رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 37 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط ۔37
مصنف۔ طارق خان
’خان بھائی! مجھے یقین ہے کہ یہ سب کچھ حقیقت نہیں ہے اس میں ضرور کسی کی سازش ہے لیکن باہر جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے میں بہت فکر مند ہوں۔ مجھے جیسے ہی معلوم ہوا میں اسی وقت تھانے آگیا تھا لیکن ڈی سی پی صاحب کی موجودگی میں مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا۔ یہ تو تھانہ محرر میرا کلاس فیلو اور دوست ہے اسی وجہ سے آپ سے ملاقات ممکن ہوسکی۔ بہرحال آپ فکر نہ کریں میں کچھ کرتاہوں۔‘‘
’’عمران تم تو جانتے ہو میں کیسا انسان ہوں؟کیا تم سوچ سکتے ہوکہ میں ایسی قبیح حرکت کر سکتا ہوں؟‘‘ میں نے جھوٹ بول کراپنے صفائی پیش کی۔
’’خان بھائی! سب ٹھیک ہو جائے گا میں ابھی آتا ہوں‘‘ کہہ کر وہ سامنے سے ہٹ گیا۔ جتنی شرمندگی مجھے ہو سکتی تھی اس کا اندازہ بھی کوئی نہیں لگا سکتا۔ لیکن یہ حقیقت تھی اور میں اپنے کرتوت کی سزا بھگت رہا تھا ۔مجھے اپنے ایک ایک گناہ یاد آنے لگے۔ اگر میں رادھاکے حسن کو دیکھ کر پاگل اور اندھا نہ ہوا ہوتا تو آج مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔
’’کہیں ایسا تو نہیں کہ بسنتی نے کالی داس سے مل کر یہ سب کچھ کیاہو؟۔ ہوسکتاہے اسے رادھا کے ساتھ کوئی پرخاش ہو‘‘ مختلف سوچوں نے میرے دماغ کو گھیر رکھا تھا۔ کسی سوال کا جواب میرے پاس نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد عمران دوبارہ نظر آیا اس بار اس کے ساتھ سادہ لباس میں ایک شخص بھی تھا جس نے کپڑوں کا ایک جوڑا ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔ جیسے کسی اندھے کو آنکھوں کی خواہش ہو سکتی ہے اسی طرح مجھے اس وقت کپڑوں کی ضرورت تھی۔ سادہ لباس والے نے کپڑے اندر پھینک دیئے۔
’انہیں پہن لو اگر کوئی پوچھے تو کہنا یہیں حوالات کے کمرے میں پڑے تھے‘‘ اتناکہنے کے بعد وہ دونوں سامنے سے ہٹ گئے۔
کپڑے میرے اوپر آگرے، ان سے پسینے کی بدبو آرہی تھی۔ میں نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ تھوڑی دیر بعد وہی سادہ لباس والا آیا، اسکے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا۔ وہ بھی اس نے کپڑوں کی طرح اندر پھینک دیا۔ شاید وہ دروازہ کھولنے پر قادر نہ تھا۔ میں نے جلدی سے ڈبہ کھول کر منہ سے لگا لیا۔ زندگی میں سینکڑوں بار میں نے کئی قسم کے مشروبات پئے ہوں گے لیکن اس وقت جوس کا ڈبہ میرے لئے آب حیات سے کم نہ تھا۔ میرے حواس کچھ بحال ہوئے۔عمران ایک بار پھر سامنے آیا۔
’’خان بھائی!معاملہ بہت بگڑ چکاہے۔سبین ہسپتال میں ہے۔ ڈی ایس پی صاحب خود اسکابیان لینے گئے تھے اس نے سب کچھ انہیں بتا دیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ وہ کس کے اشارے پر یہ سب کچھ کررہی ہے؟‘‘
میں جیسے زمین میں گڑ گیا۔ جس حالت میں عمران نے مجھے حوالات کے اس کمرے میں دیکھا تھا اسے سو فیصد یقین ہونا چاہئے تھا کہ میں مجرم ہوں لیکن وہ اللہ کابندہ مجھ پر اندھا اعتمادکرتا تھا،ابھی تک وہ یہی سوچ رہاتھاکہ یہ سب کچھ میرے خلاف ایک سازش ہے۔
’ڈی ایس پی باقر حسین، سبین کے والد کا شاگرد ہے۔ اسنے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ آپ کوکیفرکردار تک پہنچا کررہے گا۔ سبین کا منگیتر فوج میں میجر ہے وہ بھی آپہنچا ہے۔ اسنے قسم کھائی ہے کہ آپکو ساری زندگی جیل سے نکلنے نہیں دے گا ۔ان کے علاوہ خواتین کی ایک تنظیم نے بھی اس معاملے کو اچھالنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ جسکی صدر میڈم ستارہ کا تعلق اپوزیشن پارٹی سے ہے اور اس قسم کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس میں اسے حکومت کوبدنام کرنے میں مدد ملے۔ استادہونے کے ناطے سبین کے والد صاحب کی اس شہر میں بہت عزت ہے ۔علاقے کے سرکردہ افراد کے بچے ان کے پاس تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ طلباء نے بھی تھوڑی دیرپہلے جلوس نکالا ہے۔ انہوں نے ٹائر جلاکر سڑک بند کر دی تھی۔ لوگ بری طرح بھپرے ہوئے ہیں جگہ جگہ سے لوگوں کی ٹولیاں جلوس میں شامل ہورہی ہیں۔ میڈم ستارہ کے اکسانے پر خواتین مشتعل ہوکرگھروں سے باہرنکل آئی ہیں۔‘‘
عمران بتارہا تھا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری رہائی کی ساری راہیں مسدورہو چکی ہیں۔
’’خان بھائی! میں یہ سب کچھ خدانخواستہ آپ کو اسلئے نہیں بتا رہاکہ میں آپ کومجرم سمجھتاہوں بلکہ میرا مقصد آپ کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔ آپ فکر نہ کریں مجھ سے جو ہو سکا میں کروں گا‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔ لیکن اس کا لہجہ اعتماد سے خالی تھا ۔اتنا کہہ کر وہ چلاگیا۔ میں جانتا تھاکہ محض طفل تسلی ہے۔ میری بد نصیبی کادور شروع ہو چکاتھا۔ میں سر جھکائے بیٹھا ان حالات پر غورکر رہاتھا جو سراسر میرے خلاف تھے۔ مایوسی بڑھ گئی تھی۔ جب اتنے سارے لوگ میرے خلاف تھے تو اکیلا عمران کیا کر سکتاتھا؟
اس وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ فوٹو گرافرکا رویہ رادھا کی پراسرار طاقت کاکرشمہ ہوگ لیکن اس کی غیرموجودگی اس بات کی نفی کر رہی تھی۔۔۔فوٹوگرافر کے رویے کی وجہ کچھ بھی ہولیکن میرے سر سے وقتی طور پروہ مصیبت ٹل گئی تھی۔ بقول عمران میرے خلاف پرچہ کٹ چکاتھاجسے سبین کے بیان نے اورموثر بنادیاہے۔ اس نے کھل کرمیرے خلاف بیان دیاتھا لیکن وہ یہ نہ بتا سکی تھی کہ وہ میرے ساتھ گھر کیوں گئی تھی؟ عمران کو یہ معلومات محرر سے حاصل ہوئی تھیں۔ ابھی تک ایک دو سپاہیوں کے علاوہ کوئی اس طرف سے نہ گزرا تھا۔ عمران سے ملنے والی معلومات کے بعد صحیح معنوں میں مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔میرے ہاتھ پر خراش بھی آتی تو صائمہ تڑپ کررہ جاتی۔ اب میرا جسم لہولہوتھالیکن ہمدردی کے دوبول کہنے والابھی کوئی نہ تھا۔ لیکن میں تو اس سے بھی بدتر سلوک کامستحق تھا۔ بے بس وبے یارومددگار۔سبین نے کتنی منتیں کی تھیں؟ لیکن میرے کان پر جوں نہ رینگی تھی۔ اب۔۔۔میری فریادکون سنتا؟ اب تو شاید ساری زندگی مجھے جیل میں گزارنا تھا۔ سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔
شام کا ملگجااندھیرا اب گہری تاریکی میں تبدیل ہورہا تھا۔ اس حالت میں تو میں اپنے رب کے حضورجھک بھی نہ سکتا تھا۔ جنابت کی حالت میں کوئی دعا بھی نہیں مانگ سکتاتھا۔ کاش مجھے غسل کی سہولت میسر آجاتی تو سر سجدے میں رکھ دیتا۔ آہ۔۔۔بدقسمت اور بد بخت فاروق خان سوائے آہیں بھرنے کے کچھ نہ کر سکتاتھا۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا کمرے میں اچھا خاصا اندھیرا ہوگیا تھا۔ بیٹھے بیٹھے میری کمر دہری ہو گئی تومیں وہیں فرش پر لیٹ گیا۔کہ اچانک ایک منحوس آواز کانوں میں پڑی۔
یہ آواز کیا تھی سیسہ تھا پگلا ہوا۔
’’بہت نراش دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔بالک!‘‘
میں اس بری طرح اچھلاجیسے کسی بچھو نے ڈنک ماردیا ہو۔ ساتھ ہی کمرے میں مدہم روشنی پھیل گئی جسکا مخرج حسب معمول نظر نہ آرہا تھا۔ تیزی سے اٹھ کر بیٹھنے سے میرے زخموں سے ٹیسیں نکلنے لگیں۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی جسے میں نے بمشکل ہونٹوں میں دبایا۔
کالی داس مجھ سے کچھ فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگائے بڑے اطمینان سے بیٹھاتھا۔ اس وقت اس کے نحیف جسم پرایک دھوتی تھی۔ جب وہ لوگوں کو لے کرمیرے بیڈ روم میں آیاتھا تو اس نے مقامی لوگوں کی طرح دھوتی کرتہ پہن رکھا تھا۔ لمبے سفیدبال اس کی پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔ ایسا حلیہ ہمارے ہاں اکثر درویش قسم کے لوگ اپناتے ہیں لیکن وہ اس کا بہرروپ تھا۔ وہ توشیطان صفت آدمی تھا بلکہ اسے آدمی کہنا آدمیت کی توہین تھی۔
’’اور تم کیا ہو۔۔۔؟‘‘ ضمیر کی ملامت سے میرا سرجھک گیا۔
’’ابھی تیری پریمیکا آکر تجھے اس کشٹ سے بچاکرلے جائے گی‘‘ اسنے میرا مضحکہ اڑایا۔
میری رگوں میں خون کی بجائے لاوا دوڑنے لگا۔ زخمی جسم لے کر میں تیزی سے کھڑا ہوگیا۔ چاہتا تھا زمین کو اس کے گندے وجودسے پاک کر دوں۔ وہ بڑے اطمینان سے مجھے اپنی طرف بڑھتے دیکھتا رہا آج اس نے میرے جسم کو بے حس و حرکت نہ کیا تھا۔ میں تیزی سے اس پر جھپٹا۔ قریب تھا کہ اس بوڑھے ڈھانچے کا گلا دبا دیتا، کسی نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ زخموں سے چور جسم جیسے ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ کمرہ سادھو کے خوفناک قہقہے سے گونج اٹھا۔ میں چاروں شانے چت پڑا تھا۔
’’تو نے پچھلی بارکہا تھا یدی میں تمرے شریرکو اپنی شکتی سے نہ باندھتا تو مجھے نشٹ کر دیتا۔ اسی کارن اس بارمیں نے تیرے شریر کو نہ باندھا کہ تو اپنے من کی حسرت نکال لے آ۔۔۔آگے بڑھ اور میرا کریہ کرم کر دے کس بات کی دیر ہے؟‘‘ اس نے میری حالت دیکھتے ہوئے مضحکہ اڑایا۔
’’میں بھی تو دیکھوں تو کتنابلوان ہے؟‘‘ اس کی ہرزہ سرائی جاری رہی۔ میں ہمت کرکے دوبارہ اٹھا۔ اس بار میں محتاط انداز میں اس کی طرف بڑھا۔ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کے ہونٹ دائرے کی صورت میں سکڑ گئے۔ میں بجلی کی سی تیزی سے ایک طرف ہٹ گیا۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا تھوک مجھ سے دوانچ کے فاصلے سے گزر کرفرش پر جا پڑا۔ اسکے گندے تھوک کی اذیت میں ابھی بھولانہیں تھا۔ میرے اور اس کے درمیان چار پانچ قدموں کافاصلہ رہ گیا تھا۔ میں ہوا میں اچھلا اور اس پرچھلانگ لگا دی۔ لیکن کسی نادیدہ ہاتھ نے مجھے ہوا میں معلق کر دیا۔ چھت کے قریب جا کرمیں سرکر بل گرنے لگا۔ زمین تیزی سے میری طرف بڑھ رہی تھی اس عالم میں اگر میں زمین پر گرتا تومیرا سر پاش پاش ہو جاتا لیکن اب جینے کی خواہش کسے تھی؟جس قدر ذلت میں اٹھا چکاتھا اس کے بعدمیں خود بھی جینا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن موت بڑی ظالم چیز ہے انسان زندگی سے جس قدر بھی تنگ ہومرنا نہیں چاہتا۔ قریب تھا کہ زمین سے ٹکراکرہمیشہ کی نیندسو جاتا مجھے محسوس جیسے میرا پاؤں کسی کی گرفت میں آگیا ہے۔ خوفناک جھٹکے نے میرے اوسان خطا کردیے۔ دردکی شدید لہرنے احساس دلایا جیسے ٹانگ کولہے کے جوڑسے نکل گیا ہو۔جیسے ہی میرے حواس بحال ہوئے میں نے دیکھا میں بالکل کالی داس کے اوپرمعلق تھا۔ میرے ہاتھ اس کے سر سے انچ دو انچ کے فاصلے پر ہوا میں لہرا رہے تھے۔ میں چاہتا تھا اسکا گلادبوچ لوں تاکہ اسکے گندے جسم سے بدروح پروازکرجائے۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پرموجودہ طنزیہ مسکراہٹ نے مجھے مزید مشتعل کردیا۔
’کاش میں بھی پراسرار قوتوں کاماہر ہوتا تو اس خبیث کوابھی مزا چکھادیتا۔‘‘
’’کیوں بالک! اب کیا وچارہیں یدی اب بھی تومیرا کہامان لے تومیں تجھے شماکر سکتا ہوں‘‘ اس بار اس کا لہجہ بدلہ ہوا تھا۔ پھر چھت کی طرف دیکھ کر اس نے اجنبی زبان میں کچھ کہا۔ میں آہستہ آہستہ نیچے آنے لگا۔میری دائیں ٹانگ کسی نادیدہ گرفت میں تھی۔ کسی نے مجھے آرام سے نیچے اتار کرپشت کے بل لٹادیا۔
’’اٹھ کر بیٹھ جا‘‘ کالی داس کی آواز آئی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’ابھی سمے گیانہیں۔۔۔مورکھ نہ بن میری آگیا کا پالن کرکے تو ایک بارپھر عجت (عزت) سے سنسار میں رہ سکتا ہے‘‘
میں اس کی بات سن کر چونک گیا۔ وہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس وقت میری سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ میں ایک بار پھر معاشرے میں عزت کی زندگی جینا شروع کر دوں۔
’’میرے بارے اپنے وچار ٹھیک کر، میں اتنا برا نہیں۔۔۔متروں کا متر ہوں۔پرنتو بیریوں کے سنگ تو کوئی منش اچھا برتاؤ نہیں کرتا۔ تیری پریمیکا اور تو نے میرے سنگ کیا کیا تھا۔۔۔یاد ہے؟‘‘
’’کیا یہ اس خبیث کی کوئی نئی چال ہے؟‘‘ میں سوچ میں پڑ گیا۔
’’تیرے وچار غلط ہیں۔۔۔میں نے کہا نا، میں تیری سہائتاکر سکتا ہوں پرنتو تجھے میری آگیا کا پالن کرناہوگا‘‘ اسنے ایک بار پھر مجھے یقین دلایا۔
’’توکیا چاہتاہے؟‘‘ میں نے کچھ سوچ کر پوچھا۔ اس وقت اگر خبیث کی بات مان کرمیرا چھٹکارا ہو سکتا تھا تو دانشمندی اسی میں تھی کہ اسکی بات مان لی جائے۔
’’میں کالی ماتا کی آگیا کے انوسار رادھا کوحاصل کرنا چاہتا ہوں‘‘ اسنے اپنا مطالبہ دہرایا۔
’’رادھا کو حاصل کرناچاہتا ہے؟ یاد ہے اسنے کس طرح تجھے زمین چاٹنے پر مجبور کر دیاتھا؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی میرا لہجہ طنزیہ ہوگیا۔ یکبارگی اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔
’’ایسی باتیں نہ کر کہ ایک بار پھر تجھے کشٹ بھوگنا پڑے۔‘‘
’لیکن اس سلسلے میں میں تمہاری کیا مددکرسکتا ہوں؟‘‘ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’جیسا میں کہوں کرتا جا پھر دیکھ۔۔۔سنسار کو میں تیرے واسطے سورگ(جنت) بنا دوں گا تیری ہرمنو کا منا (خواہش) پوری ہوگی۔ تو جس اچھا کاوچاراپنے من میں لائے گا اوش پوری ہوگی‘‘ وہ مجھے لالچ دے رہاتھا۔
’’میں ابھی تک تمہاری بات نہیں سمجھا‘‘ اسکی باتوں سے میں بری طرح الجھ گیاتھا۔
’’رادھا کا جاپ پورا ہونے میں ابھی کچھ سمے باقی ہے ۔یدی مجھے وچن دے کہ تو سمے آنے پر میری آگیا کاپالن کرے گا تو میں تیری سہائتاکرنے پرتیار ہوں‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔
’’کھل کر بات کرو تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا۔ کچھ دیر وہ مجھے دیکھتا رہا پھر آہستہ سے بولا۔
’’رادھا تجھ سے پریم کرتی ہے میں جانتاہوں تم دونوں کے بیچ کیسا سمبندھ ہے؟ تجھے کیول اتناکرنا ہوگا کہ جب وہ تجھ سے ملنے آئے تومجھے کھبر کردے۔‘‘
اس بار اس نے وضاحت کی۔ مجھے رادھا کی بات یاد آئی۔
’’سنسارکے سارے پنڈت پجاری مجھے پراپت کرنے کے کارن دھونی رمائے بیٹھے ہیں‘‘ میں اچھی طرح سمجھ رہاتھاکہ یہ منحوس کیا چاہتاہے؟ اس سے قبل اس کا چیلا امر کماربھی اس قسم کامطالبہ کرچکاتھا لیکن اسنے شرط رکھی تھی کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ میرے چہرے پرکشمکش دیکھ کروہ بولا۔
’’تو اپنی پتنی کوچھوڑے بنا بھی میری سہائتاکر سکتا ہے امرکمارمیرا چیلا تھا اس نے ابھی اتنی شکتی پراپت نہ کی تھی اسی کارن اس نے تجھ سے تیری پتنی کوچھوڑنے کو کہا تھا پرنتو۔۔۔میں ایسی کوئی بات نہ کہوں گا۔ میری اچِھا تو کیول یہ ہے تو من سے میری بات مان لے۔ پرنتو اس بات کا اوش دھیان رکھنا
ا یدی تونے میرے سنگ چھل کپٹ کیا توتوجانتا ہے کالی داس کس شکتی کا نام ہے؟‘‘ کچھ دیر وہ میرے چہرے کے تاثرات کاجائزہ لیتا رہا پھر کہنے لگا‘‘ میں یہ بھی جانتاہوں رادھا کے آنے کے بعد تو ایک بارپھر میرے آڑے آنے کی اوشکتا کرے گا۔ پرنتو اس بار وہ مجھے کشٹ دینے میں سپھل نہ ہوپائے گی۔‘‘
’’لیکن اس دن تو ایسا ہی ہواتھا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں تجھے بتا چکا ہوں اس دن کچھ اور شکتیاں بھی تیری سہائتا کر رہی تھیں اسی کارن وہ مکت(کامیاب) ہوگئی تھی۔ نہیں تو رادھا کالی داس کی شکتی کوجانتی ہے۔‘‘ اس نے گردن اکڑا کرکہا۔
’’اگر میں ایسا کرنے کا وعدہ کربھی لوں تو اب تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟یہ معاملہ تو اتناالجھ چکا ہے کہ اب تم چاہو بھی تو نہیں سلجھا سکتے‘‘ میں مایوس ہو چکا تھا۔
’’تو نے ابھی کالی داس کی شکتی دیکھی ہی کہاں ہے بالک! مجھے وچن دے پھر دیکھ میں کرتا ہوں؟‘‘ اس کے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا وہ سچ بول رہا ہے۔
’’لل ۔۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ سارے شہر میں میرے خلاف ہنگامے ہو رہے ہیں؟پرچہ کٹ چکا سبین نے اپنا بیان بھی دے دیا ہے اب تو۔۔۔‘‘
’’تو یہ باتیں چھوڑ کیول اس بات پردھیان دے جو میں کہہ رہا ہوں تجھے بچانا میرا کام ہے۔ پرنتو دھیان رہے یدی۔۔۔تو وچن دے کر پھر گیا تو تجھے میرے شراپ سے بچانے والا اس سنسارمیں کوئی نہ ہوگا۔ میں جانتا ہوں اس سمے من میں رادھا کے واسطے کرودھ ہے پرنتو اس کے آنے کے بعد ہو سکتا ہے تیرے من میں اس کا پریم پھر جاگ جائے اور تو اپنے وچن سے پھر جائے۔ یدی ایسا دھیان بھی تو اپنے من میں لایا تو اتنا یاد رکھنا کالی داس تجھے کبھی شما نہ کرے گا۔‘‘
یہ ایساموقع نہ تھا کہ اس کی باتوں کا برا مانا جاتا۔ میں اس کی دھمکی کو زہرکے گھونٹ کی طرح پی گیا۔ ضبط سے میرا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ میری کیفیت دیکھ کر وہ نرمی سے بولا۔
’’کالی داس کا متربن کر دیکھ۔۔۔کالی داس تیرے چرنوں میں سندرکنیاؤں کا ڈھیر لگا دے گا۔ رادھا سے بھی سندر کنیائیں۔ یدی تجھے میری بات پروشواس نہ ہو تومیں تجھے ابھی چمتکاردکھا سکتاہوں‘‘ مجھے اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے پاکر وہ معنی خیز انداز سے مسکرایا۔
’’میں جانتاہوں تو کیول میرے کہے پر وشواس نہ کرے گا اب دیکھ کالی داس کیاکرسکتاہے؟‘‘
وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا ۔اس کے ہونٹ ہلے لیکن آواز نہ نکلی۔ دوسرے ہی لمحے حوالات کے کمرے میں بسنتی ظاہر ہوگئی۔ وہی بسنتی جس کی بات مان کر میں اس حال کوپہنچا تھا۔ میں آپ کوپہلے بھی بتا چکاہوں کہ وہ اس قدر حسین تھی کہ اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا۔ میری اس حالت کی ذمہ دار بسنتی ہی تھی پھر بھی اسے دیکھ کرایک لمحے کے لیے میں ڈول گیا۔ اس نے نہایت مختصر لباس پہن رکھا تھا جس سے اس کاکندن بدن دمک رہاتھا۔
’’پرنام مہاراج‘‘ اس نے کالی داس کوہاتھ باندھ کر سلام کیا۔ اس کے بعد وہ میری جانب مڑی اور ہاتھ جوڑ دیئے اس کے ہونٹوں پر بڑی ہی شوخ مسکراہٹ تھی۔
حسین آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ اچانک مجھے اپنی تذلیل یاد آگئی جسکی ذمہ دار صرف اور صرف بسنتی ہی تھی ۔میرا چہرہ تپ گیا۔ رگوں میں خون کی گردش تیز ہوگئی ۔میرا خیال درست تھا کالی داس کی اس سازش میں بسنتی پوری طرح شریک تھی۔
’’مجھ ابھاگن پرکس کارن خفا ہو مہاراج؟ میں نے تو کیول مہاراج کالی داس کی آگیا کاپالن کیا ہے‘‘ اسکی مدہر آوازآئی۔ میرے چہرے سے دلی کیفیات عیاں تھیں۔
’’بسنتی تم نے دھوکہ دیا ہے۔ رادھا تجھے کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘ میرا لہجہ خود بخود سرد ہوگیا۔
’’اب چھوڑو بھی پرانے جھگڑے فاروق خان! ہم متر بن چکے ہیں اور متروں کے واسطے من میں کرودھ رکھنا پاپ ہے‘‘ کالی داس کے ہونٹوں پردوستانہ مسکراہٹ تھی۔ لیکن مجھے اس خبیث کی کسی بات پر اعتبار نہ رہا تھا۔
’’یدی تمرا من صاف نہیں ہے تو میں جاتاہوں اسکے بعد تیرے سنگ جوہوگا وہ تو بھگت نہ پائے گا‘‘ایک بار پھر اس نے مجھے دھمکایا۔ دل تو چاہ رہا تھا ان دونوں کو جان سے مار دوں لیکن یہ میرے اختیارمیں نہ تھا۔
’’ٹھیک ہے وعدہ کرتا ہوں میں تمہاری بات مانوں گالیکن تم بھی یہ وعدہ کرو کہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دلاؤ گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہوناچاہئے کہ یہ سب کچھ کس طرح ممکن ہوگا۔ اور رادھاکے سلسلے میں میں تمہاری کیامددکر سکتاہوں؟‘‘ بالآخر میں نے کہا۔
’’تو بڑا بھاگی شالی ہے کالی داس نے تجھے اپنامترمان لیا ہے۔ اب دیکھنا کالی داس تجھے اس کشٹ سے کیسے نکالتاہے؟‘‘ اس کے لہجے میں تکبر بول رہاتھا۔
’’رہی بات رادھا کی ‘‘ کچھ دیر وہ پُر خیال نظروں سے میری طرف دیکھتا رہاپھر کہنے لگا’’جب رادھاجاپ سے واپس آکر تجھ سے شریر کاسمبندھ جوڑنے آئے تو تو کیول مجھے کھبر کردینا‘‘ اس نے بڑے آرام سے مجھے سمجھایا۔
’’لیکن میں تمہیں کیسے بتاؤں گا؟‘‘ میں نے وضاحت چاہی۔
’’سمے آنے پر میں تجھے سمجھا دوں گا۔ پرنتو اس سمے کیول اتنا جان لے جب رادھا تجھ سے شریرکا سمبندھ جوڑنے کو کہے تو تو کہنا آج نہیں کل۔ اس کے بعد تو میری آگیاکاپالن کرتے ہوئے مجھے کھبرکردینا۔ باقی میں کھد دیکھ لوں گا۔ ‘‘ اس نے اپنامدعا واضح کیا۔ اسکی بات سے میں یہ سمجھا کہ جب میں اور رادھا ملتے ہیں تو وہ کوئی ایسا بندوبست کرلیتی ہے جس سے کالی داس کو ہمارے ملنے کی خبر نہیں ہوسکتی۔
’ٹھیک ہے کالی داس! میں تمہاری بات ماننے پر تیار ہوں‘‘ میں نے کہا۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اس دوران بسنتی بالکل خاموش کھڑی رہی ۔میری بات ختم ہونے پر اس نے کالی داس سے کہا۔
’’مہاراج مجھے جانے کی آگیا دو ۔میرے بھوجن کا سمے ہو رہا۔‘‘
’ہاں تو جا۔۔۔جب تیری جرورت ہوگی میں بلا لوں گا‘‘ کالی داس نے لگاوٹ بھری نظروں سے بسنتی کو دیکھا۔
’’مہاراج ! اپنا وچن یاد رکھنا۔ یدی تم بھول گئے تو بسنتی بھی اپنے وچن سے پھر جائے گی‘‘ دوسرے ہی لمحے وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اس کے جانے کے بعد کالی داس میری طرف متوجہ ہوا۔
’’تجھے کس بات کی چنتا ہے؟ میں نے جو کہہ دیا کہ اب ہم متر ہیں اور کالی داس کے متر کو کشٹ بھوگنا پڑے یہ اسمبھو(ناممکن) ہے جانتا ہوں اتنی جلدی تو مجھ پر وشواس نہ کرے گا۔ ٹھہر۔۔۔تجھے ایک اور چمتکار دکھاتا ہوں۔ پرنتو دھیان رہے کسی کے سامنے مجھے آواج نہ دینا۔‘‘
میں ابھی اس کی بات کا مطلب پوچھنے ہی والا تھا کہ باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے گھبرا کر کالی داس کی طرف دیکھا جو بڑے اطمینان سے اپنی جگہ نیم دراز تھا۔ کمرے میں یکدم اندھیرا چھا گیا۔
’کمرے میں اندھیرا کیوں ہے؟‘ دروازے کے باہر سے آواز آئی۔
’’سر جی! شاید بلب فیوز ہوگیا ہے‘‘ جواب ملا۔ اس کے بعد تالا کھلنے کی آواز آئی۔
’’جا بھاگ کر ایمرجنسی لائٹ لے آ‘‘ پہلے والے نے کہا۔ تیز قدموں سے کسی کے جانے کی آواز آئی۔ اندھیرا اتنا بھی گہرا نہ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو۔ دروازے کے سامنے ایک درازقد شخص کا ہیولا دکھائی دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہی آدمی ہاتھ میں جلتی ہوئی ایمرجنسی لائٹ پکڑے آگیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور دونوں اندر آگئے۔ ایک نے وردی پہنی ہوئی تھی جبکہ ایمرجنسی لائٹ پکڑے ہوئے آدمی سادہ لباس میں تھا۔
’’سر جی! ذرا اسے پکڑیں میں بلب لگا دوں‘‘ سادہ لباس نے وردی والے سے کہا پھر بلب لگا کر لائٹ آن کر دی۔ کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ وردی میں ملبوس شخص کے کندھے پر لگے سٹارز اسے انسپکٹر ظاہر کر رہے تھے جبکہ دوسرا شاید سپاہی تھا۔ انسپکٹر نے مجھے غور سے دیکھا۔
’’کھڑے ہو جاؤ‘‘ اس نے کہا۔ میں بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے کالی داس کی طرف دیکھا وہ بڑے اطمینان سے نیم دراز تھا۔ مجھے اس کی ہدایت یاد تھی کسی کے سامنے میں اسے مخاطب نہ کروں۔ انسپکٹر میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لے رہا تھا۔
’’مجھے یقین ہے کہ تم بے گناہ ہو۔ میں تو شکل سے مجرم کو پہچان لیتا ہوں‘‘ پھر سپاہی کی طرف مڑا۔
’’اسے کچھ کھانے کو بھی دیا ہے یا نہیں؟‘‘
’’سر جی! صاحب جی کا آرڈر تھا کہ اسے کچھ نہیں دینا‘‘ سپاہی نے کہا۔
’’وہ تو پاگل ہے اس کی نظر میں ہر شخص مجرم ہے ۔۔۔جاؤ اس کے لئے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ‘‘ اس نے ’’صاحب جی‘‘ کو برا بھلا کہتے ہوئے سپاہی کو حکم دیا۔ وہ فوراً باہر چلاگیا۔
جاری ہے

No comments: