Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر Novel Snipper by Riaz Aqiz Koahler Episode 41

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر



Novel Snipper 
by 
Riaz Aqiz Kohler 
Episode 41
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر 
  از 
 ریاض_عاقب_کوہلر
41 قسط نمبر 
سنائپر(قسط نمبر41)
ریاض عاقب کوہلر

”پانی لے کر آﺅ ۔“میں نے ایک آدمی کو کہا ۔اس آدمی کے واپس آنے تک میں اپنے اکھڑے ہوئے سانسوں پر قابو پاتا رہا ۔وہ پانی کا جگ لے کر واپس لوٹا ۔اس سے پانی کا جگ لے کر میں نے پلوشہ کے چہرے پرپورا جگ ہی الٹ دیا تھا۔اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں ۔ایک دو لمحہ اسی حالت میں زنجیروں سے لٹکے رہنے کے بعد وہ لڑکھڑاتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔اس کے بدن میں ہونے والی لرزش واضح نظر آ رہی تھی ۔ایک بار پھر میرا دل بغاوت پراتر آیا لیکن دماغ اسے کمزوری ظاہر کرنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔میں اس کے بالکل قریب کھڑا تھا ،اتنے قریب کہ اس کے مہکتے سانس میری قوت شامہ کو تازگی بخش رہے تھے ۔میری پیاسی نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ....جانے کتنی بار میرے ہونٹوں نے ان موٹی موٹی ساحرانہ آنکھوں کے نمکین پانی کا ذائقہ چکھا تھا ۔ جانے کتنی بار میرے ہونٹوں نے ان ملائم گالوںکے لمس سے لذت کشید کی تھی۔جانے کتنی بار میرے ہونٹوں کو لب شیریں کی حلاوت نصیب ہوئی تھی ۔اور اب وہ سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا تھا ۔وہ چہرہ جسے میں تقدیس اور پاکیزگی کی علامت سمجھا کرتا تھا وہ غلاظت کی پوٹ نکلاتھا ۔
”کچھ پوچھا ہے میں نے ۔“دل کی طرف سے تسلسل سے دہرائی جانے والی نرمی کی درخواست کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے غضب بھرے لہجے میں پوچھا ۔میرے دائیں ہاتھ نے ایک بار پھر ان زلفوں کو گرفت میں لے لیا تھا جو ریشم کے تاروں سے بھی ملائم تھیں ۔
اس کی آنکھوں کی گہرائی میں جوار بھاٹا اٹھا ۔دو موتی پلکوں سے پھسل کر گالوں پر لڑھکے اور میرا سارا غصہ ،سارا غضب ہوا بن کر اڑ گیا ۔اس کے بالوں پر میری گرفت ڈھیلی ہوئی اور میرا ہاتھ نیچے لٹکنے لگا۔
”چلو۔“بہار خان کی طرف رخ کر کے میں نے تمام کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا ۔
میرے ہمراہ قدم بڑھاتے ہوئے اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”بس ہو گئی تفتیش ۔“
”جب کہہ دیا ہے کہ اس بارے تم میں سے کوئی کچھ نہیں کہے گا تو یقینا تمھارا بولنا نہیں بنتا ۔“
”مجھے تو خاموش کرالو گے ،مگر سرادر صنوبر خان نے جس طرح کی تفتیش کرنی ہے وہ یقینا تم سے برداشت نہیں ہو گی ۔“
”اس معاملے میں سردار کی بھی کوئی بات نہیں سنوں گا ۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے دروازہ تالا کیا اور چابی جیب میں ڈال لی ۔دروازے کو کھلا چھوڑ کر میں بہار خان کے آدمیوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ پلوشہ کے ساتھ کوئی گھٹیا حرکت کر سکیں ۔پلوشہ کے ہاتھوں میں پڑی زنجیر کے تالے کی چابی بھی ان سے لے کر میں نے جیب میں ڈال لی تھی ۔
بہار خان مجھے تو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، البتہ اپنا ایک آدمی اس نے پلوشہ کے قید خانے کے سامنے کھڑا کر دیا تھا ۔
میں اپنے کمرے میں پہنچ کر بے قراری سے ٹہلنے لگا ۔مجھے ایک فی صد بھی اندازہ نہیں تھا کہ پلوشہ مجھے یوں ٹکرا جائے گی ۔اس سے ملنے کی بڑی خواہش تھی اور اب جبکہ وہ سامنے آگئی تھی تو میرے پاس سوال ہی ختم ہو گئے تھے ۔مجھے اس کی آمد کا مقصد بھی معلوم نہیںتھا ۔ جب تک وہ خود زبان نہ کھولتی میں اس سے کچھ نہیں اگلوا سکتا تھا ۔خود پر جبر کرتے ہوئے اس پر جتنا تشدد میں کر سکتا تھا کر چکا تھا۔ اس سے مزید میں اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔اس کے پھولوں سے ملائم بدن کی لرزش میری آنکھوں میں لہرائی اور میرا دل دکھ کے گہرے احساس سے بھر گیا ۔
”مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے میں اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا ۔اپنے افعال کی وہ خود جواب دہ تھی مجھے اسے تشدد کا نشانہ بنانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا۔
”تمھاری آنکھوں سے آنسو کیوں نکلے ہیں چندا !“آنکھیں بند کرتے ہوئے میں نے اس سے سوال کیا ۔”پلیز مجھے معاف کر دو ،کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا ۔“ میری آنکھوں میں پانی بھر گیاتھا۔میری بے چینی میں ایک دم اضافہ ہو ااورمیں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا ۔
”وہ بھوکی ہو گی ،شاید اسے پیاس بھی لگی ہو ....ہو سکتا ہے کپڑوں کے گیلا ہونے کی وجہ سے اسے سردی لگ رہی ہو ،وہ اتنی نازک ہے ،کیا ساری رات ہاتھ بلند کیے کھڑی رہ سکے گی ۔“مختلف قسم کے اذیت ناک سوال میری سوچوں میں سرسرانے لگے ۔
”اگر صنوبر خان نے واپس آکر اسے تشدد کا نشانہ بنانا چاہا تو کیا میں اسے روک پاﺅں گا ۔“ اس کا جواب نفی میں تھا ۔میرے لیے ایک ساتھ اتنے زیادہ آدمیوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ ہوتا ۔
کافی دیر سر کھپانے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے فرار کرا دینے میں بھلائی تھی ۔ دو دن بعد میں نے یوں بھی افغانستان روانہ ہو جانا تھا پھر نامعلوم کب واپسی ہوتی ۔میں زندہ بھی رہ پاتا یا نہیں ۔ بہتر یہی تھا کہ اس کے ساتھ ایک آخری احسان کرتا جاتا ۔میں نے اسے دنیا کی ہر لڑکی سے زیادہ چاہا تھا اور اپنی چاہت کے لیے اتنا تو میں کر ہی سکتا تھا ۔بعد میں صنوبر خان یا البرٹ پارٹی جو بھی بکواس کرتے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہی میں اپنے کمرے سے باہر نکلا ۔اور برآمدے میں چلتا ہوا مطلوبہ کمرے کی طرف بڑھنے لگا ۔کمرے سے باہر بہار کا مقرر کیا ہوا سنتری پستول سے کھیل رہا تھا ۔میں نے ایک لمحے میں اس پستول کو پہچان لیا تھا ۔وہ وہی پستول تھا جو پلوشہ نے قبیل خان سے چھینا تھا ۔اور اب اس کے ہاتھ چڑھ گیا تھا ۔کلاشن کوف اس نے کندھے سے لٹکائی ہوئی تھی ۔
مجھے قید خانے کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ چوکنا ہو گیا تھا ۔میرے قریب پہنچتے ہی وہ محتاط انداز میں بولا۔”کمانڈر بہار نے حکم دیا ہے کہ کوئی آدمی پلوشہ سے نہ ملے ۔“
”کیا اس نے میرا نام بھی لیا تھا ۔“
”جی جناب ۔“اس نے زور وشور سے کہا۔
”ہونہہ!....“میں نے پر خیال انداز میں سرہلایااور پھر ایک دم جھپٹ کر اس کی گردن پکڑ لی۔
اس نے تڑپ کر میری گرفت سے نکلنا چاہا مگر میں نے سرعت سے اس کی گردن اپنے دائیں بازو کی گرفت میں لیتے ہوئے مخصوص انداز میں دبا دی ۔اس کا بے ہوش جسم میرے ہاتھوں میں جھول گیا تھا۔اسے احتیاط سے زمین پر لٹا کر میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ہاتھوں سے پستول لینا مجھے نہیں بھولا تھا ۔
میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔کسی بھی وقت بہار خان کا کوئی آدمی اس طرف کا رخ کر کے میرے کام میں رخنہ انداز ہو سکتا تھا ۔دروازہ کھول کر میں اندر داخل ہوا ۔وہ اسی حالت میں کھڑی تھی جیسا میں اسے چھوڑ گیا تھا ۔دروازہ کھلنے کی آہٹ پر وہ اس طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔میرے اندر داخل ہونے پر اس کے چہرے پر بے چینی کے آثار نمودار ہوئے اور اس کی نظریں ایک بار پھر میرے چہرے کا طواف کرنے لگیں ۔میرے پاس سوال وجواب کا وقت نہیں تھا۔اس کی ریشمی کلائیوں کو زنجیر سے آزاد کرا کر میں نے پستول اس کی جانب بڑھا تے ہوئے بے گانے لہجے میں کہا ۔
”باہر موجود سنتری کو میں نے بے ہوش کر دیا ہے ،برآمدے سے نکلتے ہی دائیں جانب مڑجانا اورکوشش کرنا کسی آدمی کا سامنا نہ ہو ۔“
پستول میرے ہاتھ سے لے کر وہ دکھی نظروں سے مجھے گھورنے لگی ۔شاید تھوڑی دیر پہلے ہونے والے تشدد کا گلہ کر رہی تھی ۔اس کی نظروں کی تاب نہ لا کر میں نیچے دیکھنے لگا ۔ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ ایک دم مڑی اور باہر نکل گئی ۔میں بس اس کی پشت کو گھورتا رہ گیا تھا ۔میری زندگی کا ایک اور باب بند ہو گیا تھا ۔میں تھکے تھکے انداز میں وہیں کھڑا رہا۔ دل بار بار احتجاج کرتے ہوئے اسے روکنے کی ضد کر رہا تھا ۔لیکن دماغ ایسی کسی بھی بے قوفی کے لیے تیار نہیں تھا ۔
اچانک میرے کانوں میں تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی ۔میں خیالوں کی دنیا سے نکلتا ہوا باہر کی طرف بھاگا ۔سنتری کی کلاشن کوف مجھے غائب نظر آئی یقینا وہ پلوشہ کے ہاتھ چڑھ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی مجھے سنتری کی گردن غیر معمولی طور پر پیچھے کی طرف مڑی ہوئی نظر آئی ۔جاتے جاتے وہ میرے لیے جواب دہی مشکل کر گئی تھی ۔
فائرنگ کی آواز ایک دم تیز ہو گئی تھی ۔میں جھکے جھکے انداز میں باہر نکلا۔پلوشہ مجھے جنوبی دیوار کے ساتھ بنے ایک کمرے کی آڑ میں داخلی دروازے کے اوپر بنے مورچے والے سنتری سے فائر کا تبادلہ کرتی نظر آئی ۔اسی وقت اندرونی کمرے سے کمانڈر بہار بھاگتا ہوا باہر نکلا ۔اس نے ہاتھوں میں کلاشن کوف تھامی ہوئی تھی ۔اس کی جگہ سے پلوشہ کو نشانہ بنانا نہایت آسان تھا ۔اسے کلاشن کوف سیدھی کرتے دیکھ کر میں تڑپ کر آگے بڑھا ۔ 
”گولی نہ چلانا ۔“میں اس کے سامنے آگیا تھا ۔
”ہٹ جاﺅ جوان !“وہ دھاڑا ۔
”میں نے قریب ہوتے ہوئے ایک دم اس کی کلاشن کوف کی بیرل پر ہاتھ ڈالااگلے ہی لمحے کلاشن کوف میرے ہاتھوں میں تھی ۔
بہار خان کو میری یہ جسارت پسند نہیں آئی تھی ۔اس نے گالیاں بکتے ہوئے مجھ پر ہلہ بول دیا۔ایک جانب ہٹتے ہوئے میں نے اس کے کولہوں پر ایک زور دار ٹھوکر رسید کی ۔وہ چند قدم بھاگتے ہوئے منہ کے بل نیچے گرا پڑا ۔لیکن ایک لمحہ بھی زمین پر لیٹے بغیر وہ دوبارہ کھڑا ہوا اور گالیاں بکتے ہوئے میری جانب بڑھنے لگا ۔
اچانک مجھے پلوشہ کی تیز چیخ سنائی دی۔میرا دل خوف سے بھر گیا تھا ۔میں نے اس کی جانب نظریں دوڑائیں وہ نیچے گر گئی تھی، یقینا اسے گولی لگی تھی ۔
میرے دماغ میں ایک دم سرخ چادر تن گئی ،بغیر ایک سیکنڈ ضایع کیے میں نے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ بہار خان کے سر کی طرف موڑااورٹریگر دبادیا ۔ورنہ میرا اسے قتل کرنے کا ایک فیصد بھی ارادہ نہیں تھا ۔لیکن پلوشہ کی چیخ سننے کے بعد اگر میری کوئی ترجیح تھی تو وہ پلوشہ کی زندگی تھی ۔
مورچے کی طرف سے اب تک فائر کی آواز آ رہی تھی ۔گھٹنا نیچے ٹیکتے ہوئے میں نے مورچے کے ہول پر شست باندھی جہاں سے کلاشن کوف کی بیرل جھانک رہی تھی ۔اس بے وقوف نے مورچے کے اندر جلنے والی روشنی کو بھی بجھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔مسلسل دو بار ٹریگر دبا کر میں نے مورچے والے سورما کو اپنے انجام تک پہنچایا۔اور پلوشہ کی طرف بھاگ پڑا۔ وہ ہوش میں تھی اس کی دائیں ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا گولی اس کی ران کی جڑ میں لگی تھی۔ میں نے فوراََ دائیں بائیں دیکھا ۔چند قدم کے فاصلے پر پڑی لاش کے سر سے بندھی پگڑی کھل کر نیچے گری ہوئی تھی ۔وہ پلوشہ کی گولی کا نشانہ بنا تھا ۔
میں نے آگے بڑھ کر پگڑی اٹھا ئی اور اس سے ایک لمبی پٹی پھاڑ کر پلوشہ کی ٹانگ پر لپیٹنے لگا۔اس کی ٹانگ سے بھل بھل بہتا خون دیکھ کر مجھ پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی تھی ۔وہ آنکھیں بند کرکے کراہتی رہی ۔حالانکہ وہ بہت حوصلے اور برداشت والی تھی لیکن اس وقت برداشت کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا ۔بلکہ تھوڑی دیر پہلے میرے تشدد کرنے پر بھی اس نے خاصی کمزوری دکھائی تھی ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ ایسی نہیں تھی ۔
اس کی حالت دیکھ کر میرا دماغ ماﺅف ہوا جا رہا تھا ۔میری سمجھ میں کوئی لائحہ عمل نہیں آرہا تھا ۔ میں نے حویلی کے صحن میں نظریں دوڑائیں ،ایک لاش داخلی دروازے کے ساتھ اور دوسری صحن کے وسط میں پڑی تھی ۔تیسری لاش بہار خان کی تھی جو برآمدے کے سامنے تھی ۔اسی طرح ایک لاش اس سنتری کی تھی جسے میں نے بے ہوش کیا تھا اور بعد میں پلوشہ نے اس کی گردن مروڑ دی تھی ۔پانچویں لاش مورچے کے اندر موجود اس آدمی کی تھی جسے ختم کرنے کے لیے میں نے عادت کے برعکس اکٹھی دو گولیاں چلائی تھیں ،کیونکہ اس وقت پلوشہ کی چیخ سن کر مجھ سے ذراسی بھی تاخیر برداشت نہیں ہو پارہی تھی ۔
صنوبر خان ،بہار خان کے زیر کمان چار آدمی حویلی میں چھوڑ گیا تھا ۔پانچواں خود بہار خان تھا۔اور پلوشہ خان کی وجہ سے وہ پانچوں لاشوں کی صورت بکھرے پڑے تھے ۔اب وہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا ۔صنوبر خان تک پلوشہ کی گرفتاری کی بات پہنچ گئی تھی ،اس لیے میں ان اموات کو کسی نامعلوم حملہ آور کے کھاتے میں بھی نہیں ڈال سکتا تھا ۔گو مجھے یقین تھا کہ ان مرنے والوں کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ان کی وجہ سے البرٹ بروک مجھے صنوبر خان کے ہاتھوں کوئی نقصان پہنچنے دیتا ۔لیکن اس وقت میرے لیے پلوشہ مصیبت بن گئی تھی ۔نہ تو وہ اکیلی کہیں جا سکتی تھی اور نہ میں اسے وہیں رہنے دے سکتاتھا ۔اس کے تمام افعال کے باوجود وہ اب بھی میرے لیے اہم تھی ،مجھے اس کا مرنا کسی طور بھی قبول نہیں تھا ۔بلکہ اس کی ٹانگ میں گولی لگنے کی جتنی تکلیف مجھے ہو رہی تھی شاید خود اسے اتنی تکلیف نہ ہوتی ۔ میں تشویش بھرے انداز میں اسے تڑپتے دیکھ رہا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا زخم نے پھوڑے کی شکل اختیار کرتے جانا تھا ۔ہمیشہ گولی لگتے وقت ذرا سی جلن اور درد ہوتا ہے اور جوں جوں زخم ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے تکلیف میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ گولی اب تک اس کے جسم کے اندر تھی ۔
اچانک میرے ذہن میں وہاں پڑے ابتدائی طبی امداد کے بکس کا خیال آیا ۔اور میں نے بھاگ کر انیکسی کا رخ کیا ۔ابتدائی طبی امداد کابکس تلاش کرتے ہوئے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی ۔ بکس کھول کر میں نے اندر نگاہ دوڑائی اور اپنے کام کی دوائی ڈھونڈنے لگا ۔ایک سنائپر کو ابتدائی طبی امداد کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔مطلوبہ دوائیوں کو دیکھ کر میری آنکھوں میں اطمینان جھلکنے لگا تھا۔میں بکس اٹھا کر باہر نکلنے لگا مگر پھر مجھے خیا ل آیا کہ پلوشہ کی ران میں لگنے والی گولی نکالنے کے لیے لازمی طور پر کسی آرام دہ جگہ کی ضرورت تھی اورایسی آرام دہ جگہ اس انیکسی سے بڑھ کر کوئی نہیں تھی ۔ایک لمحے کے لیے میرے دماغ میں آیا کہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاﺅں یقینا انگور اڈے میں ایسا ڈاکٹر مل جاتا ۔ مگر اس کے ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اسے تقریباََ ران کی جڑ میں گولی لگی تھی اور وہاں سے گولی نکالنے کے لیے اس کا بے پردہ ہونا لازمی تھا ،جبکہ میں کسی مرد ڈاکٹر کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ اسے بے پردہ دیکھے۔
”چاہے وہ اپنے مفاد کے لیے ہر کسی کو اس کی اجازت دیتی رہے ۔“میرے دماغ میں ایک تلخ سوچ گونجی ۔
”ہاں ....“میرا دل، دماغ کے خلاف ڈٹ گیا تھا ۔”یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہوتی ہے ۔ اس کی بے راہ روی کا یقین ہوتے ہوئے بھی میں اس کی عزت کو اتنا ہی قیمتی سمجھوں گا جتنا کسی بھی چاہنے والے کے دل میں اپنے محبوب کی عزت و حرمت کا خیال چھپا ہوتا ہے ۔“
میں بھاگ کر باہر نکلا اور اس کی طرف بڑھ گیا ۔وہ دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی ۔میں نے بغیر کسی تاخیر کے ایک ہاتھ اس کے گھٹنوں کے نیچے اور دوسرا ہاتھ اس کے کندھوں کے پیچھے سے گزار کر اسے اوپر اٹھا لیا ۔اس کا کومل وجود مجھے پھول کی طرح ہلکا لگا تھا ۔
جیسے ہی اسے لے کر میں سیدھا ہوا اس کے منہ سے ایک تیز کراہ خارج ہوئی تھی ۔یقینا ٹانگ کو ذرا سا ہلانے پر بھی درد کی شدید لہر نے اٹھنا تھا ۔بے ساختہ اس نے اپنی بانہوں کا ہار میرے گلے میں ڈالتے ہوئے اپنا چہرہ میرے کندھے پر ٹیک دیا تھا ۔اس وقت مجھے اس پر بہت پیار آیا تھا ۔
اسے اٹھاکر میں انیکسی کے اندر لایا اور اندرونی کمرے میں آرام دہ بیڈ پر لٹا دیا ۔دو تکیے اس کے سر کے نیچے رکھ کر میں باہر نکل آیا ۔اس کی ران سے گولی نکالنے کے لیے مجھے کسی باریک دھار والے چاقو ،چھری کی تلاش تھی ۔چھری کے بہ جائے مجھے جسم سے گولی نکالنے مخصوص آلہ فورسپ ،کمانڈر بہار خان کے کمرے میں پڑے ابتدائی طبی امداد کے بکس میں پڑا نظر آگیا یوں بھی ان کا روزمرہ ہی ایسا تھاجس میں گولی لگنا معمول کی بات تھی۔
میں واپس انیکسی میں آگیا۔گو یہ کام مجھے پہلی بار کرنا پڑ رہا تھا لیکن اس بارے میں نے تربیت حاصل کر رکھی تھی ۔خصوصی سنائپر کورس اور کمانڈو ز کے ساتھ کرنے والے کورس میں مجھے جسم میں پیوست گولی کونکالنے کے بارے بہت باریک بینی سے سمجھنے کا موقع ملا تھا۔
پلوشہ کا کراہنا جاری تھا ۔نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میرے قدموں کی چاپ سن کر ہی اس نے کراہنا شروع کیا ہے ۔
”کیا یہ میری ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی بہانہ ہے ۔“ایک امید افزا سوچ میرے دماغ میں ابھری ،لیکن پھر میں نے سختی سے اس خیال کو جھٹلا دیا ۔اسے میری ہمدردی حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جو کچھ وہ میرے ساتھ کر چکی تھی اس کے بعد مجھ سے تعلقات بحال کرنے کی کوئی صورت نکالنا اس کی بے وقوفی ہی تھی ۔
بیڈ پر بیٹھتے ہوئے میں نے سب سے پہلے اس کی ران کے ساتھ بندھی ہوئی پٹی کھولنے لگا ۔
”افف....“اس کے چہرے پر اذیت جیسے ثبت ہو گئی تھی ۔میرے ہاتھوں میں لرزش شروع ہو گئی،اسے تکلیف میں مبتلا دیکھنا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
پٹی کھلتے ہی اس کی کراہیں مزید بلند ہو گئی تھیں۔
”اگر تمھارا رونا پیٹنا تھوڑا مدہم ہو جائے تو شاید میں آرام سے اپنا کام کر سکوں ۔“بہ ظاہر میں نے سخت لہجے میں ڈانٹا تھا لیکن درپردہ میرا دل کر رہا تھا کہ اسے اپنی آغوش میں بھرکر کہوں ۔
”بس کرو میری جان !....تمھارے کراہنے سے میرے ہاتھ کانپنے لگ گئے ہیں ۔تمھیں جتنی تکلیف اپنی ٹانگ میں محسوس ہو رہی ہے اس سے کئی گنا بڑھ کرمیرے دل کو درد ہو رہا ہے ۔“مگر میں ایسا نہیں کہہ سکتا تھا ۔ہمارے درمیان اب ایسے کسی بھی تعلق کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی ۔
میرے ڈانٹنے کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،البتہ ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے کراہنا بند کر دیا تھا ۔
پٹی کھولنے کے بعد کے مراحل بہت دشوار تھے ۔سب سے پہلے تو اس کے زخم کو کھول کر دھوناناقابلِ عمل لگ رہا تھا ۔اگر پہلے کبھی ایسی صورت حال پیش آئی ہوتی تو مجھے اتنی مشکل پیش نہ آتی کیونکہ اس وقت میں اسے شریک حیات بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اب وہ میرے لیے اجنبی لڑکی تھی ۔اور کسی اجنبی لڑکی کو بے پردہ کرنا ایک شریف انسان کے لیے دشوار ہی ہوتا ہے ۔لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا ۔بغیر کسی گاڑی کے انگور اڈے تک جانا اگر ناممکن نہیں تومشکل ترین ضرور تھا ۔اور بالفرض میں وہاں تک پہنچ بھی جاتا تب بھی عجیب بات یہ تھی کہ میرا دل اسے کسی مردڈاکٹر کے سامنے بے پردہ ہونے کی اجازت دینے پر بھی تیار نہیں تھا ۔ اس کے بعد خون کو روکنا بھی بہت ضروری تھا ۔ابتدائی طبی امدا کا تو پہلا اصول ہی خون کے بہاﺅ کو روکنا ہوتا ہے ۔
ایک صاف چادر لے کر میں نے اس کے پیٹ سے لے کر رانوں تک بچھائی اور اس کا زیریں لباس اتار دیا ۔وہ آنکھیں بند کیے خاموش پڑی رہی ۔اسے جھجکتے گھبراتے نہ دیکھ کر ایک بار پھر میرے دماغ میں صنوبر خان اور اس کے آدمیوں کی سنی ہوئی باتیں گونجنے لگی تھیں ۔سر جھٹک کر میں نے ان واہیات خیالوں کو دور کیا اور سپرٹ سے اس کا زخم کاصاف کرنے لگا ۔
اس کے منھ سے ایک بار پھر پر اذیت کراہیں نکلنا شروع ہو گئی تھیں ۔سپرٹ زخم میں بہت زیادہ جلن پیدا کر دیتی ہے ۔سپرٹ اور اس کے زخم سے نکلنے والے خون سے بیڈ پر بچھے قیمتی گدے کا بیڑا غرق ہو رہا تھا ۔مگر پلوشہ کی تکلیف کے مقابل مجھے اپنی جان کی پروا نہ ہوتی وہ تو ایک گھٹیا سا گدا تھا ۔
زخم صاف کر کے میں نے گولی کو پکڑکر باہر کھینچنے والا چمٹا نما آلہ فورسپ بھی سپرٹ سے دھو لیا۔اچانک میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر اجاگر ہو گیا جب غار کے اندر میرے کندھے سے گولی نکالتے وقت اس نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں میرا چہرہ تھامتے ہوئے تسلی دی تھی ۔گولی نکالتے وقت اس نے چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگایا تھا ۔اس کا وہ احسان آج تک میرے دل پر نقش تھا ۔رات کے وقت کسی نوجوان لڑکی اکیلا گھر سے نکل کر ایسی جگہ پر پہنچنا بہ ذات خود بہت بڑا کارنامہ تھا ۔شاید ابھی مجھے اس کے اسی احسان کا بدلہ چکانے کا موقع مل رہا تھا ۔
اس کی ران کے نیچے تکیہ رکھ کر میں نے دل ہی دل اللہ پاک کو یاد کیا ۔ زخم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر کیسی تکلیف محسوس ہوتی ہے یہ بات الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔مجھ پر یہ اذیت ناک وقت بیت چکا تھا اور میں اس تکلیف کی شدت سے خوب واقف تھا ۔اب ایسی ہی تکلیف سے پلوشہ دوچار ہونے والی تھی ۔
میرے دل کو تو اس کے کانٹا چبھنا بھی گوارا نہیں تھا لیکن بد قسمتی کہ مجھے اسے اس حال میں دیکھنا پڑ رہا تھا ۔
گہرا سانس لے کر میں نے ہمت باندھی اورچمٹے نما اوزار کی نوک زخم کے منہ کی طرف بڑھا دی ۔اگر اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتا تو مجھے ذرا بھر بھی پروا نہ ہوتی ۔میرے اعصاب بہت مضبوط تھے، لیکن بد قسمتی سے جو شخصیت میرے سامنے زخمی حالت میں پڑی تھی اس کاتعلق براہ راست میرے دل سے جڑاتھا اپنی عزیز ہستی کا آپریشن کرنا خود اپنے جسم کے کسی حصے پر طبع آزمائی کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔
اچانک میرے دماغ میں خیال آیا کہ اگر وہ تکلیف کی شدت کو برداشت نہ کرسکی اور اس نے اچھلنا شروع کر دیا تو یقینا وہ زیادہ زخمی ہو سکتی تھی ۔یہ خیال آتے ہی میں رسی کی تلاش میں انیکسی سے باہر نکل آیا ۔رسی ڈھونڈنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔ ایک لمبی رسی مجھے ملازموں کے کمرے میں مل گئی تھی ۔
میں جونھی واپس لوٹا اسے حیرانی بھری نظروں سے اپنا منتظر پایا۔یقینا اس کی سمجھ میں میرا یوں چلے جانا نہیں آرہا تھا ۔میرے ہاتھوں میں رسی کا بنڈل دیکھ کر اس کی حیرانی دو چند ہو گئی تھی ۔لیکن اس نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا تھا ۔
میں بھی وضاحت کیے بغیر بیڈ کے نیچے سے رسی گزار کر اسے مضبوطی سے جکڑنے لگا ۔اس کی چھاتی اور پیٹ سے رسی لپیٹتے ہوئے میں اس کے گھٹنوں تک رسی کو بل دیتے ہوئے لایا۔بس رانوں کی تھوڑی سی جگہ میں نے خالی چھوڑ دی تھی اب وہ چاہ کر بھی معمولی سے زیادہ حرکت نہیں کر سکتی تھی ۔وہ خاموشی سے مجھے یہ سب کرتا دیکھتی رہی ۔شاید اسے بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔
میرے کندھے سے گولی نکالتے وقت اس نے میری مردانگی کو یوں للکارا تھا کہ مجھے اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا آسان ہو گیا تھا ۔ لیکن وہ تو صنف نازک تھی ، ایک جوان سال لڑکی کو میں کیاکہہ کر جوش دلاتا۔اس کی عمر کی لڑکیاں تو شاید ایسا منظر دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جائیں ۔لیکن وہ ان روایتی دوشیزاﺅں سے یکسر مختلف تھی ۔
فورسپ دوبارہ ہاتھوں میںتھام کر میں نے زخم میں گھسیڑا ،گو میرا دل کانپ رہا تھا مگر میں نے ہاتھوں کی لرزش پر قابو پالیا تھا وہ کمزوری دکھانے کا وقت نہیں تھا ۔میں جتنی نرمی دکھاتا پلوشہ کو اتنی زیادہ تکلیف پہنچتی ۔گولی لگنے کا زخم سامنے سے ہمیشہ تنگ ہوتا ہے لیکن گولی جسم کو پھاڑ کر نکل جائے تو جس جگہ سے گولی نکلتی ہے وہاں سے کافی سارا گوشت لے اڑتی ہے ۔
پلوشہ نے سختی سے دانت پر دانت جما کر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔اس کا سارا جسم تشنج کے مریض کی طرح اکڑ کر لرزنے لگا تھا۔اگر میں نے اسے باندھا نہ ہوتا تو یقینا وہ خود کو زیادہ زخمی کرا بیٹھتی ۔اس کی تیز کراہوں سے بے پروا بنتے ہوئے میں نے گولی ٹٹول کر آلے کے منہ میں تھامنے لگا۔ یہ بہ ظاہر بہت عام اور آسان سا لگتا ہے پڑھنے والوں کوکبھی بھی اس تکلیف اور اذیت کااندازہ نہیں ہو سکتا جو زخمی پر گزر رہی ہوتی ہے ۔البتہ زخمی کوئی ایسی شخصیت ہو جس سے دل کے تار جڑے ہوں تب انسان اس درد کو بہت اچھی طرح محسوس کر سکتا ہے ۔
گولی کو آلے کے منہ میں پھنسا کر میں نے احتیاط سے باہر کھینچا ۔پلوشہ مٹھیاں بھینچ کر اس درد کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔گولی زخم سے باہر نکلتے ہی اس نے سختی سے روکا ہوا سانس ایک آہ کے ساتھ خارج کیا اور بدن ڈھیلا چھوڑ دیا ۔زخم سے خون بہت تیزی سے نکلنے لگا تھا ۔میں نے دوبارہ زخم کو سپرٹ سے دھویااورپائیوڈین سے روئی تر کر کے زخم کے منہ پر رکھ دی ۔خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے میں نے کافی زیادہ پٹی تہہ کر کے زخم کے منہ پر دبا دی تھی ۔پٹی باندھنے سے پہلے اسے رسیوں کی گرفت سے آزاد کرانا ضروری تھا ۔
 اس کا جسم رسیوں سے آزاد کرکے میں نے چوڑی پٹی زخم پر لپیٹی اور ایک درد کش ٹیکہ تیار کرنے لگا ۔درد کش ٹیکہ بھی جسم کے پر گوشت حصے میں لگایا جاتا ہے ۔لیکن اب اس کا میرا معاملہ ڈاکٹر اور مریض کا سا تھا ۔دل میں کافی ساری جھجک محسوس کرتے ہوئے میں نے اسے کولہے پر انجیکشن لگا دیا ۔ دوائیوں کے بکس میں اینٹی بائیوٹک انجیکشن بھی موجود تھے ۔ایک اینٹی بائیوٹک انجیکشن میں نے اس کے دائیں بازو کی رگ میں بھی لگا دیا ۔
وہ ابھی تک گہرے گہرے سانس لے کر گزری تکلیف کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔میرا دل کر رہا تھا کہ اس کا سر گود میں لے کر بیٹھ جاﺅں ،لیکن شکر کا مقام تھا کہ میرے دماغ نے برے بھلے کی تمیز نہیں کھوئی تھی ورنہ مجھے دل کی مانتے ہی بنتی ۔
 پٹی باندھ کر میں نے اس کی ران سے نکلنے والی گولی دیکھی اور حیران رہ گیا ۔کیونکہ وہ پستول کی گولی تھی جبکہ میرے خیال کے مطابق تو اسے کلاشن کوف کی گولی لگی تھی ۔مورچے سے پلوشہ کی آڑتک کے لمبے فاصلے سے پستول کی گولی کا پلوشہ کی ران میں اتنی گہرائی میں اترنا میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔پستول کی گولی بیس پچیس گز کے بعد اپنی طاقت کھو نے لگتی ہے اور سو گز کے فاصلے سے تو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔جب کہ جس مورچے سے وہ گولی چلائی گئی تھی اس کا فاصلہ سوگز سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا ۔
ایک دو لمحہ سوچنے کے بعد میں نے سرجھٹک کر اس فالتو کی سوچ کو دور بھگایا ۔خون اور سپرٹ کی وجہ سے بیڈ پر بچھے گدے کا کافی ساراحصہ خراب ہو گیا تھا ۔میں نے ایک بار پھر احتیاط سے پلوشہ کو اپنے بازووں میں بھرا اور دوسرے کمرے میں جا کر صاف ستھرے بیڈ پر لٹا دیا ۔کمرے کی الماری کھولنے پر مجھے زنانہ لباس لٹکے نظر آئے وہ لازماََ میجر ٹریسی والکر کا کمرہ تھا ۔جینز کی چست پتلونیں بنیان اور اسی طرح کے دوسرے واہیات لباس ۔البتہ دو زنانہ شلوار قمیص سوٹ دیکھ کر میں خوش ہو گیا تھا ۔چونکہ پلوشہ کی قمیص پر بھی کافی خون لگا تھااس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ وہ صاف لباس پہن لے ۔ایک سوٹ الماری سے باہر نکال کر میں پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔
”میں باہر جا رہا ہوں تم کپڑے تبدیل کر لو ۔“یہ کہتے ہوئے میرے دماغ میں خوش حال خان کی بیٹھک میں گزرنے والا منظر در آیا ۔جب اس کے کپڑے گیلے ہونے پر میں نے اسے زنانہ لباس پہننے کا کہا تھا ۔اس وقت اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ....
”آپ کو بڑا شوق ہے مجھے زنانہ لباس میں دیکھنے کا ۔“
آج بھی میں اس کی طرف زنانہ لباس ہی بڑھا رہا تھا ۔لیکن وہ کوئی شوخی بھرا جملہ یا لاڈ بھرا انداز اپنائے بغیر خاموشی سے مجھ گھور کر رہ گئی تھی۔
میں کمرے سے باہر نکل کرباورچی خانے کی طرف بڑھ گیا وہاں مجھے دودھ کے پیکٹ پڑے نظر آئے تھے ۔دو پیکٹ کھول کر میں نے ایک صاف برتن میں ڈالے اور چولھے پر رکھ دیے ۔چولھے کے ساتھ ایک بڑا گیس سلنڈر لگا تھا اس لیے مجھے آگ جلانے میںکوئی تگ و دو نہیں کرناپڑی تھی ۔وہیں ایک الماری میں مجھے اوولٹین بھی نظر آگئی تھی ۔تین چار چمچ اوولٹین کے دودھ میں ڈال کر میں نے اچھی طرح چمچ ہلا یا اور گرم دودھ شیشے کے جگ میں ڈال کر پلوشہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اندر داخل ہونے سے پہلے میں نے دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹانا ضروری سمجھا تھا ۔
وہ لباس تبدیل کر چکی تھی ۔زنانہ لباس میں وہ ہمیشہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آیا کرتی ۔اس وقت بھی ہلکے آسمانی رنگ کے کپڑے اپنی خوشی قسمتی پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ میں اپنی نظروں پر اختیا ر کھونے لگا تھا ۔ وہ آنکھیں کھول کر لیٹی تھی ۔میری آمد کے ساتھ ہی اس نے پلکوں کی چلمن گرا لی تھی ۔ نہ جانے مجھے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے آنکھیں اس لیے بند کر لی تھیں تاکہ میں اسے سہولت سے دیکھ سکوں ۔اس کے بال پہلے سے بڑے ہو گئے تھے ۔ مجھے یقین تھا کہ جونھی اس کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوتے اس کے حسن نے مزید نکھر آنا تھا ۔
”مگر اس وقت تم اسے دیکھ نہیں پاﺅ گے ۔“میرے دل نے مجھے محرومی کا طعنہ دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
خیر وہ بعد کا مسئلہ تھا۔فی الحال تو میں اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکتا تھا ۔اوولٹین ملے دودھ کاجگ شیشے کی میز پر رکھتے ہوئے بھی میری نظریں اس کے ملیح چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔ اس کے چہرے پر اطمینان اور سکون بھرے تاثرات پھیلے تھے ۔میری نظریں سیراب ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھیں ،مگر میں زیادہ دیر اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔خود پر جبر کرتے ہوئے میں نے اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹائیں اور اس کی خون آلود قمیص اٹھاکر دوسرے کمرے میں آگیا ۔اس کی قمیص بھی بقیہ لباس کے ساتھ پھینک کر میں وہاں پڑے دو صاف تکیے اٹھا کر واپس لوٹ آیا ۔تین چار تکیے اکٹھے رکھ کر میں نے اسے بازووں سے تھام کر تکیوں سے ٹیک لگا کر بٹھادیا۔حالانکہ وہ خود بھی اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی لیکن میرے ہاتھ بار بار اس کے پھول سے بدن کے لمس سے حظ اٹھانا چاہ رہے تھے اس لیے میں نے اسے خود پکڑ کر بٹھا دیا تھا۔اس نے بھی بغیر کسی جھجک کے اپنا جسم میرے حوالے کیا ہوا تھا ۔ کندھوں کے پیچھے تکیے درست کر کے میں نے اوولٹین ملے دودھ کا گلاس بھر کر اسے تھما دیا ۔
وہ چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر اوولٹین ملادودھ پینے لگی ۔میز کو کھینچ کر میں نے بیڈ کے ساتھ لگا دیا تاکہ ایک گلاس خالی کر کے وہ اپنے لیے دوسرا گلاس بھی بھر سکے اور خود اس کمرے سے نکل آیا ۔ گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر صبح کے تین بجتے نظر آئے ۔رات قریباََ بیتنے والی تھی اور میں وہاں مزید نہیں ٹھہرسکتا تھا ۔صنوبر خان اور اس کے آدمیوں نے دن چڑھے پہنچ جانا تھا ۔اور ان کی آمد سے پہلے پلوشہ کو وہاں سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا ۔اور یقینی طور پر وہ خود حرکت کرنے کے قابل نہیں تھی اس لیے اسے میں نے ہی کسی محفوظ مقام تک پہنچا نا تھا ۔اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہونے کے بعدہی میں صنوبر خان اور البرٹ پارٹی کا سامنا کر سکتا تھا ۔اتنا یقین تو مجھے بھی تھا کہ ان پانچ غیر اہم افراد کے قتل کی وجہ سے وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔خاص کر میں صنوبر خان کے آقاﺅں کی ضرورت تھا ۔ اور اس کے آقاﺅں کے نزدیک صنوبر خان کے آدمیوں کی حیثیت چند ٹکوں میں بکنے والے غلاموں سے بڑھ کر نہیں تھی ۔
انیکسی سے باہر نکل کر ایک امید کے سہارے میں نے دوبارہ نظریں دوڑائیں مگر پارکنگ میں کوئی گاڑی تو کیا سائیکل کھڑی بھی نظر نہ آئی ۔اب یہ بد قسمتی ہی تھی ورنہ وہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی گاڑی موجود رہتی تھی ۔
گویا اب مجھے پلوشہ کو اٹھا کر ہی لے جانا پڑتا ۔ایک دم میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا۔بے ایمان دل اس کی قربت کے مواقع ہی تو تلاش رہا تھا ۔
اب اسے انگور اڈے پہنچانا ممکن نہیں تھا ۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے وہی غار سب سے محفوظ لگا جہاں اس نے میرے کندھے سے گولی نکالی تھی ۔وہ غار حویلی سے اڑھائی تین کلومیٹر دور تھا ۔وہاں پلوشہ کے پاس کھانے پینے اور دوسری ضروریات کی اشیاءچھوڑ کر میں آرام سے واپس آسکتا تھا ۔ اس کے بعد میری ذمہ داری پوری ہو جاتی ۔
پلوشہ اور سامان کو اکھٹا وہاں تک پہنچانا آسان نہیں تھا ۔اسے غار تک پہنچانے سے پہلے وہاںاستعمال کا سامان پہنچاناضروری تھا ۔
نیچے بچانے کے لیے فوم کا گدا ،تکیہ ،سلپنگ بیگ ،پینے کے لیے دودھ کا کاٹن ،کھانے کے لیے بسکٹ،پیسٹریاں ،زخم کے لیے صاف پٹیاں، دوائیاں اور انجیکشن ،کلاشن کوف اور فالتو میگزینیں وغیرہ۔ یہ تمام سامان اٹھا کر تین کلو میٹر چلنا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔مگر جس کے لیے میں یہ کر رہا تھا اس کے لیے اس سے زیادہ مشقت کرنا بھی میرے لیے نہایت آسان تھا ۔
ضرورت کا تمام سمیٹ کر میں نے ایک بیگ میں ڈالا اور بیگ کندھوں میں ڈال کر میں نے فوم کا گدا لپیٹ کر اٹھایا اور حویلی سے باہر آگیا ۔سورج طلوع ہونے تک مجھے تمام سامان اور پلوشہ کو غار تک پہنچانا تھا ۔ٹارچ کی روشنی میں اطمینان سے آگے بڑھتا گیا ۔میرے دل میں بس جنگلی جانوروں کے بارے تھوڑی سی فکر مندی تھی ،کیونکہ اس علاقے میں بھیڑیے ،ریچھ اور سوّروغیرہ پائے جاتے ہیں ۔بندر بھی موجود ہیں مگر ان کا شمار نقصان پہنچانے والے جانوروں کی فہرست میں نہیں آتا ۔چیتے اور تیندوے کی افواہیں بھی سننے میں آتی رہتی ہیں مگر کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔
میں بغیر کسی قابل ذکر واقعے کے آدھے گھنٹے تک غار کے نیچے پہنچ گیا تھا ۔چونکہ وہاں میں پہلے بھی دو تین بار آچکا تھا اس لیے مجھے رستا پہچاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔
چڑھائی پر چڑھ کر میں نے سامان غار سے باہر چھوڑا اور کلاشن کوف کندھے سے اتار کر ہاتھ میں تھامتے ہوئے محتاط انداز میں غا رکے اندر گھس گیا ۔غار بالکل خالی پڑا تھا ۔اچھی طرح دیکھ بھال کر کے میں باہر نکل آیا ۔باہر رکھا سامان اٹھا کر میں نے غار کے اندر رکھا اور واپسی کی راہ لی ۔واپسی میں خالی ہاتھ تھا اس لیے مجھے بھاگنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی ۔میں پندرہ منٹ میں حویلی میں پہنچ گیا تھا ۔ پلوشہ کو غار میں پہنچا کر مجھے ایک بار پھر حویلی ہی میں لوٹنا تھا ۔مجھے فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ میرے پاس کافی وقت موجود تھا۔ صنوبر خان اتنا سویرے کبھی نہ لوٹتا ۔اور نہ اتنا سویرے اسے بہار خان سے رابطہ کرنے کی کوئی ضرورت پیش آ سکتی تھی ۔
پلوشہ مجھے جاگتی ہی ملی تھی ۔میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے نظر بھرکر مجھے دیکھا اور آنکھیں موند لیں ۔یہ اس کی مہربانی ہی تھی کہ وہ اس فیاضی سے مجھے اپنے دید ارکا موقع فراہم کر رہی تھی ۔
”وہ تم سے آنکھیں نہیں ملا پارہی ہے محترم ۔“میرے دماغ نے حسب عادت اس کے خلاف زہر اگلا۔
”مجھے آم کھانے سے غرض ہے ۔“اس کی دید کے پیاسے دل نے دماغ کی بات کو درخور اعتناءنہیں جانا تھا ۔
”ہمیں یہاں سے جانا پڑے گا ....کیا تم پیدل چل سکو گی ؟“یہ سوال منہ سے نکالتے ہی مجھے اپنے سوال کے احمقانہ پن کا اندازہ ہو گیا تھا ۔
اس نے آنکھوں کی چلمن اٹھاتے ہوئے میری جانب گہری نظروں سے دیکھا مگر جواب دیے بغیر دوبارہ آنکھیں موند لیں ۔
خون بہنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر پیلاہٹ نظر آرہی تھی ۔یقینا وہ کافی نقاہت بھی محسوس کر رہی تھی ۔میں نے آگے بڑھ کر اس کے کومل وجود کو بازوﺅں میں بھرا اوراوپر اٹھا لیا ۔وہ مضبوط اور چھریرے بدن کی مالک تھی ۔مجاہدین کے کیمپ میں تربیت کے بعد عملی زندگی میں بھی کافی عرصے سے سرگرم تھی اور اس جفا کشی اور محنت کی وجہ سے اس کابدن سانچے میں ڈھلا محسوس ہوتا تھا ۔
انیکسی سے نکل کر میں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا کیوں کہ اسے مسلسل بازوﺅں میں بھر کر غار تک پہنچانا ممکن نہیں تھا ۔آرمی میں زخمیوں اور لاشوں کو اٹھانے کی عملی تربیت دی جاتی ہے ۔میں نے بھی اسے اسی انداز ہی میں اٹھایا ہوا تھا جیسا کہ ہمیں تربیت ملی تھی ۔لیکن ایسا کرنے کی وجہ سے اس کے جسم کے بہت سے گداز حصے میرے بدن سے مس ہو کرمیری قوت برداشت کا امتحان لینے لگے تھے۔اور میں ٹارچ کی روشنی میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو اس کے لمس کی سحر آفرینی سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہو گیا ۔پلوشہ سے دوبارہ ملنے کے بعد میں عجیب قسم کی کش مکش میں پھنس گیا تھا ۔دماغ اس سے نفرت کی ترغیب دینے کے ساتھ اس سے دور جانے کے مشورے دے رہا تھا ،جبکہ دل اسے اپنی آغوش میں بھر کر ماضی کی ساری باتیں بھلانے کے چکر میں تھا۔بلا شک و شبہ اس نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا ۔اور اس سے بھی زیادہ دکھ مجھے اس کی بے راہ روی اوربد کرداری کا تھا ۔لیکن ان سب باتوں کے باوجو د دل کی ایک ہی رٹ تھی ۔
”جو ہوا اسے بھول جاﺅ۔“
جبکہ دماغ اتنا بے وقوف نہیں تھا ۔اس کی بے راہ روی اور غیر مردوں سے غلط تعلقات کسی صورت بھلائے جانے کے قابل نہیں تھے ۔سب سے بڑھ کر وہ کسی دوسرے مرد کو پسند کرتی تھی ،جس سے شادی کے لیے اس نے اتنے زیادہ پاپڑ بیلے تھے ۔اب میرے معاف کرنے یا اس کے لیے اپنی آغوش دوبارہ وا کرنے سے اس نے کون سا بھاگ کر میرے پاس آجانا تھا ۔اس کے نزدیک اگر میری تھوڑی سی بھی اہمیت ہوتی تو وہ کبھی بھی ایسا نہ کرتی ۔
دماغ کے بھاری دلائل نے دل کو خاموش کرا دیا تھا ۔ قریباََ سوا گھنٹے میں میں غار کے دہانے پر پہنچ گیا تھا ۔ہر طرف صبح کا اجالا پھیل گیا تھا ۔اسے کندھے سے اتار کر میں نے بازوﺅں میں بھر ا اور غار میں داخل ہو گیا ۔ زمین پر بچھے گدے کے پاس جا کر ،اسے احتیاط سے گدے پر لٹاد یا اور سر کے نیچے تکیہ درست کر کے غار سے باہر نکل آیا۔میرا ارادہ جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے کا تھا ۔لکڑیوں کی وہاں کوئی کمی نہیں تھی ۔پندرہ بیس منٹ لگا کر میں نے غار کے اندرکافی ساری خشک لکڑیاں ڈھیر کر لیں۔
اب مجھے اس سے رخصت لینا تھی ۔وہ آنکھیں بند کیے چت لیٹی ہوئی تھی ۔ اس کی بند آنکھوں کا فائدہ اٹھاکر میں نے چند لمحے اپنی نظروں کو عیاشی کی اجازت دی ۔لیکن پیاسی نظریں سیر ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔نہ جانے وہ اتنی پر کشش ،جاذب نظر اورمن موہنی تھی یا مجھے ہی ایسی لگتی تھی۔ میں شاید اس شغل کو اتنی جلدی ترک نہ کر سکتا مگر اس کی پلکوں کی جنبش نے مجھے نظر یں پھیرنے پر مجبور کردیاتھا۔اس کی آنکھیں وا ہوتے ہی گلا کھنکار کر گویا ہوا ۔
”میں نے ضرورت کا تمام سامان یہاں رکھ دیا ہے ، امید ہے تین چار دنوں میں تم چلنے کے قابل ہو جاﺅگی۔یہاں سے انگور اڈہ اتنی دور نہیں ہے تم آسانی سے وہاں پہنچ کر چھپ سکتی ہو۔باقی تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا میں اس بارے بات نہیں کرنا چاہتا بس ایک مشورہ دینے کی جسارت کروں گا کہ آج کے بعد وہ سارے پرانے کام چھوڑ دو ۔عورت کی اصل جگہ اس کا گھر ہوتا ہے ۔تم نے قبیل خان سے بدلہ لینا تھا سولے لیا ،اب کسی اچھی جگہ شادی کر کے اپنا گھر بساﺅ۔“ایک لمحہ رک کر میں نے گفتگو کو طول دینے کے لیے الفاظ کی تلاش میں اپنے دماغ پر زور دیا لیکن اس سے بچھڑنے کے غم نے ایک دم میری سوچوں پر حملہ آور ہو کر میری گویائی سلب کر لی تھی ۔بڑی مشکل سے میں ۔”خدا حافظ۔“کہہ کر ایک دم مڑا اور غار سے باہر نکل آیا ۔میرے دل کو ایک انجانی ڈور پیچھے کی جانب کھینچ رہی تھی ۔میرا ضمیر بھی اسے اس حالت میں بے یارومدد گار چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا ۔مگر اب وہاں رک کر میں اپنی نظروں سے نہیں گر سکتا تھا ۔بہ قول شاعر ....
تعارف بوجھ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق روگ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل دے دینا ہو ناممکن
اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
غار سے نکل کر میں دوڑ پڑا ۔آہستہ چلنے کی صورت میں مجھے خدشہ تھا کہ میں پھر واپس لوٹ جاﺅں گا ۔حویلی کے قریب پہنچا تو دھوپ پھیل گئی تھی ۔
 سب سے پہلے میں مورچے پر چڑھ کر وہاں موجود لاش کے پاس وہ پستول ڈھونڈنے لگا جس کے ذریعے اس نے پلوشہ کو اتنی دور سے گولی ماری تھی ۔مگر اس کے پاس کلاشن کوف پڑی دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی ۔گویا پلوشہ اس کی گولی سے زخمی نہیں ہوئی تھی ۔اپنا شک دور کرنے کے لیے میں نے ایک بار پھر انیکسی میں جا کر دیکھا ۔وہ پستول ہی کا بلٹ تھا ۔کلاشن کوف اور پستول کے بُلٹ میں کافی فرق ہوتا ہے ۔اسے تو کوئی عام آدمی بھی پہچان سکتا ہے سنائپر کی نظر تو اس معاملے میں بہت تیز ہوتی ہے ۔
”کہیں کوئی اور بھی یہاں موجود تو نہیں ۔“ایک روح فرسا خیال میرے دماغ میں جاگر ہوا ۔ مگر پھر میں نے یہ خیال سختی سے جھٹلا دیا، کیونکہ کسی بھی تیسرے کی موجودی میں شاید اب تک ہم اس کا نشانہ بن چکے ہوتے ۔میں زیادہ دیر اس مسئلے پر نہیں سوچ سکا تھا ۔میرے دل میں عجیب قسم کے وسوسے سر ابھارنے لگے تھے ۔پلوشہ کی مرہم پٹی تو میں نے کر دی تھی کیا وہ دوبارہ اپنی پٹی تبدیل کر پاتی ۔ فطری تقاضے کے لیے وہ غار سے باہر کیسے نکل پاتی ۔وہ صبح شام خو د کودرد کش اوراینٹی بائیوٹک انجیکش کیسے لگا پاتی ۔ میں نے اس کے پاس پانی کی تین بوتلیں بھر کر رکھی تھیں ۔کیا وہ پانی اس کی ضروریات کو پورا کر سکتا تھا ۔اور اگر کوئی جنگلی جانور خون کی بو پاکر غار میں گھستا تو وہ کیسے اس سے مقابلہ کرتی ۔اور اگر وہ جانور پر فائر کرتی تو کیا فائر کی آواز سن کر صنوبر خان کے آدمی چوکنا نہ ہوجاتے ۔میں تو اپنی جان چھڑانے کے شوق میں اسے موت کے منہ میں چھوڑ آیا تھا ۔
بغیر تاخیرکے میں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔بیرونی دروازے کے قریب پہنچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ بیڈ پر پلوشہ کا خون بکھرا دیکھ کرصنوبر خان یا البرٹ وغیرہ کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگتی کہ ہم دونوں میں کوئی ایک زخمی ہے ´پھر ایک گدا اور رضائی وغیرہ کو غائب دیکھ کر وہ یقینا یہی سوچتے کہ ہم کہیں قریب ہی چھپے ہیں ۔ورنہ رضائی اور گدے کا ہم نے کیا کرنا تھا ۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے میں نے ضرورت کی چند چیزیں حویلی سے باہر نکال کر رکھیں اور پھر اس چھوٹے کمرے کا رخ کیا جہاں وہ ڈیزل اور پٹرول وغیرہ ذخیرہ رکھتے تھے ۔تین چار بھرے ہوئے کین اس وقت بھی وہاں موجود تھے ۔اگلے دس پندرہ منٹ میں میں نے وہ پٹرول انیکسی اور دوسرے کمروں میں چھڑک دیا تھا ۔وہاں موجود تین چار گیس سلنڈر بھی میں نے کھول دیے ۔اور پھر پٹرول کو ایک لکیر کی طرح زمین پر گراتا ہوا میں داخلی دروازے تک آیا اسے تیلی دکھا دی ۔آگ سرعت سے زمین پر پڑے تیل کو چاٹتی ہوئی کمروں کے دروازے تک پہنچی ۔میں نے حویلی سے باہر نکل کرضروری سامان اٹھایااور اپنی جانِ حیات کے مسکن کی طرف چل پڑا ۔گیس سلنڈروں کے پھٹنے کے دھماکے میرے کانوں میں پڑے اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ایک بار پھر صنوبر خان سے دشمنی کا آغاز ہو گیا تھا ۔
غار تک پہنچتے ہوئے سورج کافی تیز ہو گیا تھا ۔ساری رات بھاگ دوڑ میں گزر گئی تھی ۔مجھے اس وقت بھوک کے ساتھ چاے کی بھی سخت حاجت محسوس ہو رہی تھی ۔
”پتا نہیں وہ میری واپسی کو کیا نام دے گی ۔“غار کے اندر داخل ہوتے ہوئے میرے دماغ میں بس یہی سوال گردش کر رہا تھا ۔وہ اسی حالت میں پڑی تھی ۔مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات نہیں ابھرے تھے ۔
سامان نیچے رکھ کر میں نے سب سے پہلے آگ جلا ئی اور دودھ کا پیکٹ کھول کر اس کے لیے دودھ گرم کرنے لگا ۔اوولٹین ملا کر میں نے دودھ گلاس میں ڈالا اور ایک پیسٹری کا ریپراتارکر اس کی طرف بڑھا دیا ۔
”مجھے چاے پینا ہے ۔“میں نے اتنے عرصے بعد پہلی مرتبہ وہ مدھر اور پیاری آواز سنی تھی ۔ ورنہ کل رات سے وہ مسلسل خاموش ہی تھی ۔
میں نے نرم لہجے میں کہا ۔”دودھ پی لو پھر چاے بھی بناتا ہوں ۔“
مزید کچھ کہے بنا اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔میں جلدی سے دودھ کا گلاس نیچے رکھ کر اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا ۔اس کے بیٹھتے ہی میں نے دودھ کا گلاس اور پیسٹری اسے تھما دی ۔اس کے بازوﺅں سے پکڑتے وقت مجھے اس کا جسم کافی گرم لگا تھا ۔یقینا اسے بخار ہورہا تھا ۔میں دل ہی دل میں اسے اکیلا چھوڑ کر جانے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔مجھے ایسا کرنا کسی طوربھی زیب نہیں دیتا تھا ۔
پیسٹری ایک بار دانتوں سے کاٹ کر اس نے واپس رکھ دی تھی البتہ دودھ وہ ہلکے ہلکے گھونٹ لے کر پیتی رہی ۔میں چاے بنانے لگا ۔میرے چاے بنانے تک وہ گلاس خالی کر چکی تھی ۔ایک پیالی میں چاے ڈال کر میں نے اس کی طرف بڑھا دی ۔پیالی تھماتے ہوئے اس کی پرکشش آنکھیں میری طرف اٹھیں میں اس کی طرف ہی متوجہ تھا ۔اس کی آنکھوں کی گہرائی میں مجھے اضطراب کی لہریں اٹھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔
”یہ بھی کھالو نا ۔“میں پیسٹری کی طرف اشارہ کیا ۔
”دل نہیں کر رہا ۔“کہہ کر وہ چاے پینے لگی ۔
میں خود وہ پیسٹری اٹھا کر کھانے لگا ۔ اس کے دانتوں نے اس پیسٹری کو کاٹا تھا۔ محبوب کے منہ سے لگی ہوئی کوئی بھی چیز چاہنے والے کے لیے ایک نعمت ہی تو ہوتی ہے ۔پیسٹری کھا کر میں نے بسکٹ کا ایک پیکٹ کھول کر معدے کو تقویت دینے لگا ۔وہاں مجھے اعلا کوالٹی کے بسکٹ اور پیسٹریاں وغیرہ پڑی ہوئی ملی تھیں جو یقینا امریکی آقاﺅں کی خاطر رکھی گئی تھیں ۔میں تمام ہی سمیٹ لایا تھا ۔
میں جونھی چاے پی کر فارغ ہوا وہ آہستہ سے بولی ۔
”مجھے تازہ دم ہونا ہے ۔“
”چلو ۔“اسے بازوﺅں میں بھر کر میں باہر لایا اور ایک مناسب جگہ اتار کر پانی کی بوتل اس کے ساتھ رکھ کر آڑ میں ہو گیا ۔
تھوڑی دیر بعد اس کی آواز آئی ۔”آجائیں ۔“

میں نے دوبارہ اسے بازوﺅں میں بھرا اور بستر تک لے آیا ۔اسے لٹاتے ہوئے میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اس کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا ۔

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.