غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر 13 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Ghazi
by
Abu Shuja Abu Waqar
غازی از ابو شجاع ابو وقار
پیشکش محمد ابراہیم
قسط نمبر13
Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar
Presented By Muhammad Ibraheim
Episode 13
یہ شخص فوجی مسلمان ہندو افسر کی گالیوں سے بیزار بلکہ کسی حد تک باغی کوئی رشتہ دار بھی نہیں اور ہیڈ کوارٹر کے ایک سئنر آفسر کا بیٹ مین حالات نے اس کا خاصا پہلے بھی برین واش کر دیا تھا اورباقی میں کر سکتا تھا ایک دشواری یہ تھی کہ میں نے ہندو ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اپنی اصلیت ظاہر کرنے میں ففٹی ففٹی چانس تھے ایک یہ کہ کیا وہ میرا ساتھ دے گا یا پھر میرا بھید جان کر اپنے ہندو افسروں کو خوش کرنے کے لیے بھارت ماتا کا سیوک بننے کی کوشش کرے گا میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا مگر اس کے لیے مجھے پلاننگ کرنے کی ضرورت تھی میں نے اٹھتے ہوئے عبدالکریم سے کہا کہ میں تمہاری باتوں سے بہت متاثر ہوا ہوں اور تمہارے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کروں گا میں نے اسے کہا کہ میری آمد کا کرنل صاحب کو نہ بتانا باتیں تو وہ کر چکا تھا اور ساتھ ڈر بھی رہا تھا کہ میں یہ گفتگو کرنل صاحب کو ہی نہ بتا دوں اس نے کہا کہ صاحب آپ کرنل صاحب کو کچھ نہ بتائیے گا میری زبان تو ہرگز نہیں کھلے گی میں نے لکھنؤ میں اس دوکاندار کا نام اور محلے وقوع پوچھا تو اس نے بتا دیا میں چاہتا تھا کہ اسکی کہی ہوئی باتوں کی سچائی جان سکوں اسے 500 روپے دے کر میں وہاں سے رخصت ہو گیا اور میرا دماغ مزید اس معاملے میں کچھ کرنے کے لیے تانے بانے بننے لگا بہت سوچ وبچار کے بعد میںنے عبدالکریم سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا لیکن اس سے پہلے اسکی مکمل چھان بین ضروری تھی شام کو میں اپنے ساتھیوں سے ملنے ان کے گھر گیا تو مالک مکان گھر میں تھا مکان کی اوپری منزل کے چھت کی سیڑھیاں اگرچہ ڈیوڑھی میں تھیں لیکن مکان کے دروازے سے گزر کر ہی سیڑھیوں تک پہنچا جا سکتا تھا دروازہ مالک مکان نے ہی کھولا میں نے اسے اپنا نام اظہر علی بتایا اور میں نے کہا کہ میرا ایک کاروباری واقف کار یہاں رہتا ہے مالک مکان نے مجھے اوپر جانے کی اجازت دے دی میرے سارے ساتھی یہاں اپنے اصلی ناموں سے ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ کہیں غلط نام منہ سے نکل جانے کی صورت میں بھید نہ کھل جاے میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک کمرے میں میٹنگ اور کہا کہ ایک شخص کر کوائف معلوم کرنے کے لیے لکھنؤ جانا ہے سبھی جانے کو تیار تھے لیکن میں نے دو کا انتخاب کیا اور لکھنؤ میں آپس میں ایک دوسرے سے فاصلے پر رہنے کا کہا اس دوکاندار جس نے عبدالکریم کی پرورش کی تھی عبدالکریم کی مکمل چھان بین اور کوئی رشتہ دار ہو تو اس کے مکمل کوائف اور معلومات لینی تھی
میرے دونوں ساتھی رات کو ہی ٹرین پر جانے کے لیے تیار ہو گئے میں نے انہیں 3دن دئے کہ اپنی ساری کاروائی مکمل کر کے 4تھے روز واپس آ جائیں کئ طرح کی احتیاطی تدبیر اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کو پورا کرنے کا کہہ کر واپس ہوٹل آ گیا اگلے روز شام کو میں کرنل شنکر کے پاس گیا وہ حسب معمول لان میں مئے کی محفل جماے بیٹھا تھا اور عبدالکریم برآمدے میں ہر حکم بجا لانے کے لیے کھڑا تھا عبدالکریم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سر کو جھٹک کر مجھے سلام دیا کرنل بھی موڈ میں تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا ہیلو مسٹر پامسٹ پلیز کم اینڈ جوائن میں نے بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں تا کہ جو موضوع کرنل کو پسند آئے اسی پر بات کریں وہ شاید میرا نام بھول چکا تھا اسی لیے بار بار مسٹر پامسٹ کہہ کر مخاطب کر رہا تھا میں نے ہنستے ہوئے کہا کرنل صاحب میں چاے بیچتا ہوں اور میرا نام ونود ہے اور آپ مجھے پامسٹ کہہ رہے ہیں کرنل نے صاف الفاظ میں کہا کہ مجھے تمہارا نام یاد نہیں رہا تھا اور پامسٹ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تم نے پہلی ہی ملاقات میں میرا ماضی کھول کر میرے سامنے رکھ دیا تھا میں نے کہا کہ میں پامسٹی کی ایجاد سے بھی واقف نہی ہوں البتہ فیس ریڈنگ میں تھوڑی شد بد رکھتا ہوں اور وہ بھی اپنے کاروبار میں مختلف لوگوں سے ملنے کیوجہ سے ان کے موڈ کو دیکھ کر چہرے کے تاثرات سے بھی کچھ اندازہ لگا لیتا ہوں آپ کے چہرے پر صاف لکھا تھا کہ آپکی فیملی نہیں ہے ورنہ آپکو سرکاری بنگلہ مل سکتا تھا کلب کی رونقوں کو چھوڑ کر آپ اپنی الگ محفل سجاتے ہیں بقول آپ کے کہ آپ کا حلقہ احباب بہت چھوٹا ہے تھوڑا ہے آپ اپنی شام مئے نوشی میں گزارتے ہیں اور تنہائی پسند ہیں اس سے میں نے اندازہ لگایا کےماضی کی کچھ یادیں ہیں جو آپکا پیچھا نہیں چھوڑ رہی اور آپ بھی ان یادوں کو خود سے الگ نہیں کرنا چاہتے اور ایسی یاد جوانی میں محبت کی ہی ہو سکتی ہے کرنل غور سے میری باتیں سن رہا تھا اور میں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار رہا ہوں اس لیے آپکے درد کو بخوبی سمجھ گیا
بقول کسی شاعر کے
کچھ اس طرح سے سجاے ہیں ہم نے ویرانے
کہ اہلی شہر بھی آتے ہیں جی کو بہلانے
میں تو چاہتا ہوں کہ ہر شام آپ کے ساتھ گزاروں لیکن محض اس لیے روز نہیں آتا کہ ایسی یادوں میں کھونے والا اپنی تنہائی میں کسی کی بھی مداخلت پسند نہیں کرتا اس موضوع پر اور نہ جانے میں نے کیا کچھ کہا لیکن جب میں خاموش ہوا تو یہ سخت گیر کرنل موم کی طرح پگھل چکا تھا لان میں جلتی نیلگوں لائٹس میں اسکی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں کرنل کچھ دیر سر جھکائے کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا جب وہ خود پر قابو پا چکا تو بولا میں نے اپنے ماضی کے متعلق صرف اپنے خاص تین چار دوستوں کو ہی بتایا تھا آج تمہیں اسلیے بتا رہا ہوں کہ تم بن بتاے اتنا کچھ میرے ماضی کو کرید چکے ہو میں لاہور کا رہنے والا ہوں اور راوین ہوں میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا کہ راوین سے کیا مراد ہے حالانکہ میں خود گورنمنٹ کالج لاہور ضلع کچہری کا سٹوڈنٹ رہ چکا ہوں. یہ کالج برصغیر کی تقسیم سے پہلے بہترین کالج مانا جاتا تھا اور اس کے طلبہ خود کو راوین کہتے تھے کرنل نے بھی یہی مجھے بتایا اور کہا کہ کالج میں ایک شیلا بھنوٹ نامی عیسائی سے اسے محبت ہو گئی تھی وہ اسکی کلاس فیلو تھی اور یہ یکطرفہ محبت نہ تھی بلکہ آگ دونوں طرف یکساں بھڑکی ہوئی تھی میں کالج کے نمایاں طلبہ میں تھا اور پیراکی میں کالج کی ٹیم کا کیپٹن تھا میں نے فیصلہ کیا تھا کہ گریجویشن کے بعد آئی سی ایس انڈین سروس کا امتحان دوں گا شیلا بھی یہی چاہتی تھی ہم دونوں نے امتحان اکھٹے دیا ہم دونوں کے گھر کوپر روڈ پر تھے میرے پتا جی پنجاب گورنمنٹ میں ملازم تھے ہم دونوں کے گھر والے ہماری محبت سے آگاہ تھےوہ ایک دوسرے سے اکثر ملتے رہتے تھے اپریل 47ء میں لاہور بھی ہندو مسلم فسادات کی لپیٹ میں آگیا میری دو بہنیں تھیں جن کی شادی نہیں ہوئی تھی ایک شام فسادیوں نے ہمارے گھر کے سامنے والے گھر کو آگ لگا دی وہ گھر مسلمانوں کا تھا میرے پتا جو دل کے مریض تھے یہ منظر دیکھ کر ان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ سورگباش ہوگئے فسادیوں کی شر انگیزی پر تو چند روز میں قابو پا لیا گیا لیکن پتا جی کی موت نے ہمیں اجاڑ دیا ہمارے پاس جمع پونجی نہ ہونے کے برابر تھی گھر کا سارا بوجھ مجھ پر آن پڑا تھا میں نے رنگ محل میں ایک دوکان پر وقتی ملازمت حاصل کر لی امید تھی کہ پتا جی کے فنڈز وغیرہ مل جائیں گے تو میں آئ سی ایس کی تیاری شروع کر دوں گا شیلا کے گھر والوں پر ہماری مالی کمزوری کا راز کھل چکا تھا اور وہ لوگ کچھ کچھے کچھے سے رہنے لگے اسی دوران شیلا کے لیے ایک انڈین کرسچن کیپٹن کا رشتہ آیا شیلا نے بھی مجھ سے دور رہنا شروع کر دیا تھا میں نے شیلا کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سود میں نے اسے گزرے دنوں کی باتیں قسمیں اور وعدے یاد دلاے لیکن سب بے فائدہ ثابت ہوے اور پھر ایک دن شیلا اس کیپٹن کی دلہن بن کر چلی گئی لیکن میرے دل سے نہ نکل سکی میں اپنی بے سروسامانی کے بوجھ تلے دبا ہوا شیلا کو گرجے سے کیپٹن کی دلہن کے روپ میں نکلتے ہوئے دیکھتا رہا مگر کچھ کر نہ سکا
مجھے ایک چپ سی لگ گئی تھی اسی دوران تقسیم ہند ہو گئی اور میں اپنی ماتا اور بہنوں کو لے بھارت چلا آیا میرا آبائی گھر جو لاہور میں تھا وہ میرے والد کے دوست نے مناسب داموں خرید لیا تھا اور بھارت جا کر ان پیسوں سے اپنی بہنوں کے ہاتھ پیلے کیے کچھ عرصہ بعد میری ماتا بھی چل بسی اور میں بلکل یکتا رہ گیا میں نے فوج جوائن کر لی ڈیرہدون میں اڑھائی سال کی ٹریننگ کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ بنا میں نے پوری کوشش کی کہ شیلا کو دل سے نکال دوں لیکن اسکی محبت اور یاد کی جڑیں دل کی اتنی گہرائی تک پہنچ چکی تھی کہ ناکام. رہا
کرنل کی دکھتی رگ پر میرا کچھ ایسا ہاتھ پڑا کہ اس کے جذبات کے سارے بندھن ٹوٹ گئے وہ بتاتا چلا گیا 65 کی پاک بھارت جنگ کے دوران میں ایک انفنٹری کمپنی کا کمانڈر تھا اور لاہور سکٹر پر میری کمپنی تعینات تھی میرے ریکی کرنے والے جوانوں نے بتایا پاک کی ایک بڑی رانی توپ رانی یا شیرنی جو 250 پونڈ کا گولا 22 میل تک پھینک سکتی ہے کی لوکیشن انہوں نے دیکھ لی ہے میں اگر چاہتا تو اپنی کمپنی کو بتا کر اس توپ کو تباہ کروا سکتا تھا لیکن میں اپنی آرٹلری کو نہ بتا سکا اگرچہ ہمارا مواصلاتی رابطہ اپنی آرٹلری سے کٹ چکا تھا لیکن ان تک پیغام پہنچانے کے اور بھی بہت سے ذرائع تھے یہ شاید لاہور سے شیلا کی محبت کیوجہ سے ہوا جو لاہور میں رہتی تھی کہ میں اپنا فرض نہ نبھا سکا اس جرم کی پاداش میں مجھے دفتری امور پر لگا دیا گیا میں نے شادی نہیں کی اپنے دفتری اوقات کے بعد میرا زیادہ وقت تنہائی اور شراب نوشی میں گزرتا ہے کرنل نے اور بھی بہت سی باتیں کیں جن سے میں نے اندازہ لگایا کہ کرنل بھارتی فوج سے بھی نالاں ہے اور غیر محسوس طورپر اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے بھی اتنا خلاف نہیں ہے جتنے دوسرے بھارتی فوجی خلاف ہیں رات قریب 12 بجے ہماری محفل برخاست ہوئی اور میں کرنل شنکر کے متعلق متضاد خیالات کے ہجوم میں گھرا ہوا اپنے ہو ٹل واپس پہنچا یہاں پاکستان کی رانی اور شیرنی توپوں کے متعلق کچھ قارئین کو بتانا چاہتا ہوں یہ دوسری ہیوی ہوائز توپوں کی ایک قسم امریکہ نے اچھے وقتوں میں پاکستان کو دی تھیں ان میں چلنے والا گولا 250 پونڈ کا ہوتا ہے اور 22 میل تک ان کی رینج ہے 100 میٹر کے دائرہ میں اس کا گولا ہر چیز تباہ کر دیتا ہے ان توپوں کے چلنے کی آواز اتنی ہے کہ توپ چلانے والوں کے کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں اس لیے ان توپوں کے قریب پانی کے بڑے بڑے ٹب رکھے جاتے ہیں
گولا چلانے والے توپچی اگرچہ کانوں پر ساؤنڈ پروف کور لگانے کے باوجود دھماکے کی آواز سے بچنے کے لیے گولا چلاتے وقت پانی میں کود جاتے ہہیں تاکہ دھماکے کی شدت کم محسوس ہو 65 اور 71 کی جنگوں میں ان توپوں نے لاہور کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا تھا بھارتی افواج ان کے گولے چلنے کی آواز سے کانپ جاتے تھے اور الٹے پاؤں اپنے مورچوں میں دبک جاتے تھے کرنل شنکر نے شراب کے نشے میں اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا تھا مجھے ٹریپ کرنے کے لیے یہ اسکی چال بھی ہو سکتی تھی عبدالکریم اور شنکر کی باتیں سچی بھی ہو سکتی تھیں اور غلط بھی ان حالات میں مجھے اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا تھا میں نے دونوں کی باتوں کے ایک ایک فقرے کا تجزیہ کرنا شروع کر دیا اور بآلاخر یہ فیصلہ کیا کہ جب تک میرے ساتھی لکھنؤ سے واپس نہیں آ جاتے مجھے کوئی بھی قدم نہیں اٹھا نا چاہیے کرتار پور کے ایٹمی بجلی گھر کے متعلق چونکہ ہمیں پاکستان میں بریف نہیں کیا گیا تھا اور یہ مشن انتہائی اہم نوعیت کا تھا اس لیے میں نے ہر ممکن ذرائع سے معلومات اکٹھی کرنے کا فیصلہ کیا نیو کلئر انرجی سے متعلق کتابیں تو میں پہلے ہی لے چکا تھا اور ان کا مطالعہ بھی شروع کر دیا تھا اب میں چاہتا تھا کہ وہاں کی سیکیورٹی سسٹم کے متعلق بھی جانکاری حاصل کروں
قارئین آپ میری اور میرے ساتھیوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں دشمن ملک میں ہندو بن کر رہنا اور اسکی دفاعی نوعیت کی حساس اور کلاسیفائیڈ معلومات حاصل کرنا اور ہر وقت پکڑے جانے کے خوف نے ہم پر شدید ذہنی دباؤ ڈال رکھا تھا ہمارے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی راتوں کو نیند میں اکثر چونک جاتے تھے اپنی کیفیت تو میں جانتا تھا میرے ساتھیوں نے بھی اپنی ذہنی کیفیت بتا دی تھی پاکستان میں دوران ٹریننگ جب ایسی کیفیت سے دوچار ہوتے تو ہمیں ایک مسکن دوا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی ہم نے یہ دوا استعمال کی تو ایک ہفتے بعد ہی ہمارا ذہنی تناؤ کم ہونے لگا
لکھنؤ جانے والے میرے دونوں ساتھی چوتھے روز لوٹ آئے اور عبدالکریم کے متعلق مفصل معلومات لے کر آے تھے دوکان دار نے عبدالکریم کی کہی ہوئی تمام باتوں کی تصدیق کر دی تھی جاری ہے

No comments: