Ads Top

Massom Si Larki By Sabahat Khan Episode No.10 || 10معصوم_سی_لڑکی از صباحت_خان قسط نمبر

Massom Si Larki
 By
 Sabahat Khan 

  معصوم_سی_لڑکی
 از
 صباحت_خان 

Massom Si Larki  By  Sabahat Khan     معصوم_سی_لڑکی  از  صباحت_خان
: #معصوم_سی_لڑکی

#صباحت_خان✏

#قسط10
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مشعل کچن میں پانی پینے آئی،پانی پی کر جیسے ہی موڑی حیدر دروازے میں کھڑا اسے گھور رہا تھا، مشعل کے تو آخری گھونٹ حلق سے نیچے اترنا مشکل ہوگیا، 
حیدر قدم قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا،اس کے بلکل سامنے آکے کھڑا ہوگیا، کیا کہا تھا کے ڈرتی نہیں ہو مجھ سے حیدر نے اپنے ہاتھ باندھتے ہوئےاسے دیکھا، 
وہ__نہیں____حیدر_ __بھائی مشعل کے ماتھے پر ننی ننی پسینے کی بوندے آگئی، حیدر بھائی نہیں تم کچھ اور بولتی ہو مجھے کیا___حیدر نے سوچنے کی ایکٹنگ کی ہاں یاد آیا___آرمی کا بندہ__حیدر نے اپنی ایک آئی برو اٹھا کر کہا___ واقی نہیں ڈرتی__ حیدر نے اپنا ایک ہاتھ اوپر کیا، 
مشعل جو اچانک حیدر کو سامنے دیکھ کر گھبرا گئی تھی اس کے اس طرح ہاتھ اوپر کرنے سے اس نے ڈر کے آنکھے بند کرلی__نہیں حیدر بھائی___پر کچھ دیر تک آنکھے بند کرنے کر بعد بھی جب اسے حیدر کا چماٹ نہیں لگا تو اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی،سامنے کا منظر دیکھ کے اس کی دونوں آنکھیں کھول گئی، 
حیدر نے ہاتھ اوپر کر کے پاس رکھی ٹوکری میں سے سیب اٹھایا پر مشعل کے اس طرح آنکھیں بند کونے سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی، ایسے کیا دیکھ رہی ہو ہاں حیدر نے واپس سنجیدا ہوتے یوئے کہا، 
مشعل جو اسے مسکراتے دیکھتے ہوئے حیران تھی ایک دم واپس حیدر کو پہلے والے روپ میں دیکھ کے ڈر گئی،کچھ چاہیے تھا آپ کو،__مشعل نے جلدی سے نیچے نظرے کرتے ہوئے کہا، 
ہاں یہی پوچھنے آیا تھا____میں ان سے ڈرتی ہوں یا نہیں یہ پوچھنے آئے حیدر کی بات پر مشعل نے حیرت سے اسے دیکھ کے سوچا،یہی پوچھنے آیا تھا کھانا تیار ہے تو لگا دو حیدر نے سیب کی ایک بائٹ لی اور موڑ کے چلا گیا، 
یہ واقی مسکرائے تھے یا میرا وہم تھا مشعل نے خود سے سوال کیا، پر اس نے انجانے میں خود سے سوال اتنا اونچا ضرور کر لیا کے جاتے جاتے حیدر کے کانوں میں اس کی آواز آگئی اور ایک بار پھر حیدر کے چہرے پر اسمائل آگئی جو مشعل نہیں دیکھ سکی
******************
کیا ہوا مشعل میں نے تین بار آواز دے دی تم سن ہی نہیں رہی حیا نے اس کا کندھا ہلا کر کہا، ہاں وہ کچھ نہیں کیا ہوا مشعل جو اب تک کچن میں ہونے والی بات کر بارے میں سوچ رہی تھی ایک دم گڑبڑا گئی، 
کچھ نہیں ہوا کھانا لگ گیا ہے آجاوُ حیا نے اس کا ہاتھ پکڑا،نہیں مجھے بھوک نہیں ہے مشعل نے ایک دم۔جھوٹ کہا جب کے بھوک اسے بہت تیز لگ رہی تھی پر حیدر کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی، 
کیا بھوک نہیں ہے بڑے بھیا بھی آفس سے آگئے سب ہیں آجاو نا یار ورنہ میں بھی نہیں کھاوُ گی حیا بھی مشعل کے پاس ہی بیٹھ گئی،اچھا بابا چلو آخر مشعل کو ہتیار ڈھالنے ہی پڑے،
دونوں نے لاونچ میں انٹر ہوکے سلام کیا حیا تو حیدر کے پاس والی چیئر پر بیٹھ گئی جب کے مشعل اب تک ٹیبل کے پاس کھڑی تھی کیوں کے اب ایک ہی چیئر کھالی تھی وہ تھی حیدر کے بلکل سامنے،
کیا ہوا مشعل بیٹا آپ بیٹھ کیوں نہیں رہی برہان کی آواز پر مشعل نے نا میں سر ہلایا اور سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی،حیدر نے ایک نظر اسے دیکھا جو بلکل اپنی پلیٹ میں سر دیے ایسے بیٹھی تھی کے بغیر ہاتھ کے سیدھے پلیٹ سے کھا رہی ہو،
اتنی بھوک لگ رہی کے پلیٹ ہی کھانے لگ گئی بلال نے اسے اس طرح کھاتے دیکھ چیڑنا اپنا فرض سمجھا،خلاف معمول مشعل کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر بلال کو کافی حیرت ہوئی، کیا ہوا چڑیل طبیعت تو ٹھیک ہے نا،
برہان بھائی مشعل نے بیچارگی سے برہان کو آواز دی بلال چپ کر کے کھانا کھاوُ برہان نے مسکراتے ہوئے بلال کو ہلکا سا ڈانٹا
 پر برہان بھائی یہ یہاں آئی کیوں ہے مجال ہے کے بلال مان جائے اس نے پھر سے وہی سوال کیا جو کم سے کم وہ چار بار پہلے بھی کر چکا تھا، 
میری دوست کی شادی ہے میں نہیں آوُں گی کیا آپ خود تو ہر وقت یہاں پڑے رہتے ہو اور مجھے یہاں دیکھنا آپ سے برداشت نہیں ہو رہا مشعل سے اور برداشت نہیں ہوا اس نے تڑک کے برابر میں بیٹھے بلال کو جواب دیا،
ہاں اب مجھے لگ رہاں ہے کہ تمہاری طبیعت بلکل ٹھیک ہے بلال نے ڈھیٹوں کی طرح ہنستے ہوئے کہا،
مشعل نے اپنے دانت پیستے ہوئے انگلی اٹھائی ہی تھی کچھ بولنے کے لیے کے اس کی نظر سامنے بیٹھے حیدر پر گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا،اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے،وہ چپ چاپ واپس کھانا کھانے لگی،یہ دیکھ کے بلال کا قہقہ جاندار تھا،
****************
آج موسم بھی خاصا خوشگوار تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سردیوں کے دن بھی شروع ہونے والے تھے اندر عبدالله صاحب کے گھر میں افراتفری کا ماحول تھا سب کاموں میں لگے تھے بلال صاحب کرسی پر چڑھ کر دروازے پر پھول لگا رہے تھے اور مشعل ہاتھ میں پھول لیے بلال کی مدد کر رہی تھی تھوڑی آگے جاوُ تو برہان صاحب فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے یہاں سے وہاں ٹہل رہے تھے جب کے علی صاحب اور حیدر سوفے پر بیٹھے فون کر کے معلوم کر رہے تھے روہان والے کتنی دیر میں پہنچے گے کچن میں حنا آمنہ اور صائمہ بیگم اچھے اچھے کھانے بنوانے میں مصروف تھے،
حنا کے چہرے پر آج الگ سی خوشی تھی اسے پورا یقین تھا کے روہان نہیں آئے گا اور جس لڑکی کی شادی نکاح والے دن ٹوٹ جائے اس سے کون شادی کرے گا پھر میرا بھائی ہی ترس کھا کر اس سے شادی کرے گا یہ سب سوچ کر حنا دل ہی دل میں خوش ہو رہی اور آگے بڑھ بڑھ کر کاموں میں حصہ لے رہی، 
خالد انکل نہیں آئے حیدر نے علی صاحب سے سوال کیا، وہ بس آتے ہی ہوگے ایک کام کے سلسلے میں چلے گئے تھے لو آگئے علی صاحب بتا ہی رہے تھے کے سامنے سے خالد صاحب چلتے ہوئے اندر آگے
 کیا بھئی ہمیں یاد کیا جا رہا ہے خالد صاحب کی خوبصورت آواز کمرے میں گونجی ،جی انکل__بس آپ کو ہی یاد کر رہے تھے حیدر کھڑے ہوتے ہوئے ان سے گلے ملا،
کیا ہوا حیدر کتنی دیر میں آرہے فاروق صاحب والے برہان نے فون رکھ کے اندر آتے ہوئے کہا ابھی بات ہوئی ہے بس آنے والے ہیں،
 یہ احمد کہا گیا بلال نے کرسی سے نیچے اترتے ہوئے کہا،مجھے کیا پتا یہ پکڑو پھول میں جا کے دیکھو حیا تیار ہوئی کیا مشعل بول کے اندر کی طرف بڑھ گئی،
یہاں ہوں میں احمد وائٹ کارٹن کے سوٹ میں تیار ہوکے روم سے باہر آیا،بلال نے گھور کے اسے سر سے پیر تک دیکھا، 
کیا گھور رہا ہے نظر لگائے گا کیا ،یہاں ہم صبح سے کاموں میں لگے ہیں اور تو اندر لڑکیوں کی طرح اپنی تیاریوں میں مصروف تھا بلال نے مصنوعی غصے سے کہا،
ہاں کام کے لیے ہم نے نوکر رکھ لیے ہیں احمد نے اپنا کالر کھڑا کیا اس کا اشارہ بلال کی طرف تھا جسے بلال سمجھ چکا تھا، 
بلال نے پھول وہی پھینکے اور اس کی طرف دوڑ لگادی احمد بھی ہنستا ہوا وہاں سے فوراً بھاگا،کیا کر رہے تم دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے جا بلال تو ابھی تک تیار نہیں ہوا جا کے تیار ہوجا ابھی وہ لوگ پہنچنے والے ہوگےحیدر نے بیچ میں آکے بلال کو روکتے ہوئے کہا بلال احمد کو گھور کے وہاں سے چلا گیا،
**************
حیا تیار ہو_____مشعل کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے جب اس کی نظر حیا پر پڑی اسکائے بلو کلر کے فروک پہنے ہلکا سا پنک لپ لوز لگائے اپنے بالوں کے ساتھ الجھتی ہوئی نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی،
مشعل اچھا ہوا تم آگئی میرے بال نہیں بن رہے تم بنادو نا حیا نے پیچھے موڑ کے معصومیت سے کہا،اس کی آواز سے مشعل کا سکتہ ٹوٹا،
واو حیا تمہارے بال اتنے لمبے ہیں مجھے تو پتا ہی نہیں تھا حیا کے بال کمر سے بھی کافی نیچے تھے جسے مشعل نے حیرت سے دیکھا،ہاں میں اتنا بولتی ہوں بھیا سے کے کاٹ دو وہ کہتے بال نہیں کاٹتے گناہ ہوتا ہے اس لیے یہ اتنے بڑے ہوگئے مجھ سے بن بھی نہیں رہے حیا کی آواز میں گیلا پن تھا،
ارے موڈ ٹھیک کرو میں بنا دیتی ہوں اتنی سی بات مشعل نے کچھ دیر میں اس کے بال بنا دیے آگے سے پف بنا کے باقی سب بالوں کی چٹیا بنا دی کیوں کے حیا کھولنے کو تیار نہیں تھی اس نے حیا کا ڈوپٹہ اس کے سر پر سیٹ کیا،اور اس کی طرف دیکھا جو گھبرائی گھبرائی بہت پیاری لگ رہی تھی،
حیا تم نے بلکل میکپ نہیں کیا وہ بھی اپنے نکاح میں،کیا تو ہے یہ بھابھی کا لپ لوز لگایا ہے نہ حیا نے اسے لپ لوز دیکھایا،اسے تم میکپ بولتی ہو مشعل کو حیرت ہوئی اس پر کے آج کے زمانے میں رہے کر وہ میکپ کے بغیر رہتی ہے بلکہ یہ کہنا ذیادہ ٹھیک ہوگا کے اسے میکپ کے بارے میں پتا ہی نہیں تھا،
اچھا چلو چھوڑو ویسے بھی تم بہت پیاری لگ رہی ہو ابھی کے لیے تو ٹھیک ہے پر تم لندن جاوُ گی اتنے بڑے بزنس مین کے ساتھ تو وہاں پر تمہیں آنا چاہیے میکپ کرنا چلو کل سے میں تمہیں سیکھا دوگی مشعل کی بات پر حیا نے بچوں کی طرح فوراً ہاں میں سر ہلایا،
تم بھی میرے ساتھ چلو نا لندن پڑھنے حیا نے اسے کہا،میں کیسے جا سکتی یار تم تو اپنے ہسبنڈ کے ساتھ جاوُ گی مشعل نے اسے پیار سے سمجھایا،
تو کیا ہوا تم بھی نکاح کرلو ہم دونوں وہاں پڑھے گے ساتھ میں ویسے بھی میں اکیلی بور ہو جاوُ گی حیا نے اسے قائل کرنا چاہا،
تم پاگل ہو حیا افففف تم مجھے بھی پاگل کر دوگی حیا کی بات پر مشعل کا تو سر ہی چکرا گیا،تم پہلی ایسی لڑکی ہوگی جو اپنا ہسبنڈ خوشی خوشی بانٹ رہی ہے ہاہاہا مشعل نے ہنستے ہوئے کہا اور روم سے چلی گئی ،
میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو مشعل ہنس رہی حیا نے خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے سوال کیا،
*******************
اب تک نہیں آئے فاروق صاحب برہان کی آواز میں پریشانی تھی،آئے گے بھی نہیں روہان تو لندن جانے کی تیاری کر رہا ہوگا اور فاروق صاحب سر پکڑ کے بیٹھے ہوگے حنا نے دل میں خوشی سے سوچا،
آگئے آگئے احمد کی آواز پر سب نے لاونچ کے گیٹ پر دیکھا جہاں روہان بلکل سریس چہرے کے ساتھ کھڑا تھا جب کے فاروق صاحب کے چہرے پر بہت بڑی اسمائل تھی،یہ سب اندر رکھ دو فاروق صاحب نے اپنے پیچھے کھڑے نوکروں کو کہا جو کافی سارے پھل وغیرہ لیے کھڑے تھے،
حنا کو لگا اس کے پیرو کے نیچے سے زمیں نکل گئی،کیسا مرد ہے یہ بے حیا لڑکی سے شادی کر رہا حنا نے نفرت سے سوچا اور ان سب سے ملے بغیر کچن میں چلی گئی،
سلام دعا کے بعد سب لاونچ میں ہی سوفوں پر بیٹھ گئے،برہان نے سب کا تعرف کرایا روہان اچھے سے سب سے ملا، 
مشعل جو حیا کو تیار کر کے باہر آئی ہی تھی حیرت سے اس نے روہان کو دیکھا بلو آئیز بالو کو جیل سے سیٹ کیے مضبوط جسامت اوپر سے بلیک سوٹ پہنے وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا جو اپنی خونصورتی سے بے خبر علی صاحب سے باتوں میں مصروف تھا
ہائےےے اتنا پیارا دولھا مشعل نے خوش ہوتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھے ابھی حیا کو بتاتی ہوں مشعل خود سے بولتی ہوئی واپس حیا کے روم میں بھاگی جب کے اس کی یہ حرکت دور بیٹھے کسی نے نوٹ کرلی اور اس کے لب خود با خود مسکرانے لگے،
پاگل!!! حیدر نے منہ ہی منہ میں کہا
***************
            💐 نکاح اسپیشل💐                     
حیا حیا حیا مشعل نے حیا کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر گول گھوما دیا، کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ مشعل کے ایک دم رکنے پر حیا نے گھبرا کر پوچھا، 
پاگل لڑکی اگر ایسا دولھا ہو تو ہر لڑکی اسے چھوپا کر رکھے اور تم بانٹ رہی تھی مشعل کی بات حیا کے سر سے گزر گئی،مجھے سمجھ نہیں آرہی تم کیا بول رہی اور کون دولھا حیا نے نہ سمجھی سے پوچھا، 
ارے تمہارا دولھا اور کون اتنا پیارا ہے کیا بتاوُ مشعل نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھ کے ہلتے ہوئے ایسے کہا جیسے ابھی بھی اسی کو سوچ رہی ہو، 
غلط بات ہے نا یہ تو حیا نے اس کا ہاتھ پکڑا ہاں بھئی اب میں اس کے بارے میں سوچوں تو غلط بات ہے اور ابھی تم مجھ سے جو بانٹ رہی اس کا کیا ہاں مشعل نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے
میرا مطلب ہے کسی غیر لڑکے کو نہیں دیکھتے نہ اسے سوچتے ہیں گناہ ہوتا ہے بھیا نے کہا تھا حیا نے اپنے بھولے پن سے کہا، ارےےے میری معصوم دوست وہ غیر نہیں ہے تمہارا ہونے والا دولھا ہے مشعل نے اپنا سر ہی پیٹ لیا حیا کی عقل پر، 
مشعل حیا تیار ہوگئی تو باہر لے آوں کاضی صاحب آگے دروازہ کھول کر آمنہ بیگم نے پیار سے کہا اور واپس باہر چلی گئی،
چلو اب تم بھی دیکھ لینا کتنا پیارا ہے مشعل نے اس کا ڈوپٹہ سہی کرتے ہوئے کہا جو پہلے سے ہی ٹھیک تھا، نہیں میں نہیں دیکھتی بھیا کو اچھا نہیں لگے گا،اففف اچھا چلو تم باہر مشعل اسے ساتھ لیے باہر چلی گئی،
***************
یہ کہا چلا گیا علی صاحب نے غصے سے یہاں وہاں دیکھ کے آہستہ آواز میں احمد سے پوچھا انکل مجھے لگتا ہے وہ باہر چلا گیا احمد نے بھی علی صاحب کو اور بھڑکایا ،
اتنی دیر ہوگئی مہمان کو آئے ہوئے پر مجال ہے کہ بلال صاحب سہی وقت پر سہی جگہ ہو علی صاحب نے دبی دبی آواز میں غصہ کیا،
لو آگیا انکل احمد نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں بلیک کلر کا شلوار کمیز پہنے وہ سڑیوں سے نیچے اتر رہا تھا، 
اس نے لاونچ میں قدم رکھتے ہی مسکرا کے سب کو سلام کیا__آپ__بلال کی نظر جیسے ہی روہان پر گئی اسے اپنا کچھ دن پہلے والا کارنامہ یاد آیا،
بلال کو دیکھ کے روہان کے ماتھے پر فوراً بل آگئے،اس سے پہلے وہ کچھ بولتا علی صاحب بول پڑے یہ میرا ایک لوتا بیٹا ہے حیدر کے ساتھ ہی آرمی میں ہے اب علی صاحب کی آواز میں کچھ دیر والا غصہ نہیں بلکہ اس کی جگہ فکر تھا،
کیا تم جانتے ہو روہان کو، حیدر کی تیز نظروں سے یہ چیز نہیں بچ سکی بلال کا روہان کو دیکھ کے چونکنا اور روہان کا منہ بنانا اس کی نظروں سے منفی نہیں رہا، _
_وہ اس دن___ بلال کچھ کہتا اس سے پہلے سب لیڈیز کے ساتھ حیا نیچے نظرے کیے باہر آئی، 
حیا کو یہاں بیٹھا دو علی صاحب کی آواز پر روہان نے نظرے اٹھائی،
ایک پل کے لیے روہان چونکا پر دوسری ہی پل اس نے اپنے آپ پر کنڑرول پالیا نظرے جھکائی گھبرئی گھبرائی سی وہ اسے بہت چھوٹی اور معصوم لگی حیا کو روہان کے پاس بیٹھایا گیا 
وہ روہان سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھی،اس دن اس لڑکے کے ساتھ اور کل اس آدمی کے ساتھ ایسی لڑکیاں معصوم نہیں ہوتی روہان نے اپنے ہاتھوں کی مُٹھی کو غصے بند کر کے سوچا بلکہ کوئی بھی لڑکی معصوم نہیں ہوتی،
یہ کیسے یہ شادی کر سکتا ہے کیا پتا اینڈ ٹائم پر منا کردے تا کے اس سے بدلہ لے سکے حنا نے ایک بار پھر خود کو تسلی دی، 
آپ کو روہان بن فاروق کے نکاح میں ایک کڑوڑ حق مہر کے عوض دیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے کاضی صاحب نے حیا کی طرف دیکھا جس کے ہاتھ اب کپکپارہے تھے ہاں بولو گڑیا حیدر نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھا،
جی___قبول____ہے___ حیا سے تین بار پوچھا گیا حیا نے ہر بار حیدر کی طرف دیکھا اس کے مسکرا کر ہاں میں سر ہلانے پر حیا نے ہاں کہا اور حیا نے نیچے منہ کر لیا،
اب کاضی صاحب کا رُخ روہان کی طرف تھا،حیا بنت عبدالله کو ایک کڑوڑ حق مہر کے عوض آپ کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے، 
روہان ایسی لڑکی سے شادی کر رہا تو جو بد کردار ہے اس کے اندر سے آواز آئی ہاں اس نے جو کیا اس کی سزا اسے ضرور ملے گی اور اس کی سزا یہی ہے کے اس کو اس کے پیار سے ہمیشہ کے لیے دور کردو صرف یہ شادی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے قید خانا ہے جسے یہ کبھی نہیں توڑ سکے گی اور اپنوں سے ملنے کے لیے ترس جائے گی روہان نے سب کی طرف دیکھ کے سوچا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے
قبول ہے!!!!!!!!!!!!!
قبول ہے!!!!!!!!!!!!!
قبول یے!!!!!!!!!!!!!
مبارک ہو مبارک ہو روہان کے قبول کرتے ہی مبارک ہو کی سدائے گونجنے لگی اور حنا کی آخری امید بھی ختم ہوگئی،
سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی حیدر کی آنکھیں نم ہوگئی اس نے چھوپ کے سے اپنے آنسوں صاف کیے تاکہ اس کی گڑیا نہ دیکھ لے، 
مشعل حیا کو واپس اند لے گئی مجال ہے جو حیا نے اتنا سا بھی سر اٹھا کے روہان کو دیکھا ہو اور روہان نے بھی ایک نظر کے بعد واپس اسے نہیں دیکھا 
 اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا،اسکے بعد سب ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے، میں پیپرز ریڈی کروا لوگا،آج سے پانچ دن بعد کی فلائٹ ہوگی روہان نے سرئیس چہرے کے ساتھ سب کو بتایا،
اچھا پھر منڈے کو رکھ لیتے ہیں فنشن اس سے اگلے دن ان کو نکلنا ہے حیا بیٹی رخصت ہوکے میرے گھر آجائے گی پھر اگلے دن وہاں سے نکل جائے گے یہ لوگ فاروق صاحب نے اپنی بات کہے کر سب کی طرف دیکھا،
حیدر تم کیا بولتے ہو برہان نے حیدر سے پوچھا__بھائی آپ کو سہی لگتا ہے تو ٹھیک یے ویسے بھی رخصتی تو کرنی ہی ہے میں بھی ٹائم نہیں دے سکتا مجھے بھی جانا ہے حیدر کی بات پر برہان نے ہاں میں سر ہلایا،
سب تے ہوگیا اب تو اب ہم چلتے ہیں فاروق صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا،ابھی کہا سے جارہے بیٹھوں تو سہی برہان نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا،
بھئی ہماری بیٹی گھر آئے گی کچھ تیاری ہم بھی کرے فاروق صاحب کے کہنے پر سب ہی مسکرا دیے سب سے مل کر فاروق صاحب اور روہان چلے گئے،
چلو بھئی سب کام اچھے سے ہوگئے اللّه کا شکر ہے علی صاحب کے کہنے پر سب نے ہاں میں سے ہلایا ہم بھی چلتے ہیں اب آجاوُ صائمہ بیگم انہوں نے اپنی بیوی کو آواز دی جہاں سب لیڈیز اندر بیٹھی تھی، 
تم چل رہے یا اب بھی یہی رہنا ہے علی صاحب کے کہنے پر بلال بھی کھڑا ہوگیا چلو بھئی کل سے ڈیوٹی بھی جوائن کرنی ہے اس کے بعد باری باری سب چلے گئے، بس مشعل حیا کے پاس رک گئی آج کے وہ کل جائے گی
**************
یار تمہیں نکاح کا گفٹ کیوں نہیں دیا روہان بھائی نے اور تماری طرف دیکھا بھی نہیں دونوں چینج کر کے لیٹ چکی جب مشعل نے کہا، نکاح کا بھی گفٹ ہوتا ہے حیا نے حیرت سے مشعل کی طرف کروٹ لی، 
نکاح کا گفٹ ضروری نہیں ہوتا پر آج کل سب ہی دیتے ہیں مشعل کو تھوڑی حیرت ہوئی تھی جس کا اظہار اس نے حیا کے سامنے کر دیا، اچھا پر میرے پاس تو سب کچھ ہے،
ہاں تمہارے پاس سب کچھ ہے بس عقل کی کمی ہے مشعل نے جل کے کہا،کیوں مجھ میں عقل نہیں ہیں بھیا تو کہتے میں بہت سمجھدار ہوں حیا نے مشعل کو بہت پتے کی بات بتائی، 
اوو شکر بتا دیا مجھے ورنہ تو مجھے کبھی پتا نہیں چلتا مشعل نے ہنس کے کہا اور لائٹ بند کردی، مشعل لائٹ جلاوُ حیا نے جلدی سے مشعل کا ہاتھ پکڑ لیا، مشعل نے پھر سے لائٹ جلائی کیا ہوا، 
مجھے ڈر لگتا ہے لائٹ نہیں بند کرو پلز حیا کے چہرے پر خوف تھا، پر دن میں تو اکثر میں نے دیکھا تم لائٹ بند کر کے سوتی ہو مشعل نے اس کی طرف دیکھا، ہاں جب تو کھڑکی میں سے روشنی آتی ہے پر ابھی فل آندھیرے میں مجھے خوف آتا ہے حیا کی آواز میں نمی تھی اچھا بابا چلو ایسے ہی سوتے ہیں اس نے حیا کی کمبل ٹھیک کی گڈ نائٹ مشعل نے مسکرا کر کہا 
گڈ نائٹ حیا نے آنکھیں بند کیے ہی جواب دیا اب اس پر نیند غالب آچکی تھی، 
******************
آپ نے ایسی بات کیوں کی آپ کو پتا ہے میں ہوٹل میں روکا ہوں اسے لے کے آپ کے گھر کیوں جاوُ گا روہان نے آپ کے گھر الفاظ پر زور دے کے کہا، اس وقت دونوں برہان کے گھر سے اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے 
میں آپ کے اسرار پر آپ کی گاڑی میں ان کے گھر گیا کیا یہ کم ہے روہان کے لہجے میں غصہ تھا 
بیٹا ظاھر ہے رخصت ہوکے حیا بیٹی اپنے گھر ہی آئے گی نا کے ہوٹل فاروق صاحب نے آرام سے سمجھایا،
آپ جانتے یہ شادی میں کیوں کر رہا مجھے آپ کا جب کوئی احسان لینا ہی نہیں ہے تو میں کیوں اسے آپ کے گھر لاوُ ،
تمہیں احسان نہیں لے نا پر انسانیت کہ ناتے ہی میری بات مان لو میری ایک رسپیکٹ ہے اس فیملی کی نظر میں تمہارے ہوٹل رہنے سے انہیں کیسا لگے گا اب تک تم ہوٹل میں رکے ہو میں چپ رہا پر ایک دن تو تم گھر رک سکتے فاروق صاحب کی آوز میں التجا تھی
ٹھیک ہے بس یہی روک دو گاڑی روہان نے بغیر کسی تاثر کے کہا اور گاڑی سے اترا صرف ایک دن اتنا بول کے روہان اپنے ہوٹل کی طرف چل دیا جب کے اس کے مان جانے سے فاروق صاحب بھی سکوان میں آگئے


No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.