ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 33
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
سنائپر(قسط نمبر 33
ریاض عاقب کوہلر
مجھے بیرٹ کا تھیلا کھولتے دیکھ کر قابل خان نے جلدی سے کہا ۔”ویسے سردار خوشحال خان کا مورچہ فائر کرنے کے لیے زیادہ مناسب رہے گا کہ وہاں سے چاروں جانب فائر کیا جا سکتا ہے ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پلوشہ کو کہا ۔”تیار ہو جاﺅ۔“اس نے ابھی تک منھ پھلایا ہوا تھا ۔مجھے کوئی دیے بغیر اس نے جلدی جلدی دونوں سلپنگ بیگ تھیلے میں ڈالے اور تھیلے کو مورچے سے باہر پتھر کی آڑ میں پھینک کر خود بھی سرعت سے مورچے سے باہر پتھر کی اڑ میں ہو گئی ۔اسی وقت ایک گولی سامنے والے پتھر سے ٹکرائی ۔گویا ان کے سنائپرز گھات میں تھے ۔
”راجو !....ابھی تک نہ آنا ۔“پتھر سے ٹکراتی ہوئی گولی اسے بھی نظر آ گئی تھی ۔میری جان خطرے میں دیکھتے ہوئے اس نے ناراضی ختم کرتے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک سنائپر اگر گولی چلانا جانتا ہے تو اسے گولی سے بچنے کے بھی طریقے آتے ہیں ۔میں نے فوراََ ہلکی چادر کا گولہ بناکرکلاشن کوف کی بیرل پر لپیٹا، اس پر اپنی ٹوپی رکھی اور بیرل کو ذرا سا آڑ سے نکالا ۔اگلے ہی لمحے ایک گولی شوں کرتی ہوئی ٹوپی سے چند انچ اوپر سے گزر گئی ۔ وہ درمیانے درجے کا سنائپر تھا ورنہ گولی کو ٹوپی میں پیوست ہو جانا چاہیے تھا ۔گولی کے شوں کر کے گزرتے ہی میں چھلانگ لگا کر مورچے سے باہر نکلا ایک سیکنڈ کے وقفے میں پلوشہ کے پاس آڑ کے پیچھے ہو گیا ۔ میں جانتا تھا کہ رائفل کو کاک کرکے دوبارہ شست لینے میں سنائپر کو دو تین سیکنڈز لگ جانے ہیں ۔اس وجہ سے میں خوف کھائے بغیر یہ حرکت کر گزرا تھا ۔بیرٹ کا تھیلا میں نے پہلے سے پشت پر لادا ہوا تھا ۔سفید ٹوپی اپنے سر پر رکھ کر میں نے کلاشن کوف کی بیرل سے لپٹا کپڑا کھولنے لگا ۔
قابل خان نے تعریفی لہجے میں کہا ۔”ذیشان بھائی !....بہت اچھے انداز میں دھوکا دیا ہے دشمن کو ۔“
میں جواباََ بولا ۔”جنگ میں تو یہ دھوکا بازی چلتی رہتی ہے بھائی ۔“
مجھے بہ حفاظت آڑ میں پہنچتا دیکھ کر پلوشہ کے چہرے پر چھائے بے چینی کے آثار گہرے اطمینان میں ڈھل گئے تھے ۔اس جگہ سے خوشحال خان کے مورچے تک ہمیں ایک بڑی چٹان کی آڑ میسر تھی ۔ہم جھکے جھکے آگے بڑھنے لگے ۔خوشحال خان کا مورچہ واقعی ایک بہترین جگہ پر موجود تھا ۔وہ کافی پریشان نظر آ رہا تھا اوروائرلیس پر مسلسل اپنے آدمیوں کو مورچے میں دبکے رہنے کا حکم جاری کر رہا تھا ۔ وہاں پہنچتے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ ایک اور آدمی سنائپر کی گولی کا شکا ر بن چکا تھا ۔مقتول کو سر میں گولی لگی تھی ۔
میں نے خوش حال کے مورچے میں پہنچتے ہی جلدی سے بیرٹ ایم 107کا تھیلا کھولا اوردوربین پلوشہ کی جانب بڑھا کر کہا ۔
”احتیاط سے جائزہ لو کہ دشمن کس کس جگہ تھوڑ بہت نظر آ رہا ہے ۔“اور خود رائفل کے پرزے جوڑنے لگا ۔رائفل جوڑتے ہی میں نے دس گولیوں والی میگزین لگا کر رائفل کاک کی اور اس کے پیچھے لیٹ کر پہلے شمال کی جانب دیکھا۔مگر اس طرف فاصلہ کم ہونے کی وجہ جہانداد کے آدمی آڑ میں تھے ۔ شمال کی سمت سے میں نے مشرق کی سمت شست تبدیل کی تو اچھی خاصی حرکت ہوتی نظر آ گئی۔ تین آدمی دو درختوں کے تنے کے عقب میں بیٹھے غالباََ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ۔دونوں تنوں کے درمیان میں فٹ بھر کا فاصلہ تھا جس سے دو آدمیوں کے سر اور ایک کے کندھے کا تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا تھا ۔آگے مورچے میں ایک آدمی پتھروں پر اپنی کہنی ٹیکے ہمارے جانب فائر کر رہا تھا ۔اس کا اوپری جسم بالکل میرے سامنے تھا ۔میں نے لیزر رینج فائینڈر سے فاصلہ ناپا وہ قریباََ بارہ سو میٹر دور تھے ۔میں ٹیلی سکوپ سائیٹ کی ایلی ویشن ناب کے ذریعے مطلوبہ رینج لگانے لگا ۔
پلوشہ ابھی تک شمال کی جانب کوئی حرکت ڈھونڈ رہی تھی ۔اچانک وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”لگتا ہے درختوں کے اوپر ایک آدمی چھپا بیٹھا ہے ۔اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا مگر ٹہنیوں کی حرکت سے پتا چلتا ہے کوئی موجود ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،اس جگہ کو ذہن میں رکھ کر اور اہداف بھی تلاش کرو ۔“اسے کہہ کر میں قابل خان کی طرف متوجہ ہوا ۔
”قابل خان !....اگر دوربین پاس ہے تو ذرا اس طرف دیکھنا ۔“میں نے انھی دو موٹے تنے والے درختوں کی جاب اشارہ کیا جس کے عقب میں دشمن کھانا تناول فرما رہے تھے ۔
قابل خان نے کہا ۔”دوربین بھی ہے اور میں ان آدمیوں کو دیکھ بھی چکا ہوں ،لیکن فاصلہ کچھ زیادہ لگتا ہے ۔شاید وہاں تک گولی نہ پہنچے ۔“
”بس انھی کی جانب دیکھتے رہو ۔“قابل خان کو کہہ کر میں نے دائیں جانب بیٹھے آدمی کے سر پر شست باندھ لی ۔جس کے چہرے کی ایک طرف ہی نظر آرہی تھی ۔وہ شخص جو بالکل میری جانب رخ کیے بیٹھا تھا وہ ذرا آسان ہدف تھا اور اسے میں نے دوسری گولی کے لیے چنا تھا ۔دوتین سیکنڈ شست لے کر میں نے ٹریگر دبایا اور اس کے ساتھ ہی ایک سیکنڈ سے کم وقفے میں رائفل کو دوبارہ کاک کرتے ہوئے دوبارہ گولی داغ دی ۔پہلے والے کو گولی لگتے دیکھ کر قابل خان نے نعرہ لگایا ۔”وہ مارا ....“اس کے پہلے نعرے کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ دوسرے کی کھوپڑی میں بھی روشن دان کھل گیا تھا ۔
”دوسرا بھی گیا ۔“ قابل خان دوبارہ چہکا ۔
میں نے فوراََ اپنی شست اس جانب موڑی جہاں ایک آدمی کا اوپری دھڑ مورچے سے باہر نظر آ رہا تھا ۔میں ان کے سنبھلنے تک چند ایک کو جہنم رسید کر دینا چاہتا تھا ۔وہ اسی جانب متوجہ تھا جہاں دو آدمی میری گولی کا نشانہ بنے تھے ۔یقینا ان کے تیسرے ساتھی نے چیخ کر واویلا کیا تھا جو وہ اس طرف متوجہ ہوا تھا ۔لیکن احمق کی سمجھ میں یہ نہیں آیا تھا کہ خود آڑ میں ہو جاتا ۔بیرٹ ایم 107کی طاقتور گولی نے اسی پیچھے کی جانب اچھال دیا تھا ۔
اسی وقت کسی کی زور شور سے چیختی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ تمام کو آڑ میں ہونے کا کہہ رہا تھا ۔ میں نے حیرانی سے مڑ کر دیکھا ۔خوش حال خان نے ایک آئی کام بھی پاس رکھا ہوا تھا جس پر دشمن ایک دوسرے سے رابطہ رکھے ہوئے تھے ۔
”شاباش ذیشان بھائی !تین تو گئے کام سے ۔“قابل خان میری پیٹھ تھپکتے ہوئے بولا ۔ ”ویسے آپ کو بہت پہلے یہ رائفل استعمال کر نی چاہیے تھی ۔“
”پلو خان !....اب اس جگہ کی نشان دہی کرو ۔“بیرٹ کی بیرل کو شمال کی جانب موڑ کر میں پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔چونکہ خوشحال خان کو ابھی تک میں نے پلوشہ کے لڑکی ہونے کی بابت نہیں بتایا تھا اس وجہ سے میں نے اسے بہ طور لڑکا ہی مخاطب کیا تھا ۔قابل خان کومیں پہلے ہی سے منع کر چکا تھا کہ وہ کسی دوسرے کو پلوشہ کی اصلیت سے آگاہ نہ کرے ۔کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ۔گو لڑکے کا روپ دھارنے کے باوجود اس کے نین نقش ایسے تھے کہ ہر آدمی بے اختیار اسے گھورنے لگتا ،لیکن اس کا لڑکی ہونا معلوم ہونے پر یقینا لوگوں کی دلچسپی اس میں اور بڑھ جانا تھی ۔
وہ مجھے مطلوبہ جگہ دکھانے لگی ۔وہاں تین درختوں کے تنے ایک ساتھ ملے ہوئے تھے اور ان کی ٹہنیوں نے مل کر ایک جال سا بنا دیا تھا ۔کسی بھی سنائپر کے لیے وہان مچان بنانا بالکل آسان تھا ۔میں نے بیرٹ کی طاقتور ٹیلی سکوپ سائیٹ سے اس درخت کا جائزہ لیا ٹہنیوں کا مصنوعی گھنا پن فورا ظاہر ہو گیا تھا ۔جب پلوشہ کو وہاں کسی آدمی کے چھپے ہونے کا شک ہو گیا تھا تو میرے جیسے باریک بین سنائپر کے لیے اسے دیکھنا کیا مشکل تھا۔جلد ہی مجھے اس کی رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کی چمک دکھائی دے گئی تھی۔ وہ چونکہ شمال کی جانب موجود تھا اور سورج اس وقت تقریباََ میری پشت پر چمک رہا تھا اس وجہ سے اس کے ٹیلی سکوپ کے شیشے کی چمک مجھے آسانی سے نظر آ گئی تھی ۔ٹیلی سکوپ کے شیشے کو دیکھنے کے بعد میرے لیے سنائپر کے بقیہ جسم کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں تھا ۔دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے سنائپر کی داہنی آنکھ ہمیشہ آئی گلاس کے ساتھ لگی رہتی ہے ۔جبکہ بائیں آنکھ بند ہوتی ہے ۔اس کی کھوپڑی کا آنکھوں سے اوپر والا حصہ شیشے سے قریباََ تین چارانچ اوپر ہوتا ہے ۔اس درخت کا ہوائی فاصلہ بہ مشکل ساڑھے چھے سو گز تھا ۔بیرٹ ایم 107جیسی سنائپر رائفل کے بعد اس فاصلے کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔رینج لگا کر میں نے چمکتے شیشے سے ایک انچ اوپر شست لی ۔ٹریگر دباتے ہی اس درخت میں جیسے بھونچال آ گیا تھا زور سے تڑپتے ہوئے وہ سنائپر پیچھے کو گرا اور پھر اسی درخت سے الٹا لٹکنے لگا ۔بے چارے کا پاﺅں کہیں اوپر اٹک گیا تھا ۔میں نے اپنی شست وہیں باندھے رکھی کیونکہ اسے اتارنے کے لیے کسی نے تو آنا تھا ۔
ایک دم دشمن کی جانب سے ہتھیاروں کے دھانے کھل گئے ۔گولیاں جیسے بارش کی طرح برس رہی تھیں ۔میں اس فائر کا مقصد جانتا تھا ۔وہ فائرنگ کے زور میں اپنے سنائپر کی لاش اتارنا چاہتے تھے۔ میں گولیوں کے شور سے بے نیاز اسی لاش کی جانب متوجہ رہا ۔یوں بھی کلاشن کوف سے اتنے فاصلے پر کسی کو بھی شست لے کر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔البتہ اتفاقاََ کسی کو گولی لگ جانا ایک دوسری بات ہے۔ اس متعلق شاید میں پہلے بھی قارئین کو بتا چکا ہوںکہ ہر ہتھیار کی کارگر رینج اور وہ فاصلہ جہاں تک اس ہتھیار کی گولی نقصان پہنچا سکتی ہے یہ مختلف ہوتی ہے ۔وہ ہتھیار جن کے ساتھ ٹیلی سکوپ سائیٹ نہیں لگی ہوتی ان پر مکینکل سائیٹ سے فائر کیا جاتا ہے ۔اور ایسی حالت میں چھوٹے ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ رینج تین سو میٹر ہوتی ہے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کہ گولی تین سو کے بعد کارگر نہیں رہتی ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تین سو میٹر تک ایک فائرر اس ہتھیا ر سے شست لے کر کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ گولی بلاشبہ اس ہتھیار کی دو تین کلو میٹر تک کسی کی جان لے سکتی ہو ۔جیسے پاک آرمی میں استعمال ہونے والی مشہور رائفل جی تھری کی کارگر رینج تو تین سو میٹر ہے لیکن اس کی گولی ساڑھے تین کلو میٹر تک کسی کی بھی جان لے سکتی ہے ۔مکینکل سائیٹ ہر ہتھیار کا حصہ ہوتی ہے جو علاحدہ نہیںکی جا سکتی ۔البتہ جس وقت ٹیلی سکوپ سائیٹ یا نائیٹ ویژن سائیٹ استعمال ہو رہی ہو تب مکینکل سائیٹ استعمال نہیں ہوتی ۔ مکینکل سائیٹ پر سنائپر رائفل کا رینج بھی اصل رینج سے کم ہو کر تین سو رہ جاتا ہے ۔
ان کے لاش اتارنے کی بابت میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا ۔ایک آدمی نے درخت کے تنے کی آڑ لے کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر لٹکتی ہوئی لاش تک رسائی حاصل کرنا چاہی مگر لاش اس سے دور تھی مجبوراََ ایک قدم آگے بڑھا کر اس نے لٹکتی لاش کے کندھوں سے تھام کر نیچے کی طرف جھٹکا دیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے بھی ٹریگر دبادیا تھا ۔درخت سے لٹکتی لاش اور اسے نیچے اتارنے والا اکھٹے ہی نیچے گرے تھے۔ البتہ لاش اتارنے والے بے چارے کی قسمت میں چند لمحے تڑپنا باقی تھا ۔
اسی وقت آئی کام پر دشمن کے کسی کمانڈر کی چیختی ہوئی آواز آئی ۔”لاشوں کے قریب کوئی نہیں جائے گا ۔اور نہ کوئی بے وقوف آڑ سے سر باہر نکالے گا ۔جب سب کو معلوم ہے کہ وہ خبیث وہیں چھپا ہے تو بے احتیاطی نہ کرو۔“
”یہ خبیث کس کو کہہ رہا ہے ۔“قابل خان نے میرے قریب بیٹھ کر میری پیٹھ تھپکتے ہوئے پوچھا ۔
میں کھسیانی ہنسی سے بولا ۔”کیا پتا ؟“
”یقینا آپ وہی ایس ایس ہیں جس کی تعریف کافی ہفتوں سے سنتا آ رہا ہوں ،مگر یقین نہیں آتا تھا ۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔“کافی دیر سے خاموش بیٹھے خوشحال خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔
”سردار کیا اس کی گولیاں مل سکتی ہیں؟“میں نے تھیلے میں سے بیرٹ ایم 107کی ایک گولی نکال کر اس کی جانب بڑھائی ۔
گولی کو گھورتے ہوئے وہ پر خیال لہجے میں بولا ۔”ملنی تو چاہیں ۔“
میں نے دبے دے جوش سے پوچھا ۔”مگر کہاں سے ؟“
”وانہ میں ہوں گی ،نہیں تو افغانستان سے تو لازماََ مل جائیں گی ۔“
”پھر کیا فائدہ ۔“میرا جوش صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
”فائدے سے آپ کی کیا مراد ہے ؟“قابل خان ہماری گفتگو میں مخل ہوا ۔
”آپ کو پہلے بھی بتایا ہے کہ اس کی گولیاں کم ہیں اور ہمیں مزید گولیوں کی ضرورت پڑے گی ورنہ اس رائفل کو اٹھائے پھرنا ایک بے کار وزن ہی تو ہے ۔“
”تو بھائی کہہ تو رہا ہے وانہ یا افغانستان سے مل جائیں گی ۔“
میں بے بسی سے ہنسا ۔”وہاں جائے گا کون ؟“
”وانہ تو ابھی ایک آدمی کو روانہ کردیتے ہیں ،اگر یہاں سے نہ ملیں تو کل سویرے کسی کو افغانستان بھیج دیں گے ۔“
”اور یہ جو چاروں طرف جہانداد خان کے آدمیوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے ؟“میں نے اسے اصل مسئلے کی طرف متوجہ کیا ۔
”دونوں قبیلے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو کچھ نہیں کہیں گے ۔ہمارے قیلے کے عمر رسیدہ مرد موٹر سائیکل پر بیٹھ کر آسانی سے وانہ یا کہیں اور جا سکتے ہیں ۔“
”بہت اچھا ....“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا ۔”پھر کسی کو ابھی بھیج دو ۔“
”ٹھیک ہے لیکن گولی کا نمونہ بھیجنے کے بجائے آپ اس رائفل کا نام لکھ دیں ۔“
میں نے کوئلے سے ماچس کی ڈبی کی اندر ونی جانب بیرٹ ایم 107کا نام لکھ کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
”یہ میں خود کسی کو دے کر آتا ہوں ۔“ماچس کی ڈبی کا ٹکڑا جیب میں ڈال کر وہ مورچے سے نکل گیا ۔
پرشور فائرنگ ایک مرتبہ پھر اکا دکا فائر میں تبدل ہوگئی تھی ۔پلوشہ ہماری باتوں سے بے نیاز دوربین آنکھوں سے لگائے دشمن کی نقل حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی ۔میں نے بھی دوبارہ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے پر آنکھ ٹکا دی ۔
پلوشہ نے مجھے مطلع کرتے ہوئے کہا ۔”دو آدمی ایک دم درختوں سے اتر کر نیچے پتھروں میں چھپ گئے ہیں ۔“
”اسی وقت بتانا تھا ۔“
”آپ سردار سے محو گفتگو تھے ۔جب تک آپ شست لیتے وہ غائب ہو چکے ہوتے ۔“
”یقینا وہ دونوں بھی سنائپر تھے اور اپنے ساتھی کا انجام دیکھنے کے بعد انھوں نے نیچے اترنے میں عافیت سمجھی ۔“
”ایس ایس کا نام بڑوںبڑوں کاپتّہ پانی کر دیتا ہے ۔“پلوشہ فخریہ انداز میں ہنسی ۔
”تمھیں تو کبھی ڈر نہیں لگا ۔“میں نے اپنی شست شمالی پہاڑی سے مشرقی پہاڑی پر منتقل کرتے ہوئے مزاحیہ لہجے میں کہا ۔
اس نے پیچھے مڑ کر خوشحال خان کو دیکھا جو اس وقت اپنے آدمیوں کو نئے احکام جاری کر رہا تھا۔ اسے مصروف دیکھ کر وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔
”مجھے اپنے راجو سے کیوں کر ڈر لگنے لگا ۔“میرے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے وہ لاڈ بھرے لہجے میں بولی ۔
میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔”جس وقت پھینٹی لگائی تھی اس وقت بھی ڈر نہیں لگا تھا ۔“
” ڈر نہیں لگا تھا بس غصہ آیا تھا ۔اور اس کے بعد اگر آپ سردار بھائی کے سامنے مجھے پٹائی کرنے کی وجہ بیان نہ کرتے تو شاید میں اسی رات آپ پر حملہ کر دیتی ۔“
”اور وجہ سن کر آپ نے مجھے معاف کر دیا ہیں نا ۔“ہم دونوں دبی زبان میں باتیں کر رہے تھے تاکہ خوشحال خان تک ہماری آواز نہ پہنچ جائے ۔مگر ہماری احتیاط بے کار تھی کیونکہ وہ مورچے کے دوسرے کونے میں بیٹھا ہر آدمی سے تازہ صورت حال پوچھ رہا تھا ۔سردار کا اپنا مورچہ اس پہاڑی کے تقریباََ درمیان میں تھا اور وہ کوئی چھوٹی سی پہاڑی نہیں تھی کافی پھیلی ہوئی اور وسیع پہاڑی تھی ۔اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وہ قبیل خان کے قبیلے سے یہیں پر رہ کر جنگ لڑ چکے تھے ۔قبیل خان کے آدمیوں کا جسمانی حملہ روکنے کے لیے پہاڑی کے نچلے حصے میں بھی اس کے آدمی موجود تھے ۔مگر وہ ایسے مضبوط مورچوں میں تھے کہ نشیب میں ہونے کے باوجود دشمن کے فائر سے محفوظ تھے ۔خوشحال خان کے لشکر کے زخمی اور مرنے والے تمام آدمی بلندی کے مورچوں ہی پرنشانہ بنے تھے ۔نیچے والوں کو ایک فائدہ گھنے درختوں کا بھی حاصل تھا ۔اور گھنے درختوں ہی وجہ سے خوشحال خان نے آدمی نشیب میں رکھے تھے کہ ان درختوں کا فائدہ اٹھا کر دشمن آسانی سے اوپر تک پہنچ سکتا تھا ۔
”نہیں معاف نہیں کیا تھا فدا ہو گئی تھی ۔پلوشہ نے محبت سے لبریز لہجے میں جواب دیا ۔”یہ تو خیر میں پہلے سے جانتی تھی کہ میں خوب صورت ہوں ،لیکن یہ معلوم نہیں تھاکہ اتنی خوش قسمت بھی ہوں ۔“
”اپنی خوب صورتی کی بہت دعوے دار ہو ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“اس نے حسب سابق فخریہ لہجے میں کہا ۔اور دوربین دوبارہ آنکھوں سے لگا لی ۔وہ شمال کی طرف موجود پہاڑی میں دشمنوں کو کھوج رہی تھی اور میں مشرقی پہاڑی پر اپنی شست گاڑے ہوئے تھا ۔مشرقی پہاڑی کی بلندی سے ایک آدمی درختوں کی آڑ لے کر مجھے نیچے اترتا نظر آیا ۔میں نے اس کا فاصلہ ناپا ،وہ قریباََ ڈیڑھ کلومیٹر دور تھا ۔اترائی میں آنے کی وجہ سے اس کا فاصلہ کم ہو رہا تھا ۔مگر وہ بڑی احتیاط سے حرکت کر رہا تھا ۔ایلیویشن ناب کو مطلوبہ رینج پر گھما کر میں نے اسی پر شست باندھ لی ۔میں اس کی کسی غلطی کا منتظر تھا ۔جلد ہی اس نے مجھے یہ موقع دے دیا ۔ایک بڑے پتھر کی آڑ میں ہو کر اس نے اپنا سرپتھر سے اوپر نکالا اور ہماری پہاڑی کا جائزہ لینے لگا ۔اگر میری پہلے سے اس پر نظر نہ ہوتی تو یقینا اتنے فاصلے سے پتھر کی آڑ سے نکلا ہوا اس کا سر نہ دیکھ پاتا ۔میں نے سرعت سے اس کا فاصلہ دوبارہ ناپا اور مطلوبہ رینج لگا کر شست لیتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک۔“کی آواز سنتے ہی خوشحال خان نے کہا ۔”میرا خیال ایک اور اپنے سردار قبیل خان کے پاس پہنچ گیا ہے ۔“
”آپ کے اندازے کو کون غلط کہہ سکتا ہے سردار۔“
”یقین کرو آپ نے میرے دل سے اپنے مرنے والے آدمیوں کے غم کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے ۔ اب مجھے اطمینان ہے کہ جہانداد ہی گھٹنے ٹیکے گا ۔اور ایک دودن کے اندر جرگہ بلانے کا سوچے گا ۔“
”آپ بس اس رائفل کی گولیوں کا بندوبست کریں باقی کا م مجھ پر چھوڑ دیں ۔“
”گولیاں امید ہے کل صبح تک پہنچ جائیں گی ۔نہیں تو اگلی صبح کو تو لازماََ پہنچیں گی ۔“
پلوشہ نے مجھے پکارا ۔”راجو !....حرکت نظر آ رہی ہے ۔“
”کس طرف ۔“میں فوراََ اس کی جانب متوجہ ہو گیا ۔
اس نے مطلوبہ درخت کی نشاندہی کی ۔وہ بھی مچان بنی ہوئی تھی اور اندر بیٹھے اناڑی سنائپر کے حرکت کرنے کی وجہ سے ٹہنیاں ہلنے لگی تھیں ۔گو اس علاقے میں پہاڑ ی بلندیوں پر عموماََ تیز ہوا چلتی رہتی ہے ،لیکن اس دن خوش قسمتی سے ہوا بالکل ساکن تھی ۔سات سو میٹر دور اس درخت پر شست سادھ کر میں چھپے ہوئے آدمی کی جگہ کا تعین کرنے لگا ۔
اتنے فاصلے سے گھنی جھاڑیوں کے اندر آدمی پہچان نہیں ہو سکتی ۔اور اگر وہ بے حس و حرکت بیٹھا رہتا تو یقینا میں اس کی جگہ کا تعین نہ کر سکتا ۔مگر انسان کی فطرت ہے کہ وہ مسلسل ساکن نہیں بیٹھ سکتا ۔ البتہ کسی سنائپر کو کڑی تربیت کی بھٹی سے گزار کر اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ بے حس و حرکت کئی کئی گھنٹے گزار دے ۔چیونٹیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے پر بھی حرکت نہ کرے اور نہ انھیں اپنے جسم سے دور جھٹکے ۔استاد راﺅ تصور صاحب تو اپنے ایک دوست سنائپر کا واقعہ سنایا کرتے کہ دشمن کے علاقے میں ایک بار انھیں دو مرتبہ بچھو نے ڈسا لیکن وہ اسی طرح بے حس و حرکت بیٹھے رہے ۔اور یہی خصوصیات ایک اچھے اور اناڑی سنائپر میں فرق کرتی ہیں ۔میرے ہدف، سنائپر سے بھی زیادہ دیر ساکن نہ بیٹھا رہا گیا اور اس نے پہلوتبدیل کر تے ہوئے حرکت کی ۔ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی رائفل کو نیچے رکھا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں اس کی ساری جسمانی ہیئت کا خاکہ بن گیا تھا ۔اسی وقت پلوشہ نے مجھے دوبارہ آواز دی ۔
”راجو !....وہ پھر حرکت کر رہا ہے ۔“
”ہاں چندا !....بس اب اس کی زندگی کا آخر بار حرکت کرنا باقی رہ گیا ہے ۔“یہ کہتے ہی میں نے ٹریگر دبا دیا ۔“درخت کی شاخوں میں زور دار حرکت پیدا ہوئی اور منٹ بھر وہ حرکت قائم رہی ۔یقینا گولی اسے سر میں نہیں لگی تھی ورنہ وہ اتنی دیر نہ تڑپتا ۔آہستہ آہستہ درخت کی ٹہنیاں پر سکون ہوتی گئیں ۔ اس کا مچان یقینا اچھے طریقے سے بنایا گیا تھا کہ وہ نیچے نہیں گرا تھا ۔
”راجو !....اگر آپ کی باقی ساری خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی آپ کی نشانہ بازی کی صلاحیت مجھے دیوانہ بنانے کے لیے کافی ہے ۔“
”بچے !....ذیشان بھائی کے تو ہم بھی دیوانے ہو گئے ہیں ۔“جانے کس وقت خوشحال خان ہمارے پیچھے آکر دوربین آنکھوں سے لگائے اسی جانب دیکھ رہا تھا ۔شاید جس وقت مجھے پلوشہ نے ہدف کے بارے بتلایا تھا اسی وقت وہ اپنی گفتگو چھوڑ کر ہمارے قریب آگیا تھا ۔
پلوشہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔وہ دوبارہ بولا ۔
”میرے حساب میں تو یہ ساتواں تھا ۔“
پلوشہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔”آپ کا حساب بالکل درست ہے سردار!“
”ہمارے دو آدمی جان کی بازی ہارے ہیں ،دو کے مقابلے میں سات آدمی کوئی برا سودا نہیں ہے ۔“اس نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
اچانک تڑتڑاہٹ کی خوف ناک آواز ابھری ،تین چار گولیاں ہمارے مورچے کی عقبی دیوار سے ٹکرائی تھیں ۔میرا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔12.7ایم ایم گن کی تڑتڑاہٹ کو میں اچھی طرح سے جانتا تھا ۔ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے خلاف استعمال کی جانے والی یہ گن جتنی تباہی پھیلا سکتی تھی اس بارے مجھے اچھی طرح معلوم تھا ۔تڑتڑاہٹ کی آواز سنتے ہی خوشحال خان بھی فوراََ بیٹھ گیا تھا ۔
”ایک نئی مصیبت آ گئی ۔“وہ بڑبڑایا۔
میں نے پوچھا ”آپ کے پاس12.7ایم ایم گن موجود نہیں ہے سردار!“
”فی الحال تو موجود نہیں ہے ،البتہ خریدنے کا ارادہ ضرور رکھتا ہوں ۔“
”ہونہہ !....“کہہ کر میں پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔”پلو خان !....اس گن کا مورچہ تلاش کرو۔“
اس نے فوراََ کہا ۔”اسی پر نظر رکھے ہوئے ہوں ۔“
اسی وقت گن ایک مرتبہ پھر گرجی ۔اس مرتبہ پہلے سے بھی لمبا برسٹ فائر کیا گیا تھا ۔ہم دونوں نے فوراََ اس کا مورچہ تلاش کر لیا تھا ۔12.7کی رینج کافی زیادہ تھی لیکن اس کی خامی یہ تھی کہ اس کو فائر کرنے والے کو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر فائر کرنا پڑتا تھا ۔اور اس طرح فائر کرنے والے خود نشانہ بننے کا خطرہ موجود تھا ۔گن کی لمبی ٹانگوں کو اگر مکمل کھول کر بچھا دیا جاتا تو اس کا فائرر عقب میں بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی فائر کر سکتا تھا لیکن اس طرح بھی فائرر کے لیے خطرہ بہ ہرحال موجود ہوتا ۔یوںبھی گن سے فائر کرتے ہوئے ضروری تھا کہ فائرر شست باندھ کر فائر کرے اور گن کو مختلف اہداف پر فائر کرنے کے لیے گھمانا پڑتا ایسی صورت میں مورچے کے ہول کو تھوڑا کھلا بنانا پڑتا اور ہول کا کھلا ہونا سنائپرز کو دعوت دینے والی بات تھی ۔میں نے فوراََ ہول پر شست باندھ لی تھی ۔گن قریباََ تیرہ سو میٹر کے فاصلے پر موجود تھی ۔ درختوں کے جھنڈ میں پتھروں کی ایک دیوار بنا کر اس کے پیچھے گن کو کھڑا کیا گیا تھا ۔بہ غور دیکھنے پر مجھے اس کے پیچھے کوئی بھی کھڑا نظر نہ آیا ۔جو بھی اس گن کے عقب میں موجود تھا یا تو وہ جلدی جلدی ٹریگر دبا کر بیٹھ جاتا ۔یا وہ بیٹھے بیٹھے ہی بغیر شست لیے ٹریگر دبا رہا تھا ۔گن کے دوبارہ گرجنے پر مجھے موخّرالذکر بات صحیح لگی کہ کوئی ہیولہ بھی گن کے پیچھے نظر نہیں آرہا تھا ۔
یہی بات پلوشہ نے بھی پوچھی ۔”راجو !....کوئی فائر کرنے والا تو نظر نہیں آ رہا ۔“
میں نے جواب دیا ۔”وہ بیٹھ کر بغیر شست لیے فائر کر رہا ہے ۔“
یہ معلوم ہونے کے بعد بھی میں اسی جانب نگران رہا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مسلسل فائر کے بعد جونھی گن کی ایک میگزین خالی ہوتی فائرر لازماََ دوسری میگزین چڑھانے کے لیے تھوڑا سا اوپر ہوتا ۔
(12.7ایم ایم گن پر گولیوں کا بیلٹ چڑھا کر فائر کیا جاتا ہے ۔لیکن خود وہ بیلٹ میگزین میں رکھا ہوتا ہے )
جلد ہی مجھے اپنا اندازہ درست ہوتا نظر آیا ۔فائرنگ میں ذرا سا وقفہ آیا ۔کسی نے بیٹھے بیٹھے نئی میگزین گن کے ساتھ لگائی اور گولیوں کے بیلٹ کی پہلی گولی کو مخصوص جگہ پر رکھنے کے لیے اس نے ذرا ساسر اوپر کیا اور بیلٹ کو گن کے فیڈ ٹرے میں رکھنے کی حسرت دل میں لیے وہ پیچھے کو الٹ گیا ۔
میں نے فوراََ رائفل کو دوبارہ کاک کر کے اسی جگہ شست قائم کر لی ۔لیکن اس کے بعد کسی کو یہ بے وقوفی کرنے کا خیال نہ آیا ۔اب اسے سنائپرز کی ہٹ دھرمی کہیں یا ثابت قدمی کہ وہ اتنی جلدی کسی جگہ کی شست لینا نہیں چھوڑتے ۔میں بھی اسی جانب نگران رہا ۔دس پندرہ منٹ بعد پلوشہ نے مجھے ایک اور جانب متوجہ کیا ۔درخت کے عقب میں لیٹے ہوئے آدمی نے سر کا تھوڑا سا حصہ باہر نکال کر شاید کسی سے بات کی تھی ۔میرے شست لینے تک وہ دوبارہ درخت کے عقب میں ہو گیا تھا ۔ایک دو منٹ وہیں شست باندھے رکھنے کے بعد میں اپنی شست دوبارہ مورچے پر لے جا ہی رہا تھا اس نے دوبارہ سر باہر نکالا۔اس مرتبہ اس کا کندھوں تک جسم درخت کی آڑ سے باہر آیا تھا ۔آگے کو جھک کر وہ کوئی چیز اٹھا رہا تھا جو درخت سے تھوڑے فاصلے پر موجود مورچے سے اس کے ساتھی نے پھینکی تھی ۔مذکورہ چیز سگریٹ نسوار یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ہو سکتی تھی ۔میں نے ٹریگر دبا کر موصوف کی جان اس لت سے چھڑادی ۔اب اسے نہ سگریٹ کی ضرورت تھی اور نسوار کی حاجت ۔وہ اسی طرح آدھا درخت کی آڑ سے باہر اور آدھا درخت کے پیچھے پڑا رہ گیاتھا۔
اس ساتھ ہی میں فوراََ اپنی شست 12.7ایم ایم کے مورچے پر لے گیا ۔آخری مقتول 12.7ایم کے مورچے سے پچاس ساٹھ گز کے فاصلے ہی پر ہوا تھا ۔اپنے ساتھی کو گولی لگتے دیکھ کر اس نے سوچا شاید میں کسی اور طرف مصروف ہوں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ گن کو لوڈ کر سکتا ہے ۔یہ غلطی بے چارے کو لے ڈوبی ۔
اسی وقت آئی کام سیٹ دشمن کے کسی کمانڈر کی طرف سے مجھے گندے گندے القابات سے یاد کرتے ہوئے اپنے تمام آدمیوں کو ہلکی سی حرکت سے بھی سختی سے منع کیا جانے لگا ۔
اس کی جھلائی ہوئی ،خوف زدہ اور چڑچڑی آواز سن کر خوشحال قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”ویسے اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ عددی برتری کے باوجود جہانداد خان کو اس لڑائی میں شکست ہو گی ،کیونکہ ہم پر حملہ کرنے کی جرّات وہ کر نہیں سکتا کہ میرے آدمی مورچوں میں تیار بیٹھے ہیں اور اس کے پاس ایس ایس جیسا کوئی نشانے باز موجود ہی نہیں کہ وہ ہمیں منھ توڑ جواب دے سکے ۔“
”ان شاءاللہ فتح ہماری ہی ہوگی خوشحال خان ۔“میں نے پتھر سے ٹیک لگاتے ہوئے آرام دی حالت بناتے ہوئے اعتماد سے کہا ۔پلوشہ البتہ اب تک شست لیے ہوئے تھی ۔
خوش حال کے آدمی وقتاََ فوقتاََ اکادکا فائر کر کے اپنے جاگنے کا ثبوت دے رہے تھے ۔دشمن کی طرف سے کبھی کبھی ایک دم پر شور فائرنگ شروع ہو جاتی اور کبھی کبھی بالکل خاموشی چھا جاتی ۔
گھنٹا بھر شمالی اور مشرقی اطراف میں دشمن کی حرکت دیکھنے کی کوشش کرنے کے بعد پلوشہ مورچے کے مخالف جانب آئی اور جنوب کی سمت دیکھنے لگی ۔جنوب کی جانب ان کے مورچے زیادہ فاصلے پر تھے ۔جنوب سے وہ مغرب کی سمت نگراں ہوئی اور دوتین منٹ بعد اس نے جوش بھرے انداز میں کہا ۔
”راجو !....ادھر آکر دیکھو نا ۔“
میں نے اس کے قریب ہوتے ہوئے پوچھا ۔”ایسی خاص چیز کیا مل گئی ہے ۔“
دوربین میری جانب بڑھا کر وہ مغرب کی جانب ایک اونچی ٹیکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔”اس بلندی پر کھڑے آدمیوں کی طرف دیکھو ؟“
”میں نے مذکورہ سمت میں دیکھا ،طاقتور دوربین مجھے اس جگہ چار دراز قامت آدمی کھڑے نظر آئے ۔بالکل آگے کھڑے ہوئے آدمی کے سر سفید قراقلی ٹوپی اور سفید کپڑوں پر پہنی کالی سیاہ واسکٹ سے مجھے لگا وہ جہانداد خان ہے ۔اس کے عقب میں کھڑے تین لمبے تڑنگے محافظ جن کے سر پر پگڑیاں بندھی تھیں وہ بھی خیال کی تصدیق کر رہے تھے ۔اور یقینا پلوشہ نے بھی اسے پہچان لیا تھا ۔خوشحال خان بھی ہمارے کے قریب آکھڑا ہوا تھا ۔دوربین آنکھوں سے لگائے بغیر بولا۔
”آپ لوگ غالباََ جہانداد خان کی پہچان کر رہے ہو ۔“
”آپ کو کیسے پتا ؟“
”پچھلی لڑائی میں سردار قبیل خان نے بھی اسی جگہ اپنا ڈیرہ لگایا تھا ۔“
میں جانتا تھا کہ پلوشہ نے مجھے کیوں اس جانب متوجہ کیا تھا ۔میں نے فاصلہ ناپنے والا آلہ نکال کر فاصلہ ناپا وہ پچیس سو میٹر دور تھا ۔بیرٹ ایم 107کا مکمل رینج ساڑھے اٹھارہ سو تھا اس لحاظ سے وہ ساڑھے سات سو میٹر دور تھا ۔
آلہ واپس تھیلے میں ڈالتے ہوئے میں نے پلوشہ کی طرف دیکھ کر مایوسی بھرے انداز میں سر دائیں بائیں ہلا دیا ۔
”وہاں تک گولی نہیں جاتی ؟“اس نے زبان سے بھی تصدیق چاہنا ضروری سمجھا تھا ۔
”اس رائفل کی رینج ساڑھے اٹھارہ سو میٹر تک ہے اور وہ پچیس میٹر دور کھڑا ہے ۔“میں نے وضاحت کی ۔
”اگر آپ مغربی کنارے سے اسے نشانہ بنانے کی کوشش کریں تو پھر ؟“پلوشہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ۔
اس کی بات میرے دل کو بھی لگی تھی ۔میں نے ایک بار پھر آلہ نکال کر جس پہاڑی پر ہم موجود تھے اس کے انتہائی مغربی کونے پر موجود ایک گھنے درخت کا فاصلہ ناپا ۔وہ فاصلہ تقریباََ دو سو چالیس میٹر تھا۔
”اگر ان گھنے درختوں پر مچان بنائی جائے تو شاید کوئی امید نکل آئے ۔“میں نے امکانی لہجے میں کہا ۔
”آپ کا مطلب ہے مغربی کونے میں موجود درختوں پر فائر کرنے کی جگہ بنا کر جہانداد خان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔“خوشحال خان نے ہماری گفتگو سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے جوش بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”سو فیصد یقینی نہیں ہے ۔“
”کچھ امید تو موجود ہے نا ؟“وہ خاصا پرجوش تھا ۔
اس مرتبہ میں نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
اس نے فوراََ کہا ۔”بس ٹھیک ہے آج رات کو میں ان درختوں پر فائر کی جگہ بنوا دوں گا ۔“
”آپ کے آدمیوں سے تو وہ جگہ نہیں بنے گی ،مجھے خود ہی کوشش کرنا پڑے گی ۔“
”آپ کا ہاتھ ہی بٹا لیں گے ۔“خوشحال نے اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑے ۔قبائل کی لڑائی میں کسی قبیلے کے سردار کا مرنا بہت بڑی بدبختی اورشرم کی علامت تھا ۔ایک قبیلے کی کے لیے اپنے سردار کی حفاظت نہ کر سکنا مرجانے کامقام تھا ۔
میں پتھریلی چٹان سے ٹیک لگا کر آرام کرنے لگا ۔ساری رات نیند نہ کرنے کی وجہ سے سستی جیسی محسوس ہو رہی تھی ۔میری آنکھیں بند ہو تی دیکھ کر پلوشہ نے فوراََ تھیلے سے دونوں سلپنگ بیگ نکال کر نیچے بچھائے اور مجھے ان پر لیٹنے کا اشارہ کیا ۔میرے ہونٹوں پر شکرگزارکی مسکراہٹ ابھری اور میں ان سلپنگ بیگز پر لیٹ گیا ۔ایک ہلکی چادر مجھے اوڑھا کر اس نے آہستہ سے میرا سر سہلایا اور دوبارہ مشرقی و شمالی جانب موجود دشمن کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
آنکھیں بند کرتے ہوئے مجھے اس پر بے تحاشا پیار آ رہا تھا ۔وہ میرا بہت زیادہ خیال رکھنے لگی تھی ۔شادی ہونے سے پہلے ہی اس نے بیوی کی جگہ سنبھال لی تھی ۔میری چھوٹی موٹی ضرورتوں پر اس کی یوں نظر ہوتی کہ میں حیران رہ جاتا ۔چند دنوں کے اندر ہم نے صدیوں کا سفر طے کر لیا تھا ۔وہ میری ایسی مزاج آشنا بن گئی تھی کہ میرے چہرے سے ہویدا تاثرات سے بات کی تہہ تک پہنچ جاتی تھی ۔ میری سوچوں کی رو تھوڑاسا پیچھے کو چلی اور مجھے اس سے پہلی بار کا ملنا یاد آگیا ۔کتنی بے دردی سے میں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔اس وقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس لڑکی کو میں یوں ظالمانہ انداز میں زدو کوب کر رہا ہوں وہ مجھے اتنی پیاری ہو جائے گی کہ اس کی ہلکی سی تکلیف بھی مجھے گوارا نہیں ہو گی ۔نیند آنے تک میں اسی کی سوچوں میں کھویا رہا بلکہ سونے کے بعد بھی اس کی سوچیں میرے خوابوں کی زینت بنی رہیں۔
شام کی آذان کے ساتھ مجھے پلوشہ نے جگایا ۔وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی ۔
”پتا ہے ،آپ کی رائفل سے تین گولیاں چلا کر میں نے بھی ایک آدمی مار گرایا ہے ۔“
”مطلب دو گولیاں ضائع کر دیں ۔“
”تو کیا آپ نے زندگی میں کوئی گولی ضائع نہیں کی ۔“اس نے منھ پھلا لیا تھا ۔
”بات تربیت کی نہیں ،عملی زندگی کی ہے ۔“سلپنگ بیگ سے نکل کر میں نے پانی کی بوتل اٹھائی اورمورچے کے ایک کونے میں وضو کرنے لگا ۔
”معذرت چاہتا ہوں ،آپ کی رائفل کو بغیر پوچھے ہاتھ لگا دیا ۔“خوشحال خان کی وجہ سے اس نے لڑکوں کے انداز میں بات کی تھی ۔
وضو کر کے میں نے شام کی نماز ادا کی اور اس کے پاس جا بیٹھا ۔
”دشمن کو گولی کس جگہ لگی تھی ؟“میں نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا ۔
”آپ سے مطلب ۔“شاباش کی امید میں اس نے مجھے جگاتے ہی یہ خبر سنائی تھی اس لیے میری تنقید ا سے ہضم نہیں ہو ئی تھی ۔
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا ۔”اچھا میں اگر تمھاری تعریف کر دیتا تو تمھیں کیا مل جاتا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اگر آپ میری تعریف کر دیتے تو آپ کا کیا چلا جاتا ۔“
”اچھا ابھی کہہ دیتا ہوں ،شاباش پہلی بار تیسری گولی پر بندہ مار گرانا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔“
”زہر لگ رہی ہے مجھے آپ کی تعریف ۔“جلے کٹے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔
میں نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس بٹھاتے ہوئے کہا ۔”یہ اتنی بڑی غلطی تو نہیں تھی جس کی اتنی بڑی سزا دی جا رہی ہے ۔“
نہ جانے میرے لہجے میں ایسی کون سے بات تھی کہ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔”اتنی جلدی پریشان نہ ہوا کریں ۔آپ سے خفا ہونا میرے بس ہی میں نہیں ہے ۔“
میں نے دبی زبان میں کہا ۔”اور یہ جو میرے قریب سے اٹھ کر بھاگی جا رہی تھیں وہ ؟“
”لاڈ کر رہی تھی اپنے راجو سے ۔“میرا ہاتھ اپنے پیارے ہاتھوں میں تھام کر وہ سہلانے لگی ۔ قابل خان کھانا لے کر واپس پہنچ گیا تھا ۔خوشحال خان اسے دشمن کے گیارہ بندوں کی ہلاکت کی خوش خبری سنا رہا تھا ۔
”قبیل خان کے آدمی یونھی تو ایس ایس سے خوف زدہ نہیں تھے ، آخر کوئی بات تو تھی نا ۔“ قابل خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔
کھانا کھانے کے دوران خوشحال خان نے قابل خان کو بتا دیا تھا کہ ہمارا کل کا پروگرام کیا ہے۔قابل خان خوش ہوتے ہوئے بولا۔
”اس کا مطلب ہے آپ لوگ لڑائی کے طول کھینچنے پر راضی نہیں ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”ارادہ تو ایسا ہی ہے ،بس دعا کرو کہ وہ رینج میں آجائے ۔“
قابل خان نے ”سیدھی بات تو یہ ہے ذیشان بھائی، ہمیں آپ پر کچھ ایسا اعتماد اور یقین ہو گیا ہے کہ اگر وہ رینج میں نہ بھی آیا تب بھی آپ اسے مار گرائیں گے ۔“
”آپ کا حسن نظر ہے قابل خان ورنہ ناممکن کا وقوع کرامت کے زمرے میں آتا ہے اور کرامت کا ظہور اولیاءکرام کا خاصہ ہے ۔“
قابل خان فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”اہل فن اپنے میدان میں مہارت کا ثبوت دیتے رہا کرتے ہیں ۔“
”اہل فن ہوں کہ نہیں البتہ اپنا پورا زور لگاﺅں گا ۔“
اندھیرا گہرا ہوتے ہی ہم پہاڑ کے غربی حصے کی جانب چل پڑے تھے ۔آسمان پر بادل جمع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے اندھیرا کچھ زیادہ ہی گہرا ہو گیا تھا ۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی ۔اس علاقے میں موسم عموماََ خراب ہی رہتا ہے ۔تیز ہوا، بادل ،بارش اور برف باری یہ اس علاقے کی خصوصیات میں سے ہے ۔بالکل مغربی کنارے پر دو انچے درخت مجھے مچان بنانے کے لیے بہتر لگے ۔ اونچے درختوں کا انتخاب میں نے فاصلے کو کم کرنے کے لیے کیا تھا ۔گو چند فٹ کا فاصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا ، مگر میں کوئی بھی امکان نظر انداز نہیں کر سکتا تھا ۔ٹارچ کے اوپر کپڑا لپیٹ کر میں نے اس کی تیز روشنی کو مدہم کردیا تھا تاکہ اس کی روشنی دور تک نہ جا سکے ۔
ایک چھوٹی سی کلھاڑی اور چند رسیاں لے کر میں اکیلا ہی اوپر چڑھ گیا کہ یہ کام ان میں سے کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں کر سکتا تھا ۔مجھے دو گھنٹے اوپر ہی گزارنے پڑ گئے تھے ۔مچان بنا کر میں نیچے اتر ا قابل خان پلوشہ اور خوشحال خان اسی درخت کے نیچے ہی میرا انتظار کر رہے تھے ۔میرے نیچے اترتے ہی پلوشہ فکر مندی سے بولی ۔
”راجو !....جس درخت کا انتخاب آپ نے کیا ہے یہاں چھپاﺅ کا اتنا زیادہ انتظام نہیں ہے ، یہاں آپ دشمن کے سنائپر کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں ۔“
”امکان تو ہے ۔“میں ہلکے سے مسکرایا ۔
اس نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔”بس پھر آپ یہیں زمین سے فائر کرنا اوپر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”مگر ....؟“
”اگر مگر کی ضرورت نہیں اور واپس چلیں ۔“جھگڑالو بیویوں کے سے انداز میں کہتے ہوئے وہ مورچے کی جانب بڑھ گئی ۔میں بے بسی سے سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔غصے میں اس نے ہمارا انتظار کرنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی ۔
”ایک بات کہوں خفا تو نہیں ہوں گے ذیشان صاحب!“خوشحال دھیمے لہجے میں مستفسر ہوا ۔
”نہیں سردار !....آپ بے فکر ہو کر بات کریں ۔“میں اس کی طرف متوجہ ہوا ۔بالکل قریب ہونے کے باوجود اندھیرے میں اس کا ہلکا سا ہیولہ ہی نظر آ رہا تھا ۔
”آپ کے معاملے میں آپ کے دوست کی عادتیں بالکل لڑکیوں جیسی ہیں ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“میں اس کی بات پر حیران رہ گیا تھا ۔جبکہ قابل خان گلا کھنکار کر رہ گیا ۔
”کل سہ پہر کو آپ لیٹے تھے تو دو تین بار آپ کے اوپر چادر درست کی اور پھر میں مخابرے پر بات کر رہا تھا تو مجھے بھی کہنے لگا کہ ،سردار اگر محسوس نہ کرو تو آہستہ بات کرو کہیں وہ جاگ نہ جائے اور پھر ابھی دیکھو کیسے دو ٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سنا کر چل دیا ۔اسے بتاﺅ بھئی ،لڑکوں کے یہ چلن نہیں ہوتے ۔“
”یہ بھی خوب کہی سردار !....“میں نے پلوشہ کے لڑکی ہونے کی بات مزید راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ۔”بہ ہر حال آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ میری منگیتر ہے ۔“
”کیا ؟“خوشحال خان حقیقی طور پر اچھل پڑا تھا ۔
”ہاں یہ سچ ہے اور اس بارے صرف قابل خان کو معلوم ہے ۔اب آپ سے بھی یہی درخواست ہے کہ اس بات کو اپنے تک ہی محدود رکھیں۔“
”مگر اسے لڑکوں کا روپ دھارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔“
”یہ لمبی کہانی ہے سردار !....پھر کبھی سہی ۔“
”ویسے آپ کو اسے یوں اپنے ساتھ خطروں میں نہیں گھسیٹنا چاہیے تھا ۔“
”اس بارے آپ قابل خان سے پتا کر لیں کہ یہاں تک آتے ہوئے ہمارے درمیان کتنی لڑائی ہوئی تھی۔وہ لڑنے مرنے پر اتر آئی تھی ۔“
”تو اسے اتنا سر پر نہ چڑھاﺅ نا ۔“خوشحال خان سنجیدہ لہجے میں مشورہ دیا ۔
میں نے بے بسی سے کہا ۔”یہ بات بھی میرے بس سے باہر ہے ۔“
”ٹھیک ہے پھر بھگتو ۔“خوشحال خان نے قہقہہ لگایا ،قابل خان نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔ میرے ہونٹوں پر بھی پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہو گئی ۔ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہونے کے ساتھ ہوا کی شدت میں بھی تھوڑی سی تیزی آ گئی تھی ۔
مورچے میں جاتے ہی سردار خوشحال نے قابل خان کو کہا ۔”ان دونوں کو بیٹھک میں لے جاﺅ، موسم کے تیور ٹھیک دکھائی نہیں دیتے ۔“
میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”یہ نہیں ہو سکتا سردار۔“
”آپ کو اپنی بہادری کا ثبوت دینے کے لیے بالکل بھی یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ۔میں اچھی طرح جانتا ہوں آپ کتنے پانی میں ہیں ۔دو اکیلے آدمی اگر قبیل خان جیسے سردار سے ٹکرا کر اسے فنا کر سکتے ہیں تو ان حالات میں ان کے ڈرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اور میں آپ کو کسی مقصد کی خاطر بھجوا رہا ہوں ،کل کا دن بہت اہم ہے اور میں نہیں چاہتا موسم کی وجہ سے آپ کی صحت تھوڑی سی بھی خراب ہو۔“اتنا کہہ کر وہ ہلکے سے ہنسا ۔” البتہ آپ کا دوست یہیں رات گزارنا چاہے تو مجھے اعتراض نہیں ہو گا۔“
”میں کیوں یہاں رات گزاروں گا۔“پلوشہ بگڑ کر بولی ۔”میں راجو کے ساتھ ہی جاﺅں گا یا ہم دونوں یہیں رہیں گے ۔“
”ایس ایس کو تو میں اس لیے بھیج رہا ہوں کہ کل اسے اہم کام سر انجام دینا ہے آپ کس خوشی میں جانا چاہتے ہیں ۔“خوشحال خان اسے تنگ کرنے پر تلا تھا ۔
”میں اپنے دوست کے ساتھ ہی رہوں گا ۔“
”آپ تو یوں بات کر رہے ہیں جیسے ذیشان سے آپ کا نکاح ہو گیا ہو ۔“
وہ تنک کر بولی ۔”نہیں ہوا تو ہو جائے گا ۔“
”یار !....آپ لڑکے ہو کر ایسی باتیں کر رہے ہیں ۔“
”میری مرضی اس میں کسی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ۔“مجھ سے دوری کا سن کر اس نے سارے اخلاقیات پس ِ پشت ڈال دیے تھے ۔
میں نے ہنستے ہوئے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ۔”چندا !....سردار تمھیں تنگ کر رہا ہے ۔میں نے اسے تمھارے لڑکی ہونے کی بابت بتا دیا ہے اس لیے تمھیں چھیڑ رہا ہے ۔“
میری بات سنتے ہی ایک دم اسے چپ لگ گئی تھی ۔
خوشحال خان نے اس کے قریب ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔”جیتی رہو بیٹی ! تم جیسی بہادر اور دلیر لڑکیاں قال فخر ہوتی ہیں ،کاش تم محسود قوم سے ہوتیں ۔“
”شکریہ سردار چچا !“پلوشہ کی آواز میں ہلکی سی خفت موجود تھی ۔
”ٹھیک ہے آپ دونوں قابل خان کے ساتھ جاﺅ،میں کوشش کرتا ہوں کہ آدھے لوگوں کو آرام کرنے کے لیے گھروں میں بھیج دوں ،یہاں پر رات کے وقت اتنی نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
میں نے اسے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا ۔”سردار !....گستاخی معاف ،ایسا بھول کر بھی نہ کرنا ۔موسم دیکھ رہے ہیں آپ۔ایسے ہی موسم سے فائدہ اٹھا کر دشمن پیش قدمی کر سکتا ہے ۔آج ان کے گیارہ بارہ آدمی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا گھیرا اگر یونھی قائم رہا تو مزید بھی جائیں گے ۔ہمیں ان کے گھیراﺅ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمیں کھانا پینا وقت پر مل رہا ہے ۔اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھا کر حملہ کرے ۔اور حملہ کرنے کے لیے اس سے بہتر موسم ہو ہی نہیں سکتا ۔ اس لیے اگر روزانہ تھوڑے بہت آدمی آپ آرام کرنے کے لیے گھروں میں بھیجتے بھی ہیں تو آج ایسا نہ کریں۔“
قابل خان میری تائید کرتا ہوا بولا ۔”ایس ایس ٹھیک کہہ رہا ہے سردار بھائی !“وہ دونوں بھائی کبھی مجھے ایس ایس اور کبھی ذیشان کہہ کر مخاطب کرتے تھے ۔
خوشحال خان سوچ میں پڑ گیا ۔چند لمحوں بعد بولا ۔”ویسے مجھے لگتا تو نہیں کہ جہانداد خان اتنی جرّات کا مظاہرہ کرے گا ۔“
”سردار!.... اگر حملہ نہ ہوا اور آپ کے آدمیوں نے یہیں رات گزاری تو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔اور اگر حملہ ہو گیا اور آپ کے آدھے آدمی یہاں نہ ہوئے تو........“میں نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
”شاید آپ مجھے ڈرا رہے ہیں ،مگر میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ۔“
”ڈرا نہیں رہا ،محتاط رہنے کا مشورہ دے رہا ہوں اور احتیاط کرناسمجھ داری ہوتی ہے نہ کہ بزدلی۔“
”اگر بالفرض انھوں نے حملے کی بابت سوچا بھی تو جونھی ہی وہ مخابرے پر حملے کا حکم دے گا ان کی آمد سے پہلے میں نے اپنے گھروں میں جانے والے آدمیوں کو واپس بلایا ہوگا ۔“
میں نے کہا ۔”ایسے حملوں میں راز داری برتی جاتی ہے سردار !....یہ بات وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کی باتیں سننے کے لیے آئی کام سیٹ موجود ہے ۔بالکل اس طرح جیسے ان کے پاس ہمارا کینوڈ سیٹ موجود ہو گا ۔“
”سردار !....ایسا ہے کہ آپ مہمانوں کے ساتھ گھر تشریف لے جائیں آج میں یہیں پر ہوں اور آپ کی غیر موجودی میں میرا ہی حکم چلے گا ۔“قابل خان نے اسے مخمصے میں پڑتے دیکھ کر مشورہ دیا ۔
”نہیں آپ جائیں ،میں سب سنبھال لوں گا ۔اور فکر نہ کرو میں کسی کو آرام کے لیے نہیں بھیج رہا۔“
”مجھے آپ پر بالکل بھی اعتبار نہیں ہے ۔اور یوں بھی گزشتہ رات میں نے گھر میں گزاری تھی آج آپ کا نمبر پڑ رہا ہے ۔“قابل خان یقینا اس سے کافی بے تکلف تھا ۔
اس مرتبہ خوشحال خان نے مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے قدم ہمارے ساتھ بڑھا دیئے ۔ اپنے ہتھیار ہم نے اٹھا لیے تھے ۔میں نے بیرٹ کو بھی وہاں چھوڑنا گوارا نہیں کیا تھا ۔
خوشحال خان کے ساتھ گپیں کرتے ہوئے ہم نیچے اترنے لگے ۔گھنٹا بھر میں ہم بیٹھک میں پہنچ گئے تھے ۔بیٹھک کا دروازہ ہمارے لیے کھول کر اس نے پوچھا ۔”اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاﺅ ۔“
ہمارے نفی میں سر ہلانے پر وہ واپس مڑ گیا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے سب سے پہلے بیرٹ کو تھیلے سے باہر نکالااور اس کی بیرل اور چال والے پرزے صاف کرنے لگا ۔اگر فائر کرنے کے بعد ہتھیار کو بروقت صاف نہ کیا جائے تو ہتھیار کی کارکردگی میں فرق آ سکتا ہے ۔اور اگر مسلسل ہی ہتھیار کی صفائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہتھیار فائر کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا ۔اور سنائپر حضرات تو ہتھیار کی صفائی کے بارے سخت قسم کے وہمی ہوتے ہیں ۔اپنا ہتھیار وہ اپنے ہاتھوں ہی سے صاف کرنا پسند کرتے ہیں ۔استاد محترم راﺅ تصور صاحب تو اگر کسی کے ہتھیار کو دوسرے آدمی کو صاف کرتے دیکھ لیتے تو صاحب ہتھیار کی کم بختی آجاتی ۔نصیحتوں اور طنزبھرے وعظ کے ساتھ اسے جسمانی سزا بھی کاٹنا پڑتی ۔ دو تین سنائپروں کا یہ انجام دیکھنے کے بعد راﺅ صاحب کی غیر موجودی میں بھی ہمیں یہ جرّات نہیں ہوتی تھی کہ اپنی رائفل کی صفائی کسی اور کے ذمہ لگائیں ۔راﺅ تصور صاحب تو رائفل کو ہماری شریک حیات اور عزت کہا کرتے تھے۔اور ان کی نصیحت بھری باتوں کے بعد عملی زندگی میں باقاعدہ قدم رکھنے کے بعد یہ چیز ہماری عادت ثانیہ بن گئی تھی ۔
مجھے رائفل کی صفائی کرتے دیکھ کر پلوشہ نے میرا ہاتھ بٹانا چاہا اورمیں نے اسے پیار سے منع کر دیا۔ ا ب یہ علاحدہ بات ہے کہ اس قسم کی با?

No comments: