Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 41 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط 41
مصنف۔ طارق خان 

’بسنتی‘‘ میں نے لان میں آکر پکارا۔
’’جی مہاراج!‘‘ بسنتی کے آواز مجھے اپنے پیچھے سے سنائی دی۔ میں جلدی سے مڑا۔ وہ فتنہ گربالکل میرے پاس کھڑی تھی۔ گلابی رنگ کی مختصر سے کھاگر یچولی میں وہ ہمیشہ سے زیادہ حیسن لگی۔ میں سحر زدہ سا اسے دیکھتا رہا گلاب کی پنکھڑیاں واہوئیں۔
’’پریم۔۔۔‘‘ وہ مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے میں جذب ہوگئے۔ اسکی چڑھتی سانسیں اس کے اندر کے حال کاپتا دے رہی تھی۔ تپتے بدن کی آنچ مجھے پگھلائے جا رہی تھی۔

’’پریم!‘‘ اسکی بوجھل سرگوشی میرے کانوں میں رس گھول گئی۔

’’ہوں‘‘ مجھ پر خمار چھانے لگا۔

اس کے بعد باتیں ختم ہوگئیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔

’’کیول ایک دن رہ گیا ہے رادھا کے واپس آنے میں‘‘ جب طوفان تھما تو بسنتی نے کہا۔

’’رادھا کے آنے کے بعد ہمرا ملن نہ ہو پائے گا‘‘ اس کے لہجے میں حسرت تھی۔

’’کیا تم رادھا سے خوفزدہ ہو؟‘‘

’’نہیں۔۔۔پرنتو میں نے رادھا سے وشواس گھات کیا ہے۔ یاد ہے اس نے جاتے سمے کیا کہا تھا؟‘‘

’’کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے ماتھے پر آئی شریر سی لٹ کوانگلی پر لپیٹتے ہوئے پوچھا۔

’’مہاراج!کیا واقعی تم کالی داس کی آگیا کا پالن کرو گے؟‘‘ اسکی آنکھوں سے بے یقینی کا اظہارہورہا تھا۔

’’کہہ جو دیا کہ میں ہر صورت میں اپنا وعدہ پورا کروں گا پھر باربار تم لوگ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟‘‘اسنے میرا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھا لیا۔

’’میرے سرکی سوگندکھاؤ کہ تم رادھا کے کارن میرے سنگ وشواس گھات نہ کرو گے‘‘ اس کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے۔ میں نے زور سے اسے بھینچ لیا۔

’’میری جان! یقین کرو میں تمہارے اعتماد کو دھوکہ نہ دوں گا‘‘ وہ میرے سینے سے لگ کر سسکنے لگی۔’’پریم !یدی تم نے کالی داس کی سہائتانہ کی تو۔۔۔‘‘ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں سوچتا تھا بسنتی کیوں خوفزدہ ہے۔ اسنے رادھا کی محبت پر ڈاکا ڈالاتھا۔ اس کا حق استعمال کیا تھا۔ رادھا کو یہ کسی طورگوارا نہ تھاکہ مجھے اس کے علاوہ کوئی چاہے اور بسنتی کو تو وہ میرا نگہبان مقرر کر کے گئی تھی۔ جاپ پر جانے سے پہلے اس نے بسنتی کو بلا کر اسے میری حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا۔ پہلی ملاقات میں میں نے بسنتی کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت چھلکتی دیکھ لی تھی۔ رادھا کے جانے کے بعد بسنتی کی حوصلہ افزائی سے میرے قدم ڈگمگا گئے تھے۔ وہ بھی مجھے حاصل کرنے کے لئے بے چین تھی۔ اسی دوران شاید اسکی ملاقات کالی داس سے ہوئی جو خود بھی رادھا پر خار کھائے بیٹھا تھا۔ دونوں نے مل کر سازش سے میرے گرد رادھا کا بندھا ہوا حصار ختم کروایا۔ جس کے لیے کسی کنواری لڑکی سے جسمانی تعلقات قائم کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں سبین کو قربانی کا بکرابنایا گیا۔ میں خود بھی بھی بسنتی کے قرب کے لئے مرا جا رہا تھا بلا سوچے سمجھے بسنتی کے اشاروں پر چل کر اس معصوم کی عزت لوٹ لی۔ جسکا خمیازہ مجھے بھگتناپڑا۔ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔
رادھاکی غیر موجودگی نے اسے کالی داس اور بسنتی کے لئے آسان بنا دیا۔ کالی داس تو شاید کسی طور پر رادھا کا مقابلہ کر لیتا یا چھپ کر اسکے قہر سے بچ جاتا لیکن بسنتی۔۔۔؟ اگر کالی داس اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتا تو بسنتی کی خیر نہ تھی۔ رادھا اسے کسی طور پر معاف نہ کرتی۔

’’اگر میں سفارش کروں تب بھی وہ معاف نہ کرے گی؟‘‘ میرے ذہن میں خیال آیا جس کا جواب مجھے فوراً ہی مل گیا ۔

’’نہیں قطعی نہیں‘‘ میرے بارے میں رادھا حد سے زیادہ حساس تھی۔ وہ کسی طور گوارانہ کر سکتی تھی کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی آئے۔ صائمہ اس کی مجبوری تھی میں نے واضح میں کہہ دیا تھا اگر صائمہ کو کچھ ہوا تومیں خود کشی کرلوں گا اسی لیے وہ صائمہ کے معاملے میں مجبور تھی۔ لیکن بسنتی کو وہ کبھی نہ چھوڑتی۔ خود میرے ضمیر کی خلش مجھے کبھی کبھی اس بات پر بے چین کر دیتی کہ میری وجہ سے بے گناہ لوگوں کو سزا ملی۔

’’کس وچارمیں گم ہو مہاراج!‘‘ سوچوں کے بھنورمیں پھنس کر میں بسنتی کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا جومیری گود میں سر رکھے اداس لیٹی تھی۔
’’بسنتی! کالی داس اور تم نے جس طرح میری مدد کی ہے میں یہ احسان ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ لیکن اس بات کا مجھے بہت دکھ ہے کہ میری وجہ سے بے گناہ لوگ پھنس گئے۔ میرا مطلب ، عمرحیات ، ساجد اور جمال قریشی سے ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’اس سمے ان کادھیان تمرے من میں کیسے آگیا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’اکثر یہ خیال میرے دل میں آجاتا ہے۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔

’’یدی تم ان کے کرموں کی کتھا(کارناموں کی کہانی) سن لو تو پھر کبھی ایسی بات نہ کہو‘‘ وہ منہ بناکر بولی۔

’’کیا مطلب؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔

’’وہ تینوں منش راون سے بھی برے ہیں۔ نہ جانے کتنی ہی ناریوں سنگ بلات کار کیا ہے ان لوگوں نے۔ اس پاپی عمر حیات کی بیٹھک میں ہر رات یہ تینوں اکٹھے ہو کر مدھ پیتے اور مجبور ناریوں کی عجت سنگ کھلواڑ کرتے۔‘‘ بسنتی کی بات سن کر میں شششدر رہ گیا۔

’اور وہ پاپی ساجد۔۔۔اس نے تو ایک ہتھیا بھی کر رکھی ہے۔ ایک کنیا اس کے پاس آئی جس کا باپو (قیدی) تھا۔ یہ نردئی اس کی سہائتا کرنے کے بہانے اسے عمر حیات کے پاس لے آیا۔ جب وہ آگئی تو ان دونوں نے اس کا بلات کار کیا اور اس کی ہتھیا کردی۔ انہیں اس بات کی چنتا تھی یہ کسی سے کہہ نہ دے‘‘بسنتی نے اپنی بات جاری رکھی میرے ضمیرپر سے بوجھ ہٹ گیا تھا۔

’’اگر یہ بات ہے تو پھر تو ان کے ساتھ ٹھیک ہوا‘‘ اطمینان بھری سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی۔

’’پریم ! تم پاپ اورپن کے چکر کو چھوڑو کیول اس بات پر دھیان دو کہ رادھا کے آنے پر تم کالی داس سنگ کیا وچن پورا کرو گے‘‘ وہ دوبارہ اصل موضوع پر آگئی۔

’’کیا رادھا کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کیا کرتے رہے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

ضرور پڑھیں: صبح سویرے ڈالر مہنگا ہو گیا
’’ترنت اس نے جواب دیا۔

’’یہی چنتا تو مجھے بیاکل کر رہی ہے جیسے ہی وہ منڈل سے باہر آئے گی۔ سب سے پہلے تمرے کارن بیاکل ہوگی۔ جب اسے میرے بارے جانکاری ہوگئی وہ ترنت اس کا پربند کر لے گی کہ کالی داس سپھل نہ ہو پائے۔‘‘

اس کی پریشانی بجا تھی رادھا کی قوتوں کا مجھے اندازہ تھا۔ کہیں رادھا مجھ سے بھی ناراض نہ ہو جائے؟ میرے ذہن میں خیال آیا اگر ایسا ہوا تو میرے لئے مشکلات بڑھ سکتی تھیں۔ پریشانی نے مجھے بھی آگھیرا تھا۔

’’پریم! اس بات کا اوش دھیان رکھنا کہ کالی داس کے سپھل ہونے میں ہم سب کا بھلا ہے‘‘ بسنتی میرے دل کی بات جان گئی تھی۔

’’اچھا پریتم! چلتی ہوں کل رادھا آجائے تو اس کے آنے سے پہلے کالی داس تمہیں بتائے گا کیا کرنا ہے؟‘‘ اس نے کہا اور حسرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے غائب ہوگئی۔ میں اندر آگیا۔ صائمہ محو خواب تھی۔ بسنتی کی باتوں سے میں بھی پریشان ہوگیا تھا۔ دوسری صبح جب میں جاگا تو صائمہ ناشتہ تیار کر چکی تھی۔ اس کے چہرے سے خفگی ظاہر ہو رہی تھی۔ میں نے حیرت سے دیکھا رات کو تو اسکا موڈ بالکل ٹھیک تھا۔

’’کہیں میرے باہر جانے کے بعد صائمہ جاگ تو نہیں گئی تھی؟‘‘ یہ خیال ہی میرے لئے سوہان روح تھا۔ میرے دل میں چورتھا اس لئے میں خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔ میں جانتا تھا اگر کوئی بات ہوگی تو صائمہ ضرور کرے گی وہ دل میں بات رکھنے کی قائل نہ تھی۔ اور ہوا بھی یہی۔
’’فاروق! آپ سے مجھے یہ امید نہ تھی ‘‘میرا دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ بچے ناشتہ کرکے سکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔

’’آپ تو نماز پڑھنا یوں بھول گئے ہیں جیسے مسلمان ہی نہ ہوں‘‘ اطمینان بھری ایک سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی ۔ جو کچھ میں سمجھ رہا تھا وہ بات نہ تھی۔ اب میں اسے کیا بتاتا کہ میں کن راہوں پر چل پڑا تھا۔ اگر اسے میری حرکتوں کا پتا چل جاتا تو زندہ درگور ہو جاتی۔ میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
’’مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ تو اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کرنے والے تھے لیکن۔۔۔جب سے ہم یہاں آئے ہیں میں آپ کے اندر خاصی تبدیلی دیکھ رہی ہوں۔ خاص کر جب سے اس منحوس جن زادی والا معاملہ شروع ہوا آپ کافی بدل گئے ہیں۔ کئی دن سے آپ نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی‘‘ اس کی آواز دکھ سے بھرا گئی۔ خفت سے میرا سر جھک گیا۔

’’کیا میں یقین رکھوں کہ آپ دوبارہ نماز شروع کر دیں گے؟‘‘ وہ میرا ہاتھ تھامے پیار سے پوچھ رہی تھی۔

ا
’’انشاء اللہ‘‘ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ پیار سے میرا ہاتھ تھپتھپا کر وہ بچوں کے پاس چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد میں بیٹھا یہی سوچتا رہا کہ مجھے کیا ہوگیا ہے صائمہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔صراط مستقیم سے بھٹکنے کے بعد مصائب نے مجھے گھیرلیا تھا۔ شریف کے مرحوم والد صاحب کے الفاظ مجھے یاد تھے انہوں نے تاکید کی تھی کہ نماز سے غافل نہ رہوں میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ آج کے بعد خرافات سے بچنے کی کوشش کروں گا اور باقاعدگی سے نماز اور تلاوت قرآن کا اہتمام کروں گا۔ یہ سوچ کر دل کو کچھ سکون ملا۔ بچوں کو سکول چھوڑ کر میں بینک روانہ ہوگیا۔ آنے جانے کے لئے میں وہی راستہ استعمال کرتا جس پر میری سادھو امر کمار اور ملنگ سے ملاقات ہوئی تھی۔ صائمہ کی باتیں ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ ایسی نیک بیویاں قسمت سے ملا کرتی ہیں اور میں اس معاملے میں خوش قسمت تھا۔

اچانک میری نظر ملنگ پر پڑی۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھا زمین پر انگلی سے لکیریں بنا رہا تھا۔ میں نے گاڑی اس کے پاس روک دی۔ وہ بدستور اپنے شغل میں مصروف رہا۔ میں نیچے اترکر اس کے پاس بیٹھ گیا۔

’’بابا جی!‘‘ میں نے بڑے ادب سے اسے پکارا۔ کچی زمین پر آڑھی ترچھی لکیریں بنی ہوئی تھی۔

’’کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ ہر طرف سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا ،ابھی میری انگلیاں اس کے ہاتھ سے مس ہوئی ہی تھیں کہ اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر جڑ دیا۔ اس تھپڑ کی قوت مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں اچھل کر دو فٹ دور جا گرا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ زمین پر گرنے کی وجہ سے کپڑے مٹی سے بھر گئے۔ دکھ سے زیادہ مجھے حیرت تھی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ قہر بار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا پُر جلال چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں بجلیاں کڑک رہی تھی۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ شفقت اور مہابنی سے پیش آتا رہا تھا۔ بلکہ جب کالی داس نے مجھے گھیر لیا تھا تو اسنے مجھے اس کی گرفت سے نہ صرف آزاد کرایا تھا بلکہ میرے پیٹ کے زخم کو اپنے لعاب سے ٹھیک بھی کر دیا تھا۔ لیکن آج وہ سراپا قہر بنا مجھے گھور رہ اتھا۔
’غلاظت میں لتھڑے حقیر کیڑے۔۔۔‘‘ تیری جرات کس طرح ہوئی کہ مجھے ہاتھ لگائے‘‘ اس کی قہر بار آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ بس کے حادثے سے مجھے بچانے والا آج نہ جانے کس بات پر اتنا ناراض تھا۔

’’جا۔۔۔جا کر اپنی راتیں رنگین بنا۔۔۔بدکاریاں کرتا پھر ۔۔۔جن زادیوں کے لئے عیش و عشرت کا سامان پیدا کر۔۔۔اندھے گڑھے میں جا کر گرجا۔۔۔جہنم کا ایندھن بن جا۔۔۔ناعاقبت اندیش۔۔۔گندگی کھا اور اپنی ہوس پوری کر۔۔۔تجھے کیا مطلب ہے ہم فقیروں سے کیوں آجاتا ہے بار بار میرے سامنے؟ اگر آئندہ میرے پاس آیا تو یاد رکھ زمین پر چلنے کے قابل نہ رہ جائے گا‘‘ اس کی آواز میں وہ گھن گرج تھی کہ میں سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا۔ میرے گال پر جیسے کسی نے مرچیں بھر دی تھیں۔ کان میں شدید درد ہو رہا تھا۔ ملنگ نے مجھے بری طرح لتاڑ کر رکھ دیا تھا۔ صبح صائمہ کی بات سے میں کافی شرمندگی محسوس کر چکا تھا۔ لیکن اس کے اور ملنگ کے سمجھانے میں بہت فرق تھا۔ میں ملنگ کی باتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ جن راہوں کا مسافر میں بن چکا تھا ملنگ اس سے بے خبر نہ تھا۔ وہ بہت پہنچا ہوا بزرگ تھا۔ اس کی کرامات کا مشاہدہ کئی بار مجھے ہو چکا تھا۔

کالی داس پراسرارقوتوں کا مالک ہونے کے باوجود اس سے خوفزدہ تھا۔ رادھا جب بلی کے روپ میں تھی وہ بھی ملنگ کو دیکھ کر بھاگ گئی تھی۔ اچانک میرے دماغ میں جیسے بجلی سی چمکی۔ جس رات رادھا مومنہ کے جسم کا سہارا لے کر مجھ سے مخاطب ہوئی تھی تو احد نیند سے جاگ گیا تھا ۔اس کے منہ سے کسی مرد کی گرجدار آواز نکلی تھی۔۔۔ہاں یہ وہی آواز تھی۔ اس سے پہلے بھی ملنگ کئی بار میرے ساتھ مخاطب ہوا تھا لیکن ہمیشہ وہ بے معنی باتیں کرکے قہقہے لگاتا رہا تھا۔ آج پہلی بار وہ مجھ پر غضبناک ہوا تھا اس کی آواز بالکل بدلی ہوئی لگ رہی تھی۔ عام حالت میں اسکی آواز کچھ باریک سی ہوتی لیکن جب وہ غضب میں ہوتا تو اس کی آواز گرجدار ہو جاتی۔ قہر میں ڈوبی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں زیادہ دیر تک اس کی پُر جلال نظروں کی تاب نہ لا سکا خود بخود میری نظریں جھک گئیں۔ دل چاہ رہا تھا وہ مجھے اور برا بھلا کہے۔ مجھے ڈانٹے۔ میں سر جھکائے منتظر تھا کہ وہ کچھ اور کہے لیکن آواز آنا بند ہو چکی تھی میری آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ دل چاہا ملنگ سے معافی مانگوں۔ نظر اٹھا کر دیکھا لیکن اب وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ جا چکا تھا مجھے گردوپیش کا کوئی ہوش نہ رہا۔ آنکھیں پھاڑے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے ملنگ موجود تھا۔
’’کیا بات ہے بھائی صاحب!‘‘ اچانک ایک مہربان سی آواز میرے کانوں میں آئی۔ میں نے چونک کر دیکھا۔ ایک خوش پوش سا شخص میرے اوپر جھکا پوچھ رہا تھا۔ میں زمین پر پڑا تھا۔ ملنگ نے اس زور سے مجھے مارا تھا کہ میں اوندھے منہ زمین پر گر گیا تھا اور ابھی تک اسی حالت میں تھا۔ وہ شخص آنکھوں میں حیرت لیے مجھے دیکھ رہا تھا ۔ قریب ہی میری گاڑی کھڑی تھی۔ میں نے شفیق سے چہرے والے شخص کو دیکھا۔ میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ میرے پاس بیٹھ گیا۔
’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟ لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا۔ میں نے ہتھیلیوں سے آنکھوں کو پونچا اور سر نفی میں ہلا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ وہ حیرت بھری آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ پھر کاندھے اچکا کر چل پڑا۔ میں پژمردگی سے گاڑی چلانے لگا۔ دل بھر آیا تھا۔ زمین پر گرنے کی وجہ سے میرے کپڑے مٹی سے خراب ہو چکے تھے گھٹنے کے پاس پینٹ پر گوبر کا داغ لگ گیا تھا ۔اس حالت میں نہ تو میں بینک جا سکتا تھا نہ گھر واپس۔ اگر چلا بھی جاتا تو صائمہ کا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ میرا دل ہر شے سے اچاٹ ہوگیا اور میں نے گاڑی یونہی ایک کچے راستے پر موڑ لی۔ موسم گرم ہونا شروع ہو چکا تھا۔ دن کودھوپ میں خاصی گرمی ہو جایا کرتی۔ ملتان اور اس کے گردونواح کی گرمی تو ویسے بھی مشہور ہے۔ میں نے ایک درخت کے سائے میں گاری روک لی اور باہر نکل کر کچی زمین پر بیٹھ گیا۔

’’کس وچار میں گم ہے بالک! ‘‘ اچانک میرے پیچھے سے کالی داس کی آواز آئی۔ میں اپنی سوچوں میں غرق تھا۔ بری طرح اچھل پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو کالی داس ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ لیے گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔

’’کس بات کی چنتا بیاکل کر رہی ہے؟‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا۔ میں نے نفی میں سر ہلایا لیکن منہ سے نہ بولا۔’’کیا اپنے متر کو بھی نہ بتائے گا؟‘‘ اس نے اصرار کیا۔

’’ایک بہت مخلص دوست مجھ سے ناراض ہوگیا ہے۔‘‘ نہ جانے کس طرح یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے۔ وہ کچھ میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ پھر اسکے ہونٹوں پر حقارت بھری مسکراہٹ چھا گئی۔
’’اس مورکھ کی بات کا کیا برا منانا وہ تو ۔۔۔‘‘

’’بکواس بند کر کالی داس! تو کیا جانے وہ کون ہے؟‘‘ میں اس کی بات کاٹ کر غرایا۔’’اگر ایک لفظ بھی اس کے بارے میں کہا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔‘‘ میری بات سن کر کالی داس کی آنکھوں میں آغ بھڑک اٹھی۔ غیض و غضب سے چہرہ تپ گیا۔ کچھ دیر وہ مجھے قہر بھری نظروں سے دیکھتا رہا پھر اس کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

’’شاید تو جانتا نہیں اس سمے کس سے بات کررہا ہے؟ کیا اتنی جلدی سب کچھ بھول گیا۔ جیادہ سمے تو نہیں بیتا ابھی۔۔۔کیا ایک بار پھر میں تجھے بتاؤں میں کون ہوں؟‘‘

’’جانتا ہوں تو گندی قوتوں کا ماہر ہے۔ لیکن تو بھی یہ بات یاد رکھ میں تیرا غلام نہیں ہوں کہ ہر وقت تیرے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہوں۔‘‘ گناہ کا احساس نے مجھے پاگل کر دیا تھا۔ پچھتاوے بری طرح مجھے گھیر چکے تھے۔ انجام سے بے خبر میں کالی داس کو بری طرح لتاڑ کر رکھ دیا۔ مجھے کالی طاقت والے ان وحشیوں سے سخت نفرت محسوس ہوئی۔ انہی بدبختوں کی وجہ سے آج میں انسان سے جانور بن چکا تھا۔ اب مجھے کسی بات کی پرواہ نہ رہی تھی۔ ملنگ نے جیسے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔ میں اس غفور الرحیم اللہ سے ڈرنے کی بجائے ان شیطانوں سے خوفزدہ ہوگیا تھا۔

کالی داس غضبناک نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا۔

’’تجھ جیسے مورکھ بڑی جلدی اپنی جاتی(ذات)بھول جاتے ہیں۔ تجھے کوئی شکشا دینا ہی پڑے گی۔‘‘ وہ گرج کر بولا۔

میرے دل سے کالی داس کا خوف نکل چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ بڑا غور الرحیم ہے انسان ساری زندگی گناہ کرتا رہے پھر بھی اگر سچے دل اسے یاد کرلے تو وہ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ میں نے بڑی دلیری سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جن میں شیطانی قوتوں کا رقص جاری ہو چکا تھا۔

’’اب تو دیا کی بھکشا بھی مانگے گا تو میں تجھے شما نہیں کروں گا۔‘‘ وہ غرایا۔

’’تجھ جیسے بدکار سے بھیک مانگوں گا؟ جا چلا جا نہیں تو میرا تیرا گلادبا کر زمین کو تیرے گندے بوجھ سے چھٹکارا دلا دوں گا۔‘‘ میں نے بے خوفی سے کہا۔ کچھ دیر وہ مجھے قہر آلود نظروں سے گھورتا رہا پھر اس کے موٹے ہونٹ ہلنے لگے۔ میرے کان کے پاس سرگوشی سی ہوئی۔

’’آیۃ الکرسی کا ورد شروع کر دو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی میرے ہونٹ خود بخود حرکت میں آگئے۔ کالی داس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کے چہرے سے کشمکش کااظہار ہو رہا تھا متحرک ہونٹ ساکت ہوگئے۔ میرا حوصلہ بڑھ گیا۔ وہ متذبذب سا مجھے دیکھ رہاتھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔ میرے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے۔ کچھ دیر وہ غیض و غضب کی حالت میں کھڑا مجھے دیکھتا رہا پھر بری طرح چونک اٹھا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے میرے پیچھے کسی کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک وہ کسی چھلاوے کی طرح نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ کسی نے میری پشت پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے مڑا اور ہاتھ رکھنے والے کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔

میرے پیچھے ملنگ ہونٹوں پر شفیق مسکراہٹ لیے مجھ دیکھ رہاتھا۔

’’آج وہ مجھ سے نہیں تجھ سے خوفزدہ ہو کر بھاگا ہے۔ دیکھا اللہ پاک کی کلام کا کرشمہ‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی بانہیں وا کر دیں میں بے اختیار اس کے مہربان سینے سے لگ گیا۔ میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ملنگ میری پشت پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ میں اسکے شانے پر سر رکھے روتا رہا۔ ملنگ کا کندھا میرے آنسوؤں سے تر ہوگیا۔

’’بس کر میرے بچے! جب انسان سچے دل سے اس غفور الرحیم سے معافی مانگے تو وہ معاف کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتا‘‘ اس نے نرم لہجے میں مجھے سمجھایا۔ تھوڑی دیر پہلے وہ مجسم قہر لیکن اب اس کی آنکھوں میں شفقت کا دریا موجزن تھا۔

’’شیطان ، انسان کا کھلا دشمن ہے اس نے مالک کائنات سے وعدہ کیا ہے کہ وہ قبر تک انسان کا پیچھا کرے گا اور اسے ہر صورت بہکائے گا۔ وہ اپنے کام میں مگن ہے افسوس تو یہ ہے کہ ہم اپنا فرض بھول چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس مقصد کے لئے زمین پر اپنا نائب مقرر کیا ہے؟ جو اس بات کو سمجھ لیتا ہے وہی کامیاب انسان ہے۔ یہاں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک اور بات یاد رکھنا جب انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے تو وہ رحمت خداوندی سے مایوس ہوتا ہے محروم نہیں۔ اس غفور الرحیم کا در تو ہر وقت کھلا رہتا ہے وہ پکارتا ہے ، ہے کوئی جو مجھ سے رحمت و مغفرت طلب کرے؟ لیکن میرے بچے! سیدھے راستے پر چلنے والوں کو کچھ آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس سے ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور درجات میں بلندی عطا ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو۔ لیکن اس بار تم ثابت قدم رہنا۔‘‘اس کی آواز نرم اور شفیق تھی۔
ہمیشہ قہقہے لگانے والا آج سنجیدگی سے مجھے ایمان کی باتیں سمجھا رہا تھا۔ دیوانہ آج فرزانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کافی دیر تک مجھے سمجھاتا رہا۔ پھر نماز کی پابندی اور ذکر الٰہی کی تاکید کی۔ میں خاموشی سے سر جھکائے اس دانا کی باتیں سنتا رہا58

’’صراط مستقیم پر چلنا سیکھ‘‘

’’بابا جی! آپ تو مجھے وقت ہی نہیں دیتے۔ میں چاہتا ہوں آپ میری انگلی پکڑ کر مجھے سیدھے راستے پر چلنا سکھا دیں‘‘ میں نے رقت آمیز لہجے میں کہا۔

’’قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو خود بخود سیدھے راستے کی نشاندہی ہو جائے گی‘‘ اتنا کہہ کر وہ چل پڑا۔میں اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن میری ہمت نہ پڑی کہ اسے آواز دوں اس کے جانے کے بعد میں گاڑی میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگیا۔ ایک جگہ رک کر میں نے کپڑے ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کیے۔ گھٹنے کے قریب لگا گوبر کا داغ پانی سے دھویا اور بینک روانہ ہوگیا۔ کیبن میں بیٹھ کر میں نے سب سے پہلے محمد شریف کو بلوایا۔ وہ مسکراتا ہوا اجازت لے کر اندر داخل ہوا اور سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’محمد شریف میں۔۔۔‘‘

’’میں جانتا ہوں جناب! آپ کیا کہنا چاہتے ہیں شکر ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اپنی رحمت سے نواز دیا ہے۔‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔

’’محمد شریف میں چاہتا ہوں کہ تم دوبارہ میرے گھر اور دفتر کا حصار کر دو‘‘ میں نے جھجکھتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے پر افسردگی پھیل گئی۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھا رہا۔

’’محمد شریف! تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔‘‘ میں نے اسے چپ دیکھ کر سوال کیا۔

’’جناب عالی! معذرت چاہتا ہوں اب یہ ممکن نہیں ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔

’’تم شاید میرے رویے سے ناراض ہو‘‘

’’ایسی بات نہیں جناب! میں تو آپ سے خفا ہونے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔ دراصل عملیات میں کچھ اصول ہوتے ہیں اگر انہیں توڑ دیا جائے تو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ جب آپ نے حصار ختم کرنے کے لیے کہا تھا تو میں نے انہی بزرگ شخصیت سے گزارش تھی۔ وہ بہت برہم ہوئے تھے۔ لیکن میری درخواست انہوں نے رد نہیں کی۔ دوبارہ میں ان سے اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپ میری مجبور کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ جناب!‘‘۔

continued

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.