ناول جنت کے پتے قسط 61
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 61
وہ یوں ہی طویل راہداریوں سے گزرتی جا رہی تھی کہ دفعتا...
حیا!کسی نے اسکے کندھوں کو زرا سا چھوا تو وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے مڑی سانس لمحے بھر کو روکا پھر بحال ہو گیا
بس!ڈر گئیں؟
خاکی پینٹ،بھورے آدھی آستین کی ٹی شرٹ،کندھے پہ بھورا دستی بیگ اور سر پہ سیاہ پی کیپ وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پہت سنجیدگی سے اسےدیکھ رہاتھا وہ لمحے بھر کو تو کچھ کہہ نہیں پائی
ہائیں!اتنی جلدی ڈر گئیں اور کل مجھے کسی نےکہا تھا کہ وہ اکیلے کپادوکیہ میں رہ سکتی ہے۔
چونکہ ابھی وہ گزشتہ رات کیطرح نہیں ڈری تھی سو لمحے بھر میں وہ خود کو سنبھال چکی تھی
کل کسی نےیہ بھی کہا تھا کہ وہ اکیلی نہیں ہے
اوہ!تمہارا باڈی گارڈ تو بھول ہی گیا تھا ابھی کدھر ہے وہ؟وہ دونوں نیم روشن راہ داری کےوسط آمنےسامنے کھڑے تھے
میں مان ہی نہیں سکتی کہ تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے
جہان ایک نظر اس پہ ڈال کر دائیں طرف کمرے میں داخل ہو گیا وہ اسکے پیچھے چلی آئی وہ ایک بڑا سا کمرہ تھا زیرزمین شہر کا کچن ایک طرف زمین پہ چکور چولہا بنا تھا(جیسے پاکستان میں گاوں میں مٹی کے چولہے ہوتے ہیں)اور دوسر طرف دیور میں کھڑکی کی مانند چوکور بڑا سا خلا تھا اسے آپنا کچن یاد آیا جہان سے لاونچ میں جھانکنے کیلئے آدھی دیوار جتنا خلا تھا
کچھ کہا تھا میں نے کل حیا!وہ اس کھلی بغیرپٹ کی کھڑکی کیساتھ ٹیک لگائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا ہو گیا
کیا؟وہ انجان بن گئی
تم واپس جا رہی ہو یا نہیں
دیور پہ لگے بلب کی روشنی جہان سے ٹکر کر گزرتی تھی یوں کہ سامنے والی دیوار پہ اسکا سایہ پڑنے لگاحیا اسکے بالکل مقابل چولہے کی چوکی پہ آکر بیٹھ گئی اسکا سایہ جہان کے سائے کے مقابل گرنے لگا وہ اصل میں کافی فاصلے پہ بیٹھے تھے مگر ایک ہی دیوار پہ گرتے آمنے سامنے بیٹھے سائے کافی بڑے اور قریب لگ رہے تھے
اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں واپس نہیں جا رہی
مگر کیوں؟وہ جیسے اکتا گیا
کیونکہ میں تمہارے لیے نہیں کپادوکیہ دیکھنےآئی ہوں اور دیکھ کر ہی جاوں گی
مگر میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے چلی جاو اتنے دن کیسے رہو گی ادھر؟
میں نے وہ ویڈیو کھول لی تھی جہان کے چہرے کی بجائے اسکے سئے کو دیکھتے ہوئے رسان سے بولی
لمحے بھر کو زیرزمین شہر پہ سناٹا چھا گیا جہان بالکل چپ ہو گیا اسے لگا وہ ہنس دے گا پھر اسے رکنے کو کہے گا مگر
تو؟تمہیں ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ میں کیوں تمہیں یہاں سے بھیجنا چاہتا ہوں وہی سنجیدگی بھرا خشک سا انداز اسے دھچکا لگا کوئی اپنائیت کوئی راز بانٹنے والا احساس نہیں،وہ تو ویسا ہی تھا
نہیں مجھے واپس نہیں جانا..اور میرے یہاں رہنے سے تمہیں کیا مسئلہ ہورہا ہے؟اسکی آواز میں غصہ در آیا
مجھے تمہاری فکر ہے اور چاہتا ہوں کہ تم محفوظ رہو اور یہ محفوظ جگہ نہیں ہے
کھڑے سائے نے اتنے ہی غصے سے سر جھٹکا تب ہی زیر زمین شہر کی دیواروں نے بیٹھے سائے کو اٹھتے اور کھڑے سائے کے سامنے آکر کھڑے ہوتے دیکھا
اور واپس جانے سے میں محفوظ ہو جاو گی جہان بے؟
ہاں بالکل مجھے یہاں سے دوچار دنوں میں انقرہ چلے جانا ہے پھروہاں سےایک اور شہر اور پھر ادھر سے شام میں شام سے چند دن بعد اسلام باد آجاو گا میں تم سے وہی ملوں گا ہو سکتا ہے روحیل کے ولیمے پہ ہم دونوں ساتھ ہوں اس لیے ابھی تم چلی جاو
کیا گارنٹی ہے اس بات کی؟ہوسکتا ہے واپسی پہ میری فلیٹ کریش کر جائے؟
چند لمحے وہ واقعی کچھ کہہ نہ سکا مگر مدھم مشعل کی روشنی میں بھی حیا نے اس کے بے تاثر آنکھوں میں کچھ زخمی ہوتے دیکھا۔
ایسے مت کہو اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
نہیں جہان بے! مجھے بولنے دو!کیا گارنٹی ہے کہ میں وہاں محفوظ رہوں گی؟ ہو سکتا ہے کہ کوئی پرانا دشمن مجھے گاڑی تلے کچل دے۔
حیا! میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے یہ ہمارا آخری سفر ہو۔
***
ہو سکتاہے یہ ہمارا آخری سفر ہو۔کیا تب بھی تم اسے میرے ساتھہ نہیں کرنا چاہو گے؟اس کی آوازویربن کبوکی دیوار سے ٹکرا کر پلٹ رہی تھیمگر اب اس میں آنسو بھی شامل تھے۔
میں صرف تمہیں محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں حیا۔وہ جیسے بے بسی سے بولاتھا۔
اور تم خود؟
میرا کیا ہے۔میرے لیے رونے والا کوئی نہیں ہوگا۔مگر مجھے تمھاری فکر ہے۔اسی لیے م یں چاہتا ہوں کہ
تم یہ چاہتے ہو تم وہ چاہتے ہوتم ہر وقت صرف اپنا کیوں سوچتے ہو جہان!تم ہر چیز پلان کر کے کیوں رہنا چاہتے ہو؟تم ہر وقت دوسروں کو کیوں آزماتے رہنا چاہتے ہو؟
حیا!اسے جیسے دکھہ پہنچا تھا۔وقت پیچھے چلا گیا تھا وہ اس کا جینجر بریڈ ہاؤس توڑ چکا تھااور وہ اس پہ چلا رہی تھی۔
نہیں!بولنے دو۔ آج مجھے بولنے دو۔جتنا تم نے مجھے آزمایا۔ اس سے آدھا بھی میں تمہیں آزماتی نا تو تم بہت مشکل میں پڑ جاتے۔وہ غصے میں بلند آواز میں بول رہی تھی۔دیوار پر گرتے سائے اصل سے زیادہ قریب کھڑے تھے۔
تم یہ سمجھتے ہو کہ ہر دفعہ چیزین تم پلان کرو گے اور سب تمہاری مرضی کے مطابق ہو جائے گا پھر بات میں لوگ تمہاری باتوں کے دوسرے مچلب ڈھونڈ تے پھریں اور اس دوران کس کا دل کیتنا ٹوٹے تمہیں کب پرواہ ہوتی ہے۔تم دوسروں کا کبھی نہیں سوچتے۔ مگر ہر دفعہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ہر دفعہ دوسرے تمہاری طرف کی کہانی نہیں سمجھہ لیں گے۔یہ کرلو تو وہ ہوجائے گا وہ کرلوتو یہ ہوجائے گا۔میں مزید تمہارے ان پلان کے مطابق نہین چل سکتی۔
بولتے بولتے اس کا سانس پھولنے لگا۔جہان نے ہاتھہ جیبوں سے نکال کر سینے پہ لیپیٹ لیے اور دائیں جوگرسے زمین کو کھرچتا وہ سپاٹ چہرے کے ساتھہ سن رہا تھا۔
اور بھی جو کچھہ اندر بھرا ہے میرے خلاف وہ بھی کہہ دو۔
میرے اندر جو بھی بھرا ہے تمہیں پروا ہ نہیں ہے۔تم مجھہ سے میرے برقعے پہ بحث کر کے چپ چاپ چلے آئے۔اگر تمہیں میرے برقعے سے مسئلا نہیں تھا تو پہر تم نے ایک دفعہ بھی کوئی امید کوئی وضاحت کیوں نہیں دی۔کیا یہ مناسب تھا کہ مجھے تم یوں چھوڑ کر آتے اور سارے خاندان میں میرا تماشا بنتا؟تم ہر دفعہ یہ سمجھتے ہو کہ بعد میں تم دوسرے کو منالو گے۔ منا لینے سے دل پہ لگے زخم مٹ جاتے ہیں؟ سخت لکڑی پہ بھی کہلاڑی کی ایک ضرب لگاؤ تو ساری عمر کے لیے نشان رہ جاتا ہے۔میں تو پھر انسان ہوں۔کیا تم ساری زندگی یہی کرتے رہو گے؟
اس کی آواز درد سے پھٹنے لگی۔جہان کا بے تاثر سپاٹ ہوتا چہرا دیکھہ کر اسے اور بھی غصہ چڑھنے لگا۔جب سے وہ غصے سے بولنے لگی تھی تب سے اس کاچہرا بے تاثر پڑ گیا تھا۔
اور اگر مجھے کوئی کچل دے تو پھر کس کو وضاحتیں دینے آؤ گے؟مگر تم نہیں سمجھو گے۔
وہ بے بسی دوکہ کے ساتھہ کہتی پلٹی اور تیز تیز قدموں سے جلتی باہر نکلی۔پھولا تنفس اور آنکھوں میں جمع آنسو۔اذیت ہی اذیت تھی۔وہ بھی کس کو سمجھا رہی تھی؟وہ پروا ہی کہاں کرتا تھا؟
رواداری میں ابک قدموں سے چلتی وہ بے آواز روتی آگے بٹھتی جارہی تھی پھر ایک کمرے میں بیٹھنے کو ویسی ہی چوکی نظر آئی تو جا کر ادھر ہی بیٹھہ گئی اور چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپا کر بے اختیار رونے لگی ۔چہرہ اس لیے ڈھانپا تھا کہ گہرے کنویں کی قدین دیواریں اس کہ آنسو نہ دیکھہ سکیں سُرنگ اس کی سسکیاں نہ سن سکے اور مضوعی مشعل کی روشنی میں اس کے ہچکیوں سے لرزتے وجاد کا سایہ نہ پڑے مگر آنسو سسکیاں اور لرزش ڈھانپ لینے سے بھی نہیں ڈھکتیں۔
وہ بھی کس کو سمجھانہ چہارہی تھی؟وہ کہاں اس کی مانتا تھا؟وہ اس کے ساتھہ کپادوکیہ میں رہنا چاہتی تھی جتنے بھی دن وہ ادھر ہے مگر وہ اسے اب ہمیسہ کی طرح واپس بھیج دے گا۔بے بسی سی بے بسی تھی۔
اس نے بیھگا چہرا اُٹھایا۔
سُرنگ محرابی چوکھٹیں بھول بھلیاں سب سنسان پڑی تھیں۔ وہ وہاں نہیں تھا۔ دیوار پہ گرتا سایہ اکیلا تھا۔جہان اس کے ساتھہ نہیں تھا۔ وہ اپنے غصے میں سب بھول جایا کرتی تھی یہ بھی کے ایک دفعہ پھر وہ ہمیشہ کی طرح اسے چھوڑ کر آگئی تھی۔وہ سب باتیں کہہ کر جو وہ صرف اس کو ہرٹ کرنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ اس کا مطلب وہ ہرگز نہیں تھا۔ اس نے دل سے وہ سب نہیں کہا تھا۔
اللہ اللہ یہ اس نے کیا کر دیا- وہ اب کیسے ائے گا اسے منانے-
جہان وہ بدحواسی کے عالم میں اٹھی اور راہ داری کی طرف آئی وہ دائیں سے آئی تھی یا بائیں سے شاید دائیں سے ہتھیلی کی پشت سے گال رگڑتی وہ اس جانب بھاگی۔ ایک موڑ دوسرا دائیں طرف وہ کمرا جہاں دو سائے ٹکرائے تھے اب وہ وہاں نہیں تھا اب وہ خالی تھا۔ جہان! آنسو پھر سے اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے۔ وہ کہیں بھی نہیں تھا اس نے اسے ایک بار پھر اسے کھو دیا تھا۔ وہ الٹے قدموں واپس مڑی بمشکل سیڑھیاں ملیں باہر جانے کا راستہ سمجھ آیا گائیڈ سیاح ابھی تک وہیں تھے۔ بہارے اور پنار بھی ایک طرف کھڑی تھی اس نے بہارے کا ہاتھ تھاما اور اپنی سرخ متورم آنکھیں چھپانے کی سعی کیے بغیر بس اتنا بولی واپس چلتے ہیں میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے کیا ھوا پنار پہلے حیران اور پھر پریشان ہو گئی مگر کوئی جواب دیے بنا وہ گہرے کنویں داخلی روزن کی طرف بڑھ گئی جہاں سے سورج کی روشنی جھانک رہی تھی وہ تینوں سرنگ میں آگے پیچھے چلتی گئی غار کا اندھیرا چھٹتا گیا اور بالاخر غار کے دہانے پہ سورج چمکتا کھڑا تھا وہ کہیں نہیں تھا کہیں بھی نہیں پنار نے پھر کوئی سوال نہیں پوچھا بہارے جو بے چین ھو رہی تھی اسے بھی چپ کروادیا- اس کا دل بار بار بھر رہا تھا وھ کیوں پھر اسے چھوڑ گئی آخر وہ کیوں روٹھنے منانے سے آگے نہیں بڑھتے تھے؟ اپنے کمرے میں آ کر وہ سرخ صوفے پہ کھڑکی کی طرف بیٹھ گئی سر گھٹنوں میں دیے بے آواز روئے جا رہی تھی- بہارے پتا نہیں کہاں تھی ہر خیال اور فکر سے بے پرواہ وہ آنسو بہائے جا رہی تھی- اس کا دل بار بار کسی خوف کے زیر اثر سکڑتا جا رہا تھا بہارے اسے کھانے کے لئے بلانے آئی مگر وہ نہیں اٹھی- دوپہر کی روشنی آہستہ آہستہ بجھنے لگی اور شام کا اندھیرا کپادوکیہ میں پھیلنے لگا ہر سو پہاڑوں پر بتیاں جگمگانے لگیں وہ اسی طرح سر صوفے میں دیے بیٹھی رہی آنسو بھی پانی سے بنے ھوتے ہیں اور پانی آسمانوں سے اتارا جاتا ہے سو آنسوؤں کے بعد مرہم بھی وہیں سے آتا ہے نیند پرسکون نیند اس پہ کب نیند طاری ہو گئی اسے پتا ہی نہ چلا ذہن میں دل میں آنکھوں کے پیچھے ہر جگہ زیر زمین شہر کا منظر امڈ آ رھا تھا وہ غصے میں اس پہ چلا رہی تھی اور وہ دھیمے لہجے میں اسے پکار رھا تھا حیا ! بات سنو مگر وہ اسے سننا نہیں چاہ رہی وہ اس سے فاصلے پہ کھڑا تھا مگر پھر بھی پتا نہیں کیسے اسکا ھولے سے شانہ ہلا رہا تھا حیا اٹھو میری بات سنو چاندی کے مجسمے لوٹ آئے تھے گہرے کنویں کا اندھیرا چھٹتا گیا چاندنی کی جھیل ہر سو پھیلتی گئی اس نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں کمرے میں مدھم سی روشنی پھیلی تھی وہ صوفے کے سامنے میز کے کنارے بیٹھا جہان بہت تکان سے اسے دیکھ رہا تھا اسے انکھیں کھولتے دیکھ کر تھکے تھکے انداز میں مسکرایا دیکھ لو تم میرے لیے کپادوکیہ نہیں آئیں مگر میں ہر دفعہ تمہارے لیے آجاتا ہوں پھر بھی کہتی ہو مجھے پرواہ نہیں ہے؟ وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی بنا پلک جھپکے وہ یک ٹک سے دیکھنے لگی پھر اچانک بہت سے آنسو اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے-
*****
وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ سانس روکے بنا پلک جھپکے وہ یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔ پھر اچانک بہت سے آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔
جہان آئ ایم سوری وہ بھیگی آواز میں کہتی اسی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔ کہیں پلک جھپکنے پہ منظر غائب نہ ہو جاۓ۔ میں نے وہ سب جان بوجھ کر نہیں ...میں بس غصے میں ...میری بات سنو اسی دھیمے لہجے میں کہتے ہاتھ اٹھا کر اس نے حیا کو چپ رہنے کا کہا تمہاری ساری باتیں ٹھیک تھی تم نے سہی کہا تھا میں واقعی بہت دفعہ غلط چیز یں کر جاتا ہوں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا میں تو اس نے احتجاجا کچھ کہنے کی سعی کی مگر وہ سن نہیں رہا تھا میں جانتا ہوں کہ میں کوئی ہر وقت ہنسنے مسکرانے والا آدمی نہیں ہوں میں پہلے بھی بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ میں ایک پریکٹیکل آدمی ہوں ۔ ایکسپریسو نہیں ہوں مجھے دوسروں کے دل نہیں رکھنے آتے میں لوگوں پہ جلدی یقین نہیں کر تا شک کرتا رہتا ہوں اور میری جاب نے مجھے بے حس بنا دیا ہے میں اب بہت پرائیویٹ پرسن بن گیا ہوں۔ یا شاید ہمیشہ سے ہی ایسا تھا کیا تم نے دوپہر سے کچھ کھایا۔ اپنی رو میں کہتے ایک دم اس نے پوچھا اگر وہ توقف کے بعد استفسار کرتا تو وہ کہہ دیتی کہ اس نے کھایا ہے۔ مگر وہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اس کا سر خودبخود نفی میں ہل گیا۔ نہیں ہاں بس مجھے بھوک نہیں تھی۔ اس نے بات بنانے کی کوشش کی اب وہ آنسو پونچھ چکی تھی اور یہ اس کیلیے خجالت کا باعث ہوتا اگر وہ جان لیتا کہ حیا نے اس کی وجہ سے کھانا نہیں کھایا مگر وہ جان چکا تھا۔ نہیں تم نے کچھ نہیں کھایا اور مجھے پتا ہے لوگوں سے جواب کیسے اگلواۓ جاتے ہیں۔ وہ میز کے کنارے سے اٹھا اور دوسرے کونے میں رکھی انگھیٹی کی طرف گیا۔ وہاں ایک چھوٹی سی میز پہ بہارے کہ پاپ کارن کے دو پیکٹ پڑے تھے اور اوپر ہلٹ ان مائیکرو ویو اوون نصب تھا کیسے اگلواۓ جاتے ہیں اس کی پشت کو دیکھتے ہوۓ وہ وہی سے بولی اب مائیکرو ویو اوون کا ڈھکن کھولے کھڑا کارن پاپ کا ایک پتلا سا پیکٹ اندر رکھ رہا تھا۔ جس میں مکئ کے دانے تھے ٹائم سیٹ کر کے اس نے اوون کا ڈھکن بند کیااسے سٹارٹ کیا اور واپس اس تک آگیا اگر تم کسی سے سچ اگلوانا چاہتی ہوفرض کرو اپنے ابا سے تو ان سے سوال تب پوچھا کروجب وہ ڈرائیو کر رہے ہوں ڈرائیوکرتے ہوۓ عموما لوگ سچ بولتے ہیں اور مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ کون سچ بول رہا ہےاور کون جھوٹ وہ بس بات کو طول دینا چاہتی تھی تاکہ جہان پچھلی بات بھول جاۓ اور وہ اپنے الفاظ دہراۓ جانے کی شرمندگی سے بچ گئ جھوٹ بولنے والے کے چہرے پہ دس عدد واضح نشانیاں آجاتی ہیں اس وقت جب وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اوون زوں کی اواز سے چل رہا تھا مکئ کے دانے وقفے وقفے سے چٹخ رہے تھے ایک تو ہوگئ نظریں چرانا باقی نو کون سی ہیں وہ اب صوفے پہ پاؤں نیچے کرکے دوپٹہ ٹھیک سے شانوں پہ درست کرکے زرا تمیز سے بیٹھ گئ تھی کھلے بال چہرے کے دائیں جانب ڈال دیے تھے جامنی پلین لمبی قمیض زیتون رنگ کے دوپٹے اور چوڑی دار کی ہمراہی میں بھی اس کے چہرے کو بشابت نہیں دے سکی تھی متورم انکھیں ذرد پڑتی رنگت ساری دوپہر کی کہانی واضح کر رہی تھی نگاہیں چرانا نہیں لوگ جھوٹ بولتے ہوے نگاہیں نہیں چراتے یہ غلط تاثر ہے ان فیکٹ لوگ جھوٹ بولتے ہوۓ آپ کی آنکھوں میں ضرور دیکھتے ہیں اور وہی سے پکڑے جاتے ہیں تم نے آخری دفعہ سچ کب بولا تھا کمرے میں اب بھنی ہوئ مکئ کی خستہ سی خوشبو پھیلی ہوئ تھی۔
ابھی ڈیڑھ منٹ پہلے جب میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہاری ساری باتیں ٹھیک تھیں۔
چلو جی۔ وہ پھر وہی پہنچ گیا تھا۔
جہان..آئی ایم سوری..وہ میں نے دل سے نہیں کہا تھا۔
لیکن میں دل سے ہی کہہ رہا ہوں۔ تم نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ شاید یہ واقعی ہمارا آخری سفر ہو۔
اوون میں زور سے پٹاخہ ہوا۔ شیشے کی ڈش میں رکھے پیکٹ میں رکھا کوئی دانہ بھن کر پھول ھیا تھا شائد۔ اسکے اندر بھی کچھ سلگا تھا۔
ایسے مت کہو۔ وہ تڑپ کہ اسے روکنا چاہتی تھی کہ اگر وہ نہیں چاہتا تو وہ ادھر نہیں رکے گی۔ صبح ہوتے ہی اسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔ مگر وہ سن نہیں رہا تھا۔
تم نے صحیح کہا۔ ہر وقت کی پلاننگ ٹھیک نہیں ہوتی۔ میرے منصوبے بھی بہت دفعہ مجھ پہ ہی الٹے پڑے ہیں۔ اب وہ وقت آ گیا کہ آپنی زاتی زندگی میں مجھے اس بات سے باز آجانا چاہئے۔ یا کم از کم اس سفر کیلئے ہی سہی۔
میں تمہیں ہمیشہ سے ہی وہ سب بتانا چاہتا تھا مگر نہی بتا سکا۔ مجھے معلوم تھا کہ تم میری بات نہیں سمجھو گی جیسے کل رات سے نہیں سمجھ رہی مگر تم بھی صحیح ہو۔ مجھے ہر وقت آپنی مرضی نہیں ٹھونسنی چاہئے۔
جہان! وہ ااسے مزید بولنے سے روکنا چاہتی تھی۔ اسکا آپنا دل بھی اوون کی پلیٹ کیطرح گول گول گھومتا کسی منجھدار میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ میں تمہیں وہ سب کچھ بتانا چاہتا تھا جو میں نےاس ویڈیو محفوظ کیا تھا مگر میں یہ نہیں کرسکا۔ میں کچھ پالینے کے بعد خھونے سے ڈرتا تھا۔ یا شائد مجھے گم پر اعتبار نہیں تھا کہ تم مجھے سمجھو گی۔ اب شائد تم مجھے سمجھو مگر اسوقت نہ سمجھتی۔
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اس وقت وہ واقعی نہ سمجھ پاتی۔ مگر اب وہ ایسی باتیں نہ کرے۔ اس کا دل دکھ رہا تھا۔
جوہوگیا،سوہوگیا۔ میں وہ سب دوبارہ نہیں دہرانا چاہتا۔ اب بھی مجھے تمہارے یہاں رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں صرف اس لیے فکرمند تھا کہ مجھے کل انقرہ جانا ہے ایک ہفتے کیلئے پھر واپس کپادوکیہ آجاو گا اور کچھ دن بعد اپنے ملک چلا جاو گا۔ مجھے صرف یہی پریشانی تھی کہ میرے بغیر تم یہاں اکیلی نہ رہو۔ ویسے بھی ےم کپادوکیہ دیکھنے آئی ہو میرے لیے نہیں۔ یہاں وہ زرا تھکان سے مسکرایا۔ حیا کا دل چاہا کہہ دے کہ نہیں میں یہاں تمہارے لیے آئی ہوں مگر انا اور خودداری دیوار بن گئی۔
میں اکیلی نہیں ہوں۔ کہنے کے ساتھ اس نے ایک نظربستر پہ گلابی پردے کے پیچھے سوتی بہارے پہ ڈالی۔ یہ لوگ بہت اچھے ہیں۔۔ بہت خیال رکھتے ہیں۔ پھر ایک دم وہ چونکی۔ کہیں تم نے انہیں نہیں کہا کہ میرا خیال رکھیں؟
اب اتنا گارغ نہیں ہوں میں کہ ہر جگہ تم پہ نظر رکھو گا۔ مولوت بے اس علاقے کے ڈسٹریک چیف ہیں اور یہ اپنے ہر گاہک کیساتھ ایسے ہی پیش آتے ہیں۔ مہمان نواز ترک قوم، یونو ۔ مگر تم نے اچھا کیا جو انکے ہوٹل میں ائی۔ یہ کافی محفوظ اور اچھا ہوٹل ہے-ایسےمشکوک نظروں سے مت دیکھو مجھے میں نے واقعی انہیں کچھ نہیں کہا۔ وہ زرا خفا ہوا تو حیا نے شانے دھیرےسے اچکائے۔ اوون کب کا بند ہو چکا تھا۔ سارے کمرے میں بھنے مکئی کے دانوں کی خوشبو پھیلی تھی۔
تو کیا اب میں یہاں رہ سکتی ہوں؟
ہاں!جب تک چاہو رہ لو۔ کل میں چلا جاوگا واپسی تک اگر تم یہیں ہوئی تو ہم دوبارہ مل لیں گے۔
انقرہ کیوں جانا ہے؟اس نے فطری طور پہ زہن میں آنے والا سوال پوچھا تھا مگر جہان چند لمحے بہت خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔
ایک کام ہے۔
کیسا کام!اسکے انداز میں کچھ تھا کہ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
ایک کام ادھورا چھوڑ آیا تھا جب ابا کی ڈیتھ ہوئی تھی تب میں اسی لیے جرمنی میں تھا۔ اب میرے پاس چند دن ہیں سوچا اسکو مکمل کر لو۔ بات ختم کر کے وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا جیسے وہ اسکے استفسار کا منتظر تھا۔ جیسے اگر وہ پوچھے تب بھی وہ نہیں بتائے گا پھر بھی وہ چاہتا تھا کہ وہ پوچھے۔
حیا نے چند لمحے سوچا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
اوکے!بات ختم۔اس نے اس موضوع کا نہ کریسنے کا فیصلہ کیا تھا۔
مگراب ایسے مت کہنا کہ یہ ہمارا آخری سفر ہو سکتا ہے۔
غلط نہیں کہہ رہا۔میں ترکی دوبارا نہیں آسکوں گاترکی کے لیے اب نا کارا ہو چکا ہوں سو اس ملک میں ہو سکتا ہے یہ آخری
کہہ رہی ہوں نا کہ ایسے مت کہو۔ وہ صوفے پہ اپنے دونوں اطراف ہتیھلیاں رکھہ کر اٹھنے لگی تو جہان نے روکنے کا اشارہ کیا۔
ایک منٹ۔ میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وپ اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھہ گئی۔ جتنے دن ہم ساتھہ ہیں سب کچھہ میری مرضی سے طے ہوگا۔سارے پروگرام سارے شیڈول کہاں ملنا ہے کہاں جانا ہے سم میں ڈیسائیڈ کروں گا اور تم کسی بات سے انکار نہیں کرو گی۔
حیا نے اثبات میں سر ہلادیا۔ اس کا اجازت دینا ہی بہت تھا اب کیا بحث کرتی۔
کیا تم پاپ کارن کھاؤ گے؟وہ اتھ کھڑی ہوئی۔جہان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہولے سے ہاتھ کو کنپٹی سے مسلا۔شاید اس کے سر میں درد تھا۔
میں بس چلوں گا۔وہ اٹھا دیوار میں لٹکے سوئچ بورڈ پہ لائٹ کا ناب گھمایا(جیسے ہمارے ہاں پنکھے کے ناب پوتے ہیں)۔کمرے میں جلتا واحد زیرو بلپ مدھم ہوتا گیا۔پھر اس نے کھڑی کا پردہ زرا سا سر کا کر باہر دیکھا۔
حیا نے اوون کا ڈھکن کھولا اور گرم گرم پھولا پوا پاپ کارن کا پیکٹ نکالا۔جہان تب تک کھری کے سامنے سے ہٹ کر دوبارہ سے بتی تیز کر چکا تھا۔(اگر ڈی جے ہوتی تو کہتی کہ ایسی بتیاں ہماری یونیورسٹی میں بھی پائی جاتی ہیں۔لیکن اگر وہ ہوتی توپھر مسئلہ ہی کیا تھا؟)
آشیانہ کے نئے مہمان آگئے ہیں غالبن۔باہر رش ہے۔ اس کے جھٹنے تک انتظار کرنا ہوگا وہ صوفے پہ اسی جگہ بیٹھتے ہوئے بولا جہاں ابھی وہ بیٹھی تھی۔
تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو چاہو تو لیٹ جائو میں آتی ہوں۔
اسے وہیں چھوڑ کر وہ ڈریسنگ روم میں آئی تاکہ وہاں سنگھار میز پہ رکھا شیشے کا بڑا پیالہ اٹھالے اس جگہ پہ فرش پہ ابھی تک افشاں کے ذرات دکھائی دیتے تھے ھالانکہ بنار نے صاف بھی کیا تھا۔
پیالہ اٹھاتے ہوئے اس نے آئینے میں خود کو ایک نظر دیکھا تو جھٹکا سا لگا سرخ متورم آنکھیں زرد پڑتا چہرہ۔اللہ اللہ وہ اتنی دیرسے ایسی لگ رہی تھی ؟وہ بھی کیا کہتا ہوگا اس کہ غم میں رورہی رھی؟
پیالہ چھوڑ کر وہ باتھ روم میں گئی سنک کہ اوپر جھک کر منہ پہ پانی کے چھینٹے مارے پھر تولئے چہرہ تھپتھپایا بال برش کیے اور ذرا خود کو کمپوز کرتی باہر آئی۔
مہمان اسی طرح سر ہاتھوں میں دئیے بیٹھا تھا۔
جہان!اس نے محتاط انداز میں پکارا۔جہان نے اسی پل سر جھکائے جھکائے ہاتھ کی پشت سے ہونٹوں کے اوپر چھوا خون کے قطرے وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی ۔
جہان تمہارے ناک سے خون آرہا ہے۔
وہ بنا کچھ کہے تیزی سے اٹھا اور باتھ روم کی طرف لپکا۔حیامتھیری پیچھے آئی اور کھلے دروازے سے دیکا ۔ٹوفی فل کھولے وہ سنک پہ جھکا ناک اور چہرے پہ پانی ڈال رہا تھا۔
وہاں کھڑے ہونا اسے مناسب نہ لگا تو واپس صوفے پہ آکر بیٹھ گئی ۔پتا نہیں اسے کیا ہوا تھا ؟ایسے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
چند منٹ گزرے کہ وہ تولئے سے گیلا چہرہ خشک کرتا پاہر آیاْ
کیا ہوا تھا؟وہ فکر مند ی سے اسے دیکھنے لگی وہ جواب دیے بنا اس سے تھوڑا فاصلے پہ صوفے پہ بیٹھا اور تولیہ اس ہاتھ پہ ڈال دیا۔
نکسیر کیوں پھٹی؟ اتنی گرمی تو نہیں ہے کیا پہلے بھی کبھی ایسا ہوا ہے؟
جاری ھے

No comments: