Ads Top

رادھا مصنف محمد طارق خان قسط نمبر 4 Radha By Muhammad Tariq Khan Episode

Radha
By
Muhammad Tariq Khan
رادھا
 مصنف
 محمد طارق خان


رادھا 
قسط۔4

مصنف ۔طارق خان 
میں نے احد کی طرف دیکھتا تو وہ بیڈ پر بیٹھا کارٹون بنا رہا تھا۔

’’احد بیٹا! مومنہ کس آنٹی کی بات کر رہی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا ’’پتہ نہیں ماما میں نے تو کسی آنٹی کو نہیں دیکھا‘‘ اور سر جھکا کر پھر اپنا کام کرنے لگا۔

خیر میں نے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ آپ کو تو پتا ہے کہ مومنہ کتنی شرارتی ہے میں سمجھی دودھ نہ پینے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ میں جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی مومنہ کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔

’’آنٹی! آپ کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘ میں فوراً واپس مڑی اور اندر جھانک کر دیکھا تو کمرے میں ان دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ مومنہ پھر حیران سی چاروں طرف دیکھ کر پکار رہی تھی’’آنٹی۔۔۔آنٹی۔۔۔‘‘

مجھے خوف محسوس ہوا اور میں دونوں بچوں کو لے کر ڈرائنگ روم میں آگئی۔‘‘ وہ خاصی الجھی ہوئی اور پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے اسے تسلی دی کہ ایسی کوئی بات نہیں بچے عموماً ایسی شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔

لیکن اسی رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے مزید الجھا دیا۔ میں اس دن بہت تھکا ہوا تھا اس لئے بے سدھ ہو کر سویا۔ا چانک کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا دیکھا تو صائمہ میرے بیڈ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اشارے سے مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ دبے پاؤں چلتی ہوئی دونوں کمروں کے درمیانی دروازے کے پاس کھڑی ہوگئی میں بھی اس کے پیچھے آگیا۔ اسنے مجھے اندر جھانکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے احتیاط سے اندر جھانکا دونوں بچے بے خبر سو رہے تھے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے صائمہ کی طرف دیکھا جس نے سختی سے میرا بازو پکڑا ہوا تھا پھر آہستہ سے پوچھا’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے بھی اندر جھانکا اور حیران ہوگی۔ پھر لپک کر اندر گئی اور جا کر سوئی ہوئی مومنہ کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور مجھے احد خان کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ہم دونوں بچوں کو اٹھائے اپنے کمرے میں آگئے۔ اس نے مومنہ کو اپنے سینے سے چمٹا رکھا تھا۔ میں نے اس سے مومنہ کو لے کر آہستہ سے بیڈ پر لٹا دیا۔ احد کو میں پہلے ہی لٹا چکا تھا۔ پھر کولر سے پانی کا گلاس بھر کر صائمہ کو دیا جسے اس نے ایک سانس میں خالی کر دیا۔ وہ یوں ہانپ رہی تھی جیسے میلوں بھاگتی ہوئی آئی ہو۔ پانی پینے کے بعد اس کے حواس کچھ بحال ہوئے تو میں نے پوچھا۔

’’صائمہ کیا بات ہے کیا تھا کمرے میں؟‘‘

اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔

’’مومنہ کے ہنسنے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ پہلے تو میں سمجھی وہ نیند میں ہنس رہی ہے ۔میں کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی کہ اچانک مومنہ کی آواز آئی۔

’’آنٹی پھر مجھے جھولا جھلائیں میں فوراً اٹھ کر گئی‘‘ یہ کہہ کر اس نے ا یک جھرجھری لی اور میرے بازو سے لگ گئی۔

’’ہاں۔۔۔ہاں پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے پوچھا۔’’کیا تھا بچوں کے کمرے میں؟‘‘اس نے ناقابل یقین سی بات بتائی۔

’’فاروق ! آپ یقین کریں بچوں کے بیڈ پر ایک نہایت حسین عورت بیٹھی مومنہ کو اپنے بازوؤں میں جھولا جھلا رہی تھی۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوئی اس نے میری طرف دیکھا‘‘ اتنا کہہ کر صائمہ نے سوئی ہوئی مومنہ پر ہاتھ رکھ دیا’’فاروق آپ شاید میری بات کا یقین نہ کریں، اس عورت نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مومنہ کو بیڈ پر لٹا کر اچانک میری آنکھوں کے سامنے غائب ہوگئی۔‘‘
میں نے اس کی بات غور سے سنی لیکن سچ پوچھیں تو اس وقت مجھے صائمہ کی بات پر بالکل یقین نہ آیا۔ میں نے محض اس کی تسلی کی خاطر کہا

’’تم بے فکر ہو کر سو جاؤ میں جاگ رہا ہوں۔‘‘ پھر اس کے اطمینان کے لیے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ریوالور نکالا اور اسے گودمیں رکھتے ہوئے کہا’’اب اگر کوئی آیا تو بچ کر نہیں جا سکے گا۔‘‘ میری تسلی سے وہ جلد ہی دوبارہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔

دو یا تین دن بعد کی بات ہے ابھی مجھے بینک پہنچے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ صائمہ کا فون آگیا۔

’’فاروق آپ فوراً گھر آجائیں‘‘ اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔

ضرور پڑھیں: 
’’خیریت تو ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’فاروق! میں کہہ رہی ہوں آپ جلدی سے گھر آجائیں۔‘‘

میں اسی وقت گھر پہنچا تو صائمہ دونوں بچوں کے ساتھ باہر لان میں کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ یقیناً وہ روتی رہی تھی۔ مومنہ کو اس نے اٹھایا ہوا تھا اور احد خان کے ساتھ لگا رکھا تھا۔ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا وہ تیر کی طرح میری طرف آئی ’’اندر بیڈ روم میں جا کر دیکھیں۔‘‘

میں فوراً بیڈ روم کی طرف لپکا، اندر جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ صائمہ دونوں بچوں کو لیے بالکل میرے پیچھے کھڑی حیرت بھری نظروں سے اندر کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میں جھنجھلا گیا۔

’’کیا بات ہے صائمہ! آخر تمہاری پریشانی کیا ہے؟‘‘

وہ رونے لگی مجھے اپنے لہجے کا احساس ہوا۔میں نے نرم لہجے میں دوبارہ اس سے پوچھا۔‘‘ کچھ بتاؤ تو سہی آخر بات کیا ہے؟‘‘ اس نے پھر ایک ایسی بات بتائی جس پر یقین کرنا مشکل تھا 
’’فاروق! میں بچوں کے لیے دودھ بنا کر اندر آئی تو دیکھا دونوں بچے مٹھائی کھا رہے ہیں اور رات والی عورت ان کے پاس کھری ہے‘‘ پھر فریادی نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی’’فاروق! مجھے اس گھر سے کہیں دور لے جائیں ہم اس گھر میں نہیں رہیں گے پلیز آپ کوئی اور گھر تلاش کریں۔‘‘

میں نے اس وقت تو اسے کچھ نہیں کہا بلکہ تسلی دی۔

’’ٹھیک ہے کوئی اور گھر تلاش کرتے ہیں‘‘ لیکن مجھے صائمہ کی بات سے اتفاق نہیں تھا شاید بھرے گھر سے آنے کے بعد وہ تنہائی محسوس کرنے لگی تھی۔ میں نے بچوں سے پوچھا ان کا کہنا تھا ایک آنٹی ان کے ساتھ کھیلتی اور ان کوکھانے پینے کی اشیاء لا کر دیتی ہیں۔ خیر میں نے سوچا عمران سے کہہ کر کسی دوسرے گھر کا بندوبست کرتاہوں۔ رات کو صائمہ نے بچوں کو اپنے ساتھ سلایا اور میں دوسرے کمرے میں سو گیا۔ دوسرے دن ناشتے کے بعد میں نے کہا۔

’’میں بینک جاتے ہوئے تمہیں نازش کے گھر چھوڑ دوں گا۔ دفتر کے بعد میں اور عمران مکان تلاش کرتے ہیں انشاء اللہ ایک دو دن میں مکان مل جائے گا اور ہم لوگ شفٹ ہو جائیں گے۔ ‘‘ صائمہ کچھ شرمندہ سی تھی کہنے لگی۔

’’میری وجہ سے آپ بھی پریشان ہوگئے ہیں۔ پتانہیں یہ سب کیا ہے؟ کہیں میرا وہم ہی نہ ہو۔‘‘

’’کچھ بھی ہے اب ہم اس مکان میں نہیں رہیں گے خواہ مخواہ پریشانی پالنے سے کیا فائدہ؟‘‘ میں نے اس کی تسلی کی خاطر کہا۔

صائمہ نے مجھے خدا خافظ کہا اور بینک چلا گیا۔ مصروفیت کی وجہ سے مکان والی بات میرے ذہن سے نکل گئی۔ دوسری رات بھی میں ساتھ والے کمرے میں سو گیا رات نہ جانے کونسا پہر تھا اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔یوں محسوس ہوا جیسے میرے ساتھ بیڈ پر کوئی اور بھی موجود ہے۔ کمرے میں زیرو پاور کا نیلگوں بلب جل رہا تھا۔ میں نے کروٹ بدل کر دیکھا تو صائمہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر میری طرف پشت کیے بیٹھی تھی۔ سیاہ گھنے بال اس کی پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے مڑ کر میری طرف خمار آلود نظروں سے دیکھا۔ حسین آنکھوں میں پیار کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تازہ گلاب تھا جس کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔ اس نے گلاب میری ناک سے لگا دیا۔ خوشبو سے میرا وجود معطرہوگیا۔ میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ ا تو پکے ہوئے پھل کی طرح میری اوپر آن گری۔ یوں تو صائمہ کے انداز میں ہمیشہ خود سپردگی ہوا کرتی لیکن آج اس کی ہر ادا میں ایک خاص قسم کا والہانہ پن تھا۔ وہ جیسے میرے وجود میں چھا گئی۔ کمرہ اسکی معطر سانسوں سے مہک گیا۔ ہم ایک دوسرے میں کھو گئے۔

’’اٹھیں خان صاحب ! کیا بات ہے رات نیند نہیں آئی؟ آپ تو صبح سویرے جاگنے کے عادی ہیں آج کیا ہوگیا؟‘

نہیں آئی؟ آپ تو صبح سویرے جاگنے کے عادی ہیں آج کیا ہوگیا؟‘‘ صائمہ نے مجھے جھنجھوڑ کر جگایا۔

’’یہ خوب کہی تم نے۔۔۔رات کو سونے نہیں دیا۔ اب کہہ رہی ہو رات کو نیند نہیں آئی۔۔۔بڑی چالاک ہو۔‘‘ میری آنکھوں میں ابھی تک گزری رات کا خمار تھا۔

’’خواب پھر کسی وقت دیکھ لیجئے گا اب اٹھ جائیں نماز قضا ہو جائے گی۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسی۔

’’کاش ایسے سپنے تو ہر روز آیا کروں ویسے رات جو محبت مجھے تم سے ملی ہے اس کے لیے شکریہ۔‘‘

’’ارے۔۔۔یہ گلاب کا پھول کہاں سے آیا؟‘‘ وہ چونک کر تکیے کی طرف دیکھنے لگی’’لان میں تو ابھی گلاب کے پودوں پر پھول لگے ہی نہیں۔‘‘

اب کی بار میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔’’تم رات کو خود ہی تو لائی تھیں۔‘‘

’’میں۔۔۔؟ میں کہاں سے گلاب لاتی بھلا؟‘‘ وہ حیرت سے گلاب کے پھول کو دیکھ رہی تھی۔ میں اس کی بات سن کر اٹھ بیٹھا۔

’’رات میں بھی حیران تھا کہ تم یہ تازہ پھول کہاں سے لائی ہو لیکن تم نے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور۔۔۔‘‘

’’خان صاحب! سنجیدہ ہو جائیں۔ میں یہ پھول نہیں لائی اور رات تو میں آپ کے کمرے میں آئی ہی نہیں بلکہ کچھ جلدی سو گئی تھی۔‘‘

’’صبح صبح اس طرح کا مذاق نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ میں ہنس پڑا۔

’’آپ کی قسم میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘

اس کے لہجے کی سنجیدگی سے میں حیران رہ گیا۔

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.