Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر34 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 34
مصنف۔ طارق خان 

’موہن! میرے سنگ وشواش گھات نہ کرنا میں نے تمہیں اپنا سب کچھ مان لیا ہے اب میرے من میں کسی کی پرچھائیں بھی نہیں آسکتی۔ تمری پتنی کی بات دو جی ہے پرنتو کسی اور کا دھیان بھی من مین نہ لانا، وہ از حد سنجیدہ تھی۔

م نے یہ بات کرکے میرا دل دکھایا ہے رادھا! کیا میں تمہیں اس قسم کا انسان نظر آتا ہوں کہ جسے دیکھا اس پر مر مٹا۔ یاد ہے شروع شروع میں تم سے بھی زیادہ لگاؤ نہیں رکھتا تھا یہ توپتا نہیں تمنے مجھ پر کیا جادو کیا ہے کہ میں تمہارا ہی ہو کر رہ گیاہوں‘‘ میں نے خفگی سے کہا۔

’’بھگوان کی سوگندکھا کر کہتی ہوں ناراج ہو کر تم اور سندر دکھتے ہو۔‘‘ وہ ہنسی’’مجھے تم پر پورا وشواس ہے پر نتویہ جو بنستی ہے نا۔۔۔بہت نٹ کھٹ ہے۔ اس پر سندربھی اتنی کہ میں تمہیں بتا نہیں سکتی۔ اسی کارن ہم دونوں کے پیچھے سارے سنسارکے سادھو، پنڈت ، پجاری پڑے ہیں۔ مجھے تو اس کارن اپنی بندی بنانا چاہتے ہیں جو منش مجھے پراپت کرنے میں سپھل ہوجائے گا وہ سنسار کا سبسے بلوان منش بن جائے گا۔ پرنتو بسنتی کے پیچھے کیول اسکی سندرتا کے کارن پڑے ہیں ‘‘ رادھانے تفصیل بتائی۔ میرے دلمیں یونہی خیال آیا کہ رادھا خود بھی بہت حسین ہے جب یہ اس لڑکی ’’بنستی‘‘ کی تعریف کرہی ہے تو وہ کیا بلا ہوگی؟

’’ابھی دیکھا نہیں اور یہ وچار ہیں دیکھنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ رادھا کے لہجے سے حسد کی بو آرہی تھی۔ وہ حسب معمول میرے دل میں آئی بات جان گئی تھی۔

’’ارے نہیں۔۔۔میں تو بس یونہی سوچ رہا تھا‘‘ میں خجل ہوگیا۔

’’موہن! کل کیا ہوگا یہ توکیول دیوتا ہی جانتے ہیں پرنتو اتنا دھیان رکھنا رادھا تم بن جی نہ پائے گی‘‘ اس نے بڑی حسرت سے کہا اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ میں نے اس کی حسین آنکھوں میں موتی چمکتے ہوئے دیکھ لیے تھے۔ میں اسے تسلی دینا چاہتاتھا لیکن اس نے موقع ہی نہیں دیا اور غائب ہوگئی۔

ایک دن میں بینک سے آیا تو صائمہ کہنے لگی ’’کل سے بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہورہی ہیں اگر آپ بھی دوچار چھٹیاں لے لیں تو ہم لاہور ہو آئیں۔‘‘

’’آجکل کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے تم لوگ چلے جاؤ میں بھی ایک ہفتے بعد آجاؤں گاپھر اکٹھے واپس آجائیں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے اس طرح بچے کچھ دن سیربھی کر لیں گے۔‘‘ صائمہ نے کہا۔

میں نے دوسرے دن انہیں بائی ائر لاہور بھیج دیا۔ میں بینک پہنچا ہی تھا کہ کچھ دیر بعد رادھا آگئی۔ اسنے بتایا سارا بندوبست ہوگیا ہے دو دن بعد اسے ایک ماہ کے لئے جانا ہے۔

’’پریم! میں جانے سے پہلے ساری رینا تمری بانہوں میں بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ اسکی حسین آنکھوں میں نشہ اتر آیا۔ میرا دل بھی دھڑکنے لگا۔ رات کے حسین تصور نے میرے رگ و پے میں سرور کی لہریں دوڑا دیں۔

’’ٹھیک ہے تم آجانا‘‘ میں نے کہا۔

’’موہن! میں جانے سے پہلے تمہیں بسنتی سے ملانا چاہتی ہوں یدی کوئی کٹھن سمے آئے تو وہ تمہری سہائتا کر سکے‘‘ وہ کہنے لگی۔ یک بارگی میرا دل زور سے دھڑکا۔ میں نے جلدی سے خیالات کی رو دوسری طرف پھیرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’تم کتنے بجے آؤ گی؟‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘

’’یونہی پوچھ رہاتھا۔‘‘

’’جس سمے ہر روج آیا کرتی ہوں اسی سمے ہی آؤں گی‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے انوکھی سی فرمائش کی۔

پریتم! جس کوٹھے میں تم سوتے ہو اسے بندکر دینا اورکچھ سمے تم کسی استھان پر بتا لینا‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں چونک گیا۔

’’اس پرشن کا اتر میں تمہیں سمے آنے پر دوں گی۔‘‘

’’تمہاری تو ہر بات ہی ایک معمہ ہوتی ہے۔‘‘میں ہنس دیا۔ سفید رنگ کی ساڑھی میں وہ جنت کی حور لگ رہی تھی۔ واقعی اس کا حسن بے مثال تھا۔ ابھی تک میں نے اپنی زندگی میں اس قدر حسین عورت نہ دیکھی تھی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس کی حسین آنکھوں میں خمار اتر آیا۔

’’تم بہت حسین ہو‘‘ تعریف سن کر اس کا چہرہ گلاب کی پھول کی طرح کھل اٹھا۔

’’پریتم! اسی طرح سارا جیون پریم کرتے رہنا‘‘ اس کی آواز بوجھل ہوگئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہنے لگی

’’اچھا پرتیم! جاتی ہوں اپنے سمے پر میں آجاؤں گی۔ میری اچھا کادھیان رکھنا۔ جہاں ہم نے آج کی رینا بتانی ہے اسے کچھ سمے کے واسطے بند کردینا۔ بھولنا نہیں۔‘‘ جاتے ہوئے اس نے ہدایت کی۔

’’نہیں بھولوں گا‘‘ میں نے کہا لیکن مجھے حیرت تھی کہ وہ ایسی فرمائش کیوں کر رہی ہے۔ خیر وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا میں نے زیادہ نہ سوچا اور کام میں مصروف ہوگیا۔
شام کو عمران مجھے اپنے گھر لے گیا اور زبردستی کھانا کھلایا۔ ساڑھے گیارہ بجے میں گھر آگیا۔ رادھا تقریباً بارہ بجے آیا کرتی تھی میں اس سے پہلے پہنچ گیا۔ میں شدت سے رادھا کا منتظر تھا اور خود اپنی حالت پر حیران بھی۔ کچھ دیر لان میں ٹہلتا رہا پھر آکر لاؤنج میں بیٹھ گیا۔ بیڈم روم اسی طرح بند تھا جیسے صائمہ اسے کر گئی تھی۔ وقت گزارنے کے لئے میں نے ٹی وی آن کر لیا لیکن اس میں بھی دل نہ لگا۔میری حالت اس لڑکے جیسے تھی جس سے پہلی بار اس کی محبوبہ نے ملنے کا وعدہ کیا ہو۔ وقت کاٹے نہ کٹ رہا تھا۔ ہر آہٹ پریوں محسوس ہوتاجیسے وہ آگئی ہے۔ دو تین بار میں نے باہر جاکربھی دیکھا پھر خود ہی اپنی حالت پر ہنسی آگئی۔ رادھا کوئی عام عورت تو تھی نہیں کہ اسے دروازے سے آنا تھا۔ وہ تو جہاں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ جب بے چینی حد سے بڑھی تو میں باہر نکل آیا۔ سردی اب بھی تھی لیکن اس میں وہ شدت نہ رہی تھی۔ ہوا رات کو خنک ہو جاتی جبکہ دھوپ کی وجہ دن گرم۔ بارہ بج گئے رادھا نہ آئی۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اب مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہوگئی تھی۔’کہیں پھر توکوئی مسئلہ نہیں ہوگیا‘‘ میں اسی سوچ میں الجھا رہا۔ دو بجے کے قریب تو میں تقریباً مایوس ہونے کو تھا۔ میرا خیال تھا وہ اب نہیں آئے گی۔ میں اس شش و پنج میں تھا کہ بیڈ روم میں جاؤں یا نہ جاؤں۔ اچانک میرے کان میں رادھا کی آواز آئی اور میں اچھل پڑا۔

’’پریم ! میں تمہرا انتجار کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی آواز سے خمار ٹپک رہا تھا۔
’’تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’وہیں جہاں میں تمہرے آنے سے پہلے رہتی تھی۔ ترنت اسی کوٹھے میں چلے آؤ جہاں تم اپنی پتنی سنگ سوتے ہو۔‘‘ میں جلدی سے اٹھا اور بیڈ روم کی طر ف چل پڑا۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔

خوابگاہ حجلہ عروسی بنی ہوئی تھی۔ ہر طرف گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں جن کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔ نہایت خوشنما اور خوشبودار پھولوں کی لڑیاں بیڈ کے اردگرد لٹکی ہوئی تھی۔ کمرہ کسی دلہن کی طرح سجاہوا تھا۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں میں ہر رات سویا کرتا لیکن آج اسکی حالت ہی بدلی ہوئی تھی۔ میں دروازے میں کھڑا آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ کمرے کے بیچوں بیچ رادھا کھڑی تھی۔ آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ نرم نازک پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر ملکوتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ سارے جہاں کا حسن اس کے اندر سمٹ آیا تھا۔ سرخ رنگ کی ساڑھی میں وہ شلعہ جوالہ بنی بانہیں پھیلائے میری منتظر تھی۔
’آؤ پریم!۔۔۔میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ اسکی خمار آلود آواز آئی تو میں یوں اس کی طرف کھنچا چلا گیا جیسے لوہامقناطیس کی طرف۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اسکی سانسیں دہک رہی تھیں۔ نیم باز آنکھوں سے جیسے شراب بہہ رہی تھی۔ ہم ایک دوسرے میں گم ہوگئے۔

’’پریم! آج کی رینا مجھے اتنا پریم کرو کہ میری بیاکل آتما کو شانتی مل جائے۔‘‘ اس کی بہکی ہوئی سرگوشی میرے کانوں میں گونجی۔ میرے پیروں کے نیچے گلاب کی نرم و نازک پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور بانہوں میں رادھا کا ریشمی وجود۔ میں جیسے کوئی خواب دیکھ رہاتھا۔

ریم‘‘ وہ خود کومیرے اندر جذب کرتے ہوئے بولی۔

’’ہوں‘‘ میری آواز بھی بہکنے لگی تھی۔
’’پریم! من کرتاہے تمرے شریر میں سما جاؤں‘‘

’’روکا کس نے ہے؟‘‘ میں نے کہا۔ اس کے بعدکیا ہوا۔۔۔قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ لکھ سکے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ اس رات کی روداد بیان کر سکوں۔ بس یوں سمجھءئے ساری رات خوابوں کی وادی میں سفر جاری رہا۔ صبح دم اس نے کہا۔

’’پریم ! میرا انتجار کرنا۔ اگلی پور نماشی کو میں دوبارہ آؤں گی۔‘‘

’’اتنا طویل انتظار؟‘‘ میں نے تڑپ کر رہ گیا۔ میں اپنے ہوش میں کب تھا؟

’’پریم! میں نے تمری رکھشا کا پربند کر دیا ہے۔ میری سکھیاں ہر پل تمرے سنگ رہیں گی۔ یدی کوئی مشکل گھڑی آپڑے تو کیول بنستی کو پکارلینا وہ تمری سہائتا کرنے آجائے گی‘‘ پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔

’’میں بنستی کو تم سے ملوانے کے کارن بلانے لگی ہوں‘‘ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ رادھا نے آنکھیں بند کرکے کسی اجنبی زبان میں کچھ کہا تھوڑی دیر بعد جیسے کمرے میں چاند نکل آیا۔ اچانک میری نظروں کے سامنے ایک نہایت حسین بلاؤز اور گھاگر اپہنے نمودار ہوئی۔ لڑکی کیا تھی پرتی تھی۔ ہاں وہ اتنی ہی حسین تھی کہ اس پر پریوں کا گمان ہوتا تھا۔ اس کے سامنے رادھا کا حسن بھی مانند پڑ گیا۔ میں گنگ رہ گیا۔ پلک جھپکنے کا ہوش بھی نہ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ باندھ کرپہلے رادھا کے آگے جھکی پھر میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
’پرنام مہاراج!‘‘ جیسے کسی مندر میں گھنٹیاں بج اٹھیں ہوں۔ اسکی بڑی بڑی حسین و سحر کار آنکھیں مجھے اپنی طرف کھنچ رہی تھیں۔ میں ہر چیز سے بے نیاز اسے دیکھا رہا تھا۔ اتنا خیال بھی نہ رہا کہ رادھا مجھے دیکھ رہی ہے۔ بے اختیار میرے ہاتھ بالکل اسی انداز سے اٹھ گئے اور میرے منہ سے نکلا ’’پرنام دیوی!‘‘
پیازی رنگ کی ساڑھی میں وہ کافر ادا رات سے بھی کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ مجھے اس طرح اپنی طرف دیکھتے پا کر اسکے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ آگئی۔
’پرنام مہاراج‘‘ اسنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے سلام کیا۔میں جو اس کے حسن کے ضیا پاشیوں میں کھویا ہوا تھا بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ اس کی بڑی بڑی حسین آنکھیں مجھ پر ٹکی تھیں۔ رادھا نے سچ کہاتھا وہ حد درجہ حسین تھی۔ اسکی آنکھوں میں جیسے ستارے کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے تھے۔ بالوں میں اس نے چمبیلی کے پھول گوندھ رکھے تھے۔ ہاتھوں میں گجر ے جھیل سی کاجل بھری آنکھیں غضب ڈھا رہی تھیں۔ مختصر بلاؤز اس کی جوانی کواپنے اندر سمونے میں ناکام ہورہا تھا۔ میری آنکھوں میں وارفتگی دیکھ کر وہ شرما گئی۔ مجھے اسکی یہ ادا بہت بھلی لگی۔ وہ دھیرے سے مسکرائی۔ موتیوں جیسے دانت میرے دل پر بجلیاں گرا رہے تھے۔ دنیا جیسے ختم ہو گئی تھی۔ اس کے سوا مجھے کچھ نظر نہ آرہا تھا۔
’’آگیا(حکم) مہاراج!‘‘ اسنے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔
’میرے سامنے بیٹھ جاؤ‘‘ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ شاخ گل کی طرح اسکاحسین بدن بل کھا کر کرسی میں سما گیا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ کرمیرا حوصلہ اور بڑھ گیا۔

سنتی! تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامے رہا کرو جیسے رادھا رہتی تھی‘‘ وہ بری طرح شرما گئی۔

’’یدی ، یہ تمری آگیا ہے تو میں اس کا پالن کروں گی‘‘ اسکے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا وہ خود بھی یہی چاہتی ہے۔

’’بسنتی! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیاتم میرے سوالوں کا جواب دوگی؟‘‘ میں نے کہا۔

’’رادھا دیوی، نے مجھے تمری ہر آگیا کاپالن کرنے کوکہا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کچھ کہو اورمیں منع کر دوں؟‘‘ مسکراہٹ جیسے اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔

’’اگر رادھا نہ کہتی تو تم میری باتنہ مانتیں؟‘‘ میں نے شوخی سے پوچھا۔

’’میرے بس میں ہو تو تم تمرے کارن اپنے پر ان بھی دے دوں‘‘ اس کی آنکھوں میں حسرت تھی۔
ٹھیک ہے رات کو میں تمہیں بلاؤں گا پھرہم باتیں کریں گے‘‘ میں نے کہا۔

’’یدی مجھے آگیا ہو تو میں جاؤں؟‘‘ اسنے پوچھا۔

ل تونہیں چاہتا لیکن اگر تم جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں روکوں گا نہیں‘‘ میں نے بے دلی سے کہا۔

’’من تو میرا بھی نہیں کرتا مہاراج! پرنتو میرا جیا دہ دیریہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں‘‘ اس نے دل کی بات کہہ دی۔

’’کیوں۔۔۔کیوں ٹھیک نہیں؟‘‘
’’تمر بیری تم پرکوئی وار کرجائیں تو رادھا دیوی مجھے کبھی شما نہیں کرے گی۔۔۔وہ تم سے ادھیک پریم کرتی ہے ‘‘ اس نے کہا۔ میں اسکے دل کی حالت جان رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پکار پکارکر کہہ رہی تھی‘‘ کاش میں رادھا کی جگہ ہوتی۔‘‘

الی داس کسی ایسے اوسرکی تاک میں ہے کہ وہ پلید تم پر وار کرسکے‘‘ اس نے انکشاف کیا۔

’’لیکن وہ تو خود رادھا کے خوف سے کسی دائرے میں چھپا بیٹھا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’پرنتو اس سمے رادھا بھی منڈل میں بیٹھی ہے اور وہ پاپی یہ بات جانتا ہے۔‘‘ بسنتی نے بتایا۔

’’لیکن رادھا نے تو کہا تھا کہ اسکی غیر موجودگی میں تم میری حفاظت کرو گی۔۔۔کیاکالی داس تمہارے ہوتے ہوئے مجھ پر وار کر سکتا ہے؟‘‘

’وہ پاپی ایسا نہیں کر سکتا پرنتو دھیان تو رکھنا ہی پڑے گا۔‘‘ اسنے کہا۔

’’ٹھیک ہے اگر تمہارا جانا ضروری ہے تو چلی جاؤ۔‘‘ میں نے اس پیش نظر کہا کہیں کالی داس پھر کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے۔ وہ بڑی میٹھی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
ٹھیک ہے تم جاؤ رات کومیں تمہیں بلالوں گا۔۔۔۔آؤ گی نا؟‘‘ میں نے اس کی جھیل سی آنکھوں میں جھونکا۔

’جب بھی پکارو گے داسی چرنوں میں آجائے گی‘‘ اس کے پنکھڑی سے لبوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ آگئی۔ کھڑے ہو کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور غائب ہوگئی۔ عمران کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ محمد شریف اب میرے کمرے میں اشد ضروری کام کے تحت آتا۔ وہ جیسے مجھ سے خفا تھا۔ میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی۔ میں بالکل ہی بدل گیا تھا۔ پانچ بجے چھٹی کرکے میں حسب معمول عمران کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔ کھانے کے بعد ہم کافی دیربیٹھے باتیں کرتے رہے۔
’’اوہ بارہ بج گئے مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ اچانک میری نظر کلاک پر پڑی تو میں بری طرح چونک گیا۔ آج رات میرا پروگرام بسنتی کو اپنی خلوت میں بلانے کا تھا۔ اس کے تصور سے ہی میرے بدن میں سرور کی لہریں دوڑنے لگیں۔ گھر پہنچ کر میں نے لباس تبدیل کیا اور خوبگاہ میں چلاگیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ گزشتہ رات کا نشہ ابھی تک مجھ پرطاری تھا۔ بسنتی تورادھا سے زیادہ حسین اور جوان تھی۔ اس کا بدن ایک قیامت تھا۔ اس کے علاوہ میں بسنتی سے وہ راز جاننا چاہتا تھا جن سے رادھا نے آج تک پردہ نہ اٹھایا تھا۔ میں نے بیڈ پر درازہو کر بسنتی کو آواز دی۔

’’جی مہاراج‘‘ دوسرے لمحے اس کی خمار آلود آواز میرے کانوں میں آئی۔
’بسنتی سامنے آؤ۔‘‘ میں نے بے چینی سے کہا۔
’’وہ فوراً میرے سامنے ظاہر ہوگئی۔ پھولوں کے زیورسے سجی بسنتی کے قیامت خیز بدن کی مسحور کن خوشبو سے کمرہ مہک اٹھا۔
میں بے خود سا اسے دیکھا گیا۔ تراشیدہ لبوں پر بڑی ہی دلآویز مسکراہٹ تھی۔ دعو ت آمیز مسکراہٹ جو کسی کو بھی پاگل بنا دے۔ اوپری ہونٹ پر پسینے کے قطرے ایسی شبنم کی مانندچمک رہے تھے جن پر سورج کی رو پہلی کرنیں پڑی رہی ہوں۔ ماتھے پر لگا تلک ہیرے کی طرح دمک رہا تھا۔ مجھے یوں وارفتگی سے دیکھتے پاکر اسکی نیم باز آنکھیں شراب کے پیالے بن گئے۔

’’بسنتی!‘‘ میں نے دھیرے سے کہا۔

’’جی مہاراج‘‘ اس کی سرگوشی نما آواز آئی۔

’’تم مجھے مہاراج نہ کہا کرو۔‘‘’’پھر کیا کہا کروں؟‘‘ وہ اٹھلائی۔
’’جیسے رادھا مجھے بلاتی ہے تم بھی ایسے ہی بلایا کرو۔‘‘ میں نے مسکرا کرکہا۔
’ہائے رام۔۔۔وہ تودیوی ہے۔ میری اتنی مجال کہاں کہ تمہیں اس شبھ نام سے پکاروں جس سے رادھا دیوی پکارتی ہے۔‘‘ اس کے انداز میں گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ حسرت بھی تھی۔

’’رادھا تمہاری کیا لگتی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’مہاراج ! شما کرنا کچھ ایسی باتیں ہیں جو میں رادھا دیوی کی آگیا کے بنا نہیں بتا سکتی۔ میری آشا ہے تم مجھے شما کر دو گے۔‘‘ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

’’ایک طرف تو تم کہتی ہو کہ میراحکم ماننا تمہارا فرض ہے پھر جب کوئی بات پوچھتا ہوں توکوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی ہو‘‘ میں نے کسی قدرخفگی سے کہا۔

’’اچھا یہ بتاؤ کیا تم رادھا کی کنیز ہو؟‘‘ میں نے اپنا سوال گھماکر دوسرے طریقے سے کیا۔ اس بار وہ میرے داؤ میں آگئی۔

’’نہیں۔۔۔!‘‘ اس کالہجہ تیز ہوگیا۔

’’وہ کیول شکتی میں مجھ سے مہان ہے اور اس میں بھی میری خطا ہے‘‘

’’وہ کیا۔۔۔تم نے کیا غلطی کی؟‘‘ میری دلچسپی بڑھ گئی۔

’’جس طرح آج کل وہ سوریہ دیوتا کا جاپ کر رہی ہے اسی طرح وہ ہر ورش ادھیک جاپ کرتی رہتی ہے کبھی چندر ماکا جاپ، کبھی کسی دیوتاکا کبھی کسی دیوتا کا۔ اسی کارن دیوتاؤں نے اسے ادھیک شکتی دان کر دی ہے۔ یدی میں بھی یہ جاپ کرتی تو آج اتنی ہی شکتی مان ہوتی جتنی کہ رادھا دیوی ہے۔‘‘ اس بار بڑی تفصیل سے جواب ملا۔

’’پھر تم اسے دیوی کیوں کہتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‘‘اسی کارن کہ وہ مجھ سے جیادہ شکتی مان ہے‘‘ اسنے بڑے سادہ لہجے میں بتایا۔

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.