Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 35 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 35
مصنف۔ طارق خان 

تمہارا تعلق کس مخلوق سے ہے؟‘‘ بالآخر میں نے بسنتی سے وہ سوال کر دیا جس کے جواب سے رادھا نے ابھی تک مجھے محروم رکھا تھا۔ اس کی حسین آنکھوں سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’’میں تو سمجھا تھا تم بھی رادھا کی طرح میری دوست ہو لیکن۔۔۔خیر چھوڑو دراصل رادھا مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اگر یہی سوال میں اس سے پوچھتا تو وہ ایک منٹ سوچے بغیر اس کا جواب دے دیتی۔ ہو سکتا ہے وہ تم سے زیادہ عقلمند ہو‘‘ میں نے لوہا گرم دیکھ کر وار کیا ساتھ ہی اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’یہ بات نہیں مہاراج! میں تو کیول اس کارن نہ بتا رہی تھی کہ رادھا دیوی ناراج نہ ہو جائے پرنتو میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ تم مجھ سے ناراج ہو۔‘‘

’’پھر تو تمہیں میرے سوال کا جواب دینا چاہئے‘‘ میں نے اسے اکسایا۔

اس کے چہرے سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’بھگوان نے ہمیں اگنی سے بنایا ہے اور تمہیں ماٹی سے ‘‘ بالآخر اس نے کہا۔

میرا انداز صحیح تھا۔ رادھا اور بسنتی کا تعلق قوم جنات سے تھا۔ صائمہ کی پھوپھو جمیلہ اور محمد شریف نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھر میں جنات بستے ہیں حالانکہ مجھے پہلے سے اندازہ تھا لیکن یہ جان کر کہ اس وقت ایک جن زادی میرے سامنے کھڑے ہے میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ کچھ بھی تھا وہ چاہے جانے کے قابل تھی۔ اس کا حسن ایسا ہی تھا کہ اس کے لیے ملکوں میں جنگ ہو سکتی تھی۔

’’اتنی دیر کیوں سے کھڑی ہو؟ یہاں آؤ میرے پاس‘‘

وہ لجاتی ہوئی میرے پاس آگئی۔ میں نے اس کا نرم نازک ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ سرخ ہوگئی۔ آنکھوں میں گلابی ڈورے تیرنے لگے۔ سانسوں کا زیرو بم اس کے اندر کے ہیجان کا پتا دے رہا تھا۔ ہاتھ کی حدت سے اس کے جذبات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد میں نے اس کے ہاتھ کو ذرا سا جھٹکا دیا وہ مجھ پر آن گری۔ اس کی گھٹاؤں جیسی زلفوں نے مجھے ڈھک دیا۔ نازک وجود سے اٹھتی بھینی بھینی مہک نے میرے ہوش و حواس چھین لیے۔ میری بے تابی مزید بڑھ گئی مجھے خود پر اختیار نہ رہا۔ اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ جذبات کی حدت سے اس کا حسین بدن تپ گیا۔ وہ مچل کر میری آغوش سے نکل گئی اور مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہانپنے لگی۔ میں ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔

’’نن۔۔۔نہیں ۔۔۔مہاراج! یہ ۔۔۔تھیک نہیں‘‘ اس نے اپنی سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی۔

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’رادھا دیوی نے تمرے شریر کے گرد کڑا پھیر رکھا ہے جس کارن تم سے شریر کا سمبندھ نہیں ہو سکتا‘‘ اس نے مجبوری ظاہر کی۔

’’کچھ بھی ہو میں تمہارے بنا رہ نہیں سکتا‘‘ میں ضدی لہجے میں کہا۔

’’یدی ہم نے ایسا کیا تو میں بھسم ہو جاؤں گی۔‘‘

’’اس مشکل کا کوئی حل نکالو‘‘ میں بے قرار ہوگیا۔

’’اس سمسیا کا ایک ہی سمادھان ہے‘‘ اس نے کہا۔
وہ کیا‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔ وہ میری بے چینی پر مسکرا دی۔

’’پہلے تم کسی ناری سے اپنے شریر کا سمبندھ جوڑ لو اس کے بعد ہم ایک دوجے سے مل سکتے ہیں‘‘ اس نے حل بتایا جس سے پتا چلتا تھا ’’ہے دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘اگر میں اس کے تیر نظر کا شکار ہوا تھا تو وہ بھی میری دیوانی ہو چکی تھی۔

’’یہ توکوئی مسئلہ ہی ہیں میں صائمہ کو بلوا لیتا ہوں‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’نہیں مہاراج! پتنی سنگ پریم کرنا تو پنے (ثواب) کا کام ہے۔ اس کارن تو تمہیں کسی ایسی کنیا کا پربند کرنا پڑے گا جس کے شریر کو پہلے کسی پرش(مرد) نے نہ چھوا ہو‘‘ اسنے کہا۔

’’یعنی کوئی کنواری لڑکی۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘

’’ایسی لڑکی کہاں سے ڈھونڈی جائے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’ایسی کنیا ہے تو سہی۔۔۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچ کر بولی۔

’’کون ؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’اس کا شبھ نام سبین ہے‘‘ وہ شوخ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔

’’۔۔۔لیکن کیا وہ مان جائے گی؟‘‘

’’مہاراج تم اتنے سندر ہو کہ کوئی بھی کنیا تمرے کارن جیون دان کر سکتی ہے۔‘‘ اس نے بڑی اپنایت سے کہا۔ آنکھوں سے مستی جھانک رہی تھی۔

’’کیا اس سلسلے میں تم میری مدد کر سکتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں میں اسے یہاں تک لا سکتی ہوں پرنتو اس کے بعد سب کچھ تمہی کو کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے تم اسے لے آؤ باقی میں دیکھ لوں گا‘‘ میں بسنتی کے قرب کے لئے پاگل ہو رہا تھا۔

’’مہاراج اب مجھے آگیا دو کہیں تمرے بیری کوئی وار نہ کر جائیں‘‘ اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔

’’اس لڑکی سبین کو تم کس وقت میرے پاس لاؤ گی؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کل دن کو کسی سمے۔‘‘
ٹھیک ہے تم جاؤ کل یہ کام ضرور کر لینا اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہوتا۔‘‘میں نے اس کے پر شباب بدن کو دیکھتے ہوئے کہا۔ دوسرے ہی لمحے وہ غائب ہوگئی۔

میرا بس نہ چل رہا تھاکہ کس طرح رات گزر جائے اور میں سبین کو اپنے بیڈ روم میں لے آؤں۔ ساری رات میں جاگتا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ سبین کو ایک اشارہ ہی کافی ہوگا کیونکہ اس کی آنکھوں میں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ چکا تھا۔
دوسرے دن بینک پہنچ کر سب سے پہلے میں نے عمران اور محمد شریف کو باہر کسی کام سے بھیج دیا۔ یہ نہیں کہ وہ مجھے روکنے پر قادر تھے لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ انہیں کسی بات کی خبر ہو۔ ایک بے ضمیر انسان ایسا ہی کرتا ہے اسے خدا تعالیٰ کا خوف تو نہیں ہوتا لیکن انسانوں سے وہ ڈرتاہے ۔ان دونوں کے جانے کے بعد میں نے سبین کو بلایا اور اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ وہ بھی بہت باتونی لڑکی تھی۔ اس سے بڑی بہن ماہین کی شادی اس کے کزن سے ہو چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسے کسی طرح گھر لے جاؤں؟ اچانک مجھے خیال آیا کہ بسنتی نے کہا تھا وہ اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہے۔ میں نے یونہی کسی کام سے سبین کو باہر بھیج کر بسنتی کو پکارا۔جی مہاراج‘‘ فوراً اس کی آواز آئی۔

’’تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں مہاراج تم آگیا دو‘‘ اسنے کہا۔

’’ٹھیک ہے لیکن یہ سب کیسے ہوگا؟‘‘ میں نے مطمئن ہوکر پوچھا۔

’’تم اسے اندر بلا کر اپنے سنگ جانے کا کہو وہ منع نہیں کرے گی‘‘ اس نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے میں اسے ابھی کہتا ہوں‘‘ بسنتی کی یقین دہانی کے باوجود مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ انکار نہ کر دے۔ میں نے چپراسی کے ذریعے اسے بلوایا پھر دو ایک باتیں کرکے میں نے کہا۔

’’آؤ۔۔۔آج میں تمہیں اپناگھر دکھاؤں‘‘

’’چلیں سر‘‘ وہ تو جیسے تیار بیٹھی تھی۔

’’تم باہر میرا انتظار کرو میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ میں نے اس پیش نظر کہا کہ سٹاف کو معلوم نہ ہو سکے۔ وہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہرآگیا۔ وہ بینک سے تھوڑی دور سڑک کے کنارے میرا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے گاڑی اس کے نزدیک روک کر اگلا دروازہ کھول دیا۔ وہ مسکراتی ہوئی بیٹھ گئی۔میں تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا گھر پہنچ گیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچا چور تھا اس سے پہلے کبھی ایسا کام نہ کیا تھا۔ میں اسے سیدھا بیڈ روم میں لے آیا۔ وہ بغیر کسی اعتراض کے چلی آئی۔ اندر پہنچ کر میں نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ وہ کسی معمول کی طرح میرا ہر حکم مان رہی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس مرحلے سے گزر جاؤں کیونکہ ضمیر کی خلش بڑھتی جا رہی تھی۔
جب وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے وہ نیند سے جاگ گئی۔ پہلے تو اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا پھر جیسے ہی اسکی نظر مجھ پر پڑی وہ بری طرح گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔

’’یہ۔۔۔یہ مم۔۔۔میں کہاں آگئی ہوں؟‘‘ ا س کا رنگ زرد ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت جیسے منجمد ہوگئی۔

’’مم۔۔۔میں تو بینک میں تھی پھر ۔۔۔یہ۔۔۔یہاں کیسے آگئی۔‘‘ اس کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلنے لگے۔ اس کا نرم و نازک ہاتھ ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔ اچانک اسے احساس ہوا تو اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔

‘‘سس۔۔۔سر! یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘ وہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کی حالت اس ہرنی جیسی ہوگئی تھی جسے شکاریوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہو۔ بڑی بڑی آنکھوں سے خوف جھانکنے لگا۔ اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا اس بند پا کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے اس کی طرف سے اتنے شدید ردعمل کی توقع نہ تھی۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھ پر ریجھ گئی ہے لیکن وہ ایک شریف لڑکی تھی ہنس مکھ اور باتونی ضرور تھی لیکن بدکردار نہ تھی۔ وہ سب کچھ سمجھ چکی تھی۔

سر! مجھے جانے دیں۔۔۔آپ کو خدا کا واسطہ سر! میری منگنی ہو چکی ہے سر۔۔۔!! اگلے ماہ میری شادی ہے‘‘ وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی۔

میرا دل اندر سے لرز گیا ۔ اسی لمحے بسنتی کی آواز آئی۔

’’مہاراج! سمے برباد نہ کرو‘‘ میں جو سبین کی حالت سے بری طرح گھبرا گیا تھا ہمت کرکے اٹھا اور دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑ لیا ،وہ رونے لگی۔

’’سبین! یہ کیا۔۔۔؟تم خود ہی تو اپنی مرضی سے میرے ساتھ آئی ہو پھر ایسے کیوں کر رہی ہو؟‘‘

’’مم۔۔۔مجھے نہیں معلوم میں کیسے یہاں تک آگئی ہوں سر ! پلیز آپ کو خدا کا واسطہ مجھے جانے دیں‘‘ رو روکر اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے واپس چھوڑ آؤں بسنتی کی بے چین آواز سنائی دی۔

’’اس سے اچھا اوسر پھر نہیں ملے گا۔ مہاراج !یدی اسے تم نے ایسے ہی جانے دیا تب بھی یہ سب کچھ اپنے گھر جا کر بتا دے گی‘‘ بسنتی کی بات سن کرمیرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

’’اب کیا ہوگا اگر اسنے گھر جا کر بتا دیا تو میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاؤں گا؟‘‘ اس سوچ نے مجھے لرزا دیا۔

’’میں اس کا پربند کر لوں گی کہ یہ کسی کو کچھ نہ بتا پائے پرنتو اس کے لیے تمہیں اس کا بلات کار کرناہوگا‘‘ بسنتی کی بے چین آواز سنائی دی۔

سبین ملتجی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’سبین تم نے مجھے مایوس کیا میں تو سمجھ رہا تھا تم مجھے پسند کرتی ہو تبھی میرے ساتھ چلی آئیں‘‘ میں نے منہ بنا کر کہا۔

سر ! میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں صرف آپ کے ساتھ اس لئے ہنس بول لیتی ہوں کہ آپ کی شکل میرے بہنوئی سے بہت ملتی ہے اور وہ مجھے اپنی بہنوں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں‘‘ آنسو تواتر سے اس کی آنکھوں بہہ رہے تھے۔

’’سمے برباد نہ کرو مہاراج! دوبارہ ایسا اوسر نہ ملے گا۔‘‘ بسنتی نے ایک بار پھر دخل اندازی کی۔

میں نے دل میں فیصلہ کیا اور آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ وہ بری طرح مچلی اور میری گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگانے لگی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ اس جانور کی منت کرنا بیکار ہے۔ اس نے شدت سے مزاحمت کی۔ اپنے بڑے بڑے نوکیلے ناخنوں سے میرے چہرے کو نوچنا چاہا۔چہرہ بچانے کی خاطر جیسے ہی میں پیچے ہٹا اس نے مجھے دھکا دیا اور باہر کی طرف لپکی۔ میں نے کسی بھپرے ہوئے درندے کی طرح زقند بھری اور اسے جا لیا۔ اس کے نازک وجود کو اٹھائے میں بیڈ پر آگیا۔ اسنے ایک بار پھر میری منتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ مجھے واسطے دے رہی تھی لیکن میں تو ایک جانور تھا اور جانوروں کو کہاں اتنی تمیز کہ وہ کسی کی منتوں پر کان دھریں۔ آج بھی جب مجھے وہ وقت یاد آتاہے تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ میں اسے کسی کتے کی طرح بھنبھوڑ رہا تھا۔ اب اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھی بے بسی سے اس نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ اسکا جسم ایک بے جان مورت کی طرح میرے سامنے پڑا تھا جسے میں اپنے ناپاک وجود سے گندا کر رہا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔

وہ سسکتی رہی۔

میں اپنی ہوس پوری کرتا رہا۔

اچانک دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔ میری بری طرح اچھل پڑا۔ دروازے کے بیچوں بیچ میرا بدترین دشمن کالی داس کھڑا تھا۔

میں بے اختیار نیم بے ہوش سبین کو چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اسنے مضمحل سے انداز سے دروازے کی طرف دیکھا پھر بے سدھ ہوگئی۔ اس کی دوشیزگی لٹ چکی تھی۔ میں بیڈ کے پاس فطری لباس میں کھڑا تھا۔ کالی داس کے ہونٹوں پر بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ اچانک مجھے بسنتی کا خیال آیا۔
’’بسنتی۔۔۔!‘‘ میں نے زور سے آواز دی کوئی جواب نہ آیا۔

’’بسنتی ی ی ی ی ی ۔۔۔!‘‘ میں نے وحشت سے اسے دوبارہ پکارا۔
اس بار بھی کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ کالی داس مسلمان دیہاتی کے روپ میں کھڑا یک ٹک میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس کے پیچھے مجھے کچھ لوگ نظر آئے۔

’’وہ کمرے میں گھس آئے تھے۔ میں بری طرح بدحواس ہوگیا۔ ستر پوشی کے لئے میں نے اپنے لباس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو مجھ پر حقیقت کھلی کہ میرا وجود حسب معمول بے حس و حرکت ہو چکا ہے۔ کوئی دس بارہ افراد کمرے میں گھس آئے تھے۔ سب سے آگے کالی داس کھڑا تھا۔میرے حواس معطل ہو چکے تھے۔ کسی بت کی طرح کھڑا آنے والوں کی طرف دیکھ رہاتھا جن کی نظروں میں حیرت جیسے منجمند ہوگئی تھی۔ وہ کبھی میری طرف دیکھتے کبھی سبین کی طرف جس کا لباس تار تار ہو چکا تھا۔

’’میں نہ کہتا تھا یہاں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔‘‘ میرے کانوں میں کالی داس کی آواز آئی۔ اندر آنے والے افراد میں زیادہ تر میرے ہمسائے تھے۔ سب سے آگے سامنے والی کوٹھی میں رہائش پذیر ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات جس سے میری اچھی صاحب سلامت تھی۔ اس کے ساتھ جمال صاحب جن کا زرعی آلات بنانے کا کارخانہ تھا۔ ان کا چھوٹا بیٹا احد خان کا کلاس فیلو تھا۔ ان کے پیچھے توقیر صاحب اور ان کا بیٹا ساجد تھا۔ دیگر افراد سے کچھ کو میں بائی فیس پہچانتا تھا کیونکہ وہ بھی اس سڑک پر رہتے تھے جہاں میرا بنگلہ تھا۔ باقی افراد اجنبی تھے۔ وہ سب گم سم میری طرف دیکھ رہے تھے۔

’’میں نہ کہتا تھا کہ میں نے کسی لڑکی کی چیخوں کی آواز سنی ہے‘‘ کالی داس مقامی زبان میں ان افراد سے ہمکلام تھا۔ ایک بزرگ آدمی نے صوفے پر پڑے بیڈ پوش سے سبین کے بے ہوش جسم کو ڈھک دیا۔ ساجد نے آگے بڑھ کر زور دار تھپڑ میرے منہ پر مارا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میرا جسم جکڑن سے آزاد ہوگیا ہے۔ میں الٹ کر پیچھے جا پڑا۔

’’بے غیرت انسان! ہم تو تجھے نیک اور شریف آدمی سمجھتے تھے۔ تو تو بہت گھٹیا نکلا۔ اس کے ساتھ ہی چند اور نوجوان آگے آئے اور مجھے مارنے لگے۔

میں برہنہ حالت میں قالین پر پڑا تھا۔ مجھ پر لاتوں کی بارش شروع ہوگئی۔ بے اختیار میں نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ مارنے والے کئی تھے۔ ساجد ان میں پیش پیش تھا۔ لاتوں اور گھونسوں کی ضربوں نے مجھے بے حال کر دیا۔

’’اسے پولیس کے حوالے کر دیں۔‘‘ ایک آواز میرے کانوں میں پڑی۔
’’پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔بس کرو۔۔۔کہیں بدبخت مر ہی نہ جائے‘‘ یہ آواز ڈی ایس پی عمر حیات کی تھی۔
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.