رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 11 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode
Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
مصنف
محمد طارق خان
رادھا
قسط۔ 11
مصنف طارق خان
میں نے غور سے دیکھا اس کے دانت بھی عام بلیوں سے زیادہ لمبے اور نوکدار تھے۔ اس نے بڑے زور سے اپنا پنجہ شیشے پر مارا۔ مجھے ہنسی آگئی۔
ضرور پڑھیں:
’’تم سے سخت ناراض ہے۔‘‘
’’کیوں میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے جو یہ مجھ سے ناراض ہے۔‘‘ صائمہ نے خفگی سے کہا۔
’’یہ تو تم دونوں ہی بہتر جانتی ہو کیونکہ تم بھی فی میل ہو اور یہ بھی‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔ میری بات پر وہ مسکرا دی۔ دوسرے دن میں بچوں کو سکول چھوڑ کر بینک جا رہا تھا چانک پچھلی سیٹ سے کھڑپھڑکی آواز سنائی دی میں نے بیک مرر میں دیکھا تو دنگ رہ گیا۔
رات والی بلی بڑے مزے سے پچھلی سیٹ پر کھڑی تھی جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی وہ کود کر اگلی سیٹ پر آئی اور میرے قدموں میں بیٹھ گئی۔ مجھے کچھ الجھن تو محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے کچھ نہ کہا اور گاڑی چلاتا رہا۔ راستے میں ایک سڑک ایسی بھی آیا کرتی جس کے کنارے آبادی کی بجائے کھیت تھے۔ میں اسی سڑک پر جا رہا تھا کہ اچانک ایک موڑ مڑاتو بری طرح چونک گیا۔
سڑک کے بیچوں بیچ وہی منحوس سادھو کھڑا تھا۔۔۔سادھو امر کمار۔۔۔میں نے بریک پر پاؤں رکھا گاڑی بڑی مشکل سے اس سے چند گز کے فاصلے پر رک گئی۔ اگر میں بروقت بریک نہ لگاتا تو شاید وہ گاڑی کے نیچے آکر کچلا جاتا۔ اس کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ تھی۔ لمبی سی مالا کے دانوں پر انگلیاں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں۔ مجھے شدید غصہ آیا ابھی میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ بلی اچانک اچھل کر میرے پاؤں سے نکلی اور ساتھ والی سیٹ پر کھڑی ہوگئی۔ اس کے جسم کے سارے بال کھڑے ہوگئے تھے۔ وہ یک ٹک سادھو کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظر جیسے ہی بلی پر پڑی وہ بری طرح چونک اٹھا۔ مالا کے دانوں پر حرکت کرتی اس کی انگلیاں رک گئیں۔ ساتھ ہی بھدے ہونٹ بھی ساکت ہوگئے۔ وہ تیر کی طرح گاڑی کی طرف آیا اور دوسری طرف آکر شیشے کے ساتھ یوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا جیسے ہندو لوگ عبادت کے وقت بتوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
’’دھن بھاگ(خوش قسمتی) ہمرے دیوی جی! آج تمارے درشن ہوگئے‘‘ اس کے ہونٹوں سے الفاظ نکلے۔ گاڑی کے شیشے بند ہونے کے باوجود اس کی آواز مجھے صاف سنائی دی وہ بلی سے مخاطب تھا۔ بلی ہلکے سے غرائی اس کے بڑے بڑے نوکیلے دانت خوفناک لگنے لگے۔ یکدم وہ خونخوار دکھائی دینے لگی۔ سادھو نے انگلی سے اشارہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر گاڑی کا شیشہ یوں نیچے کھسک گیا جیسے الیکٹراک سسٹم والی گاڑی کا شیشہ بٹن دبانے پر نیچے ہو جاتا ہے۔ یہ سادھو کا دوسرا کرشمہ تھا جو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے جب میں نے غصے میں آکر پتھر کی وزنی ایش ٹرے اس کے سر پر مارنے کے لیے پھینکی تھی تو وہ اس کے گنجے سر سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئی تھی۔ آج اس نے صرف انگلی کے ایک اشارے سے شیشے کو نیچے کر لیا تھا۔ سادھو اور بلی ہر طرف سے بے نیاز ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ سادھو کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے اسے اس کی من پسند چیز دیکھنے کو مل گئی ہو۔ اس کے برعکس بلی کی آنکھوں سے قہر برس رہا تھا۔ اس قسم کی بلی میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی جو بالکل انسانوں کی طرح اپنے جذبات کے اظہار پرقادر تھی۔
گاڑی سڑک کے بیچ میں رکی ہوئی تھی۔ اس سڑک پر ٹریفک کا رش نسبتاً کم ہوتا تھا لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ یہ بالکل ویران رہتی ہو۔ ہمیں اس حالت میں رکے ہوئے تقریبا پانچ منٹ ہوگئے تھے لیکن اس طرف کوئی گاڑی تو کیا پیدل انسان بھی نہ آیا تھا۔ہر طرف سکوت مرگ طاری تھا۔ اچانک بلی غرائی اور اس نے اپنا منہ شیشے سے باہر نکال کر سادھو کے چہرے کے قریب کر لیا۔ سادھو نے اس کی غراہٹ کوبغور سنا اور کہنے لگا۔
بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے دیوی جی! پھر تمہیں کالی ماتا کے اس سیوک کی داسی بننا ہی پڑے گا۔ جانے کب سے میں تیری راہ تک رہا ہوں؟ ورشوں میں نے تجھے پراپت(حاصل) کرنے کے کارن جاپ کیے ہیں۔ کتنے سادھو، سنت تیرے کارن جوگ لئے بیٹھے ہیں؟ پرنتو۔۔۔کالی ماتا نے مجھے وچن دیا ہے تو کیول سادھو امر کمار کی ہے۔ دیوی! کیوں اپنے اس داس کو اتنا تڑپا رہی ہے تیرا میرا تو جنم جنم سنگ رہنا بھاگیہ میں لکھا ہے۔‘‘ بلی ایک بار پھر غرائی۔
’’چلا جاؤں؟ تیرے ایک درشن کے کارن نہ جانے کتنی بار میں نے اس مسلے سے اپنا اپمان (بے عزتی) کرایا ہے۔ تھوڑا سمے رہ گیا ہے پھر تو میرے چرنوں میں ہوگی اور پورے سنسار میں سادھو امر کمار جیسا بلوان کوئی نہ ہوگا۔ ماتا نے مجھے وچن دیا ہے کہ وہ جلد ہی تجھے میری جھولی میں ڈال دے گی‘‘ سادھو بلی کی غراہٹ کے جواب میں بولا۔ وہ بلی سے یوں مخاطب تھا جیسے کسی انسان سے ہم کلام ہو۔ میں ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔ اب بلی غرانے لگی تھ۔ سادھو غور سے سن رہا تھا اس کے ہونٹوں پر بڑی ہی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’دیوی جی ! اس مسلے میں کچھ نہیں رکھا۔ تیری قدر تو ہم جیسے سادھو جانت ہیں۔ اس مورکھ کو کیا کھبر کہ توکیا ہے؟‘‘
مجھے سادھو کی بات سن کر بہت غصہ آیا اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا اچانک بلی نے سادھو پر حملہ کر دیا۔ شاید سادھو کا مجھے احمق کہنا اس کی ناراضگی کس سبب بنا تھا۔ وہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکی اور اس سے جا ٹکرائی۔ ہٹا کٹا سادھو اچھل کر کئی فٹ پیچھے جا گرا۔ بلی نے زمین پر لوٹ لگائی۔ ایک بار پھر وہ اس پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔سادھو کی آنکھوں میں جیسے آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ وہ پھرتی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا سر اور جسم مٹی سے اٹ گئے تھے۔ مالا اسکے ہاتھ سے نکل نہ جانے کہاں جا گری۔ اس کی حالت کافی مضحکہ خیز ہو چکی تھی۔ جب وہ اٹھا تو غصے سے کانپ رہا تھا۔ اچانک اس نے اپنے ہاتھ کا رخ بلی کی طرف کر دیا جس میں سے آگ کا شعلہ نکل کر بلی کی طرف بڑھا۔ بلی نے چھلانگ لگائی اور سادھو کا وار خالی جانے دیا پھر ایک لمبی چھلانگ لگا کر کھیتوں میں اگی فصل میں غائب ہوگئی۔ سادھو بھی بجلی کی سی تیزی سے اس کے پیچھے لپکا۔ آناً فاناً دونوں میری آنکوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں حیران و ششدر سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ان کے غائب ہونے کے بعد مجھے ہوش آیا میں نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا۔
یہ سب کیا تھا؟ سادھو ایک معمولی سی بلی کو دیوی کیوں کہہ رہا تھا؟ اول تو اس کا بلی سے مخاطب ہونا ہی کچھ کم عجیب بات نہ تھی کجا کہ وہ اس سے باقاعدہ گفتگو کر رہا تھا۔ بلی کا طرز عمل بھی کچھ کم حیران کن نہ تھا۔
میں سارا راستہ یہی کچھ سوچتا رہا بینک پہنچنے تک میں نے اس سارے گھورک دھندے کا یہ حل نکالا کہ سادھو اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے بار بار میرے سامنے آتا ہے اور یہ سب جو میرے سامنے ہوا مجھے مرعوب کرنے کے لئے تھا۔
’’آگ کا وہ شعلہ جو اس کے ہاتھ نکلا تھا وہ کیا تھا؟‘‘میرے اندر سے سوال ابھرا۔ ’’اس قسم کے شعبدے یہ لوگ جاتنے ہیں‘‘ میں نے خود کو مطمئن کیا۔ میں نے بینک کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور اندر داخل ہوگیا۔ سٹاف کے سلام کا جواب دیتے ہوئے میں اپنے کیبن میں آگیا۔ تھوڑی دیر بعد چپراسی چائے لے کر آیا۔ چائے پی کرمیں اپنے کام میں ایسا منہک ہوا کہ صبح والا واقعہ میرے دماغ بالکل نکل گیا۔دو بجے میں نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل آیا۔ جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ بلی بڑے مزے سے پچھلی سیٹ پر محو خواب تھی۔ ’’یہ بند گاڑی میں کہاں سے آگئی۔‘‘ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور میاؤں کی آواز نکالی۔ میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر نکال دیا۔ اس نے فریادی نظروں سے میری طرف دیکھا نہ جانے مجھے کیوں اس پر ترس آگیا۔ میں نے دروازہ کھول کر پچکارا تو وہ چھلانگ لگا کر گاڑی میں آگئی۔ میں نے دروازہ بند کیا وہ آرام سے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
میں غیر ارادی طور پر اسی راستے سے واپس آیا جس پر آج صبح میرا سادھو سے ٹکراؤ ہوا تھا۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں بلی بڑے اطمینان سے ساتھ والی سیٹ پر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ہر طرح سے ایک عام بلی دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک گاڑی بری طرح لہرائی اور خود بخود رک گئی۔ سڑک پر ٹائروں کے رگڑنے کی آواز آئی۔ میں نے گھبرا کر سامنے دیکھا تو سڑک پر ملنگ کھڑا تھا۔ گاڑی اس سے بمشکل چند انچ کے فاصلے پر خود بخود رک گئی تھی۔ وہ فقیروں جیسا لمبا جھولا پہنے سڑک کے بیچوں بیچ لمبی سی لاتھی زمین سے ٹکائے کھڑا تھا۔ آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے سنجیدگی طاری تھی۔ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے میری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی بلی کو دیکھ رہا تھا جو ہڑ بڑا کر سیٹ پر کھڑی ہو گئی تھی۔ مجھے اس کی آنکھوں سے خوف نظر آیا۔ اس نے ایک نظر ملنگ کو دیکھا پھر باہر کی طرف چھلانگ لگا دی۔ ایک چھنا کے سے بائیں سائیڈ کی کھڑی کا شیشہ ٹوٹ کا باہر جا گرا ۔ بلی نے ایک لمبی زقند بھری اور کھیتوں میں جا کر غائب ہوگئی۔
’’ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا بھاگ گئی ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ڈر گئی‘‘ ملنگ قہقہے لگا رہا تھا۔
’’دیکھا تو نے ۔۔۔کیسے مجھ سے ڈر کر بھاگ گئی ہے؟‘‘ وہ یک بیک سنجیدہ ہو کر مجھ سے مخاطب ہوا میں جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکا۔
’’بابا جی! آپ ایک جھلک دکھا کر کہاں غائب ہو جاتے ہیں میں کئی دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔ آئیں گاڑی میں بیٹھیں آپ جہاں کہیں گے میں آپ کو پہنچا دوں گا پلیز آئیں‘‘ میں نے ملنگ کے سامنے پہنچ کر عاجزی سے کہا۔ کئی سوالات تھے میرے ذہن میں اور مجھے یقین تھا ملنگ ان سوالوں کا جواب دے سکتا ہے۔
’’سادھو کے چکر میں مت پھنسنا۔۔۔بہت مکار ہے وہ، اس سے بچ کر رہنا۔ اور سن ۔۔۔بزرگوں کے دیے ہوئے تحفے کی قدر کرنا سیکھ۔۔۔نفس پر قابو رکھ۔ وہ تیری ہر رات خریدنا چاہتی ہے۔۔۔اس سے بچ‘‘ جیسے اس نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔
’’بابا جی! آپ جیسے کہیں گے میں کروں گا براہ کرم آپ مجھے کچھ وقت دیں مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنا ہیں‘‘ میں نے پھر التجا کی۔
’’اس نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پھر قہقہے لگانے شروع کر دیے’’ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ سب کتے اس کے پیچھےپڑے ہیں لیکن وہ تجھ پر ریجھ گئی ہے۔ آگ سے مت کھیل۔۔۔سن رہا ہے نا ۔۔۔آگ تیرے گھر کو جلا دے گی۔‘‘
ضرور پڑھیں: سیشن کورٹ کاشہباز شریف کے بینک ڈیفالٹر چچازاد بھائیوں کیخلاف رہن شدہ چینی چوری کرنے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
کبھی وہ قہقہے لگانے لگتا کبھی بے معنی باتیں کرتا رہا۔
’’پیچھے مڑ کر دیکھ‘‘ اس بار وہ سنجیدگی سے بولا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا سڑک سنسان پڑی تھی۔
’’پیچھے تو کچھ۔۔۔‘‘ میں نے مڑ کر کہنا شروع کیا لیکن دیکھا تو ملنگ غائب تھا۔ اس نے جان بوجھ کر مجھے پیچھے دیکھنے کو کہا تھا۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا لیکن وہ کہیں بھی نہ تھا۔ میں نے کھڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
(جاری ہے)

No comments: