رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر10 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 10
مصنف طارق خان
اگر وہ سب کچھ خواب نہیں تھا تو پھر۔۔۔؟ ان وحشیوں سے میری جان بچانے والا نادیدہ نجات دھندہ کون تھا؟ خدا جانے کیا ہو رہا تھا؟ اس شہر میں آنے کے بعد پے در پے ایسے واقعات ہوتے آئے تھے کہ میری عقل سلب ہو کر رہ گئی تھی۔ ذہن کے پردے پر ایک بار پھر سارے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ چمپا کا ملنا یقیناً اس منحوس سادھو کا حسین جال تھا جسمیں میں پھنستا چلا گیا۔ سادھو کے جنگل سے مجھے چھڑانے والاکون تھا؟ اگر وہ نادیدہ ہستی جو میری محسن تھی۔ اس کڑے وقت میری مدد نہ کرتی تو نہ جانے وہ بھیڑئیے میرا کیا حشر کرتے؟
یہ سوچ کر میں کانپ اٹھا ۔ سارا دن انہیں خیالات نے ذہن پراگندہ کیے رکھا پر کسی بات کی سمجھ نہ آئی ہاں سر درد بڑھ گیا۔ میں نے سر جھٹک کر خیالات سے پیچھا چھڑایا۔ ابھی میری چند چھٹیاں باقی تھیں۔ دو دن بعد کی بات ہے کوئی آدھی رات کا عمل ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ کوئی میرے اوپر جھکا ہوا تھا ۔ کمرے میں زیرو پاور کا بلب جل رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا ، صائمہ تھی۔ میں چونک کر اٹھنے لگا تو اس نے پیار سے میرے کندھوں کو تھام کر مجھے دوبارہ لٹا دیا۔ کمرے کی خاموشی میں اس کی تیز سانسوں کی آواز مجھے واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! نیند نہیں آرہی؟‘‘ میں نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا۔۔
’’آپ کے بغیر مجھے کہاں نیند آتی ہے؟‘‘ اس کی آواز خمار آلود تھی۔
’’تو آؤ۔۔۔آکر میری بانہوں میں سو جاؤ۔‘‘ میں اب مکمل طور پر جاگ گیا تھا۔ وہ جیسے اشارے کی منتظر تھی۔ یکدم میرے سینے پر گر گئی۔ اچانک کمرے میں اس کی گھٹی گھٹی چیخ گونج اٹھی۔ وہ جھٹکے سے یوں پیچھے ہٹی جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ اب وہ بیڈ سے کچھ فاصلے پر کھڑی سینے کو یوں مسل رہی تھی جیسے اسے شدید تکلیف ہو رہی ہو۔ میں جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھا۔
’’دور رہو مجھ سے ۔۔۔‘‘ وہ بدک کر مجھ سے دور ہٹ گئی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! کیا ہوا؟‘‘ میں نے حیران رہ گیا۔
’’یہ تم نے گلے میں کیا پہناہوا ہے؟‘‘ اس نے کراہتے ہوئے پوچھا۔ میں نے اپنے گلے کی طرف دیکھا۔ بینک میں شریف کے تاکید کرنے پر گھر آکر میں نے وہ تعویز پہن لیا تھا جو مجھے شریف کے والد صاحب نے دیا تھا۔
’’اوہ۔۔۔میں تمہیں بتانا بھول گیا۔۔۔یہ تعویز مجھے ایک بزرگ نے عطا کیا ہے نظر بد و آفات سے حفاظت کی خاطر‘‘ میں نے سچ اور جھوٹ کر ملایا۔
’’اسے اتار دو ‘‘ صائمہ نے بڑی بیزاری سے کہا۔ میں چونک گیا آج وہ بار بار مجھے ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھی حالانکہ میری معاملے میں اسے ادب آداب کا بہت خیال رہتا۔
’’صائمہ! آخر کیا وجہ ہے تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘ میں الجھ گیا۔
’’میرے ساتھ زیادہ بحث نہ کرو جیسا کہہ رہی ہوں ویسے ہی کرو ۔ اس نے کسی قدر سختی سے کہا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تو وہ چیخ کر بولی۔
’’فاروق ! میں کہہ رہی ہوں میرے قریب آنے کی کوشش نہ کرو‘‘ ایک بار پھر وہ مجھ سے دورہٹ گئی۔ اس بار مجھے بھی غصہ آگیا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں یہ تعویز کیا تکلیف دے رہا ہے؟‘‘
’’جب تک تم اسے اپنے سے دور نہیں کرو گے میں تمہارے پاس نہیں آؤں گی‘‘ وہ غصے سے بولی اور دھڑ سے دروازہ بند کرکے باہر نکل گئی۔ میں حیران رہ گیا۔ صائمہ نے آج تک کبھی ایسا رویہ میرے ساتھ نہ اپنایا تھا۔ دیر تک مجھے نیند نہ آئی۔’’صائمہ کو کیا ہوگیا ہے ایسے تو اس نے کبھی نہ کیا؟‘‘ میں یہی سوچتا رہا۔’’صبح اس سلسلے میں ضرور اس سے بات کروں گا۔ ‘‘ یہ سوچ کر میں مطمئن ہوگیا۔ نہ جانے کب مجھے نیند آئی۔ دوسرے دن جب صائمہ نے مجھے جگایا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر حسب معمول دلآویز مسکراہٹ تھی چہرہ کسی تازہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا.
’’خان صاحب! بہت دیر سو لیا اب اٹھ جائیں۔ رات بھی آپ نے تھوڑی سی کچھڑی کھائی تھی اس طرح پیٹ خالی رہے گا تو کمزوری کیسے رفع ہوگئی؟ اس کے لہجے میں میرے لئے وہی پیار اور خلوس تھا جو ہمیشہ ہوتا تھا۔ میں بری طرح الجھ گیا کل رات اس کا اصرار کرنا کہ مٰں تعویز اتار دوں میری سمجھ سے باہر تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ صائمہ اس بات سے خوش ہوتی کہ بغرض حفاظت میں نے اسے پہنا ہوا ہے الٹا وہ ناراض ہو کر اسے اتار دینے پر اصرار کر رہی تھی۔ نہ سمجھ آنے والی بات تھی۔ اسی ایک بات پر کیا موقوف اب تک پیش آنے والے سارے واقعات میری سمجھ سے باہر تھے۔ میں نے سر جھٹک کر خیالات سے پیچھا چھڑایا اور باتھ روم میں گھس گیا۔ غسل سے فارغ ہو کر میں ناشتے کی میز پر پہنچا جہاں دیسی گھی کے پراٹھوں سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو میرا استقبال کر رہی تھی۔
’’آج سے پرہیزی کھانا ختم‘‘ صائمہ مجھے حیرت سے پراٹھوں کو تکتے دیکھ کر مسکرائی۔
’’ہر قسم کا پرہیز ختم۔۔۔؟‘‘ میری معنی خیز نظروں کا مفہوم جان کر وہ شرم سے گلابی ہوگئی۔
’’بہت خراب ہیں آپ‘‘ گلابی گال دہک اٹھے۔
میری بیماری کی وجہ سے وہ مجھ سے گریزاں رہی تھی اس پر میں نے کہا تھا۔ بے چاری ان دنوں گھر کاکام بھی سنبھالتی اور بچوں کو سکول لانے لے جانے کی ڈیوٹی بھی نبھا رہی تھی۔ دوسرے دن سے میں نے ڈیوٹی پر جانا شروع کر دیا۔ اس دن میں شام کو میں بینک سے واپس آیا تو دیکھا بچے لان میں ایک خوبصورت سی سفید رنگ کی بلی سے کھیل رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی دونوں اکٹھے چلائے۔
’’بابا! دیکھیں کتنی پیاری کیٹی ہے یہ اب ہماری ہے‘‘ میں نے دیکھا بلی واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سفید رنگ پر اس کی نیلی آنکھیں بہت بھلی لگ رہی تھی بالکل کانچ کی طرح۔ روئی کے گالوں جیسے ملائم بال۔ وہ بڑے غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر آہستہ سے چلتے ہوئے میرے قریب آئی او ٹانگوں سے لپٹنے لگی۔ وہ بار بار منہ اٹھا کرمیری طرف دیکھتی اور منہ سے آواز نکالتی ’’میاؤں۔‘‘ میں نے بچوں سے پوچھا۔’’بیٹا ! یہ بلی کہاں سے آگئی؟‘‘
’’بابا یہ ہماری فرینڈ بن گئی ہے۔ ‘‘ انہوں نے معصومیت سے جواب دیا۔ اتنے میں صائمہ اندر سے نکل آئی۔ مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میرے ہاتھ سے بریف کیس لیتے ہوئے کہا۔
’’بچے سکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر لان میں کھیلنے لگے تو یہ کہیں سے نکل کے ان کے پاس آگئی۔ پہلے تو میں ڈری کہ کہیں ان کو نقصان نہ پہنچا دے لیکن جب اسے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو مطمئن ہوگئی۔‘‘
میں نے مسکرا کر بچوں کو دیکھا اور اندر کی طرف دقدم بڑھائے کہ بلی نے اچانک چھلانگ لگائی اور میرے کندے پر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگی میں چونکہ اپنے دھیان میں تھا اس لی گرتے گرتے بچا۔ بڑی مشکل سے خود آپ کو سنبھالا۔ اسکے بنچوں پر لگی مٹی سے میرا کوٹ خراب ہوگیا۔ اس کا وزن عام بلیوں سے کہیں زیادہ تھا۔ میں نے اسے اتارنا چاہا لیکن وہ میرے ساتھ چمٹ گئی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ بنجوں کے بل میری ٹائی سے لٹکی ہوئی تھی۔ مجھے بہت الجھن ہو رہی تھی۔ میں جتنی کوشش اسے اتارنے کے لیے کرتا وہ اتنی چپکی جا رہی تھی۔ بچوں کیلئے یہ ایک تماشا تھا وہ تالیاں بجا رہے تھے۔ اور بار بار ’’کیٹی کیٹی‘‘ کہہ کر اسے پکار رہے تھے۔ میں عجیب الجھن میں پھنس گیا تھا۔ صائمہ بھی ہنس پڑی’’لگتا ہے اسے آپ پسند آگئے ہیں۔‘‘
’’بلی نے مزید ہمت کی اور میرے کندھے پر یوں چڑھ کر بیٹھ گئی جیسے مداری کے کندھے پر بندر۔ وہ بڑے پیار سے میرے چہرے سے اپنا منہ مل رہی تھی۔ مجھے بلیوں یا کتوں سے کوئی خاص لگاؤ کبھی نہیں رہا آخر کار نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اسے زبردستی پکڑ کر نیچے اتار دیا۔ وہ پھر میری ٹانگوں سے لپٹنے لگی۔ اسے دوبارہ اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے دیکھ کرمیں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن بلی میرا پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار ہی نہ تھی۔ میں سختی سے اسے مارنے سے اس لئے گریز کر رہا تھاکہ میں نے ایک حدیث شریف کا مفہوم پڑھا تھا کمی بیشی پر اللہ کریم معاف کرے۔
’’اگر بلی تمہارا کوئی بہت زیادہ نقصان کر دے اور تمہیں غصہ آئے تو اسے روئی کے گالے سے مارو۔‘‘
غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کوئی ضرب بھی نہ پہنچے گی اور تمہارا غصہ بھی اتر جائے گا۔ بلی بغور میری طرف دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ پھر چھلانگ لگانے کی تیاری کررہی تھی کہ صائمہ نے جلدی سے آگئے بڑھ کر اپنے پاؤں سے اسے پیچھے دھکیلا اسے صائمہ کی حرکت شاید بری لگی تھی وہ یکدم مڑی اور کسی خونخوار درندے کی طرغرا کر صائمہ پر جھپٹی۔ صائمہ چیخ کر میرے پیچھے چھپ گئی۔ اب بلی اسے بڑی قہر آلود نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’نہیں ماما! ہم کیٹی سے کھیلیں گے‘‘ مومنہ نے بلی کے قریب بیٹھ کر اسکی پیٹھ پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ صائمہ ڈر رہی تھی کہ وہ کہیں وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے لیکن بلی نے بچوں کو کچھ نہ کہا بلکہ وہ آرام سے میرے قدموں میں بیٹھ گئی اور اپنی دم یوں میری ٹانگ سے لپیٹ لی جیسے وہ نہ چاہتی ہو میں کہیں جاؤں۔ بچے بالکل اس کے پاس بیٹھے اسکی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور وہ بڑے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی محسوس ہی نہ ہو رہا تاکہ ابھی کچھ دیر پہلے اس نے صائمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہو۔
’’کھیلنے دو انہیں تھوڑی دیر بعد آجائیں گے‘‘ میں اندر کی طرف بڑھا۔ میرے پیر ہلاتے ہی بلی کھڑی ہوگئی اور میرے ساتھ اندر کی طرف بڑھنے لگی صائمہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اندر داخل ہو۔ اس لئے جیسے ہی میں اندر داخل ہوا اس نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔ بلی نے اس سے زیادہ پھرتی دکھائی اور جمپ لگا کر مجھ سے پہلے ہی اندر داخل ہوگئی۔ بچے بھی ہمارے پیچھے آگئے۔ وہ بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔ بچے اس کے پیچھے بھاگ گئے۔ میں فریش ہونے کے لئے باتھ روم میں گھس گیا۔ نہا کر نکلا تو صائمہ حسب معمول چائے بناکر لے آئی تھی۔
ڈرائنگ روم سے بچوں کے چلانے اور کھیلنے کی آوازیں آرہی تھیں۔’’چلو بچوں کے ہاتھ ایک اچھا کھلونا آگیا ہے یہ اس کے ساتھ مصروف رہیں گے۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
”کہیں بچوں کو کاٹ ہی نہ لے“ صائمہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
”ارے نہیں بھئی، بلیاں اتنی خونخوار نہیں ہوتیں“ میں نے اسے تسلی دی۔
”ابھی دیکھا نہیں تھا کیسے مجھے کاٹنے لگی تھی....؟“
میں چائے پی کر بیڈ پر لیٹ گیا صائمہ چائے کے برتن کچن میں رکھ آئی اور میرے پاس بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر بعد بچے بلی سمیت اندر آگئے۔
”ماما! کیٹی بھی ہمارے ساتھ سوئے گی“ مومنہ نے کہا۔
”نہیں بیٹا! چلو اسے باہر نکالو ، بلیاں بیڈ پر نہیں رات کو اپنے گھر میں سوتی ہیں۔ اس بے چاری کے بچے اس کا ویٹ کر رہے ہوں گے۔“ صائمہ نے ان کو سمجھایا۔ بلی نے میاﺅں کی آواز نکالی اور وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئی۔ اسکا یہاں سے جانے کا موڈ بالکل نہیں تھا۔
”کتنی ڈھیٹ بلی ہے“ صائمہ نے اسے گھورا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا بلی نے بالکل انسانوں کے انداز سے صائمہ کو گھورا اور باقاعدہ غرانے لگی۔ شاید اسے صائمہ کی بات سن کر غصہ آگیا تھا۔ وہ صائمہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے غصے اور نفرت کا ملا جلا اظہار ہو رہا تھا۔ میں نے آج تک ایسی بلی نہ دیکھی تھی۔ اس کے چہرے سے باقاعدہ تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔ صائمہ نے آتش دان سے راکھ کریدنے والی سلاخ اٹھائی اور جیسے ہی بلی کے قریب آئی وہ کھڑی ہو کر غرانے لگی۔ صائمہ نے زور سے سلاخ فرش پر ماری تاکہ بلی بھاگ جائے لیکن وہ بجائے ڈرنے کے اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔
”کس قدر ڈھیٹ ہے یہ تو“ صائمہ نے دوبارہ سلاخ کو کارپٹ پر مارا۔ مجھے بلی کی آنکھوں سے قہر ٹپکتا نظر آیا۔ چھٹی حس نے جیسے مجھے خطرے سے آگاہ کیا بجلی کی تیزی سے میں نے صائمہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اپنے دھیان اسے بھگانے پر لگی ہوئی تھی میرے اوپر آن گری۔ اچانک بلی نے صائمہ پر چھلانگ لگا دی تھی اگر میں ایک لمحہ بھی دیر کرتا تو وہ اس کے حسین چہرے کو اپنے نوکیلے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیتی۔
بلی اپنے زور میں بیڈ کی دوسری طرف جا گری اب مجھے بھی غصہ آگیا۔ صائمہ کو ایک طرف کرکے میں نے سلاخ اس کے ہاتھ سے لے لی اور بلی کو ڈرانے کے لیے اسے بلند کیا۔
”فاروق دھیان سے یہ تو بہت خطرناک بلی ہے۔“ صائمہ کی سہمی ہوئی آواز آئی۔ بلی فوراً میری ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹا کہ کہیں یہ میری ٹانگ پر نہ کاٹ لے لیکن اس کے انداز میں پیار تھا وہ بار بار اپنا جسم میری ٹانگوں سے رگڑتی تھی اور منہ سے میاﺅں میاﺅں بھی کر رہی تھی۔
دونوں بچے بھی سہم کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے جس انداز سے اس نے غراتے ہوئے صائمہ پر حملہ کیا تھا اس بات سے بچے ڈر گئے تھے۔ میں نے سلاخ ایک طرف رکھ کر اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور باہر لے گیا۔ جب میں اسے لان میں چھوڑ کر واپس آنے لگا تو اس نے بڑے زور سے میاﺅں کیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ یوں تو سب ہی جانوروں کی آنکھیں اندھیرے میں چمکتی ہیں لیکن وہ چمک اور طرح کی ہوتی ہے۔ اس بلی کی آنکھوں سے جو روشنی نکل رہی تھی وہ بالکل سفید تھی۔ چاندنی جیسی اور عجیب بات یہ تھی کہ روشنی اس کی آنکھوں سے بالکل ایسے خارج ہو رہی تھی جیسے ٹارچ سے نکلتی ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی آنکھوں سے نکلنے والی روشنی کی شعاع میرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھی جیسے دودھیا روشنی والی ٹارچ جلا کر کوئی میرے چہرے پر روشنی ڈال رہا ہو۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ مجھے اردگرد کا کوئی ہوش نہ تھا۔ صائمہ کی آواز نے مجھے بری طرح چونکا دیا۔ وہ میرے پیچھے کھڑی کہہ رہی تھی
”فاروق اندر آئیں کیوں سردی میں کھڑے ہیں؟“ میں جلدی سے اندر آگیا صائمہ اور بچوں کے سونے کے بعد میں بھی دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا۔ آدھی رات کا عمل ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی میں جاگنے کی وجہ سمجھ نہ پایا تھا کہ مجھے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا میں نے چونک کر دیکھا تو صائمہ تھی۔
”صائمہ وہاں کیوں کھڑی ہو؟ ادھر آﺅ میرے پاس“ میں نے اسے آواز دی۔ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا پھر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
”صائمہ....!“ میں نے دوبارہ اسے پکارا۔ وہ اسی طرح کھڑی رہی۔ میں بیڈ سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
”میں نے تم سے کل بھی کہا تھا کہ اس تعویز کو اتار دو جو تمہیں اس بوڑھے نے دیا ہے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی“ اس نے بڑی رکھائی سے کہا۔
”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے صائمہ! تم کس طرح بات کر رہی ہو؟ تمہیں معلوم ہے وہ کس قدر نیک انسان ہیں؟ میں نے کل بھی تمہاری بات کو نظر انداز کر دیا تھا آج پھر تم وہی بات کر رہی ہو۔ مجھے بتاﺅ یہ تعویز تمہیں کیا تکلیف دے رہا ہے؟“ اس بار میں برداشت نہ کر سکا اور شاید زندگی میں پہلی بار بڑے تلخ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
”میں کچھ نہیں جانتی مجھے اس قسم کی چیزوں سے الجھن ہوتی ہے جب تک یہ تمہارے گلے میں ہے میں تمہارے قریب نہیں آﺅں گی۔“ اس نے تلخی سے کہا اور کل رات کی طرح دروازہ دھاڑ سے بند کرکے باہر چلی گئی۔ میں گنگ سا کھڑا دیکھتا رہا لیکن نہ اسے روکا اور نہ پیچھے گیا سوچا صبح اس معاملے میں اس سے تفصیل سے بات کروں گا۔
دوسری صبح آنکھ دیر سے کھلی بچوں کے سکول کا ٹائم ہو رہا تھا تاس لیے میں نے اس معاملے کو شام تک ملتوی کرتے ہوئے باہر کی راہ لی۔ شام کو میں بھول گیا یوں یہ بات ٹل گئی۔ صائمہ بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی اور میں شام کا اخبار دیکھ رہا تھا۔
”ارے یہ منحوس ابھی تک یہیں ہے۔“ صائمہ نے اچانک کہا۔
میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ بلی جسے میں نے کل زبردستی کمرے سے باہر نکالا تھا شیشے سے چہرہ چپکائے بڑے غور سے صائمہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں صائمہ کے لیے اب بھی غصہ تھا۔ جب صائمہ نے اسے منحوس کہا تو وہ بڑے زور سے غرائی کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے آواز تو سنائی نہیں دی لیکن اس کے نوکیلے دانت یہاں سے صاف دکھائی دے رہے
جاری ہے

No comments: