Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد





ناول؛ جنت کے پتے

قسط 62
نکسیر کیوں پھوٹی؟ اتنی گرمی تو نہیں ہے کیا پہلے بھی کبھی ایسا ہوا ہے؟
کتنے سوال کرتی ہو! وہ جیسے اکتا گیا۔
جتنے بھی کروں مجھے حق ہے اسکا اب بتاو کیا ہو تھا؟
جہان نے نقاہت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور پھر چند لمحے یوں ہی دیکھتا رہا ایسے ہی ابھی وہ انقرہ کے"کام" مطلق بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا
اردو میں بات کرتے ہیں حیا!وہ جاگ رہی ہے
حیا نے چونک کر جیسے بہارے کی طرف گردن موڑ کر دیکھنے چاہی تو وہ جیسے بگڑ کر بولا
ہاں!اب تم اسے دیکھنے لگو تاکہ اسےپتا لگ جائے کہ ہم اسکے بارے میں بات کررہے ہیں
سوری! اس کی گردن حفیف سی آدھے رستے سے پلٹ آئی مگر تمہیں کیسے پتا کہ وہ جاگ رہی ہے؟
اسکے پاوں کا انگوٹھا تناو کی پوزیشن میں ہے پیشانی پہ پڑے بل اور پلکوں کی لرزش مجھے پتا ہے وہ نہیں سو رہی مجھے دیکھتے ہی سوئی بن گئی تھی اسے ڈر ہے کہ مین اسے ڈانٹوں گا
یہ آدمی بھی نا کبھی کسی کو انسانوں کی نظر سے نہیں دیکھے گا
اچھا!اب بتاو تمہیں کیا ہوا تھا؟
نکسیر پھوٹنے کی وجہ کوئی عام سی بھی ہوسکتی تھی مگر اس کا اندازہ اس بات پہ غماز تھا کہ کچھ ہے جو وہ چھپانا چاہتا ہے مگر بتانا بھی چاہتا ہے
چند لمحے وہ بالکل خاموش رہا مکئی کے دانوں کی خوشبو ہر گزرتے پل باسی ہوتی گئی پھر اس نے دھیرے سے کہنا شروع کیا
انقرہ میں میری سرجری ہے(کھوپڑی کو کھول کر کی جانے والی سرجری) اس نے رک کر حیا کے تاثرات دیکھے وہ بنا پلک جھپکے سانس روکے اسے منتظر سی دیکھ رہی تھی
جب میں جیل میں تھا تو ادھر آنکھ کے قریب ایک زخم آیا تھا یہاں ایک کیل گھس گئی تھی ایک اعشاریہ ایک انچ کی کیل یہ سر درد اور کچھ عرصے سے نکسیر پھوٹنے کی تکلیف، یہ سب اسی کی وجہ سے ہے۔ اس کو نکلوانے کیلیے سرجری کروانی ہو گی۔ نہ کروائ تو یہ مسلسل درد اور اس کے آگے ٹریول کرنے کا خطرہ رہے گا اور اگر سرجری ناکام ہوگی تو بینائ جاسکتی ہے یا مستقل معزوری جب ابا کی ڈیتھ ہوئ تب میں اسی لیے جرمنی تھا لیکن تب میں ہمت نہ کرسکا اچھا جہان کی توقع کے برعکس حیا نے سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا کوئ شدید تاثر دیے بغیر وہ بولی پہلے جرمنی سے کروانے گے تھے اب انقرہ سے کیوں ان دنوں میرا ترکی سے باہر رہنا ضروری تھا جب کہ مجھے ابھی کچھ دن لگ جائیں گے میں اس وقت کو ضائع نہیں کر نا چا ہتا وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے گی کل میری سرجری ہے ایک گھنٹے بعد انقرہ کیلے نکل جاوں گا اگر سب ٹھیک ہو گیا تو واپس آ جاوں گا تب تک تم تب تک میں تمہارے ساتھ ہوں گی ابھی ہماری ڈیل ہوئ ہے کہ میں تمہارے ساتھ رہوں گی نہیں ہماری بات کپادوکیہ کی ہوئ تھی وہ قطعیت سے کہتا منع کرنا چاہ رہا تھا پر وہ کچھ بھی نہیں سن رہی تھی تم نے کہا تھا یہاں اور میں نے یہاں سے مراد ترکی لیا تھا ہماری ڈیل ترکی کی ہوئ تھی جب تک تم یہاں ترکی میں ہو میں میں تمہارے ساتھ رہ سکتی ہوں تم بتاو کون سا ہاسپٹل ہے اور کب جانا ہے وہ اتنے اٹل لہجے میں کہہ رہی تھی کہ ذیادہ مزاحمت نہ کرپایا اس کا کیا کرو گی اس نے اشارہ کیے بنا بہارے کہ بارے میں پوچھا فکر نہ کرو اسے ہاسپٹل نہیں لوں گی کچھ کر لوں گی بس تم مجھے شیڈول سمجھاو پھر وہ اس کی کہی ہر بات نوٹ کرتی گی جب ساری باتیں ختم ہو گئ اور پاپ کارن کی خوشبو ہوا میں رچ بس کر فنا ہوگئ تو وہ جانے لگا آشیانہ کے صحن کا رش اب چھٹ چکا تھا تم ایک بار پھر سوچ لو کہ میرے ساتھ آنا چاہتی ہو کہ نہیں میں تمہیں اپنی وجہ سے مسئلوں میں نہیں ڈالنا چاہتا دروازے پہ پہنچ کر وہ یہ کہنے کیلے رکا اب جاو اور میرا وقت ضائع نہ کرو مجھے صبح پیکنگ بھی کرنی ہے اس کے جاتے ہی اس نے زور سے دروازہ بند کرکے مقفل کیا اور واش روم میں آگی دونوں ہاتھ بیسن کی سائیڈوں پہ رکھے چہرہ جھکاۓ اس نے چند گہرے گہرے سانس لہے اور خود کو سنبھالنا چاہا اتنی دیر سے جہان کے سامنے جو آنسو ضبط سے روک رکھے تھے وہ تیزی سے ابل پڑے وہ ایک دم دبی دبی سسکاریوں سے رونے لگی پانچ سال پانچ سال سے وہ اس بیماری میں مبتلا تھا اور اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا وہ کیوں ہر شے ہر دکھ اپنے اندر رکھتا تھا کیوں باقی سب کی طرح غموں کا اشتہار لگا کر ہمدردیاں نہیں سمیٹتا تھا۔ کتنی دفعہ صائمہ تائ تایا فرقان حتہ کہ ابا نے بھی جتایا تھا کہ وہ اپنے باپ کے جنازے پہ شامل نہیں ہوا تھا وہ آگے سے چپ رہا یہ تک نہ بتایا کہ وہ اس وقت آپریشن ٹیبل پہ تھا کیوں تھا وہ ایسا کہ محبت لینے کی کوشش نہیں کرتا تھا اور پھر بھی اس سے محبت ہو جاتی اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو سنک کر دہانے سے لڑھک کر جالی کے بھنور تک پھسل رہے تھے وہاں ایک کونے میں خون کا ننھا سا قطرہ ابھی تک لگا ہوا تھا جہان نے سارہ سنک صاف کر دیا تھا پر یہ پھر بھی لگا رہ گیا تھا اس نے انگلی کی پور پہ وہ قطرہ اٹھایا اور ڈبڈبائ آنکھوں سے اسے دیکھا۔ 
کیا اس کے ملک کے نوجوانوں کا خون اتنا رزاں تھا کہ یہوں ہی بہتا رہے اور کسی کو فرق بھی نہ پڑے؟ زندگی بھی بعض دفعہ ہم سے ہماری بساط سے بڑھہ کر قربانی مانگ لیتی ہے۔
کھہ دیر بعد وہ منہ ہاتھہ دھو کر بہار آئی تو وہ صوفہ جہاں کچھہ دیر قبل چاندی کے مجسموں کا بسیرا تھا اب ادھر اس کی چھوتی بلی بیٹھی پارپ کارن کے پیالے سے ایک ایک دانہ اٹھا کر منہ میں ڈال رہی تھی۔اسے آتا دیکہ کر معصومیت سے مسکرائی۔
کھاٴ گیَ؟ ساتھہ ہی پیالہ بڑھایا۔
نو تھینکس۔اس کی بھوگ مرگئی تھی اور بھی بہت کچھہ مر سا گیا تھا۔ وہ اپنا بیگ الماری سے نکالنے لگی۔
عبدالرحمن سے تم پہلے بھی ملی تیھیں نا اور تم نے مجھے نہیں بتایا کیا اس نے میرے بارے میں کچھہ کہا؟
بہارے!ہم انقرہ جارہے ہیں۔
پاپ کارن ٹونگتا اس کا ہاتھہ رک گیا۔ پھوری آنکھوں میں شدید تحیردر آیا۔
کیوں؟
بس ایک کام ہے مجھے۔کچھہ پیپر ورک کا مسئلہ ہے۔دو چار دن میں واپس آجائے گے۔اس کی تشفی و سمجھہ کے مطابق جواب دیتی وہ اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
پہارے الجھی الجھی سی بیٹھ رہ گئی۔ پاپ کارن کا پیالہ اس نے بے دلی سے پیز پہ رکھہ دیا۔ اسے کھانا شاید ان تینوں میں سے کسی کا نصیب نہیں تھا۔
ٌٌ ٌ ٌ ٌٌ ٌ ٌ ٌ ٌ ٌ
انقرہ ااتنا ہی خوبصورت اور صاف ستھرا سا شہر تھا جتنا کہ استنبول مگع اس نہ وہ شہر دیکھا گیا نہ ہی کچھہ اور۔ آس پاس کیا ہورہا ہے اسے کچھی خبر نہیں تھی۔ اس کا دل دماغ اور ساری توجہ بس ایک نقطہ پہ تھی۔
آج جہان کا آپریشن ہے۔
اس نے جہان کے ہاسپٹل سے دو بلاک چھوڑ کر ایک ہوٹل میں کمرا لیا تھا۔ بہارے کو البتہ وہ ہاسپٹل کے اندر لے کے نہیں جا سکتی تھی اور اسے ہوٹل میں تنہا چھوڑنے کو دل نہیں مانا تھا۔ وہ اس بچی کو کس کے پاس چھوڑے؟ اور ہر مسئلے کی طرح اس میں بھی اسے ہالے کا خیال آیا تھا۔
ہالے!میں کیا کروں؟ فون پہ ہالے کو تھوڑی بہت جمع تفری کے ساتھہ ساری بات بتا کر وہ اب اس سے مدد مانگ رہی تھی۔
یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔میرے نانی انقرہ میں رہتی ہیں جا ایڈریس تم بتا رہی ہو وہاں سے کافی قریب گھر ہے ان کا۔ تم صبح بچی کو وہیں چھوڑ دیا کرو۔پھر شام میں لے جانا۔ چاہو تو تم بھی وہیں رہ لو۔
اوہ! ہالے کی نانی ۔ اسپرنگ بریک میں جب ایکسچینچ اسٹوڈنس ترکی کی سیر کو گئے تھے تو ان کے ڈور بلاک سے جو بھی انقرہ گیا ہالے کی نانی کے پاس ضرور گیا تھا۔
مگر تم نے واقعی اس کو اغوا تو نہیں کیا نا؟ وہ ہنستے ہعئے پوچھنے لگی پھر اچانک جیسے اسے یاد آیا۔ وہ ہوٹل کے گرینڈ والا لڑکا دو دفعہ آیا تھا۔ میں نے بتایا تم نہیں ہو مگر وہ مصر تھا اور ایک منٹ تم تواز میسر میں تھیں۔ پھر انقرہ ؟
اوہاں وہ میں آج ہی ادھر آئی ہوں مگر اسے مت بتانا۔ اور یہ بات تو ابھی تک اس نے جہان کو نہیں بتائی۔ شاید اس لیے کہ اس سے بڑے مسائل اس کے سامنے تھے۔
ہالے کی نانی صبیحہ نور اتنی ہی مشفق ملنساز اور مہمان نواز خاتون تھیں جتنی کہ ترک عوام ہوسکتے تھے۔
اور ایک وہ لوگ تھے۔ اسلام آباد میں ان کی یونیورسٹی میں کتنی ہی غیر ملکی اور بالخوص ترک لڑکیاں پڑھنے آئی ہوئی تھیں مجال ہے جو وہ کبھی کسی کو اپنا شہر گھمانے لے گئی ہوں۔پتا نہیں کیوں مگر ہم پاکستانی اسٹوڈ نس کے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔
سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ صبیحہ آنٹی نے بتایا کہ مسز عبداللہ،مہر اور عروہ کل انکے پاس رہنے آرہیں تھیں
ڈیجےاور اسکی ہوسٹ فیملی،پہلا کھانا پلاو اور مسور کی دال کا چوربہ-بعض لوگوں کا نام بھی کتاب کے سر ورق کیطرح ہوتا ہے سنتے ہی یادوں کا ایک ایک بے کراں سمندر ہر سو امڈ آتا ہے
صبیحہ آنٹی کو اپنا مسئلہ سمجھا کر کہ ایک دوست کیلئے اسے اسپیشل جانا ہے بہارے ادھر نہین رہ سکتی اس نے بہارے کو علیحدہ لے جا کر چند ایک ہدایات مزید کیں
تم اچھی لڑکی بن کر رہو گی نا؟
بہارے نے اثبات میں سر ہلا دیا البتہ وہ خوش نہیں لگ رہی رہی تھی
تم مجھے روز چھوڑ کر چلی جایا کرو گی کیا؟ سب مجھے ایسے ہی چھوڑ کر چلے جایا کرتے ہیں کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا
اسکا پہلےسے دکھی دل مزید دکھ گیا ایک دم سے اسے اس پھول سی بچی پہ بے پنا ترس آیا پاشا بے کے اعمال نے اسکی فیملی کو کسی فٹبال کی طرح بنا دیا تھا عائشے اپنی بہن کے لیے پریشان تھی مگر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی
میں شام میں آجاو گی اور تمہیں ایک دون بھی لا دوں گی اس سے تم جب چاہو مجھ سے اور عائشے سے بات کرلینا
ٹھیک ہے چھوٹی بلی مسکرا دی اسے یک گو نہ طمانیت کا احساس ہوا
صبیحہ آنٹی کے گھر سے وہ اسپتال آگئی یہ ایک پرائیویٹ نیرو سنٹر تھا اور وہ ایڈمٹ ہو چکا تھا اس نے لباس بھی تبدیل کر کیا تھا اور سرجری کا منتظر تھا ابھی اسے اونی میں لےکر جانے میں زرا وقت تھا سو آپریشن سے قبل وہ اسے دیکھنے آئی تھی
وہ خاموش تھا چہرا بے تاثر مگرزرد اوٹی لباس میں تو وہ اور بھی زیادا پژمردہ لگ رہا تھا
کیسے ہو؟اس کے پاس کھڑی وہ بس اتنا ہی پوچھ سکی جہان نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا وہ بیڈ کے کنارے پہ بیٹھا تھا
ٹھیک ہوں
چند لمحے خاموشی کی نزر ہوئے پھر وہ بولی
تم نے آخری دفعہ سچ کب بولا تھا؟
ابھی ایک منٹ قبل جب میں نے کہا کہ، میں ٹھیک ہوں۔
اسکی باتیں بھی اسکی طرح ہوتی تھیں پہیلی اور پہیلی۔
میرا بیگ رکھ لو اس میں میرا فون بھی ہے اسنے اپنا چمڑے سے بنا دستی بیگ سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر حیا کی طرف بڑھایا جسے حیا نے تھام لیا
اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرا فون کھولنا ویسے تو وہ فنگر پرنٹ سے کھولتا ہے مگر تمہارے لیے میں نے تمہاری ڈیٹ آف برتھ متبادل پاسورڈ کے طور پہ لگا دی ہے پورے آٹھ ہندسے اوکے؟ تم فون بک میں پہلے نمبر پہ کال کر کہ سب کچھ بتا دینا
اسکی ہاتھوں میں پڑا بیگ یک دم بہت بھاری ہوگیا
اسکی نوبت نہیں ائے گی تم ٹھیک ہو جاو گے
جہان نے جواب نہیں دیا پھر زیادہ مہلت ملی بھی نہیں وہ اسے لے گئے اور وہ عملیات خانے(آپریشن تھیٹر کا ترک نام) کے باہر ایک کرسی پہ آ بیٹھی
وہ کہہ رہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے وہ سوچ رہی تھی کہہ اگر اسے کچھ ہو جائے ےو وہ کیا کرے گی؟ زندگی مین بعض 'اگر'کتنے خوفناک ہوتے ہیں نا ان کو آدھا سوچ کر بھی دم گھٹنے لگا
وہ بس جہان کا بیگ گود میں رکھے اسے کسی واحد سہارے کی طرح مظبوطی سے تھامے کرسی پہ بیٹھی سامنے شیشے کے بند دروزوں کو دیکھے گئی۔ وہ کیسی عجیب سی کیفیت ہوتی ہے جب دعا نہیں مانگی جاتی۔ دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں کو دیکھ کر انہی ہاتھوں سے کیے جانے والے گناہ یاد آ جاتے ہیں تب لگتا ہے معافی نہیں ملی کیا واقعی سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ہمیں کیوں لگتا ہے کہ ھم گناہوں سے توبہ کر لیں گے اور پھر انہیں بھلا کر سب ٹھیک ہو جائے گا-گناہ ایسے پیچھا نہیں چھوڑتے ان کے آثار ہمیشہ ان جگہوں پر ہوتے ہیں گناہ تو ساری عمر پیچھا کرتے ہیں کیا ان سے کوئی رہائی تھی کیا ان کی ملکیت سے کوئی آزادی تھی ایسا کیوں نہ ہو سکا کہ وہ عائشے گل کی طرح ہوتی؟ ہمیشہ سے سچی ہمیشہ سے باحیا اور نیک اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور پھر انھیں واپس گرا دیا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا مانگے یہ گرہ کہاں لگی تھی؟ دعا کب روٹھی تھی؟ شاید ڈی جے کے وقت ہاں تب بھی وہ ایسے ہی ایک اسپتال کے علیات خانے کے باہر بیٹھی تھی وہ گرہ اب کیسے کھلے گی فون کی گھنٹی بجی تو وہ ذڑا چونکی پھر موبائل دیکھا ابا کالنگ اسلام علیکم ابا! اس نے فون کان سے لگایا تو اپنی آواز بے حد پست اور بھاری لگی وعلیکم اسلام کیا حال ہے اور کدھر ہو؟ پھر وہ رسمی علیک سلیک حال احوال اور تمہید کے بعد پوچھنے لگے تم واپس کب آ رہی ہو؟ فون کان سے لگائے اس نے ذور سے آنکھیں کھولیں سامنے کا منظر دھندلا گیا تھا ابا مجھے مزید لگ جائے گا حیا ابا کو جیسے اکتاہٹ ہوئی اتنے دن ہو چکے ہیں کیا ابھی تک تمہارا ٹور حتم نہیں ہوا آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ لندن جانے کے بجائے ترکی میں جتنا چاہے وقت گزار لوں ہاں ٹھیک ہے مگر تمہاری اماں روحیل کا ولیمہ کرنا چاہتی ہیں سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور ہاں جہان کا پروگرام ہے؟ کیا وہ تمہیں ملا ہے؟ حیا نے ایک نظر آپریشن تھیٹر کے بند شیشے کے دروازوں کو دیکھا جی! وہ یہیں ہے وہ بھی ساتھ ہی آئے گا اس کی آواز میں خود بھی اتنی بے یقینی تھی کہ ابا نے جیسے دوسری طرف استہزائیہ سر جھٹک دیا مجھے پتا ہے وہ تمہیں نہیں ملا ہو گا خیر چھوڑو تم جلد آنے کی کوشش کرو وہ کتنے پر یقیں تھے کہ جہان انکی بیٹی سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے حالانکہ وہ تھے تو ان دونوں کی منگنی پہ مگر نہیں لوگ اپنی آنکھوں کے بجائے کے بجائے کانوں پہ یقین کرنے کو ترجیح دیا کرتے ہیں ابا میں جلد نہیں آ سکتی ایک دوست ہاسپٹل میں داخل ہے اس کی انٹرکرینٹل سرجری ھے میں اسے یہاں نہیں چھوڑ سکتی ابا آنسو بے اختیار اس کی آنکھوں سے لڑھک کر نقاب کے اندر جذب ہونے لگے ابا چند لمحے کو بالکل حاموش ہو گئے اس کا یہاں اس کا کوئی نہیں ہے ابا میں اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتی اس نے ان پانچ ماہ استنبول میں میرا بہت خیال رکھا ہے ہر موقع پہ اس نے میرا ساتھ دیا ہے اب کیا میں اسے آپریشن تھیٹر میں چھوڑ کر آجاؤں؟ اوہ آئی سی وہ ذرا دھیمے پڑے کیا وہ لڑکی ہالے نور کیا اس کا آپریشن ہے؟ وہ ذرا چونکی آپ ہالے کو کیسے؟ ساتھ دوسرے ہاتھ سے بھیگی آنکھیں صاف کیں تمہیں کیا لگتا ہے جب تم کچن میں کھڑی ہو کر نور بانو کو ترکی نامہ سنا رہی ہوتی تھی تو سارا گھر برداشت سے سننے کے علاوہ اور کیا کر رہا ہوتا تھا؟
****
اوہ اچھا۔ ہالے کا نام تو وہ بہت لیتی تھی ابا اس سے واقف تھے پھر بھی اس نے تردید یا تصدیق نہیں کی جھوٹ وہ بولنا نہیں چاہتی تھی اور سچ بولنے کاحوصلہ نہیں تھا
ابا جب تک وہ Stable نہ ہوجائے،میں ادھر ہی رہوں گی روحیل کو اگر اتنی جلدی ہے تو کر لے میرے بغیر اپنا ولیمہ
اچھا ٹھیک ہے پھر جیسے ہی وہ ٹھیک ہو تم واپس آجانا چند مزید نصیحتیں کر کے فون بند کردیا
حیاچند لمحے فون کودیکھتی رہی پھر پھوپھو کا نمبر ملایا
ہیلو!پھوپھو نے تیسی بیل پہ فون اٹھا لیا
اس نے کچھ کہنا چاہا مگر کہہ نہ سکی حکق میں کچھ پھنس سا گیا تھا آنسو بار بار ابل رہےتھے
ہیلو حیا؟پھوپھو اسکا نمبر پہچاننے کے باعث اسے پکار رہیں تھیں مگر اسکے الفظ مر گئے تھے وہ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ ان کا بیٹا کہاں ہے،کیسا ہے،وہ اس کیلئے دعا کریں مگر کچھ کہہ نہ سکی۔
ہیلو؟
اس نے کال کاٹ دی اور پھر فون بند کردیا جہان نے کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھااور وہ اس کا اعتبار توڑنا نہیں چاہتی تھی عجیب بےبسی سی بے بسی تھی
سیکنڈ،منٹ،گھنٹے۔۔وقت گزرتا جارہاتھا اس نے ذہن پہ زور دینے کی سعی کی کہ جب کسی کا آپریشن ہونا ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے؟صائمہ تائی کہتی تھی کہہ پہلے کلمے کو سوا لاکھ دفعہ پڑھنا چاہئے جب بھی کوئی بیمار ہوتا یا کسی کزن کا انٹری ٹیسٹ یا ایڈمشن کا مسئلہ ہوتا تائی کے لاونچ میں وہی ایک ماحول سج جاتا
چاندنیاں بچھا کر کجھور کی گٹھلیوں کے ڈھیر لگا دیے جاتے
اسپتال کا وہ کاریڈور اب سرد پڑتا جا رہا تھا جولائی کی شام بھی ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھیاس نے سوچنا چاہا کہ وہ اس وقت کیا پڑھے؟بغیر حساب رکھے،بغیر گنے،توجہ اور یکسوئی سے کیامانگے؟مگر وہ گرہ کھولنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی ڈی جے کے بعد اس نے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی اور پردے کے بعد شکوہ کرنا چھوڑ دیا تھا مگر ابھی وہ شکوہ کرنا چاہتی تھی جیسے ایوب علیہ سلام نے کیا تھا
اس نے کرسی کی پشت پہ دیوار پہ سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں بس یہیں ایک شکواہ تھا جس پہ لب مہر بند نہیں رہے تھے
میں اپنے دکھ اور ملال کی شکائت صرف اللہ سے کرتی ہوں
دھات کی کرسی جیسے مقناطیس بن گئی تھی اور چاندی کے مجسمے کا قطرہ قطرہ آپنے اندر جزب کررہی تھی
میں اپنے دکھ اور ملال کی شکائت صرف اللہ سے کرتی ہوں
کرسی نے اس کی ساری چاندنی نچوڑ لی تھی لوہے کا اہک خول باقی رہ گیا تھاجسے مقناطیسی نشست نے خود سے جوڑ لیا تھا
میں اپنے دکھ اور ملال کی شکائت صرف اللہ سے کرتی ہوں
اس کے قدموں میں جیسے بیڑیاں ڈل گئی تھی وہ چاہ کر بھی نہ حرکت کرسکتی تھی نہ سانس لے سکتی تھی۔ہرطرف جیسےاندھیرا تھا اس ایک شخص کو کھو دینے کا صرف احساس بھی اس تاریک سرنگ کی طرح تھا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا اسکی ساری چاندنی اس اندھیرے میں ڈوب گئی تھی
میں آپنے دکھ اور ملال کی شکائت صرف اللہ سے کرتی ہوں
پانچ' ساڑھے پانچ گھنٹے گزر گئے تھے تب ہی شیشے کا وہ دروازہ کھلا اس نے سرجن کو اپنی طرف آتے دیکھااسکو لوہے کے خول کو کرسی کے مقناطیس نے یوں چپکا رکھا تھا کہ وہ چاہنے کے باوجود اٹھ نہ سکی۔
کیا ہوا ڈاکٹر؟ کیا ہوا ڈاکٹر؟ اس نے خود کو کہتے سنا۔
سرجری پیچیدہ تھی مگر کیل بہت اندر تک نہیں گئی تھی ہم نے اسے نکال لیا ہے۔ ڈاکٹر اسے بتانے لگے۔ اس کی کھوپڑی کا جو حصہ ڈیمج ہوا تھا اسے titanum mlesh کے ساتھ ری بلیس کر دیا گیا ہے۔
اور وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ اس نے بے قراری سے ان کی بات کاٹی۔ وہ پتا نہیں کون سی زبان بولے جا رہے تھے۔
ہاں آف کورس وہ ٹھیک ہے۔ سرجری کامیاب رہی جیسے ہی انتسھیزیا اترے گا وہ اسٹیبل ہو جائے گا تو آپ اس سے مل سکیں گی۔ زندگی میں بعض خبریں انسان کو کیسے ملتی ہیں شاید جیسے اوپر سے بہتی کوئی آبشار ہو جس کا دھارا اسے بگھو دے یا پھر جیسے آسمان سے سونے کے پتنگے گر رہے ہوں یا جیسے لہلہاتے سبزہ زار کے ساتھ کسی چشمے کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھنا ہو۔ مرہم، ٹھنڈ، سکون۔
شکریہ بہت شکریہ۔ اس کی آنکھیں اور آواز دونوں بھیگ گئیں۔ نقاب کے اوپر لبوں پہ ہاتھ رکھ کر جیسے ابلتے جذبات کو قابو کرنے کی کوشش کی پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ لوگ سکون پا کر نڈھال ہو کے بیٹھ جایا کرتے ہیں مگر وہ اس کیفیت میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ مقناطیس غائب ہو گیا اور چاندی کا مجسمہ پھر سے چمکنے لگا تھا۔ 
اللہ آپ کو بہت خوش رکھے۔ زندگی میں کسی کو اس کے منہ پہ اتنے دل سے اس نے شاید پہلی دفعہ دعا دی تھی۔ وہ ایک پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ سر کو جنبش دے کر اگے بڑھ گئے۔ جس شیشے کے دروازے سے وہ آئے تھے اس کے پار عملے کے دو افراد ایک اسٹریچر دھکیلتے جا رہے تھے وہ دوڑ کر دروازے کی طرف آئی۔
اور چہرہ شیشے کے دروازے کے قریب لے جا کر دیکھا وہ جہان ہی تھا لیٹے ہوئے اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی تھی یوں کہ چہرہ حیا کے سامنے تھا بند آنکھیں نیچے گہرے حلقے سر پٹیوں میں جکڑا۔ ایک پٹی آنکھ کے قریب سے گزرتی تھ۔ی بے ہوش بے خبر اسٹریچر آگے بڑھ گیا وہ بس اسے دیکھتی رہ گئی۔ دونوں کے درمیان اس دفعہ پہلے بھی شیشے کی دیوار تھی۔ ایسی ہی جیسے بہت پہلے ان کے درمیان تھی تب دھندلی تھی آر پار کا منظر مبہم تھا لیکن اب وہ صاف تھی سب واضع تھا مگر دیوار تو دیوار ہوتی ہے اور ہاتھ زخمی کیے بغیر اس دیوار کو ہٹانا ممکن بھی نہ تھا۔ بہت تھکی تھکی سی واپس اس نے ٹھیک سے دعا نہیں کی تھی مگر وہ ٹھیک سے شکر تو کر سکتی تھی نا 
***
سلطنت ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہ شام کا نیلگوں، سرمئی پن چھا رہا اس کے پرائیویٹ روم تک آنے سے قبل وہ اپنے ہوٹل کے قریب ایک فلورسٹ سے سفید گلابوں کا ایک بڑا سا بوکے لے آئی تھی اور اب اس کے کمرے میں کھڑی ایک کارنر ٹیبل پہ رکھے گلدان میں وہ پھول سیٹ کر رہی تھی سفید گلاب جب کانچ کے گلدان میں جلوہ گر ہوچکے تو اس نے چہرہ ان کے قریب کر کے آنکھیں موندے سانس اندر کو اتاری تازہ دلفریب مہک سارے وجود میں اندر تک گھل گئی پھر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ سو نہیں رہا تھا بس گردن سے ذرا نیچے شیٹ ڈالے آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ سر ویسے ھی پٹی میں جکڑا تھا اور اوپر سفید جالی دار سی ٹوپی تھی کیا تمہیں کچھ چاہئے؟ کہنے کے ساتھ حیا نے گلدستے سے ایک ادھ کھلی کلی علیحدہ کی۔
اونہوں! وہ بند آنکھوں سے زیر لب بڑ بڑایا۔
اوکے! وہ کلی ہاتھ میں لیے اس لمبے سے کاؤچ پہ آٹکی جو بیڈ کی پائینتی کے قریب ہی دیوار کے ساتھ لگا تھا۔عبایا اس نے نہیں اتارا تھا بس نقاب نیچے کر لیا تھا۔
ڈاکٹرز کہہ رہے تھے تم بہت جلدی ری کور کر لو گے چند لمحے گزرے تو اس نے گلاب کی ٹہنی کو انگلیوں پہ گھماتے ہوئے بات کرنے کی ایک اور وسعی کی۔
پتا ہے مجھے۔اس نے آنکھیں نہیں کھولیں البتہ ماتھے پہ ایک اکتاہٹ بھری شکن کے ساتھہ جواب دیا۔
وہ پروا کیے بغیر ہاتھہ میں پکڑے سفید گلاب کو اسی طرح گھما ئے گئی۔بہت کچھہ یاد آرہا تھا۔ تمہیں یاد ہے جب ہم پہلی دفعہ استنبول میں ملے تھےتب تم نے پوچھا تھا کہ کون حیا۔ ذرا سا مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے جہان کو دیکھاجس نے اس بات پہ آنکھیں کھول کر ایک اچٹتی نظر اس پہ ڈالی تھی۔
جیسے کہ تم جانتے ہی نہیں تھے کہ کون حیا۔
تو تم نے آگے سے کیا کہا؟پھپھو کی بھتیجی۔یعنی پھپھو سے ملنے آئی ہو۔
ہاں توَ ان ہی سے ہی ملنے آئی تھی نا۔اسے ان باتوں کو دہرانے میں مزاہ آنے لگا تھا۔
بالکل! جیسے ابھی کپادوکیہ دیکھنے اائی ہو۔
سو تو ہے۔اس نے زرا سے شانے اچکائے ۔
اور کوئی تھا جو تایا کے گھر جوتے اتار کر داخل ہورہا تھا۔ اور ایپل ٹی کے علاوہ تو اسے کسی چائے سے واقفیت نہ تھی۔
جہان نے آنکھیں واپس بند کرلیں۔ کاؤچ کے اس طرف شیشے کا ایک دروازا تھا جو باہر کھلتا تھا۔ اس کے پار انقرہ کا موسم جیسے بہت کھلا کھلا لگ رہا تھا یوں جیسے اس دفعہ بہار جولائی میں اتری ہو۔
اور میرا چولہا ٹیھک کرتے وقت مجھے تم میرے الفاظ لٹا رہے تھے مگر مجھے کیا پتا تھا کہ کوئی میری میلز بھی پڑھتا ہے۔
اگر تم یہ سب کہہ کر مجھے شرمندہ کرنا چاہتی ہو تو وہ میں نہیں ہوں گا۔ سو بولتی رہو۔
اور کوئی کہتا تھا کہ وہ بہت غریب آدممی ہے۔اس نے اثر لیے بنا اپنا مشغلہ جاری رکھا۔
سو تو ہوں۔
اور جب تمہارے ڈرائیور نے جہان سکندر کا نام لیا تو کیا میں اس کے ساتھہ نا آتی؟ وہ اب پھول کو ٹہنی سے پکڑے اس کی کلی کو اپنی تھوڑی پہ گھما رہی تھی۔
اس نے صرف نام لیا تھا ہی نہیں کہا تھا کہ اسے جہان سکندر نے بیھجا ہے تمہیں پوچھنا چاہیے تھا۔
اور مجھے نہیں پتا تھا کہ تم تایا فرقان سے اتنا ڈرتے ہو۔موسم کی شادابی اس کی چہرے پہ بھی نظر آرہی تھی ۔ مسکراہٹ دبائے وہ ساری باتیں دہرانا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
میں کسی سے نہیں ڈرتا۔
ایسے پھپھو کہتی ہے کہ جہان کی مت سنا کرو وہ تو خوامخواو کہتا رہتا ہے۔
ممی کی مت سنا کرو وہ یونہی بولتی رہتی ہیں۔
وہ ایک دم چونکی پھر بے اختیار ہنس دی۔ جہان نے آنکھیں کھول کر گردن ذرا اٹھا کر اسے تعجب سے دیکھا۔
ہنسیں کیوں؟
کچھہ نہیں۔ ھیا نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔اور یاد ہے کہ کس طرح تم نے اور عائسشے نے ظاہر کیا تھا تم ایک دوسرے کو نہیں جانتے؟ گلاب کی پتیوں کو اپنے رخسار اور ٹھوڑی پہ محسوس کرتے ہوئے اس نے اس وقت کا حوالہ دیا جب عائشے اور جہان کے لیے بندر گاہ تک آئی تھیں۔
غلط ہم نے کچھ ظاہر نہیں کیا تھا۔ اگر تم پوچھتیں تو ہم بتادیتے۔
وہ بتا دیتی مگر تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ایک کام کرو گی؟ اس نے بات کاٹ کر بہت سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں کہو! وہ بہت سنجیدگی سے سنتی کاؤچ پہ ذرا آگے کو ہوئی۔ پہلے ایک دفعہ جہان نے اس سے چائے بنوائی تھی وگرنہ وہ کوئی کام نہیں کہتا تھا۔
مجھے فارمیسی سے تھوڑی سی کاٹن لا دو؟
شیور۔ وہ مستعدی سے اٹھی۔ اس کا کام کرنے کی خوشی بہت قیمتی تھی۔ دروازے تک پہنچ کہ وہ کسی خیال کے تحت رکی اور پلٹ کر جہان کو دیکھا جو ابھی تک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کس لیے چاہیے کاٹن؟
کان میں ڈالنی ہے۔
وہ جو پرجوش سی باہر جانے کیلئے تیار کھڑی تھی پہلے آنکھوں میں حیرت ابھری، پھر اچھنبا پھر سمجھ میں آنے پہ ڈھیر ساری خفگی۔ لب خودبخود بھینچ گئےاور پیر پٹختی واپس کاوچ پہ آکر بیٹھ گئی بازو سینے پہ لپیٹے،ٹیک لگائے خاموش مگر ناراض نظروں سے اسے دیکھنے لگی
بہت شکریہ اس نے گردن سیدھی کر کے آنکھیں پھر سے موند لیں
یہ آدمی بھی نا دو چار دن مہزب بنا رہے تو بیمار پڑ جائے اس لیے اپنے اصل روپ میں بہت جلد واپس آ جاتا ہے
وہ اس طرح خفا خفا سی بیٹھی اسے دیکھتی رہی

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.