ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 46
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 46
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
46 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 46
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
46 قسط نمبر
سنائپر
قسط نمبر46
ریاض عاقب کوہلر
”اب کیا کریں ؟“پلوشہ کے قریب ہو کر میں نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔یقینا ہمارے پاس وقت کی بہت زیادہ کمی تھی ۔
”میرا خیال ہے عقبی جانب سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ،کیونکہ اس جانب ڈھلوان چڑھتے ہی ہم ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔“اس بہادر لڑکی کے لہجے میں حالات کی گھمبرتا کا ذرا سا بھی اثر موجود نہیں تھا ۔
”وہاں رک کر اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنا کہ جب کمک ملنے کی بھی کوئی امید نہ ہو،ایک حماقت ہی ہے ۔باقی فرار کے لیے نشیب کا رستا اس لیے بھی بہتر رہتا ہے کہ بھاگنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ۔“
وہ میرا مطلب سمجھتے ہوئے بولی ۔”مطلب ،آپ سامنے سے بھاگنے کا سوچے ہوئے ہیں ۔“
”کیا خیال ہے ؟“
”چلو ۔“اس نے بے خوف انداز میں کہتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھا دیئے۔
میں نے اپنی پشت پر لدا بیرٹ کا تھیلا اتار کر نیچے رکھا اور زنجیر کھول کرNVG (نائیٹ وژن گاگل )ڈھونڈنے لگا ۔وہ شب دید عینک ،امریکن سنائپر سے میرے ہاتھ لگی تھی ،جو بعد میں بیرٹ ایم 107کے تھیلے کے ساتھ صنوبر خان کے ہتھے چڑھ گئی تھی ۔اور گزشتا دن بیرٹ ایم 107کے ساتھ موجود تمام سامان کے ساتھ واپس میرے ہتھے چڑھ گئی تھی ۔
شب دید عینک ڈھونڈ کر میں نے آن کر کے تسموں کے ذریعے آنکھوں پر باندھ لی ۔کچھ قارئین کے لیے یقینا شب دید عینک ایک نئی اور عجیب چیز ہو گی ۔لیکن سنائپر کی پہلی اقساط میں میں اجمالاََ ان کا ذکر کر چکا ہوں ۔اس کے اندر ہر چیز سبز نظر آتی ہے ۔اور چاند کی چودھویں شب سے واضح نظارا دکھتا ہے ۔اس میں چھوٹی بیٹریاں پڑتی ہیں ۔آن کرتے ہی مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ بیٹریاں ابھی تک استعمال نہیں ہوئی تھیں ۔
NVGآنکھوں پر باندھتے ہی میں نے پلوشہ کو کہا۔”میں دیوار کے اوپر سے جھانک کر دیکھتا ہوں کہ کتنے آدمی باہر موجود ہیں ،اور کوشش کرتا ہوں کہ انھیں اوپر ہی سے جہنم واصل کر دوں ۔تم دروازے پر تیار ی حالت میں رہنا اور میرا اشارہ پاکر باہر نکلنے کے لیے تیار رہنا ۔اور گلاک کے ساتھ فائر کرنا تاکہ سائیلنسر کی وجہ سے گولی چلنے کی آواز ظاہر نہ ہو ۔“یہ کہتے ہی میں نے اپنا گلاک نکال کر ہاتھ میں تھام لیا تھا ۔
وہ آہستہ سے بولی۔” ٹھیک ہے۔“اور اس کے ساتھ ہی اس نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر گلاک پکڑ لیا ۔
سامنے کی دیوار میں بنے ہوئے مورچے پر چڑھنے کے لیے لکڑی کی سیڑھی موجود تھی ۔میں اسی سیڑھی کی مدد سے اوپر چڑھا اور چودہ ،پندرہ فٹ دیوار سے نیچے جھانکنے لگا ۔دونوں مکانوں کے دروازے کے درمیان میں وہ ایک ڈبل کیبن لیے موجود تھے ۔ڈبل کیبن کی باڈی میں دو آدمی بیٹھے تھے ، جبکہ ایک ایک آدمی دونوں مکانوں کے سامنے اس انداز میں کھڑا تھا کہ کسی بھی شخص کے اندر سے نکلنے پر اس کی نظر میں آ جاتا ۔چاروں کلاشن کوف سے مسلح تھے ۔ان چار کے علاوہ گاڑی کے کیبن میں بھی ایک سے زیادہ آدمی موجود تھے ۔دروازوں پر نگراں کھڑے دونوں آدمی چونکہ گاڑی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے تھے اس لیے میں نے پہلے انھی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔گاڑی کی بتیاں آف تھیں جبکہ گلی میں بھی روشنی کا ایسا انتظام موجود نہیں تھا کہ وہ خالی آنکھ سے واضح نظر آتے ۔
گلاک سیدھا کر کے میں اس آدمی کے سر کا نشانہ سادھا جو اس کمان کے سامنے کھڑا تھا جس میں میں اور پلوشہ چھپے تھے ۔یہاں بتا تا چلوں کہ پستول اور رائفل کے فائر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پستول سے نشانہ سادھتے وقت رائفل کی طرح اس کی ریئر سائیٹ سے آنکھ نہیں لگانی پڑتی ،بلکہ ایک یا دونوں ہاتھوں میں پستول کو سیدھا کر کے اندازے سے نشانہ لینا پڑتا ہے ۔اگر پستول کی جگہ کوئی رائفل ہوتی تو یقینا میں آنکھوں پر بندھی NVGکی وجہ سے درست نشانہ نہ لے سکتا ۔
”ٹھک ۔“کی ہلکی سی آواز اگر ان کے کانوں میں پڑی بھی تھی تو وہ توجہ نہیں دے پائے تھے ۔ لیکن ان کے ساتھی کے گولی کھا کر گرنے کے دھماکے کی آواز گاڑی کی باڈی میں بیٹھنے والے اس کے ساتھیوں تک ضرور پہنچ گئی تھی ۔
”اوے بہرام خانا !....کھڑے کھڑے ،نیند تو نہیں آگئی ۔“ڈبل کیبن کی باڈی میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ان کے مذاق سے محظوظ ہونے کی کوشش کرتا ۔میں نے فوراََ گلاک کی بیرل دوسرے مکان کے سامنے کھڑے ہوئے آدمی کی جانب موڑی اور اگلے ٹھک کے ساتھ وہ بھی نیچے گر کر خرخرانے لگا ۔
”کوئی گڑبڑ ہے ۔“باڈی میں بیٹھے ہوئے دونوں آدمی ۔ہڑبڑا کر اٹھے ۔مگر ان کے اترنے سے پہلے میں دو مرتبہ ٹریگر دبا چکا تھا ۔بیس پچیس گز سے میرے نشانہ چوکنے کا امکان ہی نہیں تھا ۔ایک آدمی جو اترنے کے قریب تھا وہ اوندھے منہ زمین پر گرا تھا ۔ان کے گرنے پر بھی گاڑی میں سے کوئی نہیں نکلا تھا جس کا مطلب یہی تھا کہ یا تو گاڑی کے اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا یا وہ گاڑی کے شیشے وغیرہ بند کر کے موسیقی وغیرہ سے محظوظ ہو رہے تھے ۔یوں بھی اچھی خاصی سردی تھی ۔اور پھر رات کے اس وقت تو یوں بھی سردی میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا تھا ۔
ایک بار میرا جی چاہا کہ پلوشہ کو آواز دے کر باہر نکلنے کا کہوں ،مگر پھر اسے خطرے میں جھونکنے پر میرا دل آمادہ نہ ہوا ۔خود میں نیچے اتر کر دروازے سے باہر جاتا تو زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ۔سرعت سے ایک فیصلہ کرتے ہوئے میں فوراََ باہر کی جانب دیوار سے نیچے لٹک کر کود گیا ۔نیچے لٹکنے کے باوجود میرے پاﺅں زمین سے چھے ساتھ فٹ بلند تھے ۔اس لیے اچھی خاصی آواز آئی تھی ،لیکن کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی دیکھ کر میں نے قریب ہو کر دیکھا ،اسٹیئرنگ ویل پر ایک آدمی سر ٹیکے سویا ہوا نظر آیا ۔اس کے علاوہ گاڑی کا کیبن خالی تھا ۔دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر میں نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولااور اسے گریبان سے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ۔
”کک....کیا ....کون ....“وہ ہڑبڑاتے ہوئے ہکلایا،مگر اس وقت تک میں گلاک کی ایک اور گولی ضائع کر چکا تھا۔اس کے تڑپنے کا نظارا کیے بغیر میں بھاگ کراس دروازے کے قریب پہنچا جہاں پلوشہ میری منتظر کھڑی تھی ۔
”آجاﺅ۔“اسے آواز دے کر میں گاڑی کی طرف پلٹ آیا ۔گاڑی کی باڈی میں پڑی لاش نیچے پھینک کر میں نے نیچے گرا آئی کام اٹھا لیا ۔اس وقت تک پلوشہ بیرٹ کے تھیلے کو پشت پر لادے وہاں پہنچ چکی تھی ۔
”کیا رہا ؟“اس نے قریب آتے ہی بے صبری سے پوچھا ۔اور اس سے پہلے کہ میں اسے جواب دیتا آئی کام سے ایک کھردری آواز ابھرنے لگی ۔کوئی تمام پارٹیوں کو چوکنا رہنے کی تاکید کرتے ہوئے بتا رہا تھا کہ شکار پھندے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ نالے کی طرف جانے کے بہ جائے کسی گھر سے نکلنے کی کوشش کر ے ۔بتانے والے تک شاید ہمارے عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک سے نکلنے کی خبر ابھی پہنچی تھی ۔گو اس نے اپنے ساتھیوں کو نہایت مفید مشورہ دیتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر بے چارہ ذرا لیٹ ہو گیا تھا ۔اوراس کا خیرخواہی بھرا مشور ہ اس کے ساتھیوں کے کام نہیں آ سکا تھا ۔
”گاڑی میں بیٹھو ۔“میںنے پلوشہ کی بات کا جواب دیئے بغیر اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔اور خوداسٹیئرنگ سنبھال لی ۔
”گاڑی مجھے چلانے دو ۔“بیرٹ کا تھیلا عقبی نشست پر پھینکتے ہوئے اس نے مجھے دوسری نشست کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا ۔”آپ کا نشانہ مجھ سے کئی گنا بہتر ہے اور میں آپ سے زیادہ رستوں سے واقف ہوں ۔“
میں بحث کیے بغیر دوسری نشست پر منتقل ہو گیا ۔پلوشہ نے کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میری گود میں پھینکی اورساتھ ہی گاڑی کے قریب گری ہوئی لاشوں کی گنیں اور ان کے بنڈوریل سے فالتو میگزینیں بھی نکال کر بیرٹ کے پاس پھینک دی تھیں ۔ایسے حالات میں اس کا دماغ بہت تیزی سے کام کرتا تھا ۔یقیناہتھیاروں اور ایمونیشن کی ہمیں سخت ضرورت پیش آ سکتی تھی ۔
وہ اندر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی ۔جبکہ میں NVGآنکھوں سے ہٹا نے لگا کہ اب اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا ۔
گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اس نے مشرقی جانب موجود ایک مکان کے دائیں طرف بنے رستے پر گاڑی آگے بڑھا دی ۔
”دلبر خان کہاں چل دیئے ؟“ آئی کام سیٹ سے کسی کی آواز آئی ۔یقینا یہ آخری مکان کے سامنے کھڑی ہوئی پارٹی کا کمانڈر پوچھ رہا تھا ۔
میں نے اسے جواب دینے کی تکلیف گوارا نہیں کی تھی ۔
”دلبر خان !جوا ب کیوں نہیں دے رہے ،دلبر خان ....دلبر خان ....“وہ مسلسل اس ساتھی کو پکارنے لگا جو ہر قسم کے سوال و جواب سے بہت دور جا چکا تھا ۔
ایک نئی آواز نے پوچھا ۔”دلبر خان !....جواب کیوں نہیں دے رہے ؟“ اور اس مرتبہ بھی دلبر کی کوئی آواز نہ ابھرتے دیکھ کر اسی آواز کی طرف سے پوچھا گیا ۔
”طورخم جان !....اس کا رخ کس طرف ہے ؟“
”کمانڈر !....اس کی گاڑی مشرقی جانب نشیب میں اتر رہی ہے ۔“
”اس کا پیچھا کرو طورخم جان....“کمانڈر کی چیختی ہوئی آواز ابھری اور پھر وہ کسی دوسرے کو پکارنے لگا۔
”وزیر خان !....دلبر خان کی گاڑی آپ کی طرف آرہی ہے ،تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ سڑک پر ہو کر اسے روکو ۔“
وزیر جان کا اثباتی جواب ابھرا ۔”جی کمانڈر ۔“
”کمانڈر !....اس گاڑی میں دلبر خان نہیں ہے ،اس کی اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں یہاں بکھری پڑی ہیں ۔“یقینا طورخم کو ہمارا پیچھا کرنے کے لیے اس مکان کے قریب سے گزرنا پڑا تھا جہاں دلبر خان کے ساتھی موجود تھے اور گاڑی کی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں سڑک پر پڑی لاشوں کا نظر آجانا حیرانی کا باعث نہیں تھا۔
”جانے نہ پائے ۔“کمانڈر کی آواز میں غیض وہ غضب بھرا تھا ۔ہم دونوں خاموشی سے ان کی باتیں سن رہے تھے ،تھوڑا سا نیچے آکر پلوشہ نے گاڑی کا رخ انگور اڈے کے بہ جائے مخالف سمت میں موڑ دیا ۔
”وہ ڈمبریانی کی طرف مڑ گئے ہیں ۔“یہ طور خم کی آواز تھی ۔
کمانڈر نے کہا ۔”تم تعاقب میں رہو ،ہم بھی آ رہے ہیں ۔“مجھے بائیں جانب دو گاڑیوں کی روشنی نظر آرہی تھی جو نشیب میں اتر رہی تھیں ۔
”پلوشے رفتار بڑھاﺅ ۔“بائیں جانب آنے والی روشنی کو دیکھتے ہی میں نے پلوشے کو ہدایت کی اور اس کے ساتھ ہی میں نے گاڑی کی ہیڈ لائیٹس پر نشانہ سادھ کر گولی چلا دی ۔
مگر چلتی گاڑی سے متحرک ہدف کو نشانہ بنانا لگ بھگ ناممکن ہی تھا ۔کیونکہ چلتی گاڑی میں انسان کے جسم کو مسلسل حرکت ملتی رہتی ہے ۔گو تربیت کے دوران ہم نے چلتی گاڑی سے بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مشق کی تھی لیکن پھر بھی میں ناکام رہا تھا ۔
اگلی مرتبہ میں نے ایک گولی فائر کرنے کے بجائے تین چار گولیوں کا برسٹ چلایا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اگلی گاڑی کی دائیں والی لائیٹ بجھ گئی تھی ۔
اچانک دو تین کلاشن کوفیں اکھٹی گرجنے لگیں ۔بلا شک و شبہ نشانہ ہماری گاڑی ہی تھی ۔
پلوشہ نے ایکسی لیٹر کو مکمل دبا دیا تھا ۔سیدھی سڑک پر گاری کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح اڑی جا رہی تھی ۔پلوشہ کا با اعتماد انداز میں اسٹیئرنگ ویل پکڑنا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ ایک ماہر ڈرائیور تھی ۔
بائیں جانب آنے والی گاڑیوں کے سڑک پر پہنچنے سے پہلے ہم آگے نکل گئے تھے ۔ہمارے عقب میں بھی ایک گاڑی نظر آ رہی تھی جو یقینا طورخم جان کی تھی ۔طورخم کی گاڑی سے پہلے ہی بائیں جانب سے آنے والی دونوں گاڑیاں سڑک پر پہنچ چکی تھیں ۔
میں نے سیٹ کو لیور کے ذریعے پیچھے کیا اور عقبی نشست پر منتقل ہو گیا ۔آئی کام سے ان کی اٹھنے والی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں ،شاید انھوں نے متبادل چینل لگا لیا تھا ۔میرے پاس فی الحال چینل تلاش کرنے کا وقت نہیں تھا ۔کلاشن کوف کے بٹ سے سیٹ کے عقب میں لگا ہوا شیشہ توڑ کر میں نے کلاشن کوف کی بیرل باہر نکال لی ۔مخالفین کی اگلی گاڑی سے اکادکا فائر کی آواز آ رہی تھی ۔اس گاڑی کی ایک ہیڈ لائیٹ میں ناکارہ کر چکا تھا ۔میں نے گاڑی کی دوسری ہیڈ لائیٹ پر شست باندھی اور دو ہلکے برسٹ چلا دیئے ۔میری دوسری کوشش کامیاب رہی تھی ۔
”ایک تو گئی ۔“پلوشہ نے شیشے میں سے گاڑی کی ہیڈ لائیٹ ضائع ہوتے دیکھ لی تھی ۔
”باقی بھی جائیں گی ۔“میں اعتماد سے بولا ۔اور دوسری گاڑی کے آگے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔
پلوشہ نے ایک خطرناک موڑ کاٹنے کے گاڑی کی رفتار آہستہ کی اور موڑ کاٹتے ہی رفتار بڑھا دی ۔میں آئی کام کے چینل تبدیل کرنے لگا ۔جلد ہی مطلوبہ چینل مجھے مل گیا ۔ان کی باتیں سن کر پتا چلا کہ کمانڈر کی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس ٹوٹی تھیں اور میرا تعاقب کرنے کے لیے وہ دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔ اس کے ساتھ وہ صنوبر خان سے مزید گاڑیاں اور آدمی بھی منگوا رہا تھا ۔
ہم نے مسلسل دو تین موڑ کاٹے ،اچانک میرے دماغ میں ایک منصوبہ پیدا ہوا اور اس پر عمل کرنے کے لیے میں نے فوراََ پلوشہ کو کہا ....”اگلا موڑ کاٹ کر گاڑی روک دو ۔“
”کیوں ....؟“حسب توقع اس نے سوال پوچھنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا تھا ۔
”میرا خیال ہے رک کر ہم دونوں گاڑیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔“
”اس کے لیے دو تین کلومیٹر بعد ایک مناسب جگہ آئے گی ۔“میرے ساتھ متفق ہوتے ہوئے اس نے منصوبے میں تھوڑی سی ترمیم بھی کر لی تھی ۔مجھے اس کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا تھا اس لیے میں نے اگلے ہی موڑ پر رکنے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔جلد ہی ہم مطلوبہ موڑ کے پاس پہنچ گئے تھے ۔
وہ موڑاتنا خطرناک تو نہیں تھا لیکن اس کے دائیں طرف موجود کھڑی ڈھلان کافی خطرناک تھی ۔جہاں سے گرنے کی صورت میں گاڑی پچاس ساٹھ فٹ نیچے نالے میں جا گرتی ۔سڑک کے بائیں جانب بھی ایسی ڈھلان موجود تھی جس پر گاڑی کا چڑھنا ناممکن تھا ۔
گاڑی موڑ کر اس نے ایک چٹان کے عقب میں کھڑی کی اور سرعت سے نیچے اتری ،میں نے بھی نیچے اترنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔ایک کلاشن کوف پلوشہ کی جانب بڑھاتے ہوئے میں نے اپنی کلاشن کوف پر بھی بھری ہوئی میگزین چڑھا لی تھی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے NVGبھی اٹھا کر آنکھوں پر باندھنے لگا ۔کیونکہ اگر وہ گاڑی روک کر مقابلے پر اتر آتے تو اس اندھیرے میں ان نقل و حرکت دیکھنے میں NVGمیرے بہترین مدد گار ہو سکتی تھی ۔
آٹھ نو فٹ اوپر چڑھ کر ہم دونوں نے ایک پتھر کے عقب میں مورچہ سنبھال لیا تھا۔
”اگلی گاڑی تمھاری ہے ۔“میں نے NVGآن کرتے ہوئے اسے مطلع کیا ۔
”ٹھیک ہے باس ۔“وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔ذرا سا بھی محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ خطرناک صورت حال کو کوئی اہمیت دے رہی ہے ۔
اس وقت موڑ کی جانب سے روشنی نمودار ہوئی ،پلوشہ نے اپنی کلاشنی کوف پہلے سے کاک کر کے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا ہوا تھا ۔(ناول پڑھنے والے زیادہ تر افراد تو سیفٹی لیور اور اس کی مختلف پوزیشنز کے متعلق جانتے ہیں مگر کچھ قارئین ایسے ہوتے ہیں جن کا ساری زندگی کسی ہتھیار سے پالا نہیں پڑا ہوتا ۔خصوصاََ خواتین کہ ہتھیار سے کوسوں دور ہوتی ہیں ،ان کی معلومات کے لیے بتاتا جاﺅں کہ آٹومیٹک ہتھیار میں سیفٹی لیورکے ایک تین کام ہوتے ہیں ۔جس وقت سیفٹی لیور محفوظ پوزیشن پر لگا ہو تب ٹریگر دبانے سے بھی ہتھیار فائر نہیں کرتا ۔جب سیٹی لیور سیمی آٹومیٹک پوزیشن میں لگا تب ہر بار گولی چلانے کے ٹریگر کو دبانا پڑتا ہے ۔اور جب سیفٹی لیور برسٹ پر لگا ہو تب ایک بار ہی ٹریگر دبانے سے ہتھیار سے مسلسل گولیاں برسنا شروع ہو جاتی ہیں )
دونوں گاڑیوں کے درمیان چند گز کا فاصلہ تھا ۔موڑ سے ہمارے مورچے تک پچاس ساٹھ گز سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا ۔وہ نسبتاََ پھیلا ہوا موڑ تھا یوں کہ جب تک ان کی گاڑٰ قریب نہ آجاتی ہماری گاڑٰ پر ان کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی ۔
پچاس ساٹھ گز اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ ہمیں دونوں گاڑیوں کے موڑ کاٹنے کے بعد انتظار کرنا پڑتا۔ جونھی دونوں گاڑیاں موڑ کاٹ کر سیدھا ہوئیں پلوشہ نے ٹریگر پر انگلی رکھ کر فائر کھول دیا اور اس کے ساتھ ہی میری کلاشن کوف بھی آگ اگلنے لگی ۔زوردار دھماکے کے ساتھ اگلی گاڑی کا دایاں پہیہ پھٹا اور گاڑی بے قابو ہو کر نالے میں جا گری ۔پچھلے ڈرائیور نے گاڑی بائیں جانب ڈحلان کی طرف موڑنی چاہی ،تھوڑی سی چڑھائی چڑھتے ہی گاڑی پہلو کے بل گر پڑی تھی ۔میں نے اس پر گولیاں برسانا جاری رکھا تھا ۔پلوشہ نے بھی نئی میگزین چڑھا کر کلاشن کوف کاک کی اور دوبارہ فائرنگ شروع کر دی ۔
اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا ، اور گاڑی نے آگ پکڑ لی ،یقینا فیول ٹینک میں گولی لگ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی چند انسانی چیخیں بلند ہوئیں ،مگر کوئی گاڑی سے دور نہیں جا سکا تھا ۔
”چلو ۔“NVGمیں کسی کو حرکت نہ کرتے دیکھ کر میں اپنے گاڑی کی طرف بڑ ھ گیا ۔پلوشہ نے ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی ۔تھوڑا سا آگے جاتے ہی اس نے نسبتاََ آسان ڈھلان دیکھ کر گاڑی نالے میں اتار لی ۔اس کے ساتھ ہی وہ بولی ۔
”راجو !....بہتر ہو گا کہ ہم نالے نالے میں واپس علام خیل کی طرف جائیں ،ورنہ ا ب وہ پوری قوت سے اس سڑ ک پر آگے بڑھیں گے ،ہوسکتا ہے انھوں ڈمبریانی کے سردار ثقلین سے بھی مدد مانگ لی ہو اور وہ سڑک پر ہمارا منتظر ہو۔
”ٹھیک ہے ۔“مجھے اس کے ساتھ متفق ہوتے ہی بنی تھی ۔
”شب دید عینک مجھے دے دو ۔“اس نے ہیڈ لائیٹس آف کرکے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔
NVGاس کے حوالے کرنے کے بہ جائے میں نزدیک ہو کر خود ہی اس کے سر پر NVGکے تسمے باندھنے لگا ۔
اس نے کیبن کی اندرونی لائیٹ بجھاتے ہوئے تعریفی لہجے میں کہا ۔”بڑا صاف نظر آرہا ہے۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”خاک صاف نظر آرہا ہے ۔آنکھیں ترس ہی گئی ہیں ۔“
اور اس کے نقرئی قہقہے سے گاڑی کا کیبن گونج اٹھا تھا ۔
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ۔“میں نے منہ بنایا۔
”ہنسنے کی بات تو ہے نا ،جب نظر آتی ہوں اس وقت دیکھتے نہیں اور اب چند لمحوں کے لیے میرا چہرہ اوجھل کیا ہوا کہ جناب کو غم نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔“
”اس میں تو کوئی شک نہیں ہے چندا ،کہ جونھی تمھارا چہرہ نظر سے ذرا سا اوجھل ہوتا ہے میں پریشان ہو جاتا ہوں ۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”یہ وہی چہرہ ہے نا جس پر اتنے تھپڑ مار چکے ہو جتنا کسی پرانے میراثی نے ڈھول بھی نہیں پیٹا ہوگا ۔“
میں نے وارفتگی سے کہا ۔”وہ سارے تھپڑ جو بہ ظاہر تمھارے پھول سے گالوں پر لگے تھے ،ان کی تکلیف میرے دل کو جھیلنا پڑی تھی ۔“
”جھوٹا ۔“اس کے لہجے سے امڈتی چاہت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی ۔
ہم صنوبر خان کی تباہ شدہ گاڑیوں کی جگہ سے آگے بڑھے تب مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا ، کیونکہ اگر ان کی کچھ اور گاڑیاں وہاں تک پہنچ گئی ہوتیں تو ایک جگہ پر رکے ہونے کی وجہ سے وہ نالے میں جاتی ہوئی ہماری گاڑی کو دیکھ لیتے۔البتہ سفر کی حالت میں انھیں اندھیرے نالے کے بیچوں بیچ چلتی ہوئی ایسی گاڑی نظر نہیں آسکتی تھی جس کی ہیڈ لائیٹس بجھی ہوں ۔
NVGسے اتنا زیادہ بھی واضح نظر نہیں آتا کہ پلوشہ گاڑی کو زیادہ تیز چلا سکتی ،یوں بھی نالے میں بکھرے چھوٹے بڑے پتھر اچھی خاصی رکاوٹ پیدا کر رہے تھے ۔تھوڑی دیر بعد ہمیں علام خیل کی طرف سے تین گاڑیاں تیزی سے حرکت کرتی نظر آئیں ۔انھیں دیکھتے ہی پلوشہ نے گاڑی روک کر انجن بند کر دیا تھا ،گو اس کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں تھی مگر وہ ذرا سا بھی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی ۔
گاڑیوں کے گزر جانے کے بعد وہ دوبارہ چل پڑی۔جلد ہی ہم علا م خیل کے مضافات میں پہنچ گئے تھے ۔علام خیل سے آگے بڑھنے کے بعد بھی پلوشہ نے گاڑی کوسڑک پر چڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ کہیں انھوں نے انگور اڈے سے کوئی نفری وغیرہ نہ منگوائی ہو ۔
”اب جاناکہاں ہے ؟“علام خیل سے تھوڑا آگے آتے ہی اس نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
میں نے کہا”انگور اڈہ یا رغزئی چلتے ہیں ۔“
وہ کہنے لگی ۔”ا س کے لیے گاڑی سڑک پر چڑھانا پڑے گی ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی مناسب ڈھلوان دیکھ کر گاڑی کو سڑک کی طرف موڑتی ،ہمیں دور سے دوڑتی ہوئی روشنیاں نظر آئیں ۔وہ قریباََ چار گاڑیاں تھیں اور انگور اڈے سے علام خیل کی طرف آرہی تھیں ۔پلوشہ نے گاڑی روک کر ایک مرتبہ پھر انجن بند کر دیا ۔جبکہ میں آئی کام سیٹ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے لگا ۔جلد ہی میں نے دشمنوں کی فریکونسی ڈھونڈ لی تھی ۔
”ہم علام خیل پہنچنے والے ہیں سردار !“
”یہاں رکنے کی ضرورت نہیں سیدھا آگے نکلتے جاﺅ ،کمانڈر دوداخان تین گاڑیاں لے کر ان کے پیچھے گیا ہوا ہے ۔اپنی دو گاڑیاں اور ان میں موجود آدمی دھوکے سے تباہ ہو گئے ہیں ۔احتیاط سے جانا اور اس بار ان خبیثوں کو بچنا نہیں چاہیے ۔“صنوبر خان کی آواز پہچاننے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔
باعتماد لہجے میں جواب ملا ۔”بے فکر رہیں سردار !....اگر آپ کو یہاں کچھ آدمیوں کی ضرورت ہے تو میں ایک گاڑی یہیں چھوڑ دیتا ہوں ۔“وہ جو کوئی بھی تھا یقینا انھیں گاڑیوں میں موجود تھا جو ابھی انگور اڈے سے علام خیل پہنچی تھیں ۔
”نہیں ،میرے ساتھ سدھیر خان اور بادشاہ گل موجود ہیں ،زیادہ بندوں کی اسے گھیرنے کے لیے ضرورت پڑے گی ،اس لیے تمام گاڑیاں ساتھ لے جاﺅ ۔اور ہاں ....زندہ لانے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
خباثت بھرے لہجے میں پوچھا گیا ۔”ویسے لڑکی کو چند دن زندہ رکھنے میں کیا حرج ہے سردار۔“
”تم نہیں سدھرو گے شالم خان ۔“صنوبر خان نے ہنستے ہوئے کہا ۔”اس خبیث کو گولی مارتے ہی پلوشہ خان کو سیدھا یہاں لے کر آنا ،میرا خیال ہے اس پرخبیث ایس ایس سے زیادہ ہمارا حق ہے ۔“
”شکریہ سردار !....“شالم نے مکروہ لہجے میں کہا ۔اسی وقت ہمیں ان کی گاڑیوں کی عقبی روشنی علام خیل سے آگے کی طرف حرکت کرتی نظر آئی۔
”راجو!....کیا خیال ہے ؟“پلوشہ نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔
”تم بے وقوف تو نہیں ہو۔“اس کے انداز سے مجھے اس کی بات کی تہہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی تھی ۔
”صرف دو محافظ اس کے ساتھ ہیں ....اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ہم اس کے پاس پہنچ جائیں گے ۔“
میں نیم دلی سے کہا ۔”پلوشے!.... بغیر کسی منصوبے کے صنوبر خان پر ہاتھ ڈالنا مناسب نہیں ہو گا ۔“
”راجو یہ موقع پھر ہاتھ نہیں آئے گا ۔“وہ مصر رہی ۔
چلو ....“میں زیادہ دیر اس کی بات نہیں ٹال سکا تھا ۔
”شکریہ راجو !“خوشی سے چہکتے ہوئے اس نے گاڑی سڑک پر چڑھا دی ۔آنکھوں سے NVGاتارتے ہوئے اس نے گاڑی کی روشنیاں جلا دی تھیں ۔
”ویسے لائحہ عمل کیا ہوگا ؟“صنوبر خان کی حویلی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ پوچھنے لگی ۔
”ان کی گاڑیاں آجارہی ہیں ۔بس سیدھا حویلی کے داخلی دروازے کی طرف چلتی جاﺅ ۔یوں بھی یہ انھی کی گاڑی ہے ۔“
”میرا ارادہ بھی یہی ہے ۔“اس نے میری تائید میں سر ہلادیا۔
بیٹھک کے دروازے پر پہنچتے ہی اس نے کیبن کی اندرونی روشنی بجھا دی ۔ذیلی کھڑکی کھول کر چوکیدار نے باہر جھانکتے ہوئے اس نے پوچھنے کی کوشش کی ۔
”کیا اندر جانا ....؟“سائیلنسر لگے گلاک نے اسے فقرہ پورا نہیں کرنے دیا تھا ۔اس کابالائی دھڑ کھڑکی سے باہر آگر تھا ۔
”چلو اترو ۔“میں سرعت سے کھڑکی کھو ل کر باہر نکلا ۔پلوشہ میرے کہنے سے پہلے حرکت میں آ چکی تھی ۔اسے اپنے عقب میں رکھتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا ۔صحن کے جنوب مغربی اور شمال مشرقی کونے میں دو بڑے انرجی سیور لگے اندھیرے سے برسر پیکا رتھے ۔
اندر داخل ہوتے ہی میں نے چوکیدار کی لاش گھسیٹ کر دروازے سے اندر کی ،پلوشہ نے اندر گھستے ہی ذیلی کھڑکی بند کر دی تھی ۔
بیٹھک کے اندر ملازموں کاایک کمرہ روشن تھا اور اس کا دروازہ بھی کھلا تھا ۔یہ وہی کمرہ تھا جہاں پلوشہ نے لڑکے کو قید کیا تھا ۔اس کے ساتھ وی آئی پی کمرے سے بھی روشنی جھلک رہی تھی ۔
”اس کمرے میں صنوبر خان ہو گا ،میرے آنے سے پہلے اندر نہ جانا ۔“میں نے پلوشہ کو وی آئی پی کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے دبے قدموں اس جانب بڑھ گئی ،جبکہ میرا رخ صنوبر خان کے محافظوں کے کمرے کی طرف ہو گیا تھا ۔
دروازے کے قریب پہنچتے ہی میرے کانوں میں آئی کام سیٹ کی کھڑکھڑاتی آواز گونجنے لگی ۔ وہ ہماری تلاش میں نکلی ہوئی پارٹیوں کی باتیں سن رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان کی حالات حاضرہ پر گفتگو بھی جاری تھی ۔
”ویسے مجھے تو شک ہے کہ وہ ملک ثقلین کے سڑک پر پہنچنے سے پہلے ہی ڈمبریانی سے آگے گزر گئے ہوں گے ۔“
”ناممکن اتنی جلدی وہ ڈمبریانی سے آگے نہیں جا سکتے ۔“دوسری آواز نے پہلے والے کو جھٹلایا۔میرے پاس ان کی فضول گفتگو سننے کا وقت نہیں تھا ۔ایک دم پستول تانتے ہوئے میں اندر داخل ہوا ۔وہ دونوں اپنی کلاشن کوفیں چارپائی کے ساتھ کھڑی کر کے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے ۔کمرے میں پھیلی سفیدے کی لکڑی کے جلنے کی بو ظاہر کر رہی تھی کہ وہ چرس سے بھرے ہوئے سگریٹ کو جڑے تھے ۔ ان دو نوں کو میں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ ہر وقت صنوبر خان کے ساتھ سائے کی طرح جڑے رہتے تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی وہ اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے ۔
”تت....تم ....تم....؟“دونوں کے منہ سے بے ساختہ پھسلا ۔
”ہاں ....میں نے سوچا کہاں کہاں میری تلاش میں خوار ہوتے رہو گے ،چلو میں خود ہی تمھارے پاس پہنچ جاتا ہوں ۔“
”چلو سردار کے پاس چلتے ہیں ۔“سدھیر خان نے چارپائی کے ساتھ کھڑی کلاشن کوف کی طرف محتاط انداز میں ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس انداز میں کہا گویا میں ان کی دعوت ہی پر تو وہاں پہنچا تھا ۔
میں اس کی بات کا جواب دینے کے بہ جائے اس کے کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کی طرف پستول کی نال کر کے ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ ہی ایک تیز کراہ اس کے منہ سے نکلی اور وہ مضروب ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے دہرا ہو گیا ۔ بادشاہ گل نے ایک دم جھپٹ کر ہتھیار اٹھانا چاہا مگر گلاک کی بے آواز گولی اس سے تیز ثابت ہوئی تھی ۔جھکنے کے بعد وہ سیدھا نہیں ہو سکا تھا ۔اور اسی طرح اوندھے منھ گر گیا تھا ۔
”تت....تم ....تم۔“سدھیر خان نے ہکلا کر کچھ کہنا چاہا مگر اس کی بکواس سننے کا میرے پاس وقت نہیں تھا ۔تیسری بار ٹریگر دبا کر میں نے ایک گولی اس کی کھوپڑی میں اتاری اور مڑ گیا۔ برآمدے سے نکلتے ہی مجھے پلوشہ وی آئی پی کمروں کے سامنے چوکنے کے انداز میں کھڑی نظر آئی ۔
مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ اس اثناءمیں میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔دروازے پر رک کر اس نے تصدیق چاہنے والے انداز میں میری جانب دیکھا اور میرے اثبات میں سر ہلانے پر دروازے کو زور دار ٹھوکر رسید کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئی ۔میں بھی اس کے ساتھ ہی تھا ۔
صنوبر خان صوفے پر پھیل کر بیٹھا تھا ۔اس کے سامنے بدیسی شراب کی بوتل کھلی پڑی تھی ۔ ایک ادھ بھرا گلاس اس نے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا ۔ہمارے ایک دم اندر داخل ہونے پر وہ ہکا بکا رہ گیا تھا ۔ اس کے چہرے پر چھائی حیرانی سے محظوظ ہوتے ہوئے پلوشہ تیکھے لہجے میں بولی ۔
”سردار صنوبر خان وزیر !....سنا ہے آپ مجھے یہاں بلوا رہے تھے ،حکم کریں کیا کام تھا ۔“
حیرت کے پہلے جھٹکے سے سنبھلتے ہی اس کے چہرے پر حیرت کی جگہ خوف ظاہر ہوا ،مگر اس نے ہمت کر کے خود کو بے خوف ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔یوں بھی اتنے بڑے سردار کو اپنے احساسات چھپانا آتے تھے ۔
”ایس ایس!....تم نے ہمیں دھوکا دے کر اچھا نہیں کیا ۔“اس کا انداز دھمکی سے زیادہ شکوے کا رنگ لیے ہوئے تھا۔
”گو سوال جواب کا وقت گزر گیا ہے ،اس کے باوجود میں ایمان سے بتاﺅ دھوکا کس نے دیا ہے ،کیا جرگے کے بعد میں نے تمھارے کسی آدمی کو نشانہ بنایا تھا ....یقینا تمھارا جواب نفی میں ہو گا ۔ لیکن تم نے میری منگیتر کے ساتھ کیا کیا ؟“
وہ ڈھٹائی سے بولا ۔”جھوٹ بکتی ہے ،وزیر قوم کے نام پر بدنما دھبہ ہے یہ ۔ورنہ سچ وہی ہے جو میں تمھیں بتا چکا ہوں ۔اس نے تمھارا سودا کیا اور بدلے میں پندرہ لاکھ کی خطیر رقم وصول کی ۔“
میں مسکرایا ۔”ویسے داد دینا پڑے گی تمھاری ڈھٹائی کی ۔شاید تمھیں معلوم نہ ہو کہ ٹریسی والکر مجھے سب کچھ سچ سچ بتا چکی ہے ۔“
”چلو ایسا ہی ہے ....پھر بھی اس کے بعد ہماری صلح ہو چکی ہے اور میرا خیال ہے یہ وقت گڑے مردے اکھیڑنے کا نہیں ہے ۔“وہ اپنے جھوٹ پر قائم نہیں رہ پایا تھا ۔
”تھوڑی دیر پہلے تم اپنے آدمیوں کو میرے قتل کا حکم صادر کر چکے ہو اور اس کے ساتھ میری بیوی کے بارے نہایت گھٹیا حکم دے چکے ہو ۔“
”ہم سب کچھ بھلا کر نئے سرے سے دوستی کا آغاز کر سکتے ہیں ۔“اس مرتبہ وہ اپنا اعتماد برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا سرد لہجہ اور پلوشہ کے غضب بھرے تیور اسے گھگھیانے پر مجبور کر گئے تھے ۔
”اچھا مشورہ ہے ۔“میں نے اطمینان بھرانداز میں سر ہلایا۔”لیکن پلوشہ کو یقینا یہ مشورہ پسند نہیں آئے گا ۔“
وہ سرعت سے بولا۔”پلوشہ میری بیٹی کی طرح ہے ....میں اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لوں گا ۔“
”چلو مانگو ....“میں نے استہزائیہ انداز میں کہہ کر ذرا ایک طرف ہوا ۔
”پلوشہ میں تمھارے قبیلے کا سردار ہوں۔میں مانتا ہوں کہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے ۔لیکن یقین مانو تمھارے بھائی اور ماں کو میں نے کچھ بھی نہیں کہنا تھا صرف تمھیں ڈرا رہے تھے اور دیکھ لو وعدے کے مطابق انھیں بھی رہا کر دیا تھا اور تمھارا منگیتر بھی زندہ سلامت تمھارے پاس موجود ہے ۔“
”صنوبر خان ،یہ ہر فرعون کی فطرت میں شامل ہے کہ جب موت کو سامنے پاتا ہے تو سدھرنے کے دعوے شروع کر دیتا ہے ۔قوم کا سردار قوم کی ہر لڑکی کے باپ کی جگہ پر ہوتا ہے ،لیکن باپ اپنی بیٹیوں کے کپڑے تو نہیں پھاڑا کرتے ۔تُف ہے تم جیسے گندے باپ پر ۔“یہ کہتے ہی پلوشہ نے پستول والا ہاتھ سیدھا کیا،صنوبر خان نے دہشت زدہ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھائے گویا گولیوں کو روک رہا ہو، مگر گولیاں ایسی ڈھال سے نہیں رکا کرتیں ۔پلوشہ ترس کھائے بغیر مسلسل ٹریگر دباتی گئی یہاں تک کہ پستول ہی خالی کر دیا ۔اس کی میگزین میں چھے گولیاں بچی ہوئی تھیں دو صنوبر خان کے سر اور باقی چھاتی میں لگی تھیں۔اسے زیادہ دیر پھڑکنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔اس کے ساکت ہوتے ہی میں نے کہا ....
”پلوشے چلو ۔“
وہ جیسے گہرے خیال سے چونکتے ہوئے بولی ۔”آں ....ہاں ....چلیں ۔“
ہم باہر نکل آئے ،اور گاڑی میں بیٹھ کر انگور اڈے کی جانب چل دیئے ایک بہت بڑا مرحلہ بہ خیر و خوبی گزر گیا تھا ۔پلوشہ نے اپنے چھوٹے بھائی ،ماں اور اپنی ہتک کا بدلہ لے لیا تھا۔جبکہ میں نے ایک اور دہشت گرد کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا ۔اب مجھے آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا ۔گو اب تک میں خود میں اتنی جرّات مفقود پاتا تھا کہ پاک آرمی کے کسی ذمہ دار سے رابطہ کروں ۔البرٹ روک نے میری جس قسم کی وڈیو زتیار کی ہوئی تھیں ان کے مطابق میرے آرمی سے رابطہ کرنے کو بھی ایک سازش سمجھا جا تا ۔ اب میرے آرمی سے رابطہ کرنے پر لازمی بات ہے سب سے پہلے مجھ سے یہی مطالبہ کیا جاتا کہ میں گرفتاری پیش کروں ۔اور جب تک میں اپنی بے گناہی کے ثبوت نہ ڈھونڈ لیتا میرا گرفتاری پیش کرنا ممکن نہیں تھا ۔اور لازمی بات ہے گرفتاری پیش نہ کرنے کی صورت میں مجھے سچ مچ غدار قرار دیا جاتا ۔اور غدار کے لیے احکام تبدیل ہو جایا کرتے ہیں ۔
یہ بھی ممکن تھا کہ اب تک البرٹ بروک، پاک آرمی تک میری وڈیوز پہنچا چکا ہوتا ۔میں عجیب قسم کے حالات میں پھنس گیا تھا ۔”نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔“کی کہاوت میری حالت پر سو فیصد منطبق ہو رہی تھی ۔کوئی مناسب لائحہ عمل مجھے سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔آخر میں میں نے یہی فیصلہ کیا کہ پلوشہ کو گھر چھوڑ کر واپس اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے لوٹوں گا ۔اور ثبوت ملنے کے بعد کسی ذمہ دار سے ملاقات کروں گا ۔ایک صورت یہ بھی تھی کہ میں اپنی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کے پاس جا کر ساری کہانی من و عن بیان کر دیتا لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ میرا وڈیو بیان تھا جس میں میں نے کرنل کولن فیلڈ کے پوچھنے پر بڑے جوش و خروش سے پاکستان آرمی کے اندر رہتے ہوئے ان کے لیے کام کرنے کی حامی بھری تھی ۔اس بیان کے بعد میری ذات حد درجہ مشکوک ٹھہرتی تھی ۔
”چپ کیوں ہو ؟“مجھے مسلسل خاموش پا کر وہ پوچھے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔
”میرا خیال ہے گھر چلتے ہیں ،تمھاری امی جان اور بھائی کو بھی تلہ گنگ چھوڑ آتے ہیں ، شادی کا باقاعدہ اعلان بھی کردیں گے بلکہ دوبارہ شادی ہی کر لیتے ہیں۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”میں اپنی شادی میں ناچوں گی تو ضرور ۔“
”شرم نہیں آئے گی ۔“
”شرم کیسی ....خوشی کے موقع پر عورتوں کا عورتوں کے مجمع میں ناچنا عام ہے ۔“
”ہاں مگر دلھن تو نہیں ناچا کرتی ۔“
وہ ڈھٹائی سے بولی ۔”جسے زیادہ خوشی ہو وہ ناچتی ہیں ۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”تم بس میرے سامنے ناچ لیا کرنا ....“
وہ زبان نکال کر مجھے چڑاتے ہوئے بولی ۔”آپ کے سامنے تو بالکل بھی نہیں ناچوں گی ۔“
”پھر عورتوں میں بھی نہیں ناچنے دوں گا ۔“میں نے اسے چھیڑا ۔
”آپ کون سا وہاں موجود ہوں گے ۔“
”پھوپھو جان کو بتا دوں گا کہ تم پر نظر رکھے ۔“
”انھیں تو میں ایسے ہاتھ میں کروں گی کہ دیکھ لینا ،ہر وقت آپ کے کان کھینچیں گی ۔“
”اور میں جو تمھاری پٹائی کروں گا وہ ....“
وہ چاہت سے بولی ۔”کوئی بات نہیں ....بس دور نہ جانا ،پٹائی برداشت کر لوں گی ۔“
”کوئی پاگل ہی ہو گا جو اتنی پیاری بیوی کی پٹائی کرے گا ،میں تو پھول کی طرح رکھوں گا ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”بس بس جانتی ہوں،آپ نے اپنی پیاری محبوبہ کو نہیں بخشا ،بیوی کو کہاں معاف کرو گے ۔“
اس کے انداز پر میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”زہر لگ رہی ہے آپ کی ہنسی ۔“اس نے مجھے بازو پر مکارسید کیا ۔
”مکے تم مار رہی ہو اور گلے مجھ سے کیے جا رہے ہیں ۔“
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی ۔”ابھی تو جو چھترول پھوپھو جان اور ابو جان سے کرواﺅں گی تب آپ کو پتا چلے گا ۔“
”میں شادی ہی نہیں کرتا ۔“
”وہ تو ہو چکی ہے جنا ب۔“
”کوئی ثبوت ہے ؟“
”ہاں ۔“قریب کھسک کر اس نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔”یہ ثبوت کافی ہے یا کوئی اور دلیل پیش کروں ۔“
ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے میں نے دوسرا ہاتھ اس کی زلفوں میں پھیرا ۔ ”کافی سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔“
اوروہ ناز بھرے انداز سے مسکرا دی ۔انگور اڈے پہنچ کر میں نے گاڑی نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر کے سامنے روک دی ۔رات کے اس پہر انھیں بے آرام کرنا مناسب تو نہیں تھا مگر مجبوری تھی ۔ انھیں گھر سے بلا کر میں نے گلی ہی میں کھڑے کھڑے مختصر صورت حال سے آگاہ کیا ۔اور بیرٹ ایم 107ان کے پاس چھوڑ کر ہم اجازت لے کرچل پڑے ۔صبح دم ہم وانہ پہنچ گئے تھے ۔کمانڈرنصراللہ خوخل خیل سے ہم نے وانہ میں مجاہدین کے ایک ٹھکانے کا پتا معلوم کیا تھا ۔وہاں گاڑی چھوڑ کر ہم نے صبح کا پر تکلف ناشتا کیا ،صبح کی نماز پڑھی اور ویگن اڈے جا کر ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی ویگن میں بیٹھ گئے ۔
جاری ہے

No comments: