Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 54 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا 
قسط۔ 54
مصنف۔ طارق خان 

اچانک کمرہ ایک بار پھر تاریکی میں ڈوب گیا۔ لیکن ایک منٹ کے بعد دوبارہ روشن ہوگیا۔ سامنے نظر پڑی تو میں ششدر رہ گیا۔ دیوار کے پاس ایک قطار میں سات آدمی لنگوٹیاں پہنے کھڑے تھے۔ سب سے آگے ایک ہٹا کٹا طویل القامت شخص تھا۔ اس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے۔ سر انڈے کے چھلکے کی طرح صاف درمیان میں موٹی سی چوٹی لٹک رہی تھی۔ اس نے جسم پر زرد کا کوئی سفوف مل رکھا تھا۔ قد اس کا تقریبا ساڑھے چھ فٹ ہوگا۔ گلے میں کئے موٹے دانوں کی مالا لٹک رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور سرخ انگارے جیسی تھیں۔ ماتھے پر تین مختلف رنگوں کی لکیریں کچھی ہوئی تھیں۔ اس کے پیچھے ایک قطار میں کندھے سے کندھا ملائے دوسرے بچاری کھڑے تھے۔ سب کے حیلے ایک جیسے تھے۔ صرف کالی داس کے بڑے بڑے جھاڑ جھنکار سفید بال اور بے ہنگم داڑھی مونچھیں تھیں۔ باقی سب گنجے اور درمیان میں موٹی موٹی چوٹیاں لٹک رہی تھیں۔ جنہیں انہوں نے اپنے سینوں پر ڈال رکھا تھا۔ سب سے آگے والے بچاری کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ وہ بتوں کی مانند ساکت کھڑے تھے حتیٰ کہ پلک بھی نہیں جھپک رہے تھے۔ سب سے آگے کھڑا بچاری یک ٹک رادھا کو گھور رہا تھا۔
’’مہاراج! یہی وہ پاپن‘‘ کالی داس نے رادھا کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔
مجھے کیا بتاتا ہے مورکھ! سب جانتا ہوں‘‘ اس کی آواز خاصی گرجدار تھی۔

’’کنیا! کیا کالی داس ستیہ کہہ رہا ہے؟‘‘ اس نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد رادھا سے سوال کیا۔
ہاں اس نے جو کہا ہے ستیہ ہے‘‘ رادھا نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔

’’میں تجھے ایک اوسر دیتا ہوں تو دیوتاؤں سے شما مانگ لے۔ مجھے وشواس ہے دیوتا تجھے شما کر دیں گے‘‘ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’میں تمہیں اپدیش دیتی ہوں کہ تو بھی اس راہ کو چھوڑ کر دھرم اسلام سویکار کر لے۔ مجھے وشواس ہے سنسار بنانے والا تجھے شما کر دے گا‘‘ رادھا نے اسی انداز سے جواب دیا۔

’’مہاراج وشنو داس! تمری آگیا ہوتو میں اس پاپن کو چٹیا سے پکڑ کر کالی ماتا کے چرنوں میں لے جاؤں؟‘‘ کالی داس بھڑک کر بولا۔ وشنوداس نے اس اشارے سے خاموش کیا اور عبدالودود سے مخاطب ہوا۔
’کیا تو نہیں جانتا تھا کالی داس کے آشرم میں آنے کی راہ ہے پرنتو جانے کی نہیں؟‘‘

’’میں کیا جانتا ہوں اورکیا نہیں تم اس میں اپنا وقت برباد نہ کرو اور جو کچھ اس محترم خاتون نے تم سے کہاہے اسے مان کر صراط مستقیم پر آجاؤ۔ اللہ پاک بڑا غفور الرحیم ہے تمہارے سارے گناہ معاف کر دے گا‘‘ عبدالودود نے کمال اطمینان سے جواب دیا۔
’ہوں۔۔۔‘‘ اس نے ہنکارہ بھرا۔

’’تو جو کچھ میرے چیلے کالی داس نے کہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ میں نے تجھے اوسر دیا تھا پرنتو تومورکھ ہے۔۔۔ٹھیک ہے کالی داس تو اپنے من کے ارمان نکال لے‘‘ اس نے کالی داس کا اشارہ کیا
کالی داس آگے بڑھا اور وشنو داس کے سامنے جھک کر دونوں ہاتھ جوڑے پھر رادھا کی طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ اس کے موٹے اور بھدے ہونٹ متحرک ہوگئے۔ وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا۔ رادھا کے سکون و اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا۔ اچانک کالی داس بھیانک چیخ مار کر زمین پر گر گیا۔ عبدالودود کا چہرہ سرخ انگارہ بن چکا تھا۔ وشنو داس جو دو قدم پیچھے ہٹ کر اطمینان سے کھڑا تھا بری طرح چونک گیا۔ اس کی آنکھوں میں اچانک شعلوں کا رقص شروع ہوگیا۔ چہرہ بری طرح پھڑکنے لگا۔

’’پاپی! تیری یہ مجال۔۔۔؟ تو وشنو داس کے چیلے پر وار کرے‘‘ وہ غیض و غضب میں دھاڑا۔ پھر گلے سے مالا اتار کر عبدالودود کی طرف پھینکی۔ عبدالودود نے زقند بھری اور ایک طر ف ہٹنے لگا۔ لیکن مالا کسی برق کی طرح اس کے گلے میں پھندے کی طرح پڑ چکی تھی۔ وہ دھڑام سے نیچے گر گیا۔ اس کا خوبصورت چہرہ اذیت کے باعث بگڑ چکا تھا۔ آنکھیں باہر کو ابل آئیں۔ وہ دونوں ہاتھ گلے پر رکھے پھڑک رہا تھا۔ محمد شریف نے دیکھا تو جلدی سے آگے بڑھا لیکن دوسری مالا نے اس کا بھی یہی حشر کیا۔ میں بری طرح بوکھلا گیا۔
’اب کیا وچارہیں؟ تیری سہائتا کرنے والے تو گئے اب کیا کہتی ہے؟‘‘ اس نے قہر ناک نظروں سے رادھا کی طرف دیکھا ۔ مالا جیسے ہی عبدالودود کی گلے میں پڑی کالی داس خود بخود ٹھیک ہرکر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’تم کیول اتنا کر سکتے ہو کہ میرے پران لے لو۔۔۔پرنتو جو راہ میں چنی ہے اس پر سے نہ ہٹوں گی‘‘ رادھا کے اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا۔ البتہ وہ محمد شریف اور عبدالودود کو تکلیف پر بے چین ضرور تھی۔
’چل آگے بڑھ اور ان ملیچھوں کو کالی ماتا کے چرنوں میں پھینک آ۔۔۔میں آتا ہوں‘‘ وشنوداس نے ایک بچاری سے کہا۔

’’مہاراج اس ملیچھ کا کریہ کرم بھی کر دو جس کے کارن یہ سب کچھ ہوا‘‘ کالی داس نے جھجکھتے ہوئے کہا میں پوری جان سے لرز گیا۔ وشنو داس نے ایک بال اپنے سینے سے توڑا اور میری طرف پھینکنے ہی والا تھا کہ بیرونی دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔ سب نے چونک کر دیکھا۔ کھلے دروازے میں ملنگ کھڑا تھا
اسکی بڑی بڑی روشن آنکھوں میں قہر تھا۔ وشنوداس نے اس کی طرف دیکھا اور چوکنا ہوگیا۔ دونوں ایک دوسرے کو آنکھوں میں تول رہے تھے۔ اچانک ملنگ نے فلک شگاف نعرہ لگایا۔
’حق للہ۔۔۔حق‘‘ اور آگے بڑھ کر پاؤں کی ایک ایک ہلکی سی ٹھوکر محمد شریف اور عبدالودود کو رسید کی۔ مالائیں ان کے گلے سے ٹوٹ کر بکھر گئیں۔ دونوں بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ ان کے چہرے جو اذیت سے سیاہ پڑ چکے تھے تیزی سے اصلی حالت میں آگئے۔
مہاراج! یہ بہت بڑا دھشٹ ہے اس کے شریر میں راونڑ کی شکتی ہے‘‘ کالی داس خوفزدہ ہو کر وشنو داس کے پیچھے دبک گیا۔
’قائر! میرے سامنے ایسے شبد منہ سے نکالتے ہوئے تجھے لاج نہ آئی؟ مہاراج وشنو داس کے سامنے اس پاپی کی مہانتا کے گن گا رہا ہے‘‘ وشنو داس غضبناک ہوگیا۔
’’مم۔۔۔مہار۔۔۔ا۔۔۔ج۔۔۔م۔۔۔یں تو۔۔۔میں تو‘‘ کالی داس کا رنگ خوف سے مزید زردہوگیا۔
’میں تجھے آگیا دیتاہوں کہ دیوتاؤں کے نام پر آگے بڑھ اور دھرم کونشٹ کرنے والے ان پاپیوں کا سروناش (تباہ) کر دے‘‘ وشنو داس نے کالی داس کو گدی سے پکڑ کر آگے کر دیا۔
’مہاراج دیا کرو۔۔۔یہ منش نہیں پلید آتما ہے مہاراج! یہ پاپی پہلے بھی مجھے کشٹ دے چکا ہے‘‘ کالی داس ہاتھ باندھ کر وشنوداس کے آگے جھک گیا۔ وہ بار بار مڑ کر ملنگ کی طرف خوفزدہ نظروں سے دیکھتا پھر وشنوداس کی منتیں کرنے لگتا۔

’’گرو جی! یدی آگیا ہو تو میں اس دھشٹ کرکریہ کرم کر دوں؟‘‘ وشنوداس کے پیچھے کھڑے ایک معمر پجاری نے جھک کر وشنوداس سے پوچھا۔
’نہیں۔۔۔کالی داس ہی اس دھشٹ کو کھتم کرے گا۔ آگے بڑھ کالی داس! اور اس پاپی کو نرکھ میں جھونک دے۔ یدی اس یدھ میں تیرے پر ان بھی چلے گئے تو بھاگیہ شالی ہوگا‘‘ وشنوداس نے غصے سے کہا۔ نہ جائے مانند نہ پائے رفتن کے بمصداق کالی داس عجب مصیبت میں پھنس چکاتھا۔ آگے بڑھ کر ملنگ کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی اگر انکار کرتا تو وشنوداس اسے جیتا نہ چھوڑتا۔ آگے کنواں پیچھے کھائی۔دونوں طرف اسے موت نظر آ رہی تھی۔
’’کس وچار میں ہے کیا تو میری آگیا کا پالن نہ کرے گا؟‘‘ وشنوداس کا لہجہ برف سے زیادہ سرد تھا۔
’’چاروناچار کالی داس آگے بڑھا لیکن اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ ملنگ بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

’’جے بجرنگ بلی!‘‘ کالی داس نے ایک فلک شگاف نعرہ لگایا اور جم کر ملنگ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ملنگ کے چہرے پر ذرا فکروتردونہ تھا۔کالی داس نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا اور گلے میں پڑی ہوئی مالا کو توڑ کر ملنگ کی طرف اچھال دیا۔ مالا کسی سانپ کی طرح لہراتی ہوئی ملنگ کی طرف بڑھی۔ دھاگا ٹوٹ جانے کے باوجود اس کے دانے نہ بکھرے تھے۔ مالا برق کی سی سرعت کے ساتھ ملنگ کی طرف آئی لیکن اس کے چہرے سے کچھ فاصلے پر ٹھہر گئی۔ملنگ نے معنی خیز مسکراہٹ سے کالی داس کی طرف دیکھا لیکن خاموش رہا۔ کالی داس نے اپنا وار خالی جاتا دیکھا تو غضبناک ہوگیا۔ اس نے اپنے سینے سے ایک بال توڑ کر ملنگ کی طرف اچھال دیا۔ بال کا حشر بھی مالا سے مختلف نہ ہوا۔ کالی داس ایک سے ایک داؤ آزماتا رہا لیکن ملنگ کی تیوری پر بل نہ ڈالا سکا۔ تھک ہار کر اس نے وشنو داس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں سے بیچارگی جھلک رہی تھی۔
’گرو جی! آگیا ہو تو میں اس پاپی کو نرکھ میں پہنچا دوں؟‘‘اس بچاری نے دوبارہ وشنو داس سے پوچھا۔ وشنوداس بری طرح پیچ و تاب کھا رہا تھا۔

’’پہلے اس پاپی کو نرکھ میں پہنچانے کا پربند کرنے دے۔‘‘ وہ کالی داس کی طرف دیکھ کر دھاڑا۔
’مم۔۔۔مہا۔۔۔را۔۔۔ج شما کر دو مہاراج‘‘ کالی داس اس کے قدموں میں گر گیا۔ وشنو داس نے ایک نظر ملنگ کو دیکھا اور کالی داس کے سر پر تھوک دیا۔ تھوک کا کالی داس کے سر پر گرنا تھا کہ اس نے آگ پکڑ لی۔ دل دہلا دینے والی چیخ کالی داس کے منہ سے نکلی۔ وہ چیختا ہوا کمرے میں بھاگنے لگا۔ آگ آہستہ آہستہ اس کے چہرے کو جلا رہی تھی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے آگ بجھانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جھاڑ جھنکار بال دھڑا دھڑ جل رہے تھے۔ تھوری ہی دیر میں آگ نے اسے بری طرح گھیر لیا اور وہ زمین پر گر گیا۔ آخر وہ موذی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ آگ نے صرف کالی داس کو جلایا تھا قالین کو نہیں۔ وشنو داس نے فاتحانہ نظروں سے ملنگ کی طرف دیکھا۔ کالی داس کو مرتے دیکھ کر ملنگ نے افسوس سے سر ہلایا۔
’یہ تم نے برا کیا۔ میں سمجھا تھا تم اپنے مذہب کے سچے پیروکار ہو۔ مذہب کوئی بھی ہو وہ انسانیت کی حفاظت کا درس دیتا ہے نہ کہ انسانوں کو ایذارسانی کا پیغام۔ تم نے اس بے قصور شخص کو ناحق قتل کر دیا۔ مجھے تمہارے رتبے اور علم پر افسوس ہوا۔‘‘ ملنگ نے افسوس سے سر ہلایا۔
’رام چندر! آگے بڑھ اور اس اپرادھی کو نشٹ کر دے۔‘‘ وشنو داس نے اپنے پیچھے کھڑے پجاری کو حکم دیا جو دو مرتبہ اپنی خدمات پیش کر چکا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ باندھ کر پہلے وشنو داس کے آگے جھکا پھر اس کے پیروں کو ہاتھ لگا کر اپنے ماتھے پر لگایا۔ اس کے بعد اس نے بالکل پہلوانوں کے سے انداز میں اپنی ران پر ہاتھ مارا اور اکڑوں بیٹھ کر ملنگ کی طرف تھوک دیا۔ تھوک ہوا میں اڑتا ہوا ملنگ کے چہرے کی طرف بڑھا۔ میں ان لوگوں کی تھوک کی کارستانیاں دیکھ چکا تھا۔ ملنگ کے سکون میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ ساکت کھڑا پجاری کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تھوک ملنگ کے چہرے کے قریب آیا تو نہ جانے کس طرف سے ایک شعلہ لپکا۔ چزززززز کی آواز آئی اور تھوک غائب ہوگیا۔
تمہارا نام کیا ہے بھلے مانس‘‘ ملنگ نے بڑی شفقت سے پجاری سے پوچھا۔ اس نے نفرت بھری نگاہ ملنگ پر ڈالی لیکن کچھ نہ بولا اور زمین پر ہاتھ مار کر اس کا رخ ملنگ کی طرف کر دیا۔ اس کی ہتھیلی سے ایک شعلہ نکلا اور ملنگ کی طرف بڑھا لیکن ا س تک پہنچنے سے پہلے ہی غائب ہوگیا۔

قصہ مختصر بچاری وار پر وار کرتا رہا لیکن ملنگ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔ ملنگ نے اپنا سوال ایک بار پھر دہرایا۔ پجاری کی سب اکڑفوں نکل چکی تھی۔ کالی داس کا انجام اس کے سامنے تھا۔ اسنے خوفزدہ نظروں سے وشنوداس کی طرف دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں شعلوں کا رقص شروع ہو چکا تھا۔ اس نے اس پجاری کو کچھ نہ کہا اور دوسرے پجاری کو اشارہ کیا۔ وہ جھجھکتا ہوا آگے بڑھا اور پہلے پجاری جیسے داؤ آزمانے لگا۔ نتیجہ حسب سابق نکلا۔ وشنو داس کسی سانپ کی طرح بل کھا کر رہ گیا۔ وہ ایک کے بعد ایک پجاری کو اشارہ کرتا گیا۔ چھ کے چھ پجاری ناکام ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے چہروں پر ندامت ثبت تھی۔ وشنو داس نے ایک نظر ان پر ڈالی اور نفرت سے تھوک دیا۔
’بھلے مانسو! میں اب بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ شیطانی راستے کو چھوڑ کرصراط مستقیم پر چل پڑو ،اسی میں کامیابی ہے۔ یہ دنیا چند روزہ کھیل تماشہ ہے۔ آخر کار ہم سب نے مر کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ غفوالرحیم اللہ پاک سچی توبہ کرنے والے کو فوراً معاف فرما کر اس کے گناہ بخش دیتا ہے اور۔۔۔‘‘
’’بند کر اپنا بھاشن‘‘ وشنو داس گرجا۔ یہ بالک سپھل نہ ہوئے تو یہ وچار کرنے لگاکہ تو مکت(کامیاب) ہو گیا؟‘‘ وہ حقارت سے بولا۔ اس کے لہجے میں غرور اور تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ سب پجاری ہاتھ باندھے ایک بار پھر وشنو داس کے پیچھے صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ وشنو داس نے ایک نظر رادھا پر ڈالی۔
’پاپن تیرے کارن ایک مہاپرش اور کالی کا سیوک اس سنسار سے چلا گیا۔ اس دھشٹ سے پہلے میں تیرا کریہ کرم کروں گا۔‘‘ اس نے اپنا ہاتھ رادھا کی طرف کیا۔
’’وشنو داس! مردوں کے ہوتے ہوئے ایک عورت پر ہاتھ اٹھانا کسی بھی مرد کے لئے باعث شرم ہے۔ اگر تو اپنی ناکامی کا اعلان کر دے تو میں تجھے معاف کرکے ان سب کو لے کر یہاں سے چلا جاتا ہوں‘‘ ملنگ نے اسے ایک بار پھر سمجھایا۔
’یہاں سے تم سب اب نرکھ میں جاؤ گے‘‘ وہ دانت پیس کر بولا۔ ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ جھٹک دیا۔ ایک شعلہ اس کے ہاتھ سے نکلا اور سرعت سے رادھا کی طرف بڑھا۔ لیکن آفرین ہو عبدالودود پر برق کے کوندے کی طرح لپکا اور شعلے کی راہ میں حائل ہوگیا۔ شعلہ اس کے بائیں بازو پر پڑا اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ وہ اپنا بازو پکڑے وہیں بیٹھ گیا۔ اس کا بازو جل کر سیاہ ہوگیا۔ وہ بری طرح اپنا بازو جھٹک رہا تھا۔ اذیت سے اس کا چہرہ بگڑ گیا۔

’’نامراد! اپنی حرکتوں سے باز آجا نہیں تو مجھے تیرا بندوبست کرنا پڑے گا‘‘ ملنگ کی دھاڑ کمرے میں گونج اٹھی۔ وشنو داس نے قہر ناک نظروں سے ملنگ کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ کا رخ اس کی طرف کر دیا۔
’سب کو بھسم کر دوں گا۔۔۔سب کو نرکھ میں جھونک دوں گا‘‘ وہ غضبناک ہو کر دھاڑا۔ ملنگ عبدالودود کی طرف متوجہ ہوا اور وشنو داس کو موقع مل گیا۔ اس سے پہلے کہ ملنگ سنبھلتا وشنو داس نے ہاتھ جھٹک دیا۔ میری آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ ہر چند کہ میں ایک عرسے سے جنات اور جادو کے کارنامے دیکھتا چلا آرہا تھا بلکہ کئی بار ان بدبختوں نے مجھے بھی جادو سے قریب المرگ کر دیا تھا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ورنہ ان خبیثوں نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا وشنوداس کی انگلیوں سے باریک تار جیسی ڈور نکلی اور لمبی ہو کر ملنگ کے جسم سے لپٹنے لگی۔ ملنگ نے بہت کوشش کی کہ وہ اس وار سے بچ سکے لیکن وہ موذی وار کر چکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ملنگ کا جسم ڈوری سے بندھ گیا۔ وہ کھڑے کھڑے دھڑام سے نیچے گر گیا۔ اس کا صرف چہرہ آزاد تھا ہاتھ، پاؤں اور جسم بندھ چکا تھا۔

’’پاپی! وشنو داس کو اپدیش دے رہا تھا۔ بالکوں کے کھیل سے یہ مورکھ یہ وچار کر بیٹھا تھا کہ وشنوداس بھی انہی جیسا ہوگا‘‘ اس نے حقارت سے تھوک دیا۔ عبدالودود جلدی سے آگے بڑھا۔
’اے نابکار! اس مجذوب پر اپنی گندی شیطانی طاقت آزما کر تو نے اللہ کے غضب کو آواز دی ہے۔ اس جبار کا قہر تجھے درد ناک عذاب سے دو چار کرے گا‘‘ عبدالودود طیش کے عالم میں وشنو داس کی طرف جھپٹا۔ وشنو داس نے اس کی طرف ہاتھ کرکے پھر وہی عمل دہرایا جس سے عبدالودود کی حالت بھی ملنگ جیسی ہوئی۔ وہ بھی اسی طرح ڈوریوں میں جکڑا گیا۔ وشنو داس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھی۔ سخت غیض و غضب کے عالم میں وہ رادھا کی طرف مڑا۔
’کلکنی! تجھے تو میرے شراپ سے اب دیوتا بھی نہ بچا پائیں گے۔ تیرے کارن مجھے میرے چیلے کی یہ دشا بنانا پڑی‘‘ اس نے کالی داس کے جسم سے بننے والے راکھ کے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا۔ رادھا کے چہرے پر ایسا سکون طاری تھا جیسے وہ بدبخت اس کے بجائے کسی اور سے مخاطب ہوا۔ اور یہ سب اعجاز دین اسلام کا تھا۔ جس کو قبول کرنے والے صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک سے ڈرتے ہیں۔ ملنگک کا حشر دیکھنے کے باوجود وہ بڑے سکون سے بولی۔
’وشنو داس! میں نے جیون بھر کوئی پن نہیں کمایا۔ نہ جانے کتنے منشوں اور اپنی جاتی کے سندر جوانوں کو اپنی اچھا پوری کرنے کے بعد پرلوک بھیج دیا۔ پرنتو اس منش‘‘ اس نے میری جانب اشارہ کیا
’’اس نے مجھے ایسے دھرم کی راہ دکھائی جس پر چل کر سب کو مکتی ملی جاتی ہے۔ میں پھر کہتی ہوں ان راہوں سے باز آجا اور سنسار بنانے والے کو مان کر مکتی پالے نہیں تو ۔۔۔‘‘

’’پاپن! تو وشنو داس مہاراج کو اپدیش دے گی۔۔۔جس نے سارا جیون دیوی دیوتاؤں کے چرنوں میں تپسیا کرتے بتا دیا۔ میری تیوری کابل دیوتاؤں کے وچار(فیصلے) بدل دیتا ہے۔‘‘ وشنو داس ، رادھا کے بات کاٹ کر دھاڑا۔۔
continued

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.