Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد




ناول؛ جنت کے پتے
قسط 71
تم ترکی کے سب سے بڑے بارڈر کے بارے میں کیا جانتی ہو؟
کون سا بارڈر؟ ترکی اور شام کا؟
ہاں، اس بارڈر کو ایک قومی مجرم اس منگل کی رات کراس کرے گا، غیر قانونی طور پہ۔ ایسے میں تمہیں کچھ کرنا ہے۔
چند لمحے خاموشی کے بعد (وہ غالبا کسی اور جگہ آ گئی تھی-) ہاں کہو، پھر میں سن رہی ہوں۔
ترکی کا تم پہ قرض ہے عائشے! اپنے دل سے پوچھو کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ، ایک مجرم ترکی کا ایک قومی مجرم، غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر رہا ہے تو تمہیں کیا کرنا چاہیئے؟
عائشے خاموش ہو گئی وہ آواز مزید دھیمی کرتے ہوئے بولا۔
تمہیں بارڈر سیکیورٹی فورس کو فون کرنا چاہیئے، تمہیں انہیں بتانا چاہیئے، سب کچھ، تاکہ وہ اسے گرفتار کر سکیں مگر نہیں' عائشےگل یہ کیسے کر سکتی ہے، عائشے گل تو کچھ نہیں کر سکتی۔
ذرا اونچا بولو! اتنا آہستہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا- کیا کوئی آس پاس ہے؟ وہ ناراض ہو کر زرا خفگی سے بولی جیسے آخری فقرے کو نظر انداز کرنا چاہ رہی تھی۔
میں نہیں چاہتا کہ کوئی سنے، تم یہ سب لکھ لو۔ کمانڈر کا نمبر بھی۔
پھر وہ اسے تمام ضروری باتیں بتاتا گیا اور وہ لکھتی گئی۔
انہیں تمہاری کال ٹریس کرتے ہوئے نوے سیکنڈ لگیں گے تم نے اسی ویں سیکنڈ میں کال کاٹنی ہے۔
تم یہ کرو گی نا؟ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور تب ہی اس کو آپنے پیچھے کسی آہٹ کا احساس ہوا وہ تیزی سے پلٹا۔ اندر چرچ کی سیڑھیوں پہ حرکت سی ہوئی تھی۔
کوئی آ گیا ہے، بعد میں کال کروں گا'۔ اس کا مرحبا سننے سے قبل ہی وہ سبک رفتاری سے آگے آیا اور سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپی بہارے گل کو کان سے پکڑ کر باہر نکالا
میں ابھی آئی تھی- واللہ میں نے کچھ نہیں سنا۔ چھوٹی بلی بوکھلا گئی تھی، مگر وہ لب بھینچے برہمی سے اسے چرچ سے باہر لایا تھا۔
تو تم میری باتیں سن رہی تھی۔ تمہیں تمہاری بہن نے سکھایا نہیں ہے کہ کسی کی باتیں چھپ کر نہیں سنتے۔
میری بہن کو کچھ مت کہو!
جو تم نے سنا ہے اگر وہ تم نے حیا کو بتایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
وہ دبے دبے غصے سے کہہ رہا تھا اور اگر تم نے اپنی بہن کو بتایا کہ میں نے یہ بات حیا کو بتانے سے منع کیا ہے تو میں واقعی بہت برا پیش آوں گا۔
سیڑھیوں پہ ٹک ٹک کی آواز گونجنے لگی۔ وہ اوپر آ رہی تھی۔ جہان نے بہارے کو موبائل واپس کیا جسے اس نے جلدی سے اپنے پرس میں ڈال دیا۔
اگر تم نے میری بات نہ مانی بہارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں سنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روہانسی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب تک حیا اوپر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***
اس نے یہ سب کہا؟ وہ بے یقینی سے اسکرین پہ نظر آتی عائشے اور بہارے کو دیکھ رہی تھی۔
ہاں! میری بہن سچ کہہ رہی ہے۔ میں نے خود سنا تھا۔
تم نے یہ سب سنا تھا؟ اور وہ سمجھتی رہی کہ اس نے اس کی اور جہان کی باتیں سنی تھی۔ مگر وہ تو اردو میں بات کر رہے تھے۔ وہ سن بھی لیتی تو اسے کیا سمجھ میں آتا؟ اس نے اس کی باتیں سنی ہی نہیں تھی وہ ایک دفعہ پھر ایک طرف کی کہانی سے نتیجہ اخذ کر چکی تھی۔
اس نے اپنی مخبری خود کروائی؟ اس نے اپنے آپ کو خود گرفتار کروایا؟ مگر کیوں؟ اس سارے قصے کا کچھ سینس نہیں بنتا تھا۔ وہ حیران تھی، پریشان تھی۔
تمہیں کیسے پتا کہ وہ گرفتار ہو گیا؟ عائشے نے بے یقینی سے پوچھا۔
میں نے خود دیکھا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا کے الفاظ لبوں پہ ٹوٹ گئے۔ اس نے کیا دیکھا تھا؟ ہیولے؟ دھواں؟ روشنی کے گولے؟ ایک طرف کی کہانی؟
مجھے نہیں پتا میں نے کیا دیکھا تھا- مجھے نہیں پتا۔ وہ بے بسی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ پھر ایک دم جھماکے سے اسے یاد آیا۔
جہان کے جوتوں کا رخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اٹھا تھا تو اس کے جوتوں کا رخ بائیں جانب تھا، حالانکہ وہ سرحد کی جانب منہ کیے کھڑا تھا۔ کیا وہ سرحد کی طرف نہیں جا رہا تھا؟ وہ بائیں جانب جا رہا تھا۔ مگر بائیں جانب کیا تھا؟
پلیز تمہیں جب بھی کچھ پتا چلے مجھےضرور بتانا۔ اگر اسے میری وجہ سے کچھ ہوا تو میں ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکوں گی۔
عائشے بہت فکرمند اور بے چین ہو گئی تھی۔ حیا نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔ عائشے کو تسلی دینے کیلئے ایک لفظ بھی اس کے پاس نہ تھا۔
سرحد کی وہ رات اور ہراقلیطس کی دائمی آگ سے اٹھتے دھویں کے مرغولے سب کچھ ایک دم سے تازہ ہو گیا تھا۔
***
اس نے دیوار پہ لگے کیلنڈر کی تاریخوں کو ایک دفعہ پھر دیکھا۔ ابھی ابھی اس نے سرخ پین سے آج کی تاریخ یعنی ہفتے کا دن کاٹا تھا۔ ابھی مزید دو روز باقی تھے۔ پھر منگل تھی۔ پین رکھ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل تک آئی اور آئینے میں خود کو دیکھا۔ ڈوبتی امید کے درمیان اس کا دل بننے سنورنے، تیار ہونے کسی بھی چیز کو نہیں چاہ رہا تھا- سادہ سفید شلوار قمیض اور شانوں پہ پھیلا سفید دوپٹا ڈھیلے جوڑ کے بندھے بال اور ویران آنکھیں۔ دل تو وہیں زیتون کے درختوں میں کھو گیا تھا۔
وہ باہر آئی تو روحیل کچن کی آدھ کھلی دیوار کے پیچھے نظر آ رہا تھا۔ اسے آتے دیکھ کر زرا سا مسکرایا۔
پیو گی؟ وہ کپ میں کانٹے سے کافی پھینٹ رہا تھا۔
اونہوں! وہ ہلکا سا نفی میں سر ہلاتے آگے آئی اور کچن کی سینٹر ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔
اور کیا ہو رہا ہے؟ جہان نے کب آنا ہے؟ گھوم پھر کر وہی سوال۔
اچھا ہے نا وہ نہیں آیا۔ سب خوش ہو گئے۔ اسے میرے ساتھ دیکھ کر خوش تھا ہی کون بھلا؟ وہ تلخی سے بولی۔
ارے میں تو خوش تھا بلکہ وہ آتا تو میں اور بھی خوش ہوتا- خیر پھوپھو کہہ رہیں تھیں کہ وہ منگل کو آ جائے گا؟ روحیل پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا وہ سمجھ نہ سکی۔ پھوپھو کو تو اس نے خود ہی بتایا تھا مگر جب اسے خود یقین نہیں تھا تو روحیل کو کیا دلاتی۔
نتاشا کہاں ہے؟ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے موضوع بدلا۔
اندر ہو گی۔ ولیمے کیلئے آپنے ڈریس کی ڈیزائینگ کرتی پھر رہی ہے۔
اچھا خوش ہے وہ پاکستان آ کر؟
ہوں! روحیل نے کافی پھنٹتے ہوئے زرا سے شانے اچکائے۔ یہ ہاں تھا یا ناں وہ سمجھ نہیں سکی۔
اور اب تو ابا بھی جہان سے خوش تھے۔
تو پہلے کون سا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکی۔ ایک دم سے کچھ یاد آیا تھا۔ بیوک ادا میں جب روحیل سے اس کی بات ہوئی تھی تب اس نے کچھ بتایا تھا۔ تم نے بتایا تھا روحیل! یاد ہے کہ ابا کسی وجہ سے جہان سے خفا تھے۔
چھوڑو حیا! رہنے دو، وہ تو بس ایسے ہی۔
نہیں مجھے بتاؤ۔ تم نے کہا تھا بعد میں بتاؤں گا۔
کوئی خاص بات نہیں تھی۔ لیکن جب ابا ڈیڑھ سال پہلے استنبول میں سبین پھپھو سے ملےتھے تو انہوں نے کسی لڑکی کو جہان کو ڈراپ کرتے دیکھا تھا۔ بس اسی بات سے ان کے دل میں گرہ لگ گئی تھی۔ مگر خیر چھوڑو۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔
اور حیا کو تو یہ بات اچھی طرح یاد تھی۔اس نے ابا اور تایا کی باتیں سنی تھیں۔ ہاں وہ یہی بات کر رہے تھے۔ لیکن جہان نے اسے یہ بات کبھی نہیں بتائی کیونکہ اس نے پوچھی نہیں تھی۔ تو کیا ابھی بھی کچھ ایسی باتیں تھیں جو وہ اسے نہیں بتاتا تھا۔ جیسے عائشے کو وہ سب کہنا۔ اف! 
وہ دونوں ابھی وہیں بیٹھے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ حیا نے آگے ہو کر فون اٹھایا۔ ذہن میں پہلا خیال ولید کا آیا تھا۔
حیا کیا تم فارغ ہو؟ صائمہ تائی بہت ہی شیریں لہجے میں بول رہ تھیں۔ یقینا کوئی کام تھا۔
جی بتائیے۔
ارم کے ساتھ ماکیٹ تک ہو آؤ۔ کچھ قمیصیں لینی ہیں اسے اور اپنے تایا کا تمہیں پتہ ہے وہ اکیلے جانے کہاں دیتے ہیں۔
اوکے میں آ رہی ہوں۔
کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ نہ آتی لیکن اس ارم سے بھی بات کرنی تھی۔ سو ایک نہج پہ پہنچ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
***
اس نے کار پارکنگ ایریا میں روکی اور گیئر کو نیوٹرل پہ کیا۔ چابی گھماتے ہوئے ارم کو دیکھا۔ شلوار قمیض پہ سکارف لیے وہ ذرا بے چین نگاہوں سے شاپنگ پلازہ کو دیکھ رہی تھی۔
چلیں؟ اس کی بات پہ ارم چونکی۔
ہاں چلیں۔ مجھے کچھ قمیصیں لینی ہیں۔ بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم ذرا تذبذب سے رکی۔ مجھے پنک کلر میں لان چاہیے۔ تم یوں کرو تم شاپ کے اندر چلی جاؤ جو اچھے لگیں نکلو لینا۔ تمہارا ٹیسٹ بھی بہت زیادہ اچھا ہے۔ مجھے کچھ جیولری بھی اٹھانی تھی میں تب تک دوسرے پلازہ سے اٹھا لاؤں۔ تم بیٹھو میں آتی ہوں۔
وہ جیسے ساری تمہید تیار کر لے لائی تھی اور اب جلدی جلدی لاک کھولنے لگی۔
میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔
نہیں خیر ہے۔ تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک، تمہیں یوں کیوں تھکاؤں۔ بس دس منٹ تو لگیں گے۔
ارم اگر تمھیں یوں اکیلے جانا ہے تو پہلے اپنے ابا سے پوچھ لو۔ اس نے کہنے کے ساتھ ہی اپنے موبائل پہ تایا کا نمبر ملایا اور کال کے بٹن پہ ہاتھ رکھے مگر دبائے بغیر سکرین ارم کو دکھائی۔ دروازے کو کھولتا ارم کا ہاتھ ٹھہرا۔ آنکھوں میں الجھن اور پھر غصہ در آیا۔ 
تمہیں کیا لگتا ہے میں کسی لڑکے سے ملنے جا رہی ہوں؟
نہیں مجھے لگتا ہے کہ تم ولید سے ملنے جا رہی ہو۔
اس نے بغور ارم کو دیکھتے ہوئے رسان سے کہا۔ ایک لمحے کے لیے ارم کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے تھوک نگلا مگر پھر وہ جی کڑا کر بولی۔ 
اور اگر جا بھی رہی ہوں تو کیا کر لوگی تم؟
میں اکیلی گھر چلی جاؤں گی اور کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔ پھر جب تم تنہا آؤ گی تو سب کو خود ہی وضاحت دیتی رہنا۔ میں قربانی کا بکرا کیوں بنوں ہمیشہ۔
میں کسی سے نہیں ڈرتی حیا۔
وہ تو مجھے معلوم ہے۔ تم نے جو میری ویڈیو دینے کی حرکت کی ہے اس سے پتہ چل گیا تھا کہ تمہیں اللہ کا خوف بھی نہیں ہے۔ 
کونسی ویڈیو؟ ارم نے ابرو اٹھائی۔ چہرے کا بدلتا رنگ گواہی دے رہا تھا کہ یہ حرکت اسی نے کی تھی۔ فون پہ بھلے وہ جتنی مضبوطی سے بات کر لے سامنے کی بات اور ہوتی ہے۔
تمہیں بھی پتہ ہے اور مجھے بھی کہ میں کس ویڈیو کی بات کر رہی ہوں۔ تم نے اس طرح کرتے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس میں تمہاری بھی بدنامی ہو گی۔ وہ دکھ سے ارم کو دیکھتے ہوئے بولی۔ گاڑی کے شیشے آدھے کھلے تھے اس کے باوجود باہر کے شور سے بےنیاز دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ حیا دکھ سے اور ارم تلخی سے۔
میری زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔ میری جتنی بدنامی تم نے کروانی تھی کروا لی۔
ارم تم ولید سے وہ ویڈیو واپس لے لو۔ حیا نے التجا نہیں کی تھی بس قطیعت سے کہا تھا۔
اچھا یہ چاہتي ہو تم۔ اور اگر میں نہ لوں تو؟ ارم کے چہرے پر کڑوی مسکراہٹ تھی۔
تو تم نتائج کی ذمہ دار خود ہو گی۔
اور اگر میں اس شرط پر لوں کہ ابا کے سامنے جا کر تم کہو گی کہ اس رات میں تم سے ہی بات کر رہی تھی۔ اور وہ تمہارا ہی کوئی جاننے والا تھا۔ جس نے ابا کے فون کرنے پر فون اٹھایا تھا۔
حیا چند لمحے بہت دکھ سے اسے دیکھتی رہی۔
یو نو واٹ تم اور ولید ایک جیسے ہو۔ جب خود پھنسے ہوتے ہو تب بھی تمہیں لگتا ہے کہ دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچا سکتے ہو۔ میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔
تو پھر ٹھیک ہے کرنے دو ولید کو اس ویڈیو کے ساتھ جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ چند لمحے دونوں کے درمیان ایک تلخ سی خاموشی حائل رہی۔ حیا سوچتے ہوئے ونڈو سکرین کے پار دیکھتی رہی۔ کسی طرح اسے ارم کو کنوینس کرنا تھا کہ وہ ولید سے وہ ویڈیو لے لے کسی بھی طرح۔
ارم میری بات سنو۔ اس میں تمہارا پارٹ بھی ہے۔ صرف میں نہیں تم بھی بدنام ہو جاؤ گی۔
پہلی دفعہ ارم کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ ابھری۔
آر یو شیور حیا کہ اس میں میرا پارٹ بھی ہے؟ 
اور حیا سن رہ گئی۔ اس کا مطلب تھا کہ ارم نے اپنا پارٹ ایڈٹ کر دیا تھا اور وہ ان کاموں میں بہت ماہر تھی۔ اسے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔ کہ وہ ایسا بھی کر سکتی تھی۔
تو تم نے صرف مجھے بے عزت کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا۔ ارم تم مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہو؟ وہ جو اتنی دیر سے سپاٹ لہجے میں بات کر رہی تھی اب کہ اس کی آوز میں شدید صدمہ در آیا تھا۔
ہاں کرتی ہوں اور مجھے تمہارے اس برقعے سے بھی نفرت ہے۔ ہمیشہ تمہاری وجہ سے مجھے ابا کی باتیں سننا پڑتی تھیں۔ ارم ایک دم پھٹ پڑی۔ جب روحیل بھائی امریکہ گئے اور تم یونیورسٹی تو تم ایک دم ماڈرن بن گئی۔ ابا تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتے تھے سو انہوں نے مجھ پہ روک ٹوک زیادہ کر دی کہ کہیں میں تمہارے جیسی نہ بن جاؤں۔ تمہاری وجہ سے مجھ پہ سختیاں بڑھی ہیں اور اب میں تنگ آ گئی ہوں اس زبردستی کے اسکارف سے۔ میرا بس چلے تو میں اس شہر کی ساری اسکارف شاپس کو آگ لگا دوں۔ نہیں کرنا مجھے اسکارف، کیوں کرتے ہیں ابا اتنی سخت۔ وہ ایک دم رونے لگی تھی۔ 
تو پھر کیا کریں وہ۔ سختی نا کریں تو کیا اپنی بیٹیوں کو کھلا چھوڑ دیں کہ جو مرضی کرو؟ ایسا نہیں ہو سکتا ارم۔ ہاں ٹھیک ہے ان کو ذہن سازی بھی کرنی چاہیے۔ انہیں اسکارف کے لیے پہلے کنوینس کرنا چاہیے۔ مگر ارم ان کی نیت تو ہمیشہ اچھی تھی نا۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ارم کے آنسوؤں سے اس کا دل ذرا پگھلا تھا۔ 
تمہیں زیادہ ابا کی وکالت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تمہیں شاپنگ نہیں کرنی تو ٹھیک ہے چلو گھر۔ مجھے نہیں جانا کہیں۔ وہ آنسو پونچھتی ایک دم بہت تلخی سے کہتی سیدھی ہوئی۔ حیا نے افسوس سے اسے دیکھا۔ دل میں جو نرم گوشہ بننے لگا تھا وہ فورا مٹ گیا۔ آخر وہ بھول بھی کیسے سکتی تھی کہ ارم نے ولید کو وہ ویڈیو دے دی تھی۔ اتنا بڑا دھوکا اس نے حیا کے ساتھ کیا تھا۔
اس نے افسوس سے سر جھٹکا اور اگنیشن میں چابی گھمائی۔ کار کے انجن میں حرارت پیدا ہوئی۔
ارم بھیگی نگاہوں سے شیشے کے پار دیکھ رہی تھی۔ اسے اب بھی اپنی ہی فکر تھی۔ اپنا اسکارف اپنے ابا کی سختیاں اپنی مجبوریاں۔ اسے اب بھی حیا کی یا اس ویڈیو کی فکر نہیں تھی۔
*****
منگل آیا، صبح ہوئی، دوپہر چڑھی، شام اتری اور رات چھا گئی۔ وہ نہیں آیا۔ بدھ بھی گزر گیا اور جمعرات کو زاہد چچا کی بیٹی مہوش پاکستان آگئی۔ مگر وہ شدید کرائسسز میں تھی۔ زاہد چچا اور عابدہ چچی نے کسی کو نہیں بتایا مگر صائمہ تائی کو اپنے کسی ذریعے سے پتا لگ ہی گیا۔ مہوش کا شوہر اس سے اگلی فلائٹ میں آرہا تھا مگر امیگریشن کے کسی چکر میں پھنس گیا اور عین وقت پر گرفتار کر لیا گیا۔ مہوش کی فلائٹ چونکہ ایک روز قبل کی تھی سو وہ اس وقت تک پاکستان آچکی تھی اور پھر خبر ملتے ہی تایا فرقان اور ان کی فیملی سمیت سب ہی عابدہ چچی کی طرف اکٹھے ہو گئے تھے۔
ڈائننگ ہال اور ڈرائنگ روم کے درمیان جالی دار پردہ آدھا گرا تھا اس کے پار صوفوں پر سب بڑے بیٹھے تھے۔ لڑکے وغیرہ بھی اکٹھے ہو گئے تھےسو وہ باہر لان میں تھے۔ اب تو حیا کی وجہ سے لڑکیوں کی طرف آنے سے بھی جھجھکتے تھے۔ نتاشا اور روحیل البتہ صوفوں پہ ہی بیٹھے تھے۔
عفان کے ماں باپ کیا کہتے ہیں؟ تایا ابا پوچھ رہے تھے۔ ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ جواب میں عابدہ چچی برے دل سے کچھ بتا رہی تھیں۔ ان کو یقیناً سب کا یوں افسوس کے لیے آنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
آج کل کے لڑکے بھی پتا نہیں کن چکروں میں ہوتے ہیں۔ صائمہ تائی نے ہمدردی سے کہا تھا۔
مہوش نے دبے دبے غصے سے جالی دار پردے کو دیکھا اور ایک دم اٹھ کر اندر چلی گئی۔ سونیا نے افسردگی سے اسے جاتے دیکھا۔ کیا کیا جا سکتا تھا؟
بس اللہ تعالیٰ خیر سے اسے واپس پہنچا دے۔ پھپھو نے دھیرے سے کہا۔ انہیں بھی صائمہ تائی کا یوں اصرار سے سب کو افسوس کے لیے ادھر لے آنا اچھا نہیں لگا تھا۔
جہان کی کیا خبر ہے سبین؟ منگل تو گزر گئی۔ اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں؟ صائمہ تائی کو پھپھو کا ٹوکنا برا لگا تو توپوں کا رخ عفان سے جہان کی طرف کر دیا۔ حیا چونک کر آدھے ہٹے پردے کو دیکھنے لگی۔
آ جائے گا بھابھی۔ کسی مسئلے میں ہو گا تبھی دیر ہوئی ہے۔ پھپھو کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
تم بھی اپنے بیٹے پر نظر رکھا کرو سبین۔ تایا ابا نے اسی انداز میں کہا جس میں وہ عفان کی بات کر رہے تھے۔ پتا نہیں وہ بھی کسی ٹھیک کام میں ہے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے باپ کے جنازے پر بھی تو نہیں آیا تھا۔
جہان کا یہاں کیا ذکر بھائی؟ پھپھو کے لہجے میں دبا دبا سا شکوہ تھا۔
حیا نے میز کا کونہ سختی سے پکڑا۔ پیشانی کی رگیں بھینچ گئی تھیں۔ اندر ایک ابال سا اٹھا تھا۔
عفان کا بھی تو ہمیں معلوم نہیں تھا۔ یہاں شاید کسی کا بھروسا نہیں ہوتا۔ تایا ابا نے پھپھو کی بات سنے بغیر تبصرہ کیا۔ حیا کے اندر کا ابال بس کسی لاوے کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ بمشکل وہ ضبط کر کے لب بھنچے بیٹھی رہی۔
ایسا کچھ نہیں ہے بھائی۔ میں اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ حیا نے مڑ کر دیکھا۔ جالی دار پردے کے پاس پھپھو ذرا خفگی سے کہتی نظر آرہی تھیں۔ اس نے صائمہ تائی اور عابدہ چچی کے چہروں کے معنی خیز تاثرات دیکھے اور پھر ابا کو دیکھا، جو خاموشی سے پھپھو کو دیکھ رہے تھے۔
سچ کہوں تو سبین! مجھے تمھارے بیٹے کے کام مشکوک سے لگتے ہیں۔ کبھی کہتا ہے ریسٹورنٹ ہے، کبھی کہتا ہے جاب سے چھٹی نہیں ملی۔ بہتر ہو گا تم اس پہ چیک رکھا کرو تا کہ کل کلاں کو کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کام کیا کرتا ہے؟ 
اور تایا کی اس بات پر اسے لگا کہ اس کی برداشت ختم ہو گئی ہے۔ بس بہت ہو گیا، اب مزید وہ نہیں برداشت کر سکتی تھی۔ یہ ٹھیک تھا کہ اسے راز رکھنے آتے تھے مگر اسے صرف وہ راز رکھنے چاہئیں تھے جن کے رکھنے کا کوئی فائدہ ہو۔ اب مزید نہیں۔ 
وہ تیزی سے اٹھی اور جالی دار پردہ اٹھا کر ڈرائنگ روم کے دروازے پر آئی۔ اس کے یوں آنے پر سب نے اسے مڑ کر دیکھا تھا۔
***
کیا آپ جانتے ہیں تایا ابا کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔ اگر نہیں جانتے تو میں آپ کو بتاتی ہوں؟ اپنے لہجے میں پنہاں غصے کو ضبط کیے جب وہ بولی تو اس کی آواز کافی بلند تھی۔ تایا ابا نے اسے حیرانی اور قدرے برہمی سے دیکھا اور پھر سلیمان صاحب اور فاطمہ کو، جیسے کہہ رہے ہو کہ آج ان کی بیٹی کو کیا ہو گیا۔
شاید آپ نہیں جانتے۔ ٹھہریں میں آپ کو بتاتی ہوں۔ وہ اسی انداز میں اونچی آواز میں بولی۔ جہان ابھی اس لیے نہیں آ سکا کیونکہ وہ اپنی آفیشل اسائنمنٹ میں پھنسا ہوا ہے۔ آپ تو یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ ہماری ایجنسی کا ایک ایجنٹ ہے، ایک بہت قابل آرمی آفیسر۔ 
یہ بات کہہ کر جب وہ فارغ ہوئی تو اس نے باری باری سب کے چہروں کو دیکھا۔ تایا ابا، صائمہ تائی، زاہد چچا، عابدہ چچی۔ سب حیران سی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے جیسے ان کی سمجھ میں نہیں آیا ہو کہ وہ کیا کہہ رہی ہے؟ آہستہ آہستہ اس کے الفاظ ان کے ذہنوں میں ٹھہرنے لگے اور ان کے معانی ان کے سامنے عیاں ہونے لگے۔
آرمی آفیسر۔ ایجنٹ۔ تایا فرقان نے کچھ حیران نگاہوں سے اسے دیکھا جو اپنی بات کہنے چکنے کے بعد ذرا پرسکون سی چوکھٹ پہ کھڑی تھی۔ پھر سبین پھپھو کو دیکھا جو خاموشی سے صوفے پہ بیٹھی تھیں مگر ان کی آنکھوں کا سکون اس بات کا غماز تھا کہ انہیں حیا کی اس بات سے خوشی ہوئی ہے۔ ضروری تو نہیں تھا کہ سب کچھ جہان آ کے بتاتا۔ انہیں شاید جہان نے منع کر رکھا تھا۔ بیٹے کا مان رکھتے ہوئے وہ خاموش رہی تھیں۔ لیکن حیا کے اس عمل سے جیسے ان کو ڈھیروں سکون مل گیا تھا۔
وہ ہماری ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے؟ صائمہ تائی شاکڈ سی بولیں۔ کیا وہ آرمی آفیسر ہے؟ کیا واقعی؟ 
جی تائی جی یہ سچ ہے۔ وہ سینے پہ بازو لپیٹے بہت اعتماد سے کہہ رہی تھی۔ ہر دفعہ انسان کو اپنے لیے جنگ نہیں لڑنی ہوتی۔ کئی دفعہ دوسروں کے لیے بھی لڑنی پڑتی ہے اور وہ اس وقت وہی کر رہی تھی۔ 
اس نے بہت عرصہ یہ بات اپنے تک رکھی، آپ لوگوں کو نہیں بتائی، اس لیے نہیں کہ وہ آپ کو اپنا نہیں سمجھتا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے اس کی جاب کی نوعیت ایسی تھی کہ اسے اپنی اصل شناخت چھپا کہ رکھنا تھی۔ لیکن وہ چاہتا تو بتا سکتا تھا۔ جیسے پھوپھو کو ہمیشہ سے معلوم تھا۔ جیسے بہت سے دوسرے لوگوں کو معلوم تھا۔ لیکن اس نے آپ لوگوں کو نہیں بتایا۔ شاید اس لیے کہ وہ آپ کا مان نہیں توڑنا چاہتا تھا۔ وہ مان جس کے ساتھ بہت پہلے آپ لوگوں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے لوگوں کہتے ہوئے تایا فرقان کو دیکھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت فخر سے کہا تھا کہ کسی غدار کے بیٹے کو فوج میں کمیشن نہیں مل سکتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا تایا ابا۔ کتنے ہی غداروں کے بیٹے بھتیجے آج بھی فوج میں کام کر رہے ہیں اور بہت دیانتداری اور حب الوطنی سے کر رہے ہیں۔ اسی لیے جب اس کو جاب مل گئی تو اس نے آپ کو نہیں بتایا تا کہ آپ کا مان نہ ٹوٹے۔ تاکہ آپ کے فخر کو ٹھیس نہ پہنچے۔
وہ جانتی تھی کہ وہ کافی زیادہ بول رہی ہے بڑوں کے سامنے اتنا نہیں بولنا چاہیے مگر بات کرتے ہوئے بھی وہ تمیز اور تہذیب کے دائرے سے آگے نہیں نکل رہی تھی۔ البتہ اس کی آواز ذرا اونچی تھی۔ 
ڈرائنگ روم میں اتنا سناٹا تھا کہ سوئی بھی گرتی تو گونج پیدا ہوتی۔ تایا فرقان کے چہرے پہ ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔ وہ جیسے سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ سب کیا ہوا ہے۔
نتاشا روحیل سے دھیمی آواز میں کچھ پوچھ رہی تھی۔ اور وہ آہستہ سے جواب میں کچھ بتا رہا تھا۔ نتاشا اس کی بات سن کر ذرا سا مسکرائی اور فاتحانہ نگاہوں سے اسے دیکھا اور کہا
۔I guessed so

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.