حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 27 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
27 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 27
حیا
از فاخرہ وحید
(قسط 27)
جب تک انسان اپنے مرض سے بے خبر ہو وہ ٹھیک رہتا ہے مگر مرض کی اطلاع گویا اسے مزید بیمار کر دیتی ہے. شیری کے جسم میں ڈرگز کے انکشاف نے اسے باور کروا دیا تھا کہ اس کی ضرورت وہ ڈرگ ہے. اب اس کی حالت اور بگڑنے لگی تھی, چیخنا چلانا, کھانا الٹ دینا. بد تمیزی کرنا, اسے بس وہ ہی کھانا چاہئیے تھا. اس کا گزارا جوس اور مختلف ڈرنکس پر ہی تھا, کھانے کے نام سے ہی وہ بد زن ہو گیا تھا. وہ دن بدن دبلا ہوتا جا رہا تھا, آنکھیں سیاہ حلقوں سے گھری تھیں.
حمزہ کی تو گویا نیند ہی اڑ گئی تھی. وہ کبھی اسے سمجھانے لگتا, کبھی غصہ کرتا. حمزہ کو پریشان دیکھ کر حیا الگ پریشان رہتی, غرض گھر میں عجیب تناؤ کی سی کیفیت تھی.
حیا کے دن رات مختلف کتابیں پڑھنے اور وڈیوز دیکھنے میں گزر جاتے.
عصر سے پہلے کا وقت تھا شیری دوائیوں کے زیر اثر سویا پڑا تھا, حمزہ کو باہر جانا تھا تو وہ شیری کے کمرے کو باہر سے لاک کر گیا تھا اور حیا کو سخت تاکید تھی کہ شیری کو باہر نہ جانے دے. حمزہ کو گئے آدھا گھنٹہ گزرا تھا جب اچانک اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا.
" دروازہ کھولو. کس نے بند کیا ہے مجھے, کھولو دروازہ " دروازہ مسلسل بج رہا تھا اور حیا مضطرب سی کمرے سے باہر آئی تھی.
" شیری کام ڈاؤن,حمزہ ابھی آتا ہے تو تم باہر آ سکتے ہو. " وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی.
" آپ دروازہ کھولیں, میرا دم گھٹ رہا ہے. حمزہ بھائی میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں. کھولیں دروازہ. "
وہ بے بسی سے بار بار ہاتھ دروازے پر مار رہا تھا. حیا کچھ دیر سوچتی رہی, " تم ٹھیک ہو؟ " اس نے آہستہ سے پوچھا. " ہاں میں ٹھیک ہوں. بے فکر رہیں مجھے نشے کا دورہ نہیں پڑا ہوا. " وہ بے زاری سے بولا.
حیا نے گہرا سانس لیا اور دروازہ کھول دیا.
" مجھے یقین نہیں آتا, حمزہ سر مجھے یوں کمرے میں بند کر دیں گے. " وہ افسوس سے کہتا صوفے پر آ بیٹھا.
" شیری! حمزہ پریشان ہے تمہیں لے کر. " وہ پریشان سی کھڑی وضاحت دے رہی تھی.
" رہنے دیں بھابھی. " وہ بے زار سا بے زار تھا. وہ کھڑی رہی. پتا نہیں شیری کیسے اس فیز سے نکلے گا. اس نے گہرا سانس لیا اور کچن کی طرف بڑھی.
" تم بیٹھو میں تمہارے لیے شیک لاتی ہوں. " اس نے کچھ نہیں کہا.
تھوڑی دیر بعد شیک کے دو گلاس شیشے کی میز پر پڑے تھے. حیا اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی اور وہ نخوت سے ہاں, ناں کرتا رہا. کچھ دیر خاموشی چھائی رہی اور پھر حیا نے اسے نرمی سے مخاطب کیا.
" شیری تم میرے ساتھ کل صبح واک پر چلو گے؟ " شیری نے گلاس منہ سے ہٹاتے اچنبھے سے اسے دیکھا. " کیوں؟ " یہ ہاں تھا. تو حیا اعتماد سے آگے ہوئی.
" تازہ ہوا میں سانس لیں گے تو ہم دونوں بہتر محسوس کریں گے. "
" آپ کو کیا ہوا ہے؟" اس نے ابرو اٹھائے اور حیا رازداری سے اس کے قریب ہوئی.
"مجھے بھی عادت پڑ گئی ہے... " پھر مسکراہٹ دباتے شیری کو دیکھا. " تمہارے بھائی کی. " وہ سرگوشی میں کہتی پیچھے ہوئی اور شیری بے وجہ ہنستا گیا.
شیری کو اپنی ڈرگ کی عادت سے جان چھڑوانے کے لیے صرف دوائیاں نہیں کچھ اور بھی چاہئیے تھا اور وہ اسے حیا دینے جا رہی تھی. مگر اس سے پہلے نشے کے عادی اس لڑکے کے گھر والوں کی کاؤنسلنگ ضروری تھی.
*********************************************
یہ تھانے کی پرانی مگر کشادہ عمارت تھی. ابھی حمزہ گاڑی پارک کر کے اندر گیا تھا. اس کے پیچھے اندر جاؤ تو پہلے ایک بڑا ہال نما کمرہ تھا جس میں تین مختلف جگہوں پر میز اور کرسیاں لگی تھیں, اس سے آگے حوالات بنی تھیں. تیسرے نمبر کے کمرے میں اندھیرا تھا اور مدھم بلب جل رہا تھا. جس کے نیچے دو کرسیاں لگی تھیں. ایک پر ٹانگ پہ ٹانگ جمائے حمزہ اور سامنے حاجن بی بی تھیں. وہ مضطرب نظر آتی تھیں. حمزہ کی آنکھوں میں غصہ اور نفرت تھی.
" اپنے ہی بندوں کو ڈرگ دینا. کچھ سمجھ نہیں آتا. " حمزہ آگے کو جھکا.
" ہم تم لوگوں کی طرح نہیں ہین, جو اپنے ساتھیوں کو یوں ہی چکھلا چھوڑ دیں اور وقت آنے پر وہ ہماری کمر میں چھورا گھونپ دیں. ہونہہ. " اس نے ہاتھ ہوا اٹھا کر نخوت سے نیچے مارا. اور حمزہ تلخ سا مسکرایا. بی بی حاجن کا اشارہ دانی کی طرف تھا.
" یہ بتاؤ! کچھ کو ڈرگ دینا کچھ کو نہ دینا کیا منطق ہے؟ " حمزہ سنجیدہ تھا. بی بی حاجن خاموش منہ بناتی رہی. " بی بی حاجن.." حمزہ نے دونوں ہاتھ میز پر مارے. " دوبارہ منہ سے نہیں پوچھوں گا. " آنکھیں آگ برسا رہی تھیں. " کر لو جو کرنا ہے. "بی بی حاجن نہیں مانی, حمزہ نے گھٹنے پر رکھے اپنے ہاتھ کو جنبش دی اور چار مردانہ ہاتھوں نے بی بی حاجن کو بالوں سے پکڑ کر سامنے رکھے پانی میں ڈبویا, سانس بند ہونے سے وہ ہاتھ پاؤں مارنے لگی, حمزہ نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا اور اسے کھینچ کر باہر نکال لیا گیا. بی بی حاجن لمبے لمبے سانس لینے لگیں.
" ان کے, ان کے پاس ہمارے.. ہمارے... راز ہوتے ہیں.. ان کو ڈرگ دیتے ہیں تا کہ اگر وہ بھاگنا بھی چاہیں تو .... تو... اس ڈرگ کی طلب میں... واپس ہمارے پاس آئیں. کبھی ہمین چھوڑ کر نہ جا سکیں. " وہ اکھڑتے سانس کے ساتھ طوطے کی طرح بولنے لگی.
" میرا دل چاہتا ہے تمہارے اندر بھی وہ ڈرگ گھولوں اور اتنی گھولوں کہ تم تڑپ تڑپ کر مر جاؤ. میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ تم لوگوں کا دل نہیں کانپتا ایسے کام کر کے. لیکن نہیں, نہیں,.." نفی میں گردن ہلاتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا, گھوم کر حاجن بی بی کے پیچھے گیا. اور یک دم حاجن بی بی کی آنکھیں پھٹ کر باہر آنے کو ہو گئیں. باریک سی تار اس مرد نما عورت کی گردن پر تنگ ہوتی جا رہی تھی. حمزہ پوری قوت سے اسے جکڑے ہوئے تھا. بی بی حاجن کے منہ سے غوں غاں جیسی آوازیں نکل رہی تھیں. وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اور جب اسے لگا کہ روح جسم کا ساتھ چھوڑنے والی ہے تو حمزہ نے اس کے ڈھیلے پڑتے جسم کو جھٹکے سے چھوڑا. وہ توازن برقرار نہین رک صکی اور اوندھے منہ فرش پر گر گئی. سانس تھم گئی تھی. کتنی دیر روح کا تعلق جسم سے بحال ہونے میں لگ گئی. آنکھیں اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جو دوبارہ پوری تمکنت سے اپنی کرسی پر براجمان تھا. اس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں پھر وہ نیچے جھکا بی بی حاجن کو گریبان سے پکڑا.
" ایک جھٹکے میں نہیں ماروں گا, اپنے بھائی کے برباد ہونے والے ایک ایک لمحے کا حساب لوں گا. اسی طرح تڑپاؤں گا جیسے وہ تڑپتا ہے. آسانی سے مرنے نہیں دوں گا. " وہ کچھ بول نہیں پائی. آواز ہی نہیں نکلتی تھی. اسے دوبارہ نیچے گراتے وہ اٹھ کھڑا ہوا. نیلے بلیزر کو کندھے سے جھاڑا گویا کوئی نا دیدہ سلوٹ ختم کی ہو. اور لوہے کی سلاخوں کے ایک طرف بنے گیٹ سے باہر نکلا اور ساتھ کھڑے سپاہی کو لاک کرنے کا حکم دیتا آ گے بڑھ گیا. اب اس کا رخ وہ کمرہ تھا جہاں علی اور فریحہ دانی کے ساتھ اس کے منتظر تھے. آج دانی کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو جانا تھا. خراماں خراماں چلتے وہ اس عقبی کمرے میں داخل ہوا. علی اور فریحہ آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے جب حمزہ کرسی کھینچ کر بیٹھا. دانی ایک کونے میں بیٹھا خاموش تماشائی بنا ہوا تھا. علی اور فریحہ حمزہ کو اتنے دن بعد یوں گھومتے پھرتے دیکھ کر خوش ہوئے تھے اور اب اس سے چائے کافی پوچھ رہے تھے.
" اوہوں! کچھ بھی نہیں. بس زرا گھر میں بور ہو رہا تھا تو ملنے چلا آیا. " ایک نظر پیچھے بیٹھے دانی پر ڈالتے وہ کسی بھی خاطر مدارت سے منع کر رہا تھا.
" اور امید ہے اس کھسرے کو موت تک پہنچا کر تیری بوریت دور ہو گئی ہو گی. " علی نے طنزاً کہا. اور حمزہ نے کندھے اچکائے.
"شیری از ان پین, آئی کینٹ ہیلپ مائی سیلف, جو کرے گا وہ بھرے گا بھی. " اور فریحہ نے دفعتاً دانی کو دیکھا.
" حمزہ ڈاکٹر صباحت بہترین سائیکیٹرسٹ ہیں. ان کے علاج سے شیری ضرور ٹھیک ہو جائے گا. تم شیری کو ان سے ملنے کے لیے کنوینس کرو " فریحہ پچھلے کئی دن سے حمزہ کو شیری کے علاج کے لیے ڈاکٹر صباحت کے پاس لے جانے کا مشورہ دے رہی تھی. مگر شیری تو ڈاکٹر کے ذکر پر ہی پھٹ پڑتا تھا.
" یار وہ کسی کی نہیں سنتا. ہی از آؤٹ آف مائی کنٹرول." یک دم اس کے چہرے پر تفکر نظر آنے لگ گیا تھا.
" ایسا ہی ہوتا ہے, نشے کے عادی بچے ڈاکٹر وغیرہ سے یوں ہی بھاگتے ہیں. تم فکر نہیں کرو. وہ ٹھیک ہو جائے گا." حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا اور علی نے موضوع بدلا.
" خیر تو بتا حیا کیسی ہے؟ " رکا, سوچا اور دوبارہ بولا. " آ ئی مین 'حیا بھابھی' کیسی ہیں؟ " فریحہ نے ہلکا سا قہقہہ لگایا گویا وہ کہانی جانتی ہے اور حمزہ نے گہرا سانس کھینچا اور آگے کو جھکا.
" شی از چینجڈ ناؤ. " پھر پیچھے کو ہوا دونوں ہاتھ باہم ملا کر سر کے نیچے رکھے. " اور اس نے بی اماں کی بھی چھٹی کر دی. " دونوں کو باری باری دیکھا اور زور دے کر کہا " پکی چھٹی. وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر. " وہ ناگواری سے بولا علی اور فریحہ گردن پیچھے پھینک کر ہنسے.
" حمزہ تم مانو یا نہ مانو بٹ دس لیڈی از یورز, ٹرولی یورز. " اور حمزہ نے ناک سے مکھی اڑائی. " واٹ ایور."
یکا یک حمزہ کرسی سے اٹھا اور پٹخنے سے کے انداز میں کرسی دانی کے سامنے رکھی. وہ حمزہ کے انتظار میں اتنے دن سے یہاں بند تھا. یہاں پہلے ہی اس کی کافی خاطر مدارت ہو چکی تھی جس کا واضح ثبوت اس کا نچلا ہونٹ تھا جو بری طرح پھٹا ہوا تھا اور بائیں آنکھ کے اوپر بھی زخم کا نشان تھا. حمزہ اب کرسی پر آگے کو جھکا دونوں ہاتھوں کی انگلیان باہم ملائے ہوئے تھا.
" کہو اپنی وضاحت میں کچھ. " اس کی آنکھیں دانی کے چہرے پر جمی تھیں. دانی نے تھوک نگلا. علی اور دریحہ کو دیکھا جو دوبارہ باتوں مین مگن ہو گئے تھے گویا باور کروایا ہو کہ وہ اس سب سے لا تعلق ہیں. نہ کچھ دیکھا, نہ کچھ سنا.
" سر میں وضاحت دے سکتا ہوں. "
" دو. " دو ٹوک سا کہتے وہ کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور ٹانگ پر ٹانگ جما لی.
" انہوں نے میری فیملی کے زریعے مجھے بلیک میل کیا تھا, میرا بیٹا دو سال کا ہے سر! " وہ سانس لینے کو رکا.
میری ٹریننگ بہت سخت ہوئی ہے سر مگر. میرے بچے کو الٹا لٹکا کر نیچے پانی کے ٹینک میں بار بار ڈبوتے تھے. سر میرا بچہ بس دو سال کا ہے. وہ اسے مارتے نہیں تھے بس تکلیف دیتے تھے بار بار. اس ذہنی ٹارچر نے مجھے توڑ دیا. " اس کی آواز میں درد در آیا تھا.
" میں مجبور تھا.. سر. " اس نے سر جھکا لیا. حمزہ صدمے اور افسوس سے گردن نفی میں ہلا رہا تھا. " تم ایک بار مجھ سے بات کر کے دیکھتے میں ان کو کہیں سے ڈھونڈ نکالتا اور زندہ سلامت تم تک لاتا. " وہ تھوڑا آگے جھکا. " تم نے اپنی فیملی کے بدلے میری فیملی کو مصیبت میں دھکیل دیا دانی. "
" تم نے اپنی فیملی کے لیے میری فیملی کا سودا کر دیا. " اب کہ وہ چیخا, فریحہ اور علی انجان بنے رہے, پھر واپس مڑا اور گھوم کر ایک مکہ اس کے منہ پر جڑا.
" یہ مجھ پر بھروسہ نہ کرنے اور شیری کو مصیبت میں پھنسانے کے لیے. " پھر اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا. " آئندہ میری فیملی کی حفاظت کرنا اور میں وعدہ کرتا ہوں مجھے اپنے خاندان کا محافظ پاؤ گے. " وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اس کے سلوٹ ٹھیک کر رہا تھا.
" جانے دو اسے. " علی کو اشارہ کرتے وہ خود باہر نکل گیا. فریحہ نے ٹھنڈی سانس باہر خارج کی.
" شیری کی وجہ سے پریشان رہتا ہے. ایسا کرو اسے کسی دن حیا کے ساتھ گھر پر بلا لو. " علی کو بھی آئیڈیا پسند آیا تھا. چلو مل بیٹھنے کا بہانہ ہی سہی!
*********************************************
رات سیاہ ہونے لگی, تو حیا کا انتظار بھی بڑھنے لگا. ابھی وہ لاؤنج میں بیٹھی بے ترتیب چینل بدل رہی تھی اور نظر کبھی کچن ونڈو کے اوپر لگے کلاک پر جاتی اور کبھی دروازے پر. وہی بیویوں کے چھ بجے کے بعد والا انتظار!
جب وہ بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو وہین صوفے پر نیم دراز ہو گئی, ابھی لیٹے چند ثانیے گزرے تھے کہ دروازے کی چرچراہٹ سنائی دی. اس نے منہ پر بازو رکھ لیا. بھاری قدم لاؤنج کی طرف بڑھے. بند آنکھوں کے ساتھ بھی اسے محسوس ہوا کوئی اس کے سر پر کھڑا ہے.
" بی اماں کھانا لگا دیں. " اس کے پاس سے گزرتا وہ دوسرے صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا. حیا سے کوئی بھی کام ڈائریکٹ کہنے کے بجائے یہ نیا طریقہ اس نے ڈھونڈ نکالا تھا.
" بی اماں گھر پر نہیں ہیں. " وہ منہ سے بازو ہٹائے بغیر بولی. " تو جو ہے وہ لگا دے. " وہ فون پر بٹن دباتے کہہ رہا تھا. حیا بادل نخواستہ اٹھی.
" بی اماں یہ بی اماں وہ. انتظار میں کرتی ہوں اور ... " وہ بولتے بولتے چپ ہوئی. لب مسکراہٹ میں ڈھلے. سفید بلیزر اس پر واقعی جچتا تھا. " یہ بلیزر آپ پر اچھا لگ رہا ہے. " وہ چوکڑی مارے صوفے پر بیٹھی تھی اور حمزہ سامنے سنگل صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے اب اسے دیکھ رہا تھا. " مس حیا.. " اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حیا اپنی توہین ہونے دے فوراً بات اس کے ہونٹوں سے اچک لی. " کال می مسز. " اور وہ سر جھٹک کر دوبارہ گویا ہوا. مگر اس بار مس, مسز کے تکلف کو چھوڑ دیا. " میں ہمیشہ اچھا لگتا ہوں. ان فیکٹ پانچ میں سے تین لڑکیاں تو ضرور مجھے مڑ کر دیکھتی ہیں. " وہ پر اسرار مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور حیا نے ابرو اٹھائی.
" دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے. " ( آیا بڑا پرستان کا شہزادہ. ہونہہ). یکا یک حمزہ کو شیری کا خیال آیا. یوں ہی فون پر جھکا وہ اس کے کمرے کی طرف گیااور پھر ٹھٹھکا, دروازہ کھلا تھا اور شیری وہاں نہیں تھا.
وہ انہی قدموں واپس لاؤنج میں آیا.
" شیری کے کمرے کا دروازہ کس نے کھولا؟" وہ حیا سے پوچھ رہا تھا جو کچن سے باؤل لیے باہر آئی تھی.
" میں نے. " سپاٹ سے انداز میں کہتی وہ اب کھانے کی میز پر باؤل رکھ رہی تھی. " اگر اس نے خود کو کوئی نقصان پہنچایا یا ڈرگ لی, تو میں کس قدر برا پیش آ ؤں گا تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو. " وہ انگلی اٹھائے اسے تنبیہہ کر رہا تھا. مگر وہ اس کے لہجے کو نظر انداز کیے اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی. ہاتھ سینے پر بندھے تھے.
" حمزہ اگر تم اسے یوں کمرے میں بند کرو گے, اسے محسوس کرواؤ گے کہ وہ کتنا بے بس ہے, تو بلیو می وہ کبھی اس نشے کے اثر سے باہر نہیں نکلے گا. تمہارا یہ رویہ اسے احساس دلا رہا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ہے خود کو کنٹرول نہیں کر سکتا, میرے سامنے جب تم اس پر چلاتے ہو, غصہ کرتے ہو, اسے لگے گا اس کی عزت نہیں ہے اور پتا ہے نشے کے عادی لوگوں میں کیا نہیں ہوتا؟ " وہ چپ رہا تو وہ آگے بولی. " ان میں عزت نفس نہیں ہوتی, ان کی سیلف اسٹیم لو ہوتی ہے, ان کو لگتا ہے کہ عزت تو ویسے ہماری نہیں ہے تو کیوں ہم اس سکون دینے والی چیز سے دور ہوں؟ حمزہ تمہارے رویے سے وہ اس ڈرگ کے اثر سے تو نہیں نکلے گا بلکہ مزید ڈہنی مریض بن جائے گا. " وہ چپ ہو گئ اور دوبارہ کچن میں چلی گئی, حمزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے اور وہ قدم قدم چلتا سربراہی کرسی پر بیٹھا اور کہنیاں میز پر ٹکا کر سر ہاتھوں میں گرا لیا. پچھتاوے سر اٹھائے اپنے بلوں سے نکل آئے تھے. اس کی وجہ سے ہنستا کھیلتا شیری کس عذاب میں پڑ گیا تھا. اسے شیری کو وہاں بھیجنا ہی نہیں چاہئیے تھا. تاسف سا تاسف تھا, پچھتاوا سا پچھتاوا..
میز پر پلیٹ رکھنے کی آواز سے اس نے سر اٹھایا. وہ اب اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ چکی تھی اور چائینیز رائس پلیٹ میں ڈال رہی تھی.
" پریشان ہونے کی بات نہیں ہے. " آج پہلی بار وہ اسے سن رہا تھا, چاہے شیری کے لیے مگر سن تو رہا تھا نا, تو اس نے بات آگے بڑھائی. " بس اسے یوں محسوس کرواؤ جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں, اسے حوصلہ دو, یہ ازل کا غصہ گھر سے باہر چھوڑ کر آیا کرو. اسے اس کا حمزہ بھائی دو جو اس کی سپورٹ رہا ہے. " کھانا سرو ہو چکا تھا مگر حمزہ سر جھکائے اس کی باتوں پر غور کر رہا تھا. جب وہ کافی دیر یوں ہی بیٹھا رہا تو حیا ہلکے سے کنکھاری.
" حمزہ سر! آپ یہ تو نہیں چاہتے کہ میں یعنی حیا حمزہ فیاض بیگ اپنے ہاتھوں سے آپ کو کھانا کھلاؤں؟ اگر ایسا چاہتے ہیں تو سوری میں بہت تھک چکی ہو. " اس نے مصنوعی جمائی لی اور ہاتھ منہ کے آگے رکھا. حمزہ نے ہلکے سے مسکراتے سر اٹھایا اور چھری کانٹا پہ ہاتھ سیٹ کیا.
" تھینک یو. " چاول منہ میں رکھتے وہ ہلکا سا بولا. اور حیا جی جان سے مسکرائی.
" سوری کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ یعنی کہ مکلم خود حمزہ فیاض بیگ میرے شکر گزار ہیں اور مجھے آئس کریم کھلانے لے جانا چاہتے ہیں؟" حیا نے اس کے زرا سے شکریہ کو بڑھا چڑھا کر دہرایا. اور حمزہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے. " دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے."
حیا گردن پیچھے پھینک کر ہنسی. اور ہنستی چلی گئی. حمزہ دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھک گیا. ( عجیب)
جب کہ حیا دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے,نظریں حمزہ پر جمائے, دل میں اس کے الفاظ دہراتی رہی.
تھینک یو... تھینک یو!
مگر اس تھینک یو کے لیے وہ شیری کی قرض دار ہو گئی تھی.
********************************************
فجر ہوئے چند ساعتیں گزری تھیں اور آہستہ آہستہ کالی چادر آسمان سے سرکنے لگی تھی. وہ دونوں گھر کے مین گیٹ سے نکل کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے خالی سڑک پر آگے بڑھ رہے تھے. حیا سبز, سفید کڑھائی والی قمیص پہنے بالوں کو جوڑے میں باندھے اوپر اسٹالر لپیٹے ہوئے تھی جبکہ شیری نارنجی ڈریس شرٹ کے ساتھ دونوں ہاتھ جیبوں میں اڑیسے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا. رفتار دونوں کی سست تھی کیوں کہ آج وہ یہاں واک نہیں بلکہ باتیں کرنے آئے تھے. حیا اسے اپنے گھر , باپ اور بھائیوں کے بارے میں بتا رہی تھی اور بدلے میں وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا. اور اب شیری کی ڈرگ کی عادت زیر بحث تھی.
" دوائیوں سے کوئی فرق محسوس ہوتا ہے؟" وہ عام سے انداز میں ہوچھ رہی تھی, بالکل ایک دوست کی طرح.
شیری نے کندھے اچکائے. " شاید ہاں, شاید نہیں. " اور حیا مسکرا دی. " جب بھوک لگتی ہے تو جسم کی ڈرگ کی طلب بڑھ جاتی ہے. آئی لوز کنٹرول" آواز میں بے بسی در آئی تھی.
" چلو کوئی نہیں! ہو جاؤ گے بہتر. " وہ اسے تسلی دے رہی تھی. وہ زخمی سا مسکرایا.
" حمزہ بھائی تو ناراض ہوں گے. "
اونہوں! نفی میں گردن ہلاتے وہ رکی. " وہ پریشان ہے."
" میں کیا کروں بھابھی! یہ میرے کنٹرول میں نہیں ہے, میرے جسم میں سوئیاں چبھنے لگتی ہیں, میں بے بس ہو جاتا ہوں. " وہ واقعی تکلیف میں لگ رہا تھا.
" اور کیا لگتا ہے؟ " حیا اسے سننا چاہتی تھی تو پوچھتی گئی اور وہ سب بتاتا گیا. سورج کی کرنیں افق سے نمودار ہونے لگیں, تو وہ واپسی کے لیے مڑ گئے. آج اس نئے امتحان کا پہلا دن تھا. شیری ہلکا محسوس کر رہا تھا جبکہ حیا کے کندھوں پر بوجھ بڑھ گیا تھا. اسے شیری کو اس عذاب سے نکالنا تھا.
*********************************************
جاری ہے.

No comments: