Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 3 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا
قسط ۔3 
مصنف ۔طارق خان 

’ساجد! دروازہ توڑ دیتے ہیں‘‘ توقیر صاحب نے بیٹے سے کہا پھر دونوں نے کندھوں کی پے در پے ضربوں سے دروازہ توڑ دیا۔ پروفیسر صاحب اور ان کی بیگم جلدی سے اندر داخل ہوئے۔ توقیر صاحب اور ساجد نامحرم ہونے کی وجہ سے باہر ہی رک گئے۔ اگلے ہی لمحے مسز بیگ کی ہولناک چیخ سنائی دی اس کے بعد فوراً ہی کسی کے گرنے کا دھماکہ ہوا ۔دونوں باپ بیٹا جلدی سے اندر داخل ہوئے وہاں کا ہولناک منظردیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پروفیسر صاحب خوف اور صدمے سے گنگ کھڑے تھے۔ دل دہلا دینے والا منظر نظروں کے سامنے تھا۔ خوابگاہ کی دیواروں پر جگہ جگہ خون کے چھینٹے اور گوشت کے ننھے ننھے لوتھڑے چپکے ہوئے تھے۔ بیڈ کی چادر خون سے بھری ہوئی تھی اور سامنے ہی دو انسانی ڈھانچے پڑے تھے۔ یوں لگتا تھا کسی درندے نے دونوں کے جسموں کا سارا گوشت نوچ کر کھا لیا ہو۔ چہرے پر جگہ جگہ کسی جانورکے نوکیلے پنجوں کے نشانات تھے ۔ آنکھوں سے خون اور مواد بہہ کر چہرے پر جم چکا تھا۔ نورین کی لاش کوبلکہ ڈھانچہ کہنا ٹھیک ہوگا، طاہر کے ڈھانچے کے بالکل پاس پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں اور زبان باہر نکلی ہوئی تھیں۔ جسم کی بیشتر ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ صرف دونوں کے چہرے سلامت تھے اسی وجہ سے ان کی شناخت ہوسکی۔ کوئی بھی زیادہ دیر تک اس منظر کو نہ دیکھ سکا بلکہ توقیر صاحب کو تو ابکائی آگئی وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگے۔

مسز بیگ قالین پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ساجد نے پروفیسر صاحب کے ساتھ مل کر مسز بیگ کو اٹھایا اور انہیں لے کر باہر آگئے۔ بعد میں پولیس آئی بہت تفتیش ہوئی لیکن اس بھیانک واردات کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب کچھ کس نے اور کیوں کیا؟ پولیس رپورٹ کے مطابق گھر سے کوئی قیمتی چیز غائب نہ تھی۔ حتیٰ کہ نورین کے وہ زیورات بھی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ملے جو وہ گزشتہ رات پارٹی میں پہنے ہوئے تھی۔ اس کے علاوہ نورین اور طاہر کے جسموں کی جو حالت تھی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا جیسے یہ کسی غیر انسانی مخلوق کا کام ہے۔۔۔خان بھائی! یہ سب مجھے نورین کے ایک ہمسایہ لڑکے ماجد نے بتایا تھا وہ میرے پاس ٹیوشن پڑھنے کے لیے آتا تھا۔ پولیس نے بہت سر کھپایا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ان لوگوں کی کسی سے دشمنی نہ تھی۔ آخر تھک ہار کر پولیس نے کیس داخل دفتر کر دیا۔ اس سارے واقعے میں اہم بات یہ تھی کہ کمرہ ہر طرف سے بند تھا۔ پروفیسر صاحب کے سامنے ہی ساجد اور اس کے ابو نے دروازہ توڑا تھا۔ کھڑکیاں اندر سے بند تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے کہا یہ جنات کی کارستانی ہے‘‘ عمران نے تفصیل سے بتایا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے یہ سب کس نے کیا ہوگا؟‘‘

’’خان بھائی! اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل یہ بات کافی مشہور ہوئی تھی کہ ایک ڈاکو پولیس مقابلے میں زخمی ہو کر کسی طرح چھپتا چھپاتا ڈاکٹر طاہر کے پاس آیا اور اس سے درخواست کی کہ اس کے جسم سے گولی نکال دے
 طاہر نے آپریشن کرکے اس کے جسم سے گولی تو نکال دی لیکن اسے بے ہوشی کی حالت میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ اسی نے کیا ہو۔‘‘

’’تمہارا مطلب ہے ڈاکو ان کو مار کر ان کا گوشت نوچ کر کھا گیا؟‘‘

’’نہیں خان بھائی! میں یہ تو نہیں کہہ رہاجو کچھ لوگوں نے کہا اس پر یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘

’’تم نے خود ہی تو بتایا ہے کہ جب پروفیسر صاحب نے نورین کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا تو کھڑکیاں بدستور بند تھیں۔ پھر ڈاکو اپنا بدلہ کس طرح لے سکتا تھا؟‘‘ میں نے کہا۔

’’خان صاحب ! آج کل تو چور ڈاکو بھی جدید سائنس سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس ڈاکو نے بھی کوئی ایسا ہی طریقہ اپنایا ہو۔‘‘ اس نے کہا بات کیا تھی ایک معمہ تھا لیکن میں نے مزید بحث نہ کی۔

’’اب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ عمران نے میری طرف دیکھا۔

’’وہی جو پہلے تھا۔۔۔بنگلہ اگر اچھا اور رہائش کے قابل ہے تو ابھی چل کر پروفیسر صاحب سے بات کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔

’’ٹھیک ہے خان بھائی! جیسے آپ کی مرضی! اس نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔ 
بنگل نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔ بنگلہ دیکھا اور کرایے پر حاصل کرلیا انہوں نے بھی دبے دبے الفاظ میں وہی باتیں کیں جو عمران مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا پر میں نے ’’جاہل لوگوں کی خرافات‘‘ کہہ کر انہیں مطمئن کر دیا۔

بنگلہ واقعی بہت خوبصورت تھا صرف مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ویران لگ رہا تھا۔ سامنے گیراج، ایک سائیڈ پر لان جو کبھی واقعی خوبصورت اور ہربھرا رہا ہوگا اب اجڑا پڑا تھا۔ لان کے بعد برآمدہ تھا دائیں طرف ڈرائنگ روم، درمیان میں ٹی وی لاؤنج اس کے بعد دو بیڈ رومز۔ لاؤنج سے ہی سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں۔ اوپر والی منزل کا نقشہ بھی اسی جیسا تھا۔ گھر میں مکمل فرنیچر موجود تھا لیکن ہر چیز دھول میں اٹی پڑی تھی۔ دوسری طرف پھر ایک برآمدہ تھا اس کے بعد چھوٹا سا صحن، دائیں طرف کچن تھا۔
ایک ہفتے بعد ہم لوگ اس بنگلے میں شفٹ ہوچکے تھے۔ میں نے صائمہ کو بنگلے سے منسوب باتوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ بتایا کہ بلا وجہ پریشان ہوگی بلکہ سچ پوچھیں تو مجھے خود بھی اس بات پر زیادہ یقینی نہ آیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے اس کی صفائی ستھرائی کروا دی تھی لان سے جھاڑجھنکار ختم ہونے کے بعد وہ بھی اچھا لگ رہا تھا۔ ابھی دو چھٹیاں باقی تھیں اس لئے دوسرے دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم سارے گھر میں گھوم پھر اس کا جائزہ لے رہے تھے ۔ گھومتے پھرتے ہم بیڈ روم میں آگئے۔ یہ وہی بیڈ روم تھا جس میں وہ ہولناک واردات ہوئی تھی۔ اچانک مجھے عجیب سی بے چینی سی بے چینی نے گھیر لیا۔ شاید اس واقعہ کا اثر تھا جو عمران نے مجھے سنایا تھا۔ ان باتوں کا میرے دماغ نے کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا تھا۔ حالانکہ میں ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان ہوں۔ جنات کے وجود کو تسلیم تو کرتا ہوں کیونکہ ان کا ذکر ہمارے قرآن مجید میں موجود ہے۔ لیکن ایسی باتیں کہ جن فلاں پر عاشق ہوگیا۔ گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ان سب کو میں خرافات سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تھا لیکن ۔۔۔یہ سب کچھ جب ہمارے ساتھ ہوا تو اس نے مجھے ہر بات ماننے پرمجبور کر دیا۔ خیر آگے چل کر آپ کو سب باتوں کا پتا چل جائے گا۔

جب ہم بیڈ روم میں داخل ہوئے تو صائمہ کی خوشی دیدنی تھی۔ بیڈ روم واقعی خوبصورت تھا بڑی بڑی فرنچ ونڈوز، بیش قیمت ایرانی قالین، قیمتی فانوس غرض یہ کہ کمرے کی ہر چیز بہت نفیس اور خوبصورت تھی۔ سارا فرنیچر نہایت قیمتی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ قالین اتنا دبیز اور نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جاتے۔ اٹیچ باتھ، دراصل یہ دو کمرے تھے جن کے درمیان ایک دروازہ تھا ایک بڑا بیڈ روم اس کے ساتھ والا کمرہ ذرا چھوٹا لیکن وہ بھی خوبصورت فرنیچر سے مزین تھا۔

’اس میں ہم دونوں اور ساتھ والے بیڈ روم میں بچے سوئیں گے۔‘‘ صائمہ نے فوراً فیصلہ سنا دیا۔

اچانک مومنہ نے ایک طرف دیکھ کر رونا شروع کر دیا پھر دوڑتی ہوئی جلدی سے صائمہ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔
’’ماما مجھے اٹھا لیں ‘‘ وہ بار بار کمرے کے ایک کونے کو دیکھتی اور رونے لگ جاتی۔ صائمہ اس کے اس طرح اچانک رونے سے پریشان ہوگئی۔

’’کیا بات ہے، کیوں رو رہی ہو؟‘‘ اس نے مومنہ کو اٹھاتے ہوئے پوچھا۔

لیکن کچھ بتانے کے بجائے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ صائمہ نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا۔ وہ ماں کے کندھے سے لگ کر سسکیاں لینے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چپ کر گئی تو صائمہ نے اسے نیچے اتار دیا وہ کھیلنے لگی۔ صائمہ اور میں سامان کی ترتیب کے بارے میں باتیں کرنے لگے اسے باغبانی کا بہت شوق تھا کہنے لگی۔

’’آپ مجھے کسی مالی کا انتظام کر دیں اور نرسری سے اچھے اچھے پودے لا دیں میں لان ٹھیک کروالوں‘‘ سارا دن ہم نے گھر کی سیٹنگ میں گزار دیا۔ نازش تھوڑی دیر بعد آگئی تھیں وہ بھی ہمارے ساتھ کام کرواتی رہیں ساتھ ساتھ اپنے مشوروں سے بھی نوازتی رہیں۔ دونوں کو کام کرتا چھوڑ کر میں مارکیٹ چلا گیا۔ میں چاہتا تھا مہینہ بھر کا راشن بے لے لوں اور کھانا بھی بازار سے لے آؤں۔ جب میں واپس آیا تو صائمہ سیٹنگ سے فارغ ہو چکی تھی۔

’’نازش بھابی تو گھر چلی گئی ہیں ان کے بچوں کا سکول سے آنے کا ٹائم ہوگیا تھا صائمہ نے میرے ہاتھ سے شاپر لیتے ہوئے بتایا۔ کھانے اور چائے کے بعد میں نے صائمہ سے کہا۔

’’میں بینک کا ایک چکر لگا آؤں۔‘‘
’’جلدی آجائیے گا‘‘ صائمہ نے کہا۔ میں سر ہلا کر باہر نکل آیا۔ موسم اچھا تھا اس لئے میں پیدل ہی چل پڑا ۔بینک وہاں سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ عمران مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا’’خان صاحب ابھی میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا۔‘‘

’’کیوں خیریت؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’آج رات کا کھانا آپ لوگ ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘

’’بھئی ابھی تو دوپہر کا کھانا کھا کر سیدھا یہیں آرہا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا کافی دیر تک ہم بینک اور یہاں کے کسٹمرز کے بارے میں باتیں کرتے رہے وہ یہاں کے لوگوں کے رویے اور عادات کے بارے میں مجھے بتاتا رہا۔ اگلے دن میں نے باقاعدہ ڈیوٹی جوائن کر لی۔ وقت پُر سکوں انداز میں گزر رہا تھا کہ ایک دن حسب معمول بینک سے واپس آیا تو صائمہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی کچھ پریشان اور الجھی الجھی دکھائی دی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگی۔

’’سمجھ میں نہیں آتا بچوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اطمینان کی سانس لی۔

’’صائمہ بچے تو شرارتیں کرتے ہی رہتے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہو۔‘‘

’’فاروق! یہ بات نہیں ۔۔۔ان کی شرارتیں تو مجھے بوریت سے بچائے رکھتی ہیں‘‘

’’پھر کیا بات ہے؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’میں بھی کیسی عجیب عورت ہوں آپ تھکے ہوئے آئے ہیں اور میں نے چائے تک کا نہیں پوچھا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھنے لگی تو میں نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا۔

’’نہیں پہلے مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟‘‘

’’دو تین دن پہلے کی بات ہے دونوں بچے بیڈ روم میں کھیل رہے تھے میں کچن میں اپنا کام کر رہی تھی۔ اچانک مومنہ کے زور زور سے ہنسنے کی آواز آئی میں نے دونوں کے لیے دودھ بنایا اور انہں دینے کے لیے گئی تو مومنہ کہنے لگی۔

’’ماما! ابھی میں نے نہیں پینا میں آنٹی کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کہ وہ کمرے میں ایک طرف دیکھنے لگی۔

’’آنٹی بال میری طرف پھینکیں‘‘ پھر حیرت سے کمرے میں چاروں طرف دیکھا’’آنٹی۔۔۔آپ کہاں چلی گئی ہیں؟‘‘

’’میں نے ادھر ادھر دیکھا کمرے میں بچوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ مومنہ حیران سی متلاشی نظروں سے چاروں طرف دیکھ کر پکار رہی تھی۔

جاری ہےرادھا 
قسط ۔3 
مصنف ۔طارق خان 

’ساجد! دروازہ توڑ دیتے ہیں‘‘ توقیر صاحب نے بیٹے سے کہا پھر دونوں نے کندھوں کی پے در پے ضربوں سے دروازہ توڑ دیا۔ پروفیسر صاحب اور ان کی بیگم جلدی سے اندر داخل ہوئے۔ توقیر صاحب اور ساجد نامحرم ہونے کی وجہ سے باہر ہی رک گئے۔ اگلے ہی لمحے مسز بیگ کی ہولناک چیخ سنائی دی اس کے بعد فوراً ہی کسی کے گرنے کا دھماکہ ہوا ۔دونوں باپ بیٹا جلدی سے اندر داخل ہوئے وہاں کا ہولناک منظردیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پروفیسر صاحب خوف اور صدمے سے گنگ کھڑے تھے۔ دل دہلا دینے والا منظر نظروں کے سامنے تھا۔ خوابگاہ کی دیواروں پر جگہ جگہ خون کے چھینٹے اور گوشت کے ننھے ننھے لوتھڑے چپکے ہوئے تھے۔ بیڈ کی چادر خون سے بھری ہوئی تھی اور سامنے ہی دو انسانی ڈھانچے پڑے تھے۔ یوں لگتا تھا کسی درندے نے دونوں کے جسموں کا سارا گوشت نوچ کر کھا لیا ہو۔ چہرے پر جگہ جگہ کسی جانورکے نوکیلے پنجوں کے نشانات تھے ۔ آنکھوں سے خون اور مواد بہہ کر چہرے پر جم چکا تھا۔ نورین کی لاش کوبلکہ ڈھانچہ کہنا ٹھیک ہوگا، طاہر کے ڈھانچے کے بالکل پاس پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں اور زبان باہر نکلی ہوئی تھیں۔ جسم کی بیشتر ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ صرف دونوں کے چہرے سلامت تھے اسی وجہ سے ان کی شناخت ہوسکی۔ کوئی بھی زیادہ دیر تک اس منظر کو نہ دیکھ سکا بلکہ توقیر صاحب کو تو ابکائی آگئی وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگے۔

مسز بیگ قالین پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ساجد نے پروفیسر صاحب کے ساتھ مل کر مسز بیگ کو اٹھایا اور انہیں لے کر باہر آگئے۔ بعد میں پولیس آئی بہت تفتیش ہوئی لیکن اس بھیانک واردات کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب کچھ کس نے اور کیوں کیا؟ پولیس رپورٹ کے مطابق گھر سے کوئی قیمتی چیز غائب نہ تھی۔ حتیٰ کہ نورین کے وہ زیورات بھی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ملے جو وہ گزشتہ رات پارٹی میں پہنے ہوئے تھی۔ اس کے علاوہ نورین اور طاہر کے جسموں کی جو حالت تھی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا جیسے یہ کسی غیر انسانی مخلوق کا کام ہے۔۔۔خان بھائی! یہ سب مجھے نورین کے ایک ہمسایہ لڑکے ماجد نے بتایا تھا وہ میرے پاس ٹیوشن پڑھنے کے لیے آتا تھا۔ پولیس نے بہت سر کھپایا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ان لوگوں کی کسی سے دشمنی نہ تھی۔ آخر تھک ہار کر پولیس نے کیس داخل دفتر کر دیا۔ اس سارے واقعے میں اہم بات یہ تھی کہ کمرہ ہر طرف سے بند تھا۔ پروفیسر صاحب کے سامنے ہی ساجد اور اس کے ابو نے دروازہ توڑا تھا۔ کھڑکیاں اندر سے بند تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے کہا یہ جنات کی کارستانی ہے‘‘ عمران نے تفصیل سے بتایا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے یہ سب کس نے کیا ہوگا؟‘‘

’’خان بھائی! اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل یہ بات کافی مشہور ہوئی تھی کہ ایک ڈاکو پولیس مقابلے میں زخمی ہو کر کسی طرح چھپتا چھپاتا ڈاکٹر طاہر کے پاس آیا اور اس سے درخواست کی کہ اس کے جسم سے گولی نکال دے
 طاہر نے آپریشن کرکے اس کے جسم سے گولی تو نکال دی لیکن اسے بے ہوشی کی حالت میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ اسی نے کیا ہو۔‘‘

’’تمہارا مطلب ہے ڈاکو ان کو مار کر ان کا گوشت نوچ کر کھا گیا؟‘‘

’’نہیں خان بھائی! میں یہ تو نہیں کہہ رہاجو کچھ لوگوں نے کہا اس پر یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘

’’تم نے خود ہی تو بتایا ہے کہ جب پروفیسر صاحب نے نورین کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا تو کھڑکیاں بدستور بند تھیں۔ پھر ڈاکو اپنا بدلہ کس طرح لے سکتا تھا؟‘‘ میں نے کہا۔

’’خان صاحب ! آج کل تو چور ڈاکو بھی جدید سائنس سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس ڈاکو نے بھی کوئی ایسا ہی طریقہ اپنایا ہو۔‘‘ اس نے کہا بات کیا تھی ایک معمہ تھا لیکن میں نے مزید بحث نہ کی۔

’’اب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ عمران نے میری طرف دیکھا۔

’’وہی جو پہلے تھا۔۔۔بنگلہ اگر اچھا اور رہائش کے قابل ہے تو ابھی چل کر پروفیسر صاحب سے بات کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔

’’ٹھیک ہے خان بھائی! جیسے آپ کی مرضی! اس نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔ 
بنگل نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔ بنگلہ دیکھا اور کرایے پر حاصل کرلیا انہوں نے بھی دبے دبے الفاظ میں وہی باتیں کیں جو عمران مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا پر میں نے ’’جاہل لوگوں کی خرافات‘‘ کہہ کر انہیں مطمئن کر دیا۔

بنگلہ واقعی بہت خوبصورت تھا صرف مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ویران لگ رہا تھا۔ سامنے گیراج، ایک سائیڈ پر لان جو کبھی واقعی خوبصورت اور ہربھرا رہا ہوگا اب اجڑا پڑا تھا۔ لان کے بعد برآمدہ تھا دائیں طرف ڈرائنگ روم، درمیان میں ٹی وی لاؤنج اس کے بعد دو بیڈ رومز۔ لاؤنج سے ہی سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں۔ اوپر والی منزل کا نقشہ بھی اسی جیسا تھا۔ گھر میں مکمل فرنیچر موجود تھا لیکن ہر چیز دھول میں اٹی پڑی تھی۔ دوسری طرف پھر ایک برآمدہ تھا اس کے بعد چھوٹا سا صحن، دائیں طرف کچن تھا۔
ایک ہفتے بعد ہم لوگ اس بنگلے میں شفٹ ہوچکے تھے۔ میں نے صائمہ کو بنگلے سے منسوب باتوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ بتایا کہ بلا وجہ پریشان ہوگی بلکہ سچ پوچھیں تو مجھے خود بھی اس بات پر زیادہ یقینی نہ آیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے اس کی صفائی ستھرائی کروا دی تھی لان سے جھاڑجھنکار ختم ہونے کے بعد وہ بھی اچھا لگ رہا تھا۔ ابھی دو چھٹیاں باقی تھیں اس لئے دوسرے دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم سارے گھر میں گھوم پھر اس کا جائزہ لے رہے تھے ۔ گھومتے پھرتے ہم بیڈ روم میں آگئے۔ یہ وہی بیڈ روم تھا جس میں وہ ہولناک واردات ہوئی تھی۔ اچانک مجھے عجیب سی بے چینی سی بے چینی نے گھیر لیا۔ شاید اس واقعہ کا اثر تھا جو عمران نے مجھے سنایا تھا۔ ان باتوں کا میرے دماغ نے کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا تھا۔ حالانکہ میں ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان ہوں۔ جنات کے وجود کو تسلیم تو کرتا ہوں کیونکہ ان کا ذکر ہمارے قرآن مجید میں موجود ہے۔ لیکن ایسی باتیں کہ جن فلاں پر عاشق ہوگیا۔ گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ان سب کو میں خرافات سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تھا لیکن ۔۔۔یہ سب کچھ جب ہمارے ساتھ ہوا تو اس نے مجھے ہر بات ماننے پرمجبور کر دیا۔ خیر آگے چل کر آپ کو سب باتوں کا پتا چل جائے گا۔

جب ہم بیڈ روم میں داخل ہوئے تو صائمہ کی خوشی دیدنی تھی۔ بیڈ روم واقعی خوبصورت تھا بڑی بڑی فرنچ ونڈوز، بیش قیمت ایرانی قالین، قیمتی فانوس غرض یہ کہ کمرے کی ہر چیز بہت نفیس اور خوبصورت تھی۔ سارا فرنیچر نہایت قیمتی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ قالین اتنا دبیز اور نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جاتے۔ اٹیچ باتھ، دراصل یہ دو کمرے تھے جن کے درمیان ایک دروازہ تھا ایک بڑا بیڈ روم اس کے ساتھ والا کمرہ ذرا چھوٹا لیکن وہ بھی خوبصورت فرنیچر سے مزین تھا۔

’اس میں ہم دونوں اور ساتھ والے بیڈ روم میں بچے سوئیں گے۔‘‘ صائمہ نے فوراً فیصلہ سنا دیا۔

اچانک مومنہ نے ایک طرف دیکھ کر رونا شروع کر دیا پھر دوڑتی ہوئی جلدی سے صائمہ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔
’’ماما مجھے اٹھا لیں ‘‘ وہ بار بار کمرے کے ایک کونے کو دیکھتی اور رونے لگ جاتی۔ صائمہ اس کے اس طرح اچانک رونے سے پریشان ہوگئی۔

’’کیا بات ہے، کیوں رو رہی ہو؟‘‘ اس نے مومنہ کو اٹھاتے ہوئے پوچھا۔

لیکن کچھ بتانے کے بجائے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ صائمہ نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا۔ وہ ماں کے کندھے سے لگ کر سسکیاں لینے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چپ کر گئی تو صائمہ نے اسے نیچے اتار دیا وہ کھیلنے لگی۔ صائمہ اور میں سامان کی ترتیب کے بارے میں باتیں کرنے لگے اسے باغبانی کا بہت شوق تھا کہنے لگی۔

’’آپ مجھے کسی مالی کا انتظام کر دیں اور نرسری سے اچھے اچھے پودے لا دیں میں لان ٹھیک کروالوں‘‘ سارا دن ہم نے گھر کی سیٹنگ میں گزار دیا۔ نازش تھوڑی دیر بعد آگئی تھیں وہ بھی ہمارے ساتھ کام کرواتی رہیں ساتھ ساتھ اپنے مشوروں سے بھی نوازتی رہیں۔ دونوں کو کام کرتا چھوڑ کر میں مارکیٹ چلا گیا۔ میں چاہتا تھا مہینہ بھر کا راشن بے لے لوں اور کھانا بھی بازار سے لے آؤں۔ جب میں واپس آیا تو صائمہ سیٹنگ سے فارغ ہو چکی تھی۔

’’نازش بھابی تو گھر چلی گئی ہیں ان کے بچوں کا سکول سے آنے کا ٹائم ہوگیا تھا صائمہ نے میرے ہاتھ سے شاپر لیتے ہوئے بتایا۔ کھانے اور چائے کے بعد میں نے صائمہ سے کہا۔

’’میں بینک کا ایک چکر لگا آؤں۔‘‘
’’جلدی آجائیے گا‘‘ صائمہ نے کہا۔ میں سر ہلا کر باہر نکل آیا۔ موسم اچھا تھا اس لئے میں پیدل ہی چل پڑا ۔بینک وہاں سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ عمران مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا’’خان صاحب ابھی میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا۔‘‘

’’کیوں خیریت؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’آج رات کا کھانا آپ لوگ ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘

’’بھئی ابھی تو دوپہر کا کھانا کھا کر سیدھا یہیں آرہا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا کافی دیر تک ہم بینک اور یہاں کے کسٹمرز کے بارے میں باتیں کرتے رہے وہ یہاں کے لوگوں کے رویے اور عادات کے بارے میں مجھے بتاتا رہا۔ اگلے دن میں نے باقاعدہ ڈیوٹی جوائن کر لی۔ وقت پُر سکوں انداز میں گزر رہا تھا کہ ایک دن حسب معمول بینک سے واپس آیا تو صائمہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی کچھ پریشان اور الجھی الجھی دکھائی دی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگی۔

’’سمجھ میں نہیں آتا بچوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اطمینان کی سانس لی۔

’’صائمہ بچے تو شرارتیں کرتے ہی رہتے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہو۔‘‘

’’فاروق! یہ بات نہیں ۔۔۔ان کی شرارتیں تو مجھے بوریت سے بچائے رکھتی ہیں‘‘

’’پھر کیا بات ہے؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’میں بھی کیسی عجیب عورت ہوں آپ تھکے ہوئے آئے ہیں اور میں نے چائے تک کا نہیں پوچھا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھنے لگی تو میں نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا۔

’’نہیں پہلے مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟‘‘

’’دو تین دن پہلے کی بات ہے دونوں بچے بیڈ روم میں کھیل رہے تھے میں کچن میں اپنا کام کر رہی تھی۔ اچانک مومنہ کے زور زور سے ہنسنے کی آواز آئی میں نے دونوں کے لیے دودھ بنایا اور انہں دینے کے لیے گئی تو مومنہ کہنے لگی۔

’’ماما! ابھی میں نے نہیں پینا میں آنٹی کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کہ وہ کمرے میں ایک طرف دیکھنے لگی۔

’’آنٹی بال میری طرف پھینکیں‘‘ پھر حیرت سے کمرے میں چاروں طرف دیکھا’’آنٹی۔۔۔آپ کہاں چلی گئی ہیں؟‘‘

’’میں نے ادھر ادھر دیکھا کمرے میں بچوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ مومنہ حیران سی متلاشی نظروں سے چاروں طرف دیکھ کر پکار رہی تھی۔

جاری ہے. Please ap log comment me btaya kren k novel kesa lga

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.