Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ رکھیل از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 24

ﻧﺎﻭﻝ  رکھیل 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر


#رکھیل
قسط نمبر24
#ریاض_عاقب_کوہلر
گلاس سے ایک لمبا گھونٹ لیتے ہوئے اخلاق حسین نے کہا ۔”ایک خاص بات کا خیال ضرورکرنا ۔“
”کیا ؟“نوشاد آفریدی نے سوالیہ نظریں اس کی جانب گھمائیں ۔
”اگر کبیر دادا میں ذرا بھی عقل ہوئی تو وہ اپنی رکھیل کو منظر سے غائب کردے گا ۔“
”کیا ....“نوشاد آفریدی نے پریشان ہو کر کہا ۔”اس طرح تو سارا منصوبہ ناکام ہو جائے گا ۔“
”بالکل ۔“اخلاق حسین نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”اس کا مطلب ساری محنت ضائع گئی ۔“
”محنت تو خیر میں ضائع نہیں جانے دیتا ،بس تم نے ایک کام کرنا ہو گا ۔“
”وہ کیا ؟“نوشاد کے لہجے میں اشتیاق بھرا تھا ۔
”جونھی وہ اسے کہیں بھیجنے کی کوشش کرے تم اسے رستے سے اغوا ءکرلینا ۔“
نوشاد استہزائی لہجے میں بولا ۔”اچھا مشورہ ہے ،میں بالکل ایسا ہی کرتا اگر مجھے فاصی کا انجام بھول گیا ہوتا ۔“
”یار میں تمھارے ساتھ ہوں ۔“
”تو پھر دونوں کا وہی انجام ہو گا ۔“نوشاد آفریدی کے دل میں چھپا ،کبیردادا کا ڈر ہونٹوں تک پہنچ گیا تھا ۔
”ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔شمشیر دادا یہاں موجود ہے اور ابھی موقع ہے من مانی کرنے کا ۔باقی ہم اسے اغواءکر کے عزت و احترام ہی سے رکھیں گے ۔اور رات کو شمشیر دادا کے سامنے پیش کر دیں گے ۔پھر کبیر جانے اور اس کا استاد شمشیر۔“اخلاق حسین نے اسے حوصلہ دیا ۔
”کیا پتا اسے اب تک کہیں بھیج دیا گیا ہو ۔“نوشاد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں خان صاحب مسلسل نگرانی کرارہا ہوں۔“
”ٹھیک ہے میں اپنے دس بارہ آدمیوں کو تیاری کا حکم دے دیتا ہوں ۔“نوشاد آفریدی طوہن و کرہن مان گیا تھا ۔
اخلاق حسین غلیظ لہجے میں بولا ۔”ٹھیک ہے ساری تیاری مکمل کر لو سہ پہر کوشمشیر دادا کو ملنے جائیں گے ۔ابھی تک اس کے دل میں بھی چھمک چھلو کے حصول کی تمنا ابھارنی ہے ۔“
”سالاکمینہ، تصویر دیکھتے ہی لٹو ہو جائے گا۔“نوشاد نے شمشیر دادا کے خلاف دل میں موجود زہر اگلا ۔
اخلاق حسین نے کہا ۔”اور یہی ہم چاہتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے تھوڑی دیر بعد ملتے ہیں ۔“نوشاد آفریدی موبائل فون نکال کر اپنے آدمیوں کو ضروری ہدایات دینے لگا ۔
اخلاق حسین نے جاتے جاتے مشورہ دیا ۔”ایس پی ضمیر حسین کے چند قریبی پولیس والوں کو بھی اس کام میں اپنے ساتھ رکھ لو آسانی رہے گی ۔“
نوشاد نے فقط سر ہلاکر اس کی تائید کی اورموبائل فون کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
٭٭٭
روزانہ وہ کبیر دادا کو رخصت ہوتے دیکھا کرتی تھی آج کبیر دادا کار سے باہر کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔وہ بھی دروازے تک حسرت بھری نظروں سے پیچھے مڑ کر دیکھتی رہی ۔ جونھی کار دروازے سے باہر نکلی آنکھوں میں روکی ہو ئی نمی باہر چھلک پڑی۔جہاں کبیر دادا سے دور جانے کا غم اس کا دل چیر رہا تھا وہیں کسی انجانے خطرے سے وہ ڈری ہوئی بھی تھی ۔جس طرح پاشا نے اسے بہانے سے کافی بنانے کے لیے بھیج دیا تھا، وہ اسے احساس دلانے کے لیے کافی تھا کہ کوئی ایسی بات تھی جو کبیر دادا کے چہرے پر بھی پریشانی پیدا کر سکتی تھی ۔رہ رہ کر اس کی آنکھوں میں اس دیو نما حبشی کی تصویر ابھر آتی جسے اس نے وڈیو میں کبیر دادا کے ہمراہ دیکھا تھا ۔ یقینا وہ مکرانی قوم کا تھا تبھی تو اس کا رنگ اس قدر کالا تھا ۔گھر سے تھوڑی دور آتے ہی اس کا دل بے اختیار کبیر دادا سے بات کرنے کو کرنے لگا ۔مگر اپنا ارادہ موخّر کرتی ہوئی وہ ایئر فون لگا کر کبیر دادا کی وڈیوز دیکھنے لگی ۔اب تو اس کے پاس اچھا موبائل فون موجود تھا اس نے اپنی اور کبیردادا کی کافی ساری وڈیوز اور تصاویر جمع کر لی تھیں ۔وہ وڈیوز میں دیکھنے میں منہمک تھی کہ اچانک کار رک گئی ۔اس نے سکرین سے سر اٹھا کر دیکھا کوئی پولیس کا ناکا تھا ۔وہ ان کی طرف دیکھنے لگی ۔
دو باوردی سپاہی قریب آئے ایک ڈرائیور سیٹ کی طرف گھوما اور دوسرا رخسار والی جانب شیشے کے قریب ہوا ۔
”ہم کبیر دادا....“رخسار تعارف کراہی رہا تھا کہ دونوں پولیس والوں نے ہاتھ میں پکڑی رائفلیں ایک ساتھ باقر اور رخسار کے سر سے لگا دیں ۔
ان میں سے ایک سفاک لہجے میں بولا ۔”ذرا سی حرکت کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ تمھیں زندہ رکھنے کے بارے ہمیں کوئی ہدایت نہیں ملی ہے ۔“
”کون ہو تم ،جانتے بھی ہو کس سے پنگا لے رہے ہو ۔“باقر نے انھیں ڈرانا چاہا ۔
”ہم تو جانتے ،تمھیں نہیں معلوم ۔“پولیس والے کا لہجہ استہزائی تھا ۔
”کبیر دادا کے بیوی کو روکنے کی جرّات کی ہے تم لوگوں نے ۔“
”کبیردادا سے شمشیر دادا خود نبٹ لے گا ۔“ایک ہی پولیس والا بول رہا تھا ۔
اسی دوران وہاں کالے شیشوں والی ایک کار آرکی ،اس میں سے دو ہتھیار بردار باہر نکلے ایک عقبی نشست کا دروازہ کھول کر تناوش کو کہنے لگا ۔”مس آپ کو اس کار میں بیٹھنا پڑے گا۔“
”کک....کون ہیں آپ لوگ ؟“تناوش گھبرا گئی تھی کہ اس سے پہلے بھی وہ دو مرتبہ اغواءہو چکی تھی اور وہ تجربہ اس کے لیے کوئی اچھا نہیں رہا تھا ۔
وہ آدمی اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”دشمن نہیں ہیں اور نہ آپ کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا ۔“
”پپ....پلیز ہمیں جانے دیں ۔“وہ ہکلا گئی تھی ۔
”مس ،پکا وعدہ آپ کو کوئی انگلی بھی نہیں لگائے گا ۔اوریہ بھی وعدہ کہ ہم آپ کو کبیردادا کے پاس ہی لے کے جائیں گے ۔“
وہ لرزتی کانپتی کار سے اتر کر دوسری کار میں بیٹھ گئی ۔عقبی نشست پر اس کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھا تھا ۔ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا ۔”مس ،اپنا موبائل فون بند کر کے میرے حوالے کر دو بعد میں واپس مل جائے گا ۔“
تناوش کے پاس اس کی ہدایت پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔
اس سے موبائل فون لے کر وہ پولیس والوں کو بولا ۔”ان دونوں کو دس بجے تک حوالات میں رکھنا اور پھر چھوڑ دینا ۔چاے پانی کا بھی پوچھ لینا تھوڑے گھبرائے ہوئے ہیں ۔“یہ کہتے ہی وہ آگے بڑھ گئے ۔ان کے عقب میں دو گاڑیاں اور بھی روانہ ہو گئی تھیں جن میں یقینا انھی کے ساتھی سوار تھے ۔
٭٭٭
”تو یہ ہے وہ، جس کی وجہ سے اپنا برخوردار پاگل ہوا پھر رہا ہے ۔“تناوش کو دیکھتے ہی شمشیر دادا نے پر ہوش انداز میں بھدے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔
کبیر دادا تھوک نگلتا ہوا بولا ۔”دادا ،یہ میری بیوی ہے ۔“
”میں نے تو کچھ اور سنا ہے ۔“شمشیر دادا منھ بناتے ہوئے شہاب قصوری کی طرف مڑا ۔”کیا کہا تھا کبیر نے اس کے بارے ۔“
شہاب قصوری بغیر لگی لپٹے رکھے بولا ۔”یہی کہ نکاح بس خانہ پری کے لیے ہے اور کبیر دادا لڑکی کو چند دن پاس رکھ کر واپس بھیج دے گا ۔“
”کیا کہتے ہو کبیر ،تمھارے چند دن کب تک گزریں گے ۔کسی اور کو بھی موقع دوگے یا ایک فاحشہ کے لیے قتل پر قتل کرتے جاﺅ گے ۔“
”میں نے ایس پی کو قتل نہیں کیا دادا ۔“کبیردادا خود کوسخت بے بس محسوس کر رہا تھا ۔
”باقی سارے جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔“شمشیر دادا نے صوفے پر نشست سنبھالی ۔ اس کی پر ہوس نگاہیں بار بار تناوش کی طرف اٹھ جاتیں جو وارفتگی سے کبیردادا کو گھور رہی تھی ۔ جبکہ فرحانہ کے غصے کا ہدف شمشیر دادا کے بجائے تناوش کا وجود ہو گیا تھا ۔
شمشیر دادا کے بیٹھتے ہی باقی تمام بھی بیٹھ گئے تھے ۔صرف کبیر دادا مجرموں کے انداز میں کھڑا تھا اور تناوش جو کبیر دادا کو دیکھ کر اپنے دل سے سارے اندیشے اور خطرے نکال چکی تھی ۔
”چلو ایس پی کا مسئلہ بعد میں زیر غور لاتے ہیں پہلے یہ بتا فاصی کو کیوں قتل کیا ؟“ شمشیر دادا نے باقاعدہ مقدمہ چلانا شروع کر دیا ۔
کبیردادا ہونٹ کاٹتے ہوئے بولا۔”وجہ آپ کو معلوم ہے دادا ۔“
”یہ ہے وجہ ....“شمشیر دادا نے تناوش کی طرف اشارہ کیا ۔
”دادا ،اگر فاصی میری عزت کی طرف ہاتھ بڑھائے گا تو میں چپ تو نہیں بیٹھ سکتا ۔“
”بند کرو بکواس ۔“شمشیر دادا دھاڑا ۔”تمھاری عزت کو تو آج میں وہ عزت دوں گا کہ اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔“
”دادا ،میری بیوی بے قصور ہے ،یہ سارا کیا دھرامیرا ہے ، آپ بے شک میرے لیے سزا تجویز کر سکتے ہیں ۔“
”یاد ہے تم نے نوشاد کی رکھیل کو اٹھا کر تین دن تک اپنے پاس رکھا تھا ۔“ شمشیر دادا نے اسے یاددہانی کرائی ۔
کبیر دادا جلدی سے بولا ۔”اٹھایا نہیں تھا ،وہ خود میرے پاس آئی تھی ۔“
”تو یہ بھی تو خود چل کر فاصی کے پاس گئی تھی ۔اگر اس کے اغواءہونے کا کوئی ثبوت ہے تمھارے پاس تو پیش کرو ۔“
”میری بیوی جھوٹ تو نہیں کہے گی ۔“کبیردادا گڑبڑا گیا تھا ۔
شمشیر دادا زہر خند لہجے میں بولا ۔”جو عورت کسی غیر مرد کے پاس چل کر جائے گی کیا وہ اپنے شوہر کے سامنے اقرار کر لے گی کہ ہاں وہ اپنی مرضی سے منھ کالا کرانے گئی تھی ۔“
”وہ مجھے گھر سے زبردستی لے گئے تھے ۔“اچانک تناوش کی گلوگیر آواز ابھری ۔ ”میں قسم کھاتی ہوں میں کسی کے ساتھ مرضی سے نہیں گئی تھی ۔“
”ہاہاہا۔“شمشیر دادا کا قہقہہ ابھرا۔”یہ تو بولتی بھی ہے ،میں نے سوچا صرف ناز و ادا کے جلوے ہی دکھاتی ہو گی ۔“
کبیردادا تناوش کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے شمشیر دادا کی طرف متوجہ ہوا۔ ”یہ سچ کہہ رہی ہے دادا ،جس وقت میں فاصی کے بنگلے پر پہنچا وہ اس کے ساتھ زبردستی کر رہا تھا ۔اور اس بات کی گواہی میرے محافظ ،امتیاز ،عظیم اور بخش بھی دیں گے ۔“
شمشیر دادا بے پروائی سے بولا۔”تمھارے ملازموں کی گواہی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔“
”اگر یہ فاصی کے پاس اپنی مرضی سے گئی تھی تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ بد کردار ہے اور ایسی عورتیں کسی ایک پر اکتفا نہیں کرتیں ،اسے فاصی کے علاوہ بھی تو کسی کے پاس جانا چاہیے تھا ۔صرف فاصی ہی تو یوسف ثانی نہیں تھا ۔“
”کبیردادا کی رکھیل بننے سے پہلے یہ میرے آدمی دلاور شیخ کی رکھیل تھی ۔اور اس کی وساطت سے یہ میرے گینگ کے قریباََ درجن بھر آدمیوں کو تو نواز چکی تھی ۔بلکہ جس دن کبیردادا نے اسے اپنی رکھیل بنایا اس رات بھی یہ میرے ایک اور آدمی خاور شیخ کے گھر موجود تھی ۔اسے وہیں سے پکڑ کر کبیر دادا گھر لے کے آیا تھا ۔اور اس فاحشہ کا غصہ اس نے بے چارے خاور شیخ پر نکالا اور اسے قتل کر دیا۔“اخلاق حسین نے جھوٹ گھڑتے ہوئے بہتانات کا طومار لگا دیا تھا ۔
”جھوٹ بول رہا ہے ،الزام لگا رہا ہے ۔اسے اللہ پاک کا بھی خوف نہیں ہے ۔“ تناوش رو پڑی تھی ۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بھری محفل میں اس کی ذات پر اتنے گھناﺅنے الزامات لگائے جائیں گے ۔
اسے روتے دیکھ کر کبیردادا تڑپ اٹھا تھا ۔بے اختیار وہ اس کے قریب ہوا ۔”روتے نہیں ہیں چندا ،سب ٹھیک ہو جائے گا ،میں ہوں نا تمھاری پاکیزگی اور عصمت کی گواہی دینے والا ۔“دبے لہجے میں اسے تسلی دیتے ہوئے کبیر دادا جیب سے رومال نکال کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔
فرحانہ یہ منظر دیکھ کر جل بھن گئی تھی ۔
شمشیر دادا طنزیہ لہجے میں بولا۔”کبیر ،تمھارا یہ عمل ثابت کر رہا ہے کہ ان لوگوں کی بات بالکل درست ہے ،تم اس خوب صورت فاحشہ کے مکمل بس میں ہو اوریہ تمھیں اپنی مرضی سے چلاتی ہے ۔“
کبیردادا پراعتماد لہجے میں بولا ۔”دادا ،یہ میری بیوی ہے ،اسے نکاح پڑھا کر گھر لایا ہوں، اس کی عزت کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے اور میں ذمہ داریوں سے آنکھیں نہیں چرایا کرتا ۔“
”اچھے مکالمے بول لیتے ہو مگر تمھیں یہ بھول گیا ہے کہ اس پر دو گروپوں کے بڑوں کے قتل کا الزام ہے ۔گو اس نے خود قتل نہیں کیا مگر اس کی وجہ سے قتل ہوئے ہیں اور اس کا حساب کتاب تو اسے دینا پڑے گا ۔“
”فاصی کو میں نے قتل کیا ہے اور اگر آپ بہ ضد ہو کہ ایس پی کو بھی میں نے مارا ہے تو اصولاََ مجھے سزا دینا بنتا ہے ۔آپ سزا کا اعلان کریں مجھے بغیر سنے ہر سزا قبول ہے ۔لیکن میری بیوی کو جانے دیا جائے ۔“
”یہ لڑکی آج کی رات میرے ساتھ ہو گی اور اس کے بعد ایک ایک رات ہر گینگ کے بڑے کے ساتھ گزارے گی ۔تمام کو بھگتانے کے بعد اگر تم اسے رکھنا چاہو تو مرضی ورنہ کوئی نہ کوئی اسے رکھیل بنا ہی لے گا ۔ایس پی اور فاصی کی بیگمات کو پندرہ پندرہ کروڑ ہرجانہ دو گے اور ہاتھ باندھ کر ان سے معافی مانگو گے ۔“شمشیر دادا نے سزا کا اعلان کیا ۔
”آپ زیادتی کر رہے ہیں دادا ،میری بیوی سزا کا حصہ نہیں بنے گی ۔میں پندرہ کے بجائے بیس بیس کروڑ دونوں بیواﺅں کو دوں گا ۔معافی بھی مانگوں گا ،مگر میری بیوی کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگائے گا ۔“
”تم میرے فیصلے سے انحراف کر ہے ہو کبیر ۔“شمشیر دادا کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا ۔
”ہاں ،کیوں کہ آپ زیادتی کر رہے ہیں میرے ساتھ ۔“
شمشیر دادا دھاڑا۔”تمھارے باغیانہ رویے کے پیچھے بھی اسی فاحشہ کا ہاتھ ہے اور اب تو میں اسے بالکل بھی معاف نہیں کر سکتا ۔“
”میری زندگی میں تو اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔“کبیردادا کھل کر سامنے آگیا تھا ۔
اخلاق حسین نے ساتھ بیٹھے نوشاد کے کان میں سرگوشی کی ۔”کہا تھا نا یہ خبیث باﺅلا ہوا ہے اس فاحشہ کے پیچھے ۔“
”تم اپنے حواس میں نہیں لگتے ۔“شمشیر دادا کے لہجے میں غصے سے زیادہ حیرانی تھی ۔ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبیر کسی لڑکی کی وجہ سے اسے یوں بھی مخاطب ہو سکتا ہے
”دادا ،سزا کا حق دار میں ہوں ،یہ معصوم نہیں ۔یہ پانچ وقت کی نمازی ہے ،کیا آپ کو اس کے حلیے سے لگتا ہے کہ یہ اتنی گری ہوئی حرکت کرے گی ۔یہ بے چاری تو یہاں بیٹھے ہوئے افراد میں کسی کو جانتی تک نہیں ۔باقی اخلاق حسین کی بکواس کے بارے میں یہی کہوں گا کہ بیوی کی پارسائی کا گواہ اس کا شوہر ہوتا ہے اور میں اپنی بیوی کی پارسائی کے لیے بڑی سے بڑی قسم کھانے کو تیا رہوں ۔“
”مجھے مکالمہ بازی نہیں جواب چاہیے ۔“شمشیر دادا پر اس کی بات کا ذرہ بھر اثر نہیں ہوا تھا ۔یوں بھی تناوش کو دیکھنے کے بعد شمشیر دادا کے اندر کا شیطان جاگ گیا تھا ۔وہ اس کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔
”تو جواب یہ ہے شمشیر دادا کہ آپ کو ہمارے مسئلے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ۔آپ ہمارے انڈیا سے آئے ہوئے مہمان ہیں ۔یہاں سے جاتے وقت آپ شہا ب قصوری کو بڑا بنا گئے تھے ۔آپ آج ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں آپ کے جانے کے بعد اس معاملے کا فیصلہ شہاب قصوری صاحب کرے گا ۔“
”ہاہاہا۔“شمشیر دادا کے منھ سے قہقہہ برآمد ہوا۔”ہماری بلی ہمیں میاﺅں ۔“
”دادا،کیا میر ی بات اصولاََ غلط ہے ۔“کبیر دادا حجت بازی پر اتر آیا ۔
”بالکل بھی نہیں ۔“شمشیر دادا طنزیہ لہجے میں بولا ۔”تم صحیح بکواس کر رہے ہو ۔باقی تم لوگوں سے تعلق جوڑنا کون سا مشکل ہے ۔“یہ کہتے ہی وہ شہاب قصوری کی طرف متوجہ ہوا ۔
”شہاب قصوری !....میں تم سے تمام گینگز کی سربراہی لینے کے لیے مقابلے کی دعوت دیتا ہوں ۔تم میدان میں آکر اپنے عہدے کا دفاع کر سکتے ہو۔“
شہاب قصوری نے کھڑے ہو کر سر جھکایا۔”شمشیر دادا ،میں آپ کے حق میں اس عہدے سے دست برداری کا اعلان کرتا ہوں ۔ابھی سے میں بس اپنے گینگ کا سربراہ ہوں ۔ اور اپنے گینگ کا بڑا ہونے کے ناطے آپ سے وفادار رہنے کا حلف دیتا ہوں ۔“
شمشیر دادا نے وہاں بیٹھے بقیہ بڑوں کی طرف نظر گھمائی ۔سب سے پہلے اخلاق حسین نے کھڑے ہو کر شمشیر دادا کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا، اس کے بعد نوشاد آفریدی اورپھر باری باری تمام نے حلف کے الفاظ دہرا دیے ۔
شمشیر دادا نے استہزائی انداز میں کہا ۔”اب کیا کہتے ہو کبیر ....دا....دا۔“
کبیردادا اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”ایک ممبر رہ گیا ہے دادا ۔“
”تو اسی ممبر سے پوچھ رہا ہوں ۔“شمشیر دادا نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا تھا ۔
”میں آپ کو تمام گینگز کا سربراہ ماننے سے انکار کرتا ہوں اور خود تمام گینگنز کا بڑا بننے کا اعلان کرتا ہوں ۔اس ضمن میں اگر آپ کے علاوہ کسی کو اعتراض ہے تو مجھ سے مقابلہ کرنے کے لیے آسکتا ہے ۔“کبیردادا نے یہ کہتے ہی تمام پر سرسری نگاہ دوڑائی ۔مگر کسی نے باہر آنے کی کوشش نہیں تھی ۔
”ہاں نوشاد خان آفریدی ۔“کبیردادا نے نوشاد آفریدی کی آنکھوں میں جھانکا ،مگر وہ نظریں چرا گیا تھا۔
”اور تم اخلاق حسین شاہ ۔“اس مرتبہ کبیر دادا نے اپنے دوسرے مخالف کو آواز دی مگر وہ بھی خاموش بیٹھا رہا ۔
”اب فیصلہ آپ کے اور میرے درمیان ہو گا دادا ۔“کبیر دادا اس مرتبہ خود کو حیرانی سے گھورتے شمشیر دادا کی طرف متوجہ ہوا ۔
”تم اس چھوکری کے لیے جان دو گے ۔“شمشیر دادا اس کی للکار پر ششدر رہ گیا تھا۔
کبیر دادا اطمینان سے بولا۔”اس لڑکی کے لیے جو کچھ میں کر سکتا ہوں اس میں سب سے کم درجہ بات جان دینا ہے ۔“
”اگر جینے سے تنگ آ گئے ہو تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔“شمشیر دادا شہاب قصوری کی طرف متوجہ ہوا ۔
”مقابلے کے لیے جگہ خالی کراﺅ ۔“
”کبیر دادا کے تابوت میں تو سمجھو آخری کیل ٹھک گئی ۔“اخلاق حسین نے مطمئن انداز میں ساتھ بیٹھے نوشاد کو کہا ۔
نوشاد آفریدی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے فخریہ لہجے میں کہا ۔”ٹکر لینے چلا تھا شاہ جی اور آفریدی سے ۔“
”ویسے میں آخری وقت میں اسے بتا تو دوں کہ وہ کس کی وجہ سے مرنے والا ہے ۔“ اخلاق حسین اٹھ کر کبیر دادا کی طرف بڑھ گیا ۔
کبیر دادا تناوش کو تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا ۔اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔اخلاق حسین نے اس کے قریب پہنچتے ہی بغیر کسی تمہید کے دبے لہجے میں بات شروع کر دی
”کبیر دادا ،یاد ہے نا اس لڑکی کی وجہ سے تم نے میری اور نوشاد کی توہین کی تھی میرے خاص خاص آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس کے محلے میں میرے آدمیوں کا داخلہ بھی بند کرا دیا ۔تو تمھار ا کیا خیال تھا میں خاموش بیٹھا رہتا ۔لے آج تمھارا بندوبست بھی ہو گیا ۔اور یہ بھی سن لے کہ تمھاری بلبل کو ہم نے اغواءکرا کر فاصی کے گھر پہنچایا تھا وہ واقعی بے قصور تھا ۔اور ایس پی کو بھی میں نے اور نوشاد نے قتل کرایا ہے ۔باقی بھابی کی فکر نہ کرنا، اسے سنبھالنے والے بہت ہیں یہاں پر ۔“
”اخلاق حسین ،اگر زندہ رہا تو تمھارا حساب ضرور چکتا کروں گا ۔“
”زندہ رہے تو نا ....یوں بھی اب یہ ممکن نہیں رہا۔“اخلاق حسین اسے یاد ہانی کراتا ہوا بولا ۔”اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ شمشیر دادا تمھیں قتل نہیں کرے گا تو یاد رکھنا اس مقابلے میں ہارنے والے کو اگر جیتا ہوا شخص زندگی کی بھیک دے بھی دے تب بھی وہاں پر موجود کوئی بھی شخص اسے گولی مارنے کا حق رکھتا ہے اور یقینا تمھارے سر میں گولی اتارتے ہوئے مجھے خوشی ہو گی ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ گھبرائی تناوش کی طرف متوجہ ہوا ۔”کیا خیال ہے بھابی ۔“
کبیردادا نے اسے گھورنے پر اکتفا کیا تھا ۔وہ طنزیہ ہنسی ہونٹوں پر سجائے واپس مڑ گیا۔
”یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے ،نہ میں آپ کی زندگی میں آتی اور نہ آپ پر یہ کڑا وقت آتا ۔“
کبیردادا چاہت بھرے لہجے میں بولا ۔”اس بے کار زندگی میں ایک تم ہی تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر آئی ہو ۔چندا ،تمھارے ساتھ گزارا ایک ہفتہ مجھے کئی صدیوں کی زندگی سے عزیز ہے ۔“
وہ سسکی ۔”کبیر ،میں ڈری ہوئی ہوں ،مجھے اپنی آغوش میں بھر کر یہاں سے کہیں دور لے جاﺅ۔ یہ اچھے لوگ نہیں ہیں ۔“
وہ اعتماد سے بولا ۔”کبیر کی زندگی میں تو میری جان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔“
اس نے سراسیمہ لہجے میں پوچھا۔”اور اگر آپ کو کچھ ہو گیاتو ؟“
کبیر دادا نے کوٹ اتار کر اس کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کوئی ضروری کارروائی کی اور کوٹ تناوش کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔”کیا میرے بعد زندہ رہنا چاہو گی؟“
تناوش میں نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے اللہ پاک کی قسم نہیں ....نہیں بالکل نہیں ۔“
وہ زخمی لہجے میں بولا ۔”کوٹ کی اندرونی جیب میں موجود پستول میں نے کاک کر دیا ہے ۔اگر میں زندہ نہ بچ پاﺅں تو سر پر رکھ کر ٹریگر دبا دینا ۔“
”کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ جو ہفتے بھر کا وقت ہم نے اکٹھے گزارا ہے اسے آپ بھلا دیں ۔یاد ہے وہ لڑکی جو ہمیں شاپنگ کرتے وقت ملی تھی ۔اس کی آنکھوں میں میں نے آپ کے لیے بہت ساری محبت دیکھی تھی۔ آپ میرے بعد اس سے شادی کر لینا ۔اور سارے گندے کام چھوڑ دینا ۔اگر کبھی میری یاد زیادہ ستائے تو اس لڑکی سے میری باتیں کرنا اور اسے بتانا کہ ایک اور لڑکی بھی تھی جو آپ کو پیا رکرتی تھی اس جتنا تو نہیں بس تھوڑا سا ،ذرا سا ....“اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔”اسے سچ نہ بتا نا ورنہ وہ خفا ہو جائے گی ۔“
”کیا مطلب ۔“کبیر دادا کی سمجھ میں اس کی بات نہیں آئی تھی ۔
وہ نڈر انداز میں بولی ۔”اگر میں ابھی خود کو ختم کر لوں تو لازمی بات ہے سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا ۔“
”تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی ،جانتی ہو خود کشی حرام ہے ۔البتہ ایک عورت عزت بچانے کے لیے اپنی جان لے سکتی ہے اور ایسا تم اس وقت کر سکتی ہو جب میں باقی نہ رہا،یا لڑائی ہار گیا۔“
”کبیر ....“اس کے ہونٹوں پر اذیت بھری سسکی ابھری ۔
”تم مجھ سے پوچھتی تھی نا کہ میں کون ہوں ۔زیادہ تو نہیں لیکن اتنا بتا دوں کہ میں قرآن مجید کا حافظ ہو گڑیا !....پانچ سال کی عمر سے لے کر پندرہ سال کی عمر تک کا وقت میں نے مدرسے اور مسجد میں گزاراہے ۔اور پھر حافظ عبدالکبیرعلی خان کو حالات نے کبیردادا بننے پر مجبور کر دیا ۔“
”میں آپ کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ۔“اس کی پلکیں نے تھک کر اشکوں کے سیلاب کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔
”تناوش میں بقائم ہوش و حواس کہہ رہا ہوں کہ اگر تم نے میری موت یا ہار سے پہلے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ،تو تمھیں میری طرف سے تین طلاق ۔“
”کبیر ....“اس کے منھ سے تیز سسکی نکلی تھی ۔
”فکر نہ کرو میری جان یہ مشروط طلاق ہے ۔اگر تم نے میری موت یا ہار سے پہلے خود کو کوئی نقصان نہ پہنچایا تو یہ طلاق واقع نہیں ہو گی ۔“
”دو بارہ ایسا نہ کہنا ورنہ میری جان بغیر گولی لگے نکل جائے گی ۔“
ادھر کاشف راجپوت، شمیشر داداکے پاس پہنچ کر منت سماجت کر رہا تھا ۔”دادا ،پلیز غصہ تھوک دیں ۔اس کا دماغ جگہ پر نہیں ہے ۔میں اسے سمجھا دوں گا ۔وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔“
شمشیر دادا اکھڑ لہجے میں بولا ۔”کاشی ،میرا دماغ خراب نہ کرو ۔“
”دادا ،وہ آپ کا بچہ ہے ۔کیا اس پر ترس نہیں آئے گا ۔“
”وہ حرام خور بے غیرت ہے ۔ایک لڑکی کے لیے اپنے استاد کا مقابلہ کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔ اور اس سے بھلائی کی کیاامید رکھوں گا ۔“
”دادا ،وہ اس کی بیوی ہے ۔“
”بکواس کرتا ہے وہ ۔رکھیل کبھی بیوی نہیں بن سکتی ۔“
”دادا........“
شمشیر دادا نے کاشف کی بات سننا گورا نہیں کیا تھا ۔”دفع ہو جاﺅ کاشی ،یہ نہ ہو اس بے غیرت سے پہلے تمھارا نمبر لگا دوں ۔مجھے کسی کمینے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
کاشف دکھی دل سے کبیردادا کی طرف بڑھ گیا ۔شہاب قصوری کے آدمیوں نے کھانے کی میزوں اور صوفوں وغیرہ کودیواروں کے ساتھ لگا دیا تھا ۔
ایس پی کی بیوی ،اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھی ۔”بس میری جان ،تھوڑی دیر تک تمھارے باپ کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔“
فصیح الدین کی بیوی کرن سے اس کی گہری سہیلی ثمینہ مخاطب تھی ۔”بڑا دادا بنا پھر رہا تھا آج اس سے جان چھوٹ جائے گی ۔“
کرن نفرت بھرے لہجے میں بولی ۔”ہاں ،میرے فاصی کا خون رایگاں نہیں جا سکتا تھا ۔“
کاشف ،کبیر دادا کے قریب رکتا ہوا بولا ۔”کوئی ایسی صورت ہے جس سے یہ لڑائی روکی جا سکے ۔“
”ہاں ،میری بیوی سے کوئی تعرض نہ کیا جائے ،مجھے ہرفیصلہ منظور ہے ۔چاہے موت ہی کی سزا کیوں نہ ہو ۔“
تناوش سسکی ۔”کبیر نہیں ۔“
”کبیردادا ،میں تم سے محبت کرتا ہوں یار !اگر تمھیں بچا سکتا تو کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرتا ۔مگر شمشیر دادا کے سامنے میں بے بس ہوں ۔“یہ کہتے ہی کاشف سر جھکائے واپس مڑ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد شہاب قصوری نے سربراہی کے دونوں دعوے داروں کو بڑے ہال کے درمیان میں آنے کی دعوت دی ۔باقی لوگ کونوں میں سمٹ گئے تھے ۔تناوش بے ساختہ کبیر دادا سے لپٹ گئی تھی ۔
”کبیر ،یاد رکھنا مجھے دنیا میں آپ سے پیارا کوئی نہیں ہے ۔اپنی گڑیا کو مایوس نہ کرنا ۔ یہ شخص آپ سے جیت نہیں سکتا ۔میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔“
وہ گلو گیر لہجے میں بولا ۔”جانتا ہوں میری جان ....جانتا ہوں ۔“
تناوش نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے چند دعائیں پڑھیں اور اس پر پھونک دیں ۔
”یہی منتر پڑھ پڑھ کر اس جادوگرنی نے میرے کبیر کومجھ سے چھین لیا ہے ۔“فرحانہ ساتھ کھڑی ،رخسانہ کو مخاطب تھی ۔
رخسانہ ہنسی ۔”اگر آپ سے چھینا ہے تو اس کے پاس بھی باقی نہیں رہے گا ۔“
فرحانہ نفرت بھرے لہجے میں بولی ۔”اس فاحشہ کو تو میں پاپاکو کہہ کر کوٹھے پر بٹھاﺅں گی ۔جہاں روزانہ درجن بھر گاہک اسے اس کی حقیقت یاد دلایا کریں گے ۔“
”پتا ہے میرے جند جانی نے اسے بہن بنا لیا ہے ۔“رخسانہ اسے پاشا کے بارے بتانے لگی ۔”ویسے اچھا ہی کیا ہے ورنہ کبیرخان کی موت کے بعد وہ بھی اس بلا کے قابو میں آ سکتا تھا ۔“
فرحانہ نے پوچھا ۔”نظر نہیں آرہا وہ ۔“
”ابو جان کہہ رہے تھے کہ طبیعت ناساز ہے ۔میں تو سوچ رہی ہوں کل اس کے پاس چلی جاﺅں ۔کبیر خان کی موت کی تعزیت بھی کر لوں گی اور اس کی طبیعت کا بھی پوچھ لوں گی ۔“
فرحانہ دکھی لہجے میں بولی ۔”یار، بار بار اس کی موت کا ذکر کر کے مجھے دکھ تو نہ دو نا ۔“
”لیں جی میں خاموش ہو جاتی ہوں ۔“رخسانہ سختی سے ہونٹ بھینچتے ہوئے ہال کے وسط میں موجود آمنے سامنے کھڑے کبیر دادا اور شمشیر دادا کو دیکھنے لگی ۔
شہاب قصوری کہہ رہا تھا ۔”اگر کوئی مقابلے سے دست بردار ہونا چاہتا ہے تو ابھی شکست تسلیم کر سکتا ہے مقابلہ شروع ہو جانے کے بعد کسی کے شکست تسلیم کرنے کے باوجود مخالف اسے قتل کرنے کا حق رکھتا ہے ۔“
دونوں خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔شمشیر دادا سے تربیت حاصل کرتے وقت کبیر دادا کو سیکڑوں مرتبہ یوں شمشیر دادا کے سامنے کھڑا ہونے کا موقع ملا تھا مگر وہ مصنوعی مقابلہ ہوا کرتا تھا ۔ایسے مقابلوں میں کبیردادا ہمیشہ ہی ہارجاتا تھا،لیکن اسے کبھی اپنی ہار کا دکھ نہیں ہوا تھا ۔بلکہ ہمیشہ شمشیر دادا سے مقابلہ کرتے وقت اس کے دل میں لڑنے کے بجائے مار کھانے کی نیت ہوتی ۔اور یہ شمشیر دادا کی سخت تربیت اور پٹائی ہی کا اعجاز تھا کہ کبیردادا کے سامنے کوئی لڑاکا دو منٹ سے زیادہ نہیں ٹھہر پاتا تھا ۔لیکن آج وہ مار کھانے کی نیت سے نہیں اپنے استاد کو مارنے کی نیت سے تیا رکھڑا تھا ۔
”کبیر ،اب بھی وقت ہے اپنی جان بچا لے ۔یہ نہ ہو بات میرے اختیار سے بھی نکل جائے ۔ہارنے کی صورت میں تمھیں کوئی بھی گولی مار کر ہلاک کر سکتا ہے ۔“
کبیر دادا نے کئی دفعہ کہی ہوئی بات دہرائی ۔”آپ میری بیوی کو کچھ نہ کہنے کا وعدہ کریں مجھے اس کے علاوہ ہر سزا منظور ہے ۔“
”جس فاحشہ کی وجہ سے تم نے مجھ سے بغاوت کی ہمت کی ہے اسے تو میں ایسا سبق پڑھاﺅں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔یہ شمشیر دادا کا تم سے وعدہ ہے ۔“
کبیردادا اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموش کھڑا رہا ۔اس کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی چھا گئی تھی ۔شمشیر دادا کی دل سے قدر کرنے والے کے دل سے ایک دم وہ عزت و احترام رخصت ہو گیا تھا ۔جو شخص اس کی تناوش کی عزت کا دشمن ہو سکتا تھا وہ اسے قابل احترام نہیں سمجھ سکتا تھا ۔
”شروع کرو ۔“شہا ب قصوری آواز گویا طبل ِ جنگ تھا کہ جس کے بعد فریقین ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے حق دار ہو گئے تھے ۔حاضرین میں فقط تناوش تھی جس کے لب مسلسل مناجات کے ورد میں مصروف تھے ۔چند گھنٹے پہلے وہ عارضی جدائی پر رو رہی تھی اور ا ب دائمی جدائی سر پر آن کھڑی تھی ۔
”یاللہ پاک ،تو نے ہمیشہ میرے پیاروں کو چھینا ہے ۔میں نے گلے بھی کیے ،شکوے شکایت بھی کی کہ تیری بارگاہ کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں تھی جہاں شنوائی ہو سکتی ہو۔مگر میری دعائیں رد گئیں،اے اللہ آج میری دعا کو رد نہ کرنا ۔ اے اللہ پاک میں جانتی ہوں تیری بے نیاز ذات کو کسی پروا نہیں ،لیکن عاجزوں کی دعا بھی تو فقط تو ہی سنتا ہے ۔تیرے ہی قبضہ قدرت میں ساری طاقتیں اور ساری قوتیں ہیں ۔میرے مالک ساری بڑائیاں تجھے ہی سزاوار ہیں۔اے قوتوں ،طاقتوں اور بڑائیوں کے مالک اے اکبر ،اے کبیر ذات میں اپنے عبدالکبیر کے لیے جھولی پھیلا رہی ہوں، میری جھولی کو خالی نہ لوٹانا ۔اے اللہ پاک مجھ سے سب کچھ چھین لے مگر میرا عبدالکبیر میری خالی جھولی میں ڈال دے۔ اے اللہ پا ک تو سنتا ہے ،تو جانتاہے ،توتو دلوں کے حال سے واقف ہے نا ۔میرے دکھی دل کی پکار سن لے ۔میں جانتی ہوں میرا عبدالکبیر بہت گناہ گار ہے ،خطا کار ہے لیکن میں وعدہ کرتی ہوں اسے تیرا فرماں بردار بندہ بناﺅں گی ۔اس سے سارے ناجائز کام چھڑا دوں گی ۔ اے اللہ پاک ایک موقع تو دے دے ، مجھے تھوڑی سی مہلت تو دے دے ۔سنا ہے تو رونے والوں کو جلدی دیتا ہے ،دیکھ لے میں رو رہی ہوں ۔سنا ہے تودکھی دلوں کی پکار خالی نہیں لوٹاتا ، میرے مالک میرا دل دکھ سے بھرا ہوا ۔اے سب کی سننے والے میری دعا قبو ل کر لے ،اے دینے والے مجھے میرا عبدالکبیر دے دے ۔یااللہ پاک ........“وہ لرزتے ہونٹوں ،سسکتے لہجے ، آنکھوں میں آنسو اور دکھی دل کے ساتھ اپنے مالک کے ساتھ ہمکلام رہی ۔اس کی دھندلائی ہوئی نظریں مضبوط جسمامت والے لمبے تڑنگے کبیر دادا پر گڑی تھیں جو شمشیر دادا کے سامنے بچہ نظر آرہا تھا ۔
اس وقت کاشف راجپوت ، بہرام پاشا کو پیغام لکھ رہا تھا ۔”پاشا ،اگر اپنے استاد کا آخری دیدار کرنا چاہتے ہو تو آجاﺅ ۔شمشیر دادا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہیں اور اس کی وجہ وہی ہے یعنی تمھاری چھوٹی بہن ۔شاید یہ جاننا بھی تمھارے لیے باعث اذیت ہو کہ اسے نوشاد آفریدی پارٹی پکڑ کر یہیں لے آئے ہیں ۔“
اس نے پیغام بھیجنے کا بٹن دبایا اور اس وقت شمشیر دادا نے اپنا لمبا بازو گھماتے ہوئے کبیر دادا پر حملہ کر دیا تھا ۔بھاری بھرکم جسامت کے باوجود وہ کسی چیتے کی طرح پھرتیلا تھا ۔یہی لڑنے کی صلاحیت ہی تو تھی جس کی بدولت اس نے بمبئی جیسے شہر میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی ۔
تھوڑی دیر پہلے مسلسل اس کے تھپڑ کھانے والے کبیر دادا نے ایک دم جھک کر اس کا وار خطا کیا اور اپنا دایاں مکا زوردار انداز میں اس کی پسلیوں کے نیچے پیٹ میں رسید کردیا ۔مگر اس کا پیٹ شاید فولاد کا بنا تھا ۔کبیر دادا کو یقین تھا کہ اگر وہ مکا کسی دوسرے آدمی کے پیٹ میں اسی شدت سے پڑا ہوتا تو ،مضروب کی جان لینے کے لیے کافی تھا ۔لیکن شمشیر دادا ٹس سے مس نہیں ہوا تھا ۔
مکا مارنے کے ساتھ کبیر دادا رکا نہیں تھا بلکہ اس نے تیز رفتاری سے تین چار مکے اسی جگہ پر جڑ دیے تھے ۔اس کے مکوں کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے شمشیر دادا نے دوبارہ ہاتھ گھمایا۔ اور اس دفعہ کبیر دادا بچ نہیں پایا تھا ۔چھاتی میں لگنے والے مکے نے اسے فرش پر اچھال دیا تھا ۔ اس نے تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی مگر شمشیر دادا نے اس سے پہلے فٹ بال کولات مارنے کے انداز میں اس کے دائیں پہلو کو ٹھوکر کا نشانہ بنایا اور وہ تین چار گز دو ر جاگرا ۔اس کے پہلو میں شدید درد شروع ہو گیا تھا ۔مگر وہیں پڑے رہنے کا نتیجہ اسے دوسری ناقابل برداشت چوٹ کی صورت میں مل سکتا تھا ۔
شمشیر دادا کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ اچھل کر کھڑا ہوا ۔اس وقت شمشیر دادا قریب پہنچ گیا تھا ۔اس کے سر کی بھرپور ٹکر کبیر دادا کی چھاتی میں لگی اور وہ اچھل کر دیوار کی جڑ میں جا گرا ۔ اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی تھی ۔سر جھٹکتے ہوئے وہ اٹھا اس وقت تک شمشیر دادا نے قریب پہنچ کر اسے ایک ہی ہاتھ سے اٹھا کر سر سے بلند کر کے دیوار سے اس کی پیٹھ لگا دی تھی ۔ کبیر دادا جانتا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر بھی اسی طرح ہوا میں لٹکتا رہ گیا تو اس کی قوت ختم ہوجائے گی ۔ اپنی ٹانگ گھٹنے سے موڑ کر اس نے شمشیر دادا کی ٹھوڑی پر وار کرنا چاہا ۔جسے شمشیر دادا نے دوسرے ہاتھ سے روک دیا ۔لیکن اس دوران کبیر دادا دونوں ہاتھوں سے زور لگا کر اپنا گلا اس کی جناتی گرفت سے چھڑا چکا تھا ۔پاﺅں نیچے لگتے ہی کبیر دادا نے سر کی زوردار ٹکر شمشیر دادا کی چھاتی میں رسید کی ۔وہ بے اختیار پیچھے ہوا لیکن اگلے ہی لمحے اس کی زور دار کک نے کبیر دادا کو دوبارہ دیوار سے ٹکرانے پر مجبور کر دیا ۔شمشیر دادا نے اس ایک کک پر اکتفا نہیں کیا تھا ۔کبیر دادا کے سنبھلنے تک وہ اس پر مکوں کی بارش برسا چکا تھا ۔بڑی مشکل سے کبیر دادا نے نیچے بیٹھ کر ان مشینی مکوں سے جان چھڑائی اور زقند لگا کر دیوار سے دور ہو گیا ۔مگر اب شمشیر دادا کا پارہ بلند ہو چکا تھا ۔ کبیر دادا کو ایک مکے کے جوا ب میں تین مکے کھانا پڑتے ۔مسلسل مار کھا کر کبیر دادا لہولہان ہو چکا تھا ۔اس کے چہرے اور جسم سے رستا ہوا خون تناوش کو اس کی دعاﺅں کے رد جانے کی بری خبر سنا رہا تھا ۔باپ اور بھائی کی موت کے بعد شاید شوہر کی موت کا دکھ دیکھنا بھی اس کے نصیب میں لکھا تھا۔ کبیر دادا کو لگنے والی ہر چوٹ اس کے دل پر لگ رہی تھی ۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کبیر دادا سے پہلے اس کا سانس نکل جائے گا ۔اس کے باوجود اس کے لرزتے ہونٹوں پر مناجات جاری رہیں ۔
اور پھر شمشیر دادا کی زبردست ٹھوکر سے کبیر دادا دیوار سے ٹکرایا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا اس کی چھاتی سے شمشیر دادا کا ہاتھی جیسا پاﺅں دوبارہ آن ٹکرایا ۔اس کے سر کی پشت کا زور دار انداز میں دیوار سے اتصال ہوااور اس کی آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے تارے لہرانے لگے تھے۔وہ اسی طرح پھسلتا ہوا نیچے بیٹھ گیا۔
شمشیر دادا نے اسے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا اوراس کے چہرے پر زوردار تھپڑ رسید کرنے لگا ۔تھپڑ کھا کر کبیردادا کے رہے سہے اوسان بھی رخصت ہو نے لگے ۔
تین چار تھپڑ لگا کر شمشیر دادا نے اسے گریبان سے پکڑ کر تناوش کی طرف اچھال دیا ۔
”یہ گیا تیرا خصم!“وہ پیلا پڑتی تناوش کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے دھاڑا ۔
کبیر دادا نے بڑی مشکل سے سر اٹھا کر تناوش کی طرف دیکھا ۔وہ رو رہی تھی ،لرز رہی تھی ۔اس کے چہرے پر اذیت ،دکھ ،پریشانی اور نہ جانے جانے کون کون سے کیفیات ثبت ہو چکی تھیں ۔
شمشیر دادا کی آواز بلند ہوئی ۔”یہ وہ نمک حرام ،بے غیرت اور احسان فراموش ہے جسے میں نے سہارادیا ، پاﺅں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا ،دشمنوں سے بدلہ لینے کے گر سکھائے ، عزت سے جینا اور سر اٹھا کے چلنا سکھایا۔اور آج یہ گھٹیا انسان ایک چھوکری ،ایک رکھیل اور ایک فاحشہ کی خاطر میرے مقابل آگیا ہے۔کچھ لوگ شاید سوچ رہے ہوں کہ میں اس کی جان بخشی کردوں گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔لیکن مرنے سے پہلے میں اسے اس کی رکھیل کا تماشا ضرور دکھاﺅں گا ۔تم لوگ آج تک گندی فلموں میں ایسے سین دیکھتے رہے ہو آج تمھارے سامنے زندہ شو چلے گا ۔“یہ کہتے ہی شمشیر دادا لرزتی کانپتی تناوش کی طرف بڑھا ۔
کبیر دادا نے ملتجی نظریں تناوش کی طرف اٹھائیں اور لرزتی آواز میں بولا ۔”میں ہار گیا تناوش ،تمھیں اجازت ہے ۔شاید پہلے تمھارا جانا بنتا تھا ۔“
جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.