رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 40 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 40
مصنف۔ طارق خان
’’جناب! اس درندے نے مجھے دوسرے کمرے میں لے جاکرمیری عزت لوٹ لی۔ ایک بھائی نے بہن کی عزت کو تارتار کر دیا۔‘‘ ایک بارپھر اسکی آواز رندھ گئی۔
’میں نے منتیں کیں واسطے دیے لیکن یہ جانوربن چکاتھا‘‘ دونوں ڈی ایس پیز کے ساتھ ساجدبھی حواس باختہ نظر آرہا تھا۔ اتنا حیران وہ زندگی میں کبھی نہ ہوئے ہوں گے جتنے اس وقت نظر آرہے تھے۔
’’سبین! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ جمال قریشی نے چیخ اٹھا۔ جج جو سبین کی باتوں سے آبدیدہ نظر آرہا تھا اسنے قہربارنظروں سے جمال قریشی کی طرف دیکھا اور انسپکٹر عادل کو حکم دیا کہ اسے گرفتار کرلے۔ جمال قریشی بری طرح بوکھلاگیا۔
’’سس۔۔۔سر۔۔۔یور آنر! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے‘‘ وہ گڑ بڑا کرچیخا۔
’’شٹ اپ۔۔۔تم نے اپنے مطلب کے لیے ایک شریف لڑکی کو استعمال کرکے معاشرے کے ایک باعزت فرد پرگھناؤنا الزام لگایا ۔ اس کے گھر میں گھس کر اسے زدوکوب کیا اور سب سے اہم بات یہ کہ تم نے ایک شریف لڑکی کی عزت لوٹی۔ ان الزامات کے تحت میں تمہاری گرفتاری کا حکم دیتاہوں۔‘‘ انسپکٹر عادل نے سپاہیوں کو حکم دیا ۔انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر جمال قریشی کو گرفتارکرلیا۔ اسکا حشر دیکھتے ہوئے عمر حیات اور ساجد نے کھسکنے کی کوشش کی جس پر انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ تھوڑی دیر ہنگامہ رہا پھر جج صاحب کے کہنے پر لوگ پرسکون ہوگئے۔ دبی دبی سرگوشیاں اب بھی ہو رہی تھیں۔ سبین اطمینان سے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا۔
کالی داس واقعی زبردست قوتوں کا مالک تھا۔ اس نے سارا معاملہ ایسے سلجھا دیا تھا کہ حیرت سے میری اپنی عقل گم تھی۔ ایک دوبارہ میرے ضمیر نے مجھے ملامت کیا کہ میں نے بے گناہ لوگوں کو پھنسا دیا اور خود بری ذمہ ہوگیا۔ لیکن یہ موقع ضمیر کی آواز پر کان دھرنے کانہ تھا۔ مجھے باعزت بری کردیاگیا۔
کالی داس اپنا کام کرکے غائب ہو چکا تھا۔ جب میں کمرہ عدالت سے باہر آیا تو صحافیوں نے مجھے اور سبین کوگھیرلیا جومیرے ساتھ ہی باہر نکلی تھی۔ جب لوگوں کو اصل صورت حال معلوم ہوئی تو وہی لوگ میرے حق میں نعرے لگانے لگے۔ تھوڑی ہی دیر بعدمیں دوبارہ معاشرے کا باعزت فرد بن چکا تھا۔ جیسے ہی سپاہیوں نے ہمیں صحافیوں کے نرغے سے نکالا عمران مجھ سے لپٹ گیا۔ پھر میرے زخموں سے چور جسم پرنظر پڑتے ہی وہ الگ ہو کربولا۔
’چلیں خان بھائی گھر چلیں‘‘ وہ بدوقت مجھے لوگوں کے نرغے سے نکال کر ٹیکسی میں بٹھانے میں کامیاب ہوا۔ جب ہم گھر پہنچے اورنازش مجھے اس حالت میں دیکھ کر رونے لگیں۔ عمران نے جلدی سے ڈاکٹر کوفون کیا جس نے آکرمیری مرہم پٹی کر دی۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ اور بھائی صاحب پہنچ گئے۔ عمران کل ہی انہیں فون کرکے سارے حالات بتا چکا تھا۔ گھر آکرمیں نے اسکے کپڑے پہن لیے تھے سوائے سر کی ایک پٹی کے باقی پٹیاں لباس میں چھپ گئی تھی۔ آنکھ کی سوجن بھی کافی حد تک کم ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود صائمہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ اگر وہ مجھے کل دیکھ لیتی تو نہ جانے اس کا کیا حال ہوتا۔ بھائی صاحب میری حالت دیکھ کر طیش میں آگئے اسی وقت انہوں نے فون پر حکام بالا سے بات کی۔ میرا خیال تھا ڈی ایس پی جمال قریشی ، عمر حیات اور ساجد تولمبی مدت کے لئے گئے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر ہم اپنے گھرآگئے۔ بھائی صاحب اور بچوں کے سونے کے بعدصائمہ میرے ساتھ لپٹ گئی۔
’اگر مجھے معلوم ہوتاکہ میرے جانے کے بعد یہ کچھ ہونا ہے تومیں کہیں نہ جاتی‘‘وہ بلک پڑی۔
’’ارے۔۔۔تم تو بالکل بچوں جیسی باتیں کر رہی ہو۔ جو مصیبت آنی ہوتی ہے وہ آکر رہتی ہے۔ میں تو خوش ہوں اگر تم یہاں ہوتیں تو رو رو کر نہ جانے کیا حال کرلیتیں؟‘‘ میں نے ہنس کرکہا۔ کافی دیر رونے کے بعد جب اس کا جی کچھ ہلکا ہو اتوکہنے لگی۔
’’فاروق! کہیں یہ سب رادھاکی شرارت تو نہیں؟‘‘ اس نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’یہ خیال تمہیں کیسے آیا؟‘‘ اسکی بات پرمیں چونک گیا۔
’’ہو سکتا ہے اپنے مکروہ عزائم میں ناکام ہو کر وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآئی ہو۔‘‘
’’کیا کہا جا سکتا ہے؟‘‘ میں نے مبہم سا جواب دیا۔
’’یہ بھی ہوسکتا ہے ساری شرارت کے پیچھے کھیدو چوہڑے کا ہاتھ ہو۔‘‘
اس نے شرمندگی سے سرجھکا لیا۔’’فاروق !ہماری وجہ سے آپ کو اس قدر تکلیف سہنا پڑی۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں یہ شرارت ضرور اس کالے بھجنگ ہوگی کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد وہ سو گئی جس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا میں نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کیا تھا میرا دل ہی جانتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے کالی داس اور بسنتی کا خیال آیا۔ دونوں نے رادھا کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مکروہ سازش کی اور مجھے پھنسا دیا۔۔۔ہاں اس میں قصور وار میں بھی تھا جو بسنتی کو حاصل کرنے کی خاطر انسانیت کی سطح سے نیچے گر گیا۔
کچھ بھی ہو کالی داس نے بہرحال مجھے اس مشکل صورتحال سے یوں نکال دیا تھا جیسے مکھن میں سے بال۔ ہر چند کہ مجھے اس مصیبت میں پھنسانے والا بھی وہی تھا لیکن اگر وہ میری مدد نہ کرتا تومیں اس کا کیا بگاڑ لیتا۔ لیکن رادھانے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا۔ اچانک مجھے رادھا کی یاد آئی کہ اگرمیں نے کسی عورت سے جسمانی مراسم اختیار کیے تو وہ میری مدد نہ کر پائے گی اورمیرے دشمن ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں ہیں۔ اس نے مجھے وقت سے پہلے ہی خبردار کردیا تھا لیکن میری ہوس آہ۔۔۔
سرد آہ میرے سینے سے خارج ہوگئی۔ میں نے ایک نظر صائمہ پر ڈالی اس کا معصوم چہرہ دنیا جہاں کی فکروں سے آزاد تھا۔ قصور وارکون تھا۔
میں خود۔۔۔
کالی داس اور بسنتی
یا پھر رادھا۔۔۔؟
سوچنے سے میرے سر میں درد ہونے لگا تو میں نے سر جھٹک کر خیالات سے چھٹکارہ حاصل کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مہربان نیند نے اپنی آغوش وا کر دی۔ دوسرے دن سارا سٹاف سوائے سبین کے میرے گھر آیا۔ مجھے باعزت طور پر بری ہونے پر مبارکباد دی اور اس مصیبت پر افسوس کا اظہار کیا جو بلا وجہ مجھے پیش آئی تھی۔ اب میں کیا کہتا؟ بھائی صاحب دو دن رہ کر واپس چلے گئے جاتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ ہم لوگ ان کے ساتھ واپس چلے جائیں لیکن پروفیسر صاحب جن کے ساتھ بھائی صاحب کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی نے سمجھایا اس طرح چلے جانے پر وہ شرمندگی محسوس کریں گے کہ میرے بنگلے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ بچوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ بابا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔ یہ بات انہیں صائمہ نے خود ہی سمجھا دی تھی۔ سبین ایک ہفتے کی چھٹی پر تھی۔ اسی دوران ہی اس نے اپنی ٹرانسفر کسی اور شہرکرالی۔ اس میں بھی یقیناً کالی داس کی پراسرار قوتوں کو دخل تھا۔
دن ایک بار پھر پرسکون انداز سے گزرنے لگے۔ میں نے بینک جانا شروع کر دیا تھا۔ اس واقعہ کو تقریباً پندرہ دن گزرے تھے کہ ایک دن میں جب بینک سے واپس آرہا تھا مجھے راستے میں کالی داس نظر آیا۔ وہ سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ میری گاڑی دیکھ کر اس نے رکنے کا اشارہ کیا۔ میں خود بھی رکنے کا ارادہ کر چکا تھا کچھ بھی ہو وہ میرا محسن تھا۔
’تم تو اپنے متر کو بھول ہی گئے‘‘ اس نے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے شکوہ کیا۔
’’کالی داس! ایسی بات نہیں مجھے تمہاری کسی ٹھکانے کا علم ہی نہیں پھر میں تم سے کیسے ملتا؟‘‘ میں نے کہا۔
’’اب ہم متربن چکے ہیں میرے سارے استھان اب تمہرے ہیں، میں کچھ سمے بعد تمہیں کھد ہی اپنے سنگ لے جاکردکھا دوں گا۔ اس سمے تو میں تمہیں تمہرا وچن یاد دلانے آیا ہوں‘‘ اس نے بے پرواہی سے کہا۔
’’کالی داس میں جب کسی سے وعدہ کر لوں تو اسے بھولتا نہیں ہوں۔‘‘
’’وچن دے کر پھرنا بھلے مانسوں کا کام نہیں۔ رادھا کا جاپ کھتم ہونے میں تھوڑا سمے رہ گیا ہے۔ وہ آتے ہی ضرور تم سے ملے گی تم کیول اتنا کرنا کہ مجھے کھبر کر دینا‘‘ وہ مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا شاید اسے بھی یقین نہ تھا کہ میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔
لیکن میں تمہیں بتاؤ ں گاکیسے؟مجھے توپتا ہی نہیں تم کہاں رہتے ہو میرا مطلب ہے میں تم سے رابطہ کیسے کروں گا؟‘‘
’’تم سچے من سے میرا وچارکرلینا میں کھد آجاؤں گا۔ پرنتو اتنا دھیان رہے کہ رادھا کو دیکھ کرہمیں بھول نہ جانا‘‘ اسنے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا۔
’’کالی داس میں نے تمہیں کہا تو ہے کہ جب میں کسی سے وعدہ کر لیتا ہوں تو اسے نبھانامجھے آتا ہے۔‘‘ میں نے اسے یقین دلایا۔
’’دھن باد خان صاحب!‘‘ اسنے کہا۔ گاڑی کی رفتار خودبخود آہستہ ہونا شروع ہوگئی۔ بالآخر وہ رک گئی۔ کالی داس نے اپنی قوت سے اسے روک دیا تھا مقصد مجھ پر اپنی برتری ثابت کرنا تھا۔ اسنے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر ایک طرف چل پڑا۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد بسنتی نے بھی کوئی رابطہ نہ کیا تھا۔ مجھے حوالات کی وہ رات بھولی نہ تھی جب بسنتی نے مجھے عنائیتوں سے نوازا تھا۔ اس کا والہانہ پن دیوانگی کی حد تک تھا۔ وہ بلا شبہ آگ تھی۔ جوانی کے جوبن سے بھرا جسم ایسا نہ تھا کہ اسے بھلا دیاجاتا۔ یہی سوچتا میں گھر میں داخل ہوا۔ بچے حسب معمول اپنا ہوم ورک کر رہے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم کچھ دیر کے لئے پروفیسر صاحب کی طرف چلے گئے۔ واپس آکر رات دیر تک میں اور صائمہ باتیں کرتے رہے پھر سو گئے۔
رات کو جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں ابھی جاگنے کی وجہ سے سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کانوں میں بسنتی کی مدہر آواز آئی۔
’مہاراج! اپنی داسی کو اتنی جلدی بھول گئے؟ کچھ جیادہ سمے تو نہیں ہوا کہ میں نے تمری سہائتاکی تھی؟‘‘ اسکی شوخ آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میرے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ ایک نظر خوابیدہ صائمہ کی طرف دیکھ کرمیں نے دبی دبی آواز میں پوچھا۔
’’تم کہاں ہو بسنتی؟َ‘‘
’’اپنے من میں جھانک کر دیکھو۔۔۔بسنتی کا استھان تمرے ہردے میں ہے‘‘ وہ کھکھلا کر ہنسی۔
’’اپنی داسی کو درشن نہ دو گے مہاراج! اتنے کھٹور کب سے ہوگئے؟‘‘ وہ حد سے زیادہ شوخ ہو رہی تھی۔
’تم ہوکہاں؟‘‘میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’وہیں جہاں تمرا اور رادھا کا ملن ہوتا تھا‘‘ اسکی خمار آلود سرگوشی میرے کان میں ابھری ۔ میں نے آہستہ سے دراز کھول کر سگریٹ کاپیکٹ نکالا اور دبے قوموں سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ بہار کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ فضامیں بھینی بھینی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ لان میں آکر میں نے ادھر ادھر دیکھا۔
’’میں یہاں ہوں‘‘ لان کے نیم تاریک گوشے سے بسنتی کی آواز آئی۔ وہ چمبیلی کی بیل کے پاس کھڑی تھی۔ قریب پہنچتے ہی وہ لپک کرمیرے گلے لگ گئی۔ اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو مجھے مدہوش کر دیا کرتی تھی۔ کافی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے رہے پھر وہ میرا چہرہ اپنے کومل ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر بولی۔
’’تم سے دور رہ کر میں کتنی بیاکل رہی ہوں تم وچاربھی نہیں کر سکتے۔‘‘
’’تم سے کس نے کہا تھا کہ دور رہو۔تم تو خود ہی چلی گئی تھیں۔ کہاں رہیں انتے دن؟‘‘ میں نے اس کے نرم و ملائم ہاتھ تھام لئے۔
’’سمے کتنا سندر ہے ایسے میں کوئی دو جی بات نہ کرو پریتم! کیول پریم کرو‘‘ اس کی آواز بوجھل ہو چکی تھی۔
وہ میرا سوال بڑی خوبصورتی سے ٹال گئی تھی۔ اس کے بعد محبت کی زبان میں باتیں ہونے لگیں۔ صبح دم جب وہ واپس جانے لگی تو میرا ہاتھ تھام کر بولی۔ رادھا کے آنے میں تھوڑا سمے رہ گیا ہے۔ یدی تم نے مہاراج کالی داس کی آگیا کا پالن نہ کیا توبڑی کٹھن گھڑی آپڑے گی‘‘ مجھے لگا وہ اندر سے خوفزدہ ہے۔
’’رادھا کب آئے گی؟‘‘ میرا دل دھڑک اٹھا۔
’کیول آٹھ دن رہ گئے ہیں اس کا جاپ پورا ہونے میں مجھے وشواس ہے وہ سب سے پہلے تمرے درشن کرنے آئے گی۔‘‘ بسنتی کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ میں چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے اسکی طرف مستسفرانہ نظروں سے دیکھا وہ کسی سوچ میں گم تھی۔
’’بسنتی! میں نے کالی داس کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں اپنا قول نبھاؤں گا لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ خود اتنا طاقتور ہے پھربھی وہ رادھا کو قابو نہیں کر سکتا جبکہ میں تو ایک عام سا انسان ہوں میں اس سلسلے میں اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ نہ تو میں پراسرار قوتوں کا ماہر ہوں نہ اس کام کا مجھے کوئی تجربہ ہے۔ پھر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ میں بری طرح الجھ کر رہ گیا تھا۔
’یدی تم اس کام کو کرنے میں سپھل نہ ہوئے تو ۔۔۔؟‘‘ اس کے حسین چہرے پر تفکرات کی پرچھائیاں رقص کر رہی تھیں۔’’میرا کام توصرف اتنا ہے کہ جب رادھا مجھ سے ملنے آئے میں کالی داس کو بتا دوں اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے یہ میرا نہیں اس کا درد سر ہے۔‘‘ میں نے بے پرواہی سے کہا۔
’’یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا تم وچار کر رہے ہو۔ تمہیں ابھی رادھا کی شکتی بارے جانکاری نہیں‘‘ بسنتی کی آواز کانپ رہی تھی۔
’تم رادھا سے خوفزدہ ہو؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔
’’یہ بات نہیں‘‘ اس کالہجہ اسکی بات کی نفی کر رہا تھا۔’’ یدی کالی داس اسے اپنے بس میں کرنے سے ناکام رہا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘ اس کے لہجے میں اندیشے لپک رہے تھے۔
ضرور پڑھیں: ’’ فرعون 3 سے 4 ماہ میرے گھر پر رہا، میرا شوہر جیل میں ہے اور۔ ۔ ۔‘‘ کراچی سے خطرناک ترین عورت پکڑی گئی
کسی بات کی فکر نہ کرو‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’مہاراج! مجھے وچن دو کہ تم کالی داس سنگ وشواس گھات نہ کرو گے‘‘ وہ ملتجی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
خر تم لوگوں کو میری بات پر یقین کیوں نہیں آتا؟‘‘ اس کے بار بار کہنے سے میں چڑ گیا۔
’’وشواش تو ہے پرنتو ایسا نہ ہوا تو گجب ہو جائے گا۔‘‘ اس کی ساری شوخی ختم ہوگئی تھی۔ میں نے اس کی ریشمی زلفوں سے کھیلتے ہوئے تسلی دی۔ ایک بار پھر نشہ مجھ پر سوار ہونے لگا تھا۔ لیکن جب بسنتی کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو میں بھی خاموش ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعدمیں دبے قدموں اندر داخل ہوا۔ صائمہ محو خواب تھی۔ آٹھ دن ۔۔۔صرف آٹھ دن رہ گئے تھے رادھا کے آنے میں۔ بسنتی کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور رادھا سے کم نہیں اس کے علاوہ کالی داس بھی اس کے ساتھ تھا پھر ۔۔۔پھر وہ کیوں خوفزدہ تھی۔۔۔
یہ گھورکھ دھندا میری سمجھ سے باہر تھا۔ بسنتی نے رادھا کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ اسے میرا نگہبان بناکرگئی تھی لیکن اس نے دوست بن کر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ بسنتی کو شاید کالی داس کی پراسرار قوتوں پر کچھ زیادہ بھروسہ نہ تھا۔ رادھا کے آنے کے بعد اگر میں اپنے وعدے سے پھر جاؤں تو؟ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اسے رد کردیا۔ رادھا حسن میں بسنتی کے مقابل نہ تھی البتہ طاقت میں وہ اس سے زیادہ تھی۔ رہی بات محبت کی تو وہ دونوں مجھ سے کرتی تھیں۔ میں دونوں میں موازنہ کرتا رہا۔ دماغ رادھا کی طرفداری کرتا تھا لیکن کمبخت دل بسنتی کے راگ الاپ رہاتھا۔ رادھا نے کئی مواقع پرمیری مدد کرکے مجھے موت کے منہ سے نکالا تھا اور اب تو وہ صائمہ کے سلسلے میں بھی مفاہمت اختیار کرچکی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو رادھا ہر لحاظ سے میرے لئے بہتر تھی۔ لیکن بسنتی کا انداز محبت اتنا دلکش تھا کہ میرا دل اسی کی جانب کھنچا جا رہا تھا۔ خیر رادھاکے آنے کے بعد فیصلہ ہوگاکہ کیا کیا جائے؟ یہ سوچ کر میں مطمئن ہوگیا۔
سات دن اور گزر گئے رات بارہ بجے کے قریب مجھے بسنتی نے آواز دے کر باہر بلایا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود بھی اس کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر پہلے میں اور صائمہ باتیں کر رہے تھے میں نے آہستہ سے سر گھما کر اس کی طرف دیکھا وہ سو چکی تھی پھر بھی میں نے ہلکے سے اسے آواز دی۔ جواب نہ پا کر میں مطمئن ہوکرباہر نکل آیا۔
جاری ہے

No comments: