Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 14 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
14 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 14
" حیا "
از
فاخرہ وحید (فری)

قسط 14
"کہاں سے آئی ہو. "
اس کے سامنے چالیس پینتالیس سالہ آدمی بیٹھا تھا.
یہ جگہ اس کے لیے اجنبی تھی. وہ گھبرائی ہوئی تھی.

"لاہور. " اس نے مختصر جواب دیا.
"ہو آر یو؟" آدمی نے میز پر پڑے کاغذوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا.

"حیا." وہ اپنی انگلیاں مسلسل مروڑ رہی تھی.
"آئی سیڈ ہو آر یو. نام نہیں پوچھا." اب وہ دراز سے کچھ اور فائلز نکال کر میز پر رکھ رہا تھا.
"سٹوڈنٹ." پھر ایک لفظی جواب آیا تھا.
"میں نے یہ نہیں پوچھا. تم سٹوڈنٹ ہو یاجاب کرتی ہو."
"جسٹ لیٹ می نو تم کون ہو." آدمی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا.

وہ خاموش رہی.
"اگر تم خود یہاں آئی ہوتی تو شاید میں تمہیں اس ٹریننگ کا حصہ بنانے سے پہلے سوچتا لیکن ڈاکٹر ہارون خود تمہیں اپنے سیشنز کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو میرے پاس کوئی چارہ نہیں." آدمی نے اپنے بازو میز پر رکھتے ہوئے دونوں ہاتھ کی انگلیاں آپس میں ملائی.
وہ اب بھی کچھ نہیں بولی تھی.
"میں امید کروں گا جب تم یہاں سے جاؤ تو اس ایک سوال کا جواب لے کر جاؤ. " کہہ کر آدمی نے رسیور اٹھایا اور ایک نمبر ملا کر دوسری طرف سے رسپانس کا انتظار کرنے لگا.
"ہاں جنت یہ لڑکی ہے. اسے بھیج رہا ہوں. اس کا نام ڈاکٹر ہارون کے سیشنز کے لیے رجسٹر کر دو. "
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
سب سے ملنے کے بعد کیک کاٹا گیا. سب حمزہ کو گھیرے کھڑے تھے. حمزہ نے سب سے پہلے کیک ردابہ کو کھلایا. جس نے جواباً ایک ٹکڑا حمزہ کے منہ میں ڈالا.
"تم جیو ہزارو سال. " شیری نے حمزہ کو کیک کھلایا. اور ہاتھ حمزہ کے گال پر لگا دیا. حمزہ نے منہ بسورتے ہوئے ٹشو سے گال پر لگا کیک اتارا. ردابہ نے یہ لمحہ بھی کیمرے میں قید کر لیا تھا.
کیک کاٹنے کے بعد کھانا سرو کر دیا گیا تھا.
فریحہ , حمزہ اور علی ایک طرف بیٹھے تھے.
"اچھا تم حمزہ سے پوچھ لو. " وہ دونوں کسی بات پر بحث کر رہے تھے اور اب فیصلہ حمزہ پر چھوڑ دیا تھا.
"کیوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو. " حمزہ کب سے بیٹھا ان کا منہ دیکھ رہا تھا.
"اسے لگتا ہے کہ میں اسے ٹائم نہیں دیتا. تو بتا ایسا ہے؟ " علی نے پوچھا.
حمزہ نے ایک نظر اپنے دوست کی معصوم شکل اور پھر اس کی خوبصورت زوجہ کو دیکھا.

"علی ہمیشہ سب سے پہلے نکل جاتا ہے. کیوں کہ یا تو اس نے تمہیں تھانے سے پک کرنا ہوتا ہے یا ڈراپ کرنا ہوتا ہے. تو میرے خیال سے علی اپنا زرا سا بھی فارغ وقت تمہارے ساتھ ہی گزارتا ہے." تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے حقیقت بتائی.
علی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی.

"بس کرو حمزہ. تم بھی اسی کا ساتھ دو گے." فریحہ کا منہ بن گیا تھا.
دوسری طرف کچھ فاصلے پر ردابہ, شیری اور سمایا بیٹھے تھے.
"تم نے شیری کے بجائے مجھے کیوں نہیں بتایا." ردابہ کی مخاطب سمایا تھی.
"بیٹا. حمزہ مجھے بہت پیارا ہے. اگر وہ تکلیف میں ہو گا تو میں برداشت نہیں کروں گی." ردابہ نے حمزہ کو دیکھا جو اب بھی علی اور فریحہ کا مسئلہ حل کروا رہا تھا.

"میں نے شیری سے بات کی تھی. اس نے مجھے سنا ہی نہیں. مجھے لگا آپ کو بھی شیری کی طرح میرا حمزہ سر کے بارے میں یوں کہنا اچھا نہیں لگے گا." وہ صفائی دے رہی تھی.
"یہ میرا لڑکا تو بدھو ہے. " ردابہ نے شیری کے سر پر چپت لگائی.
"ماسی. حمزہ بھائی بہت پیار کرنے والے ہیں. تو میں ان کے بارے میں کیسے یہ سب سنتا. " اس کے انداز سے حمزہ کے لیے پیار چھلک رہا تھا.

سمایا اور شیری اس بارے میں تفصیلی ملاقات کر چکے تھے. اور شیری نے اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو ردابہ کو بھی بتائی تھی. تب سے ردابہ حمزہ کو لے کر فکر مند تھی.
ابھی بھی وہ سمایا سے اسی بارے میں سوال جواب کر رہی تھی.

بقول سمایا حمزہ کا ہر وقت ایز میں رہنا. کم ہنسنا. کم بولنا. غصے کا بھی کھل کر اظہار نہ کرنا. اس سب نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ شیری سے اس بارے میں بات کرے. وہ نارمل بی ہیو کرنے کے چکر میں کچھ زیادہ ہی پر سکون دکھتا تھا. اس کے علاوہ اس نے ایک دو بار حمزہ کو یوں ہی چیختے چلاتے سنا تھا. اس کی باڈی لینگوئج اور اس کے چہرے کے تاثرات مطابقت نہیں رکھتے تھے. وہ نارمل دکھتا تھا لیکن وہ نارمل تھا نہیں.
شیری اٹھ کر چلا گیا تھا. ردابہ اب بھی بیٹھی سمایا سے حمزہ کے بارے میں مختلف پہلو ڈسکس کر رہی تھی.
"میں آپ لوگوں کا مسئلہ حل کروا سکتا ہوں." شیری نے حمزہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا.
حمزہ جو پچھلے پونے گھنٹے سے ان کے درمیان صلح صفائی کروا رہا تھا. شیری کے اعتماد کو سراہے بغیر نہیں رہ سکا.
"تم ریلیشن شپ ایڈوائزر ہو.؟ حمزہ نے آگے ہوتے ہوئے اسے کہا.
"چاہے میں شادی شدہ نہیں ہوں لیکن ریلیشنشپ کو آپ سب سے زیادہ سمجھتا ہوں." وہ اب شیخی بکھار رہا تھا.

"مجھے لگتا ہے آپ دونوں کو ہنی مون پر چلے جانا چاہئیے. " نان کو قورمے میں لگا کر اس نے منہ میں رکھا.
علی اور فریحہ جو اب تک بحث کر رہے تھے اب ہونقوں کی طرح کھانے میں مصروف شیری کو دیکھ رہے تھے.
"اور بھی تم لوگوں کا کوئی مسئلہ ہو تو پوچھ لو بابا جی سے." حمزہ اب علی اور فریحہ کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا. ان کی حالت دیکھنے والی تھی.
"ماسی مجھے لگتا ہے اب شیری کے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈ لینی چاہئیے." حمزہ نے سامنے آتی ردابہ سے کہا. اس کے ساتھ سمایا, زویان, شیروان سب آگئے تھے.
"نہیں پہلے حمزہ سر کے ہاتھ پیلے کروائیں. بھابھی آئے. دو چار بچے ہوں جو مجھے چاچو چاچو بلائیں. پھر میں سوچوں گا." شیری نے اگلے پانچ چھ سال کی پلاننگ بتائی.
حمزہ کے تاثرات بدل گئے تھے.
"ارے تم.میرے بچے کی پرواہ نہیں کرو.. " ردابہ حمزہ کے سر پر کھڑے اسے پیار کر رہی تھی.
حمزہ تکلفاً مسکرایا.
"ماسی. انیقہ کو بلوا لیں. لگے ہاتھوں شیری کی منگنی کر دیتے ہیں." حمزہ نے سب کی توجہ خود سے ہٹائی.
شیری جو ابھی ریلیشن شپ ایکسپرٹ بنا بیٹھا تھا اب مدد کا طلب گار تھا.
"نہیں پلیز نہیں. " وہ کھانا بھول کر حمزہ سے رحم کی اپیل کر رہا تھا.
"ابھی تو تو نے کہا تو ریلیشن شپ کو سمجھتا ہے. " حمزہ کے ہتھے وہ چڑھ چکا تھا.
"ہاں تو ریلشن شپ ایڈوائس بندہ تب تک ہی دے سکتا ہے جب تک وہ خود اس جنجال سے دور ہو." شیری نے فلسفیانہ بات کی تھی.
ماسی. آپ بلا لیں انیقہ کو. حمزہ نے فیصلہ سنا دیا تھا.

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
"اسلام علیکم ماں جی. "
"وعلیکم اسلام. " عورت نے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے اسے جواب دیا. وہ ادھیڑ عمر خاتون تھی جس نے دروازہ کھولا تھا.
"یہ ساتھ والے گھر میں کوئی نہیں رہتا؟" حمزہ نے احتیاطاً گھر والوں کا نام نہیں لیا تھا.
"نہیں."
"تم نے خریدنا ہے. تو انتظار کرنا پڑے گا. ان کے لڑکے سال بعد باہر سے آتے ہیں ان سے بات کر لینا. " عورت نے خود ہی مطلب نکالا.
"تو یہاں کوئی نہیں رہتا؟ مطلب ان کا کوئی رشتے دار وغیرہ. "
"رہتا بھی ہو تو تم سے مطلب" ادھیڑ عمر عورت نے اسے گھورا.
"نہیں مطلب تو کوئی نہیں."

"تو؟ "وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی.
"ماں جی میں خفیہ ادارے سے ہوں." حمزہ نے آہستہ سے کہا.
"تو میں کیا کروں؟"
حمزہ کو اس جواب کی توقع نہیں تھی.

"میں پولیس والا ہوں.؟ حمزہ کو لگا شاید عورت کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے تو اس نے آسان الفاظ میں بتایا.
"کیا ہو؟ " عورت نے کان پر ہاتھ رکھا.
"پولیس والا." حمزہ نے قدرے اونچا کہا.

"شکل سے تو تم کوئی گنڈے موالی لگتے ہو. " عورت نے اب کہ اس کو نیچے سے اوپر تک دیکھتے ہوئے کہا.
کچھ دیر یوں ہی حمزہ کھڑا اس عورت کو دیکھتا رہا.
"یہ کیا چیز ہے؟ " حمزہ نے دل میں سوچا.

"گالیاں نکال رہے ہو مجھے. " عورت نے اپنی عینک کے اوپر سے اسے دیکھا
"گالیاں؟ " حمزہ کو یاد نہیں آیا کبھی اس نے ہوش و حواس میں کوئی گالی دی ہو.
"بی بی ہمارے ساتھ تعاون کریں. " وہ کس عذاب میں پھنس گیا تھا.
"میں نہیں کرتی. کر لو جو کرنا ہے. "
"ہاں. " حمزہ اس عورت کی دیدہ دلیری پر حیران تھا.

"تم جیسے لڑکے یوں ہی آتے ہیں محلے کی عورتوں کو چھیڑنے." حمزہ کو خاموش دیکھ کر اس نے دوبارہ منہ کھولا.
حمزہ کو لگا کسی نے اس کے سر پر کچھ گرا دیا ہو.
.
"کہیں تم فوزیہ کی لڑکی کو نکالنے تو نہیں آئے؟. بہتری بار میں نے اس کو یوں ہی ایسی گاڑی میں آتے جاتے دیکھا ہے. " اس نے حمزہ کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا.

" اور شکل سے بھی تم مشٹنڈے ہی لگتے ہو." عورت نے منہ بنایا.
حمزہ کو اپنا سر گھومتا محسوس ہوا. ایسا کامپلیمنٹ اسے کبھی کسی نے نہیں دیا تھا.
"اماں کون ہے. " حمزہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا تھا کہ پیچھے سے ایک آدمی نمودار ہوا.
"جی؟ کس سے ملنا پے آپکو؟" آنے والے نے پوچھا.
"ہیلو. آئی ایم فرام انٹیلیجنس. " حمزہ نے اسے اپنا کارڈ دکھاتے ہوئے ہاتھ بڑھایا.
"ہاؤ کین آئی ہیلپ یو؟" لڑکے نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما.

"یہ آپ کے ساتھ والے بنگلے میں کوئی نہیں رہتا؟" حمزہ نے مطلب کا سوال کیا.
" رہتے تھے. لیکن ایک مہینہ پہلے ان کی لڑکی کہیں غائب ہو گئی تھی. " آدمی نے کہا.
" بڑھاپے میں باپ کی کمر توڑ دی منحوس ماری نے . بڈھا بھی دو دن بعد چل بسا." ادھیڑ عمر عورت بولی تھی.
"تو وہ لڑکی واپس نہیں آئی؟" اس نے لڑکے سے پوچھا.
"ارے کاہے کو آتی. کوئی واپس آنے کے لیے تھوڑی نا گھر سے بھاگتا ہے." عورت منہ سے خرافات نکال رہی تھی.
حمزہ کا اندازہ غلط نہیں تھا. ایسے کیسز میں پچانوے فیصد لوگ لڑکی کو قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں. اور قبول کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.
" اماں تو اندر جا." آدمی نے عورت سے جو غالباً اس کی ماں تھی کہا.
" ہاں ہاں جا رہی ہوں. پر یاد رکھیو. یہ ہی لڑکا فوزیہ کی لڑکی کو بھگائے گا. " حمزہ کا دل چاہا وہ اپنا سر دیوار میں مار دے.
" معاف کیجیے گا ان کا ذہنی توازن تھوڑا ٹھیک نہیں ہے." آدمی شرمندہ تھا.

" اٹس اوکے. " وہ بمشکل مسکرایا.
" تھینک یو.: دوبارہ ہاتھ ملاتا وہ واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گیا. اور اب وہ پولیس اسٹیشن جا رہا تھا.

🌸🌸🌸🌸🌸🌸
حمزہ پولیس اسٹیشن گیا تھا تا کہ وہ فریحہ سے حیا کی گمشدگی کے بارے میں ہوئی جانے والی پیش رفت پوچھ سکے. فریحہ وہاں نہیں تھی. پھر اس نے سوچا وہ علی سے مل لے لیکن اس کا دل نہیں چاہا اور وہ واپس آگیا تھا.
وہ لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی چینلز بدل رہا تھا جب ردابہ اپنے کمرے سے باہر آئی.

"جلدی آگئے تم." اپنے بال بن کی شکل میں باندھتے ہوئے وہ حمزہ کے قریب آئی.
"جی. " اس نے ٹی وی سے نظر نہیں ہٹائی تھی.
"تم پریشان ہو؟ " وہ حمزہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی.
"نہیں تو. " اس نے گردن موڑ کر ردابہ کو دیکھا اور پھر دوبارہ سیدھا ہو گیا.
"میرا بچہ مجھ سے ناراض ہے.؟" ردابہ نے پیار سے اس کے بالوں کو ہاتھ لگایا.
"نہیں. میں کیوں کسی سے ناراض ہوں گا." اس نے ردابہ کی طرف نہیں دیکھا تھا.
وہ یوں ہی صوفے کی پشت پر کہنی ٹکائے اسے دیکھتی رہی. حمزہ کافی دیر یوں ہی اس کا دیکھنا اگنور کرتا رہا.
"ماسی. آپ ایک بار مجھ سے پوچھ تو لیتی. " جب وہ ردابہ کو اور اگنور نہیں کر سکا تو وہ اس کی طرف مڑا.

"آپ نے حیا کو کیوں گھر سے نکال دیا؟ آپ مجھ سے پوچھتیں .. بات کرتیں. "
"یہ باتیں تم آج کیوں کر رہے ہو؟ اٹس بین آ ویک ناؤ. " وہ پر سکون تھی.
"تو کیا کروں میں." وہ بے بس دکھ رہا تھا.

"تمہیں اس کی پرواہ ہے؟ " ردابہ سنجیدہ تھی.
"مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے. لیکن میں اس کو وہاں سے نکال کر لایا تھا. اس سے نکاح کیا تھا میں نے. " اس نے نکاح پر زور دیا تھا.

"ڈز دس نکاح میٹر ٹو یو؟ " ردابہ نے اسی سنجیدگی سے کہا.
"ماسی ی ی.. بات نکاح کی نہیں ہے. بات اس تحفظ کی ہے جو اس گھر نے اسے دیا." وہ صفائی دے رہا تھا.

نکاح.. ردابہ دو دن پیچھے چلی گئی تھی.
"ایسے کیا گھور رہی ہو؟ " حیا جب اسے کافی دیر یوں ہی دیکھتی رہی تو ردابہ نے اسے کہا تھا.
"دیکھ رہی ہوں. کیسے ہمیشہ بے بس لوگوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے. مجھے یوں در بدر کے دھکے دلوانے تھے تو وہیں چھوڑ آتا وہ مجھے. یہاں لا کر نکاح کا تماشہ لگانے کی کیا ضرورت تھی. " اس کی آواز اونچی تھی.

"ماسی ی.. آپ سے بات کر رہا ہوں میں.. ؟ حمزہ نے اسے ہلایا. .
ہاں. وہ چونکی.

ردابہ کے آنے سے حمزہ خوش تھا. لیکن اس کا یوں حیا کو نکال دینا اسے اچھا نہیں لگا تھا. وہ پریشان تھا.
"ماسی اس کا گھر نہیں ہے کوئی. اور .. اور .. وہ بیوی ہے میری." اس نے آخری الفاظ منہ میں بڑبڑائے. ردابہ نے سن لیا تھا.
"حمزہ. اگر کوئی تمہیں تکلیف دے گا میں اسے کبھی اس گھر میں برداشت نہیں کروں گی. شیری کو جب تم لائے میں نے ہمیشہ اسے تمہاری طرح چاہا. کیونکہ تم اس سے پیار کرتے ہو. "
"رہی بات حیا کی. اس نے تمہیں ہرٹ کیا تھا. تم اسے ڈس لائک کر رہے تھے تو میں کیسے اسے اپنا لیتی؟ میرے بچے کو تکلیف دینے والے کو میں کیسے گھر میں رکھوں؟" ردابہ کا لہجہ سخت ہو گیا تھا.

"ماسی. ماسی.. ماسی.. " حمزہ کا خود پر کنٹرول ختم ہو رہا تھا.
"ہاں میں. میں ہی ذمہ دار ہوں. میرے رویے نے آپ کو مجبور کیا. وہ میری ذمہ داری تھی. میں لایا تھا اسے. "
اس کا لہجہ معمول سے مختلف تھا.

ردابہ پہلی بار اسے یوں اپنا آپا کھوتے دیکھ رہی تھی.
وہ اپنا اکھڑتا سانس سنبھال رہا تھا. وہ ردابہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا.
"ماسی.. پتا نہیں وہ کہاں ہو گی. وہ گھر نہیں گئی. اگر دوبارہ وہ غلط ہاتھوں میں لگ گئی تو؟ "
"میرا بچہ! سب ٹھیک ہو جائے گا. " وہ اس کے بال سہلا رہی تھی.
ایک ہفتے بعد ردابہ نے اسے حیا کو لے کر فکر مند ہوتے دیکھا تھا. اس بیچ پتا نہیں وہ کیسے یہ سب اپنے دل میں رکھے بیٹھا تھا. ردابہ کو اب سمایا کی کہی باتوں پر اور یقین ہو گیا تھا. وہ ویسا نہیں تھا جیسا سب کو نظر آرہا تھا.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.