Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 27

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل

  از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


#رکھیل
#قسط 27 (آخری قسط)
#ریاض_عاقب_کوہلر
کبیر دادا کی کوٹھی میں تمام گینگسٹرز اپنی بیگمات وغیرہ کے ساتھ جمع تھے ۔تناوش کو بھی پاشا گھر سے لے آیا تھا ۔کبیر دادا کی موت کی خبر سننے کے بعد وہ گم سم سی تھی ۔مختلف عورتوں نے تعزیت کے بہانے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی تھی مگر کسی کی بات کا جواب دیے بغیر وہ خالی خالی نظروں سے تما م کو دیکھتی رہی ۔فرحانہ بھی مغموم صورت لیے وہیں موجود تھی زندگی میں پہلی بار اسے تناوش سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔اور پھر اس سے رہا نہ گیا تناوش کے قریب پہنچ کراسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔
”فرحانہ باجی!یہ عورتیں پریشان کیوں نظر آرہی ہیں ۔“اس کے معصومیت بھرے سوال پر فرحانہ کا دل کٹ کر رہ گیا تھا ۔
”وہ والی باجی کہہ رہی تھی کبیر حادثے میں فوت ہو گئے ہیں ۔ہونہہ، اتنی بھولی ہیں انھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں ۔“تناوش نے ایس پی کی بیوی سلطانہ کی جانب اشارہ کر کے کہا تھا ۔
”وہ سچ کہہ رہی ہیں پگلی ۔“فرحانہ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔
مگر تناوش اس کی بات پر دھیان دیے بغیر اپنی لے میں شروع رہی ۔”نہیں ایسی بات نہیں ہے ،آج پورا دن انھوں نے میرے ساتھ گزاراشام کو ہم امی جان کی طرف سے گئے تھے وہیں پر انھیں کال موصول ہوئی اور وہ تھوڑی دیرمیں لوٹنے کا کہہ کر گئے ہیں ،ابھی تک نہیں لوٹے ۔آج تو آنے دو بالکل بھی بات نہیں کروں گی ،دیکھنا کیسے منتیں کریں گے ۔“
”کاش ایسا ہی ہوتا ۔“فرحانہ سسکی ۔
”اتنے مہمان جمع ہو گئے ہیں ا ب تو انھیں آجانا چاہیے تھا ۔“تناوش پریشانی ظاہر کرتے ہوئے بولی ۔”باجی یہ تمام ہماری شادی کی خوشی میں جمع ہوئے ہیں نا ۔“
فرحانہ اس کی بات کا جواب نہیں دے سکی تھی ۔راحت خالہ کو شاید پاشا نے تمام کے لیے چاے بنانے کا کہا تھا ۔اسے باورچی خانے کی طرف بڑھتا دیکھ کر تناوش کہنے لگی ۔
”راحت خالہ ،سالن میں خود بناﺅں گی ،وہ بس آنے ہی والے ہوں گے ۔صبح ناشتے کے بعد سے انھوں نے کچھ نہیں کھایا۔“
پاشا اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب پہنچا ۔”چلو گڑیا ،تم تھوڑی دیر آرام کرلو ۔“
تناوش نے پریشانی ظاہر کی ”مگر بھیا ،وہ آ کر خفا ہو جائیں گے کہ مہمان بیٹھے ہیں اور میں سونے کولیٹ گئی ہوں۔“
”میں انھیں سمجھادو ں گا ۔“پاشا اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے خواب گاہ میں لے گیا ۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز سے نیند کی گولی نکال کر اس نے تناوش کو کھلائی اور خواب گاہ کا دروازاہ بند کرتے ہوئے باہر نکل آیا ۔
نوشاد اس وقت اخلاق حسین کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا ۔”اگر یہ نام نہاد بھائی نہ ہوتا تو چھوکری تو ہاتھ میں تھی ۔“
اخلاق نے کہا ۔”چلو دیکھ لیتے ہیں پاشا اس کے لیے کیا کرتا ہے ،پھر کوئی منصوبہ بندی سوچ لیں گے۔فی الحال تو ٹھنڈ رکھو غریب تازہ تازہ بیوہ ہوئی ہے ۔“
اسی وقت راحت خالہ تمام کے لیے چاے لے آئی تھی ۔زیادہ تر نے چاے پینے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی ۔تھوڑی دیر بعد پاشا تمام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں گھر واپس لوٹ کر آرام کا مشورہ دے رہا تھا ۔
٭٭٭
کبیر دادا کی لاش انھیں نہیں ملی تھی ۔بس گوشت کے چند لوتھڑو ںاورکپڑے کی کچھ دھجیوں کو لکڑی کے تابوت میں بند کر کے دفنا دیا گیا تھا۔تناوش کمرے میں بند ہو کر رہ گئی تھی ۔ اس کی حالت کے پیش نظر پاشا کواسے ماں کے پاس بھیجنا پڑا ۔البتہ اس کی حفاظت کے لیے باقر اور رخسار کو بھی ساتھ بھیجا تھا ۔
کبیردادا کی موت کے تیسرے دن تمام گینگسٹرز کبیر دادا کے خفیہ ٹھکانے پر موجود تھے۔سربراہی کی کرسی خالی پڑی تھی اور اس کرسی کی پشت کو پکڑ کر پاشا تمام کی طرف متوجہ تھا ۔
”بیٹھک کا باقاعدہ آغاز کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کرسی پر بیٹھنے کے لیے کسی ایک کا چناﺅ کیا جائے ۔اس ضمن میں کاشف دادا کے علاوہ اگر کوئی بھی مجھ سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو سامنے آسکتا ہے ۔تاکہ بیٹھک کے آغاز سے پہلے مقابلہ کر لیا جائے ۔“پاشا نے سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا مگر کوئی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا تھا ۔
”کاشف دادا !....اگر آپ یہاں آنا چاہیں تو مجھے خوشی ہو گی ۔“اس مرتبہ پاشا نے کاشف راجپوت کو دعوت دی ۔
کاشف راجپوت کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”شکریہ پاشا ،مگر میں اپنی جگہ پر ٹھیک ہوں ۔ آپ سے پہلے کبیردادا نے بھی مجھے یہی دعوت دی تھی اور میں نے اسے بھی انکار کر دیا تھا ۔“
”کیا آپ مجھے بیٹھنے کی اجاز ت دیں گے ۔“بیٹھنے سے پہلے پاشا نے ایک مرتبہ پھر کاشف دادا سے اجازت طلب کی ۔
کاشف نے کہا ۔”تم میری اجازت کے بغیر بھی بیٹھ سکتے تھے ۔بہ ہر حال عزت افزائی کا شکریہ ۔پلیز تشریف رکھیں ۔“
”پاشا سربراہی کی کرسی پر نشست سنبھالتا ہوا بولا ۔”ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آگیا ،شاید آپ لوگوں نے پہلے بھی سنا ہو کہ ایک شخص اپنے بوڑھے باپ سے جان چھڑانے کے لیے اس کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر پہاڑ پر لے گیا ۔اور جب وہ باپ کو نیچے پھینکنے لگا تو اس ساتھ موجود بیٹے نے کہا۔”ابوجان رسی دادا کے ساتھ نیچے نہ پھینک دینا۔“
باپ نے پوچھا۔” کیوں بیٹا ۔“
تو کہا ۔”جب آپ بوڑھے ہو جائیں گے تو میں بغیر رسی کے آپ کو یہاں تک کیسے گھسیٹ کر لاﺅں گا ۔“
”پتا نہیں اس وقت یہ واقعہ میرے دماغ میں کیوں در آیا ۔خیر میں کہنے لگا تھا کہ کبیر دادا کا قاتل یا وہ لوگ جو اس کے قتل کی سازش میں شریک تھے میں انھیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔باقی چند دن پہلے کبیر دادا نے اس کرسی پر بیٹھ کر کچھ باتیں کی تھیں ۔وہ سب کو یاد ہو ں گی اس لیے میں دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔بس وہ احکامات اسی طرح جاری رہیں گے ۔ اور سب سے آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کبیر دادا کی بیوی کو میں چھوٹی بہن نہیں سمجھتا بلکہ وہ حقیقت ہی میں میری چھوٹی بہن ہے ۔اگر اس کے خلاف کسی کے گندے دماغ میں کوئی غلیظ خیال رینگا ، یقین مانو اس کا انجام بہت بھیانک ہوگا ۔میں صرف متعلقہ شخص کو نہیں اس کے پورے خاندان کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا مع دودھ پیتے بچوں کے ۔یہ میرا آخری اور واضح پیغام ہے ۔اور یقینا عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔میری باتوں سے اختلاف رکھنے والا اپنی رائے پیش کر سکتا ہے ۔“
کسی نے بھی زبان کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
دو تین لمحے انتظار کے بعد پاشا نے کہا ۔”تو، بیٹھک ختم ہوئی ۔“
سارے ایک ایک کر کے وہاں سے رخصت ہونے لگے ۔صرف کاشف راجپوت وہیں بیٹھا رہا ۔تمام کے باہر جاتے ہی وہ پاشا کو مخاطب ہوا ۔
”پاشا ،تم نے اچھا نہیں کیا ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو دادا ،کبیردادا کو وداع کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا ،لیکن کیا کرتا میں مجبور ہو گیا تھا ۔میرے پاس چناﺅ کا اختیار ہی نہیں رہا تھا ۔“
کاشف نے تشویش بھرے لہجے میں کہا ۔”جانتے ہو اب تم کتنے کمزور ہو گئے ہو ۔“
”آپ کی موجودی کے سہارے نے مجھے حوصلہ دیا ورنہ میں اتنی ہمت نہ کر پاتا ۔“
کاشف راجپوت چند لمحے اسے گھورتا رہا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا ۔ ”ہوشیار رہنا ،کچھ لوگوں کو تم بہت زیادہ کھٹک رہے ہو ۔“یہ کہتے ہی وہ چل پڑا ۔اس نے پاشا کا جواب سننے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
وہ دونوں بیٹھک کے اختتام پر اخلاق حسین کے ٹھکانے پر پہنچے تھے ۔”یار ،مجھے تو پاشا کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔“بیٹھتے ساتھ اخلاق حسین نے تشویش بھرے لہجے میں کہا ۔
نوشاد آفریدی تپتا ہوا بولا۔”بھاڑ میں گئے تیور مجھے تو اس پھل جڑی کا دکھ کھائے جا رہا ہے ۔کبیر دادا جیسے سانپ کو مار کر بھی وہ خزانہ مجھے پہلے جتنا ہی دور دکھائی دے رہا ہے ۔“
اخلاق حسین اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔”ہمیں انتظاکرنا پڑے گا ،فی الحال وہ جذباتی ہو رہا ہے ۔تازہ تازہ اپنے استاد کو موت کے گھات اتارا ہے حرامی نے ۔اسے سنبھلنے میں تھوڑا وقت تو لگے گا ۔آہستہ آہستہ بھول جائے گا اس حادثے کو بھی اور اپنی منھ بولی بہن کو بھی ۔تب کچھ کریں گے ۔“
نوشاد نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ۔”قسم سے میرا تو دل کر رہا ہے اس سے شادی کر لوں ۔“
”بکواس نہ کرو ،میں بھی اس حسینہ کاامیدوارہوں ۔“اخلاق حسین اسے ڈانٹے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔
نوشاد نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”اچھا چھوڑو یار، یونھی دماغ خرا ب کر دیا فاحشہ نے۔ جتنی بھی کوششیں کی ہیں اتنا ہی قابو سے باہر ہوتی گئی ہے ۔پتا نہیں اس خبیث کبیردادا سے پہلے اس پر میری نظر کیوں نہیں پڑی تھی۔“
”ٹھیک کہا خان صاحب،فی الحال اس کے خیال کو چھوڑنا ہی پڑے گا ۔پاشا کی دھمکی نظر انداز کر دینے کے قابل نہیں ہے ۔“اخلاق حسین نے اس کی تائید میں سر ہلادیا۔
٭٭٭
”تو اب تمھارا کیا ارادہ ہے ۔“پاشا اس وقت تناوش کے گھر میں ماں بیٹی کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ۔رخسار اور کبیر بھی وہاں قریب ہی موجود تھے ۔
تناوش نے کہا ۔”ہم کراچی سے کہیں اور منتقل ہونا چاہتے ہیں بھیا !.... آپ بس ہمارے گھر کا سودہ کروا دیں اور کسی دوسرے شہر میں سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ دیں۔“ حیرت انگیز طور پر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا ۔
وہ اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔”چند لاکھ کے گھر کی فکر کیوں کرتی ہو ،تمھیں کبیر دادا کے ترکے میں چھوڑے ہوئے کروڑوں روپے میں ملیں گے ۔“
”ایک پائی بھی نہیں لوں گی بھیا ،بلکہ کبیر نے جو کچھ میرے لیے خریدا تھا وہ بھی یہیں چھوڑ جاﺅں گی ۔سوائے چاندی کے اس چھلے کے ۔“اس نے انگلی میں پہنے ہوئے چھلے کو ہونٹوں سے لگایا ۔
”مگر کیوں ۔“پاشا حیران رہ گیا تھا ۔
”کیوں کہ ہمیں حرام کا ایک پیسہ بھی نہیں چاہیے بیٹا ۔“خاموش بیٹھی بشریٰ نے منھ کھولا ۔
”جیسا آپ چاہیں ماں جی !“پاشا ،تناوش کی نسبت سے اسے ماں جی ہی کہنے لگا تھا۔
تناوش نے بے تابی سے پوچھا ۔”تو کب تک ہو جائے گا ۔“
”امید ہے پرسوں تک میں آپ دونوں کو بھجوا دوں گا ۔“
تناوش نے کہا ۔”میں بے چینی سے منتظر ہوں ۔“
تناوش کی بے صبری پر پاشا مسکرا دیا تھا ۔”گڑیا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔جہاں اتنا برداشت کر لیا وہاں دو دن اور سہی ۔“
تناوش نے دکھی لہجے میں امید ظاہر کی ۔”بھیا ،شاید کبھی ایسا وقت آئے کہ آپ کو میری بے صبری کا ادراک ہو ۔مجھ پر جو بیت رہی ہے اس سے میں یا میرا رب ہی واقف ہے ۔“
”جانتا ہوں ۔“پاشا نے اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔”مگر تم یہ نہیں جانتیں کہ آپ لوگوں کے جانے بعد میں کتنا اکیلا اور تنہا رہ جاﺅں گا ۔“
تناوش افسردگی سے مسکرائی ۔”اس بارے ہم پہلے بات کر چکے ہیں ۔“
”صحیح کہہ رہی ہو ۔“کہہ کر پاشا نے بشریٰ کے سامنے سر جھکادیا۔
بشری نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔”جیتے رہو بیٹا ۔“اور پاشا وہاں سے باہر نکل گیا۔
رخسار اور باقر اس وقت دروازے پر کھڑے ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے ۔
باقر نے کہا ۔”مجھے سو فیصد یقین ہے کہ کبیر دادا کے قتل میں پاشا دادا کا ہاتھ ہے ۔نہ جانے باجی کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آ رہی ۔“
رخسار اسے سمجھاتے ہوئے بولا ۔”یار ،چھوٹی سی لڑکی ہی تو ہے ۔اسے ان چال بازیوں کا کیا پتا ۔اور ویسے اسے معلوم ہو بھی جائے تو کیا کر لے گی ۔“
باقر نے کہا ۔”کم از کم پاشا کے چہرے پر موجود نقاب تو ہٹ جائے گی ۔کتنے خلوص اور معصومیت سے وہ اسے بھائی کا درجہ دیے ہوئے ہے ۔بے چاری کو اس منافقانہ رشتے سے تو نجات ملے گی ۔“
رخسار نے مشورہ دیا ۔”چھوڑو یار ،پہلے ہی غریب کا بھائی قتل ہو گیا تھا ۔ اس نے پاشا سے دل بہلایا ہوا ہے ،رہنے دو یہ رشتا اس کے پاس ۔“
باقر نے کہا ۔”میں اسے اشارے کنائیے میں دو تین دفعہ اس طرف متوجہ کر چکا ہوں ، مگر اتنی بھولی ہے اس کی کچھ سمجھ ہی میں نہیں آرہا ۔“
”تم نے ضرور مرنا ہے بے وقوف ۔“رخسار نے اسے ڈانٹا ۔”آئندہ ایسی کوشش نہ کرنا ۔“
اس وقت تو باقر خاموش رہا مگر اس کا ارادہ تبدیل نہیں ہوا تھا ۔رات کو اسے تناوش سے بات کرنے کا موقع مل گیا تھا ۔ان دونوں میں سے آدھی رات تک ایک آدمی جاگ کر دروازے پر موجود رہتا جبکہ دوسرا صحن میں چارپائی بچھا کر لیٹ جاتا ۔تناوش اور اس کی ماں کمرے ہی میں سوتی تھیں ۔رات کے وقت تناوش عموماََ صحن میں نکل کر گھومنا شروع کر دیتی ۔ اس وقت بھی تناوش بے چین ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور صحن میں چکرانے لگی ۔
باقر ہمت مجتمع کرتا ہوا اس کے قریب پہنچا ۔باجی ایک بات کہنا تھی ۔“
”کہو بھائی ۔“وہ چونکتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”پہلے آپ وعدہ کریں کہ یہ بات آپ کے اور میرے درمیان راز رہے گی ۔“باقر نے اپنی حفاظت کی گنجائش باقی رکھنا چاہی ۔
”شاید آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کبیر کی موت میں بھیا ملوث ہے ،ہے نا ؟“نہ جانے اس نے کیسے اتنا صحیح اندازہ لگا لیا تھا ۔
وہ ہکلایا ۔”جج....جی باجی ۔یہی بات ہے ۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”کبیر اس وقت یہیں میرے ہی گھر میں موجود تھے جب انھیں کال وصول ہوئی کہ جلدی سے ساحل والے اڈے پر پہنچیں ۔اور یہ کال بھیا نے کی تھی۔“
باقر نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”تو آپ پہلے دن سے یہ جانتی ہیں ۔“
”ہاں ....“اس نے افسردہ انداز میں سر ہلادیا ۔
”پھر پاشا دادا کو باور کیوں نہیں کرایا ۔“
”وہ جانتے ہیں ،کہ مجھے اس بارے سب معلوم ہے ۔لیکن مجھے وہ چھوٹی بہن ہی کی طرح چاہتے ہیں ۔ان سے دشمنی مول کر میں کبیر کو تو واپس نہیں لا سکوں گی البتہ بھائی کو اور ان کی ہمدردیوں کو کھو دوں گی ۔کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ میں مکمل طور پر بے آسرا رہ جاﺅں ۔“
”نن....نہیں باجی ،میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔“باقر گڑ بڑا گیا تھا ۔
”بھائی ،آپ کی ہمدردی پا کر اچھا لگا ۔اور اگر میری خوشی عزیز ہے تو کبھی بھیا کے ساتھ غداری نہ کرنا ۔“
باقر سر جھکا کر خفیف سا پیچھے ہٹ گیا ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ چھوٹی سی لڑکی اتنا کچھ جانتی ہو گی ۔اس کے حوصلے اور ہمت سے بھی وہ خاصا متاثر ہوا تھا ۔محبت کرنے والے شوہر کو کھو کر بھی اس اعصا ب کسی جہاں دیدہ عورت کی طرح کام کر رہے تھے ۔
٭٭٭
تناوش سے ملاقات کے دوسرے دن رات کے دو بجے پاشا کو ایک گمنام نمبر سے کال وصول ہوئی ۔اس کے ۔”ہیلو۔“ کہتے ہی دوسری جانب سے ایک شناسا آواز ابھری ۔
”میں تین بجے تک پہنچ جاﺅں گا ۔“
”میں منتظر ہوں ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ سرعت کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنی کار میں تناوش کے گھر کی طرف روانہ تھا ۔تناوش کے گھر کے سامنے کار رکتے ہی باقر نے دروازہ کھول کر باہر جھانکا ۔آٹو میٹک رائفل اس نے تیاری حالت میں پکڑی ہوئی تھی۔ مگر کار سے پاشا کو اترتا دیکھ کر اس کے تنے ہوئے اعصا ب ڈھیلے پڑ گئے تھے ۔
”رخسار کو اٹھاﺅ اور دونوں واپس کوٹھی پر پہنچو ۔“پاشا نے اندر گھستے ہی اسے حکم دیا ۔
”جی دادا ۔“کہہ کروہ سوئے ہوئے رخسار کی طرف بڑھ گیا ۔تناوش بھی ان کی آواز سن کر کمرے سے نکل آئی تھی ۔
”بھیا ....“اس نے سوالیہ انداز میں پکارا ۔
”ہاں گڑیا میں ہوں ۔امی جی کو بھی جگاﺅ دو آپ لوگ ابھی یہاں سے روانہ ہوں گے۔“
”جی بھیا ۔“تناوش کے لہجے میں شامل خوشی باقر اور رخسار کو حیران کر گئی تھی ۔مگر وہ زیادہ سوچنے کی زحمت کیے بغیر گھر سے باہر نکل گئے ۔گلی سے نکلتے ہی انھیں خالی رکشا مل گیا تھا ۔
ان دونوں کے غائب ہوتے ہی پاشا ،ماں بیٹی کا ہاتھ بٹانے کے لیے کمرے میں داخل ہوا مگر وہ پہلے سے سارا سامان سمیٹ چکی تھیں ۔یقینا یہ کام وہ سرشام ہی سر انجام دے چکی تھیں ۔
”کتنی دیر ہے بھیا ۔“تناوش نے بے صبری سے پوچھا ۔
”تین بجے تک تمھیں لینے گاڑی پہنچ جائے گی ۔“
تناوش نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین روشن کرتے ہوئے وقت دیکھا ۔تین بجنے میں چندمنٹ ہی رہتے تھے ۔اور پھر اس کی سماعتوں نے گلی میں گاڑی کے رکنے کی آواز سنی۔ وہ بے صبری سے دروازے کی طرف بھاگی ۔پاشا اور بشریٰ اس کی حالت دیکھ کر ہنس پڑے تھے ۔
دروازے پر پہنچ کر وہ رکی اسی وقت دروازے کو دھکیلتا ہوا شلوار قمیص میں ملبوس ایک لمبا تڑنگا شخص اندر داخل ہوا ۔
تناوش اس کی طرف یوں بڑھی جیسے لوہا مقناطیس کی طرف حرکت کرتا ہے اگلے ہی لمحے وہ اس کی بانہوں میں تھی ۔
”کبیر ....“تناوش کے لہجے میں محبت،بے صبری ،بے تابی ،خلوص اور نہ جانے کون کون سی کیفیات شامل تھیں ۔
”کبیر کی جان ۔“آنے والے نے محبت بھرے انداز میں اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور اس کے دونوں بازوﺅں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا ۔وہ پھول کی طرح ہلکی پھلکی تھی ۔اس سے سر سے بلند کر کے وہ ہنسا ۔
”مجھے یاد کیا تھا ۔“
تناوش نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،بھولے ہی نہیں تھے یاد کیا کرتی ۔“
”اچھا ابھی وقت نہیں ہے ،ہم نے کافی لمبا سفر طے کرنا ہے ۔“اسے نیچے اتار کر وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔پاشا کمرے کے دروازے پر کھڑا تھا ۔اس کے قریب پہنچتے ہی وہ اس سے لپٹتے ہوئے رو پڑا ۔
”ارے پاگل روتے کیوں ہو ۔“کبیردادا نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔
پاشا نے سسکی بھری ۔”آپ نے میرے کبیردادا کو مار دیا ۔“
کبیردادا آب دیدہ ہو کر بولا ۔”ہاں ،مگر اس کے بدلے تمھیں بڑے بھائی کا تحفہ بھی تو دیا ہے ۔“
”بھیا ،آپ لوگوں کی بہت یاد آئے گی ۔“زندگی میں پہلی بار اس نے کبیر دادا کو بھائی کہا تھا ۔
کبیر دادا نے اس کے ماتھے پر بوسا دے کر علاحدہ کیا ۔”خوب دیکھ بھال اور سمجھ داری سے وقت گزارنا ۔“
”جی بھیا ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”چلو سامان گاڑی میں رکھو۔“پاشا کو کہہ کر وہ بشریٰ کی جانب بڑھا ۔”ماں جی ،آپ تیار ہیں ۔“
”ہاں بیٹا ،پچھلے کئی دنوں سے منتظر تھی ۔اور اس پگلی سے تو ایک ایک پل گزارنا مشکل ہو گیا تھا ۔اچھا ہے تمھارا نیا موبائل فون نمبر اس کے پاس نہیں تھا ورنہ ضرور بھانڈا پھوڑ دیتی۔“
”ماں جی ،لگا لیں شکایتیں ۔دیکھ لوں گی آپ کو ۔“تناوش نے دھمکی دینے میں دیر نہیں کی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ سوزوکی وین میں اپنا سامان منتقل کر چکے تھے ۔پاشا سے ایک بار پھر محبت بھرے انداز میں مل کر کبیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔تناوش بھی بے ساختہ پاشا کے ساتھ لپٹ گئی تھی ۔
”بھیا ،اپنا وعدہ یاد رکھنا ۔“
”تم بھی ۔“اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر کر پاشا نے اس کے لیے اگلی نشست کا دروازہ کھول دیا ۔
آنکھوں میں نمی لیے وہ اچک کر سیٹ پر بیٹھ گئی ۔بشریٰ پیچھے بیٹھ گئی تھی ۔الوداعی ہاتھ لہرا کر کبیر نے وین آگے بڑھا دی ۔پاشا وین کے موڑ مڑنے تک وہیں کھڑا وین کی عقبی بتیوں کو گھورتا رہا ۔اس کے دماغ میں ہفتہ بھر پہلے تناوش سے ہونے والی ملاقات کا منظر تازہ ہوا ۔
”بھیا ،آپ کہاں ہیں ۔“چاے پیتے ہوئے اسے تناوش کی کال موصول ہوئی تھی ۔
اس نے پوچھا ۔”میں اپنے کمرے میں ہوں ،کیا دادا چلے گئے ہیں ؟“
”ہاں ۔“تناوش کا جواب اثبات میں تھا۔
”اچھا میں آرہا ہوں ۔“کہہ کراس نے کال کاٹ دی ۔اورپھر چاے کی پیالی ختم کیے بغیر اس کے کمرے میں پہنچ گیا ۔
اس نے کھڑے ہو کر پاشا کوبڑے بھائی جیسا احترام پیش کیا اور پاشا کے نشست سنبھالتے ہی بیٹھ گئی ۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔”اب بولو ،کیا بات ہے ۔“
”بھیا ،میں انھیں جرم کی دنیا سے نکالنا چاہتی ہوں ۔“تناوش نے بغیر کسی تمہید کے دل میں موجود بات اگل دی تھی۔
”کیا ....؟“پاشا ششدر رہ گیا ۔”کیا کہہ رہی ہو ۔ایسا ہونا ناممکن ہے گڑیا ۔“
”ناممکن تو کبیر کا شادی کرنا بھی تھا ،ناممکن تو ان کا مجھے بیوی کا درجہ دینا بھی تھا ، ناممکن تو محترم بہرام پاشا کا مجھے بہن بنانا بھی تھا ،ناممکن تو شمشیر دادا کا شکست کھانا بھی تھا ....جب اتنے سارے ناممکن ہو سکتے ہیں تو یہ بھی ہو جائے گا ۔“
پاشا نے پوچھا ۔”کیا تم نے اس موضوع پر دادا سے بات کی ہے ؟“
”ہاں ،انھوں نے بھی یہی کہا جو آپ کہہ رہے ہیں ۔“
”تو پھر تمھاری سمجھ میں آجانا چاہیے ۔“
تناوش کے چہرے پر حسرت نمودار ہوئی ۔”دل کو کیسے سمجھاﺅں ۔“
پاشا فلسفیانہ انداز میں بولا ۔”دل کی ماننے والے گھاٹے میں رہتے ہیں ۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”تب،جب دماغ دل کی مخالفت کررہا ہو۔“
”اگر تمھیں خطرے کا اندازہ ہوتا تو یقینا تم ایسا نہ سوچتیں ۔“
”میری تجویز سننے کے بعد اگر آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو میں کبھی بھی کبیر کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالوں گی ۔“
”بولو۔“پاشا کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بے دلی سے بولا ۔
تھوڑا سا سوچ کر تناوش اپنا منصوبہ بیان کرنے لگی ۔جوں جوں اس کی بات آگے بڑھتی گئی پاشا کی دلچسپی سوا ہوتی گئی ۔بات کے اختتام پر پاشا نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔
”کیا کبیردادا کو اس بات پر راضی کر سکتی ہو ۔“
وہ اعتماد بھرے لہجے میں بولی ۔”میں انھیں زہر کا بھرا پیالہ پینے کو کہوں توبھی مجھے نا ں سننے کو نہیں ملے گی ۔“
پاشا نے پوچھا ۔”وجہ ۔“
”کیوں کہ ان کے لیے جان دینا مجھے اتنا آسان لگتا ہے جتنا باورچی خانے میں جا کر چاے بنانا۔اور وہ مجھ سے بڑھ کر مجھے چاہتے ہیں ۔“
پاشا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ٹھیک ہے انھیں تیار کرو ۔“
اور تناوش نے مطمئن انداز میں سر ہلادیا ۔
اور پھر پاشا اور کبیر دادا کی مصنوعی چپلقش ہوئی ۔ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے پاشا نے اخلاق حسین اور نوشاد کا ساتھ ڈھونڈا۔ اور جب پاشا نے کبیر دادا کو ساحل والے اڈے کی جانب بلایا ،اس وقت ایک ویران سڑک پر وہ کبیر دادا کا منتظر تھا ۔اس نے اپنی کار کی ڈگی میں ایک لاش چھپائی ہوئی تھی ۔کبیر دادا اس کی کار میں بیٹھ گیا ۔ اپنی جیبوں میں موجود سامان اس نے لاش کے کپڑوں میں منتقل کردیا تھا۔ذرا دور جا کر انھوں نے ریموٹ کنٹرول بم سے کار اڑا دی ۔کبیر دادا کو بس اڈے پر اتار کر پاشا تناوش کو لینے اس کے گھر کی جانب بڑھ گیا اور کبیر دادا بس میں بیٹھ کر مانسہرہ روانہ ہو گیا جہاں ایک دوردراز گاﺅں میں اس نے گھر وغیرہ خریدنا تھا ۔اس سارے منصوبے کی روح رواں تناوش ہی تھی ۔بس نئے شہر کے بارے انھوں نے مل کر طے کیا تھا ۔آخر وہ اپنے کبیر کو جرم کی دنیا سے نکال کر لے گئی تھی ۔
پاشاخود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔”گٰڑیا ،میں تمھیں دیکھتے ہی جان گیا تھا کہ تم ایسا ہی کچھ کرو گی ۔جہاں رہو خوش رہو میری پیاری بہنا ۔“
وہ ا ب تک وہیں کھڑا تھا ۔اچانک ایک کار گلی میں داخل ہوئی اور اس کے قریب آکر رک گئی ۔دو آدمی باہر نکلے ۔ان میں سے ایک بولا ۔
”کام ہو گیا دادا ۔“
”چلو شروع ہو جاﺅ ۔“اس نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
دونوں نے کار کی عقبی نشست سے دو عورتوں کی لاشیں نکالیں اور گھر کے اندر لے گئے ۔تھوڑی دیر بعد واپس آکر انھوں نے کار کی ڈگی سے پٹرول کے کین نکالے اور دوبارہ اندر گھس گئے ۔چند منٹ بعد گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی ۔دونوں کاریں کے مکین آگ کا تماشا دیکھنے کے لیے رکے نہیں تھے ۔
٭٭٭
رات کے اس وقت بھی اچھا خاصا ٹریفک نظر آرہا تھا ۔ایک بغلی سڑک پر دو موٹرسائیکل سوار ان کی وین سے ٹکراتے ٹکراتے بچے تھے ۔دونوں نوجوان کافی بگڑے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔
”اندھا ہے کیا ۔“موٹر سائیکل چلانے والا ۔کافی غصے میں دکھائی دے رہا تھا ۔
”بتاتا ہوں تجھے ۔“کبیر دادا نے ہینڈ بریک کھینچ کر دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ ان احمقوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کس کو مخاطب ہیں ۔مگر اس سے پہلے کہ کبیر دروازہ کھول کر باہر نکلتا ۔تناوش نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
”کبیر ۔“اس کی محبت بھری سرگوشی کسی موٹی زنجیر سے بھی زیادہ مضبوط تھی ۔وہ ایک دم اس کی جانب متوجہ ہوا ۔تناوش کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکان ابھری ۔
”اپنے وعدے سے پھر رہے ہیں آپ ۔“
کبیر نے بے بسی بھرے انداز میں سر جھکا لیا تھا ۔تناوش کھڑکی سے چہرہ نکال کر ان لڑکوں کو مخاطب ہوئی ۔
”بھائی ،میں معذرت چاہتی ہوں ۔غلطی ہماری ہے ۔آپ میں کسی کو چوٹ تو نہیں لگی ۔“
غصے میں لڑائی کے لیے تیار لڑکوں کے چہروں پر ہلکی سی ندامت ابھری کہ انھیں بھی اپنی غلطی کے بارے علم تھا ۔موٹرسائیکل چلانے والا فوراََ بولا ۔
”کوئی بات نہیں بہن جی ،بچت ہو گئی ہے ۔“یہ کہتے ہی وہ آگے بڑھ گئے تھے ۔
”بس اتنی سی بات تھی ۔“اس کی طرف کھسکتے ہوئے تناوش نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔”میں ہوں نا آپ کی ڈانٹ کھانے کے لیے ۔میرے کبیر کا غصہ اتنا سستا نہیں ہے کہ ہر ایرے غیرے پر لٹاتا رہے ۔“
وہ ہنسا ۔”اتنی بڑی نہیںہوں جتنی بڑی بڑی باتیں کرتی ہو ۔“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولی ۔”عورت کبھی چھوٹی بڑی نہیں ہوتی جنا ب،وہ بے چاری تو ہمیشہ شوہر کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے ۔بادشاہ کی بیوی ،وزیر اعظم کی بیوی ،سپہ سالار کی بیوی، بھکاری کی بیوی وغیرہ وغیرہ ۔اور میں جس کی بیوی ہوں اس کا رتبہ تو بہت بڑا ہے نا اوراتنا ہی میرے لیے کافی ہے ۔“
”رتبہ ۔“کبیر نے قہقہہ لگایا ۔”یہ بھی خوب کہی ۔اب بھول جاﺅرتبے کو محترمہ ۔“
وہ عقیدت مندی سے بولی ۔”اپنے رتبے اور مقام کو دیکھنے کے لیے میرے دل میں جھانکیں جی ۔“
”ہونہہ!بات تمھاری نہیں ،لوگوں کے سمجھنے کی ہے ۔“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔
تناوش نے فوراََ پوچھا ۔”آپ کے نزدیک میں اہم ہوں یا لوگ ؟“
وہ محبت سے بولا ۔”جواب تمھیں معلوم ہے ۔“
”تو پھر لوگوں کی فکر کیوں کرتے ہیں ۔“
”اچھا دفع کرو لوگوں کو ،تم یہ بتاﺅ اس دن تمھارے لیے جو اتنی خریداری کی تھی کیا وہ سارا سامان تم نے وہیں چھوڑ دیا ہے ؟“
”آپ کو کیسے معلوم ؟“
”پاشا نے بتایا ہے ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”ہاں ،میں نے حرام کی دولت سے خریدی ہوئی کوئی بھی چیز ساتھ نہیں لی ۔امی جان سے پیسے لے کر اس موبائل فون کی قیمت بھی پاشا بھائی کو ادا کر دی تھی۔کیوں کہ نئی زندگی کی ابتداءمیں حلال کے پیسے سے کرنا چاہتی ہوں اور یہی امی جان کی بھی منشا ہے ۔“
کبیر نے عقبی شیشے پر نگاہ دوڑا کر سیٹ سے ٹیک لگا کر اونگھتی ساس پر نگاہ دوڑائی ۔ نہ جانے اسے سچ مچ نیند آرہی تھی یا وہ ان دونوں کو آزادی سے بات چیت کرنے کا موقع دینے کے لیے سوتی بنی ہوئی تھی ۔”تمھارا گھر بیچ کر جو رقم وصول ہوئی تھی ،اس سے یہ گزارے لائق وین خریدی ہے اور وہاں گاﺅں میں ایک کنال زمین خریدی ہے جس پر ابھی تک گھر بنا نا ہے ۔“
”کیا گھر بنانے کے لیے پیسے نہیں بچے ۔“
”نہیں کچھ رقم بچ بھی گئی ہے ،ان شاءاللہ گھر بن جائے گا۔“
”تو جب تک گھر نہیں بنے گا رہیں گے کہاں ؟“
”جس سے زمین خریدی ہے اس کی ایک کمرے کی بیٹھک چند دنوں کے لیے مانگ لی ہے ۔کیا وہاں گزارا کر لو گی ۔“
”میں آپ کے ساتھ کھلے میدان میں بھی رہ لوں گی ۔اور سچ کہوں چھوٹے گھر میں رہنا آپ کے لیے مسئلہ ہے ہم تو عادی ہیں ۔“اس کے مضبوط ہاتھ پر اپنا ملائم ہاتھ رکھتے ہوئے وہ پیار بھرے انداز میں سہلانے لگی ۔
٭٭٭
”بہت برا ہوا یا ر ،پاشا اتنا نیچ ،لالچی اور کمینہ نکلے گا یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔“ نوشاد کے چہرے پر سچ مچ پریشانی نظر آرہی تھی ۔
اخلاق نے پھیکے لہجے میں کہا ۔”وہ اپنی قسمت ہی میں نہیں تھی یا ر۔“
نوشاد خوف زدہ لہجے میں بولا ۔”اس ظالم نے کبیر دادا کی دولت و جائیداد کے لیے منھ بولی بہن کو جلادیا تو اور کسی کے ساتھ کیا اچھائی کرے گا ۔ابھی سنبھل کر رہنا ہو گا بھائی ،یہ کسی اور ذہن کا مالک ہے ۔“
اخلاق نے کہا ۔”صحیح کہہ رہے ہو خان صاحب،اب تو پچھتاوا ہورہا ہے کہ کبیر دادا کے بجائے اس کا پتا کاٹنا چاہیے تھا ۔“
”شاہ جی ،میرے ہاتھ تو کھڑے ہیں ،ایسے ظالم کے خلاف کیا سازش کریں گے ۔ اور جانتے ہو اس نے اس دن کی بیٹھک میں صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ کبیر دادا کے خلاف سازش کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گا ۔اور یہ وہ ہمیں سنا رہا تھا کہ اب محتاط رہیں ۔“
”اب محتاط ہی رہیں گے خان صاحب،یوں بھی ہمارے دل کی حسرتیں تو دل ہی میں رہ گئیں ۔اس شہزادی کے پھولوں جیسے بدن کو آگ لگاتے وقت دل بھی نہیں کانپا ظالم کا۔ اور جنازے پر بھی کس بے حیائی سے چہرے پر افسوس طاری کیا ہوا تھا بے غیرت نے ۔“ اخلاق حسین نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
نوشاد آفریدی چہرے پر پریشانی لیے خاموش بیٹھا رہا ۔دونوں نے تناوش کے حصول کی جتنی کوششیں کی تھیں تمام رایگاں گئی تھیں ۔اور اب تو وہ کسی کوشش سے بھی رہ گئے تھے ۔ جب وہ ہی نہیں رہی تھی تو کوشش کیا کرتے ۔
٭٭٭
ابتدائی دو تین ماہ انھیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو بتدریج ختم ہو تی گئیں ۔کبیر نے پرانی زندگی کو اس طرح بھلا دیا تھا جیسے وہ کبھی غلط کاموں میں ملوث ہی نہ رہا ہو ۔تناوش کی محبت بھری توجہ نے اس کے دل میں کبھی عیش و آرام کی زندگی چھوڑنے کا ملال پیدا نہیں ہونے دیا تھا ۔ وہ اپنے کبیر کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھتی اور اس کی اتنی خدمت کرتی کہ بعض اوقات وہ شرمندہ ہو جاتا ۔اس نے ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان کھولنے کے ساتھ وہ سوزکی وین پر گاﺅں کے چند بچوں کوشہر کے اسکول لے جاتا لاتا بھی تھا ۔ان کی گزر اوقات اچھے طریقے سے ہو رہی تھی ۔ تناوش کے زور دینے پر اس نے قرآن مجید دوبارہ حفظ کرنا شروع کر دیا تھا ۔اور یہ دیکھ کر وہ خود ہی حیران رہ گیا تھا کہ تین چار ماہ میں اسے پورا قرآن مجید دوبارہ یاد ہو گیا تھا ۔رمضان شریف میں تراویح کی امامت کراتے ہوئے جہاں اس کی خوش الحانی موضوع ِ بحث بنی ہوتی وہیں اس رقیق القلبی کو بھی یاد کیا جاتا ۔دوران تلاوت وہ بے ساختہ رونا شروع ہو جاتا تھا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے دو سال کا عرصہ بیت گیاتھا ۔تناوش نے اسے ایک خوب صورت بیٹی کا تحفہ بھی دیا تھا جس کانام تناوش نے اس کی بہن اسماءکے نام پر رکھا تھا ۔تناوش بعض اوقات پاشا کو یاد کر کے رو پڑتی تھی ۔وہ اسے سچ مچ اپنے بھائی شاہ نواز کا نعم البدل لگتا تھا ۔اور پھر ایک دن تناوش کو پڑوسی عورت کی زبانی کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے بارے پتا چلا ۔وہ سارا دن بے چین رہی تھی ۔رات کو لیٹتے وقت وہ کبیر سے اسے موضوع پر بات کرتی رہی ۔
”دیکھو چندا ،وہ کوئی بچہ نہیں ہے ۔تم نے آتے وقت اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ وہ جلد از جلد اس کام کو چھوڑ دے گا مگر جب وہ نہیں چھوڑنا چاہتا تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔“
وہ سسکی ۔”ان کے لیے دعا تو کر سکتے ہو نا ۔“
”تو کیا نہیں کرتا ۔پگلی !“اس کی ناک کی پھننگ مروڑتے ہوئے وہ مسکرادیا۔
اس کے بعد وہ دن کو روزانہ خبریں سننے پڑوسیوں کے گھر چلی جاتی ۔ایک دن اس نے اپنے کانوں سے بہرام پاشا نامی گینگسٹر کی گرفتاری کی خبر سنی ۔اس دن وہ بہت روئی تھی ۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھاکر رب کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے جانے کتنی دیر وہ مناجات میں مصروف رہی ۔اپنے بھائی کی خیریت اور اس کے راہ راست پر لوٹنے کی دعائیں مانگتی رہی ۔مگر شاید اس کی دعاﺅں میں اثر ختم ہو گیا تھا یا وہ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ لے بیٹھی تھی ۔کہ پاشا کی گرفتاری کے ٹھیک ایک ہفتے بعد وہ اس کے پھانسی ہو جانے کی خبر سن رہی تھی ۔رینجرز کے حکام نے بڑی سرعت اور تیزی سے گینگسٹرز کے خلاف کارروائیاں کی تھیں ۔
چند دنوں میں بہرام پاشا کی پھانسی کی خبر پرانی ہو گئی تھی ،مگر تناوش کے سینے میں لگنے والا یہ زخم اتنی جلدی نہیں بھر سکتا تھا ۔
پاشا کی پھانسی کو دو ماہ ہونے کو تھے ایک دن وہ گھر کے کام ختم کر کے اسماءکے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔
بشریٰ نے کہا ۔”ٹھہرو میں دیکھتی ہوں ۔“
”نہیں ماں جی ،آپ اسے پکڑیں ،میں دیکھ لیتی ہوں ۔“اسماءماں کے حوالے کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔
”کون ؟“دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے آواز دی ۔
نسوانی آواز نے پوچھا ۔”یہ کبیر صاحب کا گھر ہے ؟“
”جی ہاں ۔“اس نے دروازہ کھول دیا ۔یوں تو کبیر کو تمام گاﺅں والے حافظ صاحب ہی کہہ کر بلاتے تھے ،وہ عورت یقینا مقامی نہیں تھی ورنہ اس انداز میں مخاطب نہ کرتی ۔
دروازے پر کالا نقاب اوڑھے ایک جوان لڑکی کھڑی تھی ۔
”اندر آجائیں بہن اس نے ایک طرف ہو کر اسے رستا دیا ،مگر اس کے پیچھے راحت خالہ کو دیکھتے ہی وہ چیخ پڑی تھی ۔”راحت خالہ ۔“وہ بری طرح اس سے لپٹی تھی ۔
”چل ہٹ بے وفا ۔“راحت خالہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولی ۔”پچھلے دو سال سے خالہ اپنی بیٹی کی موت کا سوگ منا رہی ہے ۔اب آکر پتا چلا کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ۔“
”اچھا آئیں بیٹھیں تو سہی ۔“ندامت بھری ہنسی سے وہ اسے کھینچنے لگی ۔
”ہمارے ساتھ میرا شوہر بھی ہے ۔“جوان لڑکی اسے مخاطب ہوئی ۔نہ جانے کیوں تناوش کو وہ دیکھی بھالی ہوئی لگ رہی تھی ۔
”اندر بلالو بہن ۔“وہ سر پر دوپٹا درست کرنے لگی ۔
”آجائیں جی ۔“لڑکی نے آواز دی ۔اسی وقت چہرے پر مفلر لپیٹے ایک مرد دو بھاری بیگ اٹھائے اندر داخل ہوا ۔اس کے مفلر لپٹے چہرے پر نظر پڑتے ہی تناوش کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی ۔اس کی آنکھوں نے اسے کسی اپنے کی یاد دلا دی تھی ۔اس کی نظریں اجنبی مرد کے چہرے پر چپک کر رہ گئی تھیں ۔وہ بھی ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔اور پھر اس نے تناوش کا زیادہ امتحان نہیں لیا تھا اور اپنے چہرے پر لپٹا مفلر کھول دیا ۔
”بھیا !“تناوش کی چیخ سے صحن گونج اٹھا تھا ۔اس سے لپٹتے ہوئے وہ بے ساختہ رو پڑی ۔
”ارے پاگل روتی کیوں ہو ۔“وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔ ”تھوڑی دیر ہو گئی ہے مگر وعدے کے مطابق آتو گیا ہوں ۔“
”ہم نے آپ کے متعلق بڑی بری خبر سنی تھی ۔“گلو گیر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس سے علاحدہ ہوئی ۔
”تو اچھی خبر نہیں سنی تھی ۔“اس نے کالے نقاب میں ملبوس لڑکی کی جانب اشارہ کیا ۔ اسی وقت لڑکی نے نقاب ہٹایا اور تناوش ،رخسانہ بھابی کہتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی ۔ وہ شہاب قصوری کی بیٹی تھی ۔
”اچھا مجھے ساری بات بتائیں نا ؟“رخسانہ سے ملتے ہی وہ پاشا کی طرف متوجہ ہوئی۔
”اس بارے بعد میں بات کرتے ہیں ۔پہلے میں ماں جی سے مل لوں ۔“وہ بشریٰ کی طرف بڑھ گیا ۔تناوش کبیر کوبلانے کے لیے کال کرنے لگی ۔
رات کو کھانا کھاتے ہوئے وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا ۔رینجرز کا آپریشن شروع ہوتے ہی اس نے رینجرز فورس کو کمانڈ کرنے والے کرنل سے ملاقات کی اور وعدہ معاف گواہ بن کر تمام گینگسٹرز کو پکڑوانے کی آفر کردی ۔کرنل نے فوراََ ہی اس کی آفر قبول کر لی تھی ۔اس کے بعد وہ واپس اپنے ٹھکانے پر چلا گیا اور وہیں سے تمام گینگسٹزر کی مخبری کر کے گرفتار کرواتا رہا ۔تاہم کاشف راجپوت کو اعتماد میں لے کر اس نے ساری بات بتائی اور اسے لندن فرار کروا دیا تھا ۔ سب سے آخر میں اس نے منصوبے کے مطابق خود رینجرز کو گرفتاری دی ۔اپنے تمام دھندوں کے ثبوت ،بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات اور ہر چیز کے بارے اس نے رینجرزکے کرنل کوبلاکم و کاست اطلاعات فراہم کر دی تھیں ۔اس سچائی ،خلوص اور ایمانداری سے سرکار کا ساتھ دینے پر اسے معافی مل گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی پھانسی لگنے کا ڈراما رچایاتاکہ کوئی بچا ہوا دشمن انتقام وغیرہ کے لیے اسے ڈھونڈتا نہ رہے اور پھر رینجرز کے کرنل ہی کی وساطت سے اسے ایک نئی شناخت مل گئی تھی ۔
”جانتی ہومیرا نیا نام کیا ہے ؟“وہ تناوش کی طرف متوجہ ہوا ۔
”کیا کہہ سکتی ہوں بھیا ۔“اس نے لاعلمی کے انداز میں سرہلایا۔
”اچھا اگر تمھیں ،میرا نیا نام رکھنے کا کہا جاتا تو کیا رکھتیں ؟“
”شاہ نواز۔“تناوش نے بغیر سوچے دل کی بات ہونٹوں سے نکال دی ۔
”اچھا یہ دیکھو ۔“اس نے جیب سے شناختی کارڈ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔جس پر شاہ نواز ولد محمد رفیق لکھا ہوا تھا ۔
”بھیا ۔“تناوش نے جذباتی انداز میں اس کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا تھا ۔
”جانتی ہو اس شناختی کارڈ کا نمبر اور ساری تفصیلات ،شاہ نواز بھائی ہی کی ہیں ۔آپ لوگوں کے کراچی سے آتے وقت میں نے امی جان سے شاہ نواز بھائی کا شناختی کارڈ مانگ لیا تھا۔اور اب میں قانونی طور پر تمھارا بڑا بھائی ہوں ۔اس لیے خیال کرنا، غلطی کرنے سخت پٹائی ہو سکتی ہے ۔“
کبیر نے پوچھا۔”اوے پٹائی والے بھائی صاحب ،اپنے سسر صاحب کی تو خبر ہی نہیں بتائی ۔ شہاب قصوری صاحب کا کیا ہوا ۔“
” آپ لوگوں کے کراچی چھوڑنے کے تین ماہ بعد دل کے دورے سے وہ انتقال کر گئے تھے ۔اور ان کی وفات کے بعد ہی یہ محترمہ میرے گلے پڑیں ۔“پاشا نے مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے ماحول میں چھائی اداسی دور کرنے کی کوشش کی ۔
کبیر دادا صاف گوئی سے بولا ۔”اچھا محترم ،گھر میں تین کمرے ہیں ایک کمرہ میرے اور تناوش کے استعمال میں رہتا ہے ،ایک میں اماں جی ہوتی ہیں اور اب راحت خالہ بھی ان کے ساتھ رہ لیں گی ۔تیسرے کمرے میں کاٹھ کباڑ بھرا پڑا ہے ۔وہ اپنے لیے صاف کر لینا اور جلد از جلد کوئی محنت مزدوری شروع کروپرانی عیاشیوں کو بھول جاﺅ ۔“
”کام کرتی ہے میری جوتی ،اب بھی کروڑ پتی ہوں ۔“پاشا نے فخر سے چھاتی چوڑی کی ۔
”گویا حرام سے اب تک پیچھا نہیں چھڑا پائے ۔“کبیر دادا نے اسے ملامتی نظروں سے گھورا ۔تناوش بھی افسوس بھرے انداز میں اسے تکنے لگی تھی ۔
”اللہ نہ کرے بھائی،کیسی بات کر رہے ہیں ۔“پاشا کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا بولا۔ ”حکومت کی طرف سے پانچ کروڑنقد انعام ملا ہے ۔“
”بھیا !....پازیپ ،بندیا ،موتیوں کا ہار اور بندے لینے ہیں ۔“تناوش فوراََ اس کا بازو پکڑتے ہوئے لاڈ بھرے لہجے میں بولی ۔
کبیر دادا نے قہقہہ لگا کر کہا ۔”ہاں اسے لے کر دو تاکہ لونگ ،لائچی والے گانے پر رقص کا وعدہ پورا کرسکے ۔“
تناوش منھ بسورتے ہوئے بولی ۔”میں نہیں لیتی ۔“تما م کھل کھلاکر ہنس پڑے تھے ۔
پاشا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔”یہ تمام چیزیں میں پہلے ہی سے اپنی گڑیا کے لیے خرید کر لے آیا ہوں اور اس کے ساتھ بہت سارے کپڑوں کے سوٹ بھی ہیں۔“
”سچ ۔“خوشی سے تناوش کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۔
پاشانے کہا ۔”ہاں اور ایک نیا موبائل فون بھی خریدا ہے ،پتا ہے اس میں کون سی وڈیو بھرائی ہے ؟“
”کون سی بھیا ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”لونگ لائچی والے گانے کی وڈیو تاکہ میری گڑیا کو وعدہ پورا کرنے میں آسانی رہے۔“
تمام نے زوردار قہقہہ لگایا اور تناوش ۔”بھیا میں آپ سے بات ہی نہیں کرتی۔“ کہتے ہوئے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی ۔
ختم شد

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.