رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 7 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 7
مصنف ۔طارق خان
’’دیوی مہان ہے‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے۔’’تیری بدھی(عقل) اب کام کرنے لگی ہے‘‘ وہ مضحکہ خیز لہجے میں بولا۔
غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اس لئے ضبط کرکے اس کی بکواس سنتا رہا۔
’’جانتا ہوں اس سمے تیرے من میں کیا ہے؟ تو کس کھوج میں ہے؟ پرنتو میں تیرے پرشن کا اتر اوش دوں گا۔ میرا نام امر کمار ہے ،کالی ماتا کا سیوک ہوں۔ اس سمے دیوی کی آگیا سے تجھے یہ سمجھانے آیا ہوں کہ میری بات مان لے نہیں تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائیگا‘‘ وہ براہ راست میری آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
’’میں نہیں جانتا جو تو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن میری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کہ تیری دیوی مجھ سے کیا چاہتی ہے؟‘‘ میں نے اس سے متاثر ہوئے بغیر مضبوط آواز میں کہا۔ شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔ ہم دونوں اسی کھیت کے کنارے کھڑے تھے جہاں وہ ملنگ غائب ہوا تھا۔
’’دیوی تیری سہائتا(مدد ) کرنا چاہتی ہے۔ یدی تو نے دیوی کی آگیا کا پالن(حکم کی تعمیل) نہ کیا تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائے گا۔‘‘ اس نے کسی استاد کی طرح مجھے سمجھایا۔
’’مجھے تو کوئی ڈھونگی یا بہروپیا لگتا ہے۔ تیری کسی بات کی سمجھ مجھے نہیں آتی۔ اگر تجھے رقم کی ضرورت ہے تو سیدھی طرح بتا میں تیری کچھ نہ کچھ مدد ضرور کروں گا۔‘‘ میری بات سن کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا، لال انگارہ آنکھوں میں جیسے آگ کے آلاؤ روشن ہوگئے وہ غصے سے تھرتھر کانپنے لگا۔
’’مورکھ۔۔۔! تو نہیں جانتا تو اس سمے کس کے سمانے کھڑا ہے۔ تجھے ابھی میری شکتی کا گیان(علم) نہیں ہے۔ میں چاہوں تو ابھی تجھے بھسم کر سکتا ہوں۔ پرنتو دیوی کی اچھا(خواہش) کچھ اور ہے اور دیوی کی آگیا کا پالن کرنا ہر اچھے سیوک کا دھرم ہے۔ پرنتو تو نے میرا اپمان کیا ہے ایک مہان سادھو کا اپمان۔۔۔اس کا شراپ تو تجھ اوش ملے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں قہر اتر آیا۔
’’تو مجھے سزا دے گا؟‘‘ میں نے تمسخر سے کہا’’اگر تجھ میں ہمت ہے تو جو کرنا چاہتا ہے کر لے میں تیرے سامنے کھڑا ہوں۔‘‘ وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا۔ میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا’’اتر تو دوبارہ میرے راستے میں آیا تو یاد رکھنا میں تجھے چھوڑوں گا نہیں‘‘ اس کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا۔
’’گھی۔۔۔گھی۔۔۔گھی‘‘
اچانک مجھے اپنے پیچھے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔ تیزی سے مڑ کر دیکھا تو وہی ملنگ کھیت کے کنارے بیٹھا مٹی کے ڈھیلوں سے بچوں کی طرح کھیل رہا تھا۔
’’بھاگ گیا۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔بھاگ گیا بزدل‘‘ وہ قہقہے لگانے لگا۔ میں نے فوراً مڑ کر دیکھا تو دور دور تک سادھو کا نام و نشان نہ تھا۔ میں حیران رہ گیا کیونکہ ہم چٹیل میدن جیسے کھیت کے پاس کھڑے تھے دور تک کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ چھپ سکتا۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھار کر چاروں طرف دیکھا لیکن سادھو ہوتا تو ملتا۔ میری حیرت بجا تھی اگر وہ بہت تیز دوڑتا تب بھی کم از کم پانچ منٹ سے پہلے کھیت پار نہ کر سکتا تھا جبکہ وہ تو ایک لمحے میں غائب ہوگیا تھا۔ سادھو کو غائب پا کر میں فوراً ملنگ کی طرف متوجہ ہوا وہ بھی اپنی جگہ سے غائب تھا۔
’’یا خدا یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔یہ انسان ہیں یا جن؟ ایک پل میں غائب ہو جاتے ہیں‘‘ حیرت سے میری عقل گم ہوگئی۔ اندھیرا اتنا بھی نہ تھا کہ وہ مجھے دکھائی نہ دیتے۔ میں کافی دیر اسی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا پھر بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔ کچھ دنوں سے مجھے عجیب و غریب حالات پیش آرہے تھے۔ جن سے میں خوفزدہ تو نہ تھا ہاں الجھن ضرور محسوس کر رہا تھا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا تھا۔ سارا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے گیراج کی لائٹ جلائی اور برآمدے میں آگیا۔ اچانک ایسی آواز آئی جیسے اندر کوئی چل رہا ہو پھر دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ برآمدے میں لوہے کی گرل لگی ہوئی تھی جس کے بند کر دینے سے سارا گھر محفوظ ہو جاتا تھا۔ ایسی ہی ایک گرل پچھلے برآمدے میں بھی تھی۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور پر لگائی گئی تھی۔ میں نے گرل کا تالا کھولا اور اندر جا کر ٹی وی لاؤنج کی لائٹ بھی جلا دی۔ بریف کیس رکھ کر میں باتھ روم میں چلا گیا سردیاں گرمیاں مجھے ہر روز نہانے کی عادت ہے۔ جب میں ٹی وی لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ ٹی وہ آن تھا۔ ابھی میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ کہیں میں نے جاتے ہوئے خود ہی تو ٹی وی آن نہیں کر دیا تھا کہ بیڈ روم سے کسی کے چلنے پھرنے کی آواز آئی جلدی سے اندر کی طرف لپکا بیڈ روم کھول کر دیکھا تو ایک بار پھر عجیب سے بے چینی نے گھیر لیا۔ میں واپس ٹی وی لاؤنج میں آیا تو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔ ٹی وی بند تھا۔ میں نے اسے آن کیا کوئی ٹاک شو لگا ہوا تھا میرا دل ٹی وی دیکھنے میں نہ لگا اس لئے میں بیڈ روم میں آکر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب دیکھا۔ صائمہ میرے کمرے میں آئی ہے اس نے بہت گہرا میک اپ کیا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں گلاب کا تازہ پھول ہے کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ بیڈ پر گلاب کی پتیوں کی سیج سی بنی ہوئی ہے صائمہ پہلے سے زیادہ حیسن نظر آرہی ہے وہ رات بھی میرے ارمانوں کی ر ات ثابت ہوئی ہم دونوں دنیا جہاں سے بے خبر ایک دوسرے میں کھوئے رہے۔ صبح میری آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ میں نے کلاک پر نظر ڈالی سات بج رہے تھے۔ انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا۔ اچانک میری نظر بیڈ پر پڑی تو میں اچھل کر بیڈ سے نیچے اتر آیا حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں۔َ سارا بیڈ گلاب کی پتوں سے یوں ڈھکا ہوا تھا جیسے شب عروسی کے لئے بیڈ پھولوں کی پتوں سے سجایا جاتا ہے۔ پتیاں مسلی ہوئی تھیں تکیے پر گلاب کا ایک پھول بھی رکھا ہوا تھا۔ رات کو خواب میں میں نے دیکھا تھا کہ صائمہ گلاب کا پھول لے کر کمرے میں آئی اور پھول مجھے دے دیا۔ جسے سونگھ کر میرے اندر جذبات کا طوفان امڈ آیا تھا۔ میں نے ایک جھٹکے میں صائمہ کو اپنے اوپر گرا لیا تھا۔ صائمہ کے انداز میں والہانہ پن اور وارفتگی تھی۔ میں حیرت بھری نظروں سے بیڈ کو دیکھ رہا تھا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔
’’کیا وہ خواب نہیں تھا؟ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ اگر وہ خواب تھا تو گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے؟ اگر حقیقت تھی تو یہ کیسے ممکن ہے؟ صائمہ کی غیر موجودگی بلکہ اس شہر میں غیر موجودگی کہنا مناسب ہوگا کے باوجود وہ رات کو میرے ساتھ۔۔۔؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہے؟ اس قسم کے حالات سے میرا سابقہ پہلے کبھی نہ پڑا تھا۔ کافی دیر میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا پھر سر جھٹک کر باتھ روممیں گھس گیا۔ نہا کر میں جلدی سے بینک روانہ ہوگیا۔ عمران چھٹی پر تھا ورنہ اس سے کہہ کر ہی دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا کام کے دوران بھی میں رات والے قصے کے بارے میں سوچتا رہا بلکہ سوچتا کیا رہا خیالات خود بخود میرے ذہن میں آتے رہے۔ تقریبا بارہ بجے محمد شریف کا فون آگیا وہ مجھے شام کو اپنے ہاں آنے کے بارے میں یاد دہانی کروا رہا تھا۔ آج وہ چھٹی پر تھا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں ضرور آؤں گا۔ اس کا گھر یہاں سے تقریبا بیس میل کے فاصلے پر تھا۔ پانچ بجے بینک سے نکلا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔ جس نے مجھے آدھ گھنٹے میں شریف کے گھر پہنچا دیا۔ میں پہلی بار اس کے گھرجا رہا تھا لیکن ٹیکسی والا اسی گاؤں کا تھا وہ مجھے سیدھا شریف کے گھر لے گیا۔
جب میں گھر کے سامنے اُترا تو شریف سامنے آرہا تھا۔ بڑے تپاک سے ملا اور مجھے اندر لے گیا۔ لگ بھگ دو کنال کے رقبے پر بنا ہو ایہ گھر سادہ لیکن صاف ستھرا تھا۔ سامنے کی طرف ایک قطار میں کمرے ان کے آگے برآمدہ ، وسیع و عریض صحن اور ایک طرف جانوروں کا باڑہ بنا ہوا تھا۔ جس میں دو بھینسیں اور چند بکریاں بندھی ہوئی تھیں۔ شام ہونے کو تھی۔ صحن میں چار پائیاں بچھا کر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ بیس پچیس افراد ان چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جلدی سے بھاگ کر اندر سے میرے لئے کرسی لے آیا۔
مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا گیا اس کے بعد وہ کہنے لگا۔ ’’سر! میرے والد محترم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ضرور۔۔۔ضرور کیوں نہیں کہاں ہے تمہارے والد صاحب۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’وہ معذور ہیں چل پھر نہیں سکتے اندر کمرے میں لیٹے رہتے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے آپ کو یہاں بلانے کے لیے کہا تھا وہ آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ویری سیڈ۔۔۔‘‘ میں نے افسوس سے سر ہلایا۔
’’چلیں سر! اندر چلتے ہیں‘‘ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ مجھے لے کر سامنے بنے ہوئے کمروں کی طرف چل پڑا۔ برآمدہ پار کرکے ہم بائیں طرف بنے ایک کمرے کے سامنے پہنچ گئے۔ شریف نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
’’محمد شریف آجاؤ دروازہ کھلا ہے‘‘ اندر سے ایک بھاری آواز آئی۔
’’سر! اگر برا نہ مانیں تو جوتی باہر ہی اتار دیں‘‘ اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ میں نے جوتا اتار دیا۔ شریف نے د روازہ کھولا اور مجھے اندر جانے کے لیے راستہ دیا۔ میں اندر داخل ہوا تو بڑی مسحور کن خوشبو نے میرا استقبال کیا۔ مدہم سبز روشنی کا بلب کمرے کے ماحول کو پاکیزہ بنا رہا تھا۔ شریف نے اندر آکر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا اور ٹیوب لائٹ جلا دی۔ کمرے میں دودھیا روشنی پھیل گئی۔ ایک نورانی صورت بزرگ سامنے بچھے تخت پوش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چارپائی فرش پر موٹا سا کپڑا نما قالین یہ تھا کمرے کا کل سامان البتہ دیوار گیر الماری میں کافی تعداد میں کتابیں موجود تھیں۔ ہلکا سا خوشبودار دھواں کمرے میں چکر ارہا تھا۔ جس کا مخرج ایک مٹی کا تھال نما برتن تھا۔
’’آؤ۔۔۔آؤ بیٹا! آگے آجاؤ۔‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ میں نے ان کو سلام کیاا ور آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔ انہوں نے بڑی محبت سے میرے سلام کا جواب دیا۔ اور ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ مجھے اندر پہنچا کر شریف الٹے پاؤں کمرے سے واپس چلا گیا جاتے جاتے دروازہ بند کرنا نہیں بھولا تھا۔
’’فاروق بیٹا! میں نے تمہیں ایک خاص مقصد کے تحت بلایا ہے۔ جو کچھ میں تم سے کہنے جا رہا ہوں اسے غور سے سننا۔۔۔عمل کرنا نہ کرنا تمہارے اختیار میں ہے لیکن میں تمہیں نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے یہ صرف خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی ہے جو دلوں کے بھید اور آنے والے وقت کے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔ بعض اوقات اپنی منشاء کے مطابق کچھ باتیں وہ مجھ مجھے کسی گناہ گار بندے کو بتا دیتا ہے اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔ جس قدر وہ چاہتا ہے اتنا ہی انسان کو معلوم ہو سکتا ہے۔ رات جو کچھ ہوا وہ ایک خواب نہیں تھا‘‘ میں حیرت سے منہ کھولے ان کی بات سن رہا تھا۔ حیران میں اس بات پر تھا کہ سوائے میرے رات والے واقعے کے بارے میں کسی کو پتا نہ تھا کہ کیا ہوا؟ جب کہ شریف کے والد صاحب مجھے اس طرح بتا رہے تھے جیسے وہ خود وہاں موجود رہے ہوں۔’’ یہ سب کیا ہے؟ ابھی میں اس بارے میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ آنے والے وقت میں تمہیں چند مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مشکلات کو نہایت صبر و استقامت سے برداشت کرنا۔ تمہیں ایک پُر خار وادی سے گزرنا ہے۔ آنکھیں کھلی رکھنا اور نفس کو دنیا کی لذتوں سے بچانا۔ اس طرح تم ان مصائب اور تکالیف پر بہت جلد قابو پا لو گے۔ میرے بچے! دنیا صرف چند روز کھیل تماشہ ہے‘‘
میں سر جھکائے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔’’کچھ عرصہ قبل بھی تم ایک ایسی رات گزار چکے ہو۔ تمہاری اہلیہ سچ کہتی ہے
اس رات وہ تمہارے کمرے میں نہیں آئی تھی‘‘ انہوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا۔
’’پھر۔۔۔پھر یہ سب کیا ہے بزرگوار؟ میں نے قطع کلامی کی۔ ’’میں تو خود حیران و پریشان ہوں۔ عقل کام نہیں کر رہی۔۔۔۔سوچ سوچ کر تھک گیا ہوں پر کوئی بات میری سمجھ میں نہیں آتی‘‘ میں نے کہا۔
’’میں تمہاری کیفیت سمجھ رہا ہوں میرے بچے! لیکن جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے سمجھو۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی تمہیں سب کچھ نہیں بتایا جا سکتا لیکن میری چند ہدایات پرعمل کرکے تم ان مشکلات سے بہتر طورپر چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہو‘‘ وہ خاموش ہوئے تو میں نے نہایت ادب سے کہا۔
’’بابا جی ! آپ بتائیں میں آپ کی باتوں پر عمل کروں گا کیونکہ میں خود اس معاملے میں سخت پریشان ہوں‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرائے۔
’’چند روز قبل جو ہندو سادھو تمہارے پاس بینک آیا تھا وہ بہت خبیث انسان ہے۔۔۔بہت ہی خطرناک‘‘۔
وہ روشن ضمیر تھے انہیں سب معلوم تھا۔
’’وہ سادھو کون ہے بابا جی!‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’شیطان کا چیلہ ہے وہ خبیث۔۔۔بہت خطرناک آدمی ہے بلکہ اسے تو آدمی کہنا بھی آدمیت کی توہین ہے۔ بہت جلد ان ظالموں کی مہلت ختم ہونے والی ہے‘‘ ان کے نورانی چہرے پر جلال چھا گیا۔
’’وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتاہے؟ مجھے تو اس کی ایک بات بھی سمجھ نہیں آئی‘‘میں نے پوچھا۔
’’قبل از وقت ان باتوں کا جاننا تمہارے لئے نقصان دہ ہوگا۔ جیسا کہ میں کہہ رہا ہوں اگر مناسب سمجھو تو اس پر عمل کرنا ورنہ ہر انسان خود مختار ہے اپنی مرضی سے جو چاہے کرے۔ بہت کم لوگ جو نصیحت سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ جن مصائب کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں تمہارے ساتھ تمہاری بیوی بچے بھی شریک ہوں گے۔ یہ ممکن ہے کہ ان کو وہیں روک دیا جائے جہاں وہ موجود ہیں یا تمہیں بھی ان کے پاس بھیج دیاجائے لیکن اس طرح خدا کی مخلوق ، ان بدبختوں کے ہاتھوں برباد ہوتی رہے گی۔ تمہیں اس احسن کام کے لیے چُن لیا گیا ہے اگر تم نے صراط مستقیم کو نہ چھوڑا تو مخلوق کی بھلائی کا جو کام تم سے لیا جانے والا ہے وہ ایک سعادت ہے جس کے لیے اللہ کے بندے ترستے رہتے ہیں لیکن یہ تو نصیب کی باتہے جس کو یہ سعادت حاصل ہو جائے۔‘‘
’’میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا ہوں بابا جی! کس قسم کی سعادت اور مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں آپ۔۔۔اگر مناسب سمجھیں تو وضاحت فرما دیں۔‘‘ خاموشی کے وقفے کے دوران میں نے پوچھا۔
’’وقت آنے پر سب کچھ سمجھ جاؤ گے۔۔۔انہوں نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا’’سنو۔۔۔نماز میں کوتاہی نہ کرنا اور سب سے اہم بات جو میں تمہیں بتانے لگاہوں وہ یہ ہے کہ نامحرم عورتوں سے دور رہنا۔ آزمائش کی گھڑی بہت کٹھن ہوتی ہے لیکن وہ بہت کم وقت کے لیے آتی ہے جو آزمائش کے ان لمحات کو صبر و استقامت سے گزار گیا۔ وہی مرد میدان بھی ہے اور اسی کو انعام بھی ملتا ہے۔ اگر میری ان دو باتوں پر تم نے عمل کیا تو شیطان اور اس کی اولاد تم سے شکست کھا جائیں گے۔ اگر تم بہک گئے تو پھر ۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے کچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے پھر جائے نماز کا ایک کونہ اٹھا کر اس کے نیچے سے ایک ایسی چیز نکالی جو میرے لئے عجیب تھی۔
جاری ہے

No comments: