Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 38 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 38
مصنف۔ طارق خان 

’’میرا نام انسپکٹر عادل ہے۔ میری پولیس سروس کو پچیس سال ہوگئے ہیں۔ میں شکل سے ہی مجرم کو پہچان لیتا ہوں۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ تم مجرم نہیں لیکن یہ بات بھی میری سمجھ سے باہر ہے سب لوگ تمہارے خلاف کیوں ہیں؟کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ اس نے بڑے مہذب انداز میں سوال کیا۔
’اس سے کہہ تجھے کسی بات کی جانکاری نہیں۔ جی اچھا نہ ہونے کے کارن تو گھر پر تھا کچھ منش آئے۔ انہوں نے تیرے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور تجھے مار مار کر تیری یہ دشا بنا دی۔ اس کے بعد تجھے کچھ کھبر نہ رہی۔ جب ہوش آیا تو یہاں حوالات کے کمرے میں پڑا تھا‘‘ کالی داس نے کہا۔ میں نے چونک کر پہلے کالی داس پھر انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ وہ کالی داس کے وجود سے بے خبر مجھے دیکھ رہا تھا ’’یہ مجھے نہیں دیکھ سکتا‘‘ کالی داس میری پریشانی بھانپ کر بولا۔ میں نے اس کی ہدایت کے مطابق تھانیدار کو وہی کہانی سنا دی۔

’’کون لوگ تھے اور انہیں تم سے کیا دشمنی ہے؟‘‘ میں نے پھر کالی داس کی طرف دیکھا۔

’’کچھ اپنی بدھی سے کام لے لے ‘‘ اس کی بیزار آواز آئی۔

’’یہ تم بار بار پیچھے کیوں دیکھنے لگتے ہو؟‘‘ تھانے دارنے نرمی سے پوچھا۔ وہ ایک سلجھا ہوا شخص تھا۔

’’میرے گھر کے سامنے ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات رہتا ہے ۔وہ اس گھر کو خریدنا چاہتا تھا لیکن پروفیسر صاحب جو اس مکان کے مالک ہیں انہوں نے مجھے کرایہ پر دے دیا ۔اس بات کا اسے بہت رنج ہے۔ اس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں یہاں زیادہ دیر تک ٹکنے نہیں دوں گا‘‘ میری جو سمجھ میں آیا میں نے کہہ دیا۔

’’ہوں۔۔۔یہ بات ہے جبھی وہ بڑھ بڑھ کربول رہا تھا‘‘ اس نے کہا۔

’’سامنے والی کوٹھی میں ساجد نامی ایک شخص رہتا ہے ۔وہ عمر حیات کا گہرا دوست ہے۔ اس نے بھی کئی بار مجھے دبی دبی زبان میں کہا تھا کہ میں یہ گھر چھوڑ دوں نہیں تو پچھتاؤں گا‘‘ میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا۔ لاشعوری طور پر میں نے ساجد سے بدلہ لیا تھاکیونکہ مجھے مارنے والوں میں وہ پیش پیش تھا۔

’’ٹھیک ہے میں دیکھ لوں گا تم بالکل بے فکر ہو جاؤ ۔ابھی کرم دین کھانا لاتا ہے وہ کھا لو۔ چارپائی اور بسترمیں بجھوا دیتا ہوں آرام سے سو جاؤ کسی بات کی فکر نہ کرنا صبح عدالت سے ضمانت ہو جائے گی۔ اگرمیرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں ابھی گھر جانے کی اجازت دے دیتا لیکن تمہارے خلاف پرچہ کٹ چکا ہے تمہیں صبح میں خود عدالت میں لے کر جاؤں گا۔ کسی بات کی فکر نہ کرنا جس درندگی سے انہوں نے تمہیں مارا ہے اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے میں نے تمہاری مرہم پٹی نہیں کروائی کہ جج صاحب کے سامنے میں تمہیں اسی حالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں‘‘۔اس نے ملائمت سے مجھے سمجھایا۔
’اچھا اب میں چلتا ہوں تم کسی بات کی فکر نہ کرنا میں تمہارا دفاع بھرپور طریقے سے کروں گا‘‘ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا لیکن اس باراس نے دروازہ بند کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ابھی وہ گیا ہی تھا کہ سپاہی کرم دین میرے لئے کھانا لے آیا۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے مجھے بھوک کا احساس دلایا۔صبح سے اب تک میں نے سوائے ایک جوس کے ڈبے کے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔

’’صاحب جی! پیٹ بھر کر کھاؤ اور کسی بات کی فکر نہ کرو ہمارا صاحب بہت اچھا آدمی ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘ اس نے کھانا میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا۔ جاتے ہوئے اس نے دروازہ بند تو کر دیا لیکن اس میں تالا نہیں لگایا۔

’’بھوجن کر لو پھر باتیں کریں گے‘‘ کالی داس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ کھانا دیکھ کر میں اس کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا۔

’’آجاؤ تم بھی کھا لو‘‘ میں نے اسے دعوت دی۔ اس میں وقت اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر اسکی ہر بات ماننے کے لئے تیار تھا اور اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا اس نے گہری نظروں سے دیکھا ۔

”تم کھاﺅ....میں بھوجن کرکے آیا تھا“ اس نے کہا۔ جب میں کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے کہا۔”دیکھا مہاشے! کیسے ایک پل میں میں نے کایا پلٹ دی؟ یہی منش آج کی رینا تمری ہڈیوں سے گودا نکالنے والا تھا پرنتو اب کیسے تمرا داس بنا کھڑا تھا؟“ اس نے بڑے فخر سے کہا۔

”کالی داس! میں تم سے اپنے پچھلے رویے کی معذرت چاہتاہوں دراصل رادھا کی محبت میں میں اندھا ہوگیا تھا“ میں نے کہا۔ اگر کالی داس مجھے اس مصیبت سے چھٹکارہ دلوا دیتا تو اسکا بہت بڑا احسان ہوتا۔ اس وقت اس کی جس قدر ہمدردی میں حاصل کر سکتا میرے لئے بہتر تھا۔
”اب چھوڑ بھی پرانی باتیں جب ہم متر بن چکے ہیں تو کاہے کی چنتا؟“ اس نے بے پرواہی سے کہا۔

”تو نے جو کتھا(کہانی) اس کو مورکھ کو سانئی ہے میرا من بہت پرسن ہوا ہے آج کی رینا جوکشٹ تجھے بھوگنا پڑے گا۔ اس کے لئے مجھے شما کرنا کل ساری کٹھنائیوں سے تیری جان چھوٹ جائے گی“ اسنے معذرت بھرے لہجے میں کہا۔

معافی تو مجھے مانگنی چاہئے کہ میں نے رادھا کے ساتھ مل کر تمہیں بہت دکھ دیا ہے ہاں ایک اور بات بھی مجھے تم سے کہنا ہے جب تم ....“

جانتاہوں تو کیا کہنا چاہتا ہے کھیدو چوہڑے اور سپنا کی ہتھیا کو میں بھول نہیں پایا۔ پرنتو وہ رادھا کا اپر ادھ ہے تو نردوش ہے“ اس نے میری بات کاٹ کر کہا۔ وہ بھی رادھا کی طرح دل کی بات جان لیتا تھا۔

”کیول اتنا جان لے ، یدی رادھا کے آنے پر تو نے میرے سنگ چھل کیا تو ....“ اس کی ادھوری بات میں دھمکی پوشیدہ تھی۔

”کیا تم اب بھی یہ سمجھتے ہو کہ میں رادھا کا ساتھ دوں گا جس کی وجہ سے آج میں اس حالت میں حوالات میں پڑا ہوں؟ یہ سب کچھ اس بدبخت کی وجہ سے ہی تو ہوا ہے ورنہ میں تو ایک سیدھی سادھی زندگی بسر کرنے والا انسان ہوں۔ نہ رادھا مجھے ملتی نہ یہ دن دیکھنا پڑتے“ میں نے اس کا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر رادھا کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ بات تھی بھی سچ، ان حالات کی ذمہ دار رادھا ہی تھی۔

”تو بہت بدھی مان ہے۔ یدی تو ستیہ کہہ رہا ہے تو سن اب کالی داس کی شکتی تجھے ان کٹھنائیوں سے یوں نکال کر لے جائے گی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور کالی داس کا متر بن کر توگھاٹے میں نہیں رہے گا۔ رادھا تو کچھ بھی نہیں ایسی ایسی سندرکنیائیں تیرے چرنوں میں بٹھا دوں گا کہ تو آکاش کی اپسراﺅں کو بھی بھول جائے گا“ اسنے مجھے لالچ دیا۔ٹھیک ہے کالی داس! اگر تم نے اپنا وعدہ پورا کیا تو مجھے ہمیشہ اپنا دوست پاﺅ گے“میں نے اسے یقین دلایا اور دل میں اسی بات کو دہرانے لگا۔وہ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔
”دھن باد خان صاحب! تم ایک گھر سے منشہور جو کچھ تمرے من میں ہے ۔وہ میں جانتا ہوں اب تو کسی بات کی چنتا نہ کر دیکھ کالی داس کیا کرتا ہے۔ تجھے ابھی کالی داس کی شکتی سے جانکاری نہیں کیول آج کی رینا اس کوٹھڑی میں بتا لے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا“ اس نے مجھے تسلی دی۔ میں نے منہ سے کچھ نہ کہا بس سر ہلا کر اس کی بات کی تائید کی۔

تھوڑی دیر بعد سپاہی کرم دین چارپائی اور بسترلے آیا۔ اس کے جانے کے بعد کالی داس بولا۔

”اب مجھے آگیا دے....ابھی جا کر بہت کچھ کرنا ہے پرنتو تو چنتا نہ کرناسب ٹھیک ہو جائے گا۔“

میں نے ایک بار پھر اسکا شکریہ ادا کیا۔اچانک وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ رادھا نے مجھے بتایا تھا کہ کالی داس زبردست پراسرار قوتوں کا مالک ہے۔ اس کے لئے نظروں سے اوجھل ہونا یا ہزاروں کوس دور پہنچ جاتا کوئی مشکل بات نہیں۔

میری چوٹوں میں بہت درد ہو رہا تھا۔ کمبختوں نے بری طرح میری دھنائی کی تھ۔
”کیا کالی داس واقعی میری مدد کرے گا؟“ لیکن اس وقت اس پر اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ عمران دوبارہ نہیں آیا تھا میں دکھتے جسم کے ساتھ لیٹ گیا۔ سارے واقعات ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگئے۔ مجھے خود سے شرم آرہی تھی۔ جو کچھ میں نے اس مجبور اور بے بس لڑکی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی سزا تویہی تھی کہ مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ لیکن میں خود غرض ہوگیا تھا۔ میرے سامنے صائمہ اور بچوں کے چہرے آگئے۔ مجھے اپنی سزا کی اتنی فکر نہ تھی ،جو کچھ میں نے کیا تھا میں واقعی سزا کا حقدار تھا۔ لیکن صائمہ اور بچے....ان کا قصور کیا تھا؟ اگرمیں جیل چلا جاتا تو ان کا پرسان حال کون ہوتا؟ میں انہی سوچوں میں غرق تھا کہ کمرے میں ایک بار پھر اندھیرا چھا گیا۔ شاید بلب پھر فیوز ہوگیا تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے خوشبو کا جھونکا ٹکرایا۔ کمرے میں کسی اورکی موجودگی کا احساس ہوا۔

”رادھا....؟“ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن رادھا جب آتی تو گلاب کی مہک سے کمرہ بھر جاتا۔ خوشبو تو اب بھی آرہی تھی اور بہت ہی مسحور کن مہک تھی لیکن یہ گلاب کی خوشبو نہ تھی۔
مہاراج ! مجھے شما کر دو۔“ کمرے میں بسنتی کی مدہر آوازآئی۔

”بسنتی....؟“ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

ہاں مہاراج ! میں ابھاگن بسنتی ہی ہوں“ اس کی مغموم آواز آئی۔

”مجھے شما کر دو۔ میں نے گھور پاپ کیا ہے پرنتو میں تمرے پریم میں پاگل ہوگئی تھی۔ تم ہو ہی اتنے سندر کہ کوئی بھی ناری تمہیں دیکھ کرکچھ بھی کر سکتی ہے۔“

اچانک کمرے میں دودھیا روشنی پھیل گئی جیسے چاند نکل آیا ہو۔ واقعی کمرے میں چاند نکل آیا تھا۔ بسنتی میری چارپائی کے بالکل پاس کھڑی تھی۔ اس کے وجود سے اٹھتی مہک میرے مشام جان کو معطرکیے دے رہی تھی۔ گہرے نیلے رنگکے مختصر گھاگرے چولی میں اس کا جسم قیامت ڈھا رہا تھا۔ پیار سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کراس نے مجھے لٹا دیا اور میرے اوپر جھک آئی۔ اس کی گرم سانسیں میرے چہرے کو چھونے لگیں۔ میں ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ حدت سے اس کا پنڈا تنور بنا ہوا تھا۔

”آج کی رینا مجھ سے اتنا پریم کرو کہ میری بیاکل آتما شانت ہو جائے“ اس کی خمار آلود سرگوشی ابھری۔

ضرور پڑھیں: ’’سندھ کے لاکھ اساتذہ تو یہ مضامین ہی نہیں پڑھا سکتے اور ۔ ۔ ۔‘‘ صوبائی وزیرتعلیم نے اعتراف کرلیا
”جس سمے میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا میرا من میرے بس میں نہیں ر ہاتھا۔ تم تو دیوتاﺅں سے بھی جیادہ سندرہو۔ میں نے آج تک تمرے جیسا سندر منش نہیں دیکھا“ وہ میرے اوپر چھا گئی ۔ گھنے سیاہ بالوں نے مجھے ڈھک دیا۔ میں یہ بھی بھول گیا کہ اس وقت حوالات کے کمرے میں سزا کا منتظر ہوں کل میرے ساتھ کیا ہوگا میں یہ نہیں جانتا تھا؟ بسنتی کے قرب نے جیسے دنیا سے بیگانہ کر دیا تھا۔

”پریم“ وہ میرے اندر جذب ہونے لگی۔ اس کی خود سپردگی دیکھ کر میں بھی زیادہ دیر بے حس نہ رہا سکا۔ خود بخود میرے ہاتھ حرکت میں آگئے۔ اس کی نرم و نازک انگلیاں میرے بالوں میں الجھ گئیں۔ ماتھے پر ہاتھ لگا تو زخم میں درد کے باعث میرے منہ سے سسکاری سی نکل گئی۔
کیا ہوا میرے میت؟ مجھ سے پریم کرونا“ اس کے چین آواز آئی۔

”تمہارا ہاتھ لگنے سے زخم میں درد شروع ہوگیا ہے میرا سارا جسم زخموں سے چور ہے اس حالت میں میں کیسے تمہاری”خواہش پوری کر سکتا ہوں؟“ میں نے کراہتے ہوئے کہا۔
”پریتم! ابھی تمرے سارے دکھ سکھ بدل دیتی ہوں، یدی تم آگیا دو تو میں اس سمےان پاپیوں کے گھربھسم کر دوں جنہوں نے تم پر انیائے کیا ہے“ اس کے لہجے میں اپنائیت تھی۔ شاید وہ میرے زخموں کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی کہ مجھے انسپکٹر کی بات یاد آئی اس نے کہا تھا کہ وہ اسی حالت میں مجھے جج صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ میرے حق میں بہتر تھا۔ جج کی ہمدردی میرے ساتھ ہوتی۔ یہ خیال آتے ہی میں نے بسنتی کو روک دیا۔

”ٹھیک ہے پرتم! سب کچھ ایسے ہی رہے گا پرنتو تمہیں درد نہیں ہوگا“ اس نے کہہ کر میرے جسم پر اپنا کومل ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ آپ یقین کریں اس کے ہاتھ کا میرے جسم پر پھرنا تھا کہ یکدم درد سے نجات مل گئی۔

”بسنتی ! میں جانتا ہوں کہ تم ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر سکتی ہو لیکن کالی داس چاہتا ہے کہ میں باعزت طور پر بری ہو جاﺅں، اگر تم نے ان کے گھر جلائے تو ہو سکتا ہے میں ساری زندگی جیل کی سلاخوں سے نہ نکل سکوں“ میں نے وضاحت کی۔ مجھے خطرہ تھا کہ یہ جن زادی کہیں ان سب کے گھروں کو نہ جلا دے۔ اس کے لئے ایسا کرنا کیا مشکل تھا؟

”پرنتو پاپیوں نے جو تمرے سنگ کیا ہے اس کا بدلہ تو انہیں ملنا ہی چاہئے نا“ اس کے لہجے میں اپنایت تھی۔
”لیکن یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے تو ہوا ہے جس وقت وہ لوگ مجھے مار رہے تھے تو میں نے کئی بار تمہیں پکارا تھا لیکن تم نہ آئیں“ میں نے گلہ کیا۔

”وہ سب میں نے کالی داس کی اچھا کے انوسار کیا تھا وہ رادھا کو پراپت کرنا چاہتا ہے اس نے مجھے وچن دیا ہے یدی میں اس سمے اس کی سہائتا کروں تو وہ رادھا کو اپنے بس میں کر لے گا پھر ہمیں ایک دو جے سے پریم کرنے میں کوئی روک نہ ہوگی“ وہ میری بانہوں میں سما گئی۔ اس رات کی کہانی بھی عجیب ہے۔ حوالات کے کمرے میں اس قسم کی رات شاید ہی کسی نے بسر کی ہو۔ ٹھیک ہے میں اس وقت مجبور تھا لیکن سچ پوچھیں تو بسنتی کے وصال کے لئے میں خود بھی بے چین تھا۔ مجبوری اپنی جگہ لیکن اس میں میری نفسانی خواہش کو بھی دخل تھا۔ صبح دم جب وہ جانے لگی تو بڑے پیار سے مجھے تسلی دی۔

”چنتا نہ کرنا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا“ اس کے جانے کے بعد لائٹ خود بخود آن ہوگئی۔ لیکن اب میں ان باتوں کا عادی ہو چکا تھا۔ حیران ہونا میں نے چھوڑ دیا تھا۔ روشنی میں میں نے اپنے زخموں کا جائزہ لیا جن سے خون نکل کر جم گیا تھا۔ زخم ویسے ہی تھے لیکن درد یا تکلیف کا نام و نشان نہ تھا۔ یہ بھی ایک عجیب تجربہ تھا۔ تھکن سے میرا برا حال تھا۔ بسنتی جو کچھ میرے لئے کر رہی تھی اس کا اس نے پورا پورا ”معاوضہ “ وصول کیا تھا ۔ نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ کسی نے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔ نیند بھی کتنی مہربان شے ہے ہر دکھ تکلیف خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی، اس سے نجات دلا دیتی ہے۔ میں آنکھیں کھول کر دیکھا سپاہی کرم دین مجھے آوازیں دے رہا تھا۔

”بھئی سچ پوچھ تو میں نے کسی کو حوالات کے کمرے میں اتنے آرام سے اور گہری نیند سوتے ہیں دیکھا۔ مجھے بھی پولیس میں آئے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے“ اس نے حیرت سے کہا۔ دن کا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔
”میں ناشتہ لاتاہوں“ وہ جانے لگ تو میں نے کہا مجھے رفع حاجت کے لئے جانا ہے۔ کچھ دیر وہ سوچتا رہا پھر بولا ”اچھا آﺅ میرے ساتھ۔“ میں اس کے پیچھے باہر نکل آیا۔ وہ مجھے لے کر ایک طرف چل پڑا
ایک قطار میں بیت الخلاء بنے ہوئے تھے۔

’’فٹا فٹ فارغ ہو جاؤ‘‘ اس نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ میں اندر داخل ہوگیا۔ فارغ ہو کرمیں نے اس سے کہا۔

’’کرم دین ایک اور احسان میرے اوپر کر دو‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔

’’میں روزانہ غسل کرتا ہوں برسوں سے عادت ہے اگر مہربانی کر سکو تو ۔۔۔‘‘ اسنے مشکوک نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’تم توکہتے تھے میں نے ’’کچھ نہیں کیا‘‘ پھر نہانے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔‘‘ میں شرم سے کٹ کر رہ گیا۔

’’مم۔۔۔میں نے بتایا ہے ناکہ مجھے روزانہ نہانے کی عادت ہے۔‘‘ میں نے جھجکھتے ہوئے کہا۔

’’اچھا آؤ تم بھی کیا یاد کرو گے کس سخی سے واسطہ پڑا تھا‘‘ پھر میری جیب پر نظر ڈالی۔

’’جیب میں کچھ مال پانی بھی ہے یا خالی خولی ہو۔‘‘

’’تم تو جانتے ہو کہ مجھے کس حالت میں لوگ تھانے لائے تھے میرے ۔۔۔‘‘ میں اسے بتانے ہی لگا تھا کہ یہ کپڑے بھی مجھے تھانے میں ہی میسر آئے ہیں لیکن فوراً ہی بات بدل لی۔ مجھے معلوم تھا کہ محرر نے چھپ کر لباس فراہم کیا ہے۔ وہ جلدی میں تھا اس لئے اس نے میری بات پر توجہ نہ دیا ور مجھے ایک طرف لے چلا۔ اسی طرح ایک قطارمیں حمام بنے ہوئے تھے بنیان اور دھوتی پہنے کئی سپاہی جا بجا مسواک کر رہے تھے کچھ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔ چار غسل خانے تھے لیکن خالی کوئی بھی نہ تھا۔

’’اوئے کرم دین!‘‘ ایک سپاہی نے اسے آواز دی۔
’’ہاں بھئی افضل کیا بات ہے؟‘‘ کرم دین نے کہا۔
’’اوئے اس پھٹل (زخمی) بندے کو کدھر لیے پھر رہے ہو؟ اسکی پٹی شٹی نہیں کرائی۔ یہ تو بہت زخمی ہے‘‘ اس نے میری طرف دیکھ کرپوچھا۔ کرم دین چونک گیا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو۔
’اوئے سر جی!۔۔۔صاحب نے کہا تھاکہ تمہیں اسی حالت میں جج صاحب کے سامنے پیش کرنا ہے اگر تم نہا لو گے تو زخموں پرسے سارا خون شون تو صاف ہو جائے گا نا‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔

’’چلو۔۔۔چلو پیشی بھگتنے کے بعد نہا لینا گھرجا کر‘‘ یہ کہہ کر وہ جلدی سے واپس چل پڑا۔ سپاہی مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ جو لباس میں نے پہنا ہوا تھا شاید وہ کسی سپاہی کاتھا۔۔۔سفید رنگ کا کرتا شلوار، جو میرے زخموں سے نکلنے والے خون سے سرخ ہو رہا تھا۔ میں تیز تیز چل رہا تھا حالانکہ جتنے زخم میرے جسم پر لگے تھے انکی موجودگی میں ہلنا جلنا بھی مشکل تھا۔ اور یہی بات ان کے لئے باعث حیرت تھی لیکن وہ تونہیں جانتے تھے کہ یہ کرشمہ بسنتی کا ہے۔ وہ مجھے بڑا جی دار سمجھ رہے تھے جو اسقدر زخمی ہوکر بھی میں بالکل نارمل انداز میں چل پھر رہا تھا۔ جب ہم واپس حوالات کے کمرے میں پہنچے تو چارپائی اور بستر غائب تھے کرم دین مجھے چھوڑ کرچلا گیا اس بار اسنے باہر سے تالا لگا دیا تھا۔ مجھے بیٹھے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ آنے والے کئی تھے۔ کرم دین دروازہ کھول کر ایک طرف ہٹ گیا۔ سب سے پہلے وہی انسپکٹر اندر داخل ہوا جس نے مجھے رات کھانا چارپائی اور بستر فراہم کیا اور اپنا نام عادل بتایا تھا۔ اس کے پیچھے ڈی ایس پی تھا۔ اسکی نظریں برچھی کی طرح میرے جسم کے آر پار ہو رہی تھی۔ شکل سے ہی وہ تند خو اور غصیلا لگتا تھا۔
’’سر! بہت بری طرح ان لوگوں نے اسے مارا ہے‘‘ انسپکٹر نے دبے دبے لہجے میں کہا۔

’’اگرمیرے بس میں ہوتا تو میں اسے جان سے مار دیتا۔ یہ سزا تو اسکے لئے کچھ بھی نہیں آج مجھے اس کا ریمانڈ لینے دو پھر دیکھنا میں اسکا کیا حشر کرتا ہوں۔‘‘ وہ زہریلے لہجے میں بولا۔
’سر! اس کے بقول یہ سب شرارت ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات کی ہے۔ رات میری پروفیسرصاحب کے ساتھ بھی بات ہوئی تھی انہوں نے بڑے وثوق سے کہا ہے کہ وہ اسے بڑی اچھی طرح جانتے ہیں یہ اس قسم کا انسان نہیں۔۔۔پانچ وقت کا نمازی اور نیک آدمی ہے۔‘‘

انسپکٹر بھرپور طریقے سے میرا دفاع کر رہا تھا۔ نہ جانے یہ سب کچھ وہ اپنی فطرت کی باعث کہہ رہا تھا یا اس میں کالی داس کی پراسرار قوتوں کو دخل تھا۔
’پروفیسر صاحب آج عدالت میں بھی آئیں گے‘‘ انسپکٹر نے بتایا۔

’’تمہاری تقریر ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے؟‘‘ ڈی ایس پی کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔ انسپکٹر کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.