Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 36 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 36
مصنف طارق خان 

’ایسے بے حیا انسان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں انکل!‘‘ ساجد نے نفرت سے کہا اور ایک زور دار ٹھوکر میری کنپٹی پر رسید کی۔ اس کے ساتھ ہی میں ہوش کی دنیا سے دور چلا گیا۔ سر پر لگی ضرب نے مجھے بے ہوش کر دیا تھا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں سلاخوں والے دروازے کے پاس ننگے فرش پر پڑا تھا۔ سامنے ایک سنگین بردار سپاہی کی موجودگی یہ ظاہر کر رہی تھی کہ میں تھانے کی حوالات میں ہوں۔ شعورمیں آتے ہی میں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا۔ ایک دھوتی بندھی تھی اوپری جسم ننگا تھا۔ مجھے چکر آرہے تھے۔ دائیں آنکھ سوج کر کپا ہو چکی تھی جس میں سوزش کے ساتھ درد ہو رہا تھا۔ میں نے واحد آنکھ سے دیکھا کمرے میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ سب کچھ ایک بھیانک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ میں سبین کو روندنے میں مصروف تھا کہ کالی داس کچھ لوگوں کے ساتھ اندر آگیا۔ حالانکہ بیڈ روم کا دروازہ اندر سے لاک تھا لیکن اس کے لئے اسے کھولنا کیا مشکل تھا؟ وہ موقع کی تلاش میں تھا اور آج اسے میں نے وہ موقع فراہم کر دیا تھا۔ اسنے مجھ سے اچھا بدلہ لیا تھا۔
’کاش بے ہوشی ہی میں میں اس دنیا سے جہنم کی طرف چلا جاتا۔ کاش لوگوں نے مجھے موقع پر ہی مار دیا ہوتا‘‘ میں نے چکراتے ذہن کے ساتھ سوچا۔ آنکھوں کے سامنے وہ بھیانک منظر دوبارہ ابھر آیا۔ آس پاس رہنے والے لوگوں کی آنکھوں میں شدید حیرت تھی۔ اورکیوں نہ ہوتی وہ کبھی مرکر بھی یقین نہ کر سکتے تھے کہ میرے جیسا انسان اس طرح کی قبیح حرکت کر سکتا ہے۔ میری شہرت اپنے علاقے میں بہت اچھی تھی۔ اس پرصائمہ گھر میں آنے والی خواتین کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتی۔ ان کے ساتھ نہایت اخلاق سے پیش آتی، اس کے علاوہ بچیوں کو وہ قرآن پاک بھی پڑھاتی تھی۔ صائمہ نے خود کبھی اس معاملے پرمیرے ساتھ تفصیل سے بات نہ کی تھی میں کچھ پوچھتا بھی تو کہتی۔

’’فاروق! ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملنے جلنے والوں کو دین کی تبلیغ کرے۔ میں اس کام کی تشہیر اس لئے نہیں کرتی کہ کہیں ریا کاری نہ ہو جائے‘‘ کس قدر عظیم اور نیک تھی میری بیوی اورمیں۔۔۔؟

مجھے اپنے وجود سے گھن آنے لگی۔ دل چاہا میں خود کشی کرلوں۔ لوگوں نے اس شدت سے مجھے مارا تھا کہ میرا جسم لہولہان ہوگیا تھا۔ اگر ڈی ایس پی عمر حیات ان کو نہ روکتا تو وہ شاید مجھے مار کر ہی دم لیتے۔ کاش وہ ان لوگوں میں شامل نہ ہوتا۔

ایک طرف پڑے پڑے میرا جسم شل ہو چکا تھا۔ میں نے اپنے جسم کو ہلایا توبے اختیار میرے منہ سے کراہ نکل گئی۔ سارا جسم زخموں سے چور تھا۔ آنکھ کی تکلیف الگ مارے ڈال رہی تھی۔ منہ کا ذائقہ نمکین ہو رہا تھا اور دائیں جبڑے میں سخت درد۔ کالی داس نے مجھ سے کیا خواب انتقام کیا تھا، وہ تاک میں تھا۔ مجھے یقین تھا کہ لوگوں کو بھی وہی اکٹھا کرکے لایا تھا۔

سبین چیخی ضرور تھی لیکن بنگلہ اتنا بڑا تھا کہ اسکی ایک دو چیخیں کسی طور باہر سڑک پر نہیں سنی جا سکتی تھیں۔ یہ کار ستانی اس منحوس کالی داس کی تھی۔ مجھے حیرت اس بات پرتھی کہ بسنتی میری مدد کرنے کیوں نہیں آئی؟ میں نے کئی بار اسے پکارا تھا۔ ہو سکتا ہے کالی داس نے اسے کسی طرح بے بس کر دیا ہو۔ ایک بار جب رادھا جاپ میں مصروف تھی تو اس کمینے نے مجھے گھیر کر اپنا بدلہ لینے کا بندوبست کر لیا تھا لیکن اس دن بھلا ہو ملنگ کا کہ اس نے میری مدد کی تھی۔ تب میں بے قصور تھا جبکہ آج تو میں نے وہ جرم کیا تھا جس کی دنیا اور آخرت میں بدترین سزا مقرر کی گئی ہے۔ کاش لوگ مجھے موقع پر ہی سنگسار کر دیتے۔ میں اہل علاقہ کی نظروں سے گر گیا تھا۔ جب صائمہ کو معلوم ہوگا تو وہ کیا سوچے گی؟ کیا وہ زندہ رہ پائے گی؟ میں نے اس کے اعتماد کو دھوکہ دیاتھا۔

اونگھتا ہوا سپاہی اچانک کھڑا ہوگیا ۔مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے اکلوتی آنکھ کھول کر دیکھا تو بری طرح لرز گیا۔ ایک سپاہی کے ساتھ دو آدمی سلاخوں والے دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ ایک کے ہاتھ میں کیمرہ تھا دوسرے کے ہاتھ میں چھوٹی سی ڈائری اور پین ۔وہ کسی اخبار کے رپورٹر تھے۔ میں نے ان کو دیکھ کر چہرہ چھپا لیا۔ جانتا تھا وہ میری تصویریں بنانے آئے ہیں انہیں اپنے اخبار کے لئے ایک دلچسپ سٹوری مل گئی تھی۔
’ایک معروف بینک کے منیجر نے اپنی ماتحت لڑکی کی عزت لوٹ لی‘‘

’’جو رہی سہی عزت رہ گئی تھی اس کا بھی جنازہ نکلنے والا تھا۔ اگریہ خبر اخبار میں آجاتی تو کیا میں معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا؟ جلدی سے میں تقریباً اوندھا ہوگیا۔کیمرے کی فلش چمکی۔ میں جس حد تک خودکو کیمرے سے بچا سکتا تھا میں نے کوشش کی۔ ان کے ساتھ آنے والے سپاہی نے ایک گندی سی گالی دے کر مجھے منہ اوپر کرنے کو کہا۔

’’حرامی! جس وقت اس معصوم کے ساتھ منہ کالا کررہا تھا اس وقت تجھے شرم نہ آئی اب منہ چھپا رہا ہے منہ اوپر اٹھا۔۔۔‘‘ وہ ایک اور گالی دے کر کڑک کر بولا۔

لیکن میں اسکی بات کیسے مان سکتا تھا؟ شدت سے رادھا کا منتظر تھا۔ اب اس معاملے کو وہی سلجھا سکتی تھی۔ کاش وہ آجائے اچانک مجھے رادھا کی بات یاد آگئی اسنے کہا تھا۔

’’اگر بات بسنتی کے بس سے باہر ہوجائے تو تم اس طرح مجھے پکارنا میں آجاؤں گی۔ دیوتاؤں کے کارن میری سہائتا کرو‘‘ حالانکہ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ صریح شرک ہے لیکن اس وقت عزت بچانے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ شیطان نے مجھ پر اس قدر غلبہ پا لیا تھا کہ مجھے یہ خیال تک نہ آیا اگر میں سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو پکارلوں جو شہہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ میری مدد ضرور کرے گا۔ بے شک میں نے ایک کبیرہ گناہ کیا تھا لیکن وہ تو غفور الرحیم ہے اپنے بندوں کی خطائیں معاف کر دیتا ہے۔ اور یہی اس کی شان کریمی ہے لیکن مجھ فاسق کو یہ خیال نہ آیا بلکہ میں شیطان کی اس چیلی کو پکارنا چاہتا تھا جسکی وجہ سے مجھے آج یہ دن دیکھنا پڑا تھا۔

’’دروازہ کھول ! میں ابھی اس بے شرم کی شرم اتارتا ہوں کیسے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے حرامزدہ۔۔۔تمہارے کرتوت جان کرتوہمیں شرم آرہی ہے‘‘ جو سپاہی صحافیوں کے ساتھ آیا تھا اسنے گرج کر سامنے بیٹھے سپاہی سے کہا۔ اب لمحوں کی بات رہ گئی تھی۔ اس کے بعد اگر میں چاہتا بھی تو دنیا والوں کی زبان نہ روک سکتا تھا۔ صرف ایک دھوتی میں حوالات کے فرش پر اوندھا پڑا تھا۔ کوئی لمحہ جاتا تھا کہ وہ دروازہ کھول کر اندر آجاتے پھر میں کسی طرح بھی ان کے سامنے مزاحمت نہ کر سکتا تھا۔
’رادھا تمہیں دیوتاؤں کا واسطہ میرے پاس آجاؤ‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ آنے والوں میں سے ایک کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ یہ یقیناً فوٹو گرافرتھا۔

’’چھوڑیں بھٹی صاحب! اگریہ تصویر نہیں بنوانا چاہتا توکوئی بات نہیں آئیں چلتے ہیں‘‘

مجھے اپ کانوں پر یقین نہ آیا کہ واقعی اسنے وہی کچھ کہا جو میں سن رہا ہوں۔‘‘

’’مراد۔۔۔! یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہیں تم پاگل تو نہیں ہوگئے؟‘‘ دوسرے کی حیرت زدہ آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی سپاہی جس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تھا کہ آواز آئی۔

’’اسکی کیا مجال کہ یہ تصویر نہ بنوائے میں اس کی ۔۔۔‘‘ اسنے ایک ناقابل اشاعت قسم کی گالی دے کر کہا’’۔۔۔نہ کر دوں گا۔‘‘

’’جب میں کہہ رہا ہوں کہ اسکی ضرورت نہیں توبس بات ختم‘‘ فوٹوگرافر جھنجھلا گیا۔

’’جانتے ہو ایڈیٹر تمہارا کیاحال کرے گا؟‘‘ یہ اس کا ساتھی تھا۔

میں ان کی شکلیں تو نہیں دیکھ سکتا تھا ہاں آوازوں سے اندازہ لگا رہا تھا

’’تو میرا باپ نہ بن۔۔۔میں خود ایڈیٹر کو جواب دے لوں گا‘‘ فوٹو گرافر نے اس بار تلخ لہجے میں جواب دیا۔ ساتھ آنے والا سپاہی خاموش کھڑا ان کی بحث سن رہاتھا۔

’’بچو! ایک منٹ میں ایڈیٹر تمہیں نوکری سے نکال دے گا۔‘‘ ساتھی نے اسے ڈرایا۔

’’میں نے کہا ہے نا تومیرا باپ نہ بن سالے۔۔۔!میں خود دیکھ لوں گا ایڈیٹر کو بھی‘‘فوٹوگرافر چیخ اٹھا۔

’’تو میرا ماتحت ہے میری بات کیسے نہیں مانے گا؟‘‘ اس کا ساتھی بھی غصے میں آگیا۔ اسکے فوراً بعد دھماکے سے کسی چیز کے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔

’’یہ لے ۔۔۔کھنچوا لے تصویر۔‘‘

میں نے چونک کر دیکھا فوٹوگرافر نے کیمرہ زمین پر مار کر توڑ دیا تھا۔ سب ہکا بکا کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ اپنے ساتھی کے منہ پر ایک زور دار مکا جڑ دیا۔ سپاہی آگے بڑھا تو اس نے اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا۔ مکا کھا کر سپاہی پیچھے کی طرف الٹ گیا۔ سنگین بردار سپاہی نے فوراً فوٹو گرافر پر گن تان لی لیکن وہ تو جیسے پاگل ہو چکا تھا
بندوق کی پرواہ کیے بغیر وہ اس سپاہی کے ساتھ الجھ پڑا۔ میں سب کچھ بھول کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ کالے رنگ اور دہرے بدن کا پچیس چھبیس سالہ شخص بڑا دلیر واقع ہوا تھا۔ مکا کھانے والا سپاہی گالیاں بکتا ہوا اٹھا اور فوٹو گرافر سے لپٹ گیا۔تھوڑی دیر میں اچھا خاصا ہنگامہ ہوگیا۔ فوٹو گرافر بڑی بے جگری سے تینوں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی وہ اکیلا ان پر بھاری تھا۔ اس نے تھوڑی ہی دیر میں ان تینوں کو لہو لہان کر دیا۔ شور سن کر چند اور سپاہی بھاگے آئے اور آکر اسے قابو کرکے لے گئے ۔

حیران تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ لیکن وقتی طور پر ہی سہی یہ مصیبت ٹل گئی تھی۔ اگرمیری تصویر اخبار میں چھپ جاتی تو۔۔۔؟ یہ خیال ہی میرے لیے سوہان روح تھا۔ کچھ روز قبل شرجیل نے سپنا نامی لڑکی کو اپنے بیڈ روم میں صرف بلایا تھا اس پر بھی ہم سب نے اس کی کیا حالت کی تھی؟ کھیدو چوہڑے اور سپنا کا حشر دیکھ کر آنٹی میرا بہت زیادہ احترام کرنے لگی تھیں۔

اب پولیس سے جان چھڑانے کا مسئلہ تھا۔ انہیں کچھ نہ کچھ دے دلا کر جان چھڑائی جا سکتی تھی۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا سامنے کوئی بھی نہ تھا۔ میں نے سلاخوں کے ساتھ سر ملا کر باہر دیکھنے کی کوشش کی مجھے ایک سپاہی نظر آیا۔ میں چاہتا تھا اس کے ذریعے عمران کو بلواؤں اور ان خبیثوں سے جان چھڑا کر باہر نکلوں۔۔۔

جو کچھ کالی داس نے میرے ساتھ کیا تھا اگر وہ میرے ہاتھ آجاتا تو ہو سکتا تھا میں انجام کی پرواہ کیے بغیر اسے جان سے مار دیتا۔ لیکن کیا میں اس کی پراسرار قوتوں کا مقابلہ کر سکتا تھا؟ میری اب تک کی جیت سے رادھا اور ملنگ کی مدد شامل رہی تھی لیکن میں خود کیا تھا؟ کیا میں اس شیطان کی گندی جادوئی قوتوں کے باوجود اسے زیر کر سکتاتھا؟ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں چکرا رہا تھا۔

چوٹیں ٹھنڈی ہونے کے بعد مزید اذیت کا باعث بن گئی تھیں۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب کچھ اس منحوس بسنتی کی وجہ سے ہوا تھا۔ نہیں یوں کہنا چاہئے کہ ان حالات کے پیچھے میری ہوس کارفرما تھی۔ بسنتی کے حسن نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ میں برے بھلے کی تمیز کھو بیٹھا تھا۔ کاش میں نے اس بدبخت کی بات نہ مانی ہوتی۔ لیکن۔۔۔بدبخت وہ نہیں میں خود تھا۔ حسین اور وفا شعار بیوی کے ہوتے ہوئے میں کن راستوں پر چل پڑا تھا؟

جسم کے ساتھ ساتھ میرا ذہن بھی دردکرنے لگا تھا۔ میں شدت سے کسی سپاہی کا منتظر تھا جس کے ذریعے عمران کو بلوا سکوں۔ پیاس کی شدت سے میرے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ گلا خشک ہو رہا تھا۔ دو گھونٹ پانی کے لئے میں ترس رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک سپاہی ٹہلتا ہوا کمرے کی جانب آیا۔
’بھائی! دو گھونٹ پانی پلا دو میرا دل ڈوب رہا ہے‘‘میں نے اسے مخاطب کیا۔

’’بیٹا! ابھی صاحب تجھے ٹھنڈا شربت پلاتا ہے فکر نہ کر‘‘ اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

’’بھ۔۔۔بھائی! تمہیں خدا کا واسطہ میری بات سن لو‘‘ اسے جاتا دیکھ کرمیں نے منت کی۔ وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگا۔

’’اگر تم ایک چھوٹا ساپیغام ایک شخص تک پہنچا دو تو میں تمہیں ایک ہزار روپیہ دوں گا‘‘ میں نے اسے لالچ دیا۔

’’کونسی جیب میں رکھے ہیں ایک ہزار روپے؟‘‘ وہ میرے نیم برہنہ جسم کو دیکھتے ہوئے تمسخر سے بولا۔

’’مم۔۔۔میں تمہیں جس شخص کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں وہ تمہیں ایک ہزار روپیہ دے دے گا ۔ میری بات پریقین کرو‘‘ میں نے بے چارگی سے کہا۔

وہ سوچ میں پڑ گیا۔ اسکی مہینہ بھر کی سات آٹھ سوسے زیادہ نہ ہوگی۔ ان دنوں ایک ہزار روپے کی کافی اہمیت تھی۔

’’میں سچ کہہ رہا ہوں اگر تم میرا ایک پیغام اس تک پہنچا دو تو وہ اسی وقت تمہیں پیسے دے دے گا‘‘ میں نے اپنی بات پر زور دے کر کہا۔

’’بتاکہاں جانا ہے لیکن ایک بات سن لے۔۔۔میں پہلے اس سے پیسے لوں گاپھر تیرا پیغام دوں گا ، دوسرے یہ کہ اس نے رقم نہ دی تو آج رات جن سپاہیوں نے تیری ’’خدمت‘‘ کرنی ہے میں ان سب میں آگے ہوں گا۔‘‘ اس نے کہا۔

’’نہیں۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوگا وہ میرا بھائی ہے جب تم اسے بتاؤ گے تو وہ فوراً تمہیں پیسے دے دے گا۔‘‘ میں نے اس کی منت کی۔

’شکل سے تو توپڑھا لکھا لگتا ہے پھر تو نے ایسی حرکت کیوں کی؟‘‘ وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھ کربولا۔

’’میں نے کچھ نہیں کیایہ سب میرے دشمنوں کی سازش ہے‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’ہاں تو اپوزیشن لیڈر ہے نا اسلئے تیرے خلاف سازش کی گئی ہے‘‘ اس نے طنزکیا۔ مجھے اس سے کام تھا اس لئے اس کی بات صبر سے برداشت کرگیا۔

’’میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہ بھولوں گا میرے بھائی میرا اتنا سا کام کر دو‘‘ میری آواز بھرا گئی۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا پھر ہنس کربولا۔

ضرور پڑھیں: اپوزیشن کی کل جماعتی رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو طلب، اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف حکومتی کارروائیوں اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا
’’اوئے۔۔۔تو تو زنانیوں کی طرح رونے لگا۔ ابھی سے تیری یہ حالت ہے ابھی توکسی نے تجھے کچھ کہا ہی نہیں۔ رات کو صاحب تیرا جو حشر کرنے والا ہے اسکا تو تجھے پتا ہی نہیں جلدی سے بتاکہاں جانا ہے اورکیا پیغام دینا چاہتا ہے تو اپنے اس بھائی کو؟‘‘ وہ تیز لہجے میں بولا۔

’’میں نے اسے بینک کانام اور ایڈریس سمجھا کر بتایا کہ وہاں ایک صاحب ہوں گے عمران محمود انہیں باہر بلا کرکہنا کہ وہ ابھی مجھے تھانے آکرملیں۔ علیحدگی میں بلا کربات کرنا سب کے سامنے نہیں‘‘

’’ابے ماں کے خصم۔۔۔! تو کیا سمجھتا ہے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ سارے شہر میں تیرے کرتوتوں کا چرچاہو رہا ہے اور تو مجھے راز و نیاز کا مشورہ دے رہا ہے ۔۔۔‘‘ اس نے ایک اور گالی میری طرف لڑھکائی۔

اس کی بات سن کر میں دنگ رہ گیا۔ اسکے جانے کے بعد میں کافی دیر تک اسی الجھن میں مبتلا رہا کہ اتنی جلدی یہ خبر کیسے پھیل گئی؟ کیونکہ فوٹوگرافر جو میری تصویریں بنانے آیا تھا اس نے کیمرہ زمین پرمار کر توڑ دیا تھا۔ میرے ذہن میں کالی داس کا نام ابھرآیا۔ یقیناً یہ اسی حرام کے نطفے کی کارستانی ہوگی۔ اپنی پراسرار قوتوں سے کام لے کر اسی نے بات پھیلائی ہوگی۔ اب کیا ہوگا؟ میں سخت پریشان ہوگیا۔ میرا خیال تھا عمران آئے گا تو میں اسے کہوں گا تھانے والوں کو ان کی منہ مانگی قیمت دے کر میری جان چھڑائے۔ میں نے سوچا تھا سب کچھ کھیڈو چوہڑے اور سپنا پر ڈال دوں گا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے گھر والے مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور صائمہ تو کبھی مر کربھی یقین نہ کر سکتی تھی کہ میں اتنی گری ہوئی حرکت کر سکتا ہوں۔ اس وقت مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ باہر کیا کچھ ہو چکا ہے سپاہی کی بات پر میں چونکاضرور تھا۔

’’تیرے کرتوتوں کا چرچا سارے شہر میں پھیلا ہوا ہے‘‘ اس کا فقرہ میرے ذہن میں گونجا۔ اس وقت میرا خیال تھا وہ محض مجھے ڈرانے کی خاطر کہہ رہا ہے۔ یہ تو مجھے بعد معلوم ہواکہ سب کچھ اتنا آسان نہیں جتنامیں سمجھ رہاتھا۔ سپاہی کو گئے ایک گھنٹہ سے زیادہ ہوگیا تھا ،ابھی تک عمران نہ آیا تھا۔ میں سبین کو تقریباً بارہ بجے گھر لے کر گیا تھا۔ اس حساب سے اب شام چار بجے کا وقت ہونا چاہئے تھا۔ مجھے خطرہ تھا اگر سپاہی وقت پر نہ گیا تو بینک میں چھٹی ہو جائے گی پھر عمران کا ملنا ناممکن تھا۔ سپاہی کی بات کا مجھے اس لئے بھی یقین نہ تھا اگر بات سارے شہرمیں پھیل چکی تھی تو عمران ابھی تک کیوں بے خبر تھا؟ یہ تو ناممکن تھا کہ اسے معلوم ہوتا اور وہ نہ آتا۔ اسکے ساتھ ہی ایک لرزہ خیز خیال میرے ذہن میں آیا
’کیا انکل بیگ اور آنٹی کو بھی معلوم ہو چکا ہوگا؟‘‘یہ سوچ بھڑکتی چنگاری جیسی تھی۔ چونکہ ان کا گھر ہم سے زیادہ دور نہ تھا اور ایسی بات توجنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ کیسے کیسے مہربان اور شفیق لوگوں کا ساتھ مجھے میسر رہاتھا کہ مجھے ایک دن بھی اجنبیت کا احساس نہ ہوا۔ اگربات ان کے علم میں آگئی اور انہوں نے یہاں آکرمجھے اس حالت میں دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے؟
سوچوں نے میرے حواس معطل کردیئے تھے۔ میں دعا کر رہا تھا کہ کسی طرح عمران آجائے۔

اب میں رادھا کی آمد سے مایوس ہو چکا تھا۔ اسے آنا ہوتا تو اب تک وہ آچکی ہوتی فاصلے اس کے لئے کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے وہ پل بھر میں دنیا کے جس کونے میں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ تو کیا اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا؟لیکن اسے کیا ضرورت تھی ایسی بات کہنے کی؟ اسے مجھ سے کیا خوف تھا کہ میرے ساتھ جھوٹا وعدہ کرتی؟ کیا اسے کالی داس نے روک دیا تھا؟ کیاکالی داس سب پر حاوی ہوگیا تھا؟ میں اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کہ عمران کونہ دیکھ سکا جو سلاخوں کے پاس غمگین حالت میں کھڑا تھا۔

’خان بھائی!‘‘میں نے چونک کر دیکھا۔ اس کے احساسات کا اظہار اس کے پرخلوص چہرے سے ہو رہا تھا۔ مجھے اپی طرف دیکھتا پا کر اس نے آہستہ سے کہا۔
’خان بھائی! یہ سب کیا ہوگیا میں تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کبھی یوں بھی ہو سکتاہے؟‘‘

زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سما جاتا اگر میرے بس میں ہوتا تو کہاں تومیں شدت سے عمران کامنتظر تھا اورجب وہ آیا تو میں شرم کے مارے نظر نہ اٹھا سکا۔ وہ میری کیفیت کو جان گیاتھا۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.