Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 9 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 9
مصنف ۔طارق

اس بار آنے والے ایک سے زیادہ معلوم ہو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد حوالات کا دروازہ کھلا اور تین سپاہی اندر آگئے۔

’’چل اٹھ۔۔۔! تجھے صاحب نے بلایا ہے‘‘ ان میں سے ایک گالی دے کر بولا۔

’’تم لوگ ٹھیک نہیں کر رہے ہو، مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں؟ میرے بڑے بھائی صاحب وزیر اعلیٰ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ انہیں جب معلوم ہوگا کہ تم لوگوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے تو تم سب کی شامت آجائے گی۔‘‘ میں کھڑا ہوگیا۔

’’ہاں۔۔۔ہاں تو صدر پاکستان کا سالا ہے ہم جانتے ہیں۔ تیرا بھائی تو جو کچھ کرے گا بعدمیں دیکھی جائے گی جو تیرے ساتھ ہمارے ’’صاحب‘‘ نے کرنا ہے تو اس کی خیر منا۔ تو نے صاحب کے استاد پر ہاتھ اٹھایا ہے جس کے لئے اس نے اپنا مذہب تک بدل لیا۔ وہ اس کی اپنے باپ سے بھی زیادہ عزت کرتا ہے لگتا ہے تیری موت کا وقت آگیا ہے۔ صاحب تو اتنا ظالم ہے کہ معمولی چور کو مار مار کر قبر میں اتار دیتا ہے تو نے جرم ہی بہت بڑا کیا ہے بچو!‘‘ ایک سپاہی جو ان سب سے زیادہ چالاک لگتا تھا ہنس کر بولا۔ میں ان کے ساتھ باہر نکل آیا۔ وہ مجھ لے کر ایک بڑے سے کمرے میں آگئے جہاں صرف ایک کرسی کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ ہاں ۔۔۔دیواروں پر عجیب و غریب قسم کی رسیاں اور لاٹھیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ کمرے کے وسط میں چھت کے ساتھ ایک رسی لٹکی نظر آئی۔ اندر داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہ کمرہ تھانے کا ’’ٹارچر روم‘‘ ہے۔

ئے
میرے ذہن میں پولیس کی روایتی تفتیش کے بارے میں سنی سنائی باتیں گھومنے لگیں، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ دو سپاہیوں نے مجھے زبردستی کرسی پر بٹھا دیا۔ تیسرے نے پیچھے سے آکر میرے دونوں ہاتھ ایک رسی سے باندھ دیے۔ اسی طرح دونوں ٹانگوں کو کرسی کے پایوں کے ساتھ باندھ دیا۔ کرسی فرش میں گڑی ہوئیت ھی میرے ہلانے جلانے کے باوجود نہ ملی۔ میں نے ایک بار پھر ان کو دھمکایا اور ان پر کچھ اثر نہ دیکھ کر ان کی رقم کی آفر کی۔ میری اس بات پر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک نے آگے بڑھ کر میری تلاشی لینی شروع کر دی۔ پینٹ کی جیب سے پرس نکال کر اسے کھولا۔ خوشی سے اس کے منہ سے کلکاری نکلی کیونکہ پرس میں اچھی خاصی رقم موجود تھی۔ اس نے معنی خیز نظروں سے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگا۔

’’یہ ساری رقم تم رکھ لو اور مجھے یہاں سے جانے دو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ صرف تمہارے تھانیدار کے خلاف کارروائی ہوگئی تم لوگوں کو معافی مل جائے گی کیونکہ مجھے معلو م ہے کہ تم صرف اس کے حکم کے غلام ہو‘‘ میں نے اس سپاہی کی طرف دیکھا جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔

’’رقم تو ویسے ہی ہماری ہوگئی ہے۔‘‘ وہ ہنسا’’جہاں تک تجھے چھوڑنے کا سوال ہے اسے بھول جا ۔۔۔تیرا بھائی کچھ بھی کر لے وہ صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ صاحب کا استاد جسے تھپڑ مار کر تو نے اپنے لئے موت خریدی ہے بہت بڑا جادوگر ہے۔ اگرہم نے تجھے چھوڑ دیا تو وہ تیرے بدلے میں ہمیں پھانسی پر چڑھا دے گا‘‘ اسی سپاہی نے جواب دیا باقی دونوں سپاہی خاموشی سے ایک طرف کھڑے تھے۔ میں کرسی سے بندھا بیٹھا تھا۔ اس کمبخت نے رسیاں اتنی سختی سے باندھی تھیں کہ میرا دوران خون رک گیا۔ بازوؤں اور ٹانگوں میں شدید درد ہو رہا تھا۔ میں نے ایک بار پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خبیث صورت تھانے دار اور سادھو کمرے میں داخل ہوئے۔ سادھو تو ایک طرف کھڑا ہوگیا جبکہ تھانے دار بالکل میرے سامنے پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں سٹک تھی۔ وہ قہر آلود نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔

’’تو نے میرے استاد کی بے عزتی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ استاد جی چاہتے تو تجھے ایک پل میں جہنم میں پہنچا دیتے۔ لیکن انہوں نے دیوی سے اجازت لینا تھی جس میں تھوڑا وقت لگ گیا۔ دیوی نے تجھے مارنے کی اجازت تو نہیں دی لیکن۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میری موت کی اجازت نہ پا کر پیچ و تاپ کھا رہا ہے’’لیکن میرا تجھ سے وعدہ ہے کہ آج کے بعد تو کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو پائے گا ‘‘ اس نے دروازے کی طرف دیکھ کر آواز دی ’’رامو۔۔۔!اندر آجا‘‘
ایک سیاہ کالا پہلوان اندر آگیا۔ سات فٹ کے قریب قد اور سانڈ کی طرح پلا ہوا۔ وہ سردی کے باوجود ایک دھوتی اور بنیان میں ملبوس تھا۔ بازوؤں کی مچھلیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کسرت کرنے کا عادی ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا اور دوسرے ہاتھ میں بید نما لمبی اور پتلی سی چھڑی تھی جس کی لمبائی چار فٹ کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ اندر آکر سب سے پہلے سادھو کے سامنے جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ ماتھے سے لگا کر بولا۔

’’گرو جی !آگیا ہو تو میں اپنا کر یہ آرمبھ (کام شروع) کروں؟‘‘ سادھو نے ایک قہر بھری نظر میرے اوپر ڈالی پھر اسے سر کے اشارے سے اجازت دے دی۔ وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا اور تن کر میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کسی درندے کی آنکھوں میں اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر ہوتی ہے۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا کوڑے والا ہاتھ بلند ہوا، میں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں، میری بری طرح کانپ رہا تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی تیز خوشبو ٹکرائی۔ میں آنکھیں بند کیے اس انتظار میں تھا کہ ابھی کوڑا میرے جسم پر پڑے گا کہ معاً مجھے رامو کی کربناک چیخ سنائی دی۔ جلدی سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ناقابل یقین منظر میرے سامنے تھا۔ سانڈ نما رامو ہوا میں سر کے بل الٹا لٹکا ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ کوڑا اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس کا سرا زمین کو چھو رہا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ ابھی ہم سب اسے دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ایک دھماکے سے سر کے بل زمین پر آرہا۔ اس کا سر پھٹ گیا۔ جس سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ پانی سے نکل مچھلی کی طرح زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ پھر اس کے منہ سے بھی گاڑے خون کا اخراج ہونے لگا۔ گلے سے ذبح ہوتے بکرے جیسی خرخراہٹ نکل رہی تھی۔

کمرے میں موجود ہر شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے سادھو کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ وہ چاروں طرف سر گھما کر یوں دیکھ رہا تھا۔ اب سانڈ نما رامو کسی مردہ چھپکلی کی طرح زمین پر پڑا تھا غالباً روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ اچانک فضاء میں ایک اور چیخ گونجی۔ یہ اس سپاہی کی تھی جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔ اب وہ زمین سے آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں وہ خوفزدہ نظروں سے چارو طرف دیکھ کر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اسے بھی کسی نادیدہ وجود نے گردن سے پکڑ کر ہوا میں معلق کر دیا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ کچھ دیر وہ ہوا میں لٹکا رہا پھر دھڑام سے زمین پر آگرا۔ اس کا حشر بھی رامو جیساہوا۔ تھوڑی دیر وہ منہ سے خون خارج کرتا رہا پھر ساکتہوگیا۔ سادھو نے اپنے دو چیلوں کا یہ حشر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ کمرے میں موجود باقی دو سپاہی چیختے ہوئے باہر بھاگ گئے۔ تھانے دار اب مجھ سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا تھا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے استاد کے قریب ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے بھی خوف جھانک رہا تھا۔ میں سخت حیران تھا۔ سادھو کچھ دیر تذبذب کے عالم میں کھڑا رہا پھر اسکی غضبانک آواز کمرے میں گونجی۔

’’تو بھی دو شبد (لفظ) جانتا ہے۔ پرنتو تجھے میری شکتی سے جانکاری نہیں ہے۔ میں چاہوں تو اسی سمے تجھے نرک میں بھیج دوں پرنتو۔۔۔مجھے دیوی کا دھیان ہے۔ اس کی آگیا کا پالن کرنا میرا دھرم ہے۔۔۔پرنتو تجھے کشٹ نہ دینا اب میرے بس سے باہر ہے ‘‘ یہ کہہ کر اس نے منہ ہی منہ میں کچھ بدبدانا شروع کردیا۔ اس کے موٹے بھدے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ میری آنکھوں نے ایک اور حیرتناک منظر دیکھا۔ تھانے دار ہاتھ میں چھڑی لئے ایک طرف کھڑا اپنے استاد کی طرف دیکھ رہا۔ اچانک اس کے ہاتھ سے چھڑی نکلی اور اسی کے جسم پر پڑنے لگی۔ چھڑی مارنے والا ہاتھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن کوئی چھڑی سے تھانے دار کی پٹائی کر رہا تھا۔ چھڑی ہوا میں لہرا لہرا کر اس کے جسم کے مختلف حصوں پر پڑ رہی تھی۔

جیسے ہی چھڑی اس کے جسم سے ٹکراتی اس کے منہ سے کربناک چیخ نکلتی۔ وہ کمرے میں بھاگ رہا تھا۔ چھڑی سے بچنے کے لیے کبھی وہ ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے کرتا کبھی انہیں اپنی پیٹھ پر رکھ لیتا۔

سادھو پڑھنا بھول کر اپنے چیلے کی درگت بنتی دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر وہ آنکھیں کھولے دیکھتا رہا پھر دوبارہ آنکھیں بند کرکے پڑھنا شروع کر دیا۔ تھانے دار دوڑتے دوڑتے سادھو سے جا ٹکرایا۔ اچانک اس کے جسم میں آگ لگ گئی۔ وہ کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرایااور زمین پر گر پڑا۔ آناً فاناً آگ نے اسے پوری طرح گھیر لیا ۔کمرے میں گوشت جلنے کی چراند پھیل گئی۔ اس کے منہ سے دلخراش چیخیں نکل رہی تھیں۔ سادھو اسے بے بسی سے جلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی جگہ بالکل منجمد ہوگیا تھا۔ گوشت جلنے کی بدبو ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔ میں بری طرح کھانس رہا تھا۔ تھانے دار کے منہ سے اب کراہیں نکل رہی تھیں۔ چند لمحوں کے بعد وہ ساکت ہوگیا۔ اس کا دھواں دیتا جسم بے جان پڑا تھا۔ سادھو نے اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور تھانے دار کی طرف کرکے جھٹک دیا لیکن وہ ہر قسم کی مدد سے بے نیاز ہو چکا تھا۔ کمرہ گوشت کی چراند سے بھر چکا تھا۔

میرے پیٹ میں گرہیں پڑنی شروع ہوگئیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی قے ہو جائے گی کہ ایک بار پھر گلاب کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی ۔اب گوشت جلنے کی بدبو کے بجائے گلاب کی مہک میری نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ اچانک میں نے سادھو کو بری طرح چونکتے دیکھتا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے گردن گھما کر کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔

’’تو مجھے یوں جل دے کرنہیں جا سکتا۔۔۔میرے چیلے کی ہتھیا کرکے کہاں بھاگ رہا ہے پاپی! میرے سامنے آ۔۔۔ آج معلوم پڑے گاگوکن بلوان ہے؟ یدی تجھ میں ہمت ہے توسامنے آ۔۔۔تو جانتا تھا وہ تونے کر لیا اب۔۔۔میری باری ہے‘‘ وہ کمرے میں چاروں طرف دیکھ کر بری طرح دھاڑ رہا تھا۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا وہ کسے ڈھونڈ رہا ہے ۔ شاید وہ اسی ہستی کو تلاش کر رہا تھا جس نے اس کے چیلوں اور سپاہی کی یہ حالت کی تھی۔
’’فاروق خان! آج تو مجھ سے بچ کر نہیں جا سکتا‘‘ وہ جز بز ہو کر بولا۔ میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا لیکن وہ شاید مجھے دیکھنے سے قاصر تھا۔

’’یدی تو اتناہی بلوان(طاقت ور) ہے تو بھاگ کیوں رہا ہے قائر(بزدل) میں کیول دیوی کے کارن تجھے کشٹ نہیں دے رہا ورنہ کبھی کا تجھے نرکھ میں بھیج دیتا۔‘‘ وہ چلایا۔

کمرے میں گلاب کی خوشبو بڑھتی جا رہی تھی ۔ اچانک مجھ پر غنودگی طاری ہونے گلی سارا منظر دھندلا گیا پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔

دوبارہ جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے بیڈ پرلیٹا ہوا تھا۔ صائمہ کارپٹ پر بچھی جائے نماز پر بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھی۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا۔ مجھے اٹھتے دیکھ کر وہ لپک کر میرے پاس آگئی۔

’’اب کیسی طبیعت ہے؟ فاروق‘‘ وہ میرے اوپر جھکی پوچھ رہی تھی۔

’’مم ۔۔۔میں یہاں کسیے آگیا؟ میں تو تھانے میں تھا وہ۔۔۔وہ کمبخت سادھو۔۔۔‘‘ اچانک میں بولتے بولتے رک گیا۔ صائمہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہی تھی۔ اس نے میرے چہرے پر پھونک ماری اور پیار سے کہنے لگی۔
’’فاروق! آپ جلد اچھے ہو جائیں گے، انشاء اللہ‘‘

’’مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘

’’آپ کو بخار ہوگیا تھا۔ شاید آپ ٹھنڈ میں پھرتے رہے ہیں۔ جب موسم بدلتا ہے تو بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے آپ تو اپنی صحت کی طرف سے بالکل بے پرواہ ہو جاتے ہیں‘‘ وہ پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔

’’صائمہ کچھ بتاؤ تو سہی میں تویہاں سے کئی میل دور ایک قصبے کے تھانے میں تھا۔ یہاں مجھے کون لایا ہے؟‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ صائمہ نے جواب دینے کے بجائے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ایک بوتل اٹھائی اور اس میں سے دو چمچ میں ڈال کر میرے منہ کے قریب لے آئی۔ میں نے دیکھا بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دواؤں کی کافی ساری بوتلیں پڑی تھیں۔ میں نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا۔

’’دوا پی لیں انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ آپ دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں دیکھیں کتنے کمزور ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے بجائے میرے سوال کا جواب دینے کے مجھے تسلی دی۔ میں نے منہ کھول کر دوا پی لی۔ آنکھیں بری طرح جل رہی تھیں۔

’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔

’’سو رہے ہیں اس کمرے میں‘‘ اس نے دوسرے بیڈ روم کی طرف اشارہ کیا۔

’’شکر ہے آپ کا بخار ہلکا ہوا۔ دو دن سے تو میری جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔‘‘

’’دو دن سے۔۔۔؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔

’’ہاں جب پرسوں آپ آئے تو بخار میں پھنک رہے تھے۔ میں تو بری طرح گھبرا گئی تھی۔ اللہ بھلا کرے پروفیسر صاحب کا ، اسی وقت ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس نے ٹمپریچر چیک کیا تو105تھا۔ وہ بھی پریشان ہوگئے اور آپ کو ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ ہم لوگ فوراً آپ کو ہسپتال لے گئے۔ آپ پورے دو دن بے ہوش رہے۔ کسی طور آپ کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ ساری رات سسٹرز آپ کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہیں۔ ڈاکٹرز آپ کی بے ہوشی کی وجہ سے سخت پریشان تھے۔ میرا تو رو رو کر برا حال ہوگیا تھا۔ نازش کو جیسے معلوم ہوا فوراً آگئیں۔ بچوں کو سنبھالا۔ آنٹی بھی میرے ساتھ تھیں تھوڑی دیر پہلے گئی ہیں۔ عمران بھائی اور نازش نے اس مشکل وقت میں بڑا ساتھ دیا ہے۔ رات بخار کچھ ہلکا ہوا تو ڈاکٹرز مطمئن ہوئے اور انہوں نے آپ کو گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔‘‘

وہ بتا رہی تھی۔۔۔دوا میں شاید نشہ تھا مجھے تھوڑی دیر بعد نیند آگئی۔ دوسرے دن میں اٹھا توطبیعت پہے سے بہتر بس سر میں ہلکا سا درد تھا۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو صائمہ میرے پاس ہی کرسی پر بیٹھی سو رہی تھی۔ نہ جانے وہ بے چاری کتنے دنوں سے نہیں سوئی تھی۔ میں نے پیار سے اسکی طرف دیکھا۔ سوتے ہوئے وہ بہت معصوم اور حسین لگ رہی تھی۔ اتنی خوبصورت بیدی کے ہوتے ہوئے بھی میں کن خرافات میں الجھ گیاتھا؟ چمپا کا ملنا، پھر پولیس کا مجھے گرفتار کرنا اس کے بعد تھانے اور سپاہیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا۔ وہ سب میرے ذہن میں تازہ ہوگیا گزرے واقعات پر میں اب تک حیران تھا؟ ہو سکتا ہے بخار کی وجہ سے مجھے لاٹے سیدھے خواب دکھائی دیتے رہے ہوں۔ میرے دل میں خیال آیا۔ مجھے ہلکی سی کھانسی ہوئی جس کی آواز سے صائمہ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ لپک کر میرے قریب آگئی۔

’’آپ جاگ گئے؟ کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟‘‘ اس نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔’’شکر ہے آپ کا بخار تو اترا۔‘‘

سارے واقعات ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگئے۔ میں نے سوچا کہیں ایسا تو نہیں کہ بخار کی وجہ سے میں نے کوئی خواب پریشان دیکھا؟سر کو جھٹک کر میں نے خیالات سے پیچھے چھڑایا۔ شام تک بخار مکمل طور پر اتر گیا۔ رات کو میں جلدی ہی سو گیا شاید نیند کی دوا کا اثر تھا۔ دوسرے دن میں پوری طرح فریش تھا صائمہ نے بتایا کہ اس نے عمران سے کہہ کر ایک ہفتے کے لیے چھٹی کی درخواست بھجوا دی ہے۔‘‘

’’اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو تو میں بچوں کو سکول چھوڑ آتی ہوں‘‘ اس نے کھڑی پر جھکتے ہوئے کہا۔

’’نہیں میں اب بالکل ٹھیک ہوں تم پہلے ہی میری وجہ سے بڑی پریشانی اٹھا چکی ہو‘‘ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور باہر نکال لایا۔ احد نے سٹیریو کا بٹن دبایا تو میں بری طرح چونک گیا۔ وہی کیسٹ تھی جو چمپانے لگائی تھی شاید وہ جلدی میں نکالنا بھول گئی تھی۔ 

۔ کیا وہ سب کچھ حقیقت تھا جسے میں بخار کی حالت کی وجہ سے خواب سمجھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر ٹیپ بند کر دی۔

’’بابا آپ نے ٹیپ کیوں بند کر دیا‘‘ احد نے دوبارہ ٹیپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

’’بیٹا! صبح صبح گانے نہیں سنتے‘‘ میں نے بات بنائی۔ اتنے میں ان کا سکول آگیا وہ مجھے خدا حافظ کہہ کر بھاگتے ہوئے سکول میں داخل ہوگئے۔ مومنہ کا پانی والا فلاسک گاڑی میں رہ گیا تھا۔ میں نے سوا اسے دے آؤں جیسے میں نے فلاسک اٹھایا میری نظر انگوٹھی پر پڑی۔ جو سیٹ کے آگے پائیدان پر پڑی تھی۔ یہ انگوٹھی چمپا کی انگلی میں تھی۔ میں سن ہو کر رہ گیا۔ جلدی سے انگوٹھی اٹھائی اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ دیکھنے میں انگوٹھی کافی قیمتی نظر آرہی تھی لیکن غور کرنے پر پتا چلا آرٹیفشل ڈائمنڈ ہے۔ میں نے انگوٹھی کھڑکی سے باہر پھینک دی اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.