ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 31
ﻧﺎﻭﻝ سنائپر
از
ریاض_عاقب_کوہلر
سنائپر قسط نمبر31
ریاض عاقب کوہلر
”اوپر چڑھتے ہیں ۔“وہ چونکہ اس علاقے کو مجھ سے کئی گنا زیادہ بہتر جانتی تھی اس لیے میں نے مشورہ دینے پر اکتفا کیا تھا ۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے اوپر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔اچانک آئی کام میں مجھے ایک آدمی کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ انعام خان اور ثمین خان کی لاشیں ملنے کے بارے کمانڈر کو بتا تے ہوئے یہ وضاحت بھی کر رہا تھا کہ دونوں کو مرے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی ۔
ساری بات سنتے ہی کمانڈر مختلف پارٹیوں کو اس علاقے کو گھیرنے کا حکم دینے لگا ۔نیچے نالے میں سفر کرنے والے دوونوں آدمی بھی مجھے پیچھے مڑ کر تیزی سے واپس حرکت کرتے نظر آئے ۔
میں نے پلوشہ کو صورت حال سے آگاہ کیا ۔
”فی الحال وہ پیچھے ہی متوجہ رہیں گے ۔ہم جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائیں اتنا ہی بہتر ہے ۔“
بلندی پر پہنچ کر ہم دوسری جانب اتر گئے ۔وزیرستان میں چار سو پہاڑ ہی پہاڑ ہیں اور ہر پہاڑ سے کئی نالے نکل کر مختلف سمتوں میں بہتے ہیں ۔نالے بالکل ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں ۔ خشک اور بہتے نالے کی بہتات کے علاوہ وہاں درخت بہت زیادہ ہیں ۔اس لیے کسی چھپنے والے کو تلاش کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی مسئلہ ہے کہ مقامی آبادی میں کہیں پناہ لینے کی صورت ڈھونڈنے والوں کو آسانی رہتی ہے ۔اور اگر ہم مقامی آبادی میں نہ جاتے تو کھانے پینے کے لیے کہاں سے کوئی چیز پیدا کرتے ۔جس علاقے میں ہم موجود تھے وہاں اس وقت تک پاک آرمی نہیں پہنچ پائی تھی ۔پاک آرمی ان دنوں زیادہ تر وانہ اور اس کے مضافات میں آپریشن کر رہی تھی ۔کچھ آگے کی پہاڑی بلندیوں پر بھی پاک آرمی نے اپنی پوسٹیں بنا لی تھیں مگر وہاں تک آنے جانے کے لیے بغیر QRF(Quick Reaction Force)کے حرکت نہیں کی جاتی تھی ۔وہاں تک جانے والے آرمی کے قافلوں پر بھی دہشت گرد چاروں طرف سے حملے کرتے ۔دوسری جانب اترنے سے پہلے پلوشہ نے یہ کہہ کر زنانہ گھگرا اور دوپٹا پھینک دیا تھا کہ دہرے لباس کی وجہ سے اسے سخت گرمی لگ رہی تھی ۔
میں نے بیرٹ ایم 107کا تھیلا زبردستی اس سے لے کر اپنی پیٹھ پر پہن لیا تھا ۔میرے پاس قبیل خان کے آدمیوں سے چھینی ہوئی ہوئی کلاشن کوف تھی جبکہ اس نے اپنی کلاشن کوف اٹھائی ہوئی تھی ۔ سنائپر رائفل سے چلتے پھرتے فائر کرنا مشکل ہوتا ہے ۔کلاشن کوف اسالٹ رائفل ہے ۔اس سے برسٹ اور سنگل راﺅنڈ فائر کیے جا سکتے ہیں۔ اس وجہ سے حرکت میں رہتے ہوئے اس کا استعمال بہترین رہتا ہے۔ گو ہمارے پاس بریٹا اور گلاک جیسے بہترین پستول بھی موجود تھے لیکن پستول ہمیشہ قریب کی لڑائی میں اچھے رہتے ہیں ۔اور کارکردگی میں کلاشن کوف پستول سے کہیں بہتر ہوتی ہے ۔یہ اور بات کہ ایک گلاک پستول کی قیمت سے کئی کلاشن کوفیں خریدی جا سکتی ہیں ۔
نیچے اترتے ہوئے ایک دم ہمارے سامنے ایک شخص درختوں کے جھنڈ سے برآمد ہوا ۔پلوشہ نے کلاشن کوف سیدھی کی ہی تھی کہ میں نے چیخ کر کہا ۔
”ٹھہرو ۔“وہ ایک دم رک گئی ۔درختوں کے جھنڈ سے برآمد ہونے والا آدمی بھی ہمیں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا ۔وہ مقامی آدمی ہی تھا ۔پلوشہ نے اس سے اس جگہ کے بارے دریافت کیا اور اس کے جواب دینے پر پوچھنے لگی ۔”وشلام گاﺅں یہاں سے کتنی دور ہے ؟“
وہ دور ایک پہاڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔”اس پہاڑ کے دوسری جانب وشلام ہے ۔یہاں سے دس بارہ کلومیٹر فاصلہ ہو گا ۔
میں نے پوچھا ۔”یہاں کوئی اجنبی افراد آپ نے دیکھے ہیں ؟“
”ہاں ،کچھ لوگ ہمارے گاﺅں میں آئے تھے اور وہ ........“ایک لمحہ رک کر وہ ہم سے نظریں چراتے ہوئے بولا ۔”کسی کو تلاش کر رہے تھے ۔“
”ہونہہ!....“ایک گہرا سانس لیتے ہوئے پلوشہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔”اس کا کیا کریں؟“
میں بے چارگی سے بولا ۔”ایک بے گناہ آدمی کا ہم کیا کر سکتے ہیں ؟“
”کہیں باندھ دیتے ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے اردومیں کہا تھا ۔اس کے منہ سے انگریزی اور اردو بہت ہی پیاری لگتی تھی ۔
میرے ہونٹوں پر کھلتی ہنسی دیکھ کر وہ برا مناتے ہوئے بولی ۔”کیا غلط بول گئی ہوں ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلا کر اردو میں کہا ۔”اتنے پیارے انداز میں نہ بولا کرو میری نظر لگ جائے گی ۔وہ کیا کہتے ہیں ....
ایک تو لہجہ اس قدر شیریں
اور پھر بولتی بھی اردو ہو
میری بات سنتے ہی اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ کھل گئی تھی ۔”جھوٹ بولنا کب سے سیکھ لیا ہے ۔“
”کیا یہ جھوٹ تھا ۔“اب برا منانے کی باری میری تھی ۔
”نہیں ....“اس نے شوخی بھرے انداز میں قہقہہ لگایا ۔ ”میں سچ میںہوں ہی اتنی پیاری ۔“
”اچھا ایسا ہے اسے یونھی چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ نہ ہوں بندھے بندھے پورا ہی ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ اس اجنبی کی متوجہ ہوئی ۔”تمھارے لیے بہتر تو یہی ہوگا کہ کسی کو ہمارے بارے نہ بتانا ۔دوسروں کی دشمنی میں ٹانگ اڑانے والے عموماََ گھاٹے میں رہتے ہیں ۔“
”کسی کو نہیں بتاﺅں گا جی ۔“وہ فوراََ پلوشہ سے متفق ہو گیا تھا ۔
”جاﺅ ۔“اسے سر کے اشارے جانے کا کہہ کر وہ میرے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔
ہم ایک مرتبہ پھر آگے روانہ ہو گئے تھے ۔اسی دوران مجھے آئی کام میں ایک بندے کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ کرم خان کی لاش ملنے کی بابت کمانڈر کو بتا رہا تھا ۔وہ جگہ انھوں نے ہمیں تلاش کرنے کے لیے گھیری تھی ۔ہم تو انھیں نہ مل سکے اپنے ساتھی کی لاش انھیں مل گئی تھی ۔چند منٹ بعد انھیں دوسری دو لاشیں بھی مل گئی تھیں ۔وہ کمانڈر کسی دوسرے کمانڈر کو یہ بات بتا رہا تھا کہ ہم اس کے گھیرے سے نکل کر آگے بڑھ گئے ہیں ۔اس کے ساتھ اس نے دو تین گاﺅں کے نام لے کر کہا تھا کہ ہم ان میں سے کسی ایک جانب جا سکتے تھے ۔ان میں وشلام گاﺅں کا نام بھی شامل تھا ۔دوسرے کمانڈر نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ہم یا تو وشلام جائیں گے ۔یا پھر اب تک وہیں کہیں چھپے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ان تینوں گاﺅں کے مضافات میں اپنے لشکری پھیلانے کا عندیہ دے دیا تھا ۔
”تم نے وشلام گاﺅں کا پتا کس لیے معلوم کیا ہے ؟“اچانک مجھے پلوشہ کا اجنبی سے کیا جانے والا سوال یاد آیا اور میں نے پوچھنے میں دیر نہ لگائی ۔
”بھول گئے ،وشلام خوشحال خان محسود کا گاﺅں ہے ۔“
”تو خوشحال خان محسود سے ہمیں کیا لینا دینا ؟“
اس نے تفصیل بتلاتے ہوئے ۔”خوشحال خان محسود، قبیل خان کا دشمن ہے اور اس وقت ہمیں اسی کے پاس پناہ مل سکتی ہے۔ یاد نہیں پچھلے دنوں قابل خان نامی آدمی کو ہم نے قبیل خان کے آدمیوں کے چنگل سے چھڑایا تھا ۔“
”پھر تمھیں اس اجنبی سے وشلام گاﺅں کا پتا معلوم نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“
”صحیح کہا ۔بس جلدی میں پوچھ بیٹھی ۔“
”ویسے ضروری تونہیں کہ اس اجنبی سے قبیل خان کے آدمیوں کی ملاقات ہوجائے ۔“میں نے خود تسلی دینے کی کوشش کی ۔
پلوشہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”وہ وزیر قوم کا آدمی تھا ۔اور قبیل خان بھی وزیر ہے ۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں تک یہ معلومات نہ پہنچائے ۔“
”ہاں تمھاری قوم ہے نا اور تم اپنے لوگوں کو چھی طرح جانتی ہو ۔“میں نے افسوس کا اظہار کیا ۔
”اسی لیے تو کہہ رہی تھی مگر آپ کچھ زیادہ ہی رحم دل بن گئے تھے ۔“
میں بے بسی سے بولا ۔”کسی بے گناہ کو مارنے پر بھی تو دل راضی نہیں ہوتا ۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی ۔”یہ بات اس وقت تو یاد نہیں آئی تھی جب مجھے باندھ کر پٹائی کر رہے تھے ۔“
” یہ بھی معلوم ہے نا کہ بعد میں کتنا پچھتایا تھا ؟“
”پچھتاتے تو بعد میں آپ کا رویہ ایسا نہ ہوتا ۔“
”یہ بتاﺅ کیا اس کے بعد تمھاری کسی بات سے انکار کیاتھا؟کیا تمھیں جانے دیا حالانکہ سردار تمھیں جانے کا کہہ چکا تھا ،جو چیز مانگی تمھارے حوالے کی کہ نہیں ،ثقلین خان کی شادی میں تمھارا مکمل ساتھ دیا کہ نہیںاور ........“
”اچھا بس بس ، سب معلوم ہے مجھے ۔“ قطع کلامی کرتے ہوئے اس نے جذبات سے لبریز لہجے میں کہا ۔”آپ کی ایک ایک حرکت یاد ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اتنی اہمیت دیتے رہے ۔ بہ ظاہر بے زاری ظاہر کرتے تھے اور چھپ چھپ کر مجھے گھورتے رہتے تھے ۔“
”پلوشے !....یاد رکھنا اگر تم نے بھی مجھے چھوڑدیا تو اس بار میں زندہ نہیں رہ پاﺅں گا ۔“
”بکواس نہ کیا کریں سمجھے ۔“میرا ہاتھ اپنی جانب کھینچ کر وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔ ”کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اپنے راجو کو چھوڑ کر چلی جاﺅں ۔“
”ممکن تو نہیں ہے لیکن اپنی بدبختی سے ڈرتا ہوں ۔“اس کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتے ہوئے میں نے آہستہ سے اسے خود سے جدا کیا کہ ہم ابھی تک خطرے کی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے ۔
میرے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں بولی ۔”مقدر میرے اللہ پاک سے بڑا نہیں ہے ۔ میں نے اللہ پاک سے آپ کو مانگا ہے اور وہی مقدروں کا بنانے والا ہے ۔“
اس کے اعتماد پر میں نے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا ۔یہ تو مجھے پہلے دن سے معلوم تھا کہ میں اسے اچھا لگتا ہوں ۔لیکن اسے اتنا زیادہ پیارا اور عزیز ہوں اس بارے مجھے ابھی اندازہ ہو رہا تھا ۔یہی وجہ تو تھی کہ وہ ہر وقت مجھے چھیڑتی رہتی ،مذاق مذاق میں اپنے رشتے کا ذکر چھیڑ بیٹھتی،بے تکلف ہو کر میری گود تک میں بیٹھ جاتی ۔
نالے میں اتر کر ہم نشیب ہی میں چلتے ہوئے اس پہاڑی کی جانب روانہ ہو گئے جس کے دوسری جانب وشلام گاﺅں موجود تھا ۔ساڑھے چار ہونے والے تھے اڑھائی تین گھنٹوں بعد اندھیرا چھا جانا تھا ۔ہم اندھیرے میں زیادہ محفوظ طریقے سے سفر کر سکتے تھے اور یہی بات میں نے فوراََ پلوشہ کو کہہ دی تھی ۔
”اگر کسی سے رستے میں مڈبھیڑ ہو گئی تب چھپنے کا سوچیں گے ۔“
مجھے بھی اس کامشورہ معقول لگا تھا ۔
وشلام گاﺅں کی پہاڑی عبور کرتے ہوئے ہم مزید محتاط ہو گئے تھے ۔پہاڑکی بلندی پر پہنچنے تک سورج مغربی جانب جھکتے ہوئے پیلا ہو چلا تھا۔اس پہاڑی کے دامن میں ایک کھلا میدان تھا گو اس جگہ کو بالکل ہموار تو نہیں کہا جا سکتا تھا پھر بھی گھر بنانے کے لیے بہت موزوں جگہ تھی ۔یہی وشلام گاﺅں تھا ۔ وہاں درخت نہ ہونے کے برابر تھے البتہ گاﺅں سے باہر چاروں طرف موجود پہاڑوں پر کافی گھنے جنگلات موجود تھے ۔قبیل خان کے آدمی وشلام گاﺅں کے بہت زیادہ قریب نہیں جا سکتے تھے کیونکہ وشلام گاﺅں کے محسود انھیں دیکھ لیتے تو ان کے درمیان جنگ چھڑ جانا تھی ۔
میں نے دوربین نکال کر دائیں بائیں کا جائزہ لیا لیکن کوئی حرکت نظر نہ آئی ۔البتہ گاﺅں میں لوگوں کی حرکت نظر آرہی تھی اور لازمی بات ہے وہ محسود ہی تھے ۔اس کے باوجود مجھے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا مناسب لگا ۔یہی بات میں نے پلوشہ کو کہی ۔
”اندھیرا ہونے کے بعد ہی وشلام میں گھسیں گے ۔“
”راجو!....مجھے سخت بھوک لگی ہے ۔میرا تو خیال ہے چلتے ہیں۔ یہاں اریب قریب کوئی بندہ بھی نظر نہیں آرہا ۔“
”جیسا مناسب سمجھو ۔“میں نے بھی رکنے پر اصرار نہیں کیا تھا کہ پلوشہ کی ادنا سی تکلیف بھی مجھے گوارا نہیں تھی ۔
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”آپ اتنی جلدی میری ہر بات کیوں مان لیتے ہیں ....اس طرح تو میں بالکل لاڈلی ہو جاﺅں گی ۔یہ نہ ہو بعد میں اتنی سر پر چڑھ جاﺅں کہ آپ تنگ آنے لگیں ۔“
”تنگ تو نہیں آﺅں گا ،البتہ جب غصہ آ گیا اس دن خوب پٹائی کروں گا ،اتنی کہ تمھیں غار والی مار بھول جائے گی ۔“
”اچھا اتنی ہمت ہے ۔“وہ ناز بھرے لہجے میں پوچھنے لگی ۔
”آہ....کاش ہوتی ۔“میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے بے بسی ظاہر کی ۔
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی ۔”اچھا راجو !....سچ بتائیں ،جب آپ کو معلوم ہوا تھا کہ میں قبیل خان کی دشمن ہوں اور آپ نے بے گناہ و بے قصور ہی مجھے اذیت کا نشانہ بنا ڈالا ہے تب آپ کو کیسا محسوس ہوا تھا ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا اچانک دھماکے کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔ گولی کا نشانہ ہم ہی تھے ۔سو ڈیڑھ گز کے فاصلے سے چلائی جانے والی گولی شوں کرتی ہوئی ہمارے قریب سے گزر کر چار پانچ گز دور موجود درخت کے تنے میں پیوست ہو گئی تھی ۔
”نیچے لیٹو ۔“چیخ کر پلوشہ کو کہتے ہوئے میں خود بھی لیٹ گیا تھا ۔وہاں چھدرے چھدرے درخت موجود تھے ۔گولی چلانے والے نے اگر ہمارے قریب پہنچنے کی کوشش کی ہوتی تو لازماََ نظر آجا تا ۔ اسی وجہ سے اس نے ہمیں دور سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ۔
ہمارے لیٹتے ہی دوتین اور گولیاں چلیں لیکن زمین پر لیٹا ہونے کی وجہ سے اب ہم واضح ہدف نہیںرہے تھے ۔میں نے فائر آنے کی جگہ کی طرف نظریں دوڑائیں ۔لیکن کچھ نظر نہ آیا ۔اسی وقت پلوشہ نے سیفٹی لیور نیچے کرتے ہوئے دو تین گولیاں اس جانب جھونک دیں ۔ان کی طرف سے بھی جواب دیا جانے لگا ۔لیکن یہ اندھی فائرنگ تھی ۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ کافی دیر سے آئی کام پر ان میں سے کسی کی آواز نہیں آ رہی تھی ۔یقینا جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھی کا آئی کام ہمارے پاس ہے تبھی انھوں نے چینل تبدیل کر دیا ہوگا ۔ یوں بھی وہ زیادہ سے زیادہ چینل ہی تبدیل کر سکتے تھے کہ آئی کام کے علاوہ ان کے پاس رابطے کو کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں تھا ۔
میں چینل تبدیل کر نے لگا جلد ہی ان کی آواز سنائی دینے لگی تھی ۔”وہ بچ گئے ہیں کمانڈر!.... آپ مزید آدمی بھیجیں ،ایک بار گھیرے میں آگئے تو پھر نہیں نکل سکیں گے ۔“
”آدمی آرہے ہیں تمھاری جانب ۔بس تم انھیں وہاں سے غائب نہیں ہونے دینا ۔اور خود آڑ ہی میں رہنا یہ نہ ہو اس خبیث کی گولی کا نشانہ بن جاﺅ ۔“خبیث اس نے مجھے ہی کہا تھا ۔
”پلوشے !....یہاں سے رینگتے ہوئے آگے بڑھو ۔دشمن ہمیں گھیرنے کی کوشش میں ہیں ۔“
کوئی جواب دیے بغیر وہ ناک کی سیدھ میں رینگنے لگی ۔پتھریلی زمین پر کہنیوں کے بل رینگنا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے لیکن جب جان پر بنی ہو تو اس قسم کی تکالیف کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔مخالف مسلسل اس جگہ کو نشانہ بنائے ہوئے تھے ۔ایک موٹے تنے والے درخت کے قریب پہنچ کر میں تنے کی آڑ لے کر اٹھ بیٹھا ۔شام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا ۔لیکن فی الحال دکھاﺅ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا ۔ آئی کام میں ہم پر فائر کرنے والے کمانڈر کو پکار رہے تھے کہ ہم بھاگنے کی کوشش میں ہیں ۔
کمانڈر نے فوراََ کہا ۔”انھیں جانے نہیں دینا ۔“
”جی کمانڈر ۔“کہہ کر ان میں سے ایک نے وہ غلطی کی جو اسے نہیں کرنی چاہیے تھی ۔نتیجہ اسے سر میں لگنے والی گولی کی صورت ملا تھا ۔ میرے لیے سو گز کے فاصلے سے ہدف کے سر میں گولی مارنا روٹی کا نوالہ کھانے سے بھی آسان تھا ۔ساتھی کے گرتے ہی دوسرے نے ایک دم فائر کھول دیا تھا ۔لیکن اتنی عقل مندی اس نے ضرور دکھائی تھی کہ اپنا سر اور باقی جسم آڑ کے پیچھے ہی چھپائے رکھا تھا ۔پلوشہ نے زمین پر لیٹ کر ان کی طرف دو تین فائر جھونک دیے تھے میں نے ایسا کرنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہ کی بغیر ہدف کے نظر آئے گولی چلانا میری فطرت نہیں تھی ۔اپنے محترم استاد راﺅ تصور کے فرمان کے مطابق میں ایک گولی کے بدلے ایک دشمن گرانے کا قائل تھا ورنہ گولی ٹریگر سے انگلی پرے ہی رکھتا تھا ۔پلوشہ البتہ سنائپر نہیں تھی اس لیے اپنی ایک میگزین وہ یونھی ہوا میں جھونک چکی تھی ۔دشمن کا فائر رکتے ہی ہم دونوں اسی درخت کی آڑ لے کر جھکے جھکے وہاں سے دور ہٹنے لگے ۔پندرہ بیس گز کے فاصلے پر موجود دوسرے درخت کی آڑ میں بیٹھ کر میں نے مڑ کر دیکھا مگر مخالف وہیں لیٹا ہوا کمانڈر کو اپنے ساتھی کے مرنے کی بابت بتا رہا تھا ۔
”کمانڈر !....سخی جان کو گولی لگ گئی ہے ۔“
”بچ تو گیا ہے نا ؟“کمانڈر نے پریشانی سے پوچھا ۔
”سر میں گولی لگی ہے ۔“اس مرتبہ اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا تھا ۔
”تم الو کے پٹھوں کو بتایا بھی ہے کہ اس خبیث کو موقع نہ دو ،مگر یہ بات تمھاری سمجھ میں اس وقت آتی ہے جب تمھاراسر باقی نہیں رہتا ۔“
”میں نے اسے منع بھی کیا تھا لیکن ان دونوں کے فرار ہونے کی وجہ سے وہ بے اختیار اپنی آڑ سے باہر ہو ااور اس سے پہلے کہ میں اسے منع کرتا گولی اسے لگ چکی تھی ۔“
”اپنے باقی ساتھیوں کے آنے تک وہیں ٹکے رہنا ،بس ان کے جانے کی سمت کو نظر میں رکھنا۔“
”دونوں وشلام کی جانب ہی جا رہے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے کمک تمھارے پاس پہنچنے ہی والی ہو گی ۔اور اگر وہ وشلام میں گھسنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میرا انتظار کرنا کہیں محسودوں کے ساتھ لڑائی نہ شروع کر دینا ۔“
اس نے مودّبانہ انداز میں کہا ۔”ٹھیک ہے جی ۔“
ان کی باتیں سنتے ہوئے ہم آگے بڑھتے گئے ۔جونھی دشمن اور ہمارے درمیان جھاڑیوں کا جھنڈ آ یا ہم اٹھ کر بھاگ پڑے ۔ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دشمن کی مدد کس جانب سے آنا تھی ۔اترائی کی وجہ سے ہماری رفتار کافی تیز تھی ۔پندرہ بیس منٹ دوڑنے کے بعد ہم ایک دم درختوں کی حد سے نکل کر کھلی جگہ پر آئے سامنے ہی مکانوں کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا ۔ابھی ہم پہلے مکان کے قریب پہنچے ہی تھے کہ دیوار کے عقب سے چار آدمی ہاتھوں میں ہتھیار تھامے باہر نکلے ۔
”خبردار !....ہاتھ اوپر کر لو ۔“ان میں سے ایک کرخت آواز میں بولا ۔
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔مدہم پڑتی روشنی میں مجھے اس کے چہرے پر چھائے اطمینان بھرے تاثرات نے چونکا دیا تھا ۔مجھے کوئی جواب دینے کے بہ جائے وہ مسلح افراد کو مخاطب ہوئی ۔
”ہم دوست ہیں اور مدد مانگنے آ رہے ہیں ۔“
”پہلے اپنا تعارف کراو۔“اس مرتبہ بھی اسی نے بات کی جس نے ہمیں للکارا تھا ۔
”ہمارا تعارف سردارخوشحال خان کا ماموں زاد بھائی ،قابل خان محسود کروائے گا ۔“
”آجاﺅ ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں پہلے والی تندی غائب تھی ۔
ہم اپنے ہتھیار کندھے سے لٹکا کر ان کے قریب ہو گئے ۔مجھ سے مصافحہ کر کے انھوں نے پلوشہ کی جانب بھی مصافحے کا ہاتھ بڑھایا ۔وہ تکلفی سے سے تمام سے مصافحہ کرنے لگی ۔اس سے پہلے بھی بغیر کسی جھجک کے مردوں سے مصافحہ کیا کرتی تھی ۔لیکن نامعلوم اس وقت مجھے اس کا یوں مصافحہ کرنا بہت زیادہ برا لگا تھا ۔پلوشہ ان سے مصافحہ کر کے میرے قریب ہوتے ہوئے پوچھا ۔”آپ کو چوٹ تو نہیں لگی ہے نا ؟“
میں کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا ۔مجھے ابھی تک اس کا مصافحہ ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔حالانکہ اس سے پہلے وہ مردوں میں ناچتی رہی تھی ۔اور لڑکے کا بھیس اپنانے کی وجہ سے ہر کسی سے بے تکلف ہو کر مصافحہ بھی کر لیتی تھی ۔لیکن اس سب کے باوجود مجھے بہت برا محسوس ہو رہا تھا ۔
پلوشہ کو بھی میری خاموشی ظاہر ہو گئی تھی ۔”راجو !....کیا بات ہے ۔“میرا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا ۔
اس بار بھی میں کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا ۔
”اے راجو !....کیا اتنا اعتبار نہیں ہے اپنی پلوشے پر ۔“اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔ کہتے ہیں محبت کرنے والے بغیر بتائے ایک دوسرے کے احساسات جان لیتے ہیں اور میرے دل کی بات جانتے ہوئے اس نے اس مقولے کو سچا ثابت کر دیا تھا۔
”اچھا آئندہ کسی سے بھی ہاتھ نہیں ملاﺅں گی ۔“ میزبانوں کی پروا کیے بغیر اس نے میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے روک لیا تھا ۔اس لہجے میں شامل تشویش سے مجھے خوشی ہوئی تھی ۔
ہمارے میزبانوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی ۔ان میں سے ایک دبی زبان میں دوسرے سے ساتھی سے کہنے لگا ۔
”ہلک دے خو جینئی پشانتِ خبرے کوی ۔“(لڑکا ہو کر لڑکیوں کی طرح بات کر رہا ہے)۔اس کی آواز میرے کانوں تک پہنچ گئی تھی ۔میں اسے نظر انداز کرتا ہوا پلوشے کو مخاطب ہوا ۔
”پاگل نہ بنو میں بالکل بھی خفا نہیں ہوں ۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”کہا تھا نہ میری غلطیوں اور کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہنا ۔اور خدارا اس طرح نظر انداز نہ کیا کرو میراسانس رکنے لگتا ہے ۔“
”پاگل نہ ہو تو ۔“چاہت بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں اسے بازوسے پکڑ کر ساتھ چلانے لگا ۔ہمارے میزبان پھررہنمائی کے لیے آگے بڑھ گئے ۔
وہ سیدھا ہمیں خوشحال خان کی وسیع بیٹھک میں لے گئے ۔قبیل خان کے آدمیوں کے ساتھ ہمارے فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے وہ اس وقت بیٹھک ہی میں موجود تھا ۔چند اور افراد بھی بیٹھک میں بیٹھے تھے جبکہ ہمیں لانے والے انھوں نے صورت حال معلوم کر نے کے لیے جنگل کی طرف روانہ کیے تھے جنھیں ہم راستے میں مل گئے اور وہ ہمارے ساتھ ہی واپس مڑ آئے تھے ۔بیٹھک کے وسیع صحن میں چاروں اطراف میں چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔میں نے جاتے ہی خوشحال خان اور حاضرین محفل سے مصافحہ کیا ۔پلوشہ البتہ ایک جانب خاموشی سے کھڑی رہی ۔اس کی طرف سے پہل نہ ہوتی دیکھ کر کسی نے بھی از خود اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
ہمیں لانے والوں میں سے ایک آگے ہو کر خوشحال خان کو بتایا کہ ہم اس کے ماموں زاد بھائی قابل خان کے دوست ہیں اورفائرنگ کرنے والے ہم ہی ہیں ۔
”بیٹھیں ۔“خوشحال نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں ایک خالی چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ اور ہمارے بیٹھتے ہی مستفسرا ہوا ۔”آپ لوگ ہمارے علاقے میں کیوں فائرنگ کر رہے تھے ؟“میرے خیال میں چونکہ قبیل خان کے آدمی تلاشی لینے کے لیے وشلام گاﺅں میں نہیں آئے تھے اس لیے خوش حال خان کو اصل صورت حال معلوم نہیں تھی ۔بلکہ قبیل خان کے آدمی اگر وہاں آتے بھی، تو کسی نے انھیں گاﺅں کی تلاشی لینے کی اجازت نہیں دینا تھی ۔
”فائرنگ ہم نہیں قبیل خان کے آدمی کر رہے تھے ۔ہم نے تو اپنے بچاﺅ کے لیے جوابی فائرنگ کی ہے ۔“
اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”معاملہ کیا ہے ؟ دوسرا دن ہے قبیل خان وزیر کے آدمی آپس پاس کے علاقوں میں کسی کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔بلکہ اب تو انھیں جہاندادخان کے لشکری کہا جائے گا۔“
”وہ قبیل خان کے قاتل کوتلاش کرتے پھر رہے ہیں ۔“
”تو آپ لوگوں پر انھوں نے غلطی سے گولیاں چلائی ہیں ؟“
میں اطمینان سے بولا ۔”نہیں ،خیرغلطی تو خیر نہیں کہہ سکتے کہ ہم دونوں ہی قبیل خان کے قاتل ہیں ۔“
”کیا ؟“اس بار اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”جی ہاں ۔اصل بات تو یہی ہے ۔“
”تو آپ لوگ یہاں کیا لینے آئے ہیں ؟“
”پناہ ۔“
اس نے فوراََ انکار کرتے ہوئے کہا۔”میں قبیل خان کے قاتلوں کو پناہ دے کر ایک نئی جنگ نہیں چھیڑ سکتا ۔اس لیے آپ لوگ کھانا وغیرہ کھاکر تشریف لے جائیں ۔“
”قبیل خان آپ کا بھی تو دشمن تھا ۔“پلوشہ نے پہلی مرتبہ زبان کھولی ۔
”بچے آپ ان باتوں کو رہنے دیں ،آپ کا بڑا بات کر رہا ہے ۔“پلوشہ کو کم سن لڑکا سمجھتے ہوئے خوشحال خان نے اس کی بات کو درخور اعتنا ءنہیں جانا تھا ۔“
”چلو یہی بات میں دہرائے دیتا ہوں ،دشمن کے دشمن تو دوست ہوتے ہیں نا ؟“
وہ مسکرایا ۔”تو میں نے کب آپ لوگوں کو دشمن سمجھا ہے ۔“
میرے کچھ کہنے سے پہلے بیٹھک کا صحن ۔”اسلام علیکم !“کی آواز سے گونج اٹھاتھا ۔آنے والا قابل خان تھا ۔وہی قابل خان جس کی جان ایک مرتبہ ہم دونوں نے بچائی تھی ۔صحن میں جلتی ٹیوب لائیٹس کی روشنی میں اس نے ہمیں پہچاننے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔ وہ فوراََ۔”پہ خیر ....پہ خیر۔“ کہتے ہوئے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہماری جانب بڑھا ۔میں نے اٹھ کر اس سے معانقہ کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔
”میرا ساتھی لڑکا نہیں ،لڑکی ہے ۔اس لیے اس سے ہاتھ وغیرہ ملانے سے گریز کرنا ۔“
وہ حیرانی سے بڑبڑایا ۔”عجیب بات ہے ،بہ ہرحال ٹھیک ہے ۔“
مجھ سے معانقہ کر کے وہ خوش حال خان کی طرف متوجہ ہوا ۔”بھائی جان !....اس دن انھی دو آدمیوں نے میری جان بچائی تھی ۔“یہ کہتے ہی وہ میرا ہاتھ تھام کر میرے ہمراہ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
”ہونہہ!....“خوش حال خان ایک گہرا سانس لیتے ہوئے حاضرین محفل کو مخاطب ہوا ۔ ”آپ لوگ تیاری کر کے اپنے پہاڑی مورچوں پر پہنچ جائیں ۔“گویا اس نے ہمیں پناہ دینے کا ارادہ کر لیا تھا ۔
ہمارے علاوہ وہاں بیٹھے تمام لوگ اثبات میں سر ہلا کر بیٹھک سے نکلنے لگے ۔
خوشحال خان ،قابل خان کو مخاطب ہوا ۔”آپ مہمانوں کو وقت دیں میں بھی اوپر جا رہا ہوں۔“
”آپ لوگ یقیناکھانا کھا کر ہی آرام کرنا پسند کریں گے ؟“قابل خان ہم سے مستفسر ہوا ۔
میں نے بلا تکلف کہا ۔”جی ہاں ،سخت بھوک لگی ہوئی ہے ۔“
”ٹھیک ہے میں کھانا لاتا ہوں ،پھر گپ شپ کرتے ہیں ۔وہ بھی بیٹھک سے باہرنکل گیا ۔
”یہ گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں پر چڑھنے کی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔“قابل خان کے جاتے ہی میں پلوشہ کو مخاطب ہوا۔
”وزیروں اور محسودوں میں جب بھی جنگ ہوتی ہے وہ گاﺅں سے باہر نکل کر ہوتی ہے ۔ایک دوسرے کی عورتوں اور بچوں پر کوئی ہتھیار نہیں اٹھاتا ۔اب سارے مرد گاﺅں چھوڑ کر پہاڑوں پر پہنچ جائیں گے ۔اور پھر جب تک صلح کی بات چیت نہیں ہوتی فائرنگ ہوتی رہے گی ۔
میں نے پوچھا ۔”گویا جہانداد خان ہماری بازیابی کے لیے ضرور لڑائی کرے گا ؟“
”اگر اس نے لڑائی نہ چھیڑی تو یہ لوگ واپس گھروں میں آجائیں گے ۔لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جب تک ہم یہاں ہیں یہ ہم پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے ۔البتہ تمام قتل ہوگئے تو علاحدہ بات ہے ۔“
میں نے پریشانی بھرے لہجے میں کہا ۔”ویسے یہ بہت غلط ہو گا اگر ہماری وجہ سے دو قبیلوں میں جنگ چھڑ جائے ۔“
”آپ فکر نہ کریں یہ یہاں معمول کی بات ہے ۔اور پھر وقتی طور پر یہاں پناہ لینا ہماری مجبوری تھی ورنہ جس انداز میں جہاندادنے ہمیں پکڑنے کے لیے اپنے لشکر کو تمام علاقے میں پھیلایا ہوا ہے مجھے ڈر تھا کہ ہم نے پکڑے جانا تھا ۔
”میں اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہو گیا ۔
وہ میرا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر سہلانے لگی ۔پر مشقت زندگی گزارنے کی وجہ سے اس کے ہاتھ عام عورتوں کی طرح ملائم تو نہیں تھے ،اس کے باجود اس کے ہاتھوں میں ایک کشش اور جادو چھپا تھا ۔ایک لمحہ خاموشی کے بعد اس نے محبوبانہ انداز میں پوچھا ۔
”قابل خان کو میرے لڑکی ہونے کے بارے بتلا رہے تھے ؟“
”ہاں ،کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بعد وہ تم سے بھی گلے ملنے لگ جائے ۔“
قریب کھسک کر میرے کندھے پر سر رکھتے ہوئے وہ ناز بھرے لہجے میں بولی ۔ ”ایک دم میرے بارے اتنا زیادہ حساس ہو گئے ہیں آپ ۔“
”اپنی چیز کے بارے حساس ہونا پڑتا ہے ۔“
”میں تو پہلے دن ہی سے آپ کی تھی ۔بس آپ ہی جان چھڑانے کی کوششوں میں تھے ۔“
”جان چھڑانا پڑتی ہے میری جان !....کسی لڑکی سے تعلق اس چیز کا نام نہیں ہے کہ بس اس کے خوب صورت بدن سے لذت کشید کی جائے ۔یہ تو مغربی اور مادر پدر آزاد معاشرے کی سوچ ہوتی ہے اسلام میں تو کسی لڑکی کو اپنانے کا فیصلہ کرنے کے بعد ایک مرد کواس عورت کی ہر ضرورت کا کفیل بننا پڑتا ہے ،اس کے دکھ درداپنانے پڑتے ہیں ،اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے ، دنیا کے ہر سردو گرم سے اسے بچانا پڑتا ہے ،اسے تحفظ دینا پڑتا ہے ،زندگی گزارنے کی سہولیات دینا پڑتی ہیں ،دنیا کی ہر مصیبت کے سامنے سینہ تان کراسے پناہ پڑتی ہے ۔تب جا کر” آئی لو یو “جیسے مختصر سے فقرے کا حق ادا ہوتا ہے ۔مختصراََ یہ کہ کسی لڑکی کوشریک حیات بنانے کا مطلب ذمہ داریوں کے لیے اپنا دامن کشادہ کرنا ہوتا ہے ۔اور یہ اتنا آسان تو نہیں ہوتا۔“
وہ لاڈ بھرے لہجے میں پوچھنے لگی ۔”مجھ جیسی لڑکی کے حصول کے لیے بھی یہ ذمہ داریاں نہیں سنبھالی جا سکتیں ؟“
”سنبھال تو لی ہیں چندا۔“ایک ہاتھ اس کے کندھوں کے پیچھے سے لے جا کر میں نے اس کابازو پکڑتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کیا ۔
”راجو !....یونھی ہمیشہ میرے لاڈ اٹھاتے رہو گے نا ،میری ناز برداری کرتے رہو گے نا ،میرا خیال رکھتے رہو گے نا ،کسی کو مجھ سے زیادہ اہمیت تو نہیں دو گے نا ،میری غلطیوں کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہو گے نا ؟بتاﺅ نا راجو!“اس نے بھی اپنی بانہیںمیرے گرد لپیٹ لی تھیں ۔
”ہاں ،راجے کی جان،جو قسم چاہے لے لو ۔“
”مرد کی زبان سے بڑی بھی کوئی قسم ہوتی ہے کیا ؟“خوشی سے سرشار لہجے میں کہتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنا سرمیرے کندھے پر ٹیک دیا ۔اس وقت دروازے پر آہٹ ہوئی اور ہم جلدی سے سنبھل کر بیٹھ گئے ۔وہ قابل خان تھا کھانے کے برتن اٹھائے اندر آرہا تھا ۔
”معافی چاہتا ہوں ،فی الحال تو جو پکا تھا وہی لے آیا ہوں کل ان شاءاللہ خصوصی طور پر آپ کی مہمان نوازی کریں گے ۔“
چکن کری کا بھرا ڈونگہ دیکھتے ہوئے میں نے مسکرا کر کہا ۔”اس سے اچھا اور کیاکھلائیں گے بھائی ۔“
کھانے کے برتن ہمارے سامنے رکھتے ہوئے وہ وضاحت کرتا ہوا بولا ۔”یہ تو روزمرہ کا کھانا ہے دوست!....آپ نے بھوکے ہونے کی اطلاع دی ہے تبھی جلدی میں یہی اٹھالایا ورنہ مہمان کے لیے تو کچھ خصوصی ی پکایا جاتا ہے ۔“
”جزاک اللہ ۔“روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے میں نے خلوص دل سے کہا ۔
اس نے پانی کا بھرا جگ ہمارے قریب رکھتے ہوئے کہا ۔”آپ لوگ کھانا کھائیں میں چاے لاتا ہوں ۔“چونکہ میں نے اسے پلوشہ کے لڑکی ہونے کے بارے بتلا دیا تھا اسی وجہ سے وہ وہاں نہیں بیٹھنا چاہ رہا تھا ۔
میں نے کہا ۔”لیکن چاے دودھ والی لانا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے وہ بیٹھک سے نکل گیا ۔اور ہم کھانے پر ٹوٹ پڑے ۔ہمارے کھانے سے فارغ ہونے تک وہ چاے لے آیا تھا۔ہم بہ مشکل ہی چاے پی سکے تھے کہ سردارخوشحال خان دو دراز قامت محافظوں کے ساتھ بیٹھک میں داخل ہوا ۔
”قابل خان !....“اپنے مہمانوں کو اندرکمرے میں لے جاﺅ،جہانداد خان چند منٹ تک خود یہاں پہنچنے والا ہے ۔“
”جی بھائی!....“قابل خان سعادت مندی سے بولا ۔جبکہ میں اور پلوشہ اپنا سامان اٹھا کر خود بہ خود کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے ۔قا بل خان نے زبردستی ہمارے ہاتھوں سے سامان تھاما اور آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا ۔
”آپ یہاں بیٹھیں اور خود اپنے کانوں سے دونوں سرداروں کی بات چیت سن لیں ۔“
میں نے کہا ۔”قابل خان !....کوئی ایسا طریقہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ہمیں حفاظت سے کہیں اور منتقل کر دیں تاکہ دونوں قبیلوں کے درمیان خواہ مخواہ ہونے والاجھگڑا روکا جا سکے ۔“
قابل خان نے خفگی بھرے لہجے میں جواب دیا ۔”دوبارہ ایسا نہ کہنا بھائی !....اگر دونوں قبیلوں کے درمیان جھگڑا چھڑا بھی تو اس کی وجہ جہانداد خان ہو گا ۔اتنا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ قبائلی اپنے مہمانوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔“
”نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا ....“
”آپ ہر قسم کے مطلب کو رہنے دیں بھائی ۔“قابل خان نرمی سے مسکراتا ہوا باہر نکل گیا ۔
تھوڑی دیر بعد ہی جہانداد خان اپنے محافظوں کی معیت میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔وہ ایک دراز قامت شخص تھا ۔لمبی گھنگریالی زلفیں اور گھنی مونچھوں نے اس کے چہرے کو کافی پر رعب بنا دیا تھا ۔اس کے محافظ بھی اسی کی طرح دراز قامت اور مضبوط جثے والے تھے ۔اس کے سر پر رکھی ہوئی سفید قراقلی ٹوپی اور کالی سیاہ واسکٹ اس کی وجاہت میں اضافہ کرتی تھی ۔وہ آمنے سامنے چارپائیوں پر بیٹھ گئے تھے ۔ گفتگو کی ابتدا جہانداد خان ہی نے کی تھی ۔قدوقامت کی طرح اس کی آواز بھی کافی بھاری اور پر رعب تھی۔
”خوشحال خان !....ہمارے دو مجرم وشلام گاﺅں میں چھپے ہوئے ہیں اور ہم انھی کو پکڑنے آئے ہیں ۔یقینا آپ اس ضمن میں ہم سے تعاون کریں گے ۔“
”جہانداد خان !....جب ایک قائلی سردار کسی کو پناہ دیا کرتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پناہ گزین مجرم ہے یا بے گناہ ۔وہ بس اپنے پاس مدد کی درخواست لے کر آنے والے شخص کی مدد کرتا ہے۔اور جہاں تک تعلق ہے ان افراد کو جو ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں پہنچے ہیں تو وہ پناہ گزین نہیں بلکہ میرے محسن ہیں اور محسنوں کی حفاظت کی جاتی ہے انھیں قتل نہیں کرایا جاتا ۔“
”وہ دونوں میرے بھائی قبیل خان کے قاتل ہیں اور دونوں قبائل کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ ہمارے مجرموں کو پناہ نہ دیں ۔ایسی باتوں سے معاہدے ٹوٹ جایا کرتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ایسی چھوٹی سی بات پر ہمارا معاہدہ بھی باقی نہ رہ پائے ۔“ جہانداد خان کے لہجے میں ایک بڑے قبیلے کا سردار ہونے کا زعم ابل رہا تھا ۔اس کی باتوں کے پسِ پردہ واضح دھمکی شامل تھی کہ اگر خوشحال خان اس کے دشمنوں کو اس کے حوالے نہیں کرے گا تو وہ وشلام پر حملہ کر دے گا ۔
خوشحال خان ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔”کیا امن معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل تھی کہ کسی بھی آدمی کو پناہ دینے کے لیے ہم دوسرے قبیلے کی مرضی کے محتاج ہوں گے ۔یا اس سے پہلے علام خیل کا سردار کسی کو پناہ دینے سے پہلے مجھے مطلع کیا کرتا تھا ۔“
”بات کسی کو نہیں لالا قبیل خان کے قاتل کو پناہ دینے کی ہو رہی ہے ۔اور یقینا اگر ہم وشلام کے سردار کے قاتل کو پناہ دیتے تو آپ نے بھی ہم سے یہی مطالبہ کرنا تھا ۔“
”تو کیا آپ ہمارے مطالبے پر اپنے پاس پناہ گزین کسی شخص کو ہمارے حوالے کر دیتے ۔“ خوشحال خان کے لہجے میں طنز کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی ۔
جہانداد خان نے بے پرواہی سے کہا ۔”کبھی ایسا موقع آیا تب دیکھا جائے گا ۔“
”جہانداد خان !....آپ علام خیل کے نئے سردار بنے ہیں کم از کم قبیل خان کے کیے گئے فیصلوں کو نہ بھولیں ۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا،سال ڈیڑھ پہلے ہی سردار قبیل خان ہمارے ایک دشمن کو پناہ دے چکا ہے ۔بلکہ وہ شخص آج بھی آپ کا لشکری ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میں وہ آدمی آپ کے حوالے کرنے کو تیار ہوں آپ ہمارے دشمن ہمارے حوالے کریں ۔“جہانداد خان ہماری دشمنی میں اپنی قبائلی روایات کو پسِ پشت ڈالنے پر تیار ہو گیا تھا ۔
”یقینا آپ کا فیصلہ ایک قبائلی سردار کی شان کے خلاف ہے ۔ہم نے اپنے دشمن کا مطالبہ اسی لیے قبیل خان سے نہیں کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت ہمارے دشمن کو نہ لوٹاتا۔اور یادرکھنا جہانداد خان ،قبائلی سردار جب کسی کو پناہ دیتا ہے تو ہر سود وزیاں کو پسِ پشت ڈال کر دیتا ہے ۔ہم اپنے دشمن کی تاک میں ہیں جب بھی وہ علام خیل کی حدود سے باہر ہمیں ٹکرایا بچ نہیں پائے گا ۔اور یہی مشورہ میں آپ کو بھی دوں گا کہ آپ کے بھائی کے قاتل جب وشلام کی حدود سے نکل جائیں تب آپ ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں ہم دخل اندازنہیں ہوں گے ۔“
”اس کا مطلب ہے آپ انکار کر رہے ہیں ؟“جہانداد خان نے تصدیق چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
”سردار جہانداد !....یقینا آپ کا یہ سوال ایک قبائلی سردار کی شان سے بعید ہے ۔“
جہانداد نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا ۔”خوشحال خان میں یہاں قبائلی سردار کی خصوصیات پر سبق پڑھنے نہیں آیا ،مجھے ہاں یا ناں میں جواب دیں ۔“
”میں جواب دے چکا ہوں ۔“خوشحال خان نے اس کے غصے کی ذرا بھر پروا نہیں کی تھی ۔
جہاندادنے غصے بھری نگاہ خوشحال خان پر ڈالی اور کھڑا ہوگیا ۔اس نے اپنے سامنے پڑے قہوے کی پیالی اور خشک میوہ جات کی ٹرے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا ۔چند لمحے اسے گھورنے کے بعد وہ غضب ناک لہجے میں بولا ۔
”خوشحال خان !....یاد رکھنا اس سب کے ذمہ دار آپ ہوں گے ۔“
خوشحال خان نے سلجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا ۔”جہانداد خان ہر آدمی اپنے فعل کا جواب دہ خود ہی ہوتا ہے ۔میں صرف قبائلی روایات کا پاس رکھ رہا ہوںاور الحمداللہ میں اس بارے کسی بھی ثالث کا فیصلہ ماننے کو تیار ہوں ۔البتہ آپ کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی کا ردعمل ظاہر کرنا ہمارا بنیادی حق ہے اور اس کی ذمہ داری یقینا آپ پر ہو گی نہ کہ ہم پر ۔“
جہانداد خان نے مزید کوئی بات کیے بغیربیرونی دروازے کی جانب قدم بڑھا دیے ۔اس نے خوشحال خان سے الوداعی مصافحہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی ۔
”اب یہ یقینا وشلام پر حملہ کرے گا ۔“میں نے اپنے ساتھ سر جوڑے بیٹھی پلوشہ سے تصدیق چاہی جو اس ساری کارروائی کو دیکھ رہی تھی ۔جہانداد خان کے بیٹھک سے نکلتے ہی ہم دونوں پیچھے ہٹ کر چارپائی پر بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر بعد قابل خان اندر داخل ہوا ۔
”آپ لوگوں نے یقینا علام خیل کے نئے سردار کی گھٹیا باتیں سن لی ہوں گی ۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔پلوشہ البتہ خاموش بیٹھی رہی ۔
”آپ لوگ اب آرام کریں ۔ان شاءاللہ صبح ملاقات ہو گی۔“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ۔کسی نے ٹریگر کو مکمل دبایا ہوا تھا ۔اور اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ میگزین خالی نہیں ہو گئی ۔
میں نے سوالیہ نظروں سے قابل خان کی جانب دیکھا۔وہ چہرے پر دھیمی مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا۔”یہ جہانداد خان کی طرف سے اعلان جنگ تھا ۔“
جاری ہے

No comments: