Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر53 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 53 
مصنف۔ طارق خان 

’رادھا۔۔۔میں تجھے اب بھی شما کر سکتا ہوں پرنتو تجھے وچن دینا ہوگاکہ تو اس مسلے سنگ کوئی سمبندھ نہ رکھے گی‘‘ پرتاب نے اپنی سی کوشش کی۔ اسکا چہرہ اس کے قول کا ساتھ نہ دے رہا تھا۔
’پاپی! تو مجھے شکشا دے گا؟‘‘ رادھا اس پر قہر بھری نگاہ ڈال کر گر جی۔ پھر اسکے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ عبدالودود اطمینان سے کرسی پر بیٹھا جھول رہاتھا۔ اسکے پرکشش چہرے پر سکون تھا۔ رادھا نے کچھ پڑھا اور بیڈ کی طرف منہ کرکے پھونک دیا۔ اچانک پرتاب ہوا میں معلق ہوگیا۔ اس کے منہ سے ڈری ڈری آوازیں نکل رہی تھیں۔

’’را۔۔۔را۔۔۔رادھا۔۔۔دو۔۔۔دیوی جی! مجھے شماکردے‘‘ چھت کے پاس جا کر اسکا جسم رک گیا۔ میں جانتا تھا اب کیا ہوگا۔ اسی طرح رادھانے سادھو امرکمار کے سانڈنما چیلے رام داس کو چھت تک پہنچا کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔ رادھا کی نظریں پرتاب کے جسم کا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔ اس کمینے کا انجام قریب تھا۔ کوئی لمحہ جاتا تھاکہ وہ ایک دھماکے سے فرش سے ٹکرا کر ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوجاتا۔ اچانک عبدالودودبرق کے کوندے کی طرح رادھا کی طرف بڑھا اور اسے دونوں ہاتھوں سے دھکا دیا۔ رادھا کی پوری توجہ پرتاب پر تھی اس دھکے سے اڑتی ہوئی دیوار سے جا ٹکرائی۔ میری اور محمد شریف کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ عبدالودودنے یہ کیا کیا؟ لیکن دوسرے ہی لمحے حقیقت ہم پر واضح ہوگئی۔اگر عبدالودود ایک لمحے کی تاخیر کرتا تو رادھا جل کر راکھ ہو جاتی۔ عین اسی جگہ جہاں رادھا ایک لمحے پہلے موجود تھی۔ آگ کاایک شلعہ بلند ہوا اور چھت پر جا کر غائب ہوگیا۔
عبدالودود نے بڑی سرعت سے رادھا کو دھکا دے کر اس کی جان بچائی تھی۔ رادھا دیوار سے ٹکراکر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے ایک نظر چھت کی طرف جاتے آگ کے گولے کو دیکھا پھر عبدالودود کو، اسکی آنکھوں میں تشکرتھا۔ پلکیں جھکا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ یک بیک اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔ اس نے چھت سے معلق پرتاب پر نظر ڈالی اور ہونٹ سکوڑ کر اجنبی آواز میں کچھ کہا۔ پرتاب توپ سے نکلے گولے کی طرح سر کے بل زمین سے ٹکرایا اور اس کا سرپاش پاش ہوگیا۔ حالانکہ فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا لیکن پرتاب کو اس قوت سے پٹخا گیا تھا کہ اسکا سر ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔

رادھا کی آنکھوں سے پھر سرخ شعاع نکلی اور پرتاب کے جسم نے آگی پکڑ لی۔ دو تین منٹ میں وہاں راکھ کے سوا کچھ نہ تھا۔

’’سبحان اللہ‘‘ بے اختیار عبدالودودکے منہ سے نکلا۔ رادھا نے ایک نظر عبدالودودکو دیکھا پھر اس کی تعریف پر شرما کر نگاہیں جھکا لیں۔ بے باک رادھا آج ایک گھریلو لڑکی کی طرح شرما رہی تھی۔ دیوار سے ٹکرانے سے یقیناً رادھا کو تکلیف ہوئی ہوگی لیکن اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔ پرتاب کے جہنم واصل ہونے کے بعد میں تیزی سے صائمہ کی طرف بڑھا۔

’’رک جاؤ پریم!‘‘ رادھاکی آواز آئی۔ میں نے حیرت سے دیکھا۔
’’ابھی تمرا اسے چھونا ٹھیک نہ ہے۔ کالی داس نے جرور کوئی پربند کر رکھا ہوگا۔ کویل ایک پل رک جاؤ۔‘‘ اسنے مجھے سمجھایا۔ میں بادل نخواستہ رک گیا۔ محمد شریف نظریں جھکائے کسی بت کی مانند کھڑا تھا۔ پہلی نظر کے بعد اسنے رادھا کی طرف نہ دیکھا تھا۔ حالانکہ رادھا کا حسن کسی کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن محمد شریف عجب درویش انسان تھا۔ اس عمر میں ایسا تقویٰ میں حیران رہ گیا۔ اچانک باہر کا دروازہ ایک دھماکے سے بند ہوگیا۔
’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘ کمرے میں کالی داس کا بھیانک قہقہہ گونج اٹھا۔ رادھا نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔ اس کے چہرے پر فکر و ترددکے آثار ابھر آئے۔ عبدالودود بھی چوکنا دکھائی دینے لگا۔

’’اس منش کو اپنی پتنی کی اور (طرف) جانے سے کیوں روک دیا تو نے؟ دیکھ کتنا بیاکل ہورہا ہے؟‘‘ کالی داس کی مضحکہ خیز آوازآئی۔

اچانک عبدالودود نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ رادھانے چونک کر دیکھا پھر آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔ کمرے میں ایک بار پھر اندھیرا چھا گیا۔ مجھے صائمہ کی فکر تھی۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ قریب تھا کہ میں جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑاتا ۔ محمد شریف کی آواز آئی۔

’’فکر نہ کریں خان بھائی ذکر کریں۔ ذکر کرنے سے اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی انشاء اللہ۔‘‘

میں نے ایک بار پھر آیۃ الکرسی کا ورد شروع کر دیا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر صائمہ کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ میرا ہاتھ ابھی تک محمد شریف کی گرفت میں تھا۔ پتا نہیں رادھا بھی کمرے میں تھی یا چلی گئی تھی۔ مجھے ڈر تھا اگر وہ ان بدبختوں سے شکست کھا گئی تو صائمہ کا کیا بنے گا؟

’’قائر! یہ کیا بالکوں جیسا کھیل کھیل رہا ہے سامنے آتو جانوں تو کتنا شکتی مان ہے؟‘‘ رادھا کی آواز کمرے میں گونجی۔ رادھاکے بولتے ہی کمرہ روشن ہوگیا۔ وہ اپنی جگہ کھڑی چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔
’وہ سمے دور نہیں جب تو میرے چرنوں میں ہوگی‘‘ کالی داس کی آواز آئی۔

’’ایسی آشائیں من میں رکھے جانے کتنے پنڈت پجاری پرلوک سدھار گئے۔۔۔تو کیا شے ہے؟‘‘ رادھا نے دبنگ لہجے میں کہا۔
’یدی تو اتنی شکتی مان ہے پھر ان منشوں کو لے کر یہاں سے چلی کیوں نہیں جاتی؟‘‘ کالی داس نے ایک بار پھر اس کا مضحکہ اڑایا۔

’’تیرا بلیدان کیے بنا ہی چلی جاؤں؟‘‘ رادھا نے کہا۔

’’ارے میں تو کب سے ایسے اوسر کی تاک میں تھی کہ تو خود میرے چرنوں میں آئے۔ پرنتو تو ہیجڑا بنا مجھ سے چھپا پھر رہا تھا۔ ایک ناری سے ڈراڈرا پھر رہا تھا۔ تھو ہے تیری قائرتا پر‘‘ رادھا نے حقارت سے نیچے تھوک کر دیا۔

’’جو من میں آئے کہہ ڈال۔۔۔تیرا انتم سنسکار(خاتمہ) میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا۔ اس ملیچھ سنگ تیرا بلیدان بھی کالی کے چرنوں میں ہوگا‘‘ کالی داس بھڑک گیا۔
’’رادھا تیری کالی ماتا اسے اپنا سمبندھ توڑ بیٹھی ہے۔ کیول کالی ماتا کیا؟ کوئی دیوی دیوتا اب رادھا کو شراپ نہ دے پائے گا۔‘‘ میں رادھا کی بات سن کر بری چونک گیا۔

وہ کیا کہہ رہی تھی؟ ہمیشہ اپنے دیوی دیوتاؤں کے گن گانے والی کا یہ کہنا مجھے حیران کر گیا۔ اگر میں بھی ان کے بارے میں کچھ کہتا تو وہ برامان جاتی لیکن محبت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ لیکن اس کے چہرے پر ہر بار غصہ چھا جاتا جبکہ آج وہ خود اپنے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی بات کہہ رہی تھی۔ حیرت سے میری عقل گم تھی۔

’’اللہ اکبر‘‘ کمرے میں عبدالودود کا فلک شگاف نعرہ گونجا۔ وہ کمرے میں موجود تھا فقط نظروں سے اوجھل ہوا تھا۔ اس کی آواز سن کرمیرا حوصلہ بڑھ گیا۔ کمرے میں نور برسنے لگا۔ میں سمجھ رہا تھا وہ چلا گیا ہے۔ میں نے دیکھا رادھا کے چہرے سے الجھن کا اظہار ہو رہا تھا۔ عبدالودود کا چہرہ جوش سے تمتما رہا تھا۔ محمد شریف کے ہونٹوں پر خوشی سے بھرپور مسکراہٹ چپکی ہوئی تھی۔ میں حیرت سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ روشنی کے نورانی ہالے نے کمرے کو منور کر دیا۔ کمرہ پہلے بھی روشن تھا لیکن اس روشنی میں اور مقدس روشنی میں بڑا فرق تھا۔
’’تو بدھی کھو بیٹھی ہے مورکھ! دیوی دیوتاؤں کا اپمان کرکے تو نے اپنے دھرم کو نشٹ کر دیا ہے۔ اب تیرا بلیدان کرنا میرا ادھارمک کر یہ (مذہبی فریضہ) ہے‘‘ کالی داس حلق کے بل دھاڑا۔

’کلنکنی ! اس ملیچھ مسلے کے پریم میں تو اپنی بدھی کھو بیٹھی ہے۔ تجھے یہ دھیان بھی نہ رہا کہ تو کیا اناپ شناپ بکے جارہی ہے۔ اب تجھے دیوتاؤں کے شراپ سے کوئی نہ بچا پائے گا۔ ان ملیچھ مسلوں سے کہہ یہ اپنے دھرم کے کسی مہاشکتی مان کر بلائیں جو تیری رکھشا کا پربند کرے۔ کالی ماتا تجھے ایسا شراپ دے گی کہ تو مرتیو مانگے گی پرنتو وہ بھی تجھے نہ ملے گی پاپن!‘‘ غیض و غضب میں گرجاتا کالی داس ہمیں بھی رگڑ گیا
میں نے دیکھا عبدالودود کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ لیکن جب وہ بولا تو اس کی آواز میں ٹھہراؤ تھا۔
’کالی داس! مذہب کوئی بھی ہو اسکے پیروکاروں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے مذہب یا اس مذہب کے ماننے والوں کی شان میں گستاخی کریں۔ تم نے ایک طویل عرصہ اپنے مذہب کی عبادت و ریاضت میں گزارا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ تمہیں عقل نہ آئی۔ علم تو انسان کی فراست کو بڑھاتا ہے لیکن تم نے اس قسم کی باتیں کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ تمہارا علم ادھورا اورناقص ہے۔ شاید تم نے اپنے مذہب کی تعلیمات کا صحیح طور پر مطالعہ نہیں کیا۔ کوئی بھی مذہب انسان کو بدکاری اور ظلم و ستم نہیں سکھاتا۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے ایک معمولی جن زاد ے سے ایک نہایت قبیح فعل کروایا۔۔۔تم نے ایک نامحرم بے قصور کو بلاوجہ پریشن کیا۔ ہمارے مذہب میں اس کی باقاعدہ سزا مقرر ہے۔ لیکن میں چاہتاہوں کہ تم کچھ دیر ہم سے نشست اختیار کرو تاکہ ہم بیٹھ کر شریفانہ انداز سے گفتگو کر سکیں۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اس محترم خاتون کو اپنے جادو سے آزاد کرکے عظمت کا ثبوت دو۔ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں کہ یہی ایک سچا مذہب ہے۔ ایک اللہ کی عبادت کرو۔ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اسکے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور قیامت پر ایمان لے آؤ تاکہ شیطان کے دھوکے سے بچ کر صراط مستقیم پر چل سکو جو سیدھا اور سچا راستہ ہے۔ بھلائی کا یہ راستہ جن و انس کو ہمیشہ کے لئے جنت میں لے جائے گا۔ ورنہ تو اس جبار وقہار اللہ نے بڑا ہی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے جس میں ان سرکشوں کو ڈالا جائے گا جو اسکی نافرمانی کرتے ہیں۔‘‘ عبدالودود کی گھمبیر آواز براہ راست دل پر اثر کر رہی تھی۔ میں تو خیر الحمد للہ مسلمان ہوں لیکن میں نے دیکھا رادھا کی حسین آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ بڑے بڑے جذب کے عالم میں آنکھیں بند کیے عبدالودود کے ذریعے اللہ کا پیغام سن رہی تھی۔
ندامت اور شرمندگی نے اس کے چہرے کو وہ تقدس بخشا جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔

’’تیرا اپدیش کھتم ہوگیا یا ابھی باقی ہے؟‘‘ کالی داس کا لہجہ طنزیہ تھا۔

’’میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے جو میرے ذمے فرض تھا‘‘ عبدالودود نے تحمل جواب دیا۔

’’میں پوچھ رہا ہوں تیرا بھاشن کھتم ہوگیا یا ابھی باقی ہے؟‘‘ کالی داس کی بیزارسی آواز آئی۔

’’تو نہیں جانتا کہ تو اس سمے کس شکتی سنگ بات کر رہا ہے۔ یدی تو جان لے تو ابھی میرے چرنوں میں سر رکھ کے دیا کی بھکشا مانگے گا۔‘‘ وہ متکبر بڑی حقات سے بولا۔’’رہی بات اس کلٹا کی تو میں اسی سمے اسے نرکھ میں پہنچا سکتا ہوں پرتنو میں نے کالی ماتاکو وچن دیا ہے کہ اس کا اور اس کے پریمی کا بلیدان اس کے چرنوں میں اوش ہوگا‘‘ کالی داس نے اپنی بکواس جاری رکھی۔

’’تھوڑا سمے اور جاتا ہے کہ تم سب جان جاؤ گے کہ کالی داس سے یدھ کرنا بالکو کا کھیل نہیں۔ میرے چیلے پرتاب نے تجھے ایک اوسر دیا تھا کہ تو اس کا متر بن جا پرنتو جان پڑتاہے تیرے سر میں بدھی نہیں بھوسا بھرا ہے۔اس ملیچھ کے کارن تمنے کالی داس کے آشرم میں پگ دھرا ہے۔ یہ تیرے جیون کی سب سے بڑی بھول ہے۔ جانتاہوں کچھ شکتیاں تیری سہائتاکر رہی ہیں پرنتو۔۔۔مہاراج وشنو داس نے مجھے وچن دیا ہے اسکا جاپ پورا ہوتے ہی میں تم سب کا بلیدان کالی ماتاکر چرنوں میں کروں گا۔ اس سمے تک تم اسی کوٹھے میں بندی بنے پڑے رہو گے۔ میں وچن دیتا ہوں اسے تمرے واسطے نرکھ بنا دوں گا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی آواز آنا بند ہوگئی۔
سب خاموش تھے میں اس انتظارمیں تھا کہ رادھا یا عبدالودود کیا کرتے ہیں؟ صائمہ بدستور بے ہوش تھی۔ صرف اسکے سینے کے زیر بم سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ زندہ ہے۔ مجھے بچوں کی فکر ستائے جا رہی تھی۔ نامعلوم کتنا وقت گزرا تھا؟ کیوں کہ اس کمرے سے باہر بھی تاریکی تھی۔ نہ ہی میرے پاس گھڑی تھی کہ میں وقت کے بارے میں معلوم کر سکتا۔ اس جادونگری میں کتنا وقت گزرا احساس ہی نہ تھا۔ جی میں آئی کہ محمد شریف سے پوچھوں لیکن سب کو خاموش پاکر میں بھی چپکا کھڑا رہا۔

’’فاروق!‘‘ رادھا نے مجھے پہلی بار میرے اصلی نام سے پکارا۔ میں بری طرح چونک گیا۔ وہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ عبدالودود اور محمد شریف بھی چونک گئے۔ سب کو متوجہ پا کر وہ کہنے لگی۔

’’میں تمہرا دھرم سویکارکرنا چاہتی ہوں‘‘ حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ مجھے لگا جیسے میری سماعت نے دھوکہ دیا ہو۔
’’کک۔۔۔کیا۔۔۔کیا کہہ رہی ہو رادھا‘‘ میں بری طرح بوکھلا گیا۔

’’کیا تم نہیں چاہتے کہ میں وہ دھرم اپناؤں جو اس سنار سے جانے کے بعد بھی میری سہائتا کرے؟‘‘ اس نے نظریں جھکا کر کہا۔

’’سبحان اللہ‘‘ محمد شریف نے کہا۔
’’اللہ اکبر‘‘ عبدالودود نے نعرہ بلند کیا۔ دونوں کے چہرے جوش سے چمکنے لگے۔
’’مجھے ابھی اور اسی سمے اپنے دھرم میں لے آؤ۔‘‘ اس نے دوبارہ کہا۔

’’رادھا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔ لیکن یہ ۔۔۔یہ سب کیسے میرا مطلب ہے تم نے اچھی طرح سوچ لیا ہے نا؟‘‘مجھے ابھی تک یقین نہ آرہا تھا کہ رادھا نے وہی کچھ کہا ہے جو میرے کانوں نے سنا ہے۔
’’کیوں نہیں بہن! یہ تو ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے‘‘ محمد شریف نے مسکرا کر کہا۔ اس کے چہرے سے خوشیوں کا آبشار بہنے لگا تھا۔ عبدالودود کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی
یہ ایک عجیب سا منظر تھا۔شیطان کی آماجگاہ میں نورحق کی شمع روشن ہونے جاری تھی۔
’’اگر آپ چاہتی ہیں ہمیشہ کے لیے نجات پاجائیں تو اس نیک کام میں دیر کیسی۔ لیکن۔۔۔‘‘ اس بار عبدالودود نے رادھا کو مخاطب کیا۔
’’پرنتو کیا۔۔۔تم رک کیوں گے؟‘‘ رادھا پہلی بار براہ راست عبدالودود سے مخاطب ہوئی۔
’اسلام لانے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہوتا ہے‘‘ اس نے کہا۔
’’یہاں آنے سے پہلے اشنان کرکے آئی تھی۔‘‘ رادھا نے سر جھکا کر کہا
’بھائی محمد شریف آپ انہیں کلمہ پڑھا کر یہ سعادت حاصل کریں‘‘ عبدالودود نے محمد شریف سے کہا۔
’’یہ حق بھائی فاروق خان کا ہے۔ کیوں کہ انہی کی کوششوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بہن کو قبول کیا‘‘ محمد شریف نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔
’مم۔۔۔میں اس قابل کہاں؟‘‘ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’بھائی عبدالودود! یہ کام آپ کو ہی کرنا ہوگا یوں بھی آپ ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

’’اگر آپ بھائیوں کی یہی خواہش ہے کہ یہ سعادت مجھے نصیب ہو تو میں سب سے پہلے اس پرودگار کا شکر ادا کرتاہوں جس سے قبضے میں سب مخلوق کی جان ہے۔ پھر آپ لوگوں کا شکریہ‘‘یہ کہہ کر وہ بڑے وقار سے آگے بڑھا اور اپنا صافہ جو اس کے کندھے پر تھا آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
’اسے تھام لیجئے اور جو کچھ میں پڑھوں اسے دہراتی جائیے گا‘‘ اس نے نظریں جھکا کر رادھا سے کہا۔ اس کے بعد وہ مقدس فریضہ ادا کیا جانے لگا جس کے لئے جن وانس کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے کلمہ پڑھا کر ہم سب نے دعا کی۔ مجھے اب تک جتنی کوفت ہوئی تھی سب دھل گئی۔ محمد شریف کے والد صاحب کے الفاظ یاد آئے جنہوں نے اشارتاً مجھے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ نا چیز سے کوئی نیک کام لینا ہے۔ اس کے بعد محمد شریف ہی کے ذریعے حضرت ابولحان صاحب نے بھی مجھے مبارکباد دی تھی۔ رادھا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ معلوم نہیں ندامت کے تھے یا خوشی کے۔
’’بھائی فاروق! آپ انہیں اسلام کے بارے میں کچھ بتائیے‘‘ محمد شریف نے مجھے مخاطب کیا۔
’محمد شریف میں تو خود ابھی طفل مکتب ہوں یہ فریضہ تو آپ کوہی سر انجام دیناہوگا۔ رادھا سرجھکائے کھڑی تھی۔
محمد شریف اسے چیدہ چیدہ باتیں سمجھانے لگا۔
’اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی تمام جہانوں کا مالک ، خالق، رازق ہے۔ اسی کے قبضے میں سب مخلوق کی جان ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔ اس نے ہر ایک کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ ہم سب کولوٹ کراسی کے پاس جانا ہے۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔۔۔‘‘محمد شریف اپنی خوبصورت آواز میں اسلامی تعلیمات کا درس دے رہا تھا۔ رادھا سر جھکائے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے سن رہی تھی۔ اللہ پاک بڑا رحیم ہے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرما دیتا ہے۔ ایک ہندو جن زادی جو ہر دم ، دیوی ، دیوتاؤں کی پوجا پاٹ میں لگی رہتی اب مشرف بہ اسلام ہوگئی تھی مجھے اس بات کی بہت خوشی تھی۔
’’یہ تھیں ابتدائی تعلیمات، باقی میں حضرت صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ آپ کو باقاعدہ اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔‘‘ محمد شریف نے کہا۔
’فاروق! میں نے تمہیں بہت کشٹ دیا ہے پرنتو میں گلط راہ پر چل رہی تھی۔ مجھ سے جو بھی ہوا انجانے میں ہوا۔ تمری سندرپتنی بھی میرے کارن کشٹ بھوگ رہی ہے۔ مجھے شما کر دو‘‘ رادھا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اللہ کے پسندیدہ دین کا اعجاز ہے کہ اس پر چلنے والا خود کی نفی کرکے اللہ کی خوشنودی کی خاطر ہر دم معافی اور مغفرت کا طلبگار رہتا ہے۔

’’رادھا! وقت گمراہی میں تم سے جو کچھ بھی ہو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں کیونکہ جن انس شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ کرتے ہیں۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ تم بہت خوش نصیب ہو۔‘‘میں آبدیدہ ہوگیا۔
continued

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.