Ads Top

Hijaz Ki Andhi By Annayt Ullah Altamash Episode No 26`حجاز کی آندھی عنایت اللہ التمش قسط نمبر26

Hijaz Ki Andhi
By
Annayat Ullah Altmash

حجاز کی آندھی
از
 عنایت اللہ التمش

Hijaz Ki Andhi  By  Annayat Ullah Altmash  حجاز کی آندھی  از  عنایت اللہ التمش

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)

قسط نمبر 26
اس وقت پوران بھی وہاں موجود تھی اور یزدگرد کی ماں بھی وہیں تھی۔
’’یہ بچہ تم نے کہاں سے لیا تھا؟‘‘ یزدگرد کی ماں نے پوچھا اور بڑی بیتابی سے کہنے لگی۔’’ یہ ظلم نہ کرو۔ کسی ماں کی آہیں نہ لو۔ میں بھی ماں ہوں ۔تم بادشاہ ہو اور جوان بھی ہو، لیکن تمہارے متعلق میری جو بیتابی ہے اس سے تم بھی تنگ آئے ہوئے ہو ۔لیکن ماں کی مجبوری کو اور مامتا کی تڑپ کو تم نہیں سمجھتے۔‘‘
’’یہودیوں کے چکر سے نکلو یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ یہودی جادوگری کے ماہر ہیں۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جادو کی تیاری میں اتنا لمبا عرصہ نہیں لگا کرتا۔ یہ بچہ جس ماں کا ہے اسے واپس کردو ۔مامتا کی آہوں سے ڈرو، اور اس حقیقت کو دیکھو جو کالی گھٹا کی طرح دامن میں بجلیاں لیے ہوئے ہمارے سروں پر گہری ہی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے آپ کو دھوکے اور فریب میں نہ رکھو۔ جہاں تلوار اور تیر چلا کرتے ہیں وہاں جادو نہیں چل سکتے ۔کیا تم عربوں کی تیغ زنی سے واقف نہیں؟‘‘
یزد گرد نے اسی وقت محافظ دستے کے کمانڈر کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ یہ بچہ جس ماں سے چھینا گیا تھا اسی کی گود میں ڈال دیا جائے۔ کمانڈر نے لڑکی سے بچہ لے لیا۔ بچہ بھوک سے بلبلا رہا تھا۔ یزدگرد نے لڑکی کو اس کے باپ کے حوالے کر کے کہا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔
اُس ماں کے گھر کا دروازہ کھٹکا جو اپنے پہلے نوزائیدہ بچے کی جدائی میں چیخ چلّا رہی تھی اور اس کا خاوند اسے بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ دروازہ کھولا تو وہی کمانڈر جو ماں کے سینے سے بچے کو نوچ کر لے گیا تھا۔ اندر آیا۔ ماں نے اس کے ہاتھوں میں اپنا بچہ دیکھا تو دوڑکر بچے پر جھپٹی اور بچے اس کے ہاتھوں سے لے کر سینے سے لگالیا۔
’’شہنشاہ نے بچہ واپس دے دیاہے۔‘‘ کمانڈر نے کہا اور باہر نکل گیا۔
’’ماؤں کی چھاتیوں سے بچے نوچنے والے بادشاہ کی بادشاہی زیادہ دن نہیں رہے گی۔‘‘ یہ ایک آہ تھی یا ایک فریاد تھی جو اس عورت کے منہ سے نکلی تھی۔
’’یہاں جتنے یہودی ہیں انہیں قید خانے میں پھینک دیا جائے۔‘‘ یزد گرد نے حکم دیا۔
٭
مدائن میں چند ایک ہی یہودی تھے جو تین چار مکانوں میں رہتے تھے ۔ایک کشادہ مکان کے ایک حصے میں انہوں نے عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ گذشتہ رات وہ سب اکٹھے بیٹھے اُس بوڑھے یہودی کے متعلق باتیں کر رہے تھے جو لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کو دریاکے کنارے لے گیا تھا۔ اس بوڑھے کا نام شمعون جبریل اور ا س کے ساتھی کا نام ابوازمیر تھا ۔اس محفل میں سب سے زیادہ عمر والا ایک یہودی راہب تھا۔
’’……لیکن شمعون مجھے کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔‘‘ یہودی راہب کہہ رہا تھا۔’’ آخر میں بھی کچھ جانتا ہوں، میں نے خبر دار کر دیا تھا کہ تم جو عمل کررہے ہو اس میں خطرہ یہ ہے کہ اُلٹ بھی جایا کرتا ہے۔ تم ایک کنواری لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کی جان لے رہے ہو۔ اگر تمہاری اپنی جان چلی گئی تو میں حیران نہیں ہوں گا……وہ میری بات سن کر اس طرح ہنس پڑا تھا جیسے میں کم عقل اورنادان ہوں یا بچہ ہوں۔‘‘
’’ربی شمعون کے ساتھ میری بھی بات ہوئی تھی۔‘‘ ایک اور یہودی بولا۔’’ اس نے کہا تھا کہ ہمارے پیغمبر موسیٰؑ نے دریائے نیل کا پانی روک دیا اور اپنے قبیلے کو اس سے گزار لائے تھے ۔فرعون کا لشکر جو اس کے تعاقب میں آرہا تھا ،نیل میں ڈوب گیا تھا۔ میں نے اپنے عمل کیلئے دجلہ کا انتخاب کیاہے۔ یزدگرد کی فوج کشتیوں اور پُل کے ذریعے مدائن میں آجائے گی اور مسلمان ان کے تعاقب میں دجلہ پار کرنے لگیں گے تو ان کا سارا لشکر ڈوب جائے گا ۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔‘‘
یزدگرد کی فوج کشتیوں اور پُل کے ذریعے مدائن میں آجائے گی اور مسلمان ان کے تعاقب میں دجلہ پار کرنے لگیں گے تو ان کا سارا لشکر ڈوب جائے گا ۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔‘‘
’’اگر وہ یہ بات مجھ سے کرتا تو میں اسے سمجھاتا۔ ‘‘راہب نے کہا۔’’ وہ خداکا حکم تھاکہ موسیٰ نکل آئے اور فرعون کا لشکر ڈوب جائے……یہاں کون موسیٰ ہے؟ فرعون کون ہے؟ ہم اگر مسلمانوں کے دشمن ہیں تو مسلمان فرعون تو نہیں ہو جاتے۔ فرعونوں والے اوصاف تو ان آتش پرستوں کے ہیں۔ ان کے بادشاہوں کا حکم ہے کہ جو کوئی دربار میں آئے ،پہلے سجدہ کرے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی اور کے آگے سجدہ نہیں کرتے نہ ہی یہ بادشاہت کو مانتے ہیں……ہم مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے چاہنے سے وہ قوت کمزور تو نہیں ہو جاتی جو مسلمانوں کوفتح پر فتح دیتی چلی آرہی ہے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
’’یہ قوت کیا ہے؟‘‘ ایک یہودی نے پوچھا۔’’ معلوم ہو جائے تو ہم اسے کمزور کر سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ عقیدے کی قوت ہے ۔‘‘معمر ربی نے کہا۔’’ اور یہ یقین کی قوت ہے……خدا پر یقین، اپنی ذات پر یقین……اپنی ذات پر صرف اس شخص کو یقین ہوتا ہے جس کا کردار سحر کے ستارے کی طرح روشن اور شفاف ہوتا ہے۔ اس یقین کو اور اس کردار کو مسلمان ایمان کہتے ہیں۔ ہمارے پاس جوان لڑکیاں ہیں۔ ان کے حسن میں ان کے انداز میں طلسماتی اثر ہے ۔ہماری ہر لڑکی بادشاہی کا تخت الٹ سکتی ہے مگر یہی لڑکی معمولی سے ایک مسلمان کا دل نہیں موہ سکتی کیونکہ مسلمانوں پر کوئی اور ہی طلسم طاری ہے۔‘‘
’’کیا بات ہے ربی!‘‘ایک یہودی نے کہا۔’’ کیا آپ مسلمانوں کی حمایت میں نہیں بول رہے؟‘‘
’’مسلمانوں کے حق میں نہیں! ‘‘ربی نے کہا۔’’ میں ایک حقیقت بیان کر رہا ہوں……اور میرے دوستو!اور میں کچھ اور بھی محسوس کر رہا ہوں……مسلمان جسمانی طاقت کے زور پر یہاں تک نہیں پہنچے۔ سوچو، غور کرو۔ ہم اسلام کو نہیں مانتے، پھر ہمیں ماننا پڑے گاکہ مسلمانوں کے پاس بھی جادو ہے اور وہ ہمارے جادو سے زیادہ طاقتور اور تیز ہے۔ ہم نے کیا کیا جتن نہیں کیے ۔مسلمانوں کی پیش قدمی کو ہم نہیں روک سکے۔ شاید روک بھی نہیں سکیں گے ۔ربی شمعون نے میری بات نہیں مانی ۔ مجھے خطرہ نظرآرہا ہے۔‘‘
’’کیا آپ یزدگرد اور ا س کی فوج سے مایوس ہو چکے ہیں؟‘‘
’’کیا تم دیکھ نہیں رہے؟‘‘ راہب نے کہا۔’’ ہمیں یزدگرد کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمارا مقصد مسلمانو ں کو شکست دلانا ہے۔ میں کہہ رہاہوں کہ شمعون نے بڑا ہی خطرناک راستہ اختیار کیا ہے۔‘‘
’’کیا آپ انہیں روک نہیں سکتے؟‘‘
’’روک سکتا ہوں۔‘‘ بوڑھے راہب نے جواب دیا۔’’ لیکن وہ اپنا عمل مکمل کرنے پرمجبور ہو گیا ہے۔ اس نے شاہِ فارس کو یقین دلایا ہے کہ وہ جو جادو تیار کر رہا ہے یہ مسلمانوں کو تباہ کر دے گا۔ یزدگرد بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ اگر جادو نے کام نہ کیا تو یزدگرد شمعون کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔‘‘
اچانک سب یک زبان ہو گئے اور اس بوڑھے راہب سے کہا کہ ربی شمعون کو ئی اناڑی نہیں اور اس نے خطرہ مول لیا ہے تو سوچ سمجھ کر لیا ہے۔
ان یہودیوں کی محفل ابھی برخاست نہیں ہوئی تھی کہ دجلہ کے کنارے دلدلی علاقے میں شمعون جبریل اور اس کا ساتھی ابو ازمیر مگر مچھوں کے پیٹ میں جا چکے تھے ۔اس نے جو خطرہ سوچ سمجھ کر مول لیا تھا وہ اپنا کا م کر گیا تھا۔
دوسرے دن ان یہودیوں کے دروازوں پر بیک وقت دستک ہوئی ۔ دروازے کھلے تو شاہی محافظ اندر چلے گئے ۔انہوں نے ہر گھر کے ہر فرد کر پکڑ لیا اور باہر لے آئے ۔ان میں بڑی عمر کی عورتیں صرف دو ہی تھیں اور دو جواں سال لڑکیاں تھیں جن کا حسن بے مثال تھا ۔وہ ان تمام یہودیوں کو قید خانے کی طرف لے گئے۔
’’ہمارا جرم کیا ہے؟‘‘ راستے میں یہودی محافظوں سے پوچھتے تھے۔
اس سوال کے جواب میں انہیں دھکیلتے ہوئے لے جایا جا رہا تھا۔
’’ٹھہر جاؤ۔‘‘ محافظوں کے کمانڈر نے رکتے ہوئے کہا۔’’ ہم لوگ شہنشاہِ فارس کے کام کی چیزیں بھی قید خانے میں لے جا رہے ہیں……ان دونوں لڑکیوں کو محل میں بھیج دو۔ اگر شہنشاہ حکم دیں کہ انہیں قید خانے میں ڈال دو تو پھر انہیں اِدھر لے آنا۔‘‘
کمانڈر نے دو محافظوں سے کہا کہ وہ دونوں لڑکیوں کوو محل میں لے جائیں اور شہنشاہ سے پوچھیں کہ ان کے متعلق کیا حکم ہے؟
محافظوں نے لڑکیوں کو الگ کیا تو انہوں نے کوئی نمایاں طور پر مزاحمت نہ کی البتہ اپنی زبان میں اپنے آدمیوں کے ساتھ کوئی بات کی۔ ان آدمیوں میں جو سب سے زیادہ بوڑھا تھا اس نے لڑکیوں سے کچھ کہا۔ کمانڈر نے انہیں ڈانٹ کر کہا کہ وہ ان آدمیوں سے الگ ہو جائیں۔
یزدگرد بڑی ہی بے چینی اور اضطراب میں اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ اس کی ماں اور پوران اس کمرے موجود تھیں۔
’’ان یہودیوں کو قید خانے میں بند کر دو گے تو کیا حاصل ہو گا؟‘‘ پوران نے کہا۔
’’یہ یہودی فریب کا ر اور عیار ہیں۔‘‘ یزد گرد نے رُک کر اور فرش پر زور سے پاؤں مار کر کہا۔’’ اس بوڑھے نے ہمیں دھوکا دیا ہے ۔میں انہیں قید خانے میں بھوکا اور پیاسا رکھ کر ماروں گا۔‘‘
’’ایک بات کہوں یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ یہ دھوکہ اس بوڑھے یہودی نے ہمیں نہیں دیا، یہ ہمارا اپنا قصور ہے کہ ہم اپنے آپ کو خود ہی دھوکہ دے رہے ہیں۔ تم اپنے آپ کو دھوکہ دے کر مطمئن کر سکتے ہو لیکن یزدی!حقیقت کو تم اپنی خواہشات اور اپنے خیالوں کے سانچے میں نہیں ڈھال سکتے……ہوش میں آؤ یزدی!حقیقت کا سامنا کرو۔ مسلمان بُہر شیر تک پہنچ چکے ہیں اورانہوں نے اس شہر کا محاصرہ کرلیا ہے ۔اگر ہم یہ شہر دے بیٹھے تو سمجھو مدائن بھی گیا اور پھر سب کچھ گیا۔‘‘
’’اب میری بات سن یزدی بیٹا!‘‘یزدگرد کی ماں نورین نے کہا۔’’ میں اب تک ایک ماں بنی رہی ہوں اور مجھے یہی غم کھاتا رہا کہ میرا بیٹا میری آغوش سے چھن کر موت کی آغوش میں نہ چلا جائے۔ لیکن اب جب کہ مسلمان مدائن کے دروازے تک آپہنچے ہیں، مجھ میں یہ جذبہ بیدار ہو گیا ہے کہ تجھ جیسے ایک سَو بیٹے ہوتے تو میں ان سب کو فارس کی عظمت پر قربان کردیتی……دل کو مضبوط کر میرے بیٹے!یہ تیرے باپ کی سلطنت ہے اور تو ہی اس کا رکھوالا ہے ۔یہ میرے خاوند کی سلطنت ہے ۔اس کی آن پر میں بھی لڑوں گی……اور اس جادو کے دھوکے سے نکل۔‘‘
’’یہ ایک انسانی کمزوری ہے یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ حالات بعض اوقات ایسی کروٹ بدل لیتے ہیں کہ انسان بے بس ہو جاتا ہے اور وہ گھبرا کر جادو اور اس قسم کے ٹوٹکوں کا سہارا لینے لگتا ہے۔ میں تسلیم کرتی ہوں کہ ہم لوگ علمِ نجوم اور جوتش وغیرہ کے زیادہ ہی قائل ہیں۔ رستم نے ہمارے اس عقیدے کو کچھ زیادہ ہی پختہ کر دیا تھا۔ (۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی) وہ خود زائچے بنا تا رہتا تھا۔ سب سے پہلے اس نے کہا تھا کہ ستاروں کی گردش سلطنتِ فارس کے خلاف جا رہی ہے اور ستارے سلطنتِ فارس کے زوال کی خبر دیتے ہیں۔ اس نے یہ حماقت کی کہ اس کی یہ پیشگوئی ساری فوج میں پھیل گئی ،جس سے فوج میں بددلی پیدا ہوئی۔ اب تم نے پھر یہودیوں کے جادو کا سہارا لیا اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ اس جادو نے جادوگر کی ہی جان لے لی۔‘‘
’’مجھے کچھ بتاؤ۔‘‘ یزدگرد نے ہارے ہوئے سے لہجے میں کہا۔’’ کچھ سمجھاؤ ۔میں کیا کروں ؟فوج بکھر گئی ہے۔‘‘
’’بُہر شیر کو مضبوط کرو۔‘‘ یزدگرد کی ماں نے کہا۔’’ وہ تو ہم پہلے ہی کر رہے ہیں ۔میرا مطلب یہ ہے کہ اس شہر کو اتنا زیادہ مضبوط کرو کہ مسلمان اس کو محاصرے میں لیے بیٹھے ہی رہیں اور پھر تنگ آکر چلے جائیں۔‘‘
’’ان پر عقب سے حملہ کروایا جا سکتا ہے۔ ‘‘پوران نے کہا۔
’’حملہ کون کرے گا؟‘‘یزدگرد نے پوچھا اور خود ہی جواب دیا۔’’ باہر ہماری فوج موجود ہے۔ لیکن وہ فوج نہیں وہ بکھرے ہوئے ڈرے ہوئے اور پناہیں ڈھونڈرتے ہوئے فوجی ہیں ۔ان کے ساتھ کوئی جرنیل نہیں۔‘‘
’’کیا ہم لوگوں کو اکٹھا نہیں کر سکتے؟‘‘ یزدگرد کی ماں نے پوچھا۔
’’نہیں ماں نہیں!‘‘یزدگرد نے جھنجھلا کر کہا۔ ’’مجھے جاسوس باہر کے حالات بتا گئے ہیں ۔مسلمانوں نے اس علاقے کے تمام لوگوں کو پکڑ کر اپنی حراست میں رکھ لیا تھا۔ ہمارے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ یہی ہوا کہ اس علاقے کے تمام امیر اور جاگیردار مسلمانوں سے مل گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں کی حراست سے رہا کرالیا ہے اور نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی ہے بلکہ انہیں ہر طرح کی مدد اور امداد دے رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے ان اُمراء نے مسلمانوں کی پیش قدمی کو اس طرح آسان بنا دیا ہے کہ اُن کے راستوں میں جو کھڈ اور ندی نالے آتے تھے اُن پر پُل بنا دیئے ہیں۔ ان لوگوں کو جاگیریں میرے آباواجداد نے دی تھیں۔ آج انہی جاگیروں سے مسلمانوں کے ہاتھ مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ اگر شہرزاد اور بسطام میرے ہاتھ چڑھ گئے تو میں انہیں زمین میں آدھا گاڑھ کر ان پر خونخوار کتے چھوڑ دو ں گا۔
’’وہ بہت بعد کی بات ہے بیٹا!‘‘نورین نے کہا۔’’ اس وقت مدائن کو بچانے کی بات کرو۔‘‘
’’حقیقت کی بات کرو یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ حالات کو دیکھو……یہ تم نے اچھا کیا ہے کہ بُہرشیر کے ساحل سے تمام کشتیاں مدائن کے ساحل پر لے آنے کا حکم دے دیا تھا۔ صرف ایک پُل ہے۔ یہ پُل مسلمانوں کے کام نہیں آسکتا کیونکہ یہ مدائن کے وسط سے بُہر شیر کے وسط تک جاتا ہے ۔اس پُل سے مسلمان صرف اسی صورت میں گزر سکتے ہیں کہ وہ بُہرشیر پر قبضہ کرلیں ۔بُہرشیر میں مزیدفوج بھیج دیتے ہیں۔‘‘
’’تیر اور پھینکنے والی برچھیاں زیادہ بھیجو۔‘‘ نورین نے کہا ۔’’اتنی زیادہ کہ مسلمان شہرکی دیوار کے قریب آئیں تو ان پر تیروں اور برچھیوں کا مینہ برس پڑے۔‘‘
’’میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس منجیقیں بھی ہیں۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ یہ ایساہتھیار ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے ۔نہ اس کا ہمارے پاس کوئی توڑ ہے۔‘‘
’’ایک بات کہوں یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ مسلمانوں کے پاس ایک اور ہتھیار بھی ہے جو ہمارے پاس نہیں۔‘‘
’’وہ کون سا؟‘‘
’’جذبہ!‘‘پوران نے کہا۔’’ ہم مسلمانوں کو ڈاکو، قزاق، راہزن اور جانے کیا کیا کہتے ہیں لیکن ان میں لڑنے کا جذبہ اور فتح حاصل کرنے کا جو عزم ہے وہ اتنا مضبوط ہے کہ اسے ہمارے ہاتھی بھی نہیں توڑ سکے۔ ہماری فوج اس جذبے اور اس عزم سے محروم ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان اس لڑائی کو عبادت سمجھتے ہیں ……لیکن اب وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج میں یہ جذبہ پیدا کریں۔‘‘
لیکن اب وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج میں یہ جذبہ پیدا کریں۔‘‘
’’آہ!‘‘یزدگرد نے منہ چھت کی طرف کر کے آہ بھری اور کہا۔’’ میں آج اپنے آباؤاجداد کو کوستا ہوں جنہوں نے فوج میں جذبہ پیدا کرنے کے بجائے لالچ پیدا کیا۔ وفاداریوں کی قیمت ادا کی ۔جاگیریں تقسیم کیں ۔پھر فوج میں یہ صورتِ حال پیدا کر دی کہ جو بہادری سے لڑے گا اسے انعام ملے گا۔ ہمارے آباؤاجداد نے درباری اور خووشامدی پیدا کیے اور درہم و دینار کی اور زروجواہرات کی تھیلیاں تقسیم کیں ۔اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ چند ہزار مسلمانوں نے ہماری ایک لاکھ بیس ہزار نفری کی فوج کو اس طرح خون میں نہلا دیا اور اس طرح بکھیر دیا جس طرح آندھی خس و خاشاک کو اُڑا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے ۔ہمارے اپنے درباری اور خوشامدی جرنیلوں اور اُمراء نے جاگیرداروں نے دیکھا کہ عجم کا پرچم گر ہا ہے تو وہ سب عرب کے پرچم تلے جمع ہو گئے ہیں اور ان کے سپہ سالار وں کے آگے سجدے کر رہے ہیں ……میں تنہا رہ گیا ہوں۔ بے بس اور مجبور ہو گیاہوں ۔سوچتا ہوں کہ میں اس طوفان کو روک سکوں گا بھی یا نہیں۔‘‘
’’ہاں یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ ہم اس طوفان کو روک لیں گے۔ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھو۔ بُہر شیر کو مضبوط کرو۔‘‘
دربان نے اندر آکر اطلاع دی کہ باہر ایک محافظ دو لڑکیوں کو اپنے ساتھ لایا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ یہودیوں کی لڑکیاں ہیں۔
’’اُدھر بٹھاؤ ۔‘‘یزدگرد نے کہا۔’’ میں آتا ہوں۔‘‘
٭
وہ یزدگر دکا خاص کمرہ تھا۔ یہودیوں کی دونوں لڑکیاں اس کمرے میں بیٹھی ہوئی آپس میں باتیں کر رہی تھیں ۔انہیں یہ تو معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ یزدگرد کے ساتھ کیا باتیں کریں گی۔
’’ہم نے بادشاہ سے انتقام لینا ہے۔‘ ‘ایک لڑکی نے دوسری سے کہا۔’’ اس نے ہمارے مذہبی پیشواؤں کی توہین کی ہے اور ہمارے بزرگوں کو اور سب لوگوں کو قید میں ڈال دیا ہے۔‘‘
’’لیکن کس جرم میں!‘‘دوسری لڑکی نے کہا۔’’ ربی شمعون اور ابو ازمیر تو ان کیلئے کوئی عمل کر رہے تھے۔‘‘
’’معلوم ہو جائے گا۔‘‘ پہلی لڑکی نے کہا۔
’’اتنے میں یزدگرد کمرے میں داخل ہوا ۔دونوں لڑکیاں اٹھیں اور فرش پر گھٹنے ٹیک کر جھک گئیں۔
’’اٹھو!‘‘یزدگرد نے کہا۔’’ اوپر ہو کر بیٹھ جاؤ……تم دونوں یہودی نسل کے ہیرے ہو۔ میں تمہارے حسن کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن تمہارے مذہبی پیشواؤں نے مجھے جو دھوکہ دیا ہے اس نے میرے دل میں یہودیوں کے خلاف نفرت پیدا کر دی ہے۔‘‘
’’ہم خوش نصیب ہیں کہ آپ کے دربار تک ہمیں رسائی ملی ہے ۔‘‘ایک لڑکی نے زیرِ لب تبسم سے کہا ۔’’ہم نہیں جانتیں کہ ہمارے مذہبی پیشواؤں نے آپ کو کیا دھوکہ دیا ہے ۔ہم مجبور لڑکیاں ہیں۔ ہم آپ کو کیا دھوکہ دے سکتی ہیں۔‘‘
’’ہمیں دھوکہ دینے والوں نے سزا پالی ہے۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ تمہارے سب سے بڑے راہب شمعون اور اس کے ساتھی کو مگر مچھوں نے کھا لیا ہے۔ شمعون نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ وہ ایساجادو تیار کرے گا جو مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دے گا اور فارس کے جو علاقے انہوں ے فتح کر لیے ہیں وہ ہمیں واپس مل جائیں گے۔ (۔ اسلام اور انسان۔ تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، مجاہدین اسلام کے ہاتھوں کسریٰ فارس کی تباہی کی داستان حجاز کی آندھی) لیکن ہمیں پتا چلا کہ وہ ایک نوجوان لڑکی کو ساتھ رکھ کر بدکاری کرتے رہے اور کوئی جادو وغیرہ تیار نہیں کیا۔ مسلمانوں کو تباہ کرنے والے خود مگر مچھوں کی خوراک بن گئے اور وہ لڑکی ایک ماہ کے نوزائیدہ بچے کو اٹھائے ہمارے پاس آگئی۔ اس نے بتایا کہ شمعون ا س کے ساتھ کیسا سلوک کرتا رہا تھا۔‘‘
’’لیکن شہنشاہ! ‘‘لڑکی نے کہا۔’’ آپ نے اس کی سزا ان سب کو کیوں دی ہے جو ربی شمعون کو روکتے تھے کہ وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالے کیونکہ سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔
’’تو اس کا مطلب یہ ہوا ۔‘‘یزدگرد نے کہا۔’’ کہ تم جانتی ہو کہ شمعون جادو کر رہا تھا۔‘‘
’’ہاں شہنشاہ! ‘‘دوسری لڑکی بولی۔’’ ہم سب کچھ جانتی ہیں لیکن ہم بات کرنے سے ڈرتی ہیں۔ آپ ناراض ہو جائیں گے۔‘‘
’’ہم سننا چاہتے ہیں ۔‘‘یزدگرد نے کہا۔
’’پھر یہ بات ہم سے سنیں ۔‘‘ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا۔’’ آپ کے حکم سے جن یہودیوں کو قید خانے میں بند کر دیا گیا ہے ان میں سے تین چار ہی ہیں جنہیں معلوم تھا کہ ربی شمعون مسلمانوں کی تباہی کا کوئی بندوبست کر رہا ہے ۔ہمارے دو راہب اسے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جادو اتنا خطرناک ہے کہ یہ صحیح ہدف پر نہ گرا تو جادو کرنے والے کو ہی تباہ کر دے گا۔ لیکن ربی شمعون پورے وثوق سے کہتا تھا کہ اس کا جادو ناکام نہیں ہو گا۔ اب آپ سے پتا چلا ہے کہ ربی شمعون اور اس کے ساتھی ابو ازمیر کو مگر مچھوں نے کھا لیا ہے اور جس لڑکی کو جادومیں استعمال کیاجا رہا تھا وہ آپ کے پاس پہنچ گئی ہے تو ہمارے دوسرے بزرگوں کا یہ کہنا ٹھیک ثابت ہوا کہ یہ جادو چلانے والوں کو ہی ختم کر سکتا ہے۔‘‘
’’اب ہمیں ایک اور خطرہ نظر آرہا ہے۔‘‘ دوسری لڑکی بولی۔’’ وہ یہ کہ اس جادو کا اثر آپ کی سلطنت پر بھی بہت برا ہو گا۔ ہم نے اپنے راہب سے جو باتیں سنی ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مدائن اور بُہر شیر میں بہت قتل و غارت گری ہو گی اور اس کے بعد یہ دونوں شہر آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘‘
ان دونوں لڑکیوں کے بولنے کا انداز اس قدر پُر اثر تھا کہ یزدگرد پر گھبراہٹ سی طاری ہو گئی اور وہ خوفزدگی کے عالم میں ان لڑکیوں کو دیکھنے کے سوا اور کچھ بھی نہ بولا ۔لڑکیاں یہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
’’آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔‘‘ ایک لڑکی نے کہا۔’’ شہر کو بچانے کی کوشش کریں لیکن جوں ہی دیکھیں کہ یہ ممکن نہیں تو اپنے پورے خاندان کو ساتھ لے کر مدائن سے نکل جائیں اورکہیں پناہ لے کر اپنی فوج تیار کریں۔ پھر جوابی حملہ کریں۔ پھر آپ کو فتح حاصل ہو گی۔‘‘
’’آپ ان بے گناہوں کو چھوڑ دیں شہنشاہ!‘‘دوسری لڑکی نے کہا۔’’ کہیں ایسانہ ہو کہ ان کی بد دعائیں آپ کو وہ نقصان پہنچا دیں جس سے آپ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
یزدگرد نوجوان تھا اور شہنشاہ بھی تھا اور وہ پریشان حال بھی تھا ۔اس کے اعصاب پر اتنا زیادہ بوجھ تھا کہ اسے کسی پَل چَین نہ آتا تھا۔ ان لڑکیوں کے حسن اور ناز و اندز نے اُس پر ایسا نشہ طاری کر دیا کہ اس کا ذہن فرار کے راستے پر آگیا۔ رات بھر دونوں لڑکیاں اس کے ساتھ رہیں ۔صبح ہوئی تو اس نے پہلا حکم یہ دیا کہ تمام یہودیوں کو رہا کر کے ان کے گھروں کو بھیج دیا جائے۔
ان لڑکیوں نے اس پر دوسرا اثر یہ چھوڑا کہ اس نے اپنی ماں اور پوران کو یہ فیصلہ سنایا کہ وہ بُہر شیر کو بچانے کی کوشش تو کرے گا اور یہ ممکن نہ ہو سکا تو وہ مدائن سے اپنے تمام خاندان کو ساتھ لے کر نکل جائے گا۔ مدائن کے آگے سلطنتِ فارس کے کچھ اور شہر اور قصبے ابھی فارس کی سلطنت میں ہی تھے ۔یزدگرد ان میں سے کسی ایک میں جا سکتا تھا۔
ان دونوں لڑکیوں کے بولنے کا انداز اس قدر پُر اثر تھا کہ یزدگرد پر گھبراہٹ سی طاری ہو گئی اور وہ خوفزدگی کے عالم میں ان لڑکیوں کو دیکھنے کے سوا اور کچھ بھی نہ بولا ۔لڑکیاں یہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
’’آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔‘‘ ایک لڑکی نے کہا۔’’ شہر کو بچانے کی کوشش کریں لیکن جوں ہی دیکھیں کہ یہ ممکن نہیں تو اپنے پورے خاندان کو ساتھ لے کر مدائن سے نکل جائیں اورکہیں پناہ لے کر اپنی فوج تیار کریں۔ پھر جوابی حملہ کریں۔ پھر آپ کو فتح حاصل ہو گی۔‘‘
’’آپ ان بے گناہوں کو چھوڑ دیں شہنشاہ!‘‘دوسری لڑکی نے کہا۔’’ کہیں ایسانہ ہو کہ ان کی بد دعائیں آپ کو وہ نقصان پہنچا دیں جس سے آپ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
یزدگرد نوجوان تھا اور شہنشاہ بھی تھا اور وہ پریشان حال بھی تھا ۔اس کے اعصاب پر اتنا زیادہ بوجھ تھا کہ اسے کسی پَل چَین نہ آتا تھا۔ ان لڑکیوں کے حسن اور ناز و اندز نے اُس پر ایسا نشہ طاری کر دیا کہ اس کا ذہن فرار کے راستے پر آگیا۔ رات بھر دونوں لڑکیاں اس کے ساتھ رہیں ۔صبح ہوئی تو اس نے پہلا حکم یہ دیا کہ تمام یہودیوں کو رہا کر کے ان کے گھروں کو بھیج دیا جائے۔
صبح ہوئی تو اس نے پہلا حکم یہ دیا کہ تمام یہودیوں کو رہا کر کے ان کے گھروں کو بھیج دیا جائے۔
ان لڑکیوں نے اس پر دوسرا اثر یہ چھوڑا کہ اس نے اپنی ماں اور پوران کو یہ فیصلہ سنایا کہ وہ بُہر شیر کو بچانے کی کوشش تو کرے گا اور یہ ممکن نہ ہو سکا تو وہ مدائن سے اپنے تمام خاندان کو ساتھ لے کر نکل جائے گا۔ مدائن کے آگے سلطنتِ فارس کے کچھ اور شہر اور قصبے ابھی فارس کی سلطنت میں ہی تھے ۔یزدگرد ان میں سے کسی ایک میں جا سکتا تھا۔
٭
سعدؓبن ابی وقاص بُہر شیر کو محاصرے میں لئے ہوئے تھے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ محاصرہ مکمل نہیں تھا کیونکہ ایک طرف دجلہ بہہ رہا تھا اور اُس طرف شہر کی چوڑائی خاصی زیادہ تھی۔ شہر کی دیوار پر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے اس طرح کھڑے تھے جیسے دیوار کے اوپر ایک انسانی دیوار کھڑی ہو ۔مسلمان قریب جانے کی جرأت نہیں کرتے تھے ۔سعدؓ امیر المومنین حضرت عمر ؓکو روز بروز محاذ کی خبریں پہنچا رہے تھے۔ انہوں نے بُہر شیر کو جب محاصرے میں لے لیا تھا تو اُسی روز امیر المومنین ؓکو پیغام بھیجا تھا۔جس وقت مدائن میں جادو کے ذریعے مسلمانوں کی تباہی کی کوششیں ہو رہی تھیں ، اُس وقت مدینہ سے امیرالمومنین کا پیغام آیا تھا جس میں لکھا تھا:
’’……اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ اﷲ کی راہ میں خون کے نذرانے دینے والوں کو اﷲ مایو س نہیں کرتا۔ مدینہ میں اور عرب میں وہ کون سا مسلمان ہو گا جو تمہاری فتح و کامرانی کیلئے دعا نہیں کرتا ہو گا۔ تمہارا اتنی خطرناک بیماری سے اٹھنا اور اٹھ کر لڑنا اور اتنی دور تک پہنچ جانا اس حقیقت کی دلیل ہے کہ جو اﷲ کے ساتھ اپنا وعدہ نبھاتا ہے اس کیلئے اﷲ بھی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تمہارے اور باقی سب مجاہدین کے جسموں کا کیا حال ہو چکا ہو گا۔ لیکن روح کی طاقت اتنی بڑی طاقت ہے کہ وہ مُردہ جسم کو بھی اٹھا دیا کرتی ہے ……تم فارس کے دروازے پر پہنچ گئے ہو۔ آتش پرست تمہیں آسانی سے اس دروازے میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔اب تمہیں عقل سے زیادہ کام لینا ہو گا۔تم اس مقام پر پہنچ گئے ہو جہاں اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس جنگ میں تمہارا یہ پہلا محاصرہ ہے۔ اب تم منجیقیں استعمال کرو۔ شہر پر اتنے پتھر برساؤ کہ شہر پتھروں میں دب جائے ۔ہو سکتا ہے کہ دشمن باہر آکر تم پر حملہ کرے ۔ اس صورت میں اپنے عقب کا خیال رکھنا ۔جن لوگوں کو تم نے رہا کیا تھا وہ تمہارے لیے خطرہ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی تمہیں دھوکہ دے تو اسے جینے کے حق سے محروم کر دینا……تم نے عورتوں اور بچوں کو بہت دور پیچھے چھوڑ دیا ہے، انہیں اتنی دور نہ رکھو۔انہیں اپنے قریب لے جاؤ۔‘‘
محاصرے میں ڈیڑھ دو مہینے گزر چکے تھے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط تھا اور دیوار میں شگاف ڈالنے کیلئے دیوار کے قریب جانا خودکشی کے برابر تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ سعدؓ بن ابی وقاص اتنا وقت حاصل کرنا چاہتے تھے کہ زخمی مجاہدین صحت یاب ہو جائیں ۔ان ڈیڑھ دو مہینوں میں بیشتر زخمی لڑنے کے قابل ہو گئے تھے ۔امیر المومنین ؓکا پیغام ملتے ہی سعدؓبن ابی وقاص نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ منجیقوں کیلئے پتھر اکٹھے کر لیے جائیں۔ تقریباً آدھا لشکر محاصرے میں رہا اور باقی آدھا پتھر اکٹھے کرنے کیلئے بکھر گیا۔
قریبی بستیوں میں رہنے والے لوگوں نے جب دیکھا کہ مجاہدین پتھر اکٹھے کر رہے ہیں، تو وہ سب باہر آگئے اور پتھر اکٹھے کرنے کیلئے اِدھر اُدھر بکھرگئے ۔وہ بیل گاڑیاں اور گھوڑا گاڑیاں بھی لے آئے تھے۔ ایک ہی دن میں انہوں نے پتھروں کے انبار اکٹھے کر لئے۔
اُدھر مدائن سے بُہر شیرکو ہر طرح کی مدد مل رہی تھی۔ پوران بُہر شیر جا کر وہاں کے لوگوں کو جوشیلی تقریروں سے بھڑکاتی اور اکساتی رہتی تھی۔
٭
شہر کے لوگوں نے جب دیکھا کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور فوج کا جذبہ بھی عروج پر ہے اور مدائن سے ضرورت کی ہر چیز آرہی ہے تو لوگوں کاجذبہ بھی بڑھ گیااور جوش و خروش سے اپنی فوج کے دوش بدوش شہر کے دفاع میں سینہ سپر ہو گئے۔
ایک دو دنوں بعد اچانک شہر پر پتھر گرنے لگے۔ چونکہ دیوار پر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے کھڑے تھے اور انہیں توقع نہیں تھی کہ پتھر آئیں گے ۔اس لئے پہلے پتھر ان فوجیوں میں سے کئی ایک کو لگے ۔ان میں سے بعض صرف زخمی ہوئے اور بعض مارے گئے ۔انہیں حکم دیا گیا کہ وہ دیوار پر کھڑے نہ ہوں بلکہ باہر بیٹھ کر دیکھتے رہیں۔ منجیقیں ان کیلئے عجیب اور انوکھا ہتھیار تھا ۔جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
یزدگرد کو اطلاع ملی تو وہ اپنے محافظ دستے کے ساتھ دوڑا آیا اور پل سے بُہر شیر پہنچا۔ یہ منجیقیں چھوٹی تھیں اس لئے ان سے چھوٹے سائز کے پتھر پھینکے جاتے تھے۔ یزدگرد نے شہر پر پتھر گرتے دیکھے تو اس نے حکم دیا کہ لوگ گھروں کے اندر رہیں۔ یزدگرد نے دیوار پر جا کر منجیقیں دیکھیں۔ ان کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ اس نے شہر کے جرنیل اور دیگر حاکموں کو بلایا۔ مسئلہ یہ زیرِ بحث آیا کہ منجیقوں کو کس طرح بیکار کیا جائے؟
’’اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔‘‘ شہر کے جرنیل نے کہا۔’’ کچھ نفری باہر بھیجی جائے جو مسلمانوں پر اس جگہ شدید حملہ کرے جس جگہ کوئی ایک منجیق ہو ۔شدید حملے سے مسلمان منجیق کو گھسیٹ کر نہیں لے جا سکیں گے۔ اسے ہمارے آدمی گھسیٹ کر شہر میں لے آئیں گے ۔اسے دیکھ کر ہم اسی طرح کی منجیقیں بنا لیں گے۔‘‘
یزدگرد کو یہ تجویز بڑی اچھی لگی۔ اس نے حکم دیا کہ اس کے سامنے کچھ نفری کو باہر نکال کر حملہ کیا جائے ۔فوری طور پر نفری تیار کر لی گئی۔ انہیں ضروری ہدایات دی گئیں۔ یزدگرد نے ان کا حوصلہ مضبوط کرنے کیلئے اُن کے جذبات کو بڑی جوشیلی تقریر سے اُبھارا۔
شہر کی ایک طرف دیوار میں دو دروازے تھے۔ بیک وقت دونوں دروازے کھلے اور ان میں سے گھوڑ سوار تلواریں اور برچھیاں تانے اس طرح نکلے جیسے سیلابی دریا کا بند ٹوٹ جاتا ہے ۔مسلمانوں کو اس حملے کی توقع نہیں تھی ۔ان گھوڑ سواروں کا رُخ اس طرف تھا جہاں دو منجیقیں قریب قریب لگی ہوئی تھیں۔
مسلمان چونکہ محاصرہ کیے ہوئے تھے، اس لیے گھوڑ سوار تیار نہیں تھے۔ ان کے گھوڑے الگ کھڑے تھے جن پر زینیں نہیں تھیں ۔پیادے ہر طرح تیار تھے ۔ان کے ساتھ قعقاع، عاصم ، طلیحہ اور ہاشم بن عتبہ جیسے جانباز بھی موجود تھے ۔انہو ں نے گھوڑوں کی پرواہ نہ کی اور پیادوں کو ساتھ لے کر سواروں کا مقابلہ کرنے لگے۔
مجاہدین نے شہر کے گھوڑ سواروں کوگھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن گھیرا مکمل نہ ہو سکا ۔کیونکہ جو مجاہدین گھیرا مکمل کرنے کیلئے دیوار کے قریب چلے گئے تھے ،ان پر اوپر سے برچھیاں اور تیر آنے لگے ۔بعض مجاہدین زخمی ہو گئے۔ اس وجہ سے گھیرا توڑنا پڑا۔
آتش پرستوں کے گھوڑ سوار وں کو یہ بھی دیکھنا تھا کہ انہیں واپس بھی جانا ہے ۔شہر کے یہ دونوں دروازے بند کر دیئے گئے تھے ۔پیادہ مجاہدین نے گھوڑ سواروں کا مقابلہ اس خوبی سے کیا کہ کئی ایک کو گرا لیا اور اس کوشش میں لگے رہے کہ کوئی بھی سووار واپس نہ جا سکے۔ کچھ دیر میدان گرم رہا۔ دوسری طرف سے بھی مجاہدین ادھر آنے لگے لیکن سعد ؓبن ابی وقاص نے اس خیال سے انہیں روک دیا کہ اندر سے مزید گھوڑ سوار آگئے تو صورتِ حال بگڑ جائے گی۔
مجاہدین اتنے لمبے محاصرے کی وجہ سے تازہ دم تھے۔ انہوں نے یہ عرصہ آرام میں گزارا تھا۔ اس لیے گھوڑ سواروں پر وہ ایسے برسے کہ تقریباً نصف کو وہیں رکھا اور باقی شہر کی طرف بھاگ نکلے ۔پیچھے سے تیر اندازوں نے اس طرح تیر چلائے کہ ان میں سے کئی تیروں کا نشانہ بن گئے۔
اس کے بعد مسلمانوں نے پھر منجیقوں سے سنگباری شروع کر دی۔ شہر پر خوف و ہراس طاری ہو گیا جو مسلسل سنگباری سے بڑھتا گیا۔
اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ ہر تیسرے چوتھے روز شہر کے دروازے کھلتے اور گھوڑ سواروں کے ایک دو دستے باہر آتے ، گھمسان کا معرکہ لڑا جاتا اور جو سوار بچے رہتے وہ واپس چلے جاتے ۔ان حملوں میں زیادہ تر نقصان فارس کے گھوڑ سواروں کا ہوتا تھا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو محاصرے سے پسپا کرنے کا یہ طریقہ ان کیلئے بڑا نقصان دہ ثابت ہو رہا تھا۔ لیکن یزدگرد کا حکم تھا کہ یہ حملے جاری رکھے جائیں۔ یہ دراصل یزدگرد کا آخری اقدام تھا لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ اس کا اُسے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ اتنے زیادہ نقصان سے اس کی فوج کا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے۔
بعض تاریخوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ یزدگرد نے خواب میں اپنے باپ خسرو پرویز کو دیکھا اور خسرو پرویز نے اسے کہا کہ اپنی فوج میں ایسے بہادر افسر، عہدیدار اور سپاہی منتخب کرو جو اپنے وطن پر جانیں قربان کرنے سے دریغ نہ کریں۔ انہیں باہر نکال کر مسلمانوں پر حملہ کرواؤ اور یہ جانباز عہد کرکے باہر نکلیں کہ مسلمانوں کو کاٹ کر واپس آنا ہے یا واپس آنا ہی نہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ علمِ نجوم و جوتش کے ایک ماہر نے زائچہ تیار کر کے یزدگرد کو ایک خاص دن اور وقت بتایا تھا کہ اس دن مسلمانوں پر حملہ کیا جائے تو کامیابی ہو گی اور بُہر شیر بھی بچ جائے گا اور مدائن بھی۔ اس نجومی نے یزدگرد سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بدی ترک کردے اور کسی غیر عورت کے قریب بھی نہ جائے۔
یہی روایت صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ آتش پرستوں کا شاہی خاندان علمِ نجوم اور فالناموں میں یقین رکھتا تھا ۔رستم جو بہادری ،جارحیت اور جنرل شپ کی بے مثال علامت سمجھا جاتا تھا خود علمِ نجوم پڑھا ہوا تھا اور اس کے اپنے ہی بنائے ہوئے زائچوں نے اسے بزدل بنا دیاتھا۔ اس کی پیش گوئی یہ تھی کہ سلطنتِ فارس ختم ہو جائے گی۔
ایک مؤرخ نے ذرا مختلف روایت لکھی ہے وہ یہ کہ پوران نے یزدگرد سے کہا تھا کہ مسلمانوں پر ایک ایسا ہلّہ بولا جائے کہ ان کے پاؤں اکھڑ جائیں اور اس سے اپنی فوج کا خون گرمایا جائے اور ان میں غیرت بیدار کی جائے ، اور پھر ان سے کہا جائے کہ جو سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور اپنے آپ کو بہادر سمجھتے ہیں وہ حملے کیلئے تیار ہو جائیں۔۔
’’……اور یزدی!‘‘اس مؤرخ کے مطابق پوران نے یزدگرد سے کہا۔’’ مت بھولو کہ یہاں کے امرا ء اور نمائندے تمہیں اس لئے لائے تھے کہ تم سلطنتِ فارس کو عربوں سے بچاؤ گے۔ میں تمہاری خاطر تخت سے دستبردار ہو گئی تھی۔ خون کا آخری قطرہ بھی بہا دو۔ فوج کا آخری سپاہی بھی مروادو۔ دجلہ کے کنارے عربوں کے لاشوں کے ڈھیر لگادو……ابھی بُہرشیر چلو۔‘‘
ان میں کوئی بھی روایت سچی ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یزدگرد نے دونوں یہودی لڑکیوں کو آزاد کر دیا اور اس حرم کو ذہن سے اتار دیا تھا جس میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی موجود تھی۔ شاہانہ عیش و عشرت کو اس نے ترک کر دیا اور اپنی ماں نورین اور پوران کو لے کر بُہر شیر چلا گیا۔
اس کے ساتھ ماں اور پوران کے علاوہ مدائن کی فوج کے دو جرنیل اورچند ایک کم درجہ فوجی افسر بھی تھے۔ کسی بھی تاریخ میں ان دو جرنیلوں کے نام نہیں ملتے ۔بُہر شیر پہنچتے ہی یزدگرد نے وہاں کی تمام فوج کو اکٹھا کیا ۔وہ گھوڑے پر سوار تھا ۔نورین او رپوران بھی گھوڑوں پر سوار تھیں۔

جاری ھے

Next Episode


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.