ناول جنت کے پتے قسط 70
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 70
لاؤنچ سے باتوں کا شور کمرے تک سنائی دے رہا تھا۔ ثنا اور سحرش اپنی امی کے ساتھ آئی تھیں اور حسب معمول ان کی آمد پہ ارم اور سونیا بھی چلی آئی تھیں۔ وہ ابھی تک کمرے میں ہی تھی۔ ان سے نہیں ملی تھی۔ اماں دروازے پہ دو دفعہ آ کر باہر آنے کا کہہ چکی تھیں۔
اب تو بخار بھی اتر گیا ہے باہر آجاؤ۔ وہ کب سے آئی ہوئی ہیں اچھا نہیں لگتا۔ اور پھر بھی وہ بنا کچھ کہے بیٹھی رہی۔ دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کسی سے ملنے کو۔ پھر کافی دیر بعد اٹھی اور اپنا بیگ کھولا تا کہ کوئی جوڑا نکالے۔ ابھی پہنا لباس ملگجا سا ہو رہا تھا۔ گرے شلوار قمیض اور ساتھ پتا نہیں کس جوڑے کا گلابی ڈوپٹہ پہنے بہت بکھرے بکھرے حلیے میں وہ بیمار سی لگ رہی تھی۔ بیگ کھول کر ڈھکن اٹھایا تو سامنے کپڑوں پہ گفٹ پیک میں ملفوف ایک پیکٹ رکھا تھا۔
اس نے وہ پیکٹ اٹھایا۔ کچھ مدھم مدھم سا یاد تھا کہ سفیر نے جاتے ہوئے یہ اس کے حوالے کیا تھا شاید حلیمہ آنٹی نے دیا تھا۔ اس نے ریپر پھاڑا اندر بہت خوبصورت سفید ان سلی سلک کا کپڑا تھا۔ ساتھ میں ایک چھوٹا سا کارڈ بھی لگا تھا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔
حیا کے لیے بہت دعاؤں کے ساتھ۔ تم ہمیشہ پوچھنا چاہتی تھی کہ تمہارے ساتھ فلائیٹ میں عثمان نے سامنے بیٹھی ترک عورت سے کیا کہا تھا تا کہ وہ تم سے فرینک نہ ہو سکے۔ تو میں تمہیں بتائے دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک نے ایک ایسی ڈش کا آرڈر دیا جس میں انڈین سٹائل کی تلی ہوئی پیاز بھی شامل ہے۔ اور بات یہ ہے کہ حیا تک عورتوں کو تلی ہوئی پیاز سے سخت الرجی ہے لیکن آف کورس وہ صرف اس لیے ایسا کرنا چاہ رہے تھے کہ کہیں اجنبی سے بے تکلفی سے تمہیں نقصان نہ ہو۔ ہم اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔!
فقط حلیمہ اور عثمان۔
اس کے چہرے پہ افسرہ سی مسکراہٹ امڈ آئی۔ کچھ باتیں ادھوری بھی رہ جائیں تب بھی ان کی تشنگی نہیں ہوتی۔ جیسے ڈی جے کو گڈ مارننگ ڈی جے کہنے والا لڑکا اسے نہیں ملا تھا۔ وہ کون تھا وہ کبھی بھی نہیں جان پائے گی۔ اور کون جانے کہ اس کو خود بھی پتا تھا یا نہیں کہ ڈی جے اس دنیا سے چلی گئی ہے۔
کون جانے!!!
اس نے بیگ سے کپڑے ادھر ادھر کیے۔ آگے پیچھے ہر جگہ دیکھا۔ پھر دوسرا بیگ کھولا۔ اس کا ونڈ چائم کہیں نہیں تھا۔ پتہ نہیں وہ اسے کہاں بھول آئی تھی۔ دل اتنا خراب ہوا اس بات سے کہ وہ لباس بدلے بغیر بال کیچر میں باندھے باہر آ گئی۔
مطلب حد ہو گئی۔ ایک دم سے ہمیں اتنی سنا دیں رضا بھائی نے۔ ہمارا کیا قصور؟ اور وہ فائزہ وغیرہ ان کو بھی تو دھیان رکھنا چاہیے تھا نا۔
ثنا لاؤنج میں بیٹھی زور و شور اور خفگی سے کہہ رہی تھی۔ حیا کو آتے دیکھ کر بات روک کر جلدی سے اٹھی۔ حیا آپا کدھر ہیں آپ۔ سب کہ ہرہے تھے کہ آپ آتے ساتھ ہی بیمار پڑ گئی ہیں۔ وہ بڑے تپاک سے اس کے گلے لگی۔ حیا زبردستی ذرا س مسکرائی۔ سونیا بھی اچھے سے ملی۔ باقی سحرش اور ارم تو اپنے اپنے موڈ میں تھیں مگر اسے کہاں پراہ تھی۔ نتاشا اپنے مصروف انداز میں بے نیاز سی صوفے پہ بیٹھی میگزین کے ورق پلٹ رہی تھی۔
تو پھر کیا تم نے فائزہ سے شکایت کی؟ وہ سب بیٹھ گئیں تو سونیا بھابھی نے ثنا کو تفکر سے دیکھتے ہوئے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔
ہاں آج جا کر فون کروں گی۔ حد ہے۔ پھر حیا کو دیکھ کر ثنا وضاحت کرنے لگی۔ فائزہ باجی نے پتا ہے کیا کیا؟
کیا۔ حیا نے اسی کے انداز میں دوہرایا۔ اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ فائزہ ارسل کی بہن تھی اور ارسل وہ تھا جس کے ولیمے کی رات تایا ابا نے اس کی بے عزتی کی تھی۔
فائزہ باجی نے ارسل بھائی کے ولیمے کی تصویریں فیس بک پہ لگا دیں۔ چلو اپنی لگاتی تھی خیر تھی۔ مگر ہماری ٹیبل کی بھی تین تصویریں البم میں لگا دیں اور پرائیویسی پبلک رکھ دی۔ رضا بھائی نے دیکھا اور پھر ہمیں سنانے لگے۔ اب فائزہ باجی سے پوچھو کہاں کے ایتھیکس ہیں یہ کسی اور کی تصویریں لگا دو؟
وہ بس خاموشی سے ثنا کو دیکھے گئی۔ اس کا ذہن کیلیس کی سرحد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔
آپ کی تصویر بھی تھی۔ آپ کی تصویر بھی تھی۔ ثنا نے یاد کر کے بتایا۔ اس پر وہ ذرا سی چونکی۔
مگر آپ کی تو خیر ہے، آپ نے تو لپیٹ کر دوپٹا لیا ہوا تھا ناں۔ پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون ہے۔ مگر میری تو اچھی خاصی کلاس لے لی بھائی نے۔ وہ سخت رنجیدہ ہو رہی تھی، غالباً ان کے گھر آتے ہوئے ہی رضا سے اس کا ٹاکرا ہوا تھا۔
ہاں حیا کا دوپٹا نا ہوا سلیمانی چغہ ہو گیا۔ ارم ذرا سا ہنسی۔ حیا نے نگاہ پھیر کر اسے دیکھا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی شیشے کی پلیٹ پہ رکھی اسٹرابیری کو کانٹے میں پھنسا رہی تھی۔ پھر کانٹا منہ میں لے جاتے ہوئے اس نے حیا کو دیکھا۔ حیا کی نگاہوں میں کچھ ایسا تھا۔ ارم بے اختیار دوسری طرف دیکھنے لگی۔
ایک تو پتا نہیں ہمارے بھائیوں کو دوستوں کا اتنا خوف کیوں ہوتا ہے۔ ایسے ہم سارے زمانے میں بغیر ڈوپٹے کے گھومتے رہیں تب کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر بھائی کی یونیورسٹی کے سامنے سے کار میں بھی گزرو تو بس۔ ہاتھ اندر کرو سر پہ ڈوپٹہ لو میرا کوئی دوست گزر رہا ہو تو دیکھنا مت۔ اف۔ ثنا رضا کی نقل کرتے ہوئے بولی تو سحرش ہنس دی۔ ارم فقط مسکرائی پھر اس نے حیا کو دیکھا۔ وہ ابھی تک خاموش مگر گہری نظروں سے ارم کو دیکھ رہی تھی۔ ارم ذرا جزبز ہو کر دوبارہ ثنا کو دیکھنے لگی۔
جہان نہیں آیا تمہارے ساتھ حیا؟ سحرش نے بات کا رخ پھیرا تو حیا نے نگاہیں اس کی طرف پھیریں۔ پھر ہلکا سا نفی میں سر ہلایا۔ نہیں۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔
اچھا تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ آئے گا۔ معصوم سا سوال تھا مگر اسے بہت زور سے چبھا۔ سونیا نے بےچینی سے پہلو بدلا۔ اسے یقیناً سحرش کا لہجہ اچھا نہیں لگا تھا۔
کہا تھا مگر ایسا ہو نہیں سکا۔ اس نے فقط یہی کہا۔ کوئی صفائی نہیں، کوئی دلیل نہیں، کوئی منہ توڑ جواب نہیں۔ اب تو کسی بات کا نہیں چاہتا تھا۔
اچھا! سحرش نے ذرا سے شانے اچکاتے ہوئے آگے ہو کر ایک اور اسٹرابری اٹھائی۔ حیا نے سرخ پھلوں سے بھرے ہوئے پیالے کو دیکھا۔ سرخ رسیلا پھل۔ سرخ جوتے۔ بیسن کے کنارے پہ لگا خون کا سرخ قطرہ۔
اس کا دل بھر آیا تھا۔ وہ ایک دم اٹھی اور تیزی سے کمرے کی طرف گئی۔
سب نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
نتاشا اسی طرح بےنیاز سی میگزین کے صفحے پلٹ رہی تھی۔
***
حیا باجی آپ کا فون ہے ۔ وہ اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ کھولے عائشے کو میل لکھ رہی تھی۔ جب نور بانو نے دروازے سے جھانک کر صدا لگائی۔ وہ اچھا کہہ کر سینڈ کا بٹن دبا کر اٹھی اور باہر آئی۔ زندگی میں ناامیدی اتنی بڑھ گئی تھی کہ فون کی گھنٹی پہ بھی چونکنا چھوڑ دیا تھا۔ میجر احمد اسے کبھی بھی لینڈ لائن پہ کال نہیں کیا کرتا تھا۔ سو اسے دلچسپی نہ تھی کہ کس کا فون ہے۔
ہیلو؟ اس نے کریڈل کے پاس رکھا الٹا ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔
بہت شکریہ میری بات سننے اور سمجھنے کا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے عقلمندی کا ثبوت دیا۔ ولید کی مسکراتی آواز۔ اسے لگتا تھا کہ سارے احساس مر گئے ہیں مگر ایک ابال سا اندر سے اٹھا تھا۔ ہاں ابھی کچھ دل میں زندہ تھا۔
جو بھی کہنا ہے، صاف کہو۔ وہ دبے لہجے میں غرائی۔
میرے خلاف وہ کیس واپس لے کر تم نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ ایک عقلمند خاتون ہیں۔ لمحے بھر کو اس کے عصاب مفلوج سے ہو گئے۔ کیس واپس؟ اس نے تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کس نے؟
میں نے تمہارے خلاف کوئی کیس واپس نہیں لیا۔
میں جانتا ہوں کہ آپ کے دباؤ پہ ہی یہ ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ نے یہ کیوں کیا ہے۔ یہ کال آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کی تھی اور یہ پوچھنے کے لیے بھی کہ پھر ہم کب مل رہے ہیں؟ وہ جیسے بہت مسرور اور مطمئن تھا۔
اس کے اندر جوار بھاٹا پکنے لگا۔ بمشکل اس نے ضبط کیا۔ میں فون رکھ رہی ہوں۔
کل دوپہر ایک بجے میں جناح سپر والے پزاہٹ پہ آپ کا انتظار کروں گا۔ ضرور آئیےگا۔ مجھےکچھ اہم باتیں کرنی ہیں۔ کیونکہ ابھی وہ آرکیٹیکٹ والا مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اچھا۔ اور تمہیں لگتا ہے میں آجاؤں گی۔ وہ اور ہوتی ہیں کمزور لڑکیاں جو تم جیسوں سے ڈر جاتی ہیں۔ مائی فٹ۔ اتنا غصہ آیا تھا کہ دل چاہا یہ فون دیوار پہ دے مارے۔
آپ کو آنا ہو گا۔ یاد رکھیں وہ ویڈیو میرے پاس ہے۔ اگر آپ نہیں آئیں تو میں آپ کے گھر آ کر وہ ویڈیو آپ کے ہاں ٹی وی پہ چلا کر دکھاؤں گا اور یہ میرا وعدہ ہے۔ اس کے لہجے کی سفاکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا کا دل لرز کر رہ گیا مگر جب بولی تو آواز مضبوط تھی۔
تو پھر تم کر گزرو جو تم کرنا چاہتے ہو۔ ایسا سوچنا بھی مت کہ میں تم سے یوں ملنے چلی آؤں گی۔ جہنم میں جاؤ تم۔
اس نے فون زور سے کریڈل پر پٹخا۔ پھر تیزی سے مڑ کر ابا کے کمرے کی طرف گئی۔وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ٹائی کی ناٹ صیحح کر رہے تھے۔ آفس جانے کے لئے بالکل تیار۔
ابا کیا آپ نے ولید کے خلاف کیس واپس لے لیا؟ وہ پریشانی سے کہتی بنا اجازت اندر آئی تھی۔ سلیمان صاحب نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر واپس شیشے کے سامنے ہو کر ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرنے لگے۔
ہاں واپس لے لیا۔
مگر کیوں؟ وہ صدمے سے بولی۔
پہلی بات یہ کہ وہ بہت ہی کمزور کیس تھا۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے پاس کوئی خاص گواہ نہیں ہے اور تیسری بات اس کی گاڑی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ فرقان بھائی کو چوٹ گرنے سے آئی۔ اس لیے اس کیس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ اب پرفیوم اٹھا کر خود پر اسپرے کر رہے تھے۔
مگر! ابا آپ جانتے ہیں اس نے مجھے ٹکر مارنے کی کوشش کی تھی۔
*****
حیا میں اسے اس طرح نہیں چھوڑوں گا۔ آرکیٹیکٹ کے ساتھ مل کر اس نے جو بےایمانی کی ہے اس پر میں اسے آڑے ہاتھوں لوں گا۔تھوڑا انتظار تو کرو۔ لیکن ابا کی بات کے برعکس ان کا لہجہ غیر سنجیدہ تھا۔ وہ مزید سنے بغیر بھاگتی ہوئی باہر آئی ۔چند لمحوں بعد وہ تایا فرقان کے گھر تھی۔
تایا ابا اور صائمہ تائی ڈائننگ روم میں اکیلے ناشتا کر رہے تھے۔ لڑکے کام پر تھے۔ سونیا اور ارم بھی ساتھ نہیں تھیں۔
تایا ابا۔ وہ پریشانی سے ان کے پاس آئی۔
آؤ حیا! طبیعت کیسی ہے؟ وہ ہموار لہجے میں بولے، ساتھ ہی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ پہلے جیسی محبتیں نہ سہی مگر پچھلے کچھ عرصے والی رکھائی بھی نہیں تھی۔درمیانہ سا انداز۔
تایاابا! آپ لوگوں نے ولید کے خلاف کیس کیوں واپس لے لیا؟ وہ بےچینی سے وہیں کھڑے کھڑے بولی۔ صائمہ تائی اس کے لہجے پر بےاختیار پلٹ کر اسے دیکھنے لگیں۔
میں نے نہیں لیا تمہارے ابا نے لیا ہے۔ اور وہ اتنے غلط بھی نہیں ہیں۔ کیس کمزور ہے۔ وقت اور پیسے ضائع کرنے کا فائدہ ؟
مگر اس طرح تو وہ اور شیر ہو جائے گا۔ وہ سمجھے گا کہ ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا! ہم سب ٹھیک ہیں۔ چوٹ مجھے لگی تھی۔ جب میں سمجھوتا کرنے پر تیار ہوں تو پھر؟ تایا ابا بھی شاید ولید کے خلاف کسی سخت کاروائی کے حق میں نہیں تھے۔ کاروباری سیاستیں۔ اف۔
اور آرکیٹیکٹ والا کیس؟
دیکھو ہم اس کو کھلم کھلا تو ڈیل نہیں کر سکتے۔ کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مگر تمہارے ابا اس سے ضرور نبٹیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم فکر نہ کرو۔
وہ جانتی تھی کہ اس سے اب کوئی نہیں نبٹے گا۔ وہ صرف اس کو آرکیٹیکٹ والے کیس کا ڈراوا دے رہے تھے تا کہ اس کو سیدھا کر کے رکھ سکیں۔ شطرنج۔ بساط۔ سیاست۔
آپ نہیں سمجھیں گے۔ اس نے تاسف سے نفی میں سر جھٹکا۔
حیا! جہان نہیں آیا؟ صائمہ تائی نے ان کی گفتگو کو اختتام پزیر ہوتے دیکھا تو رہ نا سکیں۔
اللہ اللہ۔ پھر وہی سوال؟ اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔
وہ نہیں آ سکا تائی! آواز بھی دھیمی پڑ گئی۔
تو کب آئے گا۔ تمھارے ابا اور اماں تو چاہ رہے تھے کہ تمھارا نکاح بھی روحیل کے ولیمے کے ساتھ اناؤنس کریں۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی نے ہنکارہ بھر کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ نامکمل معنی اخذ کیے بغیر پلٹ آئی۔ تایا ابا اس وقت اخبار کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔
ہر کوئی پوچھتا تھا کہ وہ نہیں آیا کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا تھا کہ وہ کیوں نہیں آیا۔ سب اپنے مفاد کی بات پوچھتے تھے۔ جہان کی تو کسی کو فکر نہ تھی۔
***
اس کی میل پر عائشے کا جواب آ گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ شام میں آن لائن ہو گی، تب وہ دونوں بات کریں گی۔ وہ عائشے سے کیا بات کرنا چاہتی تھی وہ نہیں جانتی تھی بس وہ اپنا دکھ اور اضطراب کسی سے بانٹنا چاہتی تھی۔ کسی سپاہی کی بیوی ہو کر دنوں، ہفتوں، مہینوں اس کا صبر سے انتظار کرنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے وہ اب جان پائی تھی۔
کیسی ہو؟ اسکرین پر عائشے کا شفاف، خوبصورت چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اسکرین کے سامنے ریوالونگ چئیر پر بیٹھی تھی اور بات کرتے ہوئے وہ شیشے کی ننھی پیالی سے ترک چائے کے گھونٹ بھر رہی تھی۔
مجھے نہیں پتا میں کیسی ہوں؟ وہ اداسی سے بولی تھی۔ ملگجے لباس بندھے بالوں میں حیا بہت کمزور اور افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔
کیا ہمارا اناطولیہ اچھا نہیں لگا؟ عائشے نے حیرت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ پیالی سائیڈ پہ رکھی۔
کپادوکیہ، وسطی اناطولیہ میں واقع تھا۔
نہیں بہت اچھا لگا۔ وہ پھیکا سا مسکرائی۔
بہارے بتا رہی تم لوگ انقرہ بھی گئے تھے۔ کیا اس کے جانے کے بعد تم نے انقرہ دیکھا یا واپس آ گئیں؟
میں کیلیس چلی گئی تھی۔ اس کے لبوں سے پھسلا۔
چائے کی پیالی اٹھاتی عائشے گل چونکی تھی۔
اچھا؟ کس دن گئیں تھی تم کیلیس؟
اتور کو گئی تھی۔ منگل کی دوپہر واپس آ گئی۔ اب چھپانے کا کیا فائدہ تھا۔ عائشے چند لمحوں کے لئے سوچتی رہی تھی۔ پیالی اس کے ہاتھ میں تھی لیکن وہ اسے لبوں تک لے جانا بھول گئی تھی۔
کیا بارڈر وہاں سے قریب پڑتا ہے؟
ہاں! بہت قریب! اس کے نگاہوں کے سامنے پھر وہی رات گھوم گئی۔ وہ خوفناک برستی بارش والی رات۔
تو کیا بارڈر کی ساری خبریں کیلیس میں لوگوں کو مل جایا کرتی ہیں؟
کس قسم کی خبریں عائشے؟ اس نے اچنبھے سے اسکرین کو دیکھا۔
مطلب جو لوگ ان لیگل بارڈر کراس کرتے ہیں ان کی گرفتاری کی خبریں۔ کیا منگل کی صبح تم نے ایسی خبر سنی تھی؟ وہ بہت سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔ اور لمحے بھر کے لئے حیا کو لگا، اس کا سانس رک گیا ہے۔
وہ اپنی بہن کی جاسوس ہے، ساری باتیں اس کو بتاتی ہو گی۔
تمہارا موبائل تمہارے پاس تھا بہارے؟
کیا تم لوگ کیلیس جاؤ گے؟ عبدالرحمن کیلیس کا نام لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا عائشے نے اس کو پکارا وہ چونکی۔ کڑیاں سے کڑیاں ملائیں تو ذہن میں عجیب سا خیال ابھرا۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ عائشے پولیس کو کیوں بتائے گی؟ مگر پھر وہ بارڈر پہ گرفتاری کے بارے میں سننے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتی تھی؟
ہاں پیر اور منگل کی درمیانی رات وہ بارڈر کراس کر رہا تھا عائشے! مگر سکیورٹی اہلکار اس کے انتظار میں تھے۔ وہ گرفتار ہوا یا مارا گیا، یہ میں نہیں جانتی۔ مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے انتظار میں تھے کیونکہ تم نے ان کو بتایا تھا۔ ہے نا؟ پتا نہیں کیسے یہ سب اسکے منہ سے نکلا تھا۔ لاشعوری میں جڑتی کڑیاں مل کر ایک ایسی زنجیر بنا گئی تھی جس نے اسکے گلے میں پھندا ڈال دیا تھا۔
عائشے لمحے بھر کو خاموش ہو گئی۔ حیا کو لگا، وہ انکار کر دے گی مگر وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
ہاں میں نے انکو کال کی تھی۔ میرا فرض تھا۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ ایک قومی مجرم قانون توڑنے جا رہا ہے تو مجھے سکیورٹی فورسز کو بتانا چاہئے۔
وہ بے یقینی سے عائشے گل کو دیکھ رہی تھی۔
وہ کتنے آرام سے یہ سب کچھ کہہ رہی تھی۔ کیا اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی؟
مرحبا حیا! بہارے کہیں پیچھے سے آئی اور بہن کے کندھے پہ جھول کر چہک کر اسکرین کو دیکھا۔ حیا نے جواب نہیں دیا۔ وہ ابھی تک عائشے کو دیکھ رہی تھی۔
عبدالرحمن مجرم نہیں تھا عائشے! وہ مجرم نہیں تھا!
چائے کا گھونٹ بھرتے بھرتے عائشے گل ٹھہری۔
اس کی آنکھوں میں اچنبھا ابھرا۔ عبدالرحمن کا کیا ذکر۔
تم۔ حیا نے لب کھولے مگر رک گئی۔ اس کے اندر ابلتا غصہ، بے یقینی سب کچھ رک گیا۔ کہیں کچھ غلط تھا۔
تم۔۔۔۔۔۔ تم نے عائشے! ہم عبدالرحمن کی بات کر رہے ہیں، جسے میں نے کیلیس میں کھو دیا۔
بے بسی سے اس نے کہنا چاہا۔ بہارے کبھی عائشے کو دیکھتی کبھی اسکرین کو۔
عبدالرحمن کیلیس میں کیا کر رہا تھا؟
تم جانتی ہو وہ کیا کر رہا تھا۔ تم نے سکیورٹی کو بتایا اسکے کراسنگ کا۔۔۔۔
حیا وہ کیلیس میں نہیں تھا۔ اسے انقرہ سے جرمنی جانا تھا۔ وہ کیلیس کیوں گیا؟
تم جانتی ہو وہ کیلیس میں تھا عائشے! تمہیں۔۔۔۔ بہارے نے بتایا تھا مجھے معلوم ہے۔ جذبات کی شدت سے اس کی آواز بلند ہو گئی تھی۔
بہارے گل! تم جانتی تھی؟ عائشے بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا۔ وہ بے ساختہ سہم کر پیچھے ہوئی۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ سب مجھے ایسے کیوں دیکھتے ہیں؟ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
وہ منگل کی رات بارڈر کراس کرنے جا رہا تھا، کیا یہ تمہیں بہارے نے نہیں بتایا۔
وہ بارڈر کراس کرنے جا رہا تھا؟ نہیں حیا۔۔۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ عائشے ابھی تک دم بخود تھی۔ میں نے تو اس کے بارے میں تو کسی کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو نصوع فخری کے بارے میں بتایا تھا سیکیورٹی کو۔ اس نے بارڈر کراس کرنا تھا منگل اور پیر کی درمیانی شب!
وہ جہان تھا عائشے! تم نے کال ہی کیوں کی سیکیورٹی کو؟ وہ دبی دبی چلائی تھی۔ اس رات کے زخم، بارڈر کی بو، روشنی کے گولے، سب پھر سے تازہ ہو گیا تھا۔
کیونکہ مجھے عبدالرحمن نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ وہ بےبسی سے بولی تھی۔ بہارے نے تائید میں سر ہلایا۔
میری بہن سچ کہہ رہی ہے۔ میں نے ان کی باتیں سنی تھی چرچ میں۔
اور حیا کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی۔
***
عائشے تمہارا فون بج رہا ہے۔ آنے کے پکارنے پہ وہ چونکی۔ گود میں رکھا موبائل جانے کب سے بج رہا تھا۔
بہارے! نمبر پہ لکھا نام بہت محبت سے لے کر اس نے آنے کو بتایا تھا اور سبز بٹن دبا کر فون کان سے لگایا۔
سلام علیکم! اس نے مسکرا کر سلام کیا۔
وعلیکم السلام کیسی ہو؟ ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور، وہ اہلآرا وادی کے چرچ میں کھڑا، بہارے کے فون کو کان سے لگائے کہہ رہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے پلٹ کر دیکھا۔ چرچ کے کھلے دروازے سے بیرونی سیڑھیاں نظر آ رہی تھی، جو پہاڑ کے نیچے تک جا رہی تھی۔ حیا ابھی نماز پڑھ کر نہیں آئی تھی اور بہارے کے پرس سے فون نکال کر اس نے اسے تصویریں کھینچنے چرچ کی اوپری منزل پہ بھیجا تھا۔
میں ٹھیک ہوں، تم بتاؤ ترکی والے کیسے ہیں؟
اس کی مسکراہٹ اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی۔ طمانیت کے سارے رنگ آنکھوں میں اتر آئے تھے۔ بہت دن بعد اس نے عبدالرحمن کی آواز سنی تھی۔
عائشے! یاد ہے تم نے کہا تھا تم مجھے ایک فیور دو گی۔ وہ چرچ کی چوکھٹ میں کھڑا سیڑھیوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔ حیا کے آنے سے پہلے پہلے اسے بات ختم کرنی تھی۔
ہاں، بتاؤ، کیا ہوا؟
جاری ھے

No comments: