اول جنت کے پتے قسط 55
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 55
تمہارےاندھے ہونے کے چانس زیادہ ہے۔
وہ خاموشی سے عادتا ًنچلا لب دانت سے دبائے سنے گیا۔ کبھی وہ سوچتا تھا، وہ بہت خوش قسمت ہے کہ وہ بغیر کسی مستقل انجری کے جیل سے باہر آ گیا اور فوج کے لئے ناکارہ نہیں ہوا۔ مگر وہ غلط تھا۔ جیل افسران نے اسے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی ان کی جیل سے مردہ یا اپاہج ہوئے بغیر نہیں جاتا تھا۔ وہ ٹھیک کہتے تھے۔ وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے۔
پھر میں کیا کروں۔ بہت دیر بعد اس نے پوچھا تو ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلا دیا۔
تم دوسری رائے کے لئے کسی اور کے پاس جا سکتے ہو۔ باہر چلے جاؤ۔ جرمنی بہتر رہے گا۔ یقیناً کوئی مجھ سے اچھا سرجن یہ رسک لینے پہ تیار ہو جائے گا۔
وہ رات بہت تکلیف دہ تھی۔ ایک طرف یہ سر درد اور اب نکسیر پھوٹنا اور دوسری طرف اندھے ہونے کا خدشہ وہ کس کا انتخاب کرے۔ کیا اس کیل کو سر میں پڑے رہنے دے۔ یا پھر نکلوانے کا خطرہ مول لے لے۔ اور اگر وہ اندھا ہو گیا یا اپاہج، تو کیا ہو گا۔ کیریئر ختم، ملک کی خدمت ختم، حکومت کا لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اس کی تربیت دلانا ختم، زندگی ختم۔
صبح وہ سیدھا ریسٹورنٹ آیا۔ آج پہلی دفعہ اس کا دل کسی کام کے لئے نہیں چاہ رہا تھا۔ زندگی پہلے بھی بے یقین تھی، مگر اب تو مزید بے یقین ہو گئی تھی۔ کیریئر کا ختم ہونا اس کے لئے زندگی کے ختم ہونے کے برابر تھا۔ مگر پھر بھی وہ یہ رسک لے گا۔ خطرہ لئے بغیر بھی کوئی زندگی ہوتی ہے بھلا۔
جہان بھائی، وہ آپ کی دوست آئی تھی رات کو۔ کاؤنٹر پر جز وقتی بیٹھنے والے لڑکے نے بتایا تو وہ چونکا۔
حیا۔ کیا کہہ رہی تھی۔
اپنی دوست کے ساتھ آئی تھی، آپ کا پوچھا پھر چلی گئی۔ کافی دیر بعد دونوں دوبارہ آئیں، ان کے شاید کوئی پیچھے لگا ہوا تھا، انہوں نے بیک ڈور کا راستہ مانگا۔ پھر وہ وہیں پینٹری میں بیٹھی رہیں۔ سوا ایک بجے وہ پیچھے سے نکل گئیں۔
اور کچھ۔
اور پاشا بے بھی آئے تھے۔ اب کی بار وہ بری طرح چونکا۔
کیا کہہ رہا تھا وہ۔
آپ کا انتظار کرتے رہے۔ یہیں دروازے کے پاس کرسی پہ بیٹھے رہے۔ اچھے موڈ میں نہیں تھے۔ آپ سے ملنا چاہتے تھے۔
کیا وہ دونوں لڑکیا اس کی موجودگی میں آئی تھیں۔ بہت دن اپنے مسئلوں میں الجھنے کے بعد آج اسے پھر حیا کی فکر ہو رہی تھی۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں دروازے کے پاس کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ وہ ساتھ ہی بیٹھے تھے، انہوں نے چہرے کے آگے اخبار کر رکھا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہو گا۔ جب وہ دوسری دفعہ آئیں تب تک وہ جا چکے تھے۔
اچھا۔ وہ مطمئن ہو کر اندر چلا گیا۔ پاشا نے حیا کو دیکھ بھی لیا ہو تب بھی وہ ہرگز نہیں جان سکتا تھا کہ وہ جہان کی بیوی ہے۔ اسے جاننا بھی نہیں چاہئے تھا۔ کمزوریوں کو کیسے پکڑا جاتا ہے، جہان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔ اس لئے کوئی اس کی کمزوری پکڑے وہ نہیں چاہتا تھا۔ بس اب وہ جلد از جلد حیا کو یہاں سے بھیج دے گا۔ استنبول غیر محفوظ تھا۔ کم ازکم اس کی فیملی کے لئے۔
مگر اسے واپس بھیجنے سے قبل ضروری تھا کہ وہ اپنا پزل باکس کھول لے اور لاکر بھی۔ وہاں موجود گارڈ کو اس نے ہدایات دیے دی تھیں۔ جب بھی کوئی ۹ نمبر کا لاکر کھولنے آئے گا، گارڈ اس کے ایک نمبر پہ مسیج کر دے۔ چند پیسے لے کر گارڈ اس کام کے لئے راضی ہو گیا تھا۔ اور ابھی تک لاکر کھولنے کوئی نہیں آیا تھا۔
جب وہ دوبارہ بیوک ادا گیا تو اس نے اپنی الماری چیک کی۔ اس میں پزل باکس نہیں تھا۔ وہ عائشے نے رکھ لیا تھا یا واپس حیا تک پہنچ گیا تھا۔ یہی پوچھنے کے لئے اس نے بہارے کو بلایا۔
وہ سر جھکائے اوپر آئی اور صاف صاف بتا دیا کہ پزل باکس اس نے حیا کو دے دیا ہے۔ چند لمحے وہ کچھ نہیں کہہ سکا۔ اس کا اندازہ ٹھیک تھا۔ بہارے گل عائشے سے راز نہیں رکھ سکتی تھی۔ یقیناً اس نے سب سے پہلے عائشے گل کو بتایا ہو گا۔
اس نے بہارے پہ غصہ نہیں کیا۔ غصے والی بات تھی ہی نہیں۔ وہ اس کے سامنے پنجے کے بل بیٹھا اور اس سے اپنے راز کے بارے میں پوچھنے لگا۔
پھر تو مجھے تمہارے دوسرے وعدے کا بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
اور اب تو اسے اس وعدے کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت تھی۔ وہ اس پاک اسپائی کو جنازہ نہیں دے سکا تھا جس کو اس نے ابا کے ساتھ دفنایا تھا مگر شاید بہارے اس کو جنازہ دے سکے۔ یہ الگ بات تھی کہ کور Blow ہونے پر سب لوگ آپ کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ مگر بہارے مصر تھی کہ ایسا نہیں ہو گا۔
پورا ادالار بلکہ پورا ترکی تمہیں چھوڑ دے مگر بہارے گل تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی۔
مگر بہارے گل کے چہرے پہ شدید غصہ امڈ آیا جب جہان نے بہارے کی نئی دوست کا ذکر کیا۔ وہ حیا کو بہت پسند کرتی تھی مگر عبدالرحمن اس میں دلچسپی رکھتا ہے یہ بات اس کو پسند نہیں تھی۔
وہ اپنے کزن کو پسند کرتی ہے اور اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے
اس نے اپنے تئیں عبدالرحمن کو مقابلے کا احساس دلایا۔ بہارے نے حیا کا کزن کہاں دیکھا یہ وہ بعد میں عائشے سے پوچھے گا لیکن ابھی اس نے عبدالرحمن کے متعلق حیا کی رائے جاننی چاہی تو وہ فورا بولی۔
"یہ سچ ہے کہ اسے تم بالکل پسند نہیں ہو۔"
تب وہ بہارے کے سامنے سے اٹھ گیا۔ وہ زیادہ دیر رکے گا تو بہارے سمجھے گی کہ عبدالرحمن نے اسے معاف کر دیا ہے جبکہ وہ عائشے کی طرح اسے بھی یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ وہ حفگی اتنی جلدی بھلانے والوں میں سے نہیں ہے۔
تب بہارے نے اس سے پہیلی لکھنے والے کی بابت پوچھا۔ وہ ذرا چونکا پھر لاعلمی ظاہر کی، مگر اس کی اگلی بات نے جہان کو واقعتا چونکا دیا۔ اس نے کیوں نظرانداز کر دیا کہ جو باکس اس نے بہارے کو دیا تھا اور وہ جو حیا کو دیا تھا دونوں کی پہیلیوں کی لکھائی کا انداز ایک سا تھا۔ جبکہ ایک عبدالرحمن نے دیا تھا اور دوسرا میجر احمد نے۔ دونوں کو ایک سا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حیا نے محسوس کر لیا تو عائشے نے بھی کر لیا ہو گا۔ عبدالرحمن کا اصل تعارف میجر احمد عائشے کو نہیں پتا چلنا چاہئے۔
شام میں وہ عائشے کے پاس بالخصوص اسی مقصد سے آیا تھا مگر حیا نے اس کے سامنے کسی میجر کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ وہ مطمئن ہو گیا۔ پھر خیال آنے پر پوچھا
بہارے کہہ رہی تھی۔ حیا کا کزن کافی ہینڈسم ہے۔ تم تو اس دفعہ اسے ساتھ نہیں لائی تھی جب میں حیا سے ملنے آیا تھا۔ پھر اسے کیسے پتا چلا۔ عائشے کا چہرہ خفت سے گلابی پڑ گیا۔
نہیں، وہ دراصل حیا نے اس سے کہا تھا کہ اس کی شادی اپنے کزن سے ہو چکی ہے، تو بہارے بار بار مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اس کا کزن کیسا ہے۔ میں کہہ دیا کہ بہت اچھا ہے جو سچ تھا وہی کہا۔ وہ گڑبڑا کر سر جھکا کر لکڑی چھیدنے لگی۔
"تھینک یو عائشے! تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، میں کبھی تم سے کوئی اور فیور مانگوں تو کیا تم دو گی۔ بنا کسی تاثر کے اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ عائشے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا چند لمحے دیکھتی رہی پھر گردن اثبات میں ہلا دی۔
تم مجھ پہ بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ تمہیں کرنا چاہئے۔ پھر وہ جیسے کچھ کہتے کہتے رک گئی اور سر جھٹک کر دوبارہ سے کام کرنے لگی۔ وہ یقینا موتیوں کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔ مگر کیا فائدہ-
پھر ایک روز اس نے حیا کو میجر احمد کی طرف سے فون بھی کر لیا۔ اس کی باتوں سے اسے نہیں لگا کہ وہ باکس کے عبدالرحمن کی طرف سے ہونے کے بارے میں جان چکی ہے۔ اس روز وہ ذرا جنجھلائی ہوئی تھی۔ شاید وہ تنگ آ گئی تھی، چلو خیر، جلد یا بدیر یہ کھیل حتم ہونے والا تھا-
چند روز اسی روٹین میں گزر گئے۔ صبح ہوٹل گرینڈ اور دوپہر کی فیری لے کر استنبول آ جانا۔ طیب جبیب پاشا واپس استنبول آ چکا تھا اور اس نے بار بار کی مداخلت شروع کر دی تھی۔ جو وعدے کیے تھے وہ پورے کرو۔ وہ جواب میں اسے ٹال نہیں رہا تھا، مگر صرف تھوڑا سا وقت مزید مانگ رہا تھا
اپنی جگہ پہ طیب حبیب بھی ٹھیک تھا۔ اس کی زندگی استنبول میں تنگ ہو چکی تھی۔ اس کے دشمن، عبدالرحمن کے دشمنوں سے زیادہ تھے۔ مگر وہ کیا کرتا کہ ہر چیز اس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ سارے احکامات پیچھے سے آتے تھے، سو وہ طیب حبیب کو جھڑک کر خاموش کروا دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ طیب بکتا جھکتا مگر پھر خاموش ہو جاتا۔ وہ عبدالرحمن کو انکار نہیں کیا کرتا تھا۔ اپنے غصے کا اظہار کر دینے کے بعد پسپائی بھی اختیار کر لیا کرتا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس کی بقا عبدالرحمن کے ساتھ میں ہے۔ اس کی دشمنی میں نہیں۔
چند روز بعد اسے احساس ہوا کہ حیا کو اپنے فون میں اس کے ٹریسر کے بارے میں علم ہو گیا تھا، کیونکہ اس روز جب وہ اچانک سے برگر کنگ آئی تو وہ ذرا حیران ہوا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ دونوں چلتے چلتے استقلال اسٹریٹ کو ختم کر لیں۔ وہ کام چھوڑ کر باہر آ گیا اور ساتھ میں اپنا فون بھی چیک کیا۔ اس کا ریسیور اسے بتا رہا تھا کہ اس کا ٹریسر سبانجی میں ہی ہے جب کہ حیا کا موبائل اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔ اچھا تو اس نے ٹریسر نکال لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس نے صبح میجر احمد کے نمبر پہ ٹیکسٹ کیا تھا کہ وہ کوئی خاص بات کرنا چاہتی ہے۔ جہان نے سوچا وہ فارغ ہو کر اسے کال کرے گا مگر فراغت سے قبل ہی وہ خود آ گئی تھی۔
وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوۓ استقلال اسٹریٹ میں آ گے بڑھنے لگے۔ جہان کو یاد تھا جب حیا کا جنجر بریڈ ہاؤس توڑنے پہ وہ اس کے ڈروم کے باہر کھڑا رہا تھا اور اس نے اسے ٹائمڈ کال کی تھی۔ شاید اس کی موجودگی میں کال آنے پہ حیا اسے اپنا مسئلہ بتا دے۔ اس دن وہ بات ادھر ادھر کر گئی تھی۔ آج اس کے ساتھ جدیسی میں چلتے ہوۓ اس کے ساتھ وہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیا اب ان دونوں میں اتنا اعتبار پیدا ہو چکا تھا کہ حیا اسے سب کچھ بتا دے۔
وہ جوس لینے ایک کیفے میں گیا اور کال کا ٹائم سیٹ کر کے جوس لیے باہر آ گیا۔ اس نے ریکارڈنگ نہیں لگائی تھی ۔ جب حیا کال اٹھاۓ گی تو رابطہ منقطع ہو جاۓ گا۔ وہ سمجھے گی کہ دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی ہے۔ وہ سننا چاہتا تھا کہ اس کال کی وہ کیا وضاحت دیتی ہے۔
وہ دونوں اب گلی میں کافی آگے بڑھ گئے تھے۔ حیا نے اس سے لندن جانے کا پوچھا ضرور مگر خود اس کا اپنا ارادہ بیوک ادا میں رہنے کا تھا۔
میں اپنی دوستوں کے ساتھ بیوک ادا میں رہنا چاہتی ہوں۔ وہ بے نیازی سے شانے اچکا کر کہتی چل رہی تھی۔ اس روز بھی اس نے اسکارف چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ جو وہ چاہتا تھا وہ اس نے کبھی حیا سے نہیں کہا پھر بھی وہ ہو گیا تھا۔ اس سے آگے وہ کیا چاہتا تھا۔ بس اعتبار کا ایک رشتہ جب وہ پیدا ہو جاۓ گا تو وہ اسے خود بتا دے گا کہ وہ ان جنت کے پتوں میں کتنی خوبصورت لگتی ہے۔
ابھی جہان نے اسے ایک ٹرک دکھا کر اخبار طے کر کے پکڑا ہی تھا کہ حیا کا موبائل بجنے لگا۔ حیا نے موبائل نکال کر دیکھا اور کال کاٹ دی۔
میجر احمد کی کال تھی، کچھ کام تھا ان سے۔ وہ سرسری سے انداز میں بولی اور اسے سمجھ نہیں آیا وہ اس کو کیا کہے۔ وہ اتنی صاف گوئی سے بتا دے گی اس نے توقع نہیں کی تھی۔
اس کہ پوچھنے پہ حیا نے بس اتنا بتایا کہ میجر احمد کون ہے، مگر آگے پیچھے کچھ نہیں۔ سچ بتانے اور اعتبار کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ان کے درمیان سچ بولنے کا تعلق قائم ہو چکا تھا مگر اعتبار کا شاید نہیں۔ نہ اس نے حیا کو خود سچ بتایا تھا نہ ہی حیا نے اسے وہ تمام واقعات کے بتائے تھے جو اس کے ساتھ پچھلے چند ماہ سے ہو رہے تھے۔
جب وہ واپس چلی گئی تو وہ ریسٹورنٹ آ گیا۔ اس کا دل مطمئن تھا بھی اور نہیں بھی۔ حیا نے اس سے جھوٹ نہیں بولا تھا مگر اس پہ اعتبار بھی نہیں کیا۔ وہ لندن بھی اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔ وہ بیوک ادا میں رہے وہ یہ نہیں چاہتا تھا مگر جب دونوں کے درمیان اعتبار کا رشتہ تھا ہی نہیں تو وہ کس مان پہ اس سے کچھ منوا سکتا تھا۔
وہ ترکی صرف جہان کے لیے آئی تھی وہ جان گیا تھا۔ اب وہ اس کو یہاں سے صرف اپنی وجہ سے ہی بھیج سکتا تھا۔
تب ہی حیا کا فون آنے لگا۔ اس نے کال کاٹ کر خود فون کیا۔ یہ پہلی دفعہ تھا جب حیا نے خود اس سے بات کرنی چاہی تھی۔ زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب وہ اسے بتا رہی تھی کہ اس نے جہان سے میجر احمد کا ذکر کیا تھا۔
کیوں۔ آپ نے کیوں بتایا۔ وہ یہی جاننا چاہتا تھا۔
شوہر کو علم ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی کس سے بات کرتی ہے۔ اس کے جا کر کہنے پہ وہ بے اختیار مسکرا دیا۔
اب وہ اسے وہ باتیں بتا رہی تھی جو اس نے عبدالرحمن اور طیب حبیب کے بارے میں سنی تھی۔ وہ تحمل سے اس کی سنتا اور سمجھاتا رہا۔ اسے صرف یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ حیا نے یہ ساری باتیں کس سے سنی تھیں۔ کس بات کے جواب میں وہ میں نے سنا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ رہی تھی کہ جہان نے اس کی بات کاٹی۔
کس سے سنا ہے۔ اتنی تیزی سے پوچھنے پہ وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔
کبری خانم سے۔ الادار میں۔
تو یہ کبری خانم تھیں۔ عائشے سے ان کی اچھی سلام دعا تھی اور ان کا بیٹا ہوٹل گرینڈ میں ایک معمولی سی ملازمت کرتا تھا۔ ان خاتون سے تو وہ ذرا واپس جا کر نپٹے گا۔ ابھی اسے حیا کے ذہن سے اس خیال کو نکالنا تھا۔ جو بھی تھا وہ میجر احمد پر بھروسا کرتی تھی۔
اس روز حیا نے پہلی دفعہ اس سے پوچھا تھا کہ وہ جنت کے پتے کسے کہتا ہے۔ جواب میں وہ اسے وہ سب بتاتا گیا جو اس نے علی کرامت کی ممی سے بچپن میں سنا تھا۔ وہ ادھوری، پوری باتیں، وہ نرم سا احساس، وہ دل میں اترتے لفظ، وہ ہر چیز دہراتا گیا، یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھی۔
آپ اچھے انسان ہیں، اچھی باتیں کرتے ہیں۔
آہ کاش! کہ وہ بتا سکتا کہ اس نے اس اچھے انسان کو کب کب، اور کیا کیا، دے مارا ہوا ہے۔
***
بیوک ادا کے ساحل پہ لہریں پتھروں پہ سر پٹخ رہی تھیں۔ ان کا شور اس اونچے سفید قصر عثمانی کے اندر تک سنائی دے رہا تھا۔ محل اندھیرے میں ڈوبا تھا سوائے اس کی اسٹڈی کے جہاں وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ سامنے لیپ ٹاپ کی چمکتی اسکرین پہ وہ پیغام کھلا تھا جو اسے اپنوں کی طرف سے آیا تھا۔ اس کا کام ادالار میں آخری مراحل پہ تھا۔ تاش کے پتوں کے گھر کا آخری مرحلہ۔ پھر اسے روپوش ہو جانا تھا۔
کچھ عرصہ روپوش رہ کر وہ دوبارہ استنبول آئے گا ایک آخری کام نپٹائے گا پھر واپسی۔ اپنے ملک واپسی۔
جب سے اس نے میل پڑھی تھی وہ انگوٹھیاں اور گلاسز خود سے علیحدہ کر کے میز پہ رکھ دی تھیں اور یہ سگریٹ نوشی، اس سے بھی اس کو جلد از جلد چھٹکارہ حاصل کر لینا چاہیئے، اب عبدالرحمن پاشا کو چھوڑنے میں کم وقت رہ گیا تھا۔
اس کے سر کا درد ویسا ہی تھا اور بہت سوچنے کے بعد اعصابی دباؤ بھی محسوس ہو رہا تھا۔ جرمنی میں اس نے پندرہ جون کے بعد کی ایک تاریخ بھی اپنی سرجری کے لئے لے لی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے امید دلائی تھی کہ آپریشن کی کامیابی کا چانس اتنا ہی تھا جتنا کہ ناکامی کا۔ چونکہ وہ بیوک ادا سے پیک اپ کرنے سے قبل آپریشن کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لیے اس نے تاریخ بعد کی لی تھی۔ یہ اس کے کام کا آخری مرحلہ تھا۔ انڈیا میں آخری مرحلے میں سب کچھ بگڑ گیا تھا آخری مرحلے میں اس کے دوست نے جس کے پاس وہ مدد کے لئے گیا تھا اس کو پکڑوا دیا تھا۔ سر کا درد ہمیشہ اسے اس دوست کی یاد دلاتا تھا۔ اس نے جہان کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا۔
لوگ بعض دفعہ آپ کے ساتھ بہت برا کر جاتے ہیں، اتنا برا کہ بس!
تمام سوچوں کو جھٹک کر اس نے فون اٹھایا اور ایکسچینج اسٹوڈنٹ کا نمبر نکالا۔
*******
میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔ آے آر پی۔
مختصر پیغام لکھ کہ اس نے حیا کو بھیج دیا۔ جب وہ جواب دے گی تو وہ اسے برگر کنگ پہ بلائے گا۔ وہاں پاشا بے کو بھی وہ بلا لے گا۔ اسے پتا تھا کہ حیا کو وہ منظر کیسے دکھانا ہے۔ جب وہ اپنے شوہر کو اس گمشدہ شہزادے کے ساتھ دیکھے گی تو جہان کا کام آسان ہو جائے گا یا تو وہ جان جائے گی کہ وہی عبدالرحمن پاشا ہے یا وہ طیب حبیب کا دوست سمجھے گی دونوں صورتوں میں وہ اس سے دور چلی جائے گی۔ بھلے ترکی سے نہ جائے بس استنبول سے چلی جائے۔ بعد میں ہمیشہ کی طرح وہ اس سے معذرت کرنے چلا جائے گا اور اسے منا لے گ۔ا مگر وہ ویڈیو-
اس نے گہری سانس لے کر موبائل رکھ دیا۔ ویڈیو ابھی تک لاکر میں تھی۔ اگر جانے سے قبل وہ اسے نہیں نکال پاتی تو وہ ویڈیو واپس رکھ لے گا۔
حیا یہ سب 9 جون سے 15جون تک کے وقت میں سیٹ اپ کرنا ہو گا ابھی نہیں۔
وہ ریسٹورنٹ آیا تو طیب حبیب اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے مطالبے وہی تھے اور جہان کا رویہ بھی ویسا ہی تھا۔
چند دن انتظار کر لو میں تمہاری فیملی کو باہر بھجوا دوں گا۔ میں نے بات کی ہے بہت جلد سب کچھ سیٹل ہو جائے گا۔ وہ بے تاثر لہجہ میں کہتے ہوئے رجسٹر چیک کر رہا تھا۔ آج جوابا پاشا بے نے غصہ نہیں کیا اور نہ ہی لعن طعن کی ہے بس اتنا کہا:۔
میں امید کرتا ہوں کہ تم جلد از جلد میرا کام کر دو گے جہان بے، آخر فیملی سب کے لئے اہم ہوتی ہے۔ میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی۔
اس کے آخری الفاظ پہ جہان نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ پاشا بے نے کوٹ کا کالر درست کیا اور الوداعی مسکراہٹ کے ساتھ وہ پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
شاید وہ صرف دھمکی دے رہا تھا۔ وہ اس کی فیملی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ ایسے ہی اسے دھمکانا چاہ رہا تھا۔ جہان سر جھٹک کے کام کرنے لگا۔
انسان کا اپنی انفرادی صلاحیتوں پہ حد سے زیادہ اعتماد بعض دفعہ اسے دوسروں کو انڈرایسٹیمیٹ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا مگر ابھی وہ یہ نہیں جانتا تھا۔
شام میں وہ معمول کے مطابق ریسٹورنٹ کے کچن میں کھڑا گوشت کاٹ رہا تھا جب اس کا موبائل ہلکے سے بجا وہ ٹون سے سمجھ گیا کہ پیغام کس کی طرف سے تھا۔ مگر اس نے فون جیب سے نہیں نکالا۔ قریب ہی اس کے دو شیف کام کر رہے تھے۔ ایک تو پرانی ورکر تھی مگر دوسرا ترک لڑکا نیا تھا۔ اس کو جہان نے حال ہی میں رکھا تھا اور وہ جانتا تھا کہ وہ ترک ایجنسی کا ہے اور صرف اس کی جاسوسی کے لیے یہاں کام کر رہا ہے۔ اس کو رکھنے کا فائدہ یہ تھا کہ اب وہ اپنی مرضی کی باتیں ترکوں تک پہنچا سکتا تھا۔ ٹرپل ایجنٹ بن کر کام کرنا اس طرح اور بھی آسان ہو گیا تھا۔
اس نے ہاتھ صاف کیے، گوشت رکھا اور خاموشی سے باتھ روم کی طرف چلا گیا۔ اندر آ کر اس نے دروازہ بند کیا اور پیغام کھولا۔ چند لمحوں میں اس نے پیغام ڈی کوڈ کیا اور پھر، جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔
وہ لڑکا، عمر، وہ نہیں رہا تھا۔ اسے کس نے مارا، اور کب اور کہاں مارا، کچھ معلوم نہ تھا۔ وقت جیسے ایک دفعہ پھر برسوں پہلے کے انطاکیہ میں پہنچ گیا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مٹی کھود رہا تھا۔ وہ مٹی جس سے آج بھی خوشبو ٓآتی تھی۔ کیا عمر کو دفن ہونے کے لیے مٹی ملی ہو گی۔ کیا اسے خود وہ مٹی مل پائے گی۔
اس کے دل میں تکلیف اُٹھ رہی تھی، شدید تکلیف۔ اس نے جیب میں فون ڈالا ٹوٹنی کھولی اور سنک پہ جھک کر چہرے پہ پانی کے چھینٹے مارے، پھر سر اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا۔ شدت ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ پڑ رہی تھیں۔
دادا کہتے تھے کہ مومن کے لیے دنیا قید خانہ ہوتی ہے۔ وہ ٹھیک ہی کہتے تھے۔ اس وقت برگر کنگ ایک قید خانہ ہی تھا۔ وہ سارا کام چھوڑ کہیں دور جانا چاہتا تھا، وہ بوسفورس کے کنارے بیٹھ کر ڈھیر سارا رونا چاہتا تھا۔ اگر دادا ہوتے تو کہتے کہ فوجی رویا نہیں کرتے۔ کاش وہ ان سے پوچھ لیتا کہ اگر فوجی کا دل درد سے پھٹنے لگے اور جیسے سارے جسم میں ٹوٹے کانچ اترنے لگیں تو پھر وہ کیا کرے، کیا دنیا میں رونے سے بہتر بھی کوئی دوا ہوتی ہے۔
سلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہان کہاں ہے۔ بلند آواز سے اتھل پتھل سانسوں کے درمیان وہ باہر کہیں پوچھ رہی تھی، جیسے وہ دوڑ کر آئی تھی، جہان نے ہولے سے نفی میں سر جھٹکا تولیے سے چہرہ خشک کیا اور نم آنکھیں رگڑتا باہر آیا۔
وہ فریڈم فلوٹیلا کے اسٹریٹ پروٹیسٹ کے لیے آئی تھی اور اب وہ چاہتی تھی کہ وہ بھی ان کے ساتھ چلے۔ جہان اس سے نظریں ملائے بغیر گوشت کے ٹکڑے اٹھانے لگا۔ ٓکنکھیون سے وہ دیکھ رہا تھا کہ حیا نے نقاب لے رکھا تھا۔ اس کے نقاب کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے نیا نیا نقاب لینا سیکھا ہے، مگر پھر بھی نقاب نیٹ تھا۔ اسے کیا ہو گیا تھا؟ وہ اتنا بدل کیسے گئی تھی؟ وہ بھی ایک دم سے نہیں آہستہ آہستہ سے۔ مگر یہ تبدیلی کتنی اچھی لگتی تھی اس میں۔ ابھی وقت تھا نہیں تھا اس خوشی کو جینے کا ابھی اور موقع تھا دل میں کچھ مر سا گیا تھا۔
حیا بول رہی تھی مسلسل اور وہ کٓنکھیوں سے صرف اسے نہیں بلکہ پیچھے کام کرتے نئے شیف کو بھی دیکھ رہا تھا جس کے ڈریسنگ بناتے ہاتھ ذرا سست پڑ گئے تھے۔ بچہ ذرہ کچا تھا۔ یہاں کہی گئی ایک ایک بات کہیں اور پہنچائی جاتی تھی اور یہ پاگل لڑکی ترک فوج کے ایک کارندے کے سامنے اسے کہہ رہی تھی کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت کرے۔
گو کہ تربیت کے مطابق وہ کبھی کسی متنازعہ ہنگامے والی جگہوں پہ نہیں جاتا تھا کوئی اور موقع ہوتا تو بھی وہ حیا کو منع کر دیتا مگر پیچھے کھڑا لڑکا سب سن رہا تھا۔ ترک فوج بے حد سیکیولر قسم کی فوج تھی جہاں عبداللہ گل اوع طیب اردگان کی حکومت کو ماڈرن مولویوں کی حکومت کہا جاتا تھا۔ وہیں ترک فوج اپنے دین سے بے حد متضاد خیال رکھتی تھی اور اپنی بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے وہ ترکوں کی گڈبکس سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ نتیجتآٓ وہ لڑکا تو پرسکون ہو گیا مگر حیا پچھلی کئی دفعہ کی طرح ایک بار پھر اس کو اور اس کے ریسٹورنٹ کو جہنم میں بھیج کر غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
وہ اس کے پیچھے نہیں گیا۔اس کا موڈ پہلے ہی بہت خراب تھا وہ وہیں کھڑا خاموشی سے کام کرتا رہا۔ کام اسے کرنا تھا کیونکہ حیا کی طرح وہ موڈ خراب ہونے پہ دو چار چیزیں ہاتھ مار کر گراتے ہوئے ہر کسی کو جہنم میں بھیج کر کہیں دور نہیں جا سکتا تھا۔ یقینا اس معاملے میں وہ کافی خوش قسمت تھی۔
***
پوری رات وہ بے حد ڈسٹرب رہا، پھر صبح سب کچھ ذہن سے جھٹک کر وہ گھر سے نکل آیا۔
فیری اس نے کدی کوئے سے پکڑنی تھی۔ کدی کوئے شہر کی ایشین سائیڈ کی بندرگاہ تھی اور سبانجی بھی ایشین سائیڈ پہ واقع تھی۔ سو وہ منہ اندھیرے اس سے ملنے چلا گیا۔
وہ جھیل کے پاس بیٹھی تھی۔ کتابیں سامنے پھیلائے، وہ جیسے کافی دیر روتی رہی تھی۔ اسے بے اختیار وہ رات یاد آئی جب جنجر بریڈ ہاؤس ٹوٹا تھا اور وہ تب بھی ایسے ہی رو رہی تھی۔ اسے ایک لمحے کو اس لڑکی پر بہت ترس آیا جس کی زندگی اس نے اتنی مشکل بنا دی تھی۔
اس کے ساتھ چاندی کے پانی جیسی جھیل کے کنارے بیٹھے وہ بہت دیر تک اسے دھیرے دھیرے بہت کچھ سمجھاتا رہا۔ وہ اسے خواب نہیں دکھانا چاہتا تھا، سو حقیقت میں رہ کر مستقبل کے حوالے سے باتیں کر رہا تھا۔ اٹھنے سے قبل اس نے پھر سے ”لندن چلنے کا موڈ ہو تو بتانا“ کہا تھا۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ وہ ممی کے ساتھ لندن چلی جائے، پھر بعد میں ایک دو روز کے لیے اپنی کلیئرنس کروانے بے شک آ جائے۔ مگر اپنا آخری مہینہ وہ اس شہر میں نہ گزارے اس روز اسے لگا تھا کہ حیا اس کو اس کی غیر متوقع فطرت کے ساتھ قبول کرنے پہ راضی تھی مگر اعتبار وہ ابھی تک ان دونوں کے درمیان قائم نہیں ہوا تھا۔ وہ روٹھنے اور منانے سے آگے نہیں بڑھے تھے۔
جس روز اس کے امتحان ختم ہوئے، اس سے اگلے دن وہ بیوک ادا گئی تھی۔ یہ عائشے نے اسے بتایا تھا کیونکہ اب اس کا ٹریسر صرف سبانجی میں پڑا رہتا تھا۔ اس نے دوبارہ اس کو ٹریس کرنے خود ہی کوشش کی یہ اتنا ضروری نہیں تھا۔
گیارہ جون کی رات وہ ممی کے ساتھ ان کی پیکنگ کروانے میں مصروف تھا جب ممی نے حیا کے بارے میں پوچھا۔
کیا وہ ہمارے ساتھ جائے گی۔
پتا نہیں آپ کی بھتیجی کہاں ہمیں اپنا پروگرام بتاتی ہے۔ اس نے شانے اچکا کر لاپرواہی سے جواب دیا تھا۔ پھر اس نے سوچا، وہ حیا سے پوچھ ہی لے کہ اس کا کیا پروگرام ہے۔ وہ اپنا آخری مہینہ استنبول میں نہیں تو کدھر گزارے گی۔ یہی سوچ کر اس نے میجر احمد کی طرف سے ”کیسی ہیں آپ۔“ لکھ کر بھیج دیا۔ پتا نہیں وہ کیسی تھی۔ پورے دس دن اس نے حیا کو نہیں دیکھا تھا نہ ہی کوئی بات ہوئی تھی۔
مجھے جنت کے ان پتوں نے دنیا والوں کے لیے اجنبی بنا دیا ہے میجر احمد! اس کے جواب میں بہت ٹوٹا، بکھرا پن سا تھا۔ شاید وہ رو رہی تھی۔ وہ اس کی عادت کو اتنی اچھی طرح سے جاننے لگا تھا کہ اس کے انداز سے اس کے موڈ کا اندازہ کر لیا کرتا تھا۔
وہ موبائل لے کر کچن میں آ گیا اور بہت سوچ کر اس نے ایک ایسا جواب لکھا جو اس وقت اسے تسلی دے سکے۔ یقینا اس کے نقاب پہ کسی پہ نے کچھ کہہ دیا ہو گا اور وہ دل چھوڑ بیٹھی تھی۔ عین ممکن تھا وہ کہنے والے کو ہاتھ میں آئی چیز بھی دے مار چکی ہو یا کم از کم اسے جہنم تک پہنچا چکی ہو۔ پتا نہیں اس کی تسلی ہوئی یا نہیں مگر اس کا مزید کوئی ٹیکسٹ نہیں آیا۔
صبح وہ بیوک ادا نہیں گیا کیونکہ آج ہفتہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ حیا کے حوالے سے کچھ طے کر لے مگر تبھی کام کے دوران اس کو جواہر مال کے لاکرز کے گارڈ کا پیغام موصول ہوا۔ ایک لڑکی جو سیاہ عبایا میں تھی نو نمبر لاکر سے کچھ لے گئی ہے۔
گریٹ۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ سسلی سے واپس سبانجی جاتی وہ اسے اور پاشا بے دونوں کو اپنے ریسٹورنٹ پہنچنے کا کہہ چکا تھا۔ پاشا بے کا مسکن قریب ہی تھا سو وہ حیا سے پہلے پہنچ گیا۔
کیا میرا کام ہو گیا؟ پینٹری میں جا کر اس نے پہلی بات یہی پوچھی تھی۔
نہیں، اس میں ابھی وقت ہے تم تھوڑا صبر نہیں کر سکتے۔ وہ زچ ہوا تھا۔
پھر تم کیوں ملنا چاہتے تھے۔
ہوٹل گرینڈ کے بارے میں کچھ بات کرنی تھی۔ اس نے پینٹری کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔ اپنے پرانے شیف کو وہ پہلے ہی سمجھا چکا تھا کہ اسے کیسے حیا کو پچھلی طرف سے بھیجنا ہے۔ اب پاشا بے کو ہوٹل کے معاملات کے بارے میں بتاتا وہ کنکھیوں سے روشن دان کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس نے کھول رکھا تھا۔ وہ آئے گی تو اسے شیلف کے چمکتے شیشے میں روشن دان کا عکس نظر آ جائے گا۔ تب وہ ان دونوں کی باتوں سے جان جائے گی کہ دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا چل رہا ہے۔ حسب توقع پاشا بے جلد ہی ہوٹل گرینڈ کی بات ختم کر کے اپنے کام کی طرف آ گیا تب ہی اسے وہ روشن دان کے عکس میں نظر آئی۔
وہ جیسے ٹھٹھک کر رک گئی تھی۔ وہ ظاہر کیے بنا اپنے مخصوص انداز میں بات کہے گیا۔ اسے معلوم تھا کہ حیا اندر نہیں آئے گی اگر اس نے دروازے پہ دستک دی یا گھنٹی بجائی تب وہ اسے فورا جانے کا کہہ دے گا۔ وہ زبردستی تو اندر نہیں آنا چاہے گی۔ مگر جو ہوا وہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا۔
تمہاری بیوی باہر کھڑی ہے جہان اسے اندر نہیں بلاؤ گے۔ جیسے ہی پاشا بے کی نظر اس پہ پڑی وہ مسکرا کر بولا۔
جہان کو لگا، کسی نے پینٹری کا سارا سامان اس پر الٹ دیا ہو۔ وہ کیسے جانتا تھا حیا کو۔ یہ نا ممکن تھا۔ اگر وہ اسے جہان کی دوست کہتا تو وہ اتنا ششدر نہ ہوتا مگر جہان کی بیوی۔ اسے کیسے پتا چلا۔ اس بات کا تو ترکی میں کوئی ڈاکومنٹ پروف بھی نہیں تھا، پھر۔
اب وہ اسے حیا کے بارے میں اور بھی بہت کچھ بتا رہا تھا، سبانجی، ایکسچینج اسٹوڈنٹ، ڈورم نمبر ،وہ سب جانتا تھا۔ ان کی ملاقات بھی ہو چکی تھی۔
حیا نے گردن ہلا کر تصدیق کی، مگر وہ انہی بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اگر وہ دونوں مل چکے تھے تو اس نے پتا نہیں کیا کیا حیا کو بتایا ہو گا۔ سب کچھ الٹا ہو گیا تھا۔ اس نے پاشا بے کو واقعی انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا۔
اس نے بے اختیار پاشا بے کو گریبان پکڑ لیا۔ اگر وہ اس کی بیوی کو نقصان پہنچانے کا سوچے بھی تو وہ واقعی اسے جان سے مار دے گا۔ حسب عادت حبیب پاشا کی مسکراہٹ سمٹی۔ وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اسے اس کی بیوی سے غرض نہیں تھی، بس اس کے کام سے تھی۔ اس کے جاتے ہی وہ حیا کی طرف پلٹا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ دیمت نے ٹھیک کہا تھا بعض باتیں سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جائیں تو ہیرو کو ولن بنا دیتی ہیں۔ وہ اس کا اعتبار کھو چکا تھا۔ حیا نے اس کی کوئی بات نہیں سنی اور فورا وہ جگہ چھوڑ کر چلی گئی۔
وہ اسے ترکی سے بھیجنا چاہتا تھا مگر اس طرح نہیں۔ خود سے بدظن کر کے نہیں خود کو بے اعتبار کر کے نہیں۔ سب کچھ الٹ گیا تھا۔ بہت دفعہ منصوبے الٹے پڑ جاتے ہیں کوئی بھی انسان ماسٹر پلانر نہیں ہو سکتا۔ وہ بھی نہیں تھا۔
دیمت کی بات پوری ہوئی۔ وہ شوہر سے بدظن ہو کر اس سے دور چلی گئی۔ اس نے حیا کو بہت فون کیا مگر اس نے جہان کی کوئی بات نہیں سنی۔ وہ چلی گئی اور جیسے بوسفورس کا پانی خاموش ہو گیا سرمئی بگلے اڑنا چھوڑ گئے ٹیولپس مرجھا گئے اور جیسے سارا استنبول اداس ہو گیا۔
وہ چلی گئی اور اپنا ٹریسر سبانجی کے ڈورم میں ہی چھوڑ گئی۔ ایسا اس نے کبھی نہیں چاہا تھا۔ دیمت کی بات پوری ہوئی تھی۔
حیا کے جانے کے بعد ممی اور ابا کے جانے کے انتظامات بھی مکمل تھے۔ ممی مضبوط عورت تھیں۔ اپنے کام اکیلے دیکھ سکتی تھیں۔ ساری زندگی انہوں نے ایسے ہی گزاری تھی سو وہ استنبول میں اپنا کام مکمل کرکے جرمنی جانے کا ارادہ کر رہا تھا۔ یہ روپوشی کے دن تھے اور ان دنوں میں وہ سرجری کروا لینا چاہتا تھا۔ دو تین ہفتے بعد اسے پھر ترکی جانا پڑ سکتا تھا شاید ایک آخری کام کے لیے۔ اس کے بعد ترکی کے باب کو اس کی زندگی سے نکل جانا تھا۔
جرمنی آنے سے قبل وہ حبیب پاشا سے آخری بار ملا تھا۔ اس کی تمام چیزیں اس کے حوالے کرنے سے قبل اس نے صرف ایک بات پوچھی تھی۔ کہ تم میری بیوی کو کیسے جانتے ہو۔ مجھے صرف سچ سننا ہے۔
اور طیب حبیب نے سچ بتانے سے انکار نہیں کیا۔ وہ اسے کبھی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بقول اس رات جب وہ برگر کنگ کے داخلی دروازے کے ساتھ والی میز پر چہرے کے سامنے اخبار پھیلائے بیٹھا تھا تو اس نے ان دو لڑکیوں کی گفتگو سنی تھی جو وہاں کھڑی تھیں۔ سیاہ اسکارف والی لڑکی دوسری لڑکی کو اپنی انگوٹھی دکھاتے ہوئے جہان سکندر سے اپنی منگنی اور شادی کا ذکر کر رہی تھی۔ اس لئے وہ ان کے پیچھے گیا اور کافی شاپ تک مگر وہ ڈر گئیں اور اسٹریٹ میں اس کے آگے بھاگتی ہوئی واپس برگر کنگ آ گئیں۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اسکوائر تک ضرور آئیں گی سو وہ وہیں ان کا انتظار کرتا رہا۔ جب رات ڈیڑھ بجے والی بس انہوں نے اسکوائر سے پکڑی تو اس نے ان کا یونیورسٹی کیمپس تک پیچھا کیا اور اگلے روز اس نے ایک جاننے والے سے کہہ کر وہ تمام معلومات نکلوا لیں جو وہ حیا کے متعلق یونیورسٹی سے نکلوا سکتا تھا
جاری ھے

No comments: