ناول جنت کے پتے قسط 63
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 63
صبح بہارے کو صبیحہ خانم کو چھوڑنے سے قبل اس نے ایک موبائل فون بمع سم خرید کر اسے ایکٹیویٹ کروا دیا
کیامیں تمہارے ساتھ ہاسپٹل نہیں جاسکتی؟ بہارے خفا ہوئی تھی وہ دونوں صبیحہ خانم کے گھر جا رہی تھی
تم نے کہا تھا کہ تم اچھی لڑکی بنی رہوگی اور میری ساری باتیں مانو گی
اوکے میں کیا کہ رہی ہوں بہارے فورا دھیمی پڑ گئی
اچھایہ فون اپنے بیگ میں رکھو میں تمہیں اس پہ کال کر لوں گی اور چاہو تو اس سے عائشے کو بھی کال کر لینا
بہارے نے فون اسکے ہاتھ سے تھاما اسےالٹ پلٹ کر دیکھااور پھر شکریہ کہہ کر اپنے گلابی پرس میں ڈال لیا چھوٹا سا پعس تھا مگر اس میں وہ دنیا جہاں کی چیزیں لیے پھرتی تھی
کنگی مانگو یا قینچی،اسکے پرس میں سے سب نکلتا تھا
بہارے کو صبیحہ خانم کے گھر چھوڑ کر وہ دوبارہ ٹیکسی میں آبیٹھی(جسے وہ انتظار کرنے کا کہ گئی تھی) آج مسز عبدللہ وغیرہ کو بھی آ جانا تھا سو،بہارے کو کمپنی رہے گی
وہ اسپتال کے رستے میں تھی جب فون بجنے لگا وہ جو کھڑکی کے باہر انقرہ کی بھاگتی دیواریں دیکھ رہی تھی چونک کرفون کیطرف متوجہ ہوئی
اماں کالنگ
حیا؟واپسی کا کیا پروگرام ہے چھوٹتے ہی انہوں نے استفسار کیا تھا ایک تو اسکے گھر والوں کو اسکی واپسی کی بہت فکر تھی سکون سے نہیں رہنے دینا انہوں نے
اب ایک ہفتہ لگے گا۔
اب آ بھی جاؤ روحیل کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں! یہ وہی نتاشا نہیں ہے جس کی وجہ سے گھر میں طوفان آگیا تھا؟ اب وہ اتنی امپورٹنٹ کیوں ہو گئی ہے کہ اسے ساری دنیا سے ملوانے کیلئے آپ کو اتنی جلدی ہو رہی ہے؟اسےابھی تک اماں اور ابا کا نتاشا کو قبول کرنا ہضم نہیں ہوا تھا۔
اسی لیے تو چاہتے ہیں جو لوگ باتیں بنا رہے ہیں ان کے منہ اس طرح بند ہو جائیں۔
وہ گہرا سانس لے کر رہ گئی۔ پھوپھو ٹھیک ہی کہتی تھیں۔ وہ بیٹے ہوتے ہیں جن کے بارے میں باتیں بنانے والوں کے منہ بند کرنے کے لیے جتن کیے جاتے ہیں بیٹیوں کو تو اپنی ساری جنگیں خود ہی لڑنی پڑتی ہیں فون بند کر کے اس نے روحیل کو کال ملائی ٹیکسی ابھی بھی سگنل پہ رکی تھی ہیلو جامعہ حفصہ کیسی ہو؟ وہ دوسری جانب بہت ہی خوشگوار موڈ میں بولا تھا میری بات سنو اور کان کھول کر سنو وہ جواب میں اتنے غصے سے بولی کہ ادھیڑ عمر ٹیکسی ڈرائیور نے بے اختیار بیک ویو مرر میں اسے دیکھا کیا ہوا وہ چونکا تمہیں اگر ولیمے کی اتنی جلدی ہو رھی ہے تو کر کو میرے بغیر بلکہ میری طرف سے آج ہی کر لو۔ مگر اماں ابا سے کہو مجھے بار بار واپس بلانا چھوڑ دیں اگر تم صبر سے میرا انتظار نہیں کر سکتے تو نہ کرو اچھا اچھا کیا ہو گیا ہے یار ریلیکس میں تمہارے آنے تک کچھ نہیں کرنے لگا بہت شکریہ بعد میں بات کرتے ہیں وہ اسے پکارتا رہ گیا مگر اس نے کال کاٹ دی وہ اسپتال سے ذرا فاصلے پہ اتری تھی پوری اسٹریٹ عبور کر کے آگے اسپتال تھا وہ ارادتا دکانوں کے شیشے کی دیواروں کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی تا کہ اگر کچھ حریدنا ہو تو یاد آ جائے ابھی وہ اسٹریٹ کے درمیان ہی تھی کہ ایک دم سے رکی وہ ایک گفٹ شاپ تھی جس کے پار اسے کچھ دکھا تھا وہ تیزی سے اس شاپ تک آئی اور گلاس ڈور دھکیل کر اندر داخل ہوئی اس دوران اس نے ایک لمحے کے لئے بھی نگاہ اس سے نہیں ہٹائی مبادا وہ اسے کھو نہ دے اندر دروازے کی دائیں جانب ہی وہ چھت پہ نصب ایک ہک سے لٹکا ھوا تھا ایک بہت خوب صورت ساؤنڈ چائم وہ گردن پوری اٹھائے ساؤنڈ چائم کے اطراف میں گھوم کر اسے دیکھنے لگی وہ ایک فٹ لمبا تھا اوپر ایک سلور گول پلیٹ تھی جس سے لڑیاں نکل رہی تھیں پانچ لڑیاں دراصل لکڑی کی ڈنڈیاں تھی جن کو سلور پالش کیا گیا تھا باقی پانچ لڑیاں کرسٹل کی تھی جسے ایک دھاگے میں پنکھڑیاں پرو دیں ہوں گلاب کی پنکھڑیاں چاندی کی سی چمکتی کرسٹل کی روز پیٹل ہر دو پنکھڑیوں کے بیچ ایق سلور اسٹک لٹک رہی تھی- اس نے ہاتھ اٹھا کر ہولے سے نازک کانچ کی لڑی کو چھوا وہ اسٹک سے ٹکرائی اور لکڑی اور کانچ کی کوئی عجیب سی دھن بج اٹھی موسیقی کی کسی بھی قسم سے مختلف وہ انوکھی سی آواز تھی اس کے لمس سے لڑیاں جو گول گول دائرے میں گھومنے لگی تھی اب آہستہ اہستہ ٹھہرنے کے قریب آ ذھا تھی اور تب ھی اس نے دیکھا۔ اوپر کی سلور پلیٹ پہ انگریزی میں کھدا تھا۔
"Must every house be built upon love? What about loyalty and appreciation?"
(Omer Bin Khataabرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)
اس نے زیر لب ان الفاظ کو پڑھا۔ اسے وہ واقعہ یاد تھا۔ ایک سخص اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے کہ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت ہی ہو تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟
(البیان والتابعین 2/101۔ فرائض الکلام صفحہ 113)
مجھے یہ چاہئے۔ اس نے ایک دم جذبات سے مخمور ہو کر بہت زور سے سیلز گرل کو مخاطب کیا ، اور پھر احساس ہوا کہ شاپ میں اکیلی ہی ہے سو اتنا اوور ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
مجھے یہ پیک کر دیں۔ سیلز گرل مسکرا کر اس کی طرف آرہی تھی اب کے اس نے ذرا دھیمی آواز میں اپنی بات دہرائی۔ (ڈی جے ہوتی تو کہتی ہیں ہم وہی پاکستان کے پینڈو) پورے دس منٹ بعد جب وہ ہسپتال اس کے پرئیویٹ میں داخل ہوئ تو ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ میں ونڈچائم نفاست سے پیک کر کے رکھا تھا اسلام و علیکم اس نے عادتا دروازہ بند کرتے رہوۓ سلام کیا مگر اگلے الفاظ لبوں میں ہی رہ گے جہان کمرے میں نہیں تھا اس کا بستر خالی تھا اس نے سب سے پہلے باتھ روم کے دروازے کو دیکھاجو زرا سا کھلا تھا جہان پرس اور شاپر میز پہ رکھتے ہوۓ اس نے زرا فکرمندی سے پکارا جواب ندارد اس نے باتھ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا پھر دھکیلا بتی بجھی تھی وہ وہاں بھی نہیں تھا کدھر چلا گیا وہ معتجب سی کاوچ پہ آ بیھٹی شاید ڈاکٹرز ضروری چیک اپ یا ٹیسٹ کیلے لے کر گے ہیں یہ سوچ کر زرا تسلی ہوئ کچھ دیر وہ یوں ہی بیٹھی رہی پھر ونڈ چائم پیکنگ سے نکالا اور سنگل دروازے تک آئ جو باہر کھلتا تھا اس کے عین اوپر دیوار پہ ایک پینٹنگ آویزہ تھی حیا نے وہ پینٹنگ اتاری اور میز پر رکھی اور ونڈ چائم کی رنگ اس کیل میں ڈال دی۔ ونڈ چائم کی چین دروازے کے سر پہ ختم ہوتی تھی اور سے سلور پلیٹ اور لڑیاں لٹکتی تھیں۔
اس نے مسکرا کر پیچھے جا کر اپنے تحفے کو دیکھا جسے وہ صرف جہان کیلیے لائی تھی۔ اچھا لگ رہا تھا۔ ارتعاش کے باعث ذرا سا حرکت میں گول گول گھومتا۔ دروازہ چونکہ سلائیڈنگ والا تھا سو اس کے کھلنے پہ ونڈ چائم کا اس سے ٹکرانے کا اندیشہ نہ تھا۔
فون کی گھنٹی بجی تو اس نے فون پرس سے نکالا۔ اسلام آباد پنڈی کہ لینڈ لائن کا کوڈ تھا۔ اللہ اللہ آج تو روحیل مجھ سے قتل ہو جاۓ گا۔ ہیلو اس نے فون کان سے لھایا اور بہت سے سخت جملے تیار کیے ہی تھے کہ جی میڈم ایم ڈی کیسی ہیں آپ اس لہجے کو وہ کیسے بھول سکتی تھی اس نے کھڑے کھڑے بے اختیار بیڈ کی پائنتی کو تھاما کون بول رہا ہے بظاہر لہجے کو پرسکون اور بے پرواہ رکھے اس نے سوال کیا اسے کیسے ملا اس کا ترکی کا نمبر وہ کوئ میجر احمد تو نہ تھاآپ ہر دفعہ مجھے پہچان جاتی ہیں اس دفعہ بھی پہچان لیا ہوگا خیر آپ کی تسلی کیلے ولید بات کر رہا ہوں آپ ابھی تک گرفتار نہیں ہوۓ حیرت ہے وہ نڈھال سی جہان کے بیڈ کی پائینتی پہ بیھٹی بلیک میلر یہ خیال ہی ساری توانائ نچوڑ گیا تھا۔ حیرت نہ کریں شکر کریں جب تک میں باہر ہوں آپ کی عزت ہے جس دن میں نے عزت دینے والا اور چھیننے والا اللہ ہے جب تک وہ میرے ساتھ ہے مجھے آپ کی پرواہ نہیں دبے دبے غصے سے وہ بولی تھی اور آپ کو کیا لگتا ہے آپ کوئ بھی مووی اٹھا کر اس پہ میرا نام لگا کر پیش کر دیں تو کیا ساری دنیا یقین کر لے گی ان فیکٹ آپ جو کرنا چاہتے ہیں کر لیں مجھے کوئ پرواہ نہیں میں آپ کو آخری موقع دے رہا ہوں آپ لوگ میرے خلاف کیس واپس لے لیں اور جو پٹییاں آپ نے میرے خلاف سلیمان انکل کو پڑھائی ہیں نا اور جس میں مجھے اور ہیڈ آرکٹیک کو انوالو کر رہی ہیں اس معاملے کو بھی یہی ختم کر دیں ورنہ میں برا پیش آؤں گا۔ وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہہ رہا تھا۔
(تو ابا نے اس معاملے پہ بھی اس کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا تھا؟)
مثلاً کیا کر لیں گے آپ؟ اس نے پھر سے اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کی سعی کی مگر دل کی لرزش نے زبان کو ذرا سا چھوا تھا۔ الفاظ لڑکھڑا گئے تھے۔
میں کیا نہیں کر سکتا اس ویڈیو کے ساتھ؟ میں جانتا ہوں آپ کتنی خوف زدہ ہیں اس سے سو میں اس کی سی ڈی بنوا کر اسے آپ کے گھر کے سارے مردوں میں تقسیم کر سکتا ہوں۔ وہ شاید آپ کو کچھ بھی نہ کہیں مگر وہ دل سے آپ کی عزت کبھی نہ کر سکیں گے آپ رسوا ہو کر رہ جائیں گی۔
جہنم میں جاؤ۔ اس نے پھٹ پڑنے والے انداز میں کہا اور فون بند کر دیا۔ تبھی کانچ اسٹیل اور لکڑی کے باہم ٹکرانے کی آواز آئی۔ فضا میں ایک مدھر سا ارتعاش ہوا۔ وہ تیزی سے پلٹی۔
جہان بالکونی کے دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کا سر شاید ونڈ چائم کو چھوا تھا۔ ایک نظرحیا پہ ڈال کر وہ مڑا گلاس سائیڈ بند کی اور پھر پلٹ کر بیڈ تک آیا۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں تھے؟ اس نے بیمشکل خود کو سنبھالا۔ کہیں اس نے کچھ سنا تو نہیں؟
ایک کال کرنے گیا تھا سوچا ذرا اوپن ایئر میں کر لوں۔ موبائل بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اس نے ایک نظر پھر حیا کو دیکھا۔ گہری اندر تک اترتی نظر اور پھر خاموشی سے بستر پہ لیٹنے لگا۔
تمہیں یوں نہیں جانا چاہیے تھا سسٹر کو پتا چلا تو برا مانے گی ابھی تم ٹھیک نہیں ہو۔
تم بتاؤ! تم ٹھیک ہو؟ وہ اب تکیے کے سہارے لیٹے لیٹے بہت غور سے حیا کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ بس ایک پل لگا اسے فیصلہ کرنے میں۔ وہ بیمار تھا پھر اس کے دوسرے مسائل بھی تو تھے کیا اب اسے ایک نیا ایشو کھڑا کر کے اس کو مزید بوجھل کرنا چاہیے؟ کیا وہ اتنی خود غرض تھی؟
ہاں! میں ٹھیک ہوں۔ اور یہ تمہارے لیے لائے تھی۔ اس نے زبردستی مسکرانے کی سعی کرتے ہوئے ونڈ چائم کی طرف اشارہ کیا جو جہان سے ٹکرانے کے باعث ابھی تک گول گول گھوم رہا تھا۔
شکریہ! اس نے کرسٹل کے اس خوبصورت تحفے کو دیکھا تک نہیں بس اسی طرح حیا کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ وہ ابھی تک بیڈ کے پائینتی کے ساتھ کھڑی تھی۔ اضطراری انداز میں انگلیاں مروڑتی زرا بے چین اور مضطرب سی۔
کیا گھر سے فون تھا؟ اس نے جیسے بہت سوچ سمجھ کر سوال پوچھا۔ حیا کا دل زور سے دھڑکا۔
(اس نے کمرے کے باہر سے کچھ تو لازمی سنا تھا۔ ایڈیٹ نہ ہو تو۔)
نہیں! ولید لغاری تھا۔ اس نے سچ بول دیا۔
وہ ذرا سا چونکا۔
وہی؟ ابرو اٹھا کر یک لفظی استفسار کیا۔ حیا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
تم نے کہا تھا کہ آفس جایا کرو سو میں نے آفس جا کر اس کی کچھ بدعنوانیاں پکڑیں اور ابا کو بتا دیا۔ وہ اسی پہ مجھے دھمکانے کے لیے بار بار کالز کر رہا ہے۔
لاپروائی سے کہتے ہوئے اس نے ذرا سے شانے اچکائے۔
جہان کے چہرے پہ ناگواری ابھری مگر جیسے ضبط کر گیا۔
ابھی یہی کہہ رہا تھا؟
ہاں۔ مگر میں اس کی زیادہ دیر نہیں سنتی۔ دو چار سنا کر فون رکھ دیتی ہوں۔ ابھی بھی پی ٹی سی ایل سے کیا تھا تو میں نے اٹھا لیا ورنہ موبائل کے غیر شناسا نمبر تو اب میں اٹھاتی ہی نہیں ہوں۔
کیا اس نے تمہیں کبھی موبائل سے فون نہیں کیا؟
اب کی بار وہ چونکی۔ کچھ تھا جہان کی آواز میں کچھ ایسا جسے وہ کوئی نام نہ دے سکی۔
******
اگر تمہیں مجھ پہ شک ہے تو میرا فون چیک کر لو۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے، میں اس لیے کی رہا ہوں کیونکہ میں نے شاید اس کا موبائل نمبر دیکھا تھا تمہارے موبائل میں لیکن اگر مجھے تم پہ شک ہوتا تو اسی وقت کہتا۔
اس کا موبائل نمبر؟ کدھر؟ اس نے حیرت سے دہراتے ہوئے اپنا موبائل اس کی جانب بڑھایا۔ جہان نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فون تھاما چند ایک بٹن دبائے اور پھر اسکرین اس کے سامنے کی۔ وہاں کال لاگ کھلا پڑا تھا۔ پچھلے ہفتے کی کوئی تاریح تھی۔
کیا؟ وہ نا سمجھی سے اسکرین کو دیکھنے لگی۔ وہاں کوئی غیر شناسا سا نمبر تھا جس پہ کال ٹائم آدھے گھنٹے سے ذرا اوپر کا تھا۔
یہ کس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تعجب سے بڑبڑاتی ایک دم چونکی۔ یہ تو ارم نے کال کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس کا نمبر ہے؟ اس نے فون ہاتھ میں لے کر قریب سے لاگ کو پڑھا۔
جہان بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
حیا! یہ ولید کا نمبر ہے!
لمحے بھر کو تو حیا کا تنفس بالکل تھم سا گیا۔ وہ سانس روکے حق دق سی جہان کو دیکھنے لگی- تو وہ ولید تھا جس کے ساتھ ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ارم اور ولید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تمہیں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا یہ ولید کا نمبر ہے؟
جہان سے ایسے سوال پوچھنا بے کار تھا پھر بھی وہ پوچھ بیٹھی۔ اس نے ذرا سے شانے اچکائے۔
جب سلیمان ماموں اسپتال میں تھے تو ان کے فون پہ اس کی کال آئی تھی تب میں نے اسکرین پر آیا اس کا نام اور نمبر دونوں دیکھے تھے۔ مجھے نمبرز کبھی نہیں بھولتے۔ اب تم بتاؤ ارم کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟ ایک دفعہ پہلے بھی وہ تمہارا فون لے کر گئی تھی مجھے یاد ہے۔
حیا کا سر چکرا رہا تھا۔ وہ نیم جان قدموں سے چلتی کاؤچ پہ آ بیٹھی۔ ارم اس لئے اپنے گھر کا کوئی فون استعمال نہیں کرتی تھی اس لئے نہیں کہ وہ پکڑی نہ جائے بلکہ اس لئے کہ وہ ولید کے ساتھ پکڑی نہ جائے۔ بہت کچھ تھا جو اس کی سمجھ میں اب آ رہا تھا۔
ارم کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر بولتی گئی۔ جو بھی اسے معلوم تھا بتاتی گئی۔ جہان خاموشی سے سنتا رہا۔ وہ چپ ہوئی تو بس اتنا بولا۔
مجھے ارم اور ولید میں کوئی دلچسپی نہیں ہے مجھے تو بس یہ بات کھٹک رہی ہے کہ اس نے بار بار تمہارا فون کیوں استعمال کیا؟
کیا تم مجھ پہ شک کر رہے ہو،
نہیں بھئی۔ وہ جیسے اکتایا۔ میں ارم کی بات کر رہا ہوں بجائے کسی ملازم یا کسی دوست کا فون استعمال کرنے کے اس نے تمہارا ہی کیوں کیا؟
پتا نہیں مگر میں ارم سے بات ضرور کروں گی۔ وہ ٹیک لگا کر بالکل خاموش سی ہو کر بیٹھ گئی جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ اس کی نظریں ونڈ چائم کی لڑیوں پہ مرکوز تھیں مگر ذہن کہیں اور بھٹکا تھا۔ وہ ویڈیو کس نے دی ولید کو؟ کس نے بتایا ولید کو کہ حیا اس ویڈیو سے اس حد تک خوف ذدہ ہو سکتی ہے کہ اس کو دبانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے؟ حیا نے ہر جگہ سے ویڈیو ہٹوا دی تھی مگر دو جگہیں ایسی تھیں جو رہ گئی تھیں۔ ارم اور حیا کے لیپ ٹاپس۔ جس دن ویڈیو نیٹ پہ ڈالی گئی تھی اسی دن ان دونوں نے اسے اپنے اپنے کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا۔ ارم نے ہی ولید کو دی ہو گی مگر اس طرح تو ارم کی اپنی بدنامی بھی ہو گی پھر؟ پتا نہیں۔
جہان بیڈ پہ تکیے کے سہارے لیٹا گردن اس کی طرف موڑے بغور اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔ وہ محسوس کیے بغیر گلاس ڈور کے پار دیکھتی کہیں اور گم تھی۔
***
وہ بہت تیزی سے صحت یاب ہو رہا تھا۔ ٹھیک سے چل پھر بھی سکتا تھا۔ اس کا اپنا خیال تھا کہ وہ بغیر رکے وہ دو میل تک بھاگ سکتا ہے۔ مگر ایسا کرنے کی اسے اجازت نہ تھی۔ البتہ وہ بستر پہ لیٹنے سے سخت بیزار ہوتا تھا۔ اس صبح وہ اسے ہسپتال میں واک کرنے لے گئی۔ وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتا رہا۔ سر پہ وہی سفید ٹوپی اور نیچے اسپتال کا ہلکا نیلا ٹراوزر اور شرٹ۔ عام دنوں کی نسبت وہ زرا آہستہ چل رہا تھا مگر اب تو اسے خود بھی لگنے لگا تھا کہ جہان بالکل ٹھیک ہے۔
اس روز ہم فون نمبرز کی بات کر رہے تھے۔ تمہیں پتا ہے مجھے نمبرز بھول جاتے ہیں۔ بلکہ یاد ہی نہیں رکھ سکتی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ واک کر رہے تھے جب اس نے کہا۔ جہان نے جواب نہیں دیا۔ بس خاموشی سے قدم اٹھاتا رہا۔
صبح کی ٹھنڈی ہوا گھاس کے تنکوں کے اوپر بہہ رہی تھی۔ پرندوں کے مدھم نغمے اور درختوں کے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ۔ سب کچھ بہت پرسکون تھا۔ اتنا پر سکون کہ وہ اپنے سارے مسئلے اور پریشانیاں بھلا کر اس ماحول کا حصہ بننا چاہتی تھی۔
میں نے اس رات تمہیں اسی لیے کال نہیں کی تھی کیونکہ میرے دوسرے فون میں تمہارا نمبر نہیں تھا۔ اور زبانی نمبر یاد نہیں تھا۔ میرے پاس عثمان شبیر کا کارڈ تھا سو، انہیں فون کیا۔ ساتھ ہی اسے سفیر والی بات کا خیال آیا مگر وہ ابھی اس پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی سو اسے بعد کے لئے اٹھا رکھا۔
اچھا! جہان نے سر اثبات میں زرا سا ہلایا۔ جیسے اس سارے معاملے سے اسے کوئی دلچسپی نہ ہو۔
اور میں ولید کیساتھ اس لیے بیٹھی تھی کیونکہ میں اسے رشتہ بھیجنے سے منع کرنا چاہتی تھی، مگر وہ میری غلطی تھی۔
اب وہ جنگلے کے ساتھ واک کر رہے تھے۔
جنگلے کے پار سڑک اور درختوں کی قطار تھی۔ جہان جیسے اس کی بات سن ہی نہیں رہا تھا۔
مگر اب میں نے زندگی سے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہمیں پسند سب کو کرنا چاہیئے لیکن اعتبار بہت کم لوگوں پہ کرنا چاہیئے۔ کیا دیکھ رہے ہو؟ اپنی رو میں بولتے اسے احساس ہوا کہ جہان رک کر زرا سا رخ موڑے جنگلے کے پار سڑک پہ کچھ دیکھ رہا تھا۔ حیا نے اس کے نگاہوں کا تعاقب کیا۔
وہاں درختوں کے ساتھ پولیس ایک جگہ کو فیتہ لگا کر سیل کر رہی تھی۔ لوگوں کا زرا سا رش فیتے کے اطراف میں جمع ہو رہا تھا اور وہ گردنیں اونچی کر کے ممنوعہ قطع اراضی کو دیکھ رہے تھے۔ حیا نے بھی زرا آگے ہو کر دیکھا۔ وہاں زمین پہ ایک شخص چت گرا پڑا تھا۔ ہاتھ میں پستول، کنپٹی پہ گولی کا نشان اور ڈھیر سارا خون۔
اللہ اللہ! اپنے ہاتھ کو بے اختیار لبوں پہ رکھا۔
اپنی جان خود لے لینا، مایوسی کی انتہا۔ کیوں کرتے ہیں کچھ لوگ ایسا؟
نہیں! جہان نے اسی منظر کو دیکھتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی۔ میرا نہیں خیال کہ یہ خودکشی ہے۔ کسی نے اسے قتل کر کے لاش کے ہاتھ میں پستول دے دیا ہے۔
اللہ اللہ یہ شکی مزاج آدمی بھی نا۔
اور تمہیں کیسے پتا کہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے؟
وہ پوری اس کی طرف گھومی۔ جہان نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
یہی بات پستول اس کے ہاتھ میں ہے۔
ہاں تو یہی بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ خودکشی ہو سکتی ہے۔
ایک تو ایسی عقل مند بیوی اللہ ہر ایک کو دے۔
جہان نے بہت افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔ حیا کی آنکھوں میں ناراضی ابھری۔
مطلب؟
نیوٹن کا تھرڈ لاء آف موشن تو پڑھ رکھا ہو گا تم نے؟
اب مجھ کم عقل کو کیا پتا کہ نیوٹن کون تھا؟ وہ اسی خفگی سے بولی۔
ہاں! بالکل، تمہیں تو اتنا بھی نہیں پتا ہو گا۔ بہرحال وہ جو بھی تھا اس نے ایک قانون دیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد آ گیا، نیوٹن وہی تھا نا جس کا سیبوں کا کاروبار تھا؟ اب کے اس نے ذرا معصومیت سے پوچھا۔ جہان نے ایک بے ساختہ مسکراہٹ لبوں پہ روکی۔
ہاں بالکل وہی تھا۔ بہرحال اس کا تیسرا قانون کہتا ہے کہ
ہر ایکشن کا ایک برابر اور مخالف ری ایکشن ہوتا ہے جب انسان گولی چلاتا ہے تو گولی آگے اور گن پیھچے کو جھٹکا کھاتی ہے۔ خودکشی کرنے والے نے چونکہ خود کو ہرٹ کیا ہوتا ہے اس لیے بمشکل بیس فیصد خودکشیوں میں پستول ڈیڈ باڈی کے ہاتھ میں رہتا ہے ورنہ عموما وہ اس انسان سے تیس سینٹی میٹر کے فاصلے پہ جا گرتا ہے۔
اچھا مگر ہو سکتا ہے کہ یہ ان بیس فیصد کیسیز میں سے ایک ہو؟ وہ بھی ہار ماننا نہیں چاہ رہی تھی۔ مگر وہ نہیں سن رہا تھا۔
دوسری بات؟ یہ جو اس کا زخم کا نشان ہے یہ ذرا فاصلے سے آیا ہوا لگتا ہے خودکشی میں انسان کنپٹی پہ پستول رکھ کر چلاتا ہے اور اس کا نشان بالکل مختلف ہوتا ہے۔
پولیس آفیسرز اب ڈیڈ باڈی کی تصاویر بنا رہے تھے ایک آفیسر جائے وقوعہ کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔
تیسری بات اگر گولی اس نے خود چلائی ہے تو ہاتھ پہ گن پاؤڈر ضرور گرا ہو گا اور اگر میں ذرا قریب سے دیکھ پاتا تو تمہیں مزید ثبوت لا کر دیتا مگر تم تب بھی نا مانتیں۔
تم بھی تو نہیں مانتے۔ اس نے شانے ذرا سے اچکائے اور واپس مڑ گئی۔ اس کا موڈ آف ہو چکا تھا جہان سر جھٹک کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔
اس نے اتنا کچھ کیا مگر وہ اب بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ اس کی بیوی عقل مند ہے۔ چلو! کبھی کسی دن وہ اس پہ یہ ضرور ثابت کرے گی کہ وہ جہان سے زیادہ اسمارٹ ہے۔ کبھی نہ کبھی اسے موقع ضرور ملے گا۔
***
آج وہ شام میں بہارے سے مل کر واپس آ گئی تھی۔ جہان کو ذرا سا بخار تھا۔ سو وہ اس کے پاس رکنا چاہتی تھی۔ جہان نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ البتہ بہارے نے زرا سا منہ بنایا تھا۔
تم مجھے بالکل بھول گئی ہو۔
میں اپنی چھوٹی بلی کو کیسے بھول سکتی ہوں۔ جاتے وقت اس کے دونوں گال چومتے ہوئے حیا نے کہا تھا۔
ہم آشیانہ واپس کب جائیں گے؟
کیوں تمہیں عروہ کے ساتھ مزہ نہیں آ رہا؟ اس نے مسز عبداللہ کی نواسی کا نام لیا جو اپنی ماں اور نانی کے ہمراہ صبیحہ نور کے گھر آج کل آئی ہوئی تھی۔
اونہوں! بہارے نے ناک سکیڑی۔ وہ اتنی چھوٹی اور بےوقوف ہے مجھے اس کے ساتھ ذرا بھی مزہ نہیں آتا۔
ہاں! تم تو بہت بڑی ہو جیسے! اس نے ہنس کر بہارے کے سر پہ چپت لگائی اور پھر اپنی چیزیں سمیٹنے لگی تھی۔
رات تک جہان کا بخار قدرے اتر گیا تھا اس نے ایک دو دفعہ کہا بھی کہ وہ چلی جائے مگر اب وہ ہوٹل جا کر کیا کرتی؟ خوامخواہ فکر لگی رہتی سو وہیں کاؤچ پہ بیٹھی رہی۔
گلاس ڈور کے آگے سے پردہ ہٹا ہوا تھا۔ باہر سے آتی چاندنی سے دروازے کے اوپر لٹکتا ونڈ چائم چمک رہا تھا۔ یوں جیسے قطرہ قطرہ چاندنی پگھل کر اس کی لڑیوں سے ٹپک رہی ہو۔
جہان کافی دیر سے دوا کے زیر اثر پرسکون سو رہا تھا۔
وہ وہیں کاؤچ کے سرے پہ ٹکی اس کو دیکھ رہی تھی۔ عبایا بھی ساتھ ہی رکھا تھا جامنی قمیض کے اوپر اس نے شاکنک پنک دوپٹا لے رکھا تھا۔ جہان کا موبائل اس کے سرہانے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے اسے بار بار ارم اور ولید کا خیال آ رہا تھا۔ جہان نے کہا تھا کہ اس نے پھپھو کو حیا کے نمبر سے کال کرنے کے لیے اس کا فون اٹھایا تھا مگر پھر کال ملا کر بند کر دیا۔ شاید اس نے ویسے ہی اس کا فون چیک کیا ہو۔ شاید اسے ایسے کاموں کی عادت تھی۔ اور اگر وہ اس کا فون چیک کر سکتا تھا تو وہ بھی کر سکتی تھی۔ اسے متبادل پاس ورڈ بھی معلوم تھا۔ جاسوس کی جاسوسی بھی دلچسپ کام تھا۔ اور پھر اسے جہان پہ کچھ ثابت بھی تو کرنا تھا۔
اس نے بنا کسی آہٹ کے جھک کر پیر جوتوں سے جدا کیے پھر ننگے پاؤں اٹھی بغیر چاپ کے دبے قدموں اس کے سرہانے آ کھڑی ہوئی۔ اس کا فون پانی کے جگ اور گلاس کے ساتھ ہی رکھا تھا۔ جہان سو رہا تھا۔ آنکھیں بند ہولے ہولے سانس لیتا۔
حیا نے ہاتھ فون کی طرف بڑھایا۔ ابھی وہ موبائل سے بالشت بھر دور ہی تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے اس نے اس کی کلائی پکڑی۔
امی! بوکھلا کر کراہتی وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
اس کی کلائی پکڑے جہان ذرا سا کہنی کے بل اٹھا اور نیند بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔
کیا کر رہی تھیں؟ وہ جیسے حیران ہوا تھا۔ اندھیرے میں بھی حیا کے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔
تم تو سو رہے تھے! وہ اتنی شاکڈ تھی کہ پتہ نہیں کیا بول گئی۔
تم کر کیا رہی تھیں؟
جاری ھے

No comments: