Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 42 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط 42
مصنف۔ طارق خان

محمد شریف کے چہرے سے اس کی سچائی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ میرا سر جھک گیا۔ اپنی نادانی سے میں نے سب کچھ گنوا دیا تھا اب خود ہی کچھ کرنا تھا۔ میں نے دل میں تہیہ کر لیا مزید ان پُر اسرار قوت رکھنے والوں کے حکم کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔ میں خود کو بدلا ہوا شخص پا رہا تھا۔ شریف کے جانے کے بعد کافی دیر اسی معاملے پر سوچتا رہا لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ آخر کار میں نے سوچا صائمہ کو سارے حالات بتا کر اس سے مشورہ کروں۔
’’لیکن کیا میں سب کچھ اسے بتا سکتا تھا؟ وہ مر کر بھی گوارانہ کرتی کہ اس کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ تعلقات رکھوں۔ کیا وہ رادھا یا بسنتی کے ساتھ گزرے دنوں کے باوجود مجھے اسی طرح چاہتی رہے گی؟‘‘
سوچوں نے میرے دماغ کو تھکا کر رکھ دیا۔ کالی داس ایک بار پھر میرا دشمن بن چکا تھا۔ بسنتی نے بار بار مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں کالی داس کی مدد ضرور کروں۔ شام پانچ بجے جب میں گھر پہنچا تو تھکن سے برا حال تھا۔ ابھی تک میرے دائیں جبڑے میں سخت درد ہو رہا تھا۔ ملنگ کے ایک تھپڑ نے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔
میں واقعی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ ’’رادھا کے آنے کے بعد تم دوبارہ تو ان راہوں کے مسافر نہیں بن جاؤ گے؟‘‘ میرے ضمیر نے سوال کیا؟میرا یقین مضبوط تھا۔ اس لئے مجھے اپنے ضمیر کی تنقید بری نہ لگی۔

رادھا کے واپس آنے میں ایک دن رہ گیا تھا۔ اس کے تصور سے میرے دل کی دھڑکنیں ایک بار پھر اتھل پتھل ہونے لگیں لیکن میں نے خود کو سختی سے سمجھایا کہ اب کچھ بھی ہو میں کسی کا ناجائز مطالبہ تسلیم نہ کروں گا۔ مغرب کی نماز با جماعت ادا کی صائمہ بہت خوش تھی۔ اس دن میں نے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ کھیلتے گزارا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میں کافی عرصے بعد گھر واپس آیا ہوں۔ رات دیر تک میں اور صائمہ باتیں کرتے رہے۔ دوسرے دن میں علی الصبح جاگ گیا۔ فجر کی نماز کے لیے بھی میں مسجد گیا۔ یہ سب کچھ بتانے سے میرا یہ مقصد قعطاً نہیں کہ میں خود کو نیک اور پرہیز گار ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ میری مراد فقط یہ ہے کہ میری داستان پڑھنے والوں کو اصل حقائق کا علم ہو سکے کہ جب ہم سدھے راستے پر چلنا شروع کرتے ہین تو کوئی بھی شیطانی قوت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

ان خرافات کی وجہ سے کام پر بھی کوئی خاص توجہ نہ رہی تھی۔ میں فائلز کے ڈھیر سامنے رکھے اپنے کام میں مصروف تھا۔ چاہتا تھا کافی سارا کام نپٹا لوں۔

’’کیسے ہو پریتم‘‘ رادھا کی آواز سن کر میں اچھل پڑا۔ دیکھا تو وہ قتالہ عالم میرے سامنے والی کرسی پر براجمان تھی۔ میں یک ٹک اسے دیکھتا رہا۔ اس کا حسن مزید نکھرآیا تھا۔ اسے دیکھ کر گلاب کی نو شگفتہ کلی کا احساس جاگ پڑتا تھا۔

’’کن و چاروں میں گم ہو پریم؟‘‘ اس کی مدھر آواز آئی۔

’’کچھ بدلے بدلے سے جان پڑتے ہو‘‘ اس کی کھوجتی نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں۔
 جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا
’’کیا اتنی جلدی اپنی داسی کو بھول گئے، میں کوئی اور نہیں وہی رادھا ہوں‘‘ اس کے نرم و نازک لبوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ رقصاں تھی۔ میں نے سر جھٹک کر سفلی جذبات سے پیچھا چھڑایا۔

’’جانتا ہوں تم وہی رادھا ہو لیکن ۔۔۔اب وہ فاروق خان نہیں رہا‘‘ میرا لہجہ مضبوط تھا۔

’’ہاں میں دیکھ رہی ہوں کچھ شکتیاں تمرے سنگ ہیں۔ پرنتو پرائی شکتی پر کیا مان کرنا۔ اور ہم کونسے بیری ہیں ہم تو ایک دوجے کے سجن ہیں۔‘‘

’’اسلام میں اس کی گنجائش نہیں کہ غیر محرم مرد و عورت خواہ ان کا تعلق انسانوں سے ہو یا قوم جنات سے ایک دوسرے کے دوست بنیں‘‘ میری دلیل سے اس کے چہرے پر غصے اور حیرت کی ملی جلی کیفیت نظر آئی۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی پھر بولی۔
’یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے مومن!؟‘‘

’’میرا نام فاروق خان ہے‘‘ میرا لہجہ خشک تھا۔

’’اچھا۔۔۔؟‘‘ اس نے اچھا کو خاصا کھینچ کر ادا کیا۔

’’کیا تم سب کچھ بھول گئے؟ کیا تم نے اپنی رادھا کو بھی بھلا دیا۔ یا تم مجھ سے کسی بات پر ناراج ہو؟ مجھے یہ جانکاری مل چکی ہے میرے نہ ہونے سے تم کشٹ میں پڑ گئے تھے۔ پرنتو میں تمہیں بتایا تو تھا کہ جاپ کرتے سمے میں کسی دوجی اور (طرف) دھیان نہیں دے سکتی۔ اور یہ بات تو تم اوش نہیں بھولے ہوگے کہ میں نے تمہیں کیا اپدیش دیا تھا؟ یدی تم نے کسی ناری سے شریر کا سمندھ جوڑا تو میں تمری سہائتا نہیں کر پاؤں گی اور تمرے بیری ایسے ہی کسی اوسر کی تاک میں ہیں‘‘ اس نے مجھے یاد دلایا۔

’’پرنتو اب میں آگئی ہوں جو کچھ بسنتی اور کالی داس نے تمرے سنگ کیا ہے جانتی ہوں۔ دیکھنا رادھا انہیں کیسی شکشا دیتی ہے؟‘‘ اس کا لہجہ نرم تھا۔

’’جس نے جو بھی کیا اچھا نہیں کیا لیکن میں کسی کو قصور وار نہیں ٹھہراتا کیونکہ غلطی میری تھی۔ میں ہی اپنی راہ سے بھٹک گیا تھا۔ سب کچھ میری نادانی کی وجہ سے ہوا۔ میں تمہیں بھی قصور وار نہیں سمجھتا رادھا! تم نے کئی بار مشکل وقت میں میری مدد کی ہے میں تمہارا احسان کبھی نہ بھول پاؤں گا‘‘ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
اس کا حیران ہونا بجا تھا کہاں تو میں اسی کی قربت کے لئے بے چین رہا کرتا اور آج خود ہی اجتناب برت رہا تھا۔

’’جو ہو چکا وہی کافی ہے۔‘‘ میں نے بیزاری سے کہا۔

’’موہ۔۔۔‘‘ وہ شاید موہن کہنے جا رہی تھی لیکن میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

’’یہ آج تم کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہے ہو؟ کیا تم اپنی داسی سے اتنے ناراج ہو؟ میں جانتی ہوں کالی داس اور بسنتی نے بہت انیائے کیا ہے پرنتو میں تمہیں اس کا کارن بتا چلی ہوں کہ اس سمے کیوں نہ آپائی۔ بسنتی نے میرے سنگ و شواس گھات کیا ہے ۔یدی مجھے کھبر ہوتی کہ وہ کلٹا من میں کیا ٹھانے بیٹھی ہے تو میں جاپ چھوڑ کر آجاتی۔ پرنتو۔۔۔‘‘اتنا کہہ وہ سوچ میں کھو گئی۔

’’موہن! جب کوئی داسی اپنے دیوتاؤں کے چرنوں میں جاتی ہے تو اسے سنسار سے واسطہ توڑنا پڑتا ہے یدی وہ ایسا نہ کرے تو دیوتاؤں کے شراپ سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ پھر بھی مجھے کھبر ہو جاتی تو میں ترنت تمری سہائتا کرنے پہنچ جاتی‘‘ اس کے لہجے میں تاسف تھا۔ وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ میں اس سے خفا ہوں۔
’’یہ سب فضول باتیں ہیں میں ایسی خرافات پر یقین نہیں رکھتا۔ جہاں تک تعلق ہے بسنتی کے دھوکے کا۔۔۔تو تم خود ہی اسے میرا نگہبان مقرر کر گئی تھیں۔ تمہیں کیا پتا اس بدبخت کی وجہ سے میں کتنی بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا؟ اگر کالی داس میری مدد نہ کرتا تو آج شاید میں زندہ نہ ہوتا۔‘‘

’’بھگوان نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔‘‘ وہ تڑپ کر بولی۔

’’مجھے جانکاری مل گئی تھی تم کشٹ بھوگ رہے ہو۔ پرنتو کالی داس نے مجھے پراپت کرنے کے کارن یہ سارا سوانگ رچایا تھا۔ اس نے کھد ہی سب کچھ کیا پھر تمرا متر بننے کے کارن تمری سہائتا کی۔ میں سب جانتی ہوں پرنتو اس سمے میں جاپ چھوڑ کر آتی تو دیوتا میری شکتی چھین لیتے اور وہ دھشٹ کالی داس ایسے ہی کسی اوسرکی تاک میں تھا، اسی کارن میں نے جاپ نہ چھوڑا‘‘ میرے چہرے پر بیزاری کی کیفیت دیکھ کر وہ بولی۔
’یدی تمہیں وشواس نہیں تو یہ بتاؤ جو منش تمری پھوٹو (تصویر) بنانے آیا تھا وہ ایسا کیے بنا کیوں چلا گیا؟ میں کھد تو نہ آسکی پرنتو اپنی شکتی کے جور سے میں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ یدی کالی داس تمری سہائتا نہ کرتا تو میں اپنی شکتی سے سب کچھ ٹھیک کر لیتی‘‘ اس نے مجھے یقین دلانے کے لیے دلائل دینا شروع کر دیے۔

’’میں تمہاری کسی بات سے انکار نہیں کرتا لیکن اب میں ان سب باتوں سے تنگ آچکا ہوں۔ تم لوگوں کے آپس کے جھگڑوں نے مجھے کہیں کا نہ رکھا۔ کالی داس تمہیں حاصل کرنا چاہتا ہے اس لئے وہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ یہ بات تم نے ہی مجھے بتائی تھی۔ اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو وہ بدبخت بھی مجھ سے کوئی واسطہ نہ رکھے گا۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ تم اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاؤ اور مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہنے دو‘‘

حسین آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔

’’یدی مجھے وشواس ہوتا وہ دھشٹ میرے جانے سے تمرا پیچھا چھوڑ دے گا تو میں تمرے پریم کی کھاطر یہ بھی کر لیتی پرنتو میں جانتی ہوں وہ پاپی تمہیں سکھی نہ رہنے دے گا۔ اسی کارن میرا تمرے سنگ رہنا جروری ہے‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔ میرے رویے سے وہ بہت دکھی ہوگئی تھی۔

ی
’’جب تم چلی جاؤ گی تب میرا پیچھا کیوں کرے گا؟‘‘ مجھے حیرت ہوئی۔

’’اس پاپی نے یہ سب کچھ اس کارن کیا تھاکہ تمہرے من میں استھان بنا کر مجھے پراپت کر سکے پرنتو تم نے اس کی بات نہ مان کر اسے بہت دکھ دیا ہے۔ اس نے کالی کے مندرمیں سوگندکھائی ہے کہ جب تک وہ تمرا بلیدان کالی کے چرنوں میں نہ کرے گا شانتی سے نہ بیٹھے گا۔‘‘ اس نے بتایا۔

یا
’’یہ کونسی نئی بات ہے وہ تو کب سے اس بات کی آس لگائے بیٹھا ہے لیکن زندگی دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔وہ شیطان میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ رہی بات دیوی دیوتاؤں کی تو میں تمہیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں ان خرافات پر یقین نہیں رکھتا۔ ‘‘ میں نے بڑے ٹھوس لہجے میں کہا۔ اس کے چہرے پر غصے کی ایک لہر آکر گزر گئی۔

’’میں تم سے دھرم پر کوئی بات نہ کروں گی؟ میرا وشواس کرو میں کیول تم سے پریم کرتی ہوں تم ہی میرا سب کچھ ہو۔ میرے مندر بھی تم اور دیوتا بھی تم‘‘ اس نے بڑے میٹھے لہجے میں کہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ واقعی مجھ سے پیار کرتی تھی میری ذرا سی تکلیف پر وہ بے چین ہو جایا کرتی۔ میری خاطر اس نے کالی داس کو زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔
’اگر رادھا کی مدد سے اس منحوس ڈھانچے کو قبر میں اتار جا سکتا ہے تو مجھے سمجھداری سے کام لینا چاہئے‘‘ میرے اندر سے آواز آئی۔ میں نہیں جانتا یہ خیال خود ہی میرے دل میں آیا تھا یا رادھا کی پراسرار قوت کا کرشمہ تھا۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اب مجھے خیال آتا ہے کہ شاید دوسری بات صحیح ہو لیکن اس وقت یہ سوچ کرمیں نے اپنا رویہ کچھ نرم کرلیا۔

’’لیکن میں تمہاری وجہ سے کیسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا تھا تمہیں کچھ پتا بھی ہے؟‘‘

’’اس سمے میں تم سے شما مانگنے آئی تھی پرنتو تم تو۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ بڑی اداس اور ملول دکھائی دے رہی تھی۔ کافی دیر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔

’’موہن! تم مجھ سے ناراج ہو اس بات کا دکھ نہیں۔ جو پریم کرتے ہیں وہ ایک دوجے پر ادھیکا رکھتے، کیول میری ایک بنتی سوئکار کر لو‘‘ اسکے لہجے میں التجا تھی۔

’’کیا۔۔۔؟‘‘

’’تھوڑا سا سمے نکال میرے سنگ ایک استھان پر جانا ہوگا‘‘ میری آنکھوں میں شک دیکھ کر وہ جلدی سے بولی’’مانتی ہوں تمہیں مجھ پرواش نہیں رہا۔ پرنتو تمہیں میری اور سے کوئی دکھ پہنچے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

ا
’’لیکن کس لئے اورکہاں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’یہ میں ابھی نہیں بتا سکتی۔ کل میں اسی سمے آؤں گی‘‘ وہ میری طرف ملتجی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے جب بھی میں کوئی بات سوچتا وہ مجھے بتا دیتی کہ میں کیا سوچ رہا ہوں بلکہ سپنا کے معاملے میں تو میں بذریعہ سوچ اس سے باتیں بھی کرتا رہا تھا لیکن آج وہ مجھے صرف ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے میرے دل کا حال اس پر ظاہر نہ ہو۔

’’یدی تمہیں مجھ پر اتنا بھی وشواس نہیں رہا تو میں نہیں کہتی‘‘ وہ آبدیدہ ہوگئی۔

’’ایسی بات نہیں رادھا! میں تمہارے ساتھ ضرور جاؤں گا بس یہ بتا دو کہاں جانا ہے اور وہاں کتنا وقت لگے گا تاکہ میں اسی حساب سے چلوں‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’کل اسی سمے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔

’’کتنا سمے لگے گا یہ تو میں بھی نہیں جانتی پرنتو جس کارن میں تمہیں لے جا رہی ہوں وہ سب دیکھ کر تمرا من جرور پرسن ہوگا‘‘ اس نے مبہم سے بات کہی۔

’’ٹھیک ہے کل تم آجانا، اس کے احسانات بہرحال مجھے پرتھے مجھ سے انکار نہ ہوسکا۔

’’جب تم تیار ہو جاؤ تو مجھے آواج دے دینا میں آجاؤں گی‘‘ وہ خوش ہوگئی۔ ’’اچھا اب میں جاتی ہوں کچھ پربند کرنا ہے۔‘‘ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ دوسرے دن بچوں کو سکول چھوڑ کر میں اسی سنسان راستے پر پہنچا تو میں نے رادھا کو آواز دی۔ دوسرے ہی لمحے وہ میری ساتھ والی سیٹ پر ظاہر ہوگئی۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی میٹھی مسکان تھی۔

ا
’’کیسے ہو پریم؟‘‘ اس نے میری جانب دیکھا۔

’’تمہارے سامنے ہوں ‘‘ اس کی راہنمائی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے میں نے کہا۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک گاؤں میں پہنچ گئے۔ جگہ دیکھی بھالی سی لگ رہی تھی غور کرنے پر میں ے پہچان لیا۔ یہ وہی گاؤں تھا جس کے قریب میری گاڑی خراب ہوئی تھی اور میں ایک شخص کی مدد سے کسی مکینک کی تلاش میں کالی داس کے چنگل میں پھنس گیا تھا۔ آج بھی اس اذیت کو محسوس کرکے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر ملنگ اپنے لعاب سے میرا علاج نہ کرتا تو نہ جانے میرا کیا حال ہوتا؟‘‘
’اس استھان کو جانتے ہو؟‘‘ میں اپنی سوچوں میں غرق تھا کہ رادھا کی آواز سن کر چونک گیا۔

’’اس جگہ کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟‘‘ مجھے جھرجھری سی آگئی۔ آج بھی گاؤں میں کوئی متنفس دکھائی نہ دے رہا تھا۔ انسان تو کجا ایک جانور بھی نہ تھا۔ عجیب سی وحشت ہر سو برس رہی تھی۔

’’کیا یہاں کوئی نہیں رہتا؟ اس دن بھی میں نے کسی انسان کی صورت نہ دیکھی جب کالی داس مجھے گھیر کر لایا تھا۔ آج بھی صورت حال ویسی ہی ہے‘‘ میں نے حیرت سے چاروں طرف دیکھ کر پوچھا۔

’’ تھوڑا سمے اور انتجار کر لو‘‘ رادھا مسکرا کر بولی۔ رادھا کے کہنے پر میں نے اسی مکان کے سامنے گاڑی روک لی۔ وہ یکدم میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
میں نے گاڑی سے نیچے اتر کر اسے لاک کیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

’’اندر آجاؤ پریتم!‘‘ رادھا دروازہ کھولے کھڑی تھی۔ میں اس کے پیچھے اندر داخل ہوگیا۔ ہر شے اسی طرح پڑی تھی۔ سامنے وہی کچا کمرہ تھا جہاں مجھے کالی داس نے بے پناہ اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں خاموش سے رادھا کے پیچھے چلتا کمرے میں داخل ہوگیا۔ دن کے اجالے کے باوجود کمرے میں تاریکی تھی۔ دھوپ سے آنے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں کچھ دیر دروازے میں کھڑا آنکھوں کو اندھیرے سے ہم آہنگ کرتا رہا۔ رادھا نے اپنا خوبصورت ہاتھ ہلایا اس کے ساتھ ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی جو چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔ کمرے کا ماحول آج بھی ویسا ہی تھا۔ رادھا بڑی تمکنت سے چلتی کمرے میں بچھی واحد چارپائی پر بیٹھ گئی۔

’’یہاں آجاؤ میرے پاس‘‘ اس نے کہا۔ تنہائی میں اس کا قرب مجھے پاگل بنا رہا تھا۔ میں نے بمشکل اس کے سراپے سے نظریں ہٹا کر کمرے کا جائزہ لیا۔

’’پریم۔۔۔‘‘ اس نے بانہیں وا کر دیں۔

’’آؤ میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ آنکھوں میں پیار کی جوت لیے وہ میری منتظر تھی۔

’’رادھا! میں تم سے کہہ چکا ہوں ہمارے مذہب میں غیر محرم مرد عورت کا تعلق حرام ہے۔ اگر تم س مقصد کے لیے مجھے لائی ہو تو میں واپس جا رہا ہوں۔‘‘ میں نے بمشکل دل پر جبر کرکے کہا۔ میرے انکار پر اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ کچھ دیر وہ غصے کی کیفیت میں مجھے دیکھتی رہی پھر ٹھنڈی سانس اس کے منہ سے خارج ہوگئی۔
continued

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.