اول جنت کے پتے قسط 52
جنت کے پتے
از
نمرہ احمد
ناول؛ جنت کے پتے
قسط 52
ٹرسٹ ٹیم نے اس کے ساتھ تعاون کیا تھا البتہ اسے پتا تھا کہ اس کیس کی مزید تفتیش کے لیے اسے بار بار بلایا جائے گا، وہ بھلا اسے سینکڑوں دفعہ بلوا لیں مگر حیا کو نہیں۔ وہ اسے ان سب سے دور کرنا چاہتا تھا- وہ اس کے لیے یہی کر سکتا تھا-
اس سب کے باوجود وہ جانتا تھا کہ وہ اس پہ کوئی احسان نہیں کر رہا۔ یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس نے ہاشم کو گرفتار شدگان میں دیکھا، اور جیسے کسی نے اس کے اوپر دہکتے کوئلے ڈال دیے تھے۔ ہاشم، جس کو اس نے حیا کا تعاقب کرنے کا کہا تھا۔ وہ ہاشم اس کی بیوی کو بیچ آیا تھا- یہ سب اس کا اپنا قصور تھ۔ا اس نے غلط آدمی پہ بھروسہ کیا، اس نے اپنی وجہ سے حیا کو اتنا نقصان اٹھانے پہ مجبور کر دیا۔ وہی ذمہ دار تھا اس سب کا۔
اپنے آپ کو ملامت کرتا وہ حیا کو وہاں سے لے آیا تھا۔ ایک ہی جگہ تھی جہاں وہ اس کو لے جا سکتا تھا۔ جہانگیر ممی کے پاس بھی نہیں، ممی یا کسی بھی رشتے دار کو کچھ پتا لگے، یہ نہیں ہونا چاہے تھا، چاہے وہ ممی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب بس ایک ہی جگہ تھی۔
بیوک ادا۔
عائشے گل!
وہ اسے اسپتال نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ اگر وہ اسے اسپتال لے جائے گا تو صبح تک پورے ادالار کو خبر ہو جائے گی۔ اپنے کسی آدمی پہ اسے بھروسہ نہ تھا کہ وہ حیا کو کسی دوسرے کے ساتھ ہسپتال بھیج دے۔ وہ اتنا ہرٹ اور اتنا پریشان تھا کہ وہ آخری جگہ جہاں سے بات باہر نہیں نکلے گی اسے ادالار میں اپنا گھر ہی لگی تھی۔
حیا کے زحم ایسے نہ تھے کہ اسے فوری طبی امداد کی ضرورت پڑتی۔ مرہم پٹی تو خود بھی اس کی کر سکتا تھا۔ مگر سارا مسئلہ اس کے بالوں کا تھا، اگر وہ خراب ہو گئے تو وہ ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکے گا۔
ابھی جلد از جلد اس کے بالوں سے ویکس اتارنا تھا اور اس سلسلے میں عائشے اس کے لیے کچھ کر سکتی تھی۔
عائشے کو ان کاموں کا کوئی تجربہ نہ ہو گا، وہ کوئی پیرا میڈیکل اسٹاف نہیں تھی، وہ تو چھوٹی سی لڑکی تھی۔ مگر وہ ایک بات جانتا تھا۔ وہ اس لڑکی پہ بھروسہ کر سکتا تھا۔ آگے عائشے کیسے حیا کے بال ٹھیک کر سکتی تھی، یہ عائشے کا مسئلہ تھا۔ خوف اور اچانک پڑی افتاد انسان کا اصل پوٹینشل اس کے سامنے لاتے ہیں، اور وہ اس طرح کے شدید حالات میں ایسے کام کر جاتا ہے جو عام زندگی میں اسے لگتا ہے کہ اس سے کبھی نہیں ہو پائیں گے۔ اس وقت بھی اسے عائشے سے اسی پوٹینشل کی امید تھی۔ وہ عبدالرحمن کے لیے کچھ نہ کچھ کر لے گی۔
عائشے اور بہارے اس روز اکیلی تھیں۔ آنے کچھ رشتے داروں سے ملنے شہر سے باہر گئیں تھیں۔ وہ پچھلے دروازے سے گھر میں داخل ہوا تھا اور اس بےہوش، زخمی لڑکی کو اس نے بالائی منزل پہ بنے اپنے پرتعیش سے بیڈروم کے بیڈ پہ لٹا دیا۔ تب بھی وہ بے ہوش تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کون ادھر تک لایا ہے، اس برف اور آگ کی رات میں!
وہ تیزی سے زینے پھلانگتا نیچے آیا اور عائشے کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دھڑ، دھڑ، دھڑ، اس نے دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔
کیا ہوا؟کون؟
عائشے سر پہ اسکارف لپیٹتی، نیند سے گبھرا کر اٹھی اور باہر نکلی تو اسے سامنے دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں۔
تم۔ تم انڈیا سے کب آئے۔
اور اسے تب یاد آیا کہ ادالار والوں کے لیے وہ انڈیا ہی میں تھا۔
آج ہی آیا تھا۔ مجھے تمہاری مدد چاہیے۔ اوپر آؤ۔ جینز اور سویٹر، رف حلیہ، بکھرے بال، عینک غائب، یہ وہ عبدالرحمن تو نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔
مگر جیسے کہ اس نے کہا، وہ دونوں بہنیں اٹھ کر اس کے ساتھ اوپر آئیں۔ سارا معاملہ ان کو سمجھا کر جہان نے جب مدد کے لیے کہا تو عائشے تذبذب سے بیڈ پہ پڑی حیا کو دیکھنے لگی۔
تم اسے ہسپتال لے جاؤ۔ یہی ٹھیک رہے گا، مجھے تو کچھ نہیں سمجھ آ رہا۔
نہیں! کل صبح ہم ڈاکٹرگھر پہ بلا لیں گے، ابھی مجھے صرف اس کے بال بچانے ہیں۔ تم کسی طرح یہ ویکس اتار دو!
تمہیں کیوں لگتا ہے، کہ میں یہ کر سکوں گی؟ تم خود ہی تو کہتے ہو عائشے گل کبھی کچھ نہیں کر سکتی۔ اس نے ملال سے کہتے ہوئے بے ہوش پڑی لڑکی کے چہرے کو دیکھا۔ وہ اکثر یہ بات کہہ دیا کرتا تھا تا کہ عائشے سب کچھ کرنا سیکھ جائے۔
پلیز عائشے! کچھ کرو۔ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے اور اگر تم کچھ نہ کر سکتی ہوتیں تو میں فیور لینے تمہارے پاس کیوں آتا؟
وہ اس کے سامنے کھڑا، بہت ٹوٹے ہوئے لہجے اور ستے چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا۔
اوکے! ہم کوشش کرتے ہیں۔ اس کے انداز میں کچھ تھا کہ عائشے سوئیٹر کی آستین پیچھے چڑھاتی اتھی اور غنودہ لڑکی کے سرہانے آ بیٹھی۔ بہارے البتہ صوفے پہ بیٹھی ہتھیلیوں پر چہرہ گرائے گہری سوچ میں گم تھی۔
"کچھ بھی کرو، مگر مجھے اس کے بال واپس چاہئیں۔ وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے پھر سے جیسے منت کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ زمانوں کا کرب و تکلیف رقم تھی۔ اس کے بال بہت خوبصورت ہیں اور مجھے وہ واپس چاہئیں۔
کیا وہ تمہیں اچھی لگتی ہے۔ بہارے نے بہت سوچ کر سوال کیا، عائشے نے تادیبی نظروں سے اسے گھورا مگر وہ جہان کی طرف متوجہ تھی۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا۔
بہت زیادہ
اور اگر اس کے بال خراب ہو جائیں تو یہ تمہیں اچھی نہیں لگے گی۔
بس بہت ہو گیا، بہارے گل! عائشے نے سختی سے اسے ٹوکا، تو اس نے منہ بسور کر سر جھٹکا۔
وہ مجھے تب بھی اچھی لگے گی۔ کچھ دیر بعد وہ مضبوط لہجے میں بولا تو بہارے نے ناک سکیڑ کر منہ پھیر لیا۔ اسے جیسے یہ بات بالکل بھی پسند نہ آئی تھی۔
عائشے اب اس کے بالوں کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔
ویکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویکس کھینچ کر اتاری جائے تو بالوں کو نقصان دے گی، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔ لیکن اگر اس کو ہم پگھلا کر اتاریں تو یہ اتر جائے گی، مگر Scalp کو جو نقصان پہنچا ہو گا، وہ۔
تم Scalp کے زخموں کی فکر مت کرو، صرف یہ ویکس اتارو۔
ہاں! بعض دفعہ ہاتھ پہ بھی گرم گرم گر جاتی ہے، اتنا نقصان نہیں ہوتا جو بھی زخم ہیں، وہ بھر جائیں گے مگر اس کو کیسے پگھلائیں؟ وہ بے بسی سے بولی۔ آخر کون سی چیز ہے جو ویکس گھول سکتی ہے؟ عائشے جمے ہوئے ویکس کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتی سوچ میں پڑ گئی تھی۔
گرم پانی؟ مگر عائشے نے نفی میں سر ہلایا۔
ہم اس کا چہرہ بچائے بغیر گرم پانی میں نہیں ڈال سکتے۔ ویکس اس کی مانگ پر گری ہے۔ ہمیں بہت ابلتا ہوا گرم پانی چاہیئے ہو گا، مگر اس کے چہرے کو وہ جلا دے گا! صرف بالوں پر کچھ لگانا ہو گا! پھر وہ ایک دم چونکی۔ شیمپو۔ ہاں شیمپو ہے جو ویکس کو گھول سکتا ہے۔ شیمپو بالوں پر لگی چیزوں کو گھول سکتا ہے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جوش سے کہتی کہتی رکی۔ جہان اور بہارے منتظر سے اسے دیکھ رہے تھے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ عموما تمام شیمپوز میں ویکس پہلے سے وجود ہوتی ہے، ہمیں کوئی ایسا شیمپو استعمال کرنا ہو گا۔ جس کے اجزاء میں ویکس شامل نہ ہو۔ ایسا کون سا شیمپو ہے جس میں ویکس موجود نہیں ہوتی؟
سن سلک! وہ ایک دم سر اٹھا کر بولا۔ سن سلک میں ویکس نہیں ہوتی۔
تمہیں کیسے پتا۔ بہارے نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
جب میں جیل میں تھا تو وہاں ایک مرتبہ باتھ روم میں سن سلک کی بوتل قسمت سے مجھے دی گئی تھی۔ میں نے اس کے سارے اجزاء ترکیبی حفظ کر لیے تھے۔ مجھے یاد ہے ان میں ویکس نہیں تھی۔
تم جیل میں بھی رہ چکے ہو؟ عائشے کو جہاں شاک لگا، وہیں بہارے مارے ایکسائٹمنٹ کے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
واقعی، تم جیل میں بھی رہ چکے ہو؟ وہ بے حد متاثر ہو چکی تھی۔
ہاں! بس ایک دفعہ غلطی سے۔ بس ایک رات کے لیے۔ جاؤ تم سن سلک لے کر آؤ، میں اسٹڈی میں ہوں، مجھ سے یہ سب نہیں دیکھا جائے گا۔
دکھتے سر کے ساتھ وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں بتا پا رہا تھا۔ سو اٹھ کر اسٹڈی میں جا بیٹھا اور سگریٹ جلا لی۔ وہ آگ اور برف کی رات تھی۔ یہ خیال ہی کہ حیا کو نقصان پہنچا ہے، اس کے سارے جسم کو برف کی طرح ٹھنڈا اور مردہ کر دیتا تھا۔ اور پھر وہ آگ یاد آ جاتی، جو اس لڑکی نے سہی تھی۔ سب اس کا قصور تھا۔ اس آگ اور برف کی رات پہ وہی قصور وار تھا۔ اس کا دل بہت بری طرح سے دکھا ہوا تھا۔
اندر عائشے نے بہت مستعدی سے کام شروع کر دیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے ٹشو رول لیا، اور بہت سا ٹشو اچھے سے حیا کے سر پر اس جگہ لپیٹا جہاں ویکس گری تھی۔ پھر اوپر سے اس نے ہئیر ڈرائیر چلا دیا۔ تیز گرم ہوا ٹشو سے گزر کر اس کے بالوں کو چھونے لگی۔
عائشے اس طرح حیا کے سرہانے کار پٹ پہ گھٹنوں کے بل بیٹھی، ہئیر ڈرائیر پکڑے اس کے بالوں کے قریب آگے پیچھے کر رہی تھی۔
آہستہ آہستہ ٹشو تلے جمی ویکس پگھل کر ٹشو میں جذب ہونے لگی۔ جیسے ہی ٹشو کا وہ ڈھیر گیلا ہو گیا بہارے نے جلدی سے اسے حیا کے بالوں سے اتارا اور ٹوکری میں پھینکا۔ تب تک عائشے نیا رول کھول کر حیا کے بالوں میں لپیٹنے لگی تھی۔
یوں تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ٹشو بدل دیتیں۔ بہت سارا ویکس یوں ہی اتر گیا، یہاں تک کہ اب ویکس کی آخری تہہ بالوں پہ جمی رہ گئی جس سے بال نظر آ رہے تھے۔ پتلی مگر سب سے مشکل تہہ۔
اس کے لیے اس نے شیمپو استعمال کیا۔ تولیے کو اس کی گردن کے آگے پیچھے پھیلا کر (کہ وہ عبدالرحمن کا بیڈ تھا اور اس پہ وہ ایک بھی داغ برداشت نہیں کرتا تھا) اس نے سپرے سے حیا کے بالوں کو گیلا کر کے نرمی سے ان پہ شیمپو کا مساج شروع کیا۔
امی! درمیان میں ایک دفعہ اس کی آنکھ بھی کھل گئی، شاید اس کی آنکھوں پہ پانی گرا تھا۔ اس نے فوراً بہارے کو آہستہ سے کہا۔
عبدالرحمن کو کہہ کر آؤ کہ وہ جاگ گئی ہے۔ عائشے کے ہاتھ ابھی جھاگ سے بھرے، حیا کے بالوں پہ تھے۔ بہارے سر ہلا کر تیزی سے باہر بھاگی۔
وہ اسی طرح اسٹڈی میں بیٹھا، کھڑکی سے باہر تاریک رات دیکھتا، سگریٹ پھونک رہا تھا۔ بہارے بھاگ کہ اس کے پاس آئی۔
وہ اٹھ گئی ہے، بس تھوڑی سی، زیادہ نہیں۔ اب کیا کریں؟
اس کے پکارنے پہ وہ چونکا۔ پھر چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ پھر فوراً اٹھ کر باہر گیا۔ اس کا رخ ایٹک کی طرف تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک sleep spray تھا۔
اس کو اس کے تکیے پہ اسپرے کر دو وہ پھر سے سو جائے گی!
*******
اس نے اسپرے بہارے کو دے دیا۔ وہ اسپرے پکڑے سر ہلا کر واپس اندر بھاگ گئی۔
اس کی ہدایت کے مطابق عائشے نے سلیپ اسپرے حیا کے تکیے پہ کر دیا۔ وہ جو ہلکی ہلکی جاگنے لگی تھی، پھر سے غنودگی میں چلی گئی۔
صبح فجر سے قبل، تھوڑے بہت ضیاع کے بعد اس کے بال واپس اپنی حالت پہ آ چکے تھے۔ دوسری طرف وہ بھی واپس اپنی حالت پہ آ چکا تھا۔ البتہ اس نے ایک اور کام کیا تھا کہ جو تصاویر اس کے پاس حیا کی تھیں، وہ اس نے اسٹڈی کے کمپیوٹر سے پرنٹ آوٹ کر کے اسٹڈی کی دیواروں پہ آویزاں پینٹگز کے فریم میں اصل پینٹنگ اور شیشے کے درمیان لگا دی تھیں، تا کہ یوں لگے کہ وہ تصاویر ہی فریم کی گئی ہیں۔ جب وہ ادھر رہے گی اور کسی دن وہ اس کمرے میں آ کر یہ دیکھے گی، تو جان لے گی کہ وہ برا آدمی نہیں تھا۔وہ اس کے بہت سے لمحوں میں اس کے ساتھ تھا۔ اور اس کا خیال رکھا کرتا تھا۔
صبح تم ڈاکٹر کو لے آنا، باقی سارے کام وہ کر دے گی، مگر ایک بات!
صبح جب وہ دونوں کمرے سے نکلیں تو وہ اپنے مخصوص حلیے میں، سوٹ میں ملبوس، بال جیل سے پیچھے کیے، عینک لگائے، بریف کیس اٹھائے، واپس جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔
کیا؟
تم اس کو نہیں بتاؤ گی کہ میں یہاں آیا تھا۔ بہارے اگر تم نے منہ سے ایک لفظ بھی نکالا تو میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
اوکے! میں کیا کہہ رہی ہوں! وہ نروٹھے پن سے شانے اچکا کر بولی۔
جب بہارے منظر سے ہٹی، تو اس نے عائشے کو مخاطب کیا۔
تم نے مجھے بہت بڑا فیور دیا ہے۔ تم اس کے بدلے مجھ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہو۔ میں انکار نہیں کروں گا۔ وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔ عائشے کھلے دل سے مسکرا دی۔
میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ زندگی میں دوبارہ کبھی اگر تمہیں کسی بڑے فیور کی ضرورت پڑے تو تم مجھ سے ضرور مانگو۔
بالکل۔ میں دوبارہ بھی مانگوں گا۔ وہ کیا ہو گا، میں نہیں جانتا، مگر ضرورت پڑنے پہ میں تمہارے پاس ضرور آؤں گا۔ ایک بات اور۔
قدرے رک کر اس نے کچھ بتانا شروع کیا جس کو سن کر عائشہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
وہ تمہاری بیوی ہے۔ اور وہ تمہیں کسی دوسرے نام سے جانتی ہے۔ پھر تم نے آنے سے کیوں کہا کہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ وہ سچ بولنے والی لڑکی ایک دم ششدر رہ گئی تھی۔
میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ کسی امیر آدمی کے لیے اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہے یا نہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ وہ اب عائشے کے سوالوں سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا۔
اپنوں کو ہر وقت آزاماتے نہیں ہیں عبدالرحمن۔
جو بھی ہے، تم بہارے کو یہ سب مت بتانا۔ میں نہیں چاہتا کہ حیا کسی اور کے منہ سے میرے بارے میں یہ سب سنے۔ ایسی صورت میں وہ کبھی میرا اعتبار نہیں کرے گی۔ میں اسے خود سب بتا دوں گا، مگر کچھ وقت بعد۔
تم بہت جھوٹ بولتے ہو۔ عائشے نے دکھ سے اسے دیکھا۔ اور جوابا اس کے تاثرات پھر سے سپاٹ ہو گئے۔
پوری رات جس شخص کو عائشے نے دیکھا تھا، وہ چلا گیا تھا، اور پرانا عبدالرحمن واپس آ گیا تھا جو اس تھپڑ کی بابت ابھی تک اس سے خفا تھا۔ بس ایک لمحے میں ہی وہ ساری رات کے لئے بنا، بکھرا بکھرا سا عبدالرحمن غائب ہو گیا تھا۔
کوشش کرنا وہ کچھ دن تمہارے پاس ٹھہر جائے۔ میں جا رہا ہوں، فون کرتا رہوں گا۔ سنجیدگی سے کہہ کر وہ پلٹ گیا۔ عائشے ملال سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اب اسے وہی کرنا تھا جو وہ کہہ رہا تھا۔
***
چونکہ اسے واپس انڈر گراؤنڈ ہو جانا تھا، اس لیے اگلے ہی روز اس نے کال کر کے عائشے کو بتایا کہ وہ واپس انڈیا جا رہا ہے۔ حسب معمول وہ مان گئی۔ اب وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ جتنے دن حیا اس گھر میں رہے، امت اللہ حبیب واپس آئیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جائے گی کہ وہ عبدالرحمن کی اصلیت جان جائے گی۔ وہ اچھی خاصی ذہین لڑکی تھی
وہ اسے انڈر اسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کسی دوسرے کے منہ سے وہ سنے گی تو وہ اس کا اعتبار کھو دے گا۔ اس لیے بہتر تھا کہ جب تک وہ اپنا پزل باکس نہ کھولے، تب تک وہ عبدالرحمن کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ اس لیے اس نے آنے کے ذمہ کچھ کام ایسے لگا دیے جو چند دن انہیں مزید مصروف رکھیں گے۔ بس یہ چند دن ہی تو رہے گی حیا عائشے کے گھر۔ پھر بھلے آنے واپس آجائیں، خیر تھی!
تیسرے روز اس نے عائشے کو انڈین نمبر سے کال کی۔ وہ حیا سے بات کرنا چاہتا تھا، وہ اس کی آواز سننا چاہتا تھا۔ اس کے دل کو اس دن سے اب تک قرار نصیب نہیں ہوا تھا۔
مگر وہ اس کی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ اگر وہ اسی میں خوش تھی تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہلوا دیا کہ وہ ادالار نہیں آئے گا، وہ آرام سے ادھر رہے۔ اگر یہی حیا کے سکون کا باعث تھا تو وہ ایسا ہی کرے گا۔
مگر ان دنوں بار بار اس رات کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے آتے اور اسے تکلیف دیتے تھے۔ حیا کے بازو پہ داغا، WHO اور ساتھ میں آخری سلاخ کے دو حروف RE جو جلد ہی سلاخ ہٹا لینے کے باعث ٹھیک سے داغے نہ جا سکے تھے، اور آبلے سے بن گئے تھے، وہ منظر بہت اذیت رساں تھا۔ اگر وہ دو حروف ٹھیک سے داغ دیے جاتے، تو؟ وہ کتنا عرصہ اسے اذیت دیتے، کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے، سرجری سے وہ مٹ جاتے، مگر جب تک نہ مٹتے تب تک تو وہ اسے اذہت دیتے نا! کاش وہ ذرا پہلے پہنچ گیا ہوتا۔ کاش وہ اسے جلنے کی تکلیف سے بچا پاتا۔ کاش!
ممی البتہ پریشان تھیں کہ حیا کہنے کے باوجود کیوں نہیں آئی۔ اس صبح جب وہ گھر پہنچا تو ممی نہیں تھیں انہوں نے رات کو اسے جاتے نہیں دیکھا تھا سو ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ رات کہاں رہا تھا۔ دوپہر میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو ممی نے بتایا کہ وہ حیا کے ہاسٹل گئیں تھیں، اور ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ اسے اپنی میزبان فیملی کی طرف رکنا تها۔ اس کے دونوں نمبرز بند آ رہے تهے، یہی بات ممی کو پریشان کر رہی تهی۔ اس نے ممی کو کچھ نہیں بتایا، اس کو راز رکهنے آتے تهے، بس اس نے تسلی دی کہ فون خراب ہو گا۔ وہ فکر نہ کریں۔ البتہ عائشے کو اس نے فون پہ تاکید کی کہ وہ حیا سے کہے، وہ اپنے گهر فون کر لے۔ اگلے روز اس نے واقعی فون کر لیا، اب سرکاری طور پر جہان سکندر کے ہاں اس کا نمبر آ گیا تها، مگر وہ وہاں اس کو فون کرے، یہ مناسب نہیں تها۔ اس نے ہوٹل گرینڈ میں ایک بندے سے کہلوا کر حیا کے لیے نیا موبائل اور سم بهی دلوا دی تهی اور ظاہر ہے یہ نمبر بهی اس کے پاس تها، لیکن اگر جہان اس کو فون کرے تو اس کو نمبر کہاں سے ملا جیسے سوال کی کوئی لاجیکل وضاحت نہ بنتی تھی۔ عبدالرحمان سے وہ بات کرنا نہیں چاہتی تهی، جہان اسے کال کر نہیں سکتا تها، پهر۔ وہ کیسے اس کی آواز سنے۔ کیسے اس سے بات کرے۔
میجر احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں، میجر احمد بهی تو ہے، وہ اسے کال کر سکتا تها کیونکہ میجر احمد عموما ہر بات جانتا ہوتا تها۔ شاید تب وہ اس کی آواز سن سکے۔
اور یہ کوشش کامیاب رہی۔ کتنے دنوں بعد اس نے حیا کی آواز سنی تهی۔ وہ حسب معمول میجر احمد سے بےزار تهی، مگر یہ طے تها کہ وہ اس پہ اعتبار کرتی تهی تب ہی وہ اس سے پوچھ رہی تهی کہ بلیک میلرز کو کیسے قابو کیا جاتا ہے، اسے کون بلیک میلز کر رہا تها؟ اس کا دهیان ہاشم کی طرف گیا، خیر اگر وہ عبدالرحمن پاشا تها ت وہ ہاشم کو کئی سال تک جیل سے باہر آنے نہیں دے گا۔ پهر اس نے اندهیرے میں تیر چلا کر اسے بتایا کہ وہ پزل باکس کهول چکی ہے۔ تب وہ ہنس دیا۔ اس کا لاکر ابهی تک خالی تها، جب اس نے ویڈیو رکهی ہی نہیں تو کیسا انکشاف۔ وہ تلملا کر فون رکهنا چاہتی تهی، مگر وہ اس کو مزید سننا چاہتا تها۔ یہاں تک کہ وہ سو گئی مگر وہ اس کی خاموشی سنتا رہا۔ اس وقت وہ اپنے ریسٹورنٹ کے کاؤنٹر پر بیٹها ریسیپشنٹ کے فرائض سرانجام دے رہا تها۔ وہ اپنے کام نپٹا رہا، اور دوسری جانب اسے حیا کے سانس لینے کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ابهی آدها گهنٹہ گزرا تها کہ اسے لگا کہ اس کے نتھنے گیلے ہو رہے ہیں۔ تکلیف کی ہلکی سی لہر اٹهی، سر کا وہی درد ہر چیز پہ چھانے لگا۔
جاری ھے

No comments: