Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر26 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
26 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 26
حیا
از
فاخرہ وحید

(قسط 26)
حیا کو کمرے سے نکال کر وہ دوبارہ سو گیا تھا پھر اس کی آنکھ گیارہ بجے کھلی, کچھ دیر وہ یوں ہی بیڈ پر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا, سائڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور ایک پیغام سمایا کے نام چھوڑا.
" ڈاکٹر سے کہنا رپورٹ ڈائریکٹ مجھے میل کرے, آئی وانٹ ٹو ہینڈل دس میٹر مائی سیلف. "
اور پھر فون دوبارہ ٹیبل پر ڈال دیا. زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے, کندھے اکڑے پڑے تھے. بمشکل اٹھتا وہ سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا. اور کچن کی ریکٹینگل ونڈو سے اندر جھانکا. جہاں سے کچن کا بس ایک رخ واضح ہوتا تھا, جب کہ اندر سے بآسانی پورا لاؤنج دیکھا جا سکتا تھا.
" بی اماں! کافی ہی دے دیں. " کہہ کر اس نے رخ پھیرا اور پھر دوبارہ بجلی کی سی تیزی سے کچن کی طرف مڑا. حیا کافی کا مگ کاؤنٹر پر رکھ کر مڑ رہی تھی. بھوری آنکھوں کو سکیڑ کر کچن کو اسکین کیا گیا. اور پھر وہ اس کو نظر انداز کرتے آواز دی.
" بی اماں! کافی میں آپ کے ہاتھ کی بنی لوں گا." وہ مڑ گیا. اندر سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا. تھوڑی دیر بعد وہ لاؤنج میں تھا, جب حیا کچن سے نمودار ہوئی, بال جوڑے کی طرح اوپر بندھے دے, جس میں سے لٹیں نکل کر اس کے چہرے اور گردن کو چھو رہی تھیں. حمزہ نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ کافی کا مگ پکڑے اسی طرف آ رہی تھی.
' ہونہہ. اس کے ہاتھ کی کافی تو میں نہیں لوں گا. ' اس نے سوچا اور پھر اس کی وہاں آمد سے انجان بنتے ٹی وی پر نظریں مرکوز کر لی. حیا اب اس کے بالکل پاس آ گئی تھی حمزہ نے ایک گہرا سانس لیا اور کچھ کہنے کو لب کھولے مگر اس سے پہلے ہی وہ اس کے پاس سے گزر کر دوسری طرف اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی. ٹانگ پر ٹانگ جمائی. اور کافی کا مگ لبوں سے لگایا. پھر مسکرا کر حمزہ کو دیکھا اور سر کو خم دیا, حمزہ دانتوں پر دانت جمائے اپنی خوش فہمیوں پر لعنت بھیج رہا تھا اور رہ رہ کر اسے غصہ حیا پر آ رہا تھا. ( ٹڈی نہ ہو تو)
" بی اماں! میری کافی لے آئیں اب آپ " وہ جھلا کر بولا. مگر کچن خاموش رہا. یہاں حیا کے ساتھ بیٹھ کر وہ اور برا محسوس نہیں کر سکتا تھا. اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگا اور پھر حیا کی آواز پر چونک کر مڑا.
"بی اماں چھٹی پر ہیں. " وہ اپنے مگ پر جھکی تھی.
" کیا مطلب چھٹی پر ہیں؟ کس سے پوچھ کر؟" حمزہ نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا.

" اس گھر کی مالکن سے پوچھ کر. " اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے.
" ہو دی ہیل مالکن؟ " وہ گلے کے بل چلایا, حمزہ کا منہ حلق تک کڑوا ہو گیا تھا. آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں. حیا سہم گئی, پھر خود کو کمپوز کرنے لگی.
" آئی.. آئی ایم دی مالکن. " وہ اٹک اٹک کر بولی. اور حمزہ نے جھپٹ کر اسے بازو سے پکڑا اور ایک گھٹنہ صوفے پر موڑتے حیا کے اوپر جھکا.
" تم اس گھر کے فیصلے نہیں لے سکتی ہو. میں چپ ہوں اسے میری کمزوری مت سمجھو, میں کتنا برا ہو سکتا ہوں, تمہیں یاد ہو گا." انگلیاں بازؤوں میں دھنستی جا رہی تھیں. اور تکلیف سے حیا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی تھیں.
" حمزہ. تم نے مجھ سے نکاح کیوں کیا تھا؟ " خود کو چھڑوانے کی کوشش کیے بغیر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے آہستہ سے بولی. یک دم اس کے بازو پر گرفت ڈھیلی ہو گئی اور وہ نظریں چرا گیا.
" تم واپس چلی جاؤ. " وہ کھڑا ہو گیا, گلے میں گلٹی ابھری اور بہت سے سچ لیے اندر گم ہوگئی.
" کہاں؟ " وہ اب بھی شاک میں بیٹھی تھی.
" ڈاکٹر ہارون کی انسٹیٹیوٹ. " اس نے چاچو کہنے سے احتراز کیا اور اسے دیکھے بغیر فرش پر نظریں گھما تا رہا.
" تم جانتے تھے میں کہاں ہوں؟ اور تم مجھے لینے نہیں آئے؟" حیا کی آنکھوں میں حیرت, دکھ, افسوس سب تھا.
" آئی ایم ناٹ آنسر ایبل ٹو یو. (میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں) " اب کہ لہجہ سخت ہو گیا اور وہ سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں گم ہو گیا.

ہونہہ. حیا نے سر جھٹکا. کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی. اور اب اندر جانی بھی کس کے تھی. وہ مگ اٹھا کر کچن میں آ گئی. حمزہ جانتا تھا وہ کہاں ہے, پھر بھی اسے واپس لانے کی کوشش تک نہیں کی, اسے صدمہ لگا تھا.
*********************************************
حیا دل گرفتہ سی کھانا بنانے لگ گئی تھی. بی اماں کو چھٹی دی تھی تو اب ان کا کام بھی تو اسے ہی سنبھالنا تھا. کھانا چولہے پر رکھے وہ لاؤنج میں آئی, ایک نظر حمزہ کے بند دروازے کو دیکھا, اور پھر ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی. بے ترتیب چینل بدلتی رہی اور پھر ایک چینل پر رکی. یہ مارننگ شو تھا جس کے نیچے پٹی چل رہی تھی, ' شوہر کو قابو کرنے کے طریقے ' حیا نے سر جھٹکا اور چینل بدل دیا. دل میں خیال آیا دیکھنے میں کیا حرج ہے تو دوبارہ وہ ہی چینل لگا لیا. جس پر ہوسٹ دوسری کچھ سیلیبریٹی مہمانوں سے شوہر کو قابو کرنے کے گر پوچھ رہی تھی. حیا نے احتیاطاً آواز دھیمی کر لی.
" آدمی کے دل کا رستہ پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے, تو اگر آپ چاہتی ہیں کہ شوہر آپ سے پیار کرے تو اسے اچھے اچھے کھانے بنا کر کھلائیں. " ایک مہمان سیلیبرٹی چہک چہک کر بتا رہی تھی. اور باقی لوگ اسے سراہ رہے تھے.
" شوہر کو.. قابو کرنے کے طریقے. " وہ مردانہ آواز پر چونکی, پیچھے شیری دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر جمائے کھڑا تھا. وہ پہلے سے کمزور لگتا تھا.
" مجھے پتا ہی نہیں چلا تم کب آئے. " وہ چہرے پر آئی لٹ کو اب کان کے پیچھے اڑیس رہی تھی. وہ چل کر سامنے آگیا.
" جی ! آپ اپنے شوہر کو قابو کرنے کے طریقے دیکھنے میں اتنی مصروف تھیں تو آپ کو کیسے پتا چلتا. " وہ مسکراہٹ دبائے کھڑا تھا.
" یوں ہی سامنے آگیا تھا چینل." وہ خفگی سے بولی. " تم بتاؤ بلڈ ٹیسٹ ہو گیا؟ " حیا نے موضوع بدلا.
" جی ہو گیا رپورٹ ابھی نہیں آئی. " کہتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور پھر پلٹا.
" سوچیں حیا بھابھی اگر حمزہ بھائی کو پتا چلے کہ آپ ان کو قابو کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں تو کیا ہو گا؟" وہ معصوم سی شکل بنائے کھڑا تھا. حیا نے اسے گھورا.
" تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟"
" نہیں آپ کے بھیانک شوہر کو مد نظر رکھتے انجام سے ڈرا رہا ہوں. " وہ موڈ میں تھا.
" میرا شوہر بھیانک نہیں ہے. " حیا نے دبا دبا سا احتجاج کیا. اور شیری گردن پیچھے پھینک کر ہنسا. حیا کو تو برا ہی لگ گیا. اور اس نے چینل بدل دیا.
شیری اپنی ہنسی روکتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور پھر دروازے سے مڑا.
" بھابھی! حمزہ بھائی کے دل کا رستہ پیٹ سے نہیں, مجھ سے ہو کر گزرتا ہے. " اس نے تفخر سے اپنے سینے پر انگلی سے دستک دی, بائیں آنکھ دبائی. اور دروازہ بند کر دیا. حیا کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے. اور دوبارہ وہی چینل لگا کر بیٹھ گئی. ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اس نے دیکھا حمزہ کمرے سے باہر آیا اور اب سیڑھیاں اتر رہا تھا, اس کا چہرہ غصہ سے سرخ پڑ رہا تھا. حیا کو کچھ سمجھ نہیں آیا. اس نے فوراً چینل بدلا مگر حمزہ لمبے ڈگ بھرتے اب شیری کے کمرے کے باہر کھڑا دروازہ بجا رہا تھا. حیا کھڑی ہو گئی. یہ نارمل نہیں تھا.
شیری نے دروازہ کھولا اور حمزہ اسے دھکیلتا اندر گیا, حیا ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ پیچھے جائے یا نا تبھی کمرے میں سے حمزہ کے چلانے کی آواز بلند ہوئی اور بے اختیار حیا کے قدم کمرے کی طرف اٹھے اب وہ دروازے میں ششدر کھڑی تھی. حمزہ دونوں ہاتھوں سے شیری کا گریبان پکڑے ہوا تھا. غصے سے اس کے ہاتھ کی رگیں پھولی ہوئی تھیں. شیری کنفیوز سا اس کے ہاتھوں میں جکڑا کھڑا تھا.
" بھائی. میری بات تو.. " اس نے لب کھولے مگر حمزہ نے اسے پیچھے دھکیلا.
" ڈونٹ کال می بھائی." وہ چلایا. اور ایسا چلایا کہ دروازے میں کھڑی حیا کو لگا اس کا دل سینے سے باہر آ گرے گا. شیری الگ دکھ اور صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا.
" تم نے مجھے, مجھے ذلیل کروا کر رکھ دیا شیری. میں شیری, شیری کرتا نہیں تھکتا تھا. اور تم نے مجھے ذلیل کروا دیا. ڈرگز لیتے ہو تم؟ ہاں! کب سے یہ نشے کر رہے ہو تم؟ تم نے ایک بار نہیں سوچا مجھے پتا چلے گا تو مجھ پر کیا گزرے گی؟ " شیری نے کچھ کہنا چاہا مگر حمزہ کب سن رہا تھا. حیا گنگ دیکھے گئی.

" میں تمہیں اس گند سے نکال کر لایا, ایک اچھی زندگی دی. مگر تم نے . تم نے شیری اس گند کو ہی چنا. " وہ شیری کی طرف بڑھا اور اسے دوبارہ گریبان سے پکڑ لیا. حیا ہوش میں آئی اور آگے بڑھی. حمزہ کے بازو کو پکڑ کر شیری کو چھڑوانا چاہا.
" چھوڑو اسے. پیچھے ہٹو. " وہ چلا کر رہ گئی. حمزہ نے ایک کاٹ دار نظر اس پر ڈالی اور اپنا بازو جھٹکا. حیا کا ہاتھ نیچے گر گیا.
" میرا بھائی نہیں تھا, تمہیں بھائی بنایا. پیار دیا. اپنے بچے کی طرح پالا. " اس کا تنفس تیز ہو رہا تھا. شیری اس کے ہاتھوں میں بے یقینی اور صدمے سے کھڑا بس اسے ہی دیکھے جا رہا تھا.
"مگر شاید تم اسی قابل تھے شیری. تم وہیں ان گنڈوں میں رہتے, لوگوں کو مارتے, نشے کرتے. تم اسی قابل تھے."
"میرا بھائی نشئی نہیں ہو سکتا, کبھی بھی نہیں. "

وہ چیخ چیخ کر تھک گیا تو اسے قریباً دھکیلتے ہوئے پیچھے ہوا.
" ٹو ڈے آئی لاسٹ دی اونلی ممبر آف مائی فیملی! " اس کی آواز میں رنج تھا. وہ دروازے کو زور سے بند کرتا باہر نکل گیا. حیا اور شیری یوں ہی کھڑے کھلتے, بند ہوتے دروازے کو دیکھتے رہے. حیا حمزہ کے پیچھے نکلی مگر وہ بیرونی دروازے سے باہر جا رہا تھا. تو وہ واپس کمرے میں آگئی. جہاں شیری سر دونوں ہاتھوں میں گرائے کھڑا تھا.
" شیری! حمزہ تم سے بہت پیار کرتا ہے. وہ پریشان ہے. تم ڈرگز لیتے ہو, تمہیں کچھ ہو گیا تو وہ ٹوٹ جائے گا. " حیا محتاط الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی.
" میں نے کبھی ڈرگ نہیں لی." حیا کو بمشکل آواز سنائی دی اور وہ وہیں اس کے سامنے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی.
" تم ڈرگز نہیں لیتے؟ " شیری نے نفی میں گردن ہلائی.
" پھر؟ " حیا الجھ گئی تھی.

" بھائی کو مجھ پر یقین نہیں." اس کی آواز میں بے یقینی سی بے یقینی تھی.
" نہیں وہ پریشان ہو گیا ہے." حیا نے صفائی دی.
" نہیں ان کو مجھ پر یقین نہیں. " وہ دل گرفتہ سا اٹھا اور باہر نکل گیا.

حیا لاؤنج میں آئی, ٹی وی بند کیا اور سیڑھیاں چڑھتی کمرے میں چلی گئی.
*********************************************
چار بجنے کو تھے مگر حمزہ اور شیری دونوں کا کچھ پتا نہیں تھا. حیا اس نئی صورتحال سے پریشان نظر آ رہی تھی گھر کا ماحول یک دم بگڑ گیا تھا. پہلے اس نے سوچا ڈاکٹر ہارون کو کال کرے مگر نہیں اسے اپنے گھر کا مسئلہ خود سلجھانا تھا. اس نے سمایا کو گھر بلا لیا تھا اور ساتھ ہی اسے شیروان کو بلانے کا بھی کہا تھا. وہ دونوں شیری کے قریبی دوست تھے.
اس وقت وہ شیری کے کمرے میں بیٹھے اس غیر متوقع انکشاف پر بحث کر رہے تھے.
" بالکل بھی نہیں حیا بھابھی! شیری تقریباً ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے ہمیں کبھی نہیں لگا کہ وہ ہائی ہے. " شیروان اور سمایا تو جیسے شاک میں آ گئے تھے.
" شیری مجھ سے کچھ نہیں چھپاتا, وی آر بیسٹ فرینڈز." سمایا اپنی طرف سے واضح کر رہی تھی.
ہمم! حیا پرسوچ انداز میں گویا ہوئی. " رپورٹ کی ہارڈ کاپی جو میں نے رسیو کی ہے اس کے مطابق ڈرگز لیے اسے چند دن ہو گئے ہیں, پچھلے دنوں کچھ ایسا ہوا؟ " اور تبھی سمایا کی آنکھیں چمکی.
" شیروان! وہاں مشن پر. تم لوگ تھے پچھلے دنوں اور اور جب شیری کی طبیعت بگڑ رہی تھی وہ کہہ رہا تھا اسے یہ کھانا نہیں پسند. تو مطلب وہ لوگ کھانے میں کچھ ملاتے تھے. اوہ گاڈ." سمایا کا سر چکرا گیا.
" نہیں یار. " شیروان کو اس کی کہانی ہضم نہیں ہوئی تھی. " میں بھی وہ کھانا کھاتا رہا ہوں. مجھے کچھ کیوں نہیں ہوا؟" وہ مطمئن نہیں ہوا تھا.
" تم لوگ ہمیشہ ساتھ کھانا کھاتے تھے؟ " وہ دونوں اپنے تجربے کے مطابق ہر پہلو پر غور کر رہے تھے اور حیا ان کو موڈریٹ کر رہی تھی.
" نہیں. وہ پریمیم ممبر تھا وہ اندر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور ہم.. " آنکھیں حیرت اور شاک سے پھیلنے لگیں. " ہم باہر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے. " شیروان بیڈ سے قریباً اچھلا تھا.
" بھا بھی اگر حمزہ سر کو پتا چلا وہ بہت غصہ کریں گے." سمایا نے اپنے خدشے کا اظہار کیا اور حیا بمشکل مسکرائی. اب اسے کیا بتاتی کہ تماشہ پہلے ہی ہو چکا ہے.
" تم دونوں کھانا کھا کر جانا. " حیا باہر آ گئی تھی.
*********************************************
زرد تھال دور افق میں کب کا الٹ چکا تھا. صبح سے بنا کھانا یوں ہی دھرا رہ گیا تھا, وہ بھی مغرب پڑھ کر کمرے میں ہی رک گئی تھی. رپورٹ کے مطابق ڈرگز اس کے جسم میں اتنی سرایت کر چکی ہے کہ اس کا جسم عادی بن چکا ہے, پہلے وہ اپنے جسم میں ڈرگ کی موجودگی سے بے خبر تھا مگر اب جب کہ وہ جان چکا ہے تو وہ اسے پانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اور اس سے چھٹکارا قریباً نا ممکن تھا. اور اس وقت حیا موبائل پر نشے کے عادی لوگوں پر مختلف آرٹیکل اور کتابیں کھول کر بیٹھی تھی. تبھی دروازہ کھلا اور سست قدم اٹھاتا حمزہ اندر داخل ہوا, حیا کو نظر انداز کرتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا. اس نے ابھی تک سیاہ شرٹ اور جینز پہن رکھی تھی.
" شیری نظر نہیں آ رہا." رسٹ واچ اتارتے اس نے سر سری سا پوچھا.
" ہوں. باہر گیا تھا. " حیا موبائل پہ جھکی رہی. حمزہ اب سیف سے کپڑے نکال کر واش روم میں جا رہا تھا. پانچ منٹ بعد جب وہ نکلا تو بیڈ پر کھانا لگا پڑے تھے. اسے واقعی بہت بھوک لگی تھی. ایک نظر حیا ہر ڈالی, اسے یوں اس کے کہے بغیر کھانا رکھ دینا اچھا لگا تھا. حیا نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ سفید وی گلے والی شرٹ اور سیاہ جینز پہنے ہوئے تھا, شرٹ کو بازؤوں سے کلائیوں تک موڑا ہوا تھا.
" شیری کچھ کہہ رہا تھا. " بیڈ پر بیٹھتے وہ دوبارہ حیا سے مخاطب ہوا, وہ تھکا ہوا نظر آ تا تھا. " ہاں, یہی کہ وہ ڈرگز نہیں لیتا اور یہ کہ تمہیں اس پر بھروسہ کرنا چاہئیے تھا. " حمزہ نے ہونٹ بھینچے. اس نے منہ میں نوالہ رکھا اور پھر حیا کو دیکھا. " اچھا کھانا بناتی ہو."
" ہاں؟ " حیا نے چونک کر سر اٹھایا.
" میں نے کچھ کہا؟ " وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا. حیا نے اسے خفگی سے دیکھ کر سر جھٹکا. جب وہ کھانا کھا چکا تو موبائل پر کسی کا نمبر ملاتے کھڑا ہوا. بیل جاتی رہی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا. پھر اس نے دوسرا نمبر ملایا.
" ہاں شیروان! شیری تمہارے ساتھ ہے؟ " یک دم وہ فکر مند نظر آنے لگ گیا تھا. " میری بات کرواؤ اس سے. " دوسری طرف شاید مثبت جواب ملا تھا.
" اچھا جب وہ اٹھے تو اس سے کہنا شرافت سے گھر آجائے. " حمزہ نے حتمی کہا اور فون بند کر دیا. حیا برتن اٹھا چکی تھی اور اب بیڈ کی چادر ٹھیک کر رہی تھی. حمزہ تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی بڑھتی شیو پر ہاتھ پھیرنے لگا. شیشے میں حیا کا عکس نظر آ تا تھا تو وہ نرمی مگر سنجیدہ سے لہجے میں گویا ہوا.

" اور کچھ کہہ رہا تھا شیری میرے بارے میں. "
" ہاں کہہ تو رہا تھا " وہ چپ ہو گئی. حمزہ نے اچنبھے سے دیکھا اور واپس مڑا. "کیا؟ "
" یہ ہی کہ تم کتنے غصے والے, کھڑوس سے انسان ہو " وہ سنجیدہ تھی.
" شیری نے ایسا کہا؟ " وہ حیران ہوا تھا.
" بالکل. " وہ ڈھٹائی سے بولی.
" الفاظ تو تمہارے لگتے ہیں." وہ دوبارہ شیشے کی طرف مڑ گیا تھا.
" اللہ معاف کرے." حیا نے کانوں کو ہاتھ لگائے. " تمہیں لگتا ہے میں تمہارے بارے میں ایسا سوچتی ہوں؟ " وہ معصوم سی شکل بنا کر صوفے سے کھڑی ہو گئی تھی.

" نہیں." وہ مسکرایا. " تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو." وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا. " اور میں نے تمہیں آج تک بتایا ہی نہیں کہ میں نے تم سے نکاح کیا کیونکہ مجھے تمہیں دیکھتے ہی پیار ہو گیا تھا." وہ اب اس کے سامنے کھڑا تھا. " تم بہت اچھی ہو حیا. مجھے معاف کر دو. " وہ اب اسے اپنے کندھے سے لگا رہا تھا. حیا کو لگا یہ خواب ہے. اس نے خود کو چٹکی بھری,
"آؤچ." وہ ہوش میں آئی. وہ دور شیشے کے پاس کھڑا تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا. شرمندہ سی وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی. " تمہیں ایک بار ڈاکٹر سے مل لینا چاہئیے, شیری کے لیے یہ ڈرگ چھوڑنا آسان نہیں ہے. " چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے وہ حمزہ سے کہہ رہی تھی. " مس حیا... " حیا نے دانتوں پر دانت رکھے اور چبا کر کہا. " آئی... ایم... مسز. " حمزہ نے جواباً ہونٹ گول کیے. " اوہ! اوکے. " پھر لیپ ٹاپ اٹھاتا بیڈ پر بیٹھ گیا. " میں ڈاکٹر سے مل آیا ہوں, اور جنہوں نے شیری کو اس عذاب میں دھکیلا ہے, ان سے بھی نمٹ آیا ہوں. " وہ مصروف سا بولا. " میں شیری کو کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا. "
حیا کو دوپہر والا ہنگامہ یاد آیا, وہ مشکوک سی اسے دیکھ رہی تھی. " تو اتنا غصہ کیوں کیا بے چارے پر. ؟"
" تا کہ اب جب ہی نوز (وہ جانتا ہے) کہ اس کا جسم ڈرگ کا عادی ہے تو وہ اس ڈرگ کو لینا چاہے گا اور جب وہ ایسا کچھ کرے تو اسے یاد رہے کہ وہ مجھے کھو دے گا. " اس کی آواز سنگین ہو گئی تھی.

پھر وہ خاموش اپنا کام کرتا رہا, کافی دیر بعد سر اٹھایا. وہ اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اسٹول پر بیٹھی تھی.
" بی اماں کی چھٹی کب تک ہے؟" لیپ ٹاپ کی اسکرین پر انگلی گھماتے وہ کراؤن سے ٹیک لگا رہا تھا. حیا کا رنگ اڑا. گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی. اور وہ بال چہرے سے پیچھے ہٹاتے آہستہ سا بولی. " میں نے ان کی پکی چھٹی کر دی ہے." حمزہ نے بے یقینی سے اس کو دیکھا.
" غصہ مت کرنا اب. " وہ خفا سی بالوں میں برش پھیرتی بولی. سینے پر بازو باندھے حمزہ مسکرایا. مگر فوراً ماتھے پر سلوٹ آئے. " تم جانتی نہیں ہو, میں کتنا برا پیش آ سکتا ہوں."
" ہاں اور جیسے میں ڈر گئی. " اس نے برش والا ہاتھ ہوا میں ہلایا. حمزہ نے سر جھٹکا. اور دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا.
" حمزہ تمہیں کیا پسند ہے. " وہ شیشے میں اس کا عکس دیکھ رہی تھی. " خاموشی" وہ مصروف سا بولا. حیا کا پارا ہائی ہوا. مگر وہ ضبط کر گئی. ( بد تمیز)
*********************************************

جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.