Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر8 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط۔ 8
مصنف۔ طارق خان 

یہ ایک پڑیا تھی ۔انہوں نے مجھے پکڑا دی۔

’’اس میں ایک تعویز ہے اسے اپنے گلے میں پہن لینا لیکن گھر میں گھسنے کے بعد۔۔۔جب تک میں نہ کہوں اسے خود سے الگ نہ کرنا ،چاہے تمہاری کوئی عزیز ترین اور قریبی ہستی ہی کیوں نہ کہے۔ اس سے زیادہ میں اس وقت تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔‘‘

’’بابا جی اتنا تو بتا دیں کہ رات کو جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ سب کیا ہے اور گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے تھے؟‘‘

’’آئندہ ایسا نہ ہو سکے گا اس تعویز کی موجودگی میں تم محفوظ رہو گے۔‘‘

انہوں نے میری بات کے جواب میں کہا۔

’’لیکن۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا۔

’’وہ آئندہ ایسا نہ کر سکے گی۔‘‘ جیسے وہ خود سے ہم کلام تھے۔

’’وہ ۔۔۔کون بابا جی؟‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔

’’آں۔۔۔کیا کہا تم نے؟‘‘

’’آپ ابھی فرما رہے تھے وہ آئندہ ایسا نہیں کر سکے گی۔ میں پوچھ رہا تھا وہ کون ہے؟ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘

’’جتنی بات بتانے کی مجھے اجازت تھی میں نے بتا دی کچھ دن اور گزرنے دو پھر میں تمہیں ہر بات بتا دوں گا اگر تم نے میری ان دو نصیحتوں پر عمل کیا تو؟ ‘‘انہوں نے آہستہ سے کہا۔

’’میں آپ کی دونوں نصیحتوں پر حرف بہ حرف عمل کروں گا بابا جی! میں تو آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری رہنمائی فرمائی ‘‘ میں نے عقیدت سے کہا۔

’’ہم سب اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا‘‘ انہوں نے اپنی بات ختم کرکے آہستہ سے آواز دی۔’’محمد شریف!‘‘ آواز اتنی آہستہ تھی کہ میں بھی بمشکل سن پایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازہ کھلا اور محمد شریف اندر داخل ہوا اور ایک طرف ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’خان صاحب کو گھر چھوڑ آؤ اور گھر کا حصار بھی کر آنا۔ تین دن کے لئے۔‘‘ انہوں نے شریف سے کہا۔

’’بہت بہتر حضور!‘‘ شریف نے ادب سے کہا۔

’’کل تمہاری اہلیہ آجائے گی۔ ایک رات کی بات ہے اس کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’کل۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا’’بابا جی! وہ تو چھ سات دن کے لئے گئی ہے۔‘‘

’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ اس بات کوبھی انہوں نے میری بات کا جواب واضح نہ دیا۔

ضرور پڑھیں: وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے
’’انسان کو اپنے دام میں لانے کے لیے شیطان کے پاس بہت خوبصورت جال ہوتے ہیں اس کے داؤ سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘‘

انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی کچھ پڑھ کر پھونکا اور جانے کا اشارہ کیا۔ میں بھی ان کے احترام میں الٹے قدموں واپس نکلا۔ باہر آکر میں نے کلائی بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ باہر نکل کر میں نے شریف سے پوچھا۔

’’شریف مجھے تمہارے والد محترم کی کافی باتیں سمجھ نہیں آئیںَ‘‘

’’قابل صد احترام ابا جان نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے سب کچھ آپ کو خود بخود سمجھ آجائے گا بس آپ تھوڑا انتظار کرلیں‘‘ اس نے بڑے ملائمت سے مجھ سمجھایا پھر موٹر سائیکل باہر نکالی بلند آواز سفر کی د عا پڑھی اور ہم چل پڑے۔ 

میں پہلے ہی کافی الجھا ہوا تھا۔ شریف کے والد کی باتوں نے میری الجھن میں اور اضافہ کر دیا تھا۔

’’اس سے تو اچھا تھا میں نہ آتا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ہم تقریباً آڈھ گھنٹے میں گھر پہنچ گئے ۔ میں نے تالہ کھول دیا شریف نے موٹر سائیکل گیراج کھڑی کی اور میرے ساتھ اندر آگیا۔
’مجھے وہ کمرہ دکھا دیں جہاں کل رات آپ سوئے تھے‘‘ اندر آنے کے بعد اس نے کہا۔ میں اسے بیڈ روم میں لے آیا۔ جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے میں ششدر رہ گیا۔ بیڈ پر ایک بھی گلاب کی پتی موجود نہ تھی۔ نہ وہ گلاب مجھے کہیں دیکھائی دیا جو تکیے پر پڑا تھا۔ صبح جب میں گھر سے نکلا تو سب کچھ ویسے ہی چھوڑ گیا تھا۔ اب بیڈ ایسے صاف تھا جیسے کبھی پھول کی ایک پتی بھی اس کمرے میں نہ لائی گئی ہو۔ محمد شریف نے مجھ سے ایک جائے نمازطلب کی اور اس پر بیٹھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ گیا۔

’’جناب! میں نے گھر کا حصار کر دیا اب آپ بے فکر ہو جائیں۔‘‘

’’شریف ایک بات بتاؤ۔ بابا جی تو بزرگ ہیں میں کچھ زیادہ پوچھ نہ سکا۔ کہیں ناراض نہ ہو جائیں تم تو میری الجھن رفع کر دو۔۔۔یار!‘‘ میں نے بے تکلفی سے پوچھا کچھ تو وہ میرا ماتحت تھا اور عمر میں بھی وہ مجھ سے سال دو سال چھوٹا ہی دکھتا تھا۔

’’پوچھیں خانصاحب! اگر میں جانتا ہوا تو ضرور بتاؤں گا۔‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ میں نے ا سے رات والا خواب بتانا چاہا۔

’’کچھ کچھ میں جانتا ہوں۔ آپ وہ بات بتائیں جو کہہ رہے تھے‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔

’’یہ سب کیا ہے ؟ صبح جب میں اٹھا تو بیڈ گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا سب کچھ ویسے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن اب ایک بھی پتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بابا جی کہہ رہے تھے وہ خواب نہیں تھا۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میری بیوی تو مجھ سے میلوں دور بیٹھی ہے؟‘‘ میں نے اپنی الجھن اس پر واضح کی۔ اچانک باہر سے بلی کے رونے کی آواز آئی۔ محمد شریف نے چونک کر دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھا گئی۔

’’خالق کائنات نے انسان کے علاوہ کچھ اور مخلوقات بھی پیدا کی ہیں۔ جو اس دنیا میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اچھے بڑے موجود ہیں۔ ہر چند کہ ان پر بھی پابندیاں ہوتی ہیں لیکن انسانوں کی طرح ان میں بھی نیک و بد، نامفرمان و فرمان بردار، اللہ کے بندے اور شیطان کے پیروکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے انسانوں کو ستانے کے لیے چلے آتے ہیں جس کی وہ روز آخرت سز پائیں گے ایسے ہی کچھ اثرات میں یہاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے رسان سے مجھے سمجھایا۔

۔۔

میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا جملہ گونجا۔’’کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے اس گھر کے بارے میں خرافات اور افواہیں پھیلا رکھی ہیں کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے۔‘‘

’’تو کیا اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق موجود ہے؟‘‘ میں نے شریف کی طرف دیکھا 

’’ہے نہیں تھی۔۔۔‘‘ اس نے میری بات کی تصحیح کی۔’’اب میں نے محترم ابا جان کی ہدایت کے مطابق گھر کا حصار کر دیا ہے آپ بے فکر ہو کر سو جائیں۔ اگر آپ کو کسی قسم کا خوف ہے تو میں آپ کے ساتھ رکنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

’’ارے نہیں شریف! میں جنات وغیرہ سے قطعی نہیں ڈرتا نہ ہی میں خوفزدہ ہوں لیکن ان سب واقعات سے الجھن محسوس ضرور محسوس کر رہا ہوں۔ میری تو خواہش ہے کہ کبھی جنات کو دیکھوں کہ وہ کس قسم کے ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ ایک بار پھر بلی کے رونے کی آواز آئی۔

’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘‘ اس نے بالکل اپنے والد صاحب کی طرح کہا۔’’اب مجھے اجازت ہے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

’’ٹھیک ہے محمد شریف تمہارا شکریہ اس نا وقت زحمت کے لئے‘‘ اس نے سلام کیا اور باہر نکل گیا میں نے گیٹ بند کیا اور بیڈ روم میں آگیا۔ کچھ دیر جاگتا رہا پھر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہوگئی۔ دوسرے دن میری آنکھ دیر سے کھلی میں جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ شریف کے والد صاحب کا کہا سچ ثابت ہوا۔ صائمہ دوسرے دن واپس آگئی تھی۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ میرے بارے میں پریشان تھی کہ نہ جانے میں وقت پر کھاتا پیتا بھی ہوں کہ نہیں۔ صائمہ کی غیر موجودگی میں جو کچھ ہوا تھا میں نے اس کا ذکر اس سے نہ کیا تھا۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا۔ ایک دن میں حسب معمول بینک سے گھر پہنچا تو گیراج میں گاڑی کھڑی تھی ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز 
آرہی تھی میں نے سوچا نازش اور عمران آئے ہوں گے۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو مالک مکان پروفیسر عظمت بیگ ایک سو برسی خاتون کے ہمراہ موجود تھے۔ صائمہ نے ٹیبل پر چائے اور دیگر لوازمات سجا رکھے تھے۔ اس معاملے میں وہ بہت حساس تھی کہ اس کے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر نہ چلا جائے۔ میں نے ادب سے سلام کیا تو وہ ہنس کر بولے 

’’برخوردار! تم تو ٹھہرے بڑے افسر ہم نے سوچا کیوں نہ خود ہی مل آئیں۔‘‘

’’پروفیسر صاحب ! بس کچھ نکما پن ہے ورنہ تو کئی بار سوچا آپ سے ملاقات کرنے کے بارے میں‘‘ میں ان کے خلوص کے سامنے شرمندہ ہوگیا۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے پھر ہمیں آنے کی تاکید کرکے رخصت ہوگئے۔

میں نے یہاں تبادلے کے فوراً بعد ہی گاڑی کے لئے لون اپلائی کیا تھا جو منظور ہوگیا۔ دوسرے دن میں جا کر شو روم سے گاڑی لے آیا۔ بچے بہت خوش تھے کہ اب وہ روزانہ سیر کے لیے جا سکیں گے۔ کچھ دن بعد مجھے کسی آفیشل کام کے لئے ملتان جانا پڑا جو شام چار بجے کے قریب ختم ہوا۔ میرا خیال تھا میں ایک دو گھنٹے میں گھر پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اس دن ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا جس کی وجہ سے سارے راستے بند تھے۔ جو ایک آدھ کھلا تھا وہاں پر بھی ٹریفک کا اتنا رش تھا گاڑی تو کجا پیدل جانے کے لیے بھی راستہ نہ تھا۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ خیر خدا خدا کرکے راستہ کھلا۔ میں نے گھڑی دیکھی شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی میں محتاط انداز سے گاڑی چلاتا رہا۔ آگے سڑک کچھ ٹھیک تھی میں نے سپیڈ بڑھائی نئی گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میں جلد از جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اچانک میری نظر سڑک کنارے کھڑے ایک مرد اور برقع پوش عورت پر پڑی جو ہاتھ ہلا ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔

ٹریفک بلاک کی وجہ سے بسیں رکی ہوئی تھیں نہ جانے وہ بے چارے کتنی دیر سے بس کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے تو میں نے سوچا گزر جاؤں پھر میں نے بریک پر پاؤں رکھ دیا۔ گاڑی ان کے قریب جا کر رک گئی۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا لیکن ابھی روشنی تھی۔ برقع میں ملبوس عورت جلدی سے آگے بڑھی کھڑکی پر جھک کر بولی۔

’’آپ کی مہربانی ہوگی اگر مجھے لفٹ دے دیں۔ ہم کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں بسیں کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ وہ خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ آدمی ایک طرف کھڑا رہا۔ نقاب اس نے چہرے کے گرد اس طرح لپٹا ہوا تھا کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں عجیب سا سحر تھا۔ جیسے ہی میں نے اس کی طرف دیکھا بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

’’کوئی بات نہیں آپ جہاں کہیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیسا جادو تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر پچھلا دروازہ کھولنا چاہا تاکہ وہ دونوں بیٹھ سکیں کہ اس نے پیچھے مڑ کر اس آدمی سے کہا۔

’’تم جاؤ‘‘ وہ آدمی خاموشی سے واپس چلا پڑا۔ پھر وہ مڑی اور اطمینان سے اگلا دروازہ کھول کر میرے برابر بیٹھ گئی۔ اس نے کوئی بہت اعلیٰ قسم کا پرفیوم لگایا ہوا تھا گاری مسحور کن خوشبو سے مہک اٹھی۔ میں نے ایک لمبا سانس لے کر اس مہک کو اندر اتارا میرا سارا وجود معطر ہوگیا۔ مسحور کن خوشبو نے واقعی مسحور کر دیا تھا۔ لیکن اندر سے میں بری طرح پچھتا رہا تھا کہ کیوں گاڑی روکی؟ اکیلی عورت تھی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ اکیلی میرے ساتھ سفر کرے گی تو میں کبھی گاڑی نہ روکتا۔ لیکن جو ہونا تھا وہ توہو چکا تھا میں نے گاڑی کو آگے بڑھایا۔

’’یہاں سے بیس پچیس میل دور میرا گاؤں ہے آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے گاڑی روک دی میں تقریباً دو گھنٹے سے کھڑی انتظار کر رہی ہوں۔ کھڑے کھڑے میری تو ٹانگیں تھک گئیں۔‘‘ کافی باتونی معلوم ہوتی تھی حالانکہ میں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن اس نے تفصیل بتائی۔

’’کیا نام ہے آپ کے گاؤں کا؟‘‘ میں نے یوں ہی برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔

’’مادھو پور‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ غیر ارادی طور پر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو ہٹنا بھول گئی۔ وہ بے پناہ حسین تھی۔ بڑی بڑی سیاہ جھیل سی آنکھیں ، ستواں ناک، ہونٹ جیسے گلاب کی ادھ کھلی کلی۔ اس کی گلابی رنگت اتنی پیاری تھی کہ اس کے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایسا حسن صرف کتابوں میں پڑھا۔ یا قصے کہانیوں میں سنا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس نے میری کیفیت کو محسوس کر لیا تھا۔ دل آویز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر چھا گئی۔ میں نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ جسم کا سارا خون سمٹ کر میرے چہرے پر آگیا۔تھوڑی دیر پہلے میں سوچ رہا تھا اسے گاڑی میں بٹھا کر میں نے غلطی کی ہے اب میرے ہوش و حواس کام نہیں کر رہے تھے۔ نہ تو میں کوئی دل پھینک قسم کا انسان ہوں اور نہ آوارہ کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میری نیت خراب ہو جائے لیکن وہ اتنی حسین تھی کہ اگرمیں مکمل طور پر اس کی تعریف بیان کروں تو شاید الفاظ میرا ساتھ نہ دیں اور پڑھنے والوں کو مبالغہ آمیزی لگے۔

’’آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘اس کی مدھر آواز گاڑی میں گونجی۔ میں نے اپنے شہر کا نام بتایا۔
وہاں تو میرے چچارہتے ہیں آپ کا گھر کہاں ہے؟ میں نے کافی عرصہ اس شہر میں گزارا ہے۔ وہاں کی ایک ایک گلی محلے کو اچھی طرح جانتی ہوں‘‘ اس نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر میرے دل پر بجلی گرائی۔

’’لیکن میں نہیں جانتا‘‘ بمشکل میں اس کے حسین چہرے سے نظریں ہٹا پایا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں حیرت در آئی۔ ایک تو اس کا حسن مجھے بے قرار کر رہا تھا اس پر اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو اور آواز بھی اس کی بہت مدھر تھی۔ اس میں کسی کو بھی دیوانہ بنانے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔

’’دراصل میں حال ہی میں لاہور سے اس علاقے میں شفٹ ہوا ہوں۔ ابھی شہر سے میری کوئی خاص واقفیت نہیں ہوئی۔ ہاں اتنا جانتاہوں کہ میرے گھر سے ذرا آگے ایک بہت خوبصورت پارک واقع ہے جسے ’’لیڈی باغ‘‘کہتے ہیں۔ میں بہانے ہانے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اب مجھے اس سے باتیں کرنے میں مزا آرہا تھا۔ کبھی بات کرنے کے بہانے اور کبھی اس سے کوئی بات پوچھنے کے بہانے میں اس کے حسین چہرے پر ایک نظر ڈال لیتا تھا۔

’’اچھا تو آپ’’سعود آباد‘‘ میں رہتے ہیں کسی زمانے میں یہاں ایک شمشان گھاٹ ہوا کرتا تھا‘‘ اسنے میرے علم میں اضافہ کیا۔’’یہ ساری آبادی ہندوؤں کی تھی میرا مطلب ہے یہاں ہندو آباد تھے۔ تقسیم کے بعد کافی لوگ تو ہندوستان چلے گئے جو رہ گئے ان کو بھی وہاں سے آنے والے مسلمانوں نے یہاں سے نکال دیا۔ ان کے گھر چھین لیے۔ بہت سوں کوقتل کر دیا ان میں سے وہی لوگ بچ پائے جو یہاں سے فرارہوگئے تھے۔‘‘ اس کی آواز میں عجیب سا درد امڈ آیا۔ حسن سوگوار ہوگیا تھا۔

’’تمہیں یہ سب باتیں کس نے بتائیں؟ میرا مطلب ہے تم تو تقسیم کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی‘‘ میں نے کہا۔
’میں اتنی بھی کم عمر نہیں ہوں‘‘ وہ کھکھلا کر ہنسی۔

’’اچھا تو تم تقسیم کے وقت موجود تھیں۔‘‘ میں نے بھی ہنس کرکہا۔

’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘اس نے ایک ادا سے چہرے پرآئی بالوں کی لٹک وجھٹکا دیا۔

’’فاروق خان۔۔۔ تمہارا؟‘‘ میں نے اپنانام بتاکر اس سے پوچھا۔

’’چمپا۔۔۔کیا یہ نام مجھ پر جچتا ہے؟‘‘ اسنے عجیب ساسوال کیا۔

’’بالکل تم تو اسم با مسمیٰ ہو۔ بلکہ پھول بھی تمہیں دیکھ لے تو شرما جائے۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔ میں نے چورنظروں سے اپنی بات کا ردعمل دیکھنے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو وہ بڑی والہانہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’یونہی مجھے بنا رہے ہیں۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔

’’تم تو قدرت کی صناعی کا کامل شاہکار ہو تمہیں مالک کائنات نے اتنا خوبصورت بنایا ہے کہ جواب نہیں۔‘‘ الفاظ خود میری زبان سے ادا ہو رہے تھے۔ میری بات سن کر اسکی آنکھوں میں وارفتگی بڑھ گئی۔

’’آپ بھی کچھ کم خوبصورت نہیں‘‘ حیا سے اس کاچہرہ گلنار ہوگیا۔

اب ہم برسوں پرانے دوستوں کی طرح بے تکلفی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کر دی تھی۔ مقصد زیادہ سے زیادہ وقت اس کی معیت میں گزارناتھا۔ میرے ان جذبوں میں ارادے کا کوئی دخل نہ تھا۔ نہ جانے میں اسے دیکھ کر کیوں بے خود ہوا جا رہا تھا۔ اسے خود ستائشی نہ سمجھا جائے تو میں کہوں گاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دل کھول کر وجاہت عطا فرمائی ہے۔ میں جہاں بھی جاتا کواتین کی نظریں میرا طواف کرتیں۔ صائمہ تو اکثر میری نظر اتارا کرتی۔

’گاڑی دائیں طرف موڑ لیجئے۔‘‘ اس کی آواز مجھے خیالوں سے باہر کھینچ لائی۔ میں نے دیکھا سڑک کے دائیں طرف ایک کچا راستہ جا رہا تھا۔ گاری کی رفتار آہستہ کرکے میں نے اسکے بتائے ہوئے راستے پر موڑ دیا۔ کہاں تو مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی اور اب مجھے کسی بات کا ہوش نہ تھا۔

اوائل سردیوں کا موسم تھا ہوا میں ہلکی ہلکی سی خنکی شروع ہو چکی تھی۔ میں نے گاڑی کے شیشے بند کر دیئے۔ اس نے اپنا پرس کھول کر اس میں سے ایک کیسٹ نکالی اور گاڑی میں لگے سٹیریوں میں لگا دی۔ یہ سب کچھ اس نے اتنی اپنائیت سے کیا کہ میں اسے ٹوک بھی نہ سکا۔ لتا کی مدھر آوازگاڑی میں گونجنے لگی۔ گانا تو مجھے یاد نہیں کچھ عشقیہ قسم کا تھا۔ اسکا کافر اداحسن اس پر لتا کی رسیلی آواز مجھ پر اس ماحول کا جادو چھا گیا۔ اچانک اس نے سٹیرنگ پر رکھے میرے ہاتھ پر اپنانرم نازک ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی انگلی میں ہیرے کی قیمتی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا سحر کارآنکھوں کی کشش نے مجھے جکڑ لیا۔ میراپاؤں بے اختیار بریک پرچلا گیا۔ اسکے گداز اور گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ تھی۔ میں جیسے اسکی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب گیا۔ ہم دنیا ومافیا سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو سے گئے۔ پھر اس کی خمار آلود مدھر آواز آئی۔

’’بابو! تو نے تو پل بھرمیں موہے دیوانہ بنادیا۔۔۔نہ میں تو ہے جانوں نہ تو موہے، پرنتویوں لاگے ہے جیسے ہم جنم جنم سے ایک دوجے کو جانت ہیں۔‘‘

میں اسکی آواز کے سحرمیں کھو گیا۔ تھوری دیر پہلے وہ بڑی شستہ اردو بول رہی تھی اب عجیب سے لہجے اور زبان میں بات کرنے لگی۔ لیکن میں اسے بھی اسکی کوئی ادا سمجھا اور اس وقت کس کمبخت کو ان باتوں کا ہوش تھا۔ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں پیار کا ساغر ہلکورے لے رہا تھا۔ آنکھیں کیا تھیں مے سے بھرے دوپیالے تھے۔ مجھ پر نشہ سا چھانے لگا۔ حسین چہرہ میرے چہرے کے قریب ہوگیا۔ اس کی گرم سانسں اور قرب نے مجھ سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں چھین لیں۔ قریب تھا گلاب کی ان پنکھڑیوں سے میرے لب چھو جاتے۔
اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر‘‘

اچانک قریبی مسجد سے آذان کی آواز آئی۔ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ میں بھی جیسے سحر سے آزاد ہوگیا۔ چونک کر اردگرد دیکھا ۔ رات کی تاریکی پوری طرح پر پھیلا چکی تھی۔ چمپا چہرہ دوسری طرف کیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ میں جیسے نیند سے جاگ گیا۔ خود سے شرمسار تھا۔

اللہ کی بڑائی بیان کی جا رہی تھی’’اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔‘‘

’’حی الصلاح ۔۔۔حی افلاح‘‘ لوگوں کو نماز اور فلاح کی طرف بلایا جا رہا تھا۔’’آؤ نماز کی طرف ۔۔۔آؤ بھلائی کی طرف‘‘

میں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور کچے راستے پر چل پڑا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ چمپا بالکل خاموش بیٹھی تھی اور میرے پا س بھی کہنے کو کچھ نہ تھا۔ گاڑی میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ راستہ کچا اور اونچا نیچا تھا۔ سڑک کی دونوں اطراف کھیت تھے جن میں فصل لہلہا رہی تھی۔ جی تو چاہ رہا تھا اسے یہیں اتار کر اپنی راہ لوں لیکن ضمیر نے گوارہ نہ کیا رات کی تاریکی اور تنہائی میں اسے کس کے سہارے چھوڑتا۔۔۔؟ بادل نخواستہ گاڑی اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلاتا رہا ۔ آگے سے کچا راستہ بائیں جانب طرف مڑ رہا تھا۔ اچانک موڑ پر تیز روشنی دکھائی دی۔ شاید سامنے سے کوئی گاڑی آرہی تھی۔ راستے کی چوڑائی اتنی نہ تھی کہ بیک وقت دو گاڑیاں اس پر گزر سکتیں۔ موڑ سے ذرا پہلے میں نے گاڑی روک دی اور انتظار کرنے لگا کہ سامنے سے آنے والی گاڑی گزر جائے۔ گاری اب موڑ مڑ کر سامنے آگئی تھی۔ اچانک اس کی چھت پر لگی سرچ لائٹ جلنے بجھنے لگی۔ ساتھ ہی گاڑی سے سائرن کی آواز سے چند سپاہی باہر نکلے جن کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ انہوں نے اترکر میری گاڑی کو گھیر لیا۔ پولیس وین کی اگلی سیٹ سے ایک باوردی پولیس والا اترا اور کرخت آواز میں مجھے گاڑی سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ میرا دل تیز تیز دکھڑکنے لگا۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور سر باہر نکال کر اس سے پوچھا۔

’’کیا بات ہے انسپکٹر صاحب؟‘‘

’’بات کے بچے ! تو نے سنا نہیں صاحب نے کیا کہا ہے؟‘‘ سپاہی جس نے مجھ پر گن تان رکھی تھی گرج کر بولا۔ غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں ضبط کیے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ جیسے ہی میں نیچے اترا دوسری طرف کا دروازہ کھول کر چمپا بھی گاڑی سے نکل آئی۔ کندھے پر لگے اسٹارز سے انسپکٹر نظر آنے والے آفیسر نے اپنی گاڑی کی طرف دیکھ کر کسی کو پکارا۔

’’رام داس باہر آؤ۔‘‘ ڈبل کیبن پولیس موبائل کا پچھلا دروازہ کھلا اور دھوتی کرتے میں ملبوس ایک شخص نیچے اتر آیا۔ میں حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جیسے ہی وہ شخص باہر آیا چمپا تیر کی طرح اس کی طرف لپکی اور ’’باپو‘‘ کہہ کر اس کے گلے لگ گئی 

’’باپو ! یہ دھشٹ (ظالم) موہے پھریب(فریب) سے اپنی موٹر میں بٹھا کر لایا ہے کہے تھا منے تہار باپو نے بھیجا ہے تو کے لانے واسطے‘‘(ابو یہ ظالم دھوکے سے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لایا ہے کہہ رہا تھا کہ مجھے تمہارے والد نے بھیجا ہے تمہیں لانے کے لیے) وہ سسکیاں لینے لگی۔ میں بری طرح چونک گیا۔

’’یہ کیا کہہ رہی ہو چمپا! تم نے خو دہی تو مجھے کہا تھا کہ شام ہونے کو ہے اور کوئی بس وغیرہ نہیں آرہی۔ برائے مہربانی مجھے میرے گھر پہنچا دو‘‘ حیرت سے میری عقل گم تھی۔ ’’انسپکٹر! صاحب میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں ملتان سے آرہا تھا کہ اس لڑکی کو ایک آدمی کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے دیکھا۔ انہوں نے مجھے ہاتھ دے کر روکا اور لفٹ کے لیے کہا۔ دراصل آج ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا اس لئے ٹریفک بلاک ہوگیا۔ بسیں نہیں آرہی تھیں میں نے تو انسانی ہمددی کے ناطے گاڑی ان کے لئے روک دی تھی۔ اس لڑکی نے اس آدمی کو جانے کے لیے کہا اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں اسے اس کے گاؤں پہنچا دوں جو یہاں سے بیس پچیس میل دور ہے۔ میں نے اس بات کے پیش نظر کہ اکیلی لڑکی ہے اور شام کا وقت ہے نہ جانے اور کتنی دیر بس نہ آئے گاڑی میں بٹھا لیا۔ میں ایک معزز اور پڑھا لکھا انسان اور مقامی بینک میں بطور منیجر تعینات ہوں‘‘ میں نے جلدی جلدی سارے واقعات انپسکٹر کو بتا دیئے۔ لڑکی بدستور اس آدمی سے چپکی کھڑی تھی جسے اس نے باپو کہا تھا۔

’تیری تقریر ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے۔‘‘ انسپکڑ کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔’’بچو! یہ تو تھانے چل کر معلوم ہوگا کہ تو کون ہے؟ ہمیں تو کوئی دن سے تیری تلاش تھی۔ بروقت پہنچنے سے تیسری لڑکی قتل ہونے سے بچ گئی ورنہ تو نے اسے بھی عزت لوٹ کر ٹھکانے لگا دیا ہوتا۔‘‘ اس نے طنزیہ انداز سے کہا۔

’’یی۔۔۔یہ۔۔۔آ۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں انسپکڑ صاحب! آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کا قتل کیا ہے‘‘ حیرت اور صدمے سے میں بری طرح بوکھلا گیا۔

’’تیری تو۔۔۔‘‘اس نے ایک نہایت فحش گالی دی ’’چل گاڑی میں بیٹھ، تھانے چل کر تیری ساری کہانی نویسی نکالتا ہوں۔ آج رات تھانے میں گزرے گی تو تُو سب کچھ قبول کر لے گا‘‘ اس نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا جس نے مجھے دھکا دے کر گاڑی کی طرف دھکیلا۔ دھکا کھا کر میں گرتے گرتے بچا۔

’’ہے بھگوان تیری بڑی کرپا(مہربانی) تو نے میری پتری کو اس پاپی(گناہ گار) سے بچا لیا۔ نہ جانے یہ دھشٹ میری کومل پتری سنگ کیا کرتا؟ اری مورکھ! تنجھے کونو کہے تھا اس پاپی سنگ موٹر مابیٹھ‘‘ اس نے شکر ادا کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو جھڑکا۔ انسپکٹر نے لڑکی اور آدمی کی طرف دیکھا۔

’’تم لوگ بھی صبح تھانے آجانا تمہارا بیان ہوگا۔ اسے تو میں اب ایسی جگہ پہنچاؤں گا کہ یہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ بچو! اب تجھے پھانسی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘‘ انسپکٹر نے آخری فقرہ میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’چمپا میں نے تمہارے اوپر مہربانی کی ہے اور تم مجھے اس کا یہ صلہ دے رہی ہو۔‘‘ کوئی چارہ نہ پا کر میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھا جس نے اپنا نام چمپا بتایا تھا۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ایک سپاہی نے میرا کالر پکڑ کر مجھے زوردارجھٹکا دیا۔

’’چل اوئے چمپا کے بچے! تو تو مجھے کوئی عادی مجرم لگتا ہے۔۔۔تیری زبان تو قینچی سے بھی زیادہ تیز چلتی ہے۔۔۔چل ذرا تھانے، تجھے پتا چلے گا۔ کیسے معصوم لڑکیوں کی عزت لوٹ کر انہیں قتل کیا جاتا ہے؟‘‘ اس نے مجھے زور سے گاری کی طرف دھکا دیا۔

’’دیکھیں! آپ لوگ میری بات سنیں میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔‘‘ ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ میرے سر کے پچھلے حصے پر شدید ضرب لگی اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

گرتے گرتے آخری فقرہ جو میری سماعت سے ٹکرایا وہ تھا۔۔۔’’اس حرامی کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالو‘‘ اس کے بعد میں ہوش و خرد کی دنیا سے دور چلا گیا۔ درد کی ایک تیز لہر مجھے دوبارہ ہوش کی دنیا میں کھینچ لائی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ایک تنگ سے کمرے میں فرش پر بچھی چٹائی پر پڑا تھا۔ مدہم روشنی والا بلب کمرے کی تاریکی کو دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں اٹھتی درد کی تیز لہر نے بے اختیار کراہنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھا تو میرا ہاتھ چپچپانے لگا۔ بے ہوشی کا سبب بننے والی غالب بندوق کے بٹ کی وہ ضرب تھی جو سر کے پچھلے حصے پر لگائی گئی تھی۔ اس سے میرا سر پھٹ گیا تھا اور کچھ خون رس کر جم چکا تھا۔

’’یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟اگر کوئی سازش ہے تو کسی کو میرے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟‘‘ میں نے دکھتے سر کے ساتھ سوچ اور ہمت کرکے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سر سے ٹیسیں نکل رہی تھیں۔ نظر گھما کر دایءں بائیں دیکھا سلاخوں والا دروازہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میں تھانے میں بند ہوں۔

رات کی تاریکی اور خاموشی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ مجھے لانے والے نہ جانے کہاں چلے گئے تھے؟ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اس وقت کو کوسنے لگا جب میں نے اس لڑکی کو لفٹ دی تھی ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ چمپا نے یہ کیوں کہا کہ میں دھوکے سے اسے گاڑی میں ڈال کر لے جا رہا تھا اور انسپکٹر دو لڑکیوں کا قتل میرے کھاتے میں ڈال رہا تھا۔ یہ سارا گورکھ دھندا میری سمجھ سے باہر تھا۔ نہ جانے کتنی دیر میں اپنے خیالوں میں کھویا رہا۔ اچانک مجھے باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی جو آہستہ آہستہ قریب آرہی تھی۔ تالہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی اندر آگیا۔ میں نے سر گھما کر دیکھا اور بری طرح اچھل پڑا۔ اندر آنے والا وہی خبیث صورت سادھو تھا۔ سادھو امرکمار۔جو مجھے پہلے بینک، دوسری بار کھیتوں کے پاس ملا تھا۔ جب میں ملنگ کے پیچھے جا رہا تھا۔ اب وہ میرے سامنے کھڑا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بدن پر آج بھی صرف ایک دھوتی تھی۔ پاؤں میں اس نے لکڑی کے کھڑاؤں پہن رکھے تھے اور انگلیاں حسب معمول موٹی موٹی سی مالا کے دانوں پر حرکت کر رہی تھیںَ۔

کمرے میں ناگوار بو پھیل گئی تھی۔ جس کا منبع یقیناً یہی مردود تھا۔ ایک سپاہی اس کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ پل بھر میں ساری بات میری سمجھ میں آگئی۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔

’’تو یہ سب کچھ تیرا کیا دھرا ہے‘‘ غصے سے میرا چہرہ تپ گیا۔ کچھ دیر وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔

’’تو واقعی مورکھ ہے تیرے سر میں بدھی(عقل) کے بجائے بس بھرا ہے۔ اس سمے میں دیوی کے کارن تیری سہائتا کرنے آیا ہوں اور تو ہے کہ مجھے ہی دوش(الزام) دے رہا ہے‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا۔ ’’یدی میں اس سمے یہاں نہ آتا تویہ لوگ تیرے سنگ جانے کیا کرتے؟ میرے اپکار(احسان) کو ماننے کے بجائے تو الٹا مجھے ہی دوشی ٹھہرا رہا ہے تو واقعی مورکھ ہے ۔ جانے دیوی کو تجھ میں کیا نجر آیا ہے جو مجھے بار بار تیری سہائتا کے واسطے بھیج دیتی ہے؟‘‘ وہ مجھے یوں دیکھ رہا تھا جیسے میں نے نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔ میری کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔ اب تک جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔۔۔میری جتنی تذلیل ہوئی تھی اس کا باعث یہی منحوس تھا۔ رگوں میں خون جوش مارنے لگا۔ اچانک میرا ہاتھ گھوما اور سادھو کے چہرے پر زناٹے سے پڑا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ تھپڑ مارتے ہوئے میں نے سارے جسم کی قوت استعمال کی تھی باوجود بھاری تن و توش کے وہ بری طرح لڑکھڑا گیا اور گرتے گرتے بچا۔ کچھ تو وہ اپنے دھیان کھڑا تھا اورمیں بھی مارتے ہوئے پوری طاقت استعمال کی تھی۔

’’تو کیا سمجھتا ہے اس قسم کی دھکمیوں سے میں ڈر جاؤں گا؟ یاد ہے میں نے تجھ سے کہا تھا میرے سامنے نہ آنا ورنہ وہ حشرکروں گا کہ یاد رکھے گا‘‘ غصے سے میرا بھرا حال ہوگیا۔ تھپڑ کھا کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا۔ آنکھیں جو پہلے ہی لال تھیں انگارہ بن گئیں۔حیرت اور صدمے سے وہ گنگ ہوگیا۔ 

اسے شاید مجھ سے اس قسم کے سلوک کی توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا میں اسے دیکھتے ہی منتیں کروں گا اور اس سے مدد کی بھیک مانگوں گا۔ مالا کے دانوں پر حرکت کرتی انگلیاں ساکت ہوگئی تھیں۔ وہ کسی سانپ کی طرح پھنکارا۔

’’پاپی تو نے سادھو امر کمار پر ہاتھ اٹھا کر گھور پاپ(بہت بڑا گناہ) کیا ہے۔ اس دن بھی میں نے دیوی کارن تجھے شما کر دیا تھا۔ پرنتو آج جو پاپ تو نے کیا ہے یدی دیوی بھی چاہے تو اب تجھے میرے شراپ (سزا) سے نہ بچاپائے گی۔میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ تو نرکھ (جہنم) میں جا کر بھی مجھے نہ بھول پائے گا۔‘‘

وہ مڑا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ سپاہی جو اس دوران بالکل خاموش کھڑا تھا وہ بھی جلدی سے باہر نکلا اور دروازہ بند کرکے تالا لگا دیا۔ کچھ دیر تو میں کھڑا غصے میں پیچ و تاپ کھاتا رہا پھر آہستہ آہستہ پر سکون ہو کر دوبارہ چٹائی پر بیٹھ گیا۔ میرے بڑے بھائی کے چیف منسٹر صاحب کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ میں فقط اس انتظار میں تھا کہ صبح ہو اور میں کسی سپاہی کو کچھ ’’دے دلا‘‘ کر اس بات پر آمادہ کر لوں کہ وہ میرے گھر فون کرکے ان کو ساری صورتحال بتا دے۔ مجھے یقین تھا کہ فوراً سے پہلے علاقے کا ایس پی خود یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا اور تھانہ انچارج کو عملے سمیت معطل کر دے گا۔

سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں صرف پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ سادھو سے میری نفرت دو چند ہوگئی تھی۔ اس حرام زادے کی وجہ سے میں یہاں اس حال میں پڑا تھا۔ وہ بڑا کینہ توز انسان تھا۔ آج اس سے نے مجھ سے اس دن کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کچھ کروایا تھا۔ غلطی میری بھی تھی میں نے خواہ مخواہ گاڑی روک کر چمپا کو بٹھایا۔

مجھے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ کردار کے لحاظ سے میں ایک صاف ستھری زندگی گزارتا آیا تھا۔ آج میں قصر مذلت میں گرنے کی پوری تیاری کر بیٹھا تھا۔ یہ تو اس رحیم و کریم اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ میں گناہ کبیرہ سے بچ گیا۔ میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا لیکن میرا قصور بھی نہ تھا۔ نہ جانے اس لڑکی کی آنکھوں میں کیسا سحر تھا کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ انہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا کہ دوبارہ مجھے قدموں کی آواز سنائی دی جو دم بدم قریب آرہی تھی
(جاری ہے)رادھا 
قسط۔ 8
مصنف۔ طارق خان 

یہ ایک پڑیا تھی ۔انہوں نے مجھے پکڑا دی۔

’’اس میں ایک تعویز ہے اسے اپنے گلے میں پہن لینا لیکن گھر میں گھسنے کے بعد۔۔۔جب تک میں نہ کہوں اسے خود سے الگ نہ کرنا ،چاہے تمہاری کوئی عزیز ترین اور قریبی ہستی ہی کیوں نہ کہے۔ اس سے زیادہ میں اس وقت تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔‘‘

’’بابا جی اتنا تو بتا دیں کہ رات کو جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ سب کیا ہے اور گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے تھے؟‘‘

’’آئندہ ایسا نہ ہو سکے گا اس تعویز کی موجودگی میں تم محفوظ رہو گے۔‘‘

انہوں نے میری بات کے جواب میں کہا۔

’’لیکن۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا۔

’’وہ آئندہ ایسا نہ کر سکے گی۔‘‘ جیسے وہ خود سے ہم کلام تھے۔

’’وہ ۔۔۔کون بابا جی؟‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔

’’آں۔۔۔کیا کہا تم نے؟‘‘

’’آپ ابھی فرما رہے تھے وہ آئندہ ایسا نہیں کر سکے گی۔ میں پوچھ رہا تھا وہ کون ہے؟ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘

’’جتنی بات بتانے کی مجھے اجازت تھی میں نے بتا دی کچھ دن اور گزرنے دو پھر میں تمہیں ہر بات بتا دوں گا اگر تم نے میری ان دو نصیحتوں پر عمل کیا تو؟ ‘‘انہوں نے آہستہ سے کہا۔

’’میں آپ کی دونوں نصیحتوں پر حرف بہ حرف عمل کروں گا بابا جی! میں تو آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری رہنمائی فرمائی ‘‘ میں نے عقیدت سے کہا۔

’’ہم سب اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا‘‘ انہوں نے اپنی بات ختم کرکے آہستہ سے آواز دی۔’’محمد شریف!‘‘ آواز اتنی آہستہ تھی کہ میں بھی بمشکل سن پایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازہ کھلا اور محمد شریف اندر داخل ہوا اور ایک طرف ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’خان صاحب کو گھر چھوڑ آؤ اور گھر کا حصار بھی کر آنا۔ تین دن کے لئے۔‘‘ انہوں نے شریف سے کہا۔

’’بہت بہتر حضور!‘‘ شریف نے ادب سے کہا۔

’’کل تمہاری اہلیہ آجائے گی۔ ایک رات کی بات ہے اس کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’کل۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا’’بابا جی! وہ تو چھ سات دن کے لئے گئی ہے۔‘‘

’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ اس بات کوبھی انہوں نے میری بات کا جواب واضح نہ دیا۔

ضرور پڑھیں: وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے
’’انسان کو اپنے دام میں لانے کے لیے شیطان کے پاس بہت خوبصورت جال ہوتے ہیں اس کے داؤ سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘‘

انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی کچھ پڑھ کر پھونکا اور جانے کا اشارہ کیا۔ میں بھی ان کے احترام میں الٹے قدموں واپس نکلا۔ باہر آکر میں نے کلائی بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ باہر نکل کر میں نے شریف سے پوچھا۔

’’شریف مجھے تمہارے والد محترم کی کافی باتیں سمجھ نہیں آئیںَ‘‘

’’قابل صد احترام ابا جان نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے سب کچھ آپ کو خود بخود سمجھ آجائے گا بس آپ تھوڑا انتظار کرلیں‘‘ اس نے بڑے ملائمت سے مجھ سمجھایا پھر موٹر سائیکل باہر نکالی بلند آواز سفر کی د عا پڑھی اور ہم چل پڑے۔ 

میں پہلے ہی کافی الجھا ہوا تھا۔ شریف کے والد کی باتوں نے میری الجھن میں اور اضافہ کر دیا تھا۔

’’اس سے تو اچھا تھا میں نہ آتا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ہم تقریباً آڈھ گھنٹے میں گھر پہنچ گئے ۔ میں نے تالہ کھول دیا شریف نے موٹر سائیکل گیراج کھڑی کی اور میرے ساتھ اندر آگیا۔
’مجھے وہ کمرہ دکھا دیں جہاں کل رات آپ سوئے تھے‘‘ اندر آنے کے بعد اس نے کہا۔ میں اسے بیڈ روم میں لے آیا۔ جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے میں ششدر رہ گیا۔ بیڈ پر ایک بھی گلاب کی پتی موجود نہ تھی۔ نہ وہ گلاب مجھے کہیں دیکھائی دیا جو تکیے پر پڑا تھا۔ صبح جب میں گھر سے نکلا تو سب کچھ ویسے ہی چھوڑ گیا تھا۔ اب بیڈ ایسے صاف تھا جیسے کبھی پھول کی ایک پتی بھی اس کمرے میں نہ لائی گئی ہو۔ محمد شریف نے مجھ سے ایک جائے نمازطلب کی اور اس پر بیٹھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ گیا۔

’’جناب! میں نے گھر کا حصار کر دیا اب آپ بے فکر ہو جائیں۔‘‘

’’شریف ایک بات بتاؤ۔ بابا جی تو بزرگ ہیں میں کچھ زیادہ پوچھ نہ سکا۔ کہیں ناراض نہ ہو جائیں تم تو میری الجھن رفع کر دو۔۔۔یار!‘‘ میں نے بے تکلفی سے پوچھا کچھ تو وہ میرا ماتحت تھا اور عمر میں بھی وہ مجھ سے سال دو سال چھوٹا ہی دکھتا تھا۔

’’پوچھیں خانصاحب! اگر میں جانتا ہوا تو ضرور بتاؤں گا۔‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ میں نے ا سے رات والا خواب بتانا چاہا۔

’’کچھ کچھ میں جانتا ہوں۔ آپ وہ بات بتائیں جو کہہ رہے تھے‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔

’’یہ سب کیا ہے ؟ صبح جب میں اٹھا تو بیڈ گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا سب کچھ ویسے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن اب ایک بھی پتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بابا جی کہہ رہے تھے وہ خواب نہیں تھا۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میری بیوی تو مجھ سے میلوں دور بیٹھی ہے؟‘‘ میں نے اپنی الجھن اس پر واضح کی۔ اچانک باہر سے بلی کے رونے کی آواز آئی۔ محمد شریف نے چونک کر دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھا گئی۔

’’خالق کائنات نے انسان کے علاوہ کچھ اور مخلوقات بھی پیدا کی ہیں۔ جو اس دنیا میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اچھے بڑے موجود ہیں۔ ہر چند کہ ان پر بھی پابندیاں ہوتی ہیں لیکن انسانوں کی طرح ان میں بھی نیک و بد، نامفرمان و فرمان بردار، اللہ کے بندے اور شیطان کے پیروکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے انسانوں کو ستانے کے لیے چلے آتے ہیں جس کی وہ روز آخرت سز پائیں گے ایسے ہی کچھ اثرات میں یہاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے رسان سے مجھے سمجھایا۔

۔۔

میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا جملہ گونجا۔’’کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے اس گھر کے بارے میں خرافات اور افواہیں پھیلا رکھی ہیں کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے۔‘‘

’’تو کیا اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق موجود ہے؟‘‘ میں نے شریف کی طرف دیکھا 

’’ہے نہیں تھی۔۔۔‘‘ اس نے میری بات کی تصحیح کی۔’’اب میں نے محترم ابا جان کی ہدایت کے مطابق گھر کا حصار کر دیا ہے آپ بے فکر ہو کر سو جائیں۔ اگر آپ کو کسی قسم کا خوف ہے تو میں آپ کے ساتھ رکنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

’’ارے نہیں شریف! میں جنات وغیرہ سے قطعی نہیں ڈرتا نہ ہی میں خوفزدہ ہوں لیکن ان سب واقعات سے الجھن محسوس ضرور محسوس کر رہا ہوں۔ میری تو خواہش ہے کہ کبھی جنات کو دیکھوں کہ وہ کس قسم کے ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ ایک بار پھر بلی کے رونے کی آواز آئی۔

’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘‘ اس نے بالکل اپنے والد صاحب کی طرح کہا۔’’اب مجھے اجازت ہے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

’’ٹھیک ہے محمد شریف تمہارا شکریہ اس نا وقت زحمت کے لئے‘‘ اس نے سلام کیا اور باہر نکل گیا میں نے گیٹ بند کیا اور بیڈ روم میں آگیا۔ کچھ دیر جاگتا رہا پھر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہوگئی۔ دوسرے دن میری آنکھ دیر سے کھلی میں جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ شریف کے والد صاحب کا کہا سچ ثابت ہوا۔ صائمہ دوسرے دن واپس آگئی تھی۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ میرے بارے میں پریشان تھی کہ نہ جانے میں وقت پر کھاتا پیتا بھی ہوں کہ نہیں۔ صائمہ کی غیر موجودگی میں جو کچھ ہوا تھا میں نے اس کا ذکر اس سے نہ کیا تھا۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا۔ ایک دن میں حسب معمول بینک سے گھر پہنچا تو گیراج میں گاڑی کھڑی تھی ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز 
آرہی تھی میں نے سوچا نازش اور عمران آئے ہوں گے۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو مالک مکان پروفیسر عظمت بیگ ایک سو برسی خاتون کے ہمراہ موجود تھے۔ صائمہ نے ٹیبل پر چائے اور دیگر لوازمات سجا رکھے تھے۔ اس معاملے میں وہ بہت حساس تھی کہ اس کے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر نہ چلا جائے۔ میں نے ادب سے سلام کیا تو وہ ہنس کر بولے 

’’برخوردار! تم تو ٹھہرے بڑے افسر ہم نے سوچا کیوں نہ خود ہی مل آئیں۔‘‘

’’پروفیسر صاحب ! بس کچھ نکما پن ہے ورنہ تو کئی بار سوچا آپ سے ملاقات کرنے کے بارے میں‘‘ میں ان کے خلوص کے سامنے شرمندہ ہوگیا۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے پھر ہمیں آنے کی تاکید کرکے رخصت ہوگئے۔

میں نے یہاں تبادلے کے فوراً بعد ہی گاڑی کے لئے لون اپلائی کیا تھا جو منظور ہوگیا۔ دوسرے دن میں جا کر شو روم سے گاڑی لے آیا۔ بچے بہت خوش تھے کہ اب وہ روزانہ سیر کے لیے جا سکیں گے۔ کچھ دن بعد مجھے کسی آفیشل کام کے لئے ملتان جانا پڑا جو شام چار بجے کے قریب ختم ہوا۔ میرا خیال تھا میں ایک دو گھنٹے میں گھر پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اس دن ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا جس کی وجہ سے سارے راستے بند تھے۔ جو ایک آدھ کھلا تھا وہاں پر بھی ٹریفک کا اتنا رش تھا گاڑی تو کجا پیدل جانے کے لیے بھی راستہ نہ تھا۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ خیر خدا خدا کرکے راستہ کھلا۔ میں نے گھڑی دیکھی شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی میں محتاط انداز سے گاڑی چلاتا رہا۔ آگے سڑک کچھ ٹھیک تھی میں نے سپیڈ بڑھائی نئی گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میں جلد از جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اچانک میری نظر سڑک کنارے کھڑے ایک مرد اور برقع پوش عورت پر پڑی جو ہاتھ ہلا ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔

ٹریفک بلاک کی وجہ سے بسیں رکی ہوئی تھیں نہ جانے وہ بے چارے کتنی دیر سے بس کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے تو میں نے سوچا گزر جاؤں پھر میں نے بریک پر پاؤں رکھ دیا۔ گاڑی ان کے قریب جا کر رک گئی۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا لیکن ابھی روشنی تھی۔ برقع میں ملبوس عورت جلدی سے آگے بڑھی کھڑکی پر جھک کر بولی۔

’’آپ کی مہربانی ہوگی اگر مجھے لفٹ دے دیں۔ ہم کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں بسیں کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ وہ خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ آدمی ایک طرف کھڑا رہا۔ نقاب اس نے چہرے کے گرد اس طرح لپٹا ہوا تھا کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں عجیب سا سحر تھا۔ جیسے ہی میں نے اس کی طرف دیکھا بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

’’کوئی بات نہیں آپ جہاں کہیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیسا جادو تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر پچھلا دروازہ کھولنا چاہا تاکہ وہ دونوں بیٹھ سکیں کہ اس نے پیچھے مڑ کر اس آدمی سے کہا۔

’’تم جاؤ‘‘ وہ آدمی خاموشی سے واپس چلا پڑا۔ پھر وہ مڑی اور اطمینان سے اگلا دروازہ کھول کر میرے برابر بیٹھ گئی۔ اس نے کوئی بہت اعلیٰ قسم کا پرفیوم لگایا ہوا تھا گاری مسحور کن خوشبو سے مہک اٹھی۔ میں نے ایک لمبا سانس لے کر اس مہک کو اندر اتارا میرا سارا وجود معطر ہوگیا۔ مسحور کن خوشبو نے واقعی مسحور کر دیا تھا۔ لیکن اندر سے میں بری طرح پچھتا رہا تھا کہ کیوں گاڑی روکی؟ اکیلی عورت تھی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ اکیلی میرے ساتھ سفر کرے گی تو میں کبھی گاڑی نہ روکتا۔ لیکن جو ہونا تھا وہ توہو چکا تھا میں نے گاڑی کو آگے بڑھایا۔

’’یہاں سے بیس پچیس میل دور میرا گاؤں ہے آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے گاڑی روک دی میں تقریباً دو گھنٹے سے کھڑی انتظار کر رہی ہوں۔ کھڑے کھڑے میری تو ٹانگیں تھک گئیں۔‘‘ کافی باتونی معلوم ہوتی تھی حالانکہ میں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن اس نے تفصیل بتائی۔

’’کیا نام ہے آپ کے گاؤں کا؟‘‘ میں نے یوں ہی برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔

’’مادھو پور‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ غیر ارادی طور پر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو ہٹنا بھول گئی۔ وہ بے پناہ حسین تھی۔ بڑی بڑی سیاہ جھیل سی آنکھیں ، ستواں ناک، ہونٹ جیسے گلاب کی ادھ کھلی کلی۔ اس کی گلابی رنگت اتنی پیاری تھی کہ اس کے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایسا حسن صرف کتابوں میں پڑھا۔ یا قصے کہانیوں میں سنا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس نے میری کیفیت کو محسوس کر لیا تھا۔ دل آویز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر چھا گئی۔ میں نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ جسم کا سارا خون سمٹ کر میرے چہرے پر آگیا۔تھوڑی دیر پہلے میں سوچ رہا تھا اسے گاڑی میں بٹھا کر میں نے غلطی کی ہے اب میرے ہوش و حواس کام نہیں کر رہے تھے۔ نہ تو میں بجکوئی دل پھینک قسم کا انسان ہوں اور نہ آوارہ کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میری نیت خراب ہو جائے لیکن وہ اتنی حسین تھی جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.