچ چکا تھا ۔کلاشن کوف کے آٹومیٹک ہونے نے میرے کام کو آسان بنا دیا تھا ۔
بچنے والے دونوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ان کے اضطراری فائر سے گھبرا کر ان کے آگے لیٹے ہوا ساتھی گھبرا کربا آواز بلند انھیں فائر سے منع کرنے لگا ۔کیونکہ وہ ان کے اور میرے درمیان میں لیٹا ہوا تھا ۔انھیں منع کرتے کرتے وہ اس پتھر کی اونچائی کا حساب نہیں رکھ پایا تھا جس کے پیچھے وہ چھپا ہوا تھا ۔اس کی کھوپڑی کا عقبی حصہ پتھر کے اوپر سے جھلکا اور مجھے بس اتنا ہی ہدف درکار تھا ۔سو گز سے چلائی ہوئی کلاشن کوف کی طاقتور گولی نے کھوپڑی کے عقب سے گھس کر اسے دنیا کی ہر فکر اور اندیشے سے دور کر دیا تھا ۔
مرنے سے پہلے اس نے بچنے والوں دونوں ساتھیو ں کو مرنے والوں کے انجام سے با خبر کر دیا تھا ۔بلکہ ان دونوں نے بھی دیکھ لیا تھا ٹانگوں اور بازوﺅں میں لگنے والی گولیاں اب سر اور ماتھے میں پیوست ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔
اچانک ان میں سے ایک آدمی نے اٹھ کر نیچے کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ۔یقینا وہ خوفزدہ ہوگیا تھا ۔لیکن اب چاہے وہ خوفزدہ ہو کر ، چاہے کسی مقصد سے بھاگتے میں انھیں رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔وہ بہ مشکل تین قدم ہی لے پایا تھا ۔اس سے آگے گولی نے اسے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔اس کے تڑپتے ہوئے جسم کو ایک بڑے پتھر نے نیچے لڑھکنے سے روکا تھا ۔
اب ہم دو بچ گئے تھے ۔ممکن تھا کہ اسے مزید ساتھیوں کی کمک مل جاتی ،مگر فی الحال وہ بھی اکیلا تھا ۔اپنے آخری ساتھی کے ہلاک ہوتے ہی اس نے بھی اپنی کلاشن کو ف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برسٹ میری جانب فائر کرنے لگا ۔مجبورا مجھے پتھر کے پیچھے سر چھپانا پڑا ۔
اچانک اس کے فائر سے مجھے محسوس ہوا جیسے وہ کھڑا ہو گیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی اس کا فائر آہستہ آہستہ دور ہٹنے لگا ۔یقینا وہ بھاگنے کی کوشش میں تھا ۔اور اس مقصد کے لیے وہ مجھے سر اٹھانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ ہر برسٹ تین چار گولیوں کا فائر کر رہا تھا ۔میں اس کے فائر ہونے والے برسٹ گننے لگا۔ساتویں اٹھویں برسٹ پر میں نے رسک لیتے ہوئے پتھر سے جھانکا ۔وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹیکے نئی میگزین لگا رہا تھا ۔اگر مجھے پتھر سے جھانکنے میں دو سیکنڈ کی بھی دیر ہوجاتی تووہ دوبارہ فائر شروع کر چکا ہوتا۔جب میں نے جھانکا اس وقت وہ کلاشن کوف کو کاک کر رہا تھا ۔جبکہ میری کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اور یقینا وہ مجھ سے تیز رفتا ر فائر نہیں تھا ۔نئی میگزین سے گولی چلانے کی حسرت دل میں لیے وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا تھا ۔
آخری دشمن کے مرتے ہی میں نے اپنا سر پتھر پر ٹیک دیا تھا ۔ایک دم مجھے اپنے زخموں میں ہونے والی تکلیف کا احساس ہونے لگا ۔مجھے نہایت ناگفتہ بہ صورت حال کا سامنا تھا ۔میری دائیں ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں ۔پٹی باندھنے کے باوجود خون رس رہا تھا ۔اور پوری ٹانگ جیسے پھوڑا بنی ہوئی تھی۔ایسی حالت میں پہاڑی پر چڑھنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔البتہ بہت زیادہ ہمت کر کے نیچے اترنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔
کلاشن کوف کی میگزین اتار کر دیکھنے پر مجھے فقط دو گولیاں نظر آئیں ۔میگزین لگا کر میں نے سیفٹی لگائی اور کلاشن کوف کا بٹ ڈنڈے کی طرح نیچے ٹیک کر اس کے سہارے کھڑا ہوگیا ۔میری ٹانگ میں اتنا شدید درد اٹھا تھا کہ کراہیں روکنے کے لیے مجھے سختی سے ہونٹ بھینچنے پڑ گئے تھے ۔
لمحہ بھر درد کو سہارنے کے بعد میں نے اترائی میں قدم بڑھا دیے ۔چند قدم لینے کے بعد ہی میں بے دم ہو کر بیٹھ گیا ۔درد بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔دائیں ٹانگ جیسے مفلوج ہوتی جا رہی تھی ۔میں دائیں ٹانگ کونیچے لگانے کے بجائے بائیں ٹانگ پر کودتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اچانک مجھے عقب میں آہٹ سنائی دی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،چار مسلح افراد ڈھلان سے نیچے آتے دکھائی دیے ۔
میری کلاشن کوف میں فقط دو گولیاں باقی تھیں ۔میرے اندازے کے مطابق جو آدمی سب سے پہلے میری گولی کا نشانہ بنا تھا ،اس کی میگزین میں گولیاں موجود ہونی چاہیے تھیں ۔وہ وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر پڑا تھا ۔میں اس قابل نہیں تھا کہ تیزی سے حرکت کرتا ۔لیکن اب زندگی ،موت کا مسئلہ بن گیا تھا ۔میں نے تیزی سے حرکت کرنے کی کوشش کی اور دو تین قدم لیتے ہی میرا بایاں پاﺅں ایک چھوٹے سے پتھر کے اوپر آکر پھسلا ، میں منھ کے بل گر ااوراس کے ساتھ ہی لڑھکتے ہوئے نیچے جانے لگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میری دائیں ٹانگ پر کوئی ہتھوڑے مار رہاہو۔ کوشش کے باوجود میں خود کوروک نہیں پارہا تھا ۔شاید میری مشکل ایک پتھر کی چٹان نے حل کی تھی ۔شاید میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت تک میں اپنے حواس کھو چکا تھا ۔اور ایسے وقت میں جب دشمن سر پر پہنچ چکا ہو بے ہوش جانے کا مطلب زندگی سے ہاتھ دھو لینا تھا ۔میری ساری کوششیں اور تگ و دو رایگاں گئی تھیں ۔بہ قول شاعر
زندگی تم نے کب وفا کی ہے
اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے
جاری ہے

No comments: