Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر24 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
24 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 24
حیا
از
فاخرہ وحید

(قسط 24)
"میں تم سے کچھ بات کرنے آئی ہوں. پھر تم کچھ بھی کہو غصہ کرو, چلاؤ, کوئی فرق نہیں پڑتا." وہ اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ چھپانے کو ان کو آپس میں جوڑے ہوئے تھی اور نظریں چادر سے ڈھکی حمزہ کی ٹانگوں پر تھیں. اسے پاس رکھے اسٹول پر بیٹھنے کا ہوش بھی نہیں رہا تھا.
" یہ مت سمجھنا کہ پہلے کی طرح تم مجھے ڈرا دھمکا لو گے اور میں تمہارے خوف سے پیچھے ہٹ جاؤں گی. " اسے اپنا ماتھا تپتا محسوس ہو رہا تھا. وہ اس کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی. ایک دم گلے کی گلٹی ابھری اور نیچے کہیں گم ہو گئی.اس نے نظر اٹھا کر اس قاتل مریض کو دیکھا جس کی نگاہیں ابھی بھی اس پر جمی تھیں. ایک لمحے کو آنکھیں ملی. بہت کچھ ان آنکھوں سے ان چھوٹی بھوری آنکھوں تک گیا. حیا نے اپنی ہڑ بڑاہٹ چھپانے کو ایک نادیدہ لٹ منہ سے ہٹائی.
" میرا فیصلہ نہیں بدلے گا. " نرس کو نظر انداز کیے اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا. آواز کانپ رہی تھی مگر یہ صرف وہ ہی جانتی تھی. وہ کچھ نہیں بولا, کتنی دیر اسے یوں ہی دیکھتا رہا. اس کا رہا سہا اعتماد بھی ہوا ہونے لگا. آنکھوں میں بے چینی در آئی. اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر حمزہ کے الفاظ نے جیسے اس کی روشن صبح دوبارہ اندھیر کر دی. جو پہلی کرن آئی تھی وہ صدیوں کا سوگ لیے مڑ گئی. وہ ساکت سی اسے دیکھتی رہی.
" ڈو آئی نو یو مس؟ " وہ اجنبیت سے بولا. 'میں مسز ہوں' وہ تصیح کرنا چاہتی تھی مگر بے یقینی سی بے بے یقینی تھی, وہ اسے دیکھتی رہی, دیکھتی رہی, یہاں تک کہ آنکھیں دھندلانے لگی. سامنے بیٹھے شخص کا عکس آنسوؤں میں جھلملانے لگا. اس کا تنفس تیز ہو گیا. وہ سرعت سے مڑی, موٹے موٹے آنسو گالوں سے لڑھکنے لگے, قدم کہیں رکھتی وہ پڑ کہیں رہا تھا. اور پھر کھٹاک سے دروازہ کھلا اور بے آواز بند ہوتا گیا. وہ بند دروازے کو گھورتا رہا. نرس اس تکلیف دہ منظر کی گواہ بن گئی.
وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی راہداری میں آگے بڑھ رہی تھی. آنسو بد ستور گرتے جا رہے تھے, ساری رات کے جاگتی آنکھوں سے دیکھے خواب اس آدمی نے ایک لمحے میں چکنا چور کر دیے تھے. وہ اسے بھول گیا؟ حیا کو بھول گیا. اسے یقین نہیں آ رہا تھا. شاید یہ اس کے اپنے کیے کی سزا تھی. اگر بے فضول بد دعائیں دی جائیں تو وہ عرش سے ٹکرا کر دینے والے کو واپس آجاتی ہیں. دور اپنے بچپن سے باپ کی آواز آئی تھی. اس کی اپنی بد دعائیں اس کا تعاقب کرتی آپہنچی تھیں. آنسوؤں کے گرنے کی رفتار بڑھ گئی, دل میراتھن میں دوڑتا رہا, کان, ہاتھ اور ماتھا تپ تپ کر دھواں ہوتے رہے اور یک لخت دماغ ماؤف ہو گیا.
اب واپس ہسپتال کے کمرے میں دیکھیں تو وہ اب تک بند دروازے کو دیکھ رہا تھا. نرس اب دوسرے کندھے کی پٹی بدل رہی تھی.
" آپ ان کو نہیں جانتے؟" اس نے دوائی لگی روئی سے اس کے کندھے کو دبایا, وہ زخم کے درد سے کراہ کر ہوش میں آیا. سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا.
" آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں پچھلے تین دن سے ان کو دن رات یہاں بیٹھے دیکھ رہی ہوں. اور آپ ان کو نہیں جانتے؟" وہ اب کندھے پر پٹی کر رہی تھی. حمزہ نے آنکھیں سکیڑی, پھر بند دروازے کو دیکھا.

" آف کورس میں اسے جانتا ہوں." وہ بڑبڑایا. نرس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا. دونوں میاں بیوی پاگل ہیں؟
*********************************************
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو حمزہ کے کمرے میں اس کے بیڈ پر لیٹے پایا. کسی عورت کی جانی پہچانی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی. آواز کس کی تھی؟ وہ پہچان نہیں پا رہی تھی. تھوڑی دیر وہ یوں ہی لیٹی چھت کو گھورتی رہی, یہاں تک کہ حواس بحال ہو گئے. سب کچھ دوبارہ فلم کی ریل کی طرح نظروں کے سامنے چلنے لگا. ان آنکھوں میں اجنبیت تھی. اس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا.
وہ کہنیوں کو بیڈ پر ٹکائے اٹھی. صوفے کی طرف گردن گھمائی جہاں ردابہ فون پر بات کرتی دکھائی دی. حیا کو اٹھتے دیکھ کر انہوں نے فون بند کیا اور اس کی طرف آئی.
" کیسا محسوس کر رہی ہو؟ " وہ بے چینی سے پوچھ رہی تھی.

" لاسٹ (کھوئی ہوئی). وہ مجھے نہیں پہچانتا. مسز ہارون. ہی مائیٹ ہیو لاسٹ ہز میموری" آنکھوں میں سرخ دھاریاں نمایاں ہونے لگی. اور آنکھیں ابلنے کو تھیں. جب ردابہ نے اس کی گود میں گرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما. اس کے ہاتھ سرد تھے, بالکل برف!
" حیا! جب میں نے تمہیں اس گھر سے نکالا, مطلب انسٹیٹیوٹ بھیجا." اس نے تصیح کی. " تو میں نے یہ ہی سوچا تھا کہ کچھ عرصے بعد تمہیں کسی بہانے یہاں بھیج دوں گی تا کہ تم حمزہ کو اس فیز سے نکال سکو. تب میں صرف حمزہ کی ماں بن کر سوچ رہی تھی مگر اب جب اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ تمہارا اپنا ہے تو یاد رکھنا تم اکیلی نہیں ہو. اسلام آباد کا ردابہ نگر تمہارا میکہ ہے. " وہ اس کا ہاتھ دباتے دھیرے سے مسکرائی. پھر دوبارہ بولی. " مگر ردابہ تمہاری ساس ہے. " مسکراہٹ غائب ہو گئی. یہ کیا رشتہ بنا تھا. حیا کو سمجھ نہیں آیا.

" حمزہ سے لڑ کر تم اسلام آباد آ سکتی ہو." وہ اب مسکراہٹ دبا رہی تھی. "لیکن اگر میرے بچے کو پریشان کیا نا.." ردابہ نے تنبیہی انداز میں انگلی اٹھائی. " میں ساس کی طرح پیش آؤں گی." انداز ہلکا پھلکا تھا. اور ساتھ ہی وہ سنجیدہ ہو گئی.
" حیا! حمزہ مینٹلی اَن سٹیبل ہے. ہی از مینٹلی ان ہیلتھی." اس نے ٹھنڈی سانس لبوں سے خارج کی اور دوبارہ نگاہیں حیا کے چہرے پر مر کوز کر لیں.
" ہم اپنے بچوں کی جسمانی بیماریوں کا تو خیال رکھتے ہیں مگر ذہنی بیماری کو ہم معیوب سمجھتے ہیں,پاگل ہونا سمجھتے ہیں, ہر ذہنی مریض پاگل نہیں ہوتا حیا."
" بچے! تمہیں اس گھر میں حمزہ کے ساتھ نہیں اس کی عادات کے ساتھ رہنا ہے. تو پہلے اس کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کرنا."
" بلکہ ہر لڑکی کو سائیکالوجی اتنی ضرور پڑھنی چاہئیے کہ اسے لوگوں کی نفسیات سمجھ آنے لگ جائے پھر وہ اپنے سسرال میں جا کر وکٹم نہیں بنے گی بلکہ لوگوں کو ان کی نفسیات کے مطابق لے کر چلے گی. " حیا نے بس گردن ہلائی.
" ایک کہانی ہے, سنو گی؟ " حیا کو لگا وہ ڈاکٹر ہارون کا فی میل ورژن ہے. اس نے اثبات میں سر ہلایا.
" ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں, ایک خوبصورت مگر سڑیل تھی اور دوسری شکل صورت کی بس ٹھیک تھی مگر اخلاق اور مزاج کی بہت اچھی تھی. تو اس آدمی کے کسی دوست نے پوچھا کہ ' یار تیری پہلی بیوی اتنی خوبصورت ہے تو اصولاً دوسری تمہیں اس سے بھی زیادہ خوبصورت لانی چاہئیے تھی." اس نے حیا کے ہاتھ چھوڑے اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی.
" تو اس آدمی نے کہا یہ بات سچ ہے کہ پہلی میں نے خوبصورتی دیکھ کر سلیکٹ کی تھی مگر دوسری میں نے اخلاق, کردار دیکھ کر سلیکٹ کی وہ آسانیاں پیدا کرنے والی ہے. تو اس دوست نے پوچھا اس کی خاص بات کیا ہے؟ آدمی کہنے لگا اس کی نانی کی نصیحت بڑی خاص بات ہے. " ردابہ کی نظریں اب تک اس کے چہرے پر جمی تھیں.
"میری بیوی بتاتی ہے کہ جب وہ پیدا ہوئی تو اس کی نانی نے اسے گود میں اٹھایا اور کہا ' اللہ تمہیں فرشتہ دے.' وہ بڑی ہوتی گئی اور اس کی نانی اسے یہ ہی دعا دیتی رہی کہ بیٹی اللہ تمہیں فرشتہ دے. لڑکی کو شعور آنے لگا تو ایک دن اس نے اپنی نانی سے کہا, نانی فرشتہ تو کوئی نہیں ہوتا. تو بچے! اس لڑکی کی نانی نے بڑی خوبصورت بات کہی. اس نے کہا ' نہیں بیٹا! دو ہی چیزیں ہوتی ہیں یا فرشتے ہوتے ہیں یا حیوان ہوتے ہیں.' لڑکی حیران ہوئی کہ کیسے تو اس کی نانی کہنے لگی ' عورت جو ہوتی ہے نا وہ انسان کو حیوان بنا دیتی ہے, یہ اتنی ٹینشن دیتی ہے, اتنی فرسٹریشن بڑھا دیتی ہے کہ بندے کو ہارٹ اٹیک آجاتا ہے. اور میں تمہیں دعا دیتی ہوں کہ تمہارا اخلاق اتنا اچھا ہو کہ جو تمہیں ملے وہ فرشتہ بن جائے. " ردابہ نے دوبارہ حیا کا ہاتھ تھاما.
" بچے عورت کے پاس کنوینسنگ پاور ہے, تبھی سگریٹ کے اشتہار میں بھی عورت کھڑی ہوتی ہے, اللہ نے اسے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مرد کو فائٹر بنا دے, زندگی کی جنگ لڑوائے."
" اور یاد رکھنا عورت مین کو سپر مین بنا سکتی ہے." اب ردابہ دل کھول کر مسکرائی تھی. اور پھر مسکراہٹ سمٹی.
" حمزہ کو کسی کا سہارا نہیں, ساتھ چاہئیے. سہارا اسے میں دے سکتی تھی مگر ساتھ تم دے سکتی ہو. " ہاتھوں پر گرفت اور بڑھ گئی.
" اور ہاں برداشت مت کرنا صبر کرنا کیوں کہ حکم صبر کا ہے. " وہ مسکرائی اور حیا الجھی سی ان کو دیکھنے لگی. " اگر وہ غصہ کرے, چیزیں ادھر ادھر پھینکے اس پر صبر کرنا لیکن اگر وہ تمہیں جسمانی نقصان پہنچائے یا کردار کشی کبھی کرے تو اسے برداشت مت کرنا. "
"حیا نکاح وہ رشتہ ہے جس میں میاں, بیوی اور تیسرا اللہ ہے, دس شوڈ بی یور پرائیویسی ود حمزہ! اگر پیار تم دونوں کے بیچ ہے نا تو لڑائی جھگڑے بھی اپنے تک رکھنا یہ ہی ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ہے."
" اور ہاں بارش وہ ہی اچھی ہوتی ہے جس کے قطرے آرام آرام سے گریں, تیز بارش سیلاب لاتی ہے, زمینیں سیراب نہیں کرتی. تو فوراً سے اسے بدلنے کی کوشش مت کرتا, آرام آرام سے آگے بڑھنا تا کہ اسے تمہاری, محبت, کئیر سب جزب کرنے کا وقت ملے, ورنہ تیزی سے گرنے والے قطرے ندی نالوں میں بہہ جاتے ہیں. "
" ٹھیک ہے؟" اور حیا نے صرف اثبات میں سر ہلایا اور پھر الجھی ہوئی سی بولی.
" مسز ہارون وہ مجھے نہیں پہچانتا. اس کی میموری.." بات ادھوری رہ گئی, ردابہ نے اس کی بات کاٹ دی. اس کی میموری میں ٹھکانے لگاتی ہوں. بد تمیز لڑکا!" وہ خفا سی اٹھ کھڑی ہوئیں. حیا کو کچھ سمجھ نہیں آیا. ردابہ فون کان سے لگاتی باہر نکل گئی.
*********************************************
باہر سورج زمین کو دہکا رہا تھا, مگر ہسپتال کے اس پرائیویٹ کمرے میں اے سی کی ٹھنڈک بر قرار تھی. دروازہ کھول کر اندر جاؤ تو سامنے بیڈ پر حمزہ سرہانے سے اٹھے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا, اس کے دائیں طرف شیری ڈش میں ایک باؤل رکھے وقفے وقفے سے چمچ حمزہ کے منہ تک لے جاتا, اور بائیں طرف پڑے اسٹول پر بیٹھی انیقہ دونوں ہاتھوں میں سیل فون لیے زرا کی زرا نظر اس پر ڈال لیتی. شیری کے پیچھے دیکھو تو دیوار کے پاس پڑے صوفے پر ردابہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے حمزہ کو چبھتی نظروں سے دیکھ رہی تھی.
" شیری تم پریشان حال لگتے ہو." فون کو چہرے کے سامنے سے ہٹاتی انیقہ نے ایک نظر اس پر ڈالی.
" تم جیسی ڈائن جس کی زندگی میں ہو وہ پریشان حال ہی ہو گا." وہ تنک کر بولا. انیقہ نے ہنسی چھپانے کو فون دوبارہ چہرے کے سامنے کر لیا. وہ دوبارہ باؤل سے سوپ والی چمچ اٹھاتا حمزہ کے منہ تک لایا. جو اب بغور اسے ہی دیکھ رہا تھا. اس نے منہ نہیں کھولا.
" شیری کچھ چھپا رہے ہو؟" حمزہ اسے کریدتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا. کن اکھیوں سے وہ ردابہ کا بگڑا موڈ دیکھ سکتا تھا مگر وہ انجان بنا رہا. شیری نے چمچ والا ہاتھ نیچے گرایا, ایک دم ڈھیلا پڑا مگر پھر قدرے سنبھل کر بولا.
" میں کیوں کچھ چھپاؤں گا؟" آواز میں بے زاری تھی, وہ اب بے وجہ باؤل میں چمچ ہلا رہا تھا. حمزہ کی تسلی نہیں ہوئی.
" شیشہ دیکھا ہے؟ تمہاری آنکھوں کے نیچے حلقے بن رہے ہیں, تمہاری آنکھیں اندر کو دھنستی جا رہی ہیں. اور پھر تم کہہ رہے ہو کچھ نہیں چھپا رہے." وہ برہم تھا. تبھی ردابہ کا فون بجا اور وہ باہر نکل گئ.
" ہو سکتا.....ہے." انیقہ نے فون چہرے کے سامنے سے ہٹائے بغیر الفاظ کو کھینچ کر ادا کیا. " کسی لڑکی وڑکی کا چکر ہو. یو نو....." وہ آگے بھی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر بات ادھوری رہ گئ.
" تم اپنی زبان بند رکھو گی؟" شیری تقریباً چلایا تھا. انیقہ نے ایک دم ڈر کر اسے دیکھا. ماحول میں سنگینی در آئی. انیقہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے.
" میں.. تو بس... مذاق..." الفاظ منہ میں ہی دم توڑنے لگے. وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی باہر چلی گئی. شیری نے آنکھیں سختی سے بند کر کے کھولیں. حمزہ کے تاثرات یک دم بدل گئے تھے. " یہ کیا بد تمیزی ہے شیری؟" وہ دبا دبا غرایا. "آئی ڈونٹ نو, میں اس کے ساتھ یوں نہیں بولنا چاہتا تھا." وہ کوئی جواب نہیں بنا پایا. حمزہ کی نظریں اس کے چہرے کی بے زاری پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں. کچھ تو بدلا تھا.
" میں اس سے سوری کر لوں گا." وہ دفتعاً اٹھا اور انیقہ کے پیچھے لپکا. تبھی ردابہ اندر داخل ہوئی. وہی سپاٹ سا بے چہرہ, جا کر صوفے کر بیٹھ گئی, نظریں اب بھی حمزہ کے چہرے پر جمی تھیں. حمزہ کا دماغ الجھا ہوا تھا.

کچھ لمحے خامشی کی نظر ہو گئے, حمزہ سامنے دیوار کو گھورتا رہا اور ردابہ اسے. حمزہ کی برداشت جواب دینے لگی.
" کچھ کہنے آئی ہیں تو کہہ لیں." نظریں اب بھی دیوار پر تھیں. اور ردابہ کو تو جیسے یہ ہی انتظار تھا وہ اٹھ کر بیڈ کی طرف آئی. شیری کے چھوڑے اسٹول پر بیٹھ گئی. " تم نہیں جانتے وہ لڑکی کون ہے؟" وہ آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہی تھیں. " کون سی لڑکی؟" وہ انجان بنا رہا. " میں تھپڑ لگاؤں گی تمہیں اور تمہارا سارا میموری لاس ٹھیک ہو جائے گا. " ردابہ نے دھمکی دینے کے ساتھ اس کے بازو پر تھپڑ جڑ بھی دیا تھا. حمزہ نے سنجیدگی سے گردن گھما کر اسے دیکھا. " میری زندگی میں کسی کی گنجائش نہیں ہے."
" میرا بچہ تم اکیلے رہ جاؤ گے." اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھا.
" میں ہمیشہ اکیلا ہی رہا ہوں ماسی! مجھے عادت ہے." اس نے خفا سی نظر ردابہ پر ڈالی. جیسے کچھ یاد کروایا ہو.
" حمزہ بھول جاؤ اس بات کو, اب اپنی زندگی میں آگے بڑھو. " ردابہ نے اس کے چہرے پر رکھا ہاتھ گرا لیا.
" آپ کو مجھے نہیں بتانا چاہئیے تھا کہ اسے آپ نے بھجوایا ہے؟" ردابہ کو اس سوال کی امید نہیں تھی وہ سٹپٹائی.
" کس نے کہا تم سے.. حیا.. نے؟" وہ الجھ گئی تھی.
" کم آن ماسی! میں نے اتنے سال پولیس میں, اور پھر پچھلے چار سال ایجنسی سے منسلک رہ کر یوں ہی نہیں گزار دیے. ہم لوگوں کو قبروں سے بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں." آنکھوں میں سرخی اتر آئی.
" اب عدالت لگا لو مجھ پر, جو کیا تمہارے لیے ہی کیا تھا, تم ہی اس سے تنگ تھے. " ردابہ کو تو برا ہی لگ گیا تھا.
" تو اب کیوں لائی ہیں؟ " وہ بے تاثر سا دیوار کو گھورتا کہہ رہا تھا.
" وہ یہاں رہنا چاہتی ہے. " ردابہ نے آہستہ سے کہا.
" اوکے! جس کو جہاں رہنا ہے رہے, مگر میرے سے دور رہے." وہ حتمی انداز میں بولا. چلو مسئلہ حل ہو گیا تھا چاہے جیسے بھی سہی. وہ جانتی تھی اس سب کے پیچھے ناراضگی صرف ہارون سے ہے. اور باقی اس قہر کی زد میں ہیں.

*********************************************

جاری ہے.

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.