حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 28 Haya By Fakhira Waheed Episode No
حیا
از
فاخرہ وحید
حیا از فاخرہ وحید
28 قسط نمبر
Haya By Fakhira Waheed
Episode No 28
حیا
از فاخرہ وحید
قسط 28
وہ اپنے کمرے سے ملحق اسٹڈی روم میں بیٹھا علی کی بھیجی فائل, جس میں موجودہ کیس کی تفصیلات تھیں ان کو پڑھ رہا تھا, جب اس کا فون بجا. نظریں فائل پر جمائے اس نے ہاتھ بڑھایا اور پھر ایک نظر اسکرین کو دیکھا.
ثقلین کالنگ.
" اسلام علیکم ثقلین صاحب. " وہ اب ایک بازو میز پر پھیلائے دوسرے سے فون سن رہا تھا. دوسری طرف سے حال احوال پوچھا گیا تو وہ مسکرا کر بولا.
" میں بہتر ہوں اور جانتا ہوں آپ نے فون صرف میری خیریت پوچھنے کو نہیں کیا تو مدعے پر آئیں. " مسکراہٹ بر قرار رہی.
" ٹھیک ہے میں چکر لگاتا ہوں ایک دو دن میں. "
" اوکے. اسلام علیکم" فون کان سے ہٹا کر سامنے کیا, استہزائیہ سر ہلایا اور ایک طرف میز پر ڈال دیا.
" سمجھتے ہیں پولیس ان کی ملازم ہے. " دوبارہ فائل کھولتے وہ بڑ بڑایا.
اب حمزہ کے کمرے میں دیکھو تو حیا بہت سے کاغذ سامنے پھیلائے بیڈ پر بیٹھی تھی. ہر کاغذ پر ایک الگ کہانی, الگ پوائنٹس نوٹ کیے گئے تھے. وہ شیری کو اعتماد میں لے رہی تھی. وہ پین دانتوں مین دبائے مختلف نکات پر غور کر رہی تھی جب کھانے کی ہلکی مہک اسے محسوس ہوئی, حمزہ نے ابھی لنچ کیا تھا اور شیری ویسے ہی کچھ نہیں کھاتا تھا. وہ متجسس سی بال باندھتے باہر نکلی سیڑھیاں اتر کر کچن کے دروازے تک پہنچی تو خوشگوار حیرت سے شیری کو دیکھا وہ کھانا گرم کر چکا تھا اب پلیٹ میں نکال رہا تھا.
" تم کھانا کھانے لگے ہو؟" وہ واقعی حیران ہوئی تھی.
" جی. " خاموش سا وہ سر جھکائے دو پلیٹیں ڈش میں رکھے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا. حیا کو چند سیکنڈ لگے اس شاک سے نکلنے میں. ابھی تو اس نے کاؤنسلنگ شروع بھی نہیں کی تھی. اور شیری میں بدلاؤ آنے لگا تھا. سر جھٹکتی, مسکراتی وہ دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی ابھی وہ آخری اسٹیپ پر تھی جب حمزہ کی اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور وہ مصروف سا موبائل پر جھکا باہر آیا. یہ خوشگوار نیوز حمزہ کو دینا ضروری تھی تو وہ رکی.
" پتا ہے, شیری کھانا لے کر کمرے میں گیا ہے, وہ بدل رہا ہے. " حمزہ نے سر اٹھایا. " گڈ. " کہتے اس نے اپنے کمرے کے دروازے کو اندر دھکیلا اور پھر برق رفتار سے واپس مڑا.
" کیا کہا؟ شیری کھانا لے کر کمرے میں گیا ہے؟"
" ہاں اور... " وہ چہکتی آگے بھی بتانا چاہتی تھی مگر حمزہ اس کی بات سنے بغیر نیچے کی طرف بھاگا. حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ خوش ہوا ہے یا پریشان.
" شیری دروازہ کھولو. " آج پھر وہ اس کا دروازہ بجا رہا تھا. اندر سے کوئی جواب نہیں آیا. " شیری اگر تم نے کچھ لیا. تو بلیو می دوبارہ کبھی تمہیں میری شکل دیکھنے کو نہیں ملے گی. شیری.. شیری.. " حیا ہکا بکا سیڑھیوں پر کھڑی تھی. اندر مکمل خاموشی تھی. " "شیری دروازہ کھولو." اب کہ وہ حلق کے بل چلایا. دروازہ بند رہا. تو اس نے دروازے کو اپنے کندھے سے دھکیلنا شروع کر دیا. حیا اب اس کے پیچھے کھڑی تھی.
نہیں نہیں. وہ بڑبڑاتا پیچھے ہٹا. سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے میں گیا اور پھر واپس آیا, دروازے پر ہاتھ رکھ کر دھکیلا اور دروازہ کھلتا چلا گیا, اندر قدم رکھتے ہی دائیں طرف گردن گھماؤ تو وہاں شیری بیڈ پر اوندھے منہ پڑا تھا. کھانے کے برتن میز پر پڑے تھے اور وہ خالی تھے. حمزہ نے شیری کو پیچھے کالر سے پکڑ کر کھینچا, اس کی آنکھوں میں سرخ دھاریاں ابھری ہوئی تھیں.
" کیوں کیا تم نے یہ شیری. " وہ دانتوں کو جکڑے رنج سے بولا. مگر شیری اس وقت ہوش میں نہیں تھا. اس نے زرا سی آنکھیں کھولیں, دھندلا سا حمزہ کا سایہ نظر آیا اور دوبارہ آنکھیں بند ہو گئیں. حیا دم سادھے دروازے میں کھڑی تھی. اب حمزہ اس کی جیبیں چیک کر رہا تھا, وہاں کچھ نہیں تھا. میز, میز کے دراز کہیں کچھ نیا نہیں تھا اور پھر حمزہ نے شیری کو بیڈ کے دوسری طرف دھکیلتے میٹرس اٹھایا نیچے دو سفید پڑیاں تھیں, جن میں سے ایک کھلی پڑی تھی. اس نے دونوں پیکٹ مٹھی میں بھینچے, میٹرس اپنی پوری قوت سے بیڈ پہ مارا, اور قدم اٹھاتا دروازے کی طرف بڑھ گیا, حیا نے اسے دیکھ کر نظریں جھکا لیں. وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی شیری یہ کرے گا. حمزہ اسے دیکھے بغیر ساتھ والے کمرے کی سیڑھیاں اترتا بیسمنٹ میں غائب ہو گیا, تین لوگوں کو وہ پہلے ہی کھو چکا تھا اور آج شیری نے بھی موت کا رستہ چن لیا تھا. آج وہ اس دن سے زیادہ نڈھال لگا تھا جب اسے گولیاں لگی تھیں, بے انتہا تکلیف تھی جو حمزہ کو اپنے سینے میں محسوس ہو رہی تھی.
*********************************************
سورج تپ تپ کر اداس پڑنے لگا تو افق کی اوٹ میں منہ چھپانے لگا. اس حویلی نما گھرکی دیواروں پر بھی اداسی یوں ہی پر پھیلائے بیٹھی تھی.
سیڑھیاں اترتے بیسمنٹ میں جاؤ تو وہاں حمزہ کانفرنس میز کی سربراہی کرسی پر بیٹھا بال پوائنٹ انگلیوں میں گھماتا, ٹانگ پر ٹانگ جمائے دور کسی غیر مرعی نقطے کو گھور رہا تھا, آنکھیں سرخ تھیں, چبھن آنکھوں سے لے کر سینے تک سرایت کر چکی تھی. تکلیف سی تکلیف تھی. سارے رشتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے. کیا تھا جو وہ سب کو بچا پاتا. سارے کاش, اگر اس کے چاروں طرف آ کھڑے ہوئے تھے. کاش وہ رانیہ کے ان ڈراؤنے خوابوں کو سمجھ پاتا, کاش وہ اپنی ماں کے اندیشوں کو سمجھ لیتا, کاش اس دن وہ خود اس گاڑی میں نکلا ہوتا اور ایسا کچھ ہوتا ہی نہ اگر وہ پولیس جوائن ہی نہ کرتا. اور کاش وہ شیری کو اپنے ساتھ کبھی کام کرواتا ہی نہ, اسے اپنی ٹیم کا حصہ ہی نہ بناتا, اسے اس مشن پر بھیجتا ہی نہ. وہ ان سب کا مجرم تھا یہ خیال از سر خود تکلیف دہ تھا.
" میں کیوں ہر بار ایک سی غلطی کرتا ہوں. " اس نے کہنیاں میز پر ٹکاتے سر ہاتھوں میں گرا لیا.
اب زینے چڑھتے حمزہ کے کمرے میں جاؤ تو بیڈ کے دوسری طرف وہ جائے نماز بچھائے بیٹھی تھی. عصر کی نماز پڑھ کر وہ اب ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھائے ہوئی تھی.
" اے اللہ! میں اتنی عقل مند نہیں ہوں کہ اپنا اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد سمجھ سکوں, پلیز مجھ سے کوئی کام لے لے, ایسا کام جو میری اور مجھ سے جڑے لوگوں کی زندگی بدل لے. پلیز اللہ جی, بے شک آپ ہی ہیں جو اندھیرے میں روشنی دکھاتے ہیں. " ہاتھ منہ پر پھیرتی وہ کھڑی ہوئی گئی. بیڈ پر بکھرے کاغذ سمیٹے اور زینے اترتی لاؤنج میں آگئی.
وہاں ویسی ہی ویرانی چھائی تھی, سر جھٹکتی وہ کچن کی طرف آئی. فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیلا اور سلیب سے ٹیک لگاتے اپنے اندر اتارا. ونڈو سے باہر نظر پڑی تو حمزہ کو بیرونی دروازے کی طرف جاتے دیکھا. پھر ایک نظر شیری کے کمرے پر ڈالی, دروازہ اب بند تھا یا شاید لاک!
گہرا سانس باہر خارج کرتے وہ اسٹوو کی طرف مڑی اور رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی.
اپنے کمرے میں شیری اب بھی بے سدھ پڑا تھا, ڈرگ اس کے جسم میں سرایت کر چکی تھی اور عجیب تسکین تھی جو اس کے رگ و جاں میں اتری ہوئی تھی, کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس سکون تھا بہت سکون. مگر موت سے پہلے کا سکون!
*********************************************
پب کی باہر سے خستہ حال نظر آنے والی عمارت سر جھکائے رنگ برنگی دکانوں کے بیچ کھڑی تھی. اندر وہ ہی مدہوشی کا عالم تھا, لڑکے لڑکیاں نشے میں دھت میزوں اور ڈانس فلور پر اپنی پر سکون دنیا میں مگن تھے. وہ بھی ایک میز پر ٹانگیں لمبی کیے لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا تھا. تبھی وہ ہی حسین لڑکی آنکھوں میں گہرا کاجل لگائے اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی.
" پریشان لگتے ہو. " حمزہ کے میز پر دھرے ہاتھ پر اس نے اپنا ہاتھ رکھا. اور وہ چونکا پھر زخمی سا مسکرایا. "
" ہوں! سکون نہیں ہے. سکون کے لیے آیا ہوں. " وہ اب سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا. " ابھی سکون لے آتے ہیں. " لڑکی نے ویٹر کو وی بنا کر دو ڈرنکس لانے کا اشارہ کیا اور خود دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر آگے کو جھکی. وہ کچھ بول رہی تھی, مگر حمزہ تو وہیں اٹکا تھا, وہ دو سفید پڑیاں, شیری کا مدہوش جسم, اپنے بھائی کو یوں دیکھنا واقعی تکلیف دہ تھا!
لڑکی نے چٹکی بجائی. تو وہ ہوش میں آیا. میز پر کوک جیسا مشروب پڑا تھا. حمزہ نے سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھا جو اپنا گلاس اب ہونٹوں سے لگا رہی تھی.
" لو. پر سکون ہو جاؤ گے. ہر پریشانی اور غم سے آزاد. " وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی. ہاں ہر پریشانی سے آزادی ہی تو چاہئیے تھی. حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر گلاس تھاما. اسے سامنے رکھ کر انگلیوں میں گھمانے لگا. یکا یک گلاس کے شیشے میں شیری بیڈ پر بے سدھ پڑا نظر آیا. پرسکون, دنیا جہاں سے بے خبر. وہ کتنی ہی دیر اس گلاس کو دیکھتا رہا. اور پھر آہستہ سے گلاس کو اس کے منہ سے اٹھایا اور میز کی سائڈ پر چھوڑ دیا. گلاس چکنا چور ہو گیا, لڑکی نے گھبرا کر اسے دیکھا جو اب چابیاں جیب میں ڈال کر کھڑا ہو رہا تھا, لڑکی پھر کچھ کہہ رہی تھی وہ خفا نظر آتی تھی مگر حمزہ نہیں سن رہا تھا, دو نوٹ جیب سے نکال کر میز پر رکھے اور باہر کی طرف بڑھا. اس نے جان لیا تھا, اسے سکون نہیں شیری چاہئیے تھا اور شاید اسی میں سکون تھا.
اور سکون کب چیزوں سے بھاگنے میں ملتا ہے یہ ان کے مستقل حل سے ملتا ہے. غلط کو درست کرنے سے اور تکلیف دہ درست چیزوں کو قبول کرنے سے ملتا ہے!
*********************************************
اس کا سن ہوا جسم اب اپنی پہلی سی کیفیت میں لوٹنے لگا تھا. حواس بحال ہو رہے تھے. وہ بیڈ پر اوندھے منہ پڑا تھا. جب کسی نے دروازہ کھولا, اس نے کروٹ لی, آنکھوں کو مسلتے ہاتھ ہٹایا, دھندلا سا ہیولہ دکھائی دیا. وہ آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا, اور آنکھیں سکیڑ کر دیکھا, دماغ کو سامنے کھڑے انسان کو پہچاننے میں کچھ وقت لگا. وہ حیا تھی.
" سارا دن یہیں پڑے رہنا ہے اب؟ نہا کر فریش ہو جاؤ. میں تمہارے لیے شیک بنا رہی ہوں. " سپاٹ سا کہتی وہ واپس چلی گئی. وہ گرتا پڑتا کھڑا ہوا. اور سیف سے سیاہ شرٹ اٹھاتا واش روم میں گھس گیا. پانچ منٹ بعد وہ باہر نکلا تو پہلے سے ترو تازہ محسوس ہوتا تھا.
وہ باہر لاؤنج میں آیا, نظریں ادھر ادھر کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں. حیا نے گلاس کھانے کی میز پر رکھے تھے. اور وہیں اس کا انتظار کر رہی تھی. حیا کو دیکھ کر وہ سر جھٹکتا اس کے عین سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا. اور اب شیک کو گھونٹ گھونٹ پی رہا تھا, حیا کی نظریں اسی پر جمی تھیں. اسے یوں اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ نظریں چرا گیا.
" حمزہ تمہیں لے کر بہت پریشان ہے, شیری وہ بہت پریشان یے. " حیا نے ایک ایک لفظ پر زور دیا. شیری نے سر جھٹکا. " یہ میرے بس میں نہیں ہے اور.. " وہ آگے بھی وضاحت دیتا مگر حیا نے اس کی بات کاٹ دی.
" کس کے بس میں ہے شیری؟ "
" ہاں؟ " وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا.
" میں پوچھ رہی ہوں, تم کس کے بس میں ہو؟ " شیری خاموش رہا. " کیا یہ ڈرگ تم سے زیادہ طاقت ور ہے؟ " وہ اب بھی خاموش تھا, مگر جس پر بیتے وہ زیادہ جانتا ہے کہ اس ڈرگ کی طلب کتنی تکلیف دہ ہے. وہ اٹھ کر دوبارہ کمرے میں چلا گیا.
حیا کچھ دیر یوں ہی بیٹھی رہی. پھر عشاء پڑھنے کمرے میں چلی گئی. نماز پڑھ کر وہ کچن میں آ گئی اور رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی. کھانا بن چکا تو وہ دوبارہ کمرے میں چلی گئی.
نیچے بیسمنٹ میں جاؤ تو اب وہاں حمزہ, علی, سمایا اور شیروان موجود تھے. عنایا اور زویان ایک کیس کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے. سمایا ان کو موجودہ کچھ کیسز کے بارے میں بریف کر رہی تھی. سمایا کی آواز کے باوجود وہاں عجیب سی خاموشی تھی. اور پھر اس خاموشی کو شور نے توڑا, برتنوں کے شور نے. سیکنڈ کے دسویں حصے میں وہ پہچان سکتے تھے یہ شور کیسا ہے. حمزہ فوراً زینے چڑھتا لاؤنج میں گیا اس کے پیچھے باقی لوگ بھی وہاں آ گئے. حیا ابھی کمرے سے نکلی تھی اور اب سیڑھیاں اتر کر کچن مین ان سب کے پیچھے پہنچی. منظر واضح تھا. پورا کچن بکھرا پڑا تھا. حمزہ دونوں ہاتھوں سے شیری کو جکڑے ہوا تھا. پر شیری کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا.
" وہ پیکٹ کہاں ہیں, مجھے میرے پیکٹ دیں. مجھے میرے پیکٹ چاہئیے" وہ کبھی چیخنے لگتا, کبھی بے بسی سے منت کرنے لگتا.
" شیری بس کر دے یار. نہ کر یوں. " حمزہ اسے قابو کیے ہوئے تھا. " آپ نے ہی لیا ہے وہ. مجھے یاد ہے آپ آئے تھے, مجھے میرا پیکٹ واپس چاہئیے. " وہ چلایا اور پھر یک دم ڈھیلا پڑھتا حمزہ کی طرف مڑا. اس کے ہاتھوں کو تھامے وہ بے بسی سے منتیں کر رہا تھا. " پلیز حمزہ بھائی بس ایک بار. پلیز. میرا جسم ٹوٹ رہا ہے. پلیز حمزہ بھائی ایک بار. " پھر وہ کچن ونڈو کے باہر کھڑی حیا کی طرف مڑا. " بھابھی پلیز کہیں ان سے پلیز. بس ایک بار. " حمزہ ایک ہاتھ سے ماتھا پکڑے, آنکھیں سختی سے بند کیے کھڑا تھا. سب کتنا بدل گیا تھا. شیری کتنی اذیت میں تھا. یوں ہی چیختا, منتیں کرتا وہ حمزہ کی طرف واپس مڑا اور حمزہ نے اسے بازؤوں سے تھام لیا.
" بات سنو شیری! میری بات سنو. "
" تم ٹھیک ہو جاؤ گے, ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے, تم ٹھیک ہو جاؤ گے. " وہ اسے بازؤوں سے ہلاتے کہہ رہا تھا. مگر شیری کب کسی کی سن رہا تھا. اس کی تکلیف بڑھ رہی تھی. " نہیں بھائی, مجھے سوئیاں چبھ رہی ہیں, میرا جسم نڈھال ہو رہا ہے. بھائی میں مر جاؤں گا اگر آپ نے وہ پیکٹ مجھے نہ دیا. " پھر اس نے حمزہ کے ہاتھ اپنے بازؤوں سے جھٹکے.
" مر جاؤں گا میں. سنا آپ نے. اگر آپ نے مجھے وہ نہیں دیا تو میں مر جاؤں گا. " اور تب زناٹے دار تھپڑ شیری کے منہ پر پڑا اور وہ ہل کر رہ گیا. علی نے آگے بڑھ کر حمزہ کو روکنا چاہا مگر حمزہ نے دور سے ہی ہاتھ اٹھا دیا.
" بہت ہو گیا اس کا تماشہ. ایسا بھی کیا ہو گیا جو یہ پاگل ہوا جا رہا ہے. نشئ بن گیا ہے یہ. میں نے یہ سب تو نہیں سکھایا تھا اس کو. " حیا یک ٹک ان کو دیکھتی رہی.
" اسے اتنا لحاظ نہیں کہ میں کتنی تکلیف میں ہوں, "
پھر اس نے انگلی شیری کی طرف اٹھائی, " اب اگر میں نے تمہارے منہ سے اس چیز کا نام بھی سنا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا. سمجھے تم؟ " آخری دو الفاظ پر وہ دھاڑا. اور لمبے ڈگ بھرتا, زینے پھلانگتا اپنے کمرے میں جا کر دروازہ زور سے بند کر دیا.
وہ تھپڑ شیری کے منہ پر نہیں وہاں موجود لوگوں کے دلوں تک ضرب لگا کر گیا تھا. جیسے سب تڑپ اٹھے تھے. وہ آگے بڑھ کر شیری کو گلے لگانا چاہتے تھے, حوصلہ دینا چاہتے تھے, بہت کچھ تھا کہنے کو مگر الفاظ زبان تک نہ آتے تھے. شیری ان سب کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے میں غائب ہو گیا. سب عجیب کشمکش میں تھے جب حیا نے ان کو مخاطب کیا.
" کھانا کھا کر جائیے گا آپ لوگ. " علی بمشکل مسکرایا.
" مجھے فریحہ کو تھانے سے پک کرنا ہے. میں چلتا ہوں. "
حیا اداسی سے مسکراتے اس کو دروازے تک چھوڑ کر آئی. دروازہ بند کر کے حیا شیروان اور سمایا کی طرف متوجہ ہوئی جو اب تک کچن کے باہر ہی کھڑے تھے.
" ہم بھی نکلتے ہیں بھابھی. " وہ اکٹھے باہر آئے.
" لیکن مجھے تو شیری کے دوستوں سے بات کرنی تھی. " وہ سینے پر بازو باندھے ان کو دیکھ رہی تھی. اور دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کچھ کہے بغیر لاؤنج میں پڑے صوفوں پر بیٹھ گئے.
حیا حمزہ کا کھانا اس کے کمرے میں ہی دے آئی تھی, جانتی تھی اب وہ باہر نہیں آئے گا. سمایا نے میز پر برتن لگائے اور اب وہ تینوں میز پر اس طرح سے بیٹھے تھے کہ ایک طرف حیا بیٹھی تھی اور اس کے سامنے شیروان اور سمایا ایک ساتھ بیٹھے تھے. کھانے کے بیچ وہ اداحر ادھر کی باتیں کرتے رہے, حمزہ اور شیری کا کمرہ بد ستور بند رہا. تبھی حیا نے سرسری شیری کا ذکر کیا.
" شیری سے ملنے نہیں آتے اب تم لوگ. " وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی. کچھ سیکنڈ خاموشی رہی پھر شیروان بولا. " اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی تو ہم اسے ڈسٹرب نہیں کرتے. " حیا انے سمجھتے ہوئے سر ہلایا. " ہوں! " سمایا چمچ پلیٹ مین رکٹے ہوئے ہچکچاتے ہوئے بولی. " بھابھی! حمزہ سر, شیری کو ڈاکٹر کے پاس لے کر کیوں نہیں جاتے؟ " حیا نے اپنی پلیٹ چھوڑی دونوں بازو میز پر رکھتے ہاتھ باہم ملائے.
" پتا ہے سمایا! ڈرگ اڈکشن کیوں ہوتی ہے؟ "
" ڈرگ استمعال کرنے سے. " وہ فوراً بولی. حیا نے نفی میں سر ہلایا.
" اونہوں! اڈکشن پر جو پہلی ریسرچ ہوئی تھی اس کے مطابق اڈکشن نشہ آور چیز کے استمعال سے ہی ہوتی ہے. ہیروئین ہم سب نے نام سنا ہے. اس کے 20 دن استمعال سے انسان کا جسم اس کا عادی ہو جاتا لیکن تمہیں پتا ہے جب کسی کی ہڈی ٹوٹتی ہے تو ہسپتال میں ایک دوا ان کو دی جاتی ہے Diamorphine. پتا ہے یہ کیا ہے؟ " وہ چپ ہوئی اور سمایا جھٹ سے بولی. " ڈرگ . " حیا نے اثبات میں سر ہلایا. کھانا تقریباً کھایا جا چکا تھا.
" یہ ہیروئین کا دوسرا نام ہے, اور یہ ہیروئین بازاروں اور گلیوں میں ملنے والی ہیروئین سے کئی گنا زیادہ پیور اور اسٹرونگ ہوتی ہے. تو تم کیا کہتے ہو ہسپتال میں مہینوں علاج کے لیے پڑے رہنے والے لوگ اس ہیروئین کے عادی ہو جاتے ہوں گے؟ " اس نے دونوں کو باری باری دیکھا. پھر پچھلی بات کو وہیں چھوڑا اور آگے بڑھی.
" ویت نام کی جنگ میں فوجیوں کا ڈر بھگانے, گھر والوں کی یاد مٹانے اور ان کی ہمت بڑھانے کے لیے انہیں ہیروئین دی جاتی تھی. لوگ پریشان تھے کہ جب یہ لوگ جنگ سے واپس آئیں گے تو سب ہیروئین کے عادی ہو چکے ہوں گے. مگر جب جنگ سے واپس آئے تو حیران کن طور پر ان میں سے کوئی بھی اس نشے کا عادی نہیں ہوا تھا بلکہ انہوں نے خوش حال زندگی گزاری. اسی طرح ہسپتال میں پڑے مریض بھی اس پیور ہیروئین کے مہینوں استعمال کے باوجود اس کے عادی نہیں ہوتے. " اس نے گہرا سانس خارج کیا. "
" پتا ہے کیوں؟ کیونکہ انسان معاشرتی جانور ہے, اس کی فطرت ہے کہ یہ لوگوں سے بانڈ بناتا ہے. یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں جہاں ان کی فیملی دوست ان کے منتظر ہوتے ہیں. "
اڈکشن کوئی کیمیکل یا پاؤڈر نہیں ہے یہ پنجرہ ہے. جب تک ہم خوش ہوتے ہیں ہم لوگوں سے بانڈ بناتے ہیں مگر جب ہم زندگی میں کسی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں, پریشان ہوتے ہیں تو ہم اس پنجرے میں آ جاتے ہیں اور اکیلا انسان پھر دوسری چیزوں کے ساتھ بانڈ بنا لیتا ہے پھر چاہے وہ موبائل ہو, سوشل میڈیا ہو, ناولز ہوں یا کوئی پاؤڈر یا کیمیکل ہو. ہم ان چیزوں سے بانڈ بنا لیتے ہیں. ان فیکٹ کچھ لوگ خود کو کٹ لگانے کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بانڈ بن جاتا ہے. " شیروان اور سمایا نے آخری بات پر جھرجھری لی. حیا نے ان کو متوجہ کیا.
" لیکن یہ اَن ہیلتھی بانڈ ہیں اور ان اَن ہیلتھی بانڈز کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہیلتھی بانڈ بنائیں. اڈکشن کیمیکل سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کے آس پاس نہ ہونے کی وجہ سے ہو جاتی ہیں. اینڈ یو نو 1950 کے بعد لوگوں کے ایورج قریبی دوستوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے. جس وجہ سے ہماری اڈکشنز بڑھتی جا رہی ہیں.اور ایک صدی سے ہم جو ڈرگ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں, یہ جنگ ہی غلط ہے. ہم نشے کے عادی لوگوں کو سوسائیٹی سے ہی باہر نکال کھڑا کرتے ہیں, ان کو جاب نہیں دیتے, وہ چوریاں کرنے لگ جاتے ہیں, جیل چلے جاتے ہیں, وہ تو آگے جیل میں ہیں بھئی. " وہ خفا سی بولی.
" ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بانڈ بنانا ہے اور ریٹ پارک جیسا ماحول دینا ہے. (ریٹ پارک ایک تجربہ ہے جس میں بہت سے چوہوں کو ایک جگہ بند کر دیا گیا اور وہاں گیندیں, کھانا اور کھیلنے کے لیے مختلف چیزیں رکھی گئی اور ساتھ ہی نشہ آور اور سادہ پانی کی بوتلیں. پہلے تجربے کے بر عکس چوہوں نے نشہ آوار پانی بس ایک دو بار پیا. عادی نہیں ہوئے)
وہ چپ ہوئی. سمایا اور شیروان شرمندہ سے بیٹھے تھے.
" تو شیری کے دوستو! کیا خیال ہے اب؟ " وہ زیر لب مسکراتی رہی. اور سمایا شرمندہ سی کھڑی ہوئی اور میز کی دوسری طرف آ کر حیا کو گلے سے لگایا.
" سوری بھابھی! ہم نے شیری کو اکیلا چھوڑ دیا. " حیا کی مسکراہٹ گہری ہو گئی. اس نے سمایا کو خود سے الگ کیا. اور شیروان کی طرف متوجہ ہوئی جو کھڑا ہو چکا تھا. " کل ہم شیری کے ساتھ کہیں باہر چلیں گے. اور بالکل بھی اسے احساس نہیں ہونے دیں گے کہ وہ اکیلا ہے. ان فیکٹ کل سب پرانے دوستوں کا ایک گیٹ ٹو گیدر کرتے ہیں, کیا خیال ہے سمایا. " وہ پرجوش سا بولا, سمایا اس کے ساتھ کل کا پلان ڈسکس کرنے لگ گئ اور حیا نے سکھ کا سانس لیا. ایک مرحلہ سر ہو گیا تھا.
اور جب تم چاہو اللہ تم سے کوئی کام لے تو وہ ضرور تمہارے دل میں ڈال دیتا ہے تمہارا مقصد اور تم کامیاب ہوتے چلے جاتے ہو.
جاری ہے.

No comments: