ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 42
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
Novel Snipper
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 42
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
42 قسط نمبر
by
Riaz Aqiz Kohler
Episode 42
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
42 قسط نمبر
سنائپر (قسط نمبر42)
ریاض عاقب کوہلر
”اب بتاﺅ ،گلہ کرنا میرا بنتا ہے یا تمھارا ۔“اسے متبسم دیکھ کر میں نے چاہت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
وہ پر زور لہجے میں بولی ۔”میرا ....میرا ....میرا ۔“
”وہ کیوں ؟“اس کی ناک کی پھننگ سے پکڑ کر میں نے آہستہ سے مروڑا۔
”کیونکہ آپ کی لاڈلی جوہوں ۔“اس کا ناز بھرا انداز مجھے نہال کر گیا تھا ۔
”جانتی بھی ہو مجھ پر کیا بیتی ۔“
اس کے چہرے سے تبسم غائب ہوا اور اس نے سسکتے ہوئے کہا ۔”نہیں اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔“اس کی آنکھیں ایک بار پھر چھلکنے کو تیار ہو گئی تھیں ۔
”اگر ایک آنسو بھی گرا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔“اس کی پلکوں کے آشنا لمس کو لبوں سے محسوس کرتے ہوئے میں نے تنبیہ کی ۔
”راجو !....مجھے معاف کردو ۔“مجھے اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
میں نے چاہت بھرے لہجے میں کہا ۔”راجو کی جان !....کر دیا معاف ۔ایک بار نہیں ہزار بار معاف کر دیا ۔پھر ایسا کرو گی پھر معاف کروں ....جتنی بار کرو گی اتنی بار معاف کروں گا ۔“
”وجہ نہیں پوچھو گے ؟“
”کبھی نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”البتہ بتانا چاہو تو سنوں گا ضرور۔“
”نہیں بتاﺅں گی ....آپ پوچھیں گے تب بھی نہیں بتاﺅں گی ۔“
میں نے اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بے پروائی سے کہا ۔”ٹھیک ہے۔“
”باقی باتوں کو چھوڑیں،بس آپ مجھ سے ابھی ابھی شادی کریں ۔مجھے ایک لمحے کی تاخیربھی گوارا نہیں ہے۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”چند شرائط ماننا پڑیں گی ۔“
”فرماﺅ ؟“اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”بال نہیں کٹواﺅ گی ،مردانہ لباس نہیں پہنو گی ، کانوں میں بالیاں اور ناک میں کوکا پہنو گی ، مردوں میں نہیں ناچو گی اور خودکشی کرنے کی دھمکی نہیں دو گی ۔“
وہ دلبری سے مسکرائی ۔”آخری شرط کے علاوہ باقی سب منظور ہیں ۔“
”نہیں جی ،سب سے اہم تو آخری شرط ہی ہے ۔“
”راجو !....اب مذاق کو چھوڑیں۔“
”چندا کوئی مولوی تو مل جائے نا ؟“
”نکاح مولوی کے بغیر بھی ہو جاتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،مگر گواہ کہاں سے لائیں گے ۔“
”آپ بس جان چھڑانا چاہ رہے ہیں ۔“وہ روہانسی ہونے لگی ۔
میں نے اعتما دبھرے لہجے میں کہا ۔”اللہ پاک کی قسم جان نہیں چھڑا رہا ۔انگور اڈے پہنچتے ہی پہلا کام یہی کروں گا ۔“
”اگر ایسا نہ کیا تو خدا قسم میں اپنی جان....“اتنا کہہ کر وہ ایک لمحہ کو رکی اور پھر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”پتا تو چل گیا ہو گا ۔“
”جی ہاں چل گیا ہے پتا ....تمھاری بکواس کرنے کی عادت اتنی جلدی تو ختم نہیں ہو سکتی ۔“
”نہیں ہوگی ....نہیں ہوگی ....نہیں ہوگی ۔“لاڈ بھری ہٹ دھرمی سے کہتے ہوئے اس نے میری گود میں سر رکھا اور اپنے بازو میری کمر کے گرد لپیٹ لیے ۔
ایک دم وہ پرانی پلوشہ کے روپ میں میرے سامنے آ گئی تھی ۔وہی شوخی ،ویسے لاڈاور وہی محبوبانہ انداز ۔میرے دماغ میں صنوبر خان کے آدمیوں کی سنی ہوئی باتیں گونجیں مگر میں نے خود میں اتنی جرّات مفقود پائی تھی کہ اس سے دریافت کر سکتا۔وہ اس کا رشتا کسی منور خان نامی آدمی سے جوڑ رہے تھے جو ان کے بہ قول پلوشہ کا محبوب تھا ۔اور اس کے لیے پلوشہ نے میراسودا کیا تھا ۔مگر پلوشہ کا انداز دیکھتے ہوئے ذرا بھر بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ کوئی دنیا میں عزیز بھی ہے ۔اس کی چاہت میں نہ تو کوئی کھوٹ نظر آ رہا تھا اور نہ وہ ویسی لگ رہی تھی جیسی ان تمام نے بکواس کی تھی ۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”کہاں گم ہو گئے ہو ؟“
”یہیں ہوں ۔“میں ہولے سے مسکرایا ۔”اپنی چندا کو گود میں لیے بیٹھا ہوں ۔“
”ہاں بس ایسے ہی بیٹھے رہو ....میں توسونے لگی ہوں ۔“
”ایک بات پوچھو ں؟“
مجھے سوالیہ نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”تمھیں گولی کیسی لگی تھی؟“
اس کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم ابھر ا۔سچ سچ بتا دوں ۔“
میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا ۔”بالکل سچ ....کیوں کہ مجھے کچھ کچھ اندازہ ہے ۔“
”اگر وعدہ کرو کہ نہ تو کچھ کہو گے اور نہ ناراضی کا اظہار کرو گے تو شاید سچ اگل دوں۔“
”کوشش کروں گا ۔“مجھے اپنے اندیشے صحیح ہوتے نظر آرہے تھے ۔
وہ مصر ہوئی ۔”نہیں جی وعدہ ۔“
”اچھا وعدہ رہا ۔“بادل نخواستہ مجھے اس کی بات ماننا پڑی۔
”میں نے خود ہی ماری تھی ۔“میرے دل میں چھپے شبہات کو اس نے حقیقت کا جامہ پہنایا۔
”مگر کیوں ....؟“میں چیخ ہی تو پڑا تھا ۔
”کیا آپ نہیں جانتے ۔“وہ بھی ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
”نہیں ....میں نہیں جانتا کہ تم نے یہ بے وقوفی کیوں کی ۔“
”کیوں کہ میں راجو کے بغیر مر جاتی ....کیسے آپ کو وہاں چھوڑ کر آجاتی ....میں جانتی ہوں آپ مجھے قصور وار سمجھ رہے ہیں ،نامعلوم انھوں آپ کو کیا کیا کہانیاں سنائی ہوں گی اور پھر میں نے آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کو پکڑوانے کا معاوضا بھی تو وصول کیا تھا ۔وہاں میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اپنی صفائیاں دیتی رہتی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ آپ میری کسی بات پر یقین نہ کرتے ۔اس لیے جب آپ نے مجھے آزاد کر کے بھاگنے کو کہا اسی وقت میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو ساتھ لیے بغیر نہیں جاﺅں گی ....اور آپ کو ساتھ لے جانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ میں اس طرح زخمی ہوتی کہ خود حرکت کے قابل نہ رہتی تبھی آپ مجھے وہاں سے خود نکال کر لاتے ۔اس کے ساتھ میں نے خود کو گولی بھی ایسی جگہ پر ماری کہ آپ کسی اور سے میرا علاج بھی نہ کرا سکیں ۔اور دیکھ لو وہی ہوا جو میں نے سوچا تھا ۔“
”چندا !....ایسا کرتے ہیں بھلا ۔“اس کی چاہت دیکھ کر میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔
”تو اور کیا کرتی ....کیسے آپ کو ساتھ لانے پر مجبور کرتی ۔“
” میں تم سے پوچھ تو رہا تھا کہ بتاﺅ کیوں آئی ہو ....تم نے کوئی وجہ بھی نہیں بتائی تھی بس چپ چاپ مار کھاتی رہیں ۔“
”اور صنوبر خان کا پالتو جو کچھ کہہ رہا تھا وہ بھول گئے ہیں آپ ....بلکہ آپ کو تو بہانہ چاہیے تھا میری پٹائی کرنے کا ۔“اس کے لہجے سے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ اسے میری وہ حرمت ناگوار گزری تھی ۔
”ویسے تم اتنی نازک کب سے ہو گئی ہو کہ ذرا سا تھپڑ کھا کر کراہنا شروع کر دیتی تھیں ۔“
”آپ کی نظر میں تو نازک ہوں نا ۔“اس نے لاڈ بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”ہاں چندا !....میری نظر میں تو تم پھولوں اور کلیوں سے بھی نازک ہو ۔“
”تو بس آپ کے تھپڑ کھا کرہی تو کراہ رہی تھی ۔کوئی اور کتنی بھی کوشش کر لیتا میرے منہ سے افف نہیں سن سکتا تھا ۔البتہ آپ کی بات اور تھی ۔آپ کو تو اپنی کراہیں سنا کر جانچ رہی تھی کہ آیا اب بھی مجھے پیار کرتے ہو یا دل سے نکال بیٹھے ہو ۔“
میں نے چاہت سے کہا۔”تمھیں دل سے نکالنے کے لیے ،دل ہی کو سینے سے نکالنا پڑے گا۔“
”جھوٹا۔“اس نے اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالتے ہوئے مجھے نیچے کی طرف کھینچا اور میں اس کے چہرے پر جھک گیا ۔
اس کا مطمح نظر پورا کر کے میں نے پوچھا ۔”اچھا یہ بتاﺅتم روئی کیوں تھیں ۔“
”آپ کی محبت دیکھ کر رونا آگیا تھا ۔“
”محبت ....؟“میں حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔
”ہاں محبت ....آپ اگراس وقت آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیتے تو آپ کو پتا چلتا کہ رونی صورت کیا ہوتی ہے ۔اپنے تیئں آپ غصہ اورنفرت دکھا رہے تھے جبکہ آپ کی آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ وہ ساری چوٹیں جو بہ ظاہر نظر مجھے لگ رہی تھیں ان کا نشانہ آپ کا اپنا دل ہے۔“
”میری دلی کیفیت جاننے کے باوجود تم نے کسی قسم کی صفائی دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔“
”محبت کرنے والے صفائیوں کے محتاج نہیں ہوتے ....اور یقین مانو اس وقت میرا صفائی دینا کسی کام کا نہیں تھا ۔بلکہ سچ کہوں تو اگر اس وقت میں آپ کو ساری بات بتا دیتی اور آپ میری بات کو ایک بار بھی غلطی سے جھٹلا دیتے تو مجھے مرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی ۔“
”ساری کہانی تو تم نے مجھے اب بھی نہیں بتائی ۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”ہاں نہیں بتاﺅں گی،جب تک شادی نہیں کر لیتے نہیں بتاﺅں گی ۔“
”جانتی ہوانھوں نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد کیا کیا باتیں سنائیں ؟“
”راجو !....کہہ دیا نا، میں نے کچھ نہیں سننا ....کیوں مجھے اذیت دینا چاہتے ہیں ۔“
”سننا تو پڑیں گی راجو کی جان ۔کیونکہ اس کے بعد ہی ہم شادی کر سکیں گے ۔“میں مصر ہوا اور اس نے آنکھیں بند کرکے خاموشی اختیار کر لی ۔
وہ تمام بکواس کر رہے تھے کہ تم کسی اور سے محبت کرتی ہو اور اس سے شادی کرنے کے لیے تمھیں پندرہ لاکھ روپے درکار تھے.... ....“میں نے دھیمے لہجے میں صنوبر خان کے آدمیوں سے سنی ہوئی ساری بکواس دہرا دی ۔
” آپ نے ان کی باتوں کا یقین کرلیا ....“اس نے جیسے کراہتی ہوئی آواز میں پوچھا ۔ ”اوراسی لیے آپ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ میں صنوبر خان سے ملاقات کرنے کولوٹی ہوں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”پتا نہیں یقین کیا یا نہیں ۔“
”تو گویا اب ہماری شادی میں میری پارسائی رکاوٹ بن گئی ہے ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں عجیب قسم کی بے گانگی در آئی تھی ۔
”اللہ پاک کی قسم بالکل بھی نہیں ....اگر ایسی بات ہوتی توکیاتم میری گود میں لیٹی ہوتیں ۔ “
”پھر شادی کا طعنہ کیوں دیا ؟“اس کی آواز جیسے کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
”اس کی وجہ تم نہیں میں خود ہوں ....یہ ضمنی بات تھی اصل بات اور ہے ....“اتنا کہہ کر میں اسے البرٹ بروک کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی کہانی سنانے لگا ۔آخر میں میں کہہ رہا تھا ....” اب میں نہ صرف امریکنوں اور صنوبر خان کا دشمن نمبر ایک ہوں بلکہ ان کے ساتھ پاک آرمی بھی مجھے کسی صورت معاف نہیں کرے گی ۔تو کیا تم کسی ایسے آدمی کو اپنا شریک حیات بنانا چاہو گی ۔جو ہر طرف سے خطروں میں گھرا ہو۔“
میری بات ختم ہوتے ہی اس کے منہ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔میں نے اس کے موہنے چہرے کی طرف دیکھا جو خوشی سے کھل رہا تھا ....”راجو !....یہ تو انھوں نے دھوکے سے آپ کوپاک آرمی کا دشمن بنا دیا ہے اور امید ہے جلد ہی پاک آرمی کے سامنے سچائی آ جائے گی ،اگرآپ سچ مچ بھی ایسے ہوتے تب بھی میرا انتخاب آپ ہی ہوتے ....بلکہ ساری دنیا بھی آپ کے خلاف ہو جائے تب بھی پلوشہ آپ ہی کا چناﺅ کرے گی ۔اور جہاں تک صنوبر خان کے آدمیوں کی بکواس کا تعلق ہے اللہ پاک کی قسم آپ کی پلوشہ کوآج تک نہ تو کسی نے اس طرح چھوا ہے جیسے آپ چھوتے ہیں اور نہ اس حال میں دیکھا ہے جیسا آپ دیکھ چکے ہیں ....سپوگمائے باجی کی عزت کی خاطر میں نے اپنا بچپن کھیلنے کودنے کے بہ بجائے سخت قسم کی تربیتی مشقوں میں گزار دیا تھا ،اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود اتنی بے راہ رو اور سستی ہو جاﺅں ....اور نہ جانے وہ کس منحوس منور خان کو میرا محبوب بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔میں نے زندگی میں ایک مرد سے محبت کی ہے اور وہ وہی ہے جس کی گود میں اب بھی سر رکھ کر لیٹی ہوں ،بہ خدااگر میری اس بات میں ذرا بھر جھوٹ ہو تو مجھے مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہ ہو ۔میں مانتی ہوں میں نے اچھا نہیں کیا تھا۔ میراچھوٹا بھائی اور میری ماں ، میرے لیے آپ سے بڑھ کر نہیں ہیں ....مگر میں کمزور پڑ گئی ....شاید اس لیے کہ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو جان سے نہیں ماریں گے ....شاید اس لیے کہ میں کچھ مہلت حاصل کرنا چاہتی تھی اور شاید اس لیے کہ میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر آپ کو کچھ بھی ہو گیا تو آپ کے قاتلوں کو فنا کر کے میں آپ کے پاس پہنچنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاﺅں گی ۔لیکن اب اس کی میں جو توجیہ دینا چاہوں وہ خود مجھے قابل قبول نہیں ہے کجا کسی دوسرے کو ۔میں ہمیشہ آپ کی مجرم رہوں گی ۔بے شک آپ مجھے کبھی معاف نہ کرنا بس خود سے دور نہ کرنا اس کے علاوہ مجھے ہر سزا منظور ہے ۔“
”تو میری موت کے بعد تم تمام کو مار کر خود کشی کر لیتیں ۔“میں نے اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پیار سے ڈانٹا ۔
”آپ کے مرنے کے بعد کیا میں زندہ رہ پاتی ۔راجو!.... یاد رکھنا عورت زندگی میں صرف ایک بار محبت کرتی ہے اوراس کے بعد وہ کسی مرد سے سمجھوتہ تو کر سکتی ہے محبت نہیں کر سکتی اور میں سمجھوتہ کرنے کی عادی نہیں ہوں ۔“
”جانتی ہو جب تم پندرہ لاکھ کی خطیر رقم لے کر اکیلی انگور اڈے کی طرف جا رہی تھیں اس وقت مجھے یہ سوچ پریشانی میں ڈالے ہوئے تھی کہ اتنی بڑی رقم کی وجہ سے کوئی تمھیں جانی نقصان نہ پہنچا دے۔“
”راجو !....“میرا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے وہ رو پڑی ۔
”روتی کیوں ہو پگلی ....وہ وقت تو بیت گیا ہے ،اب تو بس میری چندا ہو گی اور میں ۔“
”آپ شادی کرنے میں دیر کیوں کر رہے ہیں ۔اگر پہلے میری بات مان لی ہوتی تو ہمیں ان آزمائشوں کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا ۔“
”تو میں کب دیر کرنا چاہتا ہوں ....پہلے بھی اس لیے موخّر کیا تھا کہ دونوں خاندان مل بیٹھ کر اس خوشی کے موقع سے لطف اندوز ہوں ،اب تو وہ خیال بھی دور جھٹک دیا ہے ،بس کوئی گواہ مل جائیں میں چاند کو اپنی منکوحہ بنانے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کروں گا ۔“
” کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک میں جاتے ہیں وہاں ہم چھپ کر بھی وقت گزار لیں گے اور وہیں نکاح بھی پڑھا لیں گے ۔“اس کے دماغ کی سوئی بس ایک ہی خیال پر اٹک گئی تھی ۔گو اب تو میں خود بھی اس کام کو موخّر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ تو جیسے باولی ہوتی جا رہی تھی ۔
”یہاں سے انگور اڈے تک جائیں گے کیسے ؟“میں نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا ۔
”کیا میرا وزن بہت زیادہ ہے ؟“اس نے منہ بسورتے ہوئے شکوہ کیا ۔اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”پھول کا بھی وزن ہوتا ہے کیا ؟“اس کا کومل چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے میں نے چاہت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”تو پھر انگور اڈے تک جانے میں کیا مسئلہ ہے ؟“
”کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے ....بس پیٹ پوجا کر کے نکلتے ہیں ۔“
”سچ ....“وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
”بالکل سچ ۔اب مجھ سے بھی یہ دوریاں برداشت نہیں ہوتیں ....اتنی پیاری لڑکی کے پاس رہ کر خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے ۔
”جی جی ....آرام سے رہیں ....میں نے نکاح کی بات کی ہے ....رخصتی کی نہیں ۔“اس نے شوخی بھرے لہجے میں کہا ۔
اور میں کھسیانے انداز میں اس کا سر تکیے پر منتقل کرتا ہوا ۔چولھے کی طرف بڑھ گیا ۔اندھیرا چھا نے لگا تھا۔آگ جلا کر میں نے شام کی نماز ادا کی اور پھر چاے بنا کر بسکٹ اور پیسٹریوں وغیرہ سے ہم پیٹ پوجا کرنے لگے ۔کھانے سے فارغ ہو کر میں نے ایک کلاشن کوف تو غار سے باہر پتھروں میں چھپا دی تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے اور دوسری کلاشن کوف گلے سے لٹکا کر میں نے چند ضروری دوائیاں بھی بکس سے نکال کر جیبوں میں بھر لی تھیں ۔پلوشہ کو بازوﺅں میں بھر کر میں غار سے باہر نکلا اور اسے کندھوں پر لاد کر انگور اڈے کی طرف روانہ ہوگیا ....سفر کرنے کے لیے پوری رات پڑی تھی اور مجھے امید تھی کہ آہستہ روی سے سفر کرتے ہوئے بھی ہم صبح صادق سے پہلے انگور اڈے تک پہنچ جاتے ۔
اترائی اترتے ہی پلوشہ نے دھیمے لہجے میں کہا ....”راجو !....یاد ہے جس دن آپ مجھ سے بات کرنے کے لیے کئی کلومیٹر چل کر آئے تھے ۔اور بچھڑنے کے بعد پہلی بار ہماری بات ہو رہی تھی ۔“
میں نے چاہت بھرے لہجے میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔”تم سے جڑی کوئی بات بھول سکتی ہے بھلا ۔“
”ہماری وہ باتیں ....خبیث صنوبر خان نے سن لی تھیں ....جرگے میں چونکہ میری اصلیت کھل گئی تھی اور اس نے ماموں جان کے گھر کو پہلے سے تلاش کیا ہوا تھا اس لیے اسی رات صبح صادق کے قریب اس خبیث کے آدمی مجھے ،امی جان اور میرے چھوٹے بھائی کو گرفتار کر کے لے گئے ۔میں ہر تکلیف جھیل لیتی ،ہر تشدد برداشت کر لیتی اپنی عزت اور عصمت کو بھی داﺅ پر لگا لتی مگر انھوں نے تو میرے معصوم بھائی اور بوڑھی ماں کو بے عزت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اگر وہ انھیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے تب بھی میں ان کی دھونس میں نہ آتی ۔مگر وہ ننگ انسانیت تو میرے معصوم بھائی جو بہ مشکل نو دس سال کا ہے اور بوڑھی عورت کے بارے ایسی ایسی شرمناک اور واہیات گفتگو کر رہے تھے کہ مجھے مجبور ہونا پڑا ۔ میرے حامی بھرتے ہی ایک کالی لڑکی اور ایک انگریز بھی وہاں آگئے ۔انھوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ میرے راجو کو کچھ نہیں ہو گا ۔وہ پندرہ لاکھ کی رقم لینے کا ڈراما بھی اس کالی لڑکی کا تھا ۔وہ یہ باتیں اپنے ساتھی کے ساتھ کر رہی تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ میں انگریزی جانتی ہوں ورنہ میرے سامنے ایسی گفتگو نہ کرتی ۔اگلے دن ہمیں علام خیل لایا گیا۔رات کو میری آپ سے گفتگو ہوئی ۔میں نے جان بوجھ کر ایسا رویہ رکھا کہ آپ کو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے مگر آپ تو اپنی لاڈلی کی محبت میں ایسے اندھے ہوئے تھے کہ بغیر کسی غور و فکر کے بھاگتے چلے آئے ۔“یہ کہتے ہوئے وہ ناز بھرے انداز میں ہنس دی تھی ۔جبکہ میں خود کو ملامت کرنے میں لگا ہوا تھا میری عزیز ہستی کے ساتھ کیا کچھ بیت گیا تھا اور میں اس کی محبت میں شک کرتا پھر رہا تھا ۔مجھے خاموش پا کر اس کی بات جاری رہی ....
”آپ کو گرفتار کر کے انھوں نے وعدے کے مطابق میری امی جان اور بھائی کو رہا کر دیا ۔ ایک مہربانی انھوں نے یہ کی تھی کہ وہ رقم مجھ سے واپس نہ لی ۔میں امی جان اور بھائی کو لے کر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچی ....وہاں وزیرستان کے کافی مہاجرین پناہ گزین ہیں ۔ایک محلے میں کرایے کا گھر تلاش کر کے میں نے چند ماہ کا پیشگی کرایہ ادا کیا ۔اور بقیہ رقم امی جان کے حوالے کر دی ۔اس کے بعد وہاں چند دن ان کے ساتھ ہی رہی تاکہ وہ اچھی طرح سے علاقے کو جان جائیں اور جب مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ میرے بغیر بھی رہ لیں گے تو اپنے راجو کے لیے واپس لوٹ آئی ۔چار پانچ دن پہلے ان کا ایک آدمی جو رخصت پر جا رہا تھا میرے ہاتھ چڑھ گیا ۔اس سے مجھے آپ کے بارے تمام تفصیل معلوم ہو گئی ۔ اور کل جب میں نے بہت ساری گاڑیوں کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا تب میں نے اندر گھسنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اب یہ میری بد قسمتی تھی کہ اندر داخل ہوتے ہی میں ان کی نظروں میں آ گئی ۔بعد کی کہانی آپ کو معلوم ہے ۔“
ساری تفصیل اطمینان سے سننے کے بعد میں نے کہا ۔”تم نے تو کہا تھا کہ شادی سے پہلے مجھے کچھ بھی نہیں بتاﺅ گی ۔“
”کہا تو تھا ....لیکن آپ کی محبت دیکھ کر رہا نہیں گیا ....مجھے فخر ہے کہ میں نے آپ کو چاہا ہے ، جو مرد اپنی عورت کا غیر مرد سے غلط تعلق دیکھ کر بھی اس کی محبت سے دست بردار نہیں ہو سکتا ایسے مرد کا ملنا بہت دشوار ہوتا ہے ۔اور میری خوش قسمتی کہ مجھے ایک ایسا ہی ہیرا مل گیا ہے ۔“
”تم غلط کب سے ہو گئیں چندا !“
وہ ہنسی ۔”آپ تک جو خبریں پہنچیں اس کے مطابق تو مجھ جیسی غلط لڑکی شاید ہی دنیا میں پائی جاتی ہو ۔“
”اچھا دفع کرو پرانی باتوں کو ....یہ بتاﺅ شادی کرنے کا کتنا معاوضا لو گی ۔“
اس نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”معاوضا....“
”ہاں ....تمھاری طرف رواج ہے نا کہ لڑکی والے، لڑکے والوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں ،اب چونکہ ہمارا کوئی سر پرست موجود نہیں ہے تو یہ سب ہمیں ہی طے کرنا پڑے گا نا ۔“
”ہا....ہا....ہا ۔“اس کے سریلے قہقہے نے میرے کانوں میں جلترنگ بجائے ۔
میں مصر ہوا ۔”ہنسو مت سچ سچ بتاﺅ ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”میں نے پہلے ہی دن سے اپنی قیمت بتائی ہوئی ہے ۔“
”یعنی پچاس لاکھ ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میںپوچھا ۔
”ہاں ،بس آپ پچاس لاکھ کی تمام صفریں ختم کر کے بقیہ رقم ادا کر دینا ۔“
”پچاس لاکھ سے پانچ روپے پر اتر آئی ہو ؟“میں نے مصنوعی حیرانی ظاہر کی ۔
وہ مسرور کن لہجے میں بولی ۔”ڈرتی ہوں نا ....کہیں انکار ہی نہ کردیں۔“
”پگلی !....اپنی جان کی قیمت دے کر بھی تمھیں حاصل کرنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے ۔“
وہ چاہت سے لبریز لہجے میں پوچھنے لگی ۔”راجو !....میں آپ کو اتنی پیاری کیوں لگتی ہوں ۔“
میں جھٹ بولا۔”کیونکہ تم ہو ہی اتنی پیاری ۔“
”جھوٹا ....یہ بات اس وقت بھول گئی تھی جب میری پٹائی کر رہے تھے ۔“
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”وہ تو شادی کے بعد بھی کروں گا ۔“
”اور جب میں روﺅں گی تب ؟“
”ہونہہ،ویسے یہ سوچنے کی بات ہے ۔“میں نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔ ”بہ ہرحال اس بارے بھی کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔“اسی طرح کی پیار بھری نوک جھوک میں رستا کٹنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا ۔ایک دو مرتبہ میں پلوشہ کے کہنے پر سستانے کے لیے رکا تھا مگر مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی ۔پلوشہ کے پھول سے بدن کو اٹھا کر چلنا میرے لیے چنداں دشوار نہیں تھا ۔
رات کے دو بج رہے تھے جب میں کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک کے سامنے پہنچا ۔نیفے میں اڑسا پلوشہ والا پستول نکال کر میں بیٹھک کے بیرونی دروازے کا تالہ توڑکر اندر داخل ہوگیا ۔اندرونی کمرے کو فقط کنڈی لگی ہوئی تھی ۔کنڈی کھول کر میں پلوشہ کو بازوﺅں میں بھرے اندرداخل ہوا اور اسے ایک چارپائی پر بٹھا کر اس کے لیے بستر بچھانے لگا ۔بستر بچھا کر میں نے اسے سلایا اور اور دوسری چارپائی اس کے قریب لگا کر خود بھی لیٹ گیا ۔وہ چت لیٹی تھی مگر اپنی گردن موڑ کر مجھے دیکھتی رہی ۔میں بھی اس کی طرف کروٹ بدلے اسے دیکھے بغیر بیتے ہوئے دنوں کی کمی پوری کر رہا تھا ۔مگر ہم زیادہ دیر یہ وظیفہ جاری نہ رکھ سکے کہ بجلی چلی گئی ۔
”راجو ٹارچ جلا لو نا ؟“پلوشہ کی منت بھری آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
میں نے انکار کرتے ہوئے کہا ۔”نہیں جی اس لوڈ شیڈنگ کو غنیمت سمجھ کر سوتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے۔“کہہ کر اس نے غیر متوقع طور پر میری بات مان لی تھی ۔
٭٭٭
میری آنکھ دروازے پر ہونے والی دستک سے کھلی تھی کوئی بیرونی دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا ۔باہر نکل کر میں نے دروازے کی درز سے جھانک کر کمانڈر نصراللہ کو پہچانا اور دروازہ کھول دیا ۔
”ارے آپ ۔“وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
”آئیں کمانڈر !“میں نے ایک طرف ہو کر اسے رستا دیا اور اس کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ کنڈی کر دیا ۔
”بڑے عرصے بعد نظر آئے ہو ؟“مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے وہ مستفسر ہوا ۔
”حالات نے اجازت ہی نہ دی ۔“میں اسے ساتھ لیے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے کہا۔”ویسے آپ کے متعلق کافی باتیں سننے میں آرہی ہیں ۔“
”کیسی باتیں ۔“استفسار کے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔
”ایک بات کی تصدیق تو آپ کے بتائے بغیر ہو گئی ہے ۔“اس نے زنانہ کپڑے پہنے لیٹی ہوئی پلوشہ کی طرف اشارہ کیا ۔جو اسے دیکھتے ہی اٹھنے لگی تھی ۔میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھنے میں مدد دی ۔
کمانڈر نصراللہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔”بیٹی کیا ہوا ہے؟“
”اسے گولی لگی ہے ۔“پلوشہ سے پہلے میں نے اس کی بات کا جواب دیا ۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔”ویسے میں تو یہ سن کر حیران رہ گیا تھا کہ پلوخان ،دراصل پلوشہ خان وزیر ہے ۔“
”بات ہی حیرانی کی ہے ۔“میں نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔
”اچھا یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ....سب سے پہلے میرا خیال ہے ناشتا ہو جائے ۔“
میں بے تکلفی سے بولا ۔”بھوک تو لگی ہے ۔“
وہ سرہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم پر تکلف ناشتے کو جڑے ہوئے تھے ۔ناشتے کے دوران ہی قبیل خان اور جہاں دادکے قتل اور اس کے بعد ہونے والے جرگے کی باتیں اس نے میرے سامنے دہرا دی تھیں ۔کوئی بھی واقعہ مختلف زبانوں سے گزر نے کے بعد حقیقت سے کافی دور ہو جاتا ہے ۔ہمارے واقعے میں بھی کچھ نئی باتیں شامل ہونے کے علاوہ کچھ باتیں حذف بھی ہو گئی تھیں ۔ ناشتا کر کے میں نے ان باتوں کی اجمالاََ وضاحت کر دی تھی ۔اس کے ساتھ ہی کمانڈر کو میں نے اپنی گرفتاری سے رہائی تک کے واقعات سنانے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا تھا ۔ان حالات میں وہ کوئی بہتر مشورہ دے سکتے تھے ۔
میری بات ختم ہوتے ہی وہ سوچ میں پڑ گیا۔چند لمحے سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد وہ کہنے لگا ۔
”ذیشان صاحب !....آپ دونوں میرے بچوں کی جگہ پر ہیں اگر برا نہ منائیں تو سب سے پہلے میں آپ دونوں کے اکٹھا رہنے پر اعتراض کروں گا ۔ایک جوان لڑکے اور لڑکی کو بغیر کسی رشتے کے یوں ایک ساتھ رہنا بالکل ہی مناسب نہیں ۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ علاحدہ ہو جائیں ....قبیل خان کے موت کے بعد میرا نہیں خیال کہ پلوشہ کو کسی اور جنگ میں حصہ لینا چاہیے ۔اور اگر تم دونوں اکٹھا رہنے پرمصر ہو تو پھر شادی کر لو ۔“اس کی بات نے پلوشہ کے چہرے پر قوسِ قزح کے رنگ بکھیر دیے تھے ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
”محترم کمانڈر ہم اسی غرض سے آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے ۔ہم آج ہی نکاح کرنا چاہیں گے ۔“
کمانڈر نصراللہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔”جزاک اللہ ....آج تو پھر بہت مبارک دن ہے نماز ظہر کے بعد آپ دونوں کا نکاح کر دیا جائے گا ۔“
میں نے کہا ۔”شکریہ کمانڈر اس کے ساتھ ہی اگر آپ میرے لیے کچھ خریداری کر لیں ۔“
”کیوں نہیں ۔“وہ خوش دلی سے بولا۔
”چلیں آپ کو بتاتا ہوں ۔“میں نے اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا ۔میں نے پلوشہ کے سامنے مطلوبہ سامان کی تفصیل بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
باہر آکر میں نے دوہزار ڈالر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے مطلوبہ سامان کی تفصیل بھی دہرا دی ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔میں بیرونی دروازہ کنڈی کر کے پلوشہ کے پاس آگیا ۔
”کیوں جی ،مجھ سے چوری چوری کیا منگوا رہے ہو ؟“
”پلوشے ،چپ کرو یار!....دلہنیں ایسی بات چیت میں حصہ نہیں لیا کرتیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”مجھے ایسی دلہن بننا بالکل گوارا نہیں ہے ۔“
”اچھا شور کرنے کی ضرورت نہیں ....تمھاری پٹی تبدیل کرنے کا وقت ہو گیاہے ۔“
وہ لجاتے ہوئے بولی ۔”آپ باہر بیٹھیں میں خود تبدیل کر لوں گی ۔“
”ہائیں۔“میں حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔”پہلے بھی میں ہی تو کرتا رہا ہوں ۔“
وہ کھل کھلاتے ہوئے بولی ۔”پہلے کی بات اور تھی۔اس وقت تو میں آپ کو پھانس رہی تھی ۔“
”بے حیا ۔“ میں نے نئی پٹی اور پائیوڈین لے کر اس کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔
”راجو !....میں سچ کہہ رہی ہوں میں پٹی تبدیل کر لوں گی ۔“
”اچھا یہ لو ،کرو تبدیل ۔“میں مطلوبہ سامان اس کے قریب رکھ کر صحن میں آگیا ۔اس کا شرمانا میری سمجھ سے بالاتر تھا مگر شرماتے ہوئے وہ اور بھی پیاری لگنے لگتی تھی۔تھوڑی دیر بعد اس نے آواز دے کر مجھے اندر بلالیا ۔پرانی پٹی اٹھا کر میں نے باہرصحن کے ایک کونے میں پھینکی اور انجیکش تیار کرنے لگا ۔
اینٹی بائیوٹک اور درد کش انجیکشن لگا کر میں اس سے گپ شپ کرنے لگا ۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔باربار وہ بے پایاں خوشی سے کہہ اٹھتی ....”راجو !....مجھے یقین نہیں آرہا آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے بننے جا رہے ہیں ۔“
میں خود بھی اس خوشی کو اتنا ہی محسوس کر رہا تھا جتنا کہ وہ۔دو تین دن پہلے تک میری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا نظر آرہا تھا ۔غم اور دکھ مجھے اس طرح سے گھیرے ہوئے تھے کہ میرا سانس لینا محال ہو گیا تھا اور آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔سارے غم اور دکھ درد بھولی بسری داستان نظر آنے لگے تھے ۔ وہ میرے لیے کتنی ضروری اور اہم تھی اس بارے مجھے تب پتا چلا تھا جب میرے تیئں وہ مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور چلی گئی تھی ۔اور اب ایک دم اس کا واپس ملنا مجھے اپنے رب کی بارگاہ میں شکر گزاری کے گہرے احساس سے سر ٹیکنے پر مجبور کر رہا تھا ۔
ہم کمانڈر نصراللہ کی واپسی تک گپ شپ کرتے رہے ۔وہ مجھے تلخ ایام میں اپنی دگرگوں حالت کا بتا رہی تھی کہ میری جدائی میں اس کی کیا حالت بنی رہی ۔اس کی باتیں سن کر تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے ذرا بھر بھی تکلیف نہیں کاٹی اور ساری اذیتیں میری جانِ حیات ہی کو چمٹی رہی ہیں ۔
کمانڈر نصراللہ میرا مطلوبہ سامان لے آیا تھا ۔سامان رکھ کر وہ نماز کے بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔ میں نے سرخ لباس پلوشہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔
”یہ کپڑے پہنو ....میں بھی لباس تبدیل کرتا ہوں ۔“اپنے سفید کپڑے اٹھا کر میں بیٹھک کے صحن میںبنے غسل خانے میں گھس گیا ۔ واپس پہنچنے پر وہ مجھے سرخ لباس پہنے نظر آئی ۔سرخ رنگ کے کڑھائی کیے ہوئے دوپٹے میں اس کا سفید چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا ۔یاقوتی ہونٹوں پر چھائی شرمیلی مسکان مجھے بے خود کر گئی تھی ۔
”بیٹھو نا ۔“مجھے مسلسل کھڑا دیکھ کر وہ لجاتے ہوئے بولی ۔اور میں چونک کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”اب نظر ہی نہ لگا دینا ۔“میری آنکھوں سے پھوٹتی چاہت دیکھ کر وہ شرمیلی مسکان سے بولی۔
میں نے وارفتگی کے عالم میں پوچھا ۔”چندا !سچ سچ بتاﺅ تم ہو اتنی پیاری یا مجھے لگ رہی ہو؟“
”مجھے اپنی شکل و صورت سے کچھ نہیں لینا دینا بس آپ کو پیارالگنے کا احساس ہی میرے لیے کافی ہے ۔“
”دو دن پہلے تک میں خود کو دنیا کا بد قسمت اور ناکام ترین انسان سمجھ رہا تھا اور آج مجھے خود سے خوش قسمت کوئی دکھائی بھی نہیں دیتا ۔“
وہ شرارت سے مسکرائی ۔”یہ تو جب شادی کے بعد میں اپنی فرمائشیں پوری کرواﺅں گی تب معلوم پڑے گا ۔“
”بھول ہے تمھاری ۔“اس کا ملائم ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے میں سہلانے لگا ۔
”سچ کہوں راجو !....تو مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا ۔“
”بس تھوڑی ہی دیر کی تو بات ہے ،کمانڈر نصراللہ ،گواہوں کو لے کر آتے ہی ہوں گے ۔“
”اب تو لمحے بھی صدیاں بن گئے ہیں ۔“اس نے بے چینی ظاہر کی ۔خود میری حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی ،مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ تھوڑی دیر بعد وہ میری بن جائے گی ۔ہزارہا اندیشے اور وسوسے میرے دامن سے لپٹے تھے ۔مگر ہمارے اندیشوں کے برعکس کمانڈر نصراللہ ظہر کی نماز کے بعد اپنے دو جوان بیٹوں کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا ۔رازداری کے تقاضے پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے بیٹوں کے علاوہ کسی کو دعوت نہیں دی تھی ۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بعد وہ نکاح کا خطبہ پڑھنے لگا ۔خطبہ پڑھ کر اس نے پہلے پلوشہ کی رضامندی معلوم کی اور پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ.... ”پلوشہ خان وزیر بنت ِ یامین خان وزیر تمھیں اپنے حبالہ نکاح میں قبول ہے ۔“
میرا دل کر رہا تھا کہ سو بار کہوں ۔”قبول ہے ،قبول ہے ،قبول ہے ....“مگر شرم مانع ہوئی اور میں نے ایک دفعہ پر اکتفا کیا۔
”مبارک ہو ۔“مجھ سے معانقہ کر کے کمانڈر نصراللہ نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔اس کے دونوں بیٹوں نے بھی مجھے مبارک باد دی۔کمانڈر نصراللہ نے مٹھائی کا ڈبہ کھول کر سب کا منھ میٹھا کرایا۔
اس کے دونوں بیٹے تو مٹھائی کھا کر والد سے اجازت لے کر رخصت ہو گئے ۔جبکہ کمانڈر وہیں بیٹھ گیا ۔
”اب کیا ارادہ ہے ۔“بیٹوں کے رخصت ہوتے ہی وہ پوچھنے لگا ۔
”چچا جان !....ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا جو حل ہو گیا ہے ۔فی الحال پلوشہ کے ٹھیک ہونے تک ہم یہیں رہیں گے اس کے بعد ہی کچھ سوچیں گے ۔“میں نے پہلی مرتبہ اسے اس رشتے سے پکارا تھا ۔
”بیٹا !....آپ دونوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔اگر مجھے پلوشہ کے بارے پہلے سے پتا ہوتا تو یقینا بہت پہلے میں آپ پر زور دے چکا ہوتا ۔بہ ہرحال دیر آید درست آید۔“انھوں نے میرے چچا کہنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے بیٹا کہنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ہم بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے تھے چچا جان!.... ہمارا خیال تھا کہ بزرگوں کی موجودی میں یہ بابرکت فعل سر انجام دیں گے ۔مگر حالات ہمیں ایسا موقع دینے پر تیار نہیں تھے مجبوراََ یہ قدم اٹھانا پڑا۔“
”بلاشبہ بزرگوں کی شمولیت باعث برکت ہوتی ہے ،مگر جب حالات ایسے ہو جائیں تو دیر نہیں کرنی چاہیے ۔“
میں نے کہا ۔”آپ ہمارے بزرگ ہی تو ہیں ۔“
”بے شک ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔
ہم دونوں ہی گفتگو کر رہے تھے ۔پلوشہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی ۔اس شوخ ،شرارتی اور نٹ کھٹ کی ساری تیزی طراری کہیں گم ہو گئی تھی ۔
”چچا جان !....ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بزرگوں کے سامنے ایک بار پھر شادی کرئیں گے تاکہ وہ ہمارے فعل کا برا نہ منائیں ۔“
”یہ بھی ٹھیک ہے ۔“وہ میرے فیصلے کو سراہتے ہوئے کھڑے ہو گئے ۔”اب میں چلوں گا ۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بلوا لینا ۔“
”ٹھیک ہے چچا جان !“میں انھیں رخصت کرنے دروازے تک چلا گیا ۔بیرونی دروازہ کنڈی کر کے میں واپس کمرے میں آیا ۔میری دلھن سرخ کپڑوں میں سمٹی ہوئی بیٹھی تھی ۔اللہ پاک نے انسان کو نکاح کا طریقہ بھی بہ طور نعمت عطا کیا ہے ۔دو گواہوں کے سامنے مرد اور عورت ہمیشہ ایک ساتھ رہنے کا اقرار کر کے ایک ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا ۔ وہ عورت جسے نکاح کے دو بولوں سے پہلے چھونا منع اور گناہ تھا نکاح ہوتے ہی اسے چھونا عبادت بن جاتا ہے ۔وہ عورت جسے دیکھنا جائز نہیں تھا ،نکاح کے بعد اس کا دیکھنا باعث ثواب ہو جاتا ہے ۔میاں بیوی کا ایک دوسرے سے ہنسی مذاق اور دل لگی کرنا پسندیدہ ترین فعل گردانا گیا ہے ۔جھوٹ ایک ایسا ناپسندیدہ فعل ہے جسے موجب لعنت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بیوی کو خوش کرنے کے لیے اس کی جھوٹی تعریف کی اسلام اجازت دیتا ہے ۔اور اب پلوشہ میری بیوی تھی ۔میرا لباس ،میرے زندگی کی گاڑی کا دوسرا پہیہ، میری شریک حیات،میرے دکھ سکھ کا ساتھی ،میرے ہونے والے بچوں کی ماں ،میری محبتوں اور چاہتوں کا مرکز اور میری سب کچھ تھی ۔
میں دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے قریب بیٹھ گیا ۔وہ مزید سمٹ گئی تھی ۔میں جانتا تھا کہ وہ شوخ و چنچل حسینہ شرما رہی تھی ۔مگر میں اس وقت اسے تنگ کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے میں نے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”چندا !....آخر میں نے تمھیں پا لیا ہے ۔اس لمحے کے خواب جانے میں کب سے دیکھ رہا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یوں ایک دم تم مجھے حاصل ہو جاﺅگی ۔یقینا یہ میرے پاک رب کا کرم اور رحمت ہے کہ تم میری شریک حیات بن گئی ہو ۔میں اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔میں جانتا ہوں میں تمھارے قابل نہیں ہوں ۔تمھاری شخصیت ،شکل و صورت ،دلیری و بہادری اور غیرت مندی اس کی متقاضی ہے کہ تم کسی بادشاہ کی ملکہ بنتیں ۔لیکن تم نے خود ایک بے بضاعت ،غریب اور عام سی شکل و صورت کے فوجی کو پسند کیا۔اور تمھارا یہ احسان یہ فوجی کبھی نہیں اتار سکے گا ۔البتہ نئی زندگی کی شروعات میں ،میں وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا کی ہر خوشی تمھارے قدموں میں ڈھیر کرنے کی کوشش کروں گا ۔تمھیں رانی، ملکہ اور شہزادی بنا کر رکھوں گا ۔تمھاری ہر خواہش میرے لیے حکم کا درجہ رکھے گی ۔“میرے ہاتھ کو اس نے ایک دم سختی سے جکڑ ا،ایک تیز سسکی میرے کانوں میں گونجی اور وہ روتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی۔
”کیاہوا چندا !....“اپنا بازو اس کے گرد لپیٹتے ہوئے میں نے چاہت سے لبریز لہجے میں پوچھا ۔مگر وہ کوئی جواب دیے بغیر سسکیاں بھرتے ہوئے روتی رہی ۔
میں نے اس کے چہرے سے گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا ،آنسو بھری آنکھوں سے محبت کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں ۔
ان سحر انگیں آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے میں نے کہا ۔”میں نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے چندا !....تم میرے لیے اللہ پاک کا ایک عظٰم تحفہ ہو ....تم نے میرے دل کی اجڑی ہوئی دنیا کو جس محبت سے بسایا ہے وہ کوئی چھوٹا احسان نہیں ہے ۔ایک ٹھکرائے ہوئے مرد کو گلے سے لگا کر تم نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے ۔ان پھول سے رخساروں پر طمانچے مار کریقینا میں نے تمھیں بہت دکھ پہنچایا ہے ، میں آج خلوص دل سے معافی مانگ رہا ہوں ۔ان گھٹیا لوگوں کی جھوٹی باتوں میں آکر میں نے تم پر شک کیا ۔اس سے بہتر تھا کہ میں مر جاتا ........“
ایک دم تڑپ کر اس نے میرے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے دائیں بائیں سر ہلا کر گویا مجھے سرزنش کی تھی ۔
”یہ حقیقت ہے چندا !....“
”راجو !....اگر مزید کچھ کہا تو میرا دل پھٹ جائے گا ۔اللہ پاک کی قسم آپ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہیں ،میری غلطیوں کو اپنے کھاتے میں نہ ڈالیں ۔قصوروار میں ہوں ،مجرم میں ہوں ۔ عظیم تو آپ ہیں جو اتنے الزامات کے باوجود بغیر صفائی مانگے مجھے گلے سے لگا لیا ۔“وہ پھر رونے پر تیار ہو گئی تھی ۔
”ویسے منہ دکھائی کے بغیر چاند کا دیدار کرا دیا ہے ۔“میں نے ایک دم موضوع تبدیل کر دیا تاکہ وہ جذباتی کیفیت سے نکل آئے ۔
اس نے لجا کر پلکوں کی چلمن گرالی ۔
”اچھا پتا ہے میں نے چچا نصراللہ کو سونے کے کنگن لانے کو کہا تھا۔کنگن تو نہ ملے سونے کی چوڑیاں مل گئیں ۔یقینا ان ریشمی کلائیوں میں پہلی بار چوڑیاں ڈالنے کا شرف مجھے ہی مل رہا ہے ۔ ہے نا؟“
”آنکھیں کھولے بغیر اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔میں نے پیکنگ کھول کر سنہری چوڑیاں نکالیں اور اس کی دونوں کلائیوں میں چار چار چوڑیاں پہنا دیں ۔چوڑیوں کے ساتھ چچا نصراللہ گلابی رنگ کے نگینے والی خوب صورت انگوٹھی بھی بنوا لایا تھا ۔انگوٹھی اسے پہنا کر میں نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا اب تو میں اس روشن چہرے کے دیدار کا حق دار ہو گیا ہوں نا ....اب تو آنکھیں کھول دو۔“
میرے درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اس نے سحر انگیں آنکھیں کھول دیں ۔
میں نے اپنی جیکٹ کی جیبوں سے ڈالرز کی پانچ گڈیاں نکال کر اس کی گود میں ڈالتے ہوئے کہا ۔”تم نے پچاس لاکھ کا کہا تھا ....یہ پچاس ہزار ڈالرز ہیں پاکستانی رقم میں یہ پچاس لاکھ سے زیادہ مالیت بن رہی ہے ۔اب یہ نہ کہنا میں تمھاری امی جان کی منھ مانگی قیمت ادا نہیں کر سکا ہوں ۔“
”راجو !....مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ،نہ سونا چاندی ،نہ زیور ، نہ زمین جائیداد اور نہ روپیا پیسا بس کبھی خود سے دور نہ کرنا ۔ایک بار پہلے بھی کہا تھا میری غلطیوں کو بنیاد بنا کر مجھے خود سے جدائی کی سزا نہ دینا ۔اور مجھے کچھ نہیں چاہیے کچھ بھی تو نہیں چاہیے ۔“اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ۔
”وعدہ کرتا ہوں چندا !....تمھیں خود سے کبھی جدا نہیں کروں گا ،کبھی بھی نہیں ۔تم چاہو گی تب بھی نہیں ۔“
اس نے آنکھیں موند کر میری گود میں سر رکھ دیا اور میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔ہم نہ جانے کتنی دیر یونھی ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے ۔یہاں تک کہ کمانڈر نصراللہ رات کا کھانا لے آیا ۔ہمیں رات ہونے کا پتا بھی نہیں چلا تھا ۔کھانا کھا کر میں نے پوچھا ....
”پٹی تو خود کر لو گی نا ؟“
”جی نہیں ۔“وہ لاڈ سے بولی ۔”میرا سرتاج موجود ہے نا ۔“
”بڑی آئی سرتاج والی ۔“اس کے ناک کی پھننگ مروڑ کر میں اس کی پٹی کرنے لگا ۔ پٹی کر کے میں نے اسے ضروری دوائیاں کھلائیں ،انجیکش لگائے اور ہم سونے کے لیے لیٹ گئے ۔لیکن رات بھر اس نے مجھے سونے نہیں دیا تھا ۔نہ جانے کہاں کہاں کی باتیں اسے یاد آ رہی تھیں ۔خود میری آنکھوں سے بھی نیند غائب تھی ۔اسے پانے کی خوشی ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی ۔صبح صادق کے قریب کہیں جا کر میں نے اسے زبردستی سلایا۔میرے بازو پر سر رکھ کر وہ بے خبر سو گئی ۔مجھے بھی نیند نے اپنی مہربان آغوش میں لے لیا تھا ۔نیند میں بھی اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اور اسی طرح شوخی بھری مسکراہٹ اور چنچل اداﺅں سے وہ میری نیند میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی رہی ۔
٭٭٭
مہینے بھر میں اس کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا ۔اس دوران میں نے اس کی توانائی بحال کرنے کے لیے اسے خوب اچھی غذائیں کھلائی تھیں ۔دودھ ،شہد ،مختلف قسم کے پھل ،خشک میوہ جات ،دنیا جہان کی اچھی غذائیں میں چچا نصراللہ کو کہہ کر منگواتا رہتا ۔خرچ کے لیے البرٹ بروک کے دیے ہوئے کافی ڈالرز موجود تھے ۔یوں بھی انگور اڈے میں دکاندار ڈالرز بڑی خوشی سے وصول کرتے تھے ۔اس کے ساتھ وہاں ڈالرز کے بدلے پاکستانی رقم بھی مل جاتی تھی ۔امریکنوں کی افغان آمد کے بعد افغانستان میں تو ڈالرز کا عام رواج تھا ۔پلوشہ نے پچاس ہزار ڈالریہ کہہ کر زبردستی واپس کر دیے تھے ۔کہ اسے بس میری ہی ضرورت تھی ۔
اس ایک ماہ کے دوران میں نے اس کے اتنے لاڈ اٹھائے تھے اتنی نازبرداری کی تھی کہ جتنے کی وہ حق دار تھی ۔کئی بار میری چاہت کو دیکھ کر وہ رونے لگ جاتی ۔اس کے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد بھی ہمارا دل کہیں جانے کو راضی نہیں تھا ۔ہم دونوں مستقبل کے اندیشوں سے بے نیاز بس ایک دوسرے کی ذات میں کھوئے ہوئے تھے ۔محبوب کی معیت میں گزرے دن پر لگا کر گزر جاتے ہیں ۔ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوا تھا اور ڈیڑھ ماہ گزر گیا ۔
نہ جانے ہم وہاں کتنا عرصہ مزید گزارتے کہ وصل کے شب و روز نے ہمیں ہر غم سے بے نیاز کر دیا تھا ،لیکن ہم یہ بھول گئے تھے کہ دشمن ہماری تاک میں ہیں ۔کمانڈر نصراللہ کو روزانہ بیٹھک میں کھانے پینے کا سامان پہنچاتے دیکھ کر یقینا کسی کو شک ہو گیا تھا ۔اور یہ شک کرنا اس لیے بھی بنتا تھا کہ ہم دونوں میں سے کوئی بھی بیٹھک سے باہرنہیں نکلتا تھا ۔اور پھر ایک دن ہم پر چھاپہ پڑ گیا ۔
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی کہ میرے کانوں میں ہلکی سی آواز آئی، یوں لگا جیسے کوئی دیوار سے لٹک کرنیچے اترا ہو ۔آنے والا یقینا اپنے تیئں ایسے وقت میں آیا تھا جب کہ عمومی طور پر لوگ سو جاتے ہیں لیکن میرے اور پلوشہ کے سونے میں ابھی تک کچھ وقت باقی تھا ۔ہم تو کبھی کبھی باتوں باتوں میں صبح کر دیتے تھے ۔ایک دوسرے کی باتیں سن کر ہمار ا جی ہی نہیں بھرتا تھا ۔اس وقت بھی ہم سرگوشیوں میں محو گفتگو تھے کہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے کا الگ ہی مزہ ہے ۔وہ آواز پلوشہ نے بھی سن لی تھی ۔
”کوئی ہے ۔“کہہ کر وہ ایک دم چوکنا ہوتے ہوئے میرے بازوﺅں کے گھیرے سے نکلی میں نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
میں دوسری چارپائی پر پڑی کلاشن کوف کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ اچانک دروازہ دھکیلتے ہوئے دو آدمی اندر داخل ہوئے ۔اگر میں کلاشن کوف اٹھانے کی کوشش کرتا تو یقینا مارا جاتا ۔کلاشن کوف کا خیال دل سے نکالتے ہوئے میں نے چھلانگ لگائی اور آگے والے آدمی سے توپ سے نکلے ہوئے گولے کی طرح ٹکرایا ۔اس نے ہاتھ میں سائیلنسر لگا پستول تھاما ہواتھا ۔میری ٹکر کھا کر وہ دیوار سے ٹکرایااور پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔لیکن اس سے پہلے کہ میں دوسرے سے نمٹنے کی کوشش کرتا اس کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ....
”اگر ذرا سی بھی حرکت کی تو کھوپٹری میں روشندان کھول دوں گا ۔“یہ فقرہ اس نے انگریزی میں ادا کیا تھا ۔وہ دونوں غیر ملکی ہی تھے ۔میں ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے پیچھے مڑا ۔اس دوران پلوشہ چارپائی سے اتر کر اس کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ کھلے دروازے سے ٹریسی والکر کسی بگولے کی طرح اندر داخل ہوئی اس کی لات چھاتی میں کھا کر پلوشہ دیوار سے جا ٹکرائی تھی ۔اگر وہ دیوار سے ہاتھ نہ ٹیک لیتی تو یقینا زیادہ زخمی ہو گئی ہوتی ۔
پلوشہ کو لات کھاتے دیکھ کر میں نے بے چینی سے پہلو بدلا ،مگر اسی وقت نیچے گرے ہوئے آدمی نے اپنا پستول اٹھا کر میری گردن سے لگا دیا ۔اور مجھے ایک دم رکنا پڑا ۔ مجھ پر پہلے جس آدمی نے پستول تانا ہوا تھا اس نے بھی میرے قریب آکر میرے بازو کو مروڑ کر پیٹھ پیچھے جکڑ لیا تھا۔
دیوار سے ٹکرا کر پلوشہ پیچھے مڑی میںاس کے چہرے پر چھائی وحشت دیکھ کر ڈرگیا تھا ۔
”نہیں پلوشہ کوئی حرکت نہ کرنا ۔“میں نے اسے روکنا چاہا۔میری گردن سے پستول لگائے ہوئے امریکن نے بھی اسے متنبہ کرنے کے لیے اس کی جانب پستول سیدھا کیا ،لیکن ٹریسی والکر نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کرتے ہوئے کہا ....
”چھوڑو اسے میں دیکھ لیتی ہوں ۔“اس کے لہجے میں شامل اطمینان یہ ظاہر کر رہا تھا کہ اسے خود پر کتنا اعتماد تھا ۔لیکن وہ پلوشہ کی صلاحیتوں سے بھی ناواقف تھی ۔پلوشہ نہ تو میری منت کو خاطر میں لائی تھی اور نہ اس نے اپنی جانب اٹھے ہوئے پستول کی دھونس کو کسی قابل سمجھا تھا ۔وہ جارحانہ انداز میں ٹریسی والکر کی طرف بڑھی جو اسے آڑے ہاتھوں لینے کے لیے تیار تھی ۔
جاری ہے

No comments: