Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 39 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 39
مصنف۔ طارق خان 

سر! میں تو آپ کو رپورٹ پیش کر رہاتھا کہ اب تک میں نے کیا معلوم کیا ہے؟‘‘ وہ جز بزہو کر بولا۔
’’اس کی مرہم پٹی وغیرہ کیوں نہیں کرائی گئی‘‘ ڈی ایس پی نے مجھے گھورتے ہوئے انسپکٹر سے سوال کیا۔
’’سر !آپ نے خود ہی توکہا تھا کہ اسکے قریب بھی کوئی نہ پھٹکے‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
’’گدھے ہو تم سب‘‘ اسنے ایک قہر بھری نظر مجھ پر ڈالی اور تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد کرم دین نے دروازے کو تالا لگادیا۔میں دوبارہ فرش پر بیٹھ گیا۔

’’کیوں چنتا کرتا ہے؟‘‘ اچانک میرے پیچھے کالی داس کی آواز آئی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ مڑ کر دیکھا وہ بڑے اطمینان سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اسکے ہونٹوں پر دوستانہ مسکراہٹ تھی۔

’’ڈی ایس پی بہت غصے میں ہے‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’یہ حرامی کیا شے ہے اس کے تو بڑے بھی تیری سیوا کریں گے‘‘ کالی داس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ پھر ایک طرف منہ کرکے آواز دی۔

’’بسنتی!‘‘
’’جی مہاراج‘‘ فورا بسنتی کی مدہر آواز کمرے میں گونجی۔ وہ نظروں سے اوجھل تھی۔

’’ساراپربندہوگیا؟‘‘ کالی داس نے نرم لہجے میں پوچھا۔

’ہاں مہاراج! تمری اچھا کے انوسار، سمے آنے پر سب وہاں پہنچ جائیں گے‘‘ بسنتی نے جواب دیا۔

’’عدالت میں تو نے وہی کچھ کہنا ہے جو کل تھانے دار سے کہہ چکا ہے‘‘ کالی داس نے مجھے خاطب کیا۔

’’کیا تم عدالت میں موجود ہو گے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’سب تیری اچھا کے انورسار ہوگا نشچنٹ رہ‘‘ اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے مجھے تسلی دی۔ اس کے بعد وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔‘‘ کاش میں بھی کالی داس کی طرح پراسرار قوتوں کا ماہرہوتا ‘‘ میں دل میں خواہش جاگی۔

’’خان بھائی!‘‘ میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ عمران کی آواز آئی۔ میں نے چونک کردیکھا۔ عمران سلاخیں پکڑے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے سے افسردگی ظاہرہورہی تھی۔ میں جلدی سے اٹھ کر اسے پاس چلا آیا۔

’’پروفیسر صاحب نے ایک بہت قابل وکیل کا بندوبست کیا ہے آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ تعالیٰ آپ باعزت بری ہو جایں گے‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔

’’عمران!میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں؟ تم نے دوست ہونے کا حق ادا کر دیا‘‘ میری آواز بھراگئی۔ عمران کو دیکھ کر مجھے صائمہ اور بچے یاد آگئے تھے۔ اسکی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔

’’خان بھائی! فکرنہ کریں انشاء اللہ فتح ہماری ہوگئی۔ میں نے اسے بھی وہی کہانی سنا دی جوانسپکٹر کو کالی داس کے کہنے پر سنائی تھی۔ وہ حیرت سے منہ کھولے سنتا رہا۔

’’لوگ دنیاوی مفادکے لئے اتنا بھی گر سکتے ہیں مجھے گمان تک نہ تھا۔ خیر کوئی بات نہیں دشمنوں کو شکست اور ہمیں فتح نصیب ہوگئی انشاء اللہ۔ دکھ اس بات کاہے کہ آپ نے مجھے ہر بات سے بے خبر رکھا۔ اگر اس حرامزادے نے آپ کودھمکی دی تھی تو آپ مجھے بتاتے‘‘ اس نے مجھے یقین دلانے کے بعد گلہ کیا۔

پھر کہنے لگا’’وکیل صاحب بہت قابل ہیں۔ ہو سکتاہے پہلی پیشی پر ضمانت نہ ہو سکے لیکن آپ فکر نہ کریں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔

’’ایسی بات نہیں ہے عمران ! میں بے قصور ہوں مجھے یقین ہے جب جج صاحب کو اصل حالات کا علم ہوگا تووہ مجھے باعزت بری کردیں گے‘‘ میں نے یقین سے کہا۔

’’اللہ کرے ایسا ہی ہو‘‘ عمران نے کہا۔
’’اچھا میں چلتا ہوں بڑی مشکل سے محررکی جیب گرم کرکے میں نے ملاقات کا وقت لیا ہے ۔ عدالت میں ملاقات ہوگی۔‘‘

اسکے جانے کے تھوڑی دیر بعد انسپکٹر عادل کرم دین کے ساتھ آیا۔ مجھے عدالت نے جانے کا وقت آگیا تھا۔
’’جی تو نہیں چاہتا کہ میں تمہیں ہتھکڑی پہناؤں لیکن مجبوری ہے ڈی ایس پی ساتھ جائے گا‘‘ اسنے معذرت کی۔ میں نے ا س کی ہمدردی پر اسکا شکریہ اداکیا۔ کرم دین نے میرے ہاتھوں میں آہنی زیورپہنا دیا۔ باہر لاکر مجھے بند گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ گاڑی تھانے کی حدود سے نکل کر میری جانی پہچانی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ گاڑی کی باڈی میں جالیاں لگی ہوئی تھیں۔ میں یونہی باہر جھانکنے لگا میرے ساتھ چار سپاہی تھے۔ پندرہ منٹ کے سفر کے بعدہم عدالت پہنچ گئے۔ جیسے ہی گاڑی عدالت کے احاطے میں داخل ہوئی میری آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ لوگوں کا ایک جم غفیر عدالت میں موجود تھا۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پرمیرے خلاف مختلف عبارتیں درج تھیں۔ اس کے علاوہ لوگ نعرے لگا رہے تھے ۔ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ چیخ چیخ کر میرے خلاف نعرے لگا رہی تھیں۔

’’عزتوں کے لٹیرے کو پھانسی دو۔ ایسے درندوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

گاڑی پر نظر پڑتے ہی ان کے نعروں میں تیزی آگئی۔ کئی جو شیلے تو پولیس کا گھیرا توڑ کر گاڑی پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پولیس نے بڑے منظم طریقے سے ان کو کنٹرول کر رکھا تھا۔ گاڑی کو بالکل عدالت کے کمرے کے سامنے لے جایا گیا۔ جب میں گاڑی سے اترا تو ایک بار پھر لوگوں کا جوش بڑھ گیا۔ میرے چہرے کو ایک تولیے سے ڈھک دیا گیا تھا۔ یہ کام انسپکٹر نے کیا تھا۔ جس کی وجہ اس نے یہ بتائی تھی 
کہ پریس فوٹو گرافرز میری تصویر بنانا چاہتے ہیں۔ کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کالی داس کے یقین دلانے کے باوجود میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ان پراسرار قوتون کے مالک لوگوں کی مجبوریاں بھی بعض اوقات آڑے آجاتی تھیں جیسا کہ رادھا کسی جاپ کی وجہ سے نہ آسکتی تھی۔ میرے سینے سے ایک آہ نکل گئی ۔اگر وہ ہوتی تو نوبت یہاں تک کبھی نہ پہنچتی۔
سارامیڈیامنہ تکتا رہ گیا۔ کیونکہ صحافیوں کو اندر داخل نہ ہونے دیا گیا تھا۔ کٹہرے میں کھڑا کرکے میری ہتھکڑی کھول دی گئی۔ جج صاحب اپنی کرسی پر تشریف فرما تھے۔ صبح تھانے میں پروفیسر صاحب کا بھیجا ہوا وکیل مجھ سے وکالت نامے پر دستخط کروا گیا تھا۔ وہ جنگلے کے ساتھ کھڑا تھا۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اشارے سے مجھے حوصلہ دیا۔ اسکے ساتھ ڈسکس کرنے کا موقع مجھے نہیں دیا گیا تھا۔ اس کام میں رکاوٹ ڈی ایس پی نے ڈالی تھی جو سبین کے والد صاحب کا شاگرد تھا اور سبین کو اپنی بہنوں کی طرح چاہتا تھا۔ وہ بھی ایک طرف کھڑا تھا۔ انسپکٹر عادل کی موجودگی سے مجھے کچھ حوصلہ تھا۔ میری نظریں چاروں طرف کالی داس کو تلاش کر رہی تھیں۔ اس نے کہا تھا وہ بروقت عدالت پہنچ جائے گا۔ اگر وہ نہ آسکا تو؟ میرے دل میں یہ خدشہ بہرحال موجود تھا۔ کہیں وہ مجھے دھوکہ تو نہیں دے دے گا؟ مختلف قسم کے دسو سے میرے دل میں چکرا رہے تھے۔ کمرے میں لوگوں کی دبی دبی سرگوشیں گونج رہی تھیں۔ جج صاحب نے ہتھوڑا میز پر مارا۔
’آرڈر۔۔۔آرڈر مقدمے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے‘‘ ایک پختہ عمر وکیل اٹھ کر جج کے آگے جھکا اور اپنا تعارف سبین کے وکیل کی حیثیت سے کرواتے ہوئے اجازت چاہی۔ کالی داس ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ اس نے مجھے کچھ خاص ہدایت نہیں تھی کہ مجھے عدالت میں کیا بیان دینا ہے۔ اس سے پہلے زندگی میں اس قسم کے حالات کا سامنا نہ ہوا تھا مجھے کچھ معلوم نہ تھاکہ کیا کہنا ہے؟ بس لے دے کر وہی ایک کہانی تھی جو میں نے انسپکٹر عادل کو سنائی تھی۔ جج نے ایک سرسری نظر میرے اوپرڈالی پھر چونک گیا۔ بغور میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’اسے کس نے اس بری طرح مارا ہے؟‘‘

میرا وکیل فوراً اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔’’جناب عالی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس بری طرح میری موکل کو زدوکوب کیا گیا۔ ابھی تو اس کا جرم ثابت نہیں ہوا اس کے باوجود اس اسے کس بری طرح تشدد کانشانہ بنایا گیا ہے۔ یورآنر! درندگی کی انتہا ہے کہ میرے موکل کو ادھوموا کرکے تھانے لے جا کر بند کر دیا گیا‘‘ میرے وکیل نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔

’’اس کا یہ حال کس نے کیا۔۔۔؟‘‘ جج نے ڈی ایس پی کی طر ف دیکھ کر سوال کیا ۔

’’یور آنر! جس درندگی کا مظاہرہ اس شخص نے کیا ہے جس طرح اس نے ایک معصوم کنواری لڑکی کی عزت لوٹ کر اسے تباہ کر دیا، اس کے مقابلے میں تو اسے کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو اس درندے کو موت کی سزا دیتا‘‘ اس کے لہجے میں میرے لئے زہر بھرا ہوا تھا۔ اسکی بات سن کرجج کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔
میرا خیال ہے میں یہ کرسی چھوڑ کر اس پر آپ کو بٹھا دوں کیونکہ آپ کے اندر مجھ سے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیا قانوناً آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی بھی شخص کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جائے؟ کیا آپ کو وردی اسلئے دی گئی ہے کہ انسانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے انہیں موت کے منہ میں پہنچا دیں؟‘‘ آہستہ آہستہ جج کا لہجہ تیز ہوتا گیا۔

’’میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ اس عہدے کے لائق نہیں ہیں۔ کیوں نہ آپ کو معطل کر دیا جائے یا آپ کی ترقی معکوس کرکے آپ کو دوبارہ تھانے دار بنا دیا جائے۔‘‘ ڈی ایس پی کے الفاظ نے جج کو چراغ کردیاتھا۔

’جج۔۔۔جنا۔۔۔جناب! میں معافی چاہتا ہوں دراصل جس لڑکی پر اس درندے نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں وہ میری منہ بولی بہن ہے‘‘ وہ اپنی چوکڑی بھول گیا۔

’’جس وقت ملزم اس لڑکی کی عزت رہا تھا آپ وہاں موجود تھے؟ کیا آپ نے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے؟‘‘ جج نے سخت لہجے میں پوچھا۔

ضرور پڑھیں: شہبازشریف کی نیب پیشی کے موقع پر گرفتاری کا خدشہ لیکن کیا وہ ضمانت قبل از گرفتاری کروائیں گے یا نہیں ؟ فیصلہ کرلیا گیا
’’نن۔۔۔نہیں جناب! لیکن میرا تجربہ کہتا ہے یہ واقعی مجرم ہے‘‘ وہ بری طرح بدحواس ہوگیا تھا۔

’’اگر آپ کا تجربہ اتنا وسیع ہے تو آپ واقعی میری اس سیٹ کے حقدار ہیں‘‘ جج کے طنزیہ لہجے سے اس کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا۔

’’آئندہ خیال رہے یہ عدالت ہے اس قسم کے الفاظ بولنے سے پرہیز کریں درندے کی اصطلاح آپ نے ملزم کے لئے کیوں استعمال کی جبکہ آپ نے اسے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ جج نے اسے ایک بار پھر لتاڑا۔

’’کیسے کیسے نکمے اور جاہل لوگ پولیس میں بھرتی ہو کر آجاتے ہیں‘‘ اس کی واضح بڑبڑاہٹ سنائی دی۔ ڈی ایس پی پیچ و تاپ کھا رہا تھا لیکن ظاہر ہے کچھ کر نہ سکتا تھا یہ عدالت تھی۔۔۔تھانہ نہیں ایک منٹ میں اسکی وردی اتر سکتی تھی۔ اچانک جج کے پیچھے کالی داس نمودارہوا۔ اسے دیکھ کر میں نے اطمینان کی سانس لی۔ ظاہر ہے وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا ورنہ اسے وہاں کون ٹھہرنے دیتا۔ وہ جج کی کرسی کے پیچھے بالکل خاموش کھڑا تھا۔ حسب معمول اس نے ایک دھوتی لنگوٹی کی صورت میں باندھ رکھی تھی۔ سامنے والی کرسیوں کی قطار میں ڈی ایس پی عمرحیات، ساجدا ور میرے دیگر محلے دار بیٹھے تھے۔ میرے وکیل نے جج سے گواہوں سے سوال پوچھنے کی اجازت چاہی جج نے سر ہلا کراجازت دے دی۔سب سے پہلے اس نے میرے پہلے قریبی ہمسائے کوکٹہرے میں بلایا۔ اس نے سچ بولنے کا حلف اٹھایا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد میں یقین سے تونہیں کہہ سکتا۔ غالباً میرے وکیل کانام امجدصدیقی تھا۔ وہ ایک معمر اور تجربہ کاروکیل تھا۔ اس نے غور سے میرے ہمسائے کودیکھا۔

’’آپ کانام؟‘‘ اس کی بھاری آواز کمرہ عدالت میں گونجی جہاں سکوت مرگ طاری تھا۔

’’محمد اسلم‘‘ اس نے جواب دیا۔
کیاکام کرتے ہیں؟ میرا مطلب ہے آپ کاذریعہ معاش کیا ہے؟‘‘ وکیل نے دوسرا سوال کیا۔

’’میں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتاہوں؟‘‘
’’عدالت کو مختصر الفاظ میں بتائیے کہ آپ نے میرے مؤکل فاروق خان کو کس حالت میں دیکھا جب آپ وہاں پہنچے۔ ساتھ میں یہ بھی واضح کیجئے کہ آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ میرا موکل اس وقت کسی لڑکی کی عزت لوٹ رہا ہے؟‘‘
کالی داس نے اسلم کی طرف منہ کرکے پھونک ماری۔
’’جناب! میں نے سچ بولنے کی قسم کھائی ہے اس لئے مزید جھوٹ نہیں بول سکتا۔‘‘ اسلم کی بات نے سب کوچونکا دیا۔

میں نے کچھ نہیں دیکھا ۔مجھے تو عمر حیات صاحب نے کہا تھا کہ فاروق ایک لڑکی کی عزت لوٹ رہاتھاکہ ہم نے اسے موقع پر پکڑ لیا۔ تم نے کل عدالت میں گواہی دینا ہے کہ تم نے ایسا ہوتے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جناب! میں نے تو اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا ۔پھر میں کیسے کہہ سکتاہوں؟‘‘ اس پرانہوں نے مجھے دھمکی دی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تم پر کوئی الزام لگا کر تمہیں تھانے بند کروا دوں گا ۔میری بڑی پہنچ ہے۔ علاقے کا ایس پی میرا دوست ہے۔ جناب میں سیدھا سادہ بزنس مین ہوں ۔ان الجھنوں میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں پولیس کے اختیارات کوسبھی جانتے ہیں اس لئے میں چلا آیا۔ لیکن جب یہاں آکر میں نے قسم کھائی تو میرے ضمیرنے مجھے اجازت نہ دی کہ میں جھوٹ بولوں ‘‘ اتناکہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

’’کیا بکواس کر رہے ہو اسلم؟ جب ہم فاروق کے بیڈ روم میں داخل ہوئے تو کیا تم میرے ساتھ موجود نہ تھے؟‘‘عمر حیات حلق کے بل چیخا۔ اسے گمان ہی نہ تھا اسلم اس طرح جھوٹ بولے گا۔

’’آرڈر۔۔۔آرڈر۔۔۔مسٹر اس بات کو دھیان میں رکھو یہ کمرہ عدالت ہے۔ اگر اب تم نے اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات کہی تو میں تمہیں توہین عدالت کے جرم میں سزا دوں گا‘‘ جج نے برہمی سے کہا۔

’سر! یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اس نے خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ ہوتے دیکھا تھا۔ اسکے علاوہ یہ سب لوگ(اس نے اپنے دائیں بائیں بیٹھے افراد کی طرف اشارہ کیا) بھی اس بات کے گواہ ہیں۔ اس نے احتجاج جاری رکھا۔

’’ان کی باری آنے پر ان سے بھی پوچھا جائے گا۔ فی الحال آپ خاموش رہیں‘‘ جج نے اس کو جھڑک دیا۔ لوگوں کے منہ حیرت سے کھلے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ میرے وکیل کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی۔ گواہ منحرف ہونا اس کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی لیکن جس اطمینان سے اسلم نے عمر حیات کی بات کو جھٹلایا تھا وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔

’’مجھے کچھ اورنہیں پوچھنا جناب عالی‘‘ میرے وکیل نے سرکو خم کرکے کہا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

’’آپ گواہ سے کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ جج نے سبین کے وکیل سے پوچھا۔

’’نہیں جناب‘‘ اس کالہجہ شکست خوردہ تھا۔

جج صاحب نے میرے وکیل کو باقی گواہان پر جرح کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ باری باری گواہان کو بلاتا گیا سب نے ہی ایک جیسا بیان دیا کہ ڈی ایس پی نے انہیں دھمکایا تھا کہ اس کے کہنے پر گواہی نہ دو گے تو تم لوگوں کو تھانے میں بند کروا دوں گا۔ عمرحیات کی حالت دیدنی تھی۔ حیرت، غصے اور بے چارگی کی تصویر بنا وہ سیٹ پرپہلو بدل رہا تھا۔
وکیل مخالف نے اپنی فیس حلال کرنے کی خاطر کچھ گواہان سے سوالات کئے بلکہ کافی بحث بھی کی لیکن کسی بھی طرح انہیں اپنے پہلے بیان سے نہ ہٹا سکا۔ جج کی ہمدردی میری حالت دیکھ کر ہی مجھے سے ہوگئی تھی۔ اس پرجب گواہان بھی مکرگئے تو اس نے خشمگیں نظروں سے دونوں، آن ڈیوٹی اور ریٹائر ڈی ایس پیز کو دیکھا۔ سب سے آخرمیں میرے وکیل نے سبین کو کٹہرے میں بلانے کی اجازت چاہی جس پر جج صاحب نے سبین کے وکیل کی طرف دیکھا اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ سبین کو بلایا گیا۔ جب وہ کٹہرے میں آئی تو اس کا چہرہ ترو تازہ گلاب کی طرح کھلاہوا تھا۔ کسی طور وہ ایسی لڑکی نہ دکھائی دے رہی تھی جس کے ساتھ ایک روز قبل ایسا اندوہناک سانحہ گزارا ہوا۔ یہ بھی کالی داس کی جادوئی قوت کا کرشمہ تھا۔ جج صاحب کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ کٹہرے میں آنے کے بعد میرا وکیل اس کے سامنے پہنچ گیا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’جی میرا نام سبین امجد ہے امجدمیرے والد ہیں‘‘ اس نے واضح کیا۔
’’کٹہرے میں کھڑے صاحب کو آپ جانتی ہیں؟‘‘ وکیل نے میری طرف اشارہ کیا۔
جی ہاں جناب! یہ فاروق صاحب ہیں میرے باس‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ جج بڑی گہری نظروں سے سبین کی طرف دیکھ رہاتھا۔

’’کیاآپ عدالت کو بتانا پسندکریں گی کل آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا؟‘‘ وکیل نے اس کے چہرے پر نظر جما کر سوال کیا۔
’ڈی ایس پی جمال قریشی میرے منہ بولے بھائی ہیں اور میرے ابوکے شاگرد بھی ۔ ان کا ہمارے گھر آناجانا ہے۔ تین چار دن پہلے شام کے وقت آئے اور کہنے لگے مجھے کچھ شاپنگ کرنا ہے میرے ساتھ بازار چلو‘‘ اس نے ایک نظر جمال قریشی پر ڈالی جو الجھی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا رہا تھا پھر سلسلہ کلام جوڑا۔

’’میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر بازار چلی گئی۔ انہوں نے کچھ شاپنگ اپنے لئے کی۔ ایک دو چھوٹی چھوٹی چیزیں مجھے لے کر دیں ۔اس کے بعد ہم ایک ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے ۔ کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا۔ میرا ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات ایک بنگلہ خریدنا چاہتا ہے لیکن اس میں تمہارے باس فاروق خان رہائش پذیر ہیں۔ہم نے ان سے کئی بار درخواست کی ہے کہ اگر آپ کوئی دوسرا مکان تلاش کرلیں تو پروفیسرصاحب یہ بنگلہ ہمیں فروخت کرنے پر تیار ہیں لیکن وہ نہیں مانتے۔ اگر تم ہماری مدد کرو تویہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا بھائی ! اس سلسلے میں میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں؟ اس پر یہ کہنے لگے اگر تم ان سے کہو تو وہ ضرور مان جائیں گے۔ میں نے کہا یہ مناسب بات نہیں۔ ابھی مجھے بینک آئے دو روز ہوئے ہیں پھر میں کیسے ان سے یہ بات کہہ سکتی ہوں؟انہوں نے کہا اگر تمہارے کہنے پر بھی وہ نہ مانے تو میں اپنے دوست کو سمجھا لوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔میں کل ان سے بات کرلوں گی۔ کہنے لگے کل ہم ان کے گھر چلے جائیں گے وہاں بیٹھ کراطمینان سے بات ہو جائے گی۔ مجھے حیرت تو ہوئی لیکن میں نے زیادہ بحث نہ کی۔ کل دوپہرکے قریب انہوں نے مجھے فون کیا کہ میں تھوڑی دیر کے لئے چھٹی لے کر آجاؤں۔ جب میں گھرپہنچی تو یہ ابو کے پاس بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے چلوتمہارے افسر کے گھر چلیں۔ میں نے کہا لیکن وہ تو اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔ کہنے لگے تھوڑی دیر پہلے وہ گھر چلے گئے ہیں۔ میں ان کیساتھ چل پڑی پہلے ہم ان صاحب کے گھر گئے۔ ‘‘ سبین نے عمر حیات کی طرف اشارہ کیا جو حیرت سے منہ کھولے سن رہا تھا

’’ان کے ساتھ جو صاحب بیٹھے ہیں یہ بھی وہاں موجود تھے‘‘ اس بار سبین نے ساجدکی طرف اشارہ کیا۔

’’مجھ سے کہنے لگے تم فاروق سے بات کرنا کہ وہ یہ بنگلہ خالی کر دیں تاکہ ہم اسے خرید سکیں۔ مجھے ان کی بات کی سمجھ تونہ آئی لیکن جمال بھائی پر چونکہ مجھے اندھا اعتماد تھا اس لئے میں نے حامی بھر لی۔ ہم سب فاروق صاحب کے گھر پہنچے توانہوں نے کہا تم جاکربات کروہو سکتا ہے ہمیں دیکھ کر وہ نہ مانیں‘‘ اسنے ایک بارپھر عمر حیات کی طرف اشارہ کیا۔
’دودنوں کی سروس میں میں نے سر فاروق کو اچھا اور سلجھا ہوا شخص پایاتھا اس لئے بے دھڑک اندر چلی گئی اسکے علاوہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس وقت گھرمیں تنہا ہیں۔ سر فاروق نے مجھے حیرت سے دیکھا؟ میں ابھی انہیں بتانے ہی لگی تھی کہ میں کس مقصد کے تحت آئی ہوں کہ اچانک جمال بھائی اور یہ دونوں (اسنے عمر حیات اور ساجد کی طرف اشارہ کیا) چند اور افرادکے ساتھ اندر آگئے۔ آتے ہی انہوں نے سر فاروق کو مارنا شروع کردیا اور اس درندے نے‘‘ اس نے ڈی ایس پی جمال قریشی کی طرف اشارہ کیا اسکی آواز بھرا گئی۔ کمرہ عدالت میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سبین کی سسکیاں تیز ہوگئیں کچھ دیر بعد اسنے آنسوصاف کیے۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.