Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر 9 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید

 حیا  از فاخرہ وحید
9 قسط نمبر   
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 9
"حیا"
از
فاخرہ وحید (فری)

قسط 9
"میری بات تو سنو. " وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
"مجھے نہیں سننی تمہاری کوئی بھی بات." وہ خفا تھی.
"یار میں مصروف تھا. " وہ واقعی مصروف تھا.
"ہاں تو رہو مصروف." وہ اسے پیچھے چھوڑ کر آگے چلی گئی تھی.
"اتنا ہینڈسم لڑکا تمہارے پیچھے پیچھے یوں مال میں پھرے تمہیں اچھا لگے گا؟" اس نے پیچھے سے ہی آواز لگائی. اسے یوں لوگوں میں رانیہ کے پیچھے جانا عجیب لگ رہا تھا. سب ان کو ہی دیکھ رہے تھے.

"تو کس نے کہا اتنے ہینڈسم لڑکے سے کہ وہ میرے پیچھے آئے؟. "اس نے مڑے بغیر کہا. وہ کاسمیٹکس کی دکان میں داخل ہو گئی.
"میں کل چلا جاؤں گا. " اس نے رانیہ کو منانے کی آخری کوشش کی تھی.
وہ واپس آئی. اس نے سن لیا تھا. خفگی بڑھ گئی تھی.
"اگر تمہیں جانا ہی تھا تو آئے کیوں تھے.؟" وہ اس کے سامنے کھڑی تھی اب.
"تمہاری یاد آرہی تھی." وہ اسے اب بھی منانے کی کوشش کر رہا تھا.
"جھوٹ. اگر یاد آرہی ہوتی تو تم میرے میسجز کا جواب دیتے. میری کالز پک کرتے. یوں جا کر مجھے بھول نہیں جاتے." وہ رو دینے کو تھی.
"یار نیٹ ورک نہیں تھا اس ائیریا میں. جب آیا تو میں نے تمہیں کال کی اور آتے ہی تمہیں ملنے آیا." وہ صفائی دے رہا تھا.
"احسان." وہ بے نیازی سے آگے بڑھ گئی تھی.

"یار تم سمجھتی نہیں ہو. کام ایسا ہے کہ کھانے پینے کا ہوش نہیں ہوتا. " وہ اس کے پیچھے باہر آگیا تھا.
"تو ٹھیک ہے جاؤ کرو کام. وہی ڈیوٹی نبھاؤ. " اس کی خفگی بڑھ گئی تھی. وہ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی.
"ایک ڈیوٹی کر آیا ہوں. اب دوسری ڈیوٹی کرنے آیا ہوں. لیکن یہ باس کھڑوس ہی بہت ہے." حمزہ نے سامنے گاڑی کو دیکھتے کہا.
"مجھے پارٹ ٹائم نہیں. فل ٹائم بندہ چاہئیے مسٹر حمزہ." رانیہ نے بھی اترا کر کہا.
"تو کسٹمائز کروا لو." وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا.
"تم بیٹھے رہو یہاں میں جا رہی ہوں." وہ نکلنے لگی تھی جب حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما.

"اچھا رکو تو."
"چار دن سے میں تمہیں میسج کر رہی ہوں. بغیر بتائے. بغیر ملے چلے جاتے ہو.پھر میسج کرو تو تم کوئی جواب نہیں دیتے, کال کرو تو تمہارا نمبر بند آتا ہے. جا کر کبھی پوچھا نہیں کیسی ہو. کیا کر رہی ہو. ٹھیک ہو. یوں ہی ایک دن میں مر جاؤں گی اور تمہیں وہاں پتا بھی نہیں چلے گا. " وہ اب رو رہی تھی.
"میرے خدایا. " حمزہ نے سر پکڑ لیا.
"آ تو گیا ہوں اب. جان لو گی. "
وہ کچھ نہیں بولی تھی.

"اچھا ادھر دیکھو. بتاؤ کیا ہوا ہے. کیوں اتنے آنسو ضائع کر رہی ہو. " اسنے رانیہ کا منہ اپنی طرف پھیرا.
"حمزہ دو سال ہونے کو ہیں ہماری انگینجمنٹ کو. اب مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ. یہاں میری جان اٹکی رہتی ہے. ہر وقت عجیب سا ڈر لگا رہتا ہے." اس کی آنکھوں میں واقعی خوف تھا.

"کیسا ڈر." وہ فکر مند ہوا.
"مجھے طرح طرح کے خواب آتے ہیں. ڈر لگتا ہے. لگتا ہے میں تمہیں کھو دوں گی." اس نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا.
"اوئے پاگل. " حمزہ نے اپنا بازو اس کے گرد پھیلایا.
"تم سمجھ نہیں رہےہو. مجھے اب تمہاری ضرورت ہے." وہ ضد کر رہی تھی.
"رانیہ تم ایک ہو. اس ملک میں کروڑوں ہیں جن کو میری ضرورت ہے. " وہ اسے سمجھا رہا تھا.
"ان کروڑوں کو بچاتے اگر تم نے مجھے کھو دیا تو.؟" حمزہ کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھامے رانیہ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا.

"رانیہ. " اب اس کا چہرہ حمزہ کے ہاتھوں میں تھا.
"میں اللہ کی راہ میں نکلا ہوں. جب میں اس کے بندوں کے ساتھ کے ساتھ بھلائی کر رہا ہوں. تو وہ میرے ساتھ بھلا کیسے یوں کر سکتا ہے؟ " اس کی آنکھوں میں ایمان کی چمک تھی.

"اب تم پریشان ہونا چھوڑ دو. ابھی تو کل میں جا رہا ہوں. لیکن جب اگلے ہفتے میں آؤں گا تو ہم نکاح کر کے رخصتی کر لیں گے. ٹھیک ہے؟ " وہ اب اس کے بال ماتھے سے پیچھے کر رہا تھا.
"پکا؟ " اسے حمزہ کی بات پر یقین نہیں تھا.
"تمہاری قسم. " حمزہ نے بھی روایتی طریق پر محبوب کی قسم اٹھائی تھی.
"میری قسم کا مطلب کہ اگر تم نہیں آئے تو میں مر جاؤں گی. " رانیہ نے اپنا سر حمزہ کے بازو پر ٹکا دیا.

"تم بلا ہو. جو مجھ سے چمٹ گئی ہو. اب ساری زندگی میرا پیچھا نہیں چھوڑو گی. " حمزہ ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
رانیہ نے اس کے بازو پر چٹکی بھری.
" دیکھا کاٹتی بھی ہو. " وہ اپنا بازو سہلا رہا تھا.
"جی نہیں." رانیہ نے اس کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر دی تھی.
"میں شہزادی ہوں جو جلد از جلد اپنے شہزادے کے دیس چلے جانا چاہتی ہے. اس سے پہلے کہ کوئی دیو آئے اور مجھے پتھر کا کر دے. "

"ظالم بس کر. " حمزہ ہنسا.
"اور یہ اپنی بھانجی کی ٹارزن والی کہانیاں اب پڑھنا بند کر دو. بڑی ہو گئی ہو." اس نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا.
"تمہاری طرح جنگوں کی کہانیاں نہیں پڑھ سکتی." وہ اب بھی اسے طعنہ دے رہی تھی.
"اچھا نا بس کرو." حمزہ اس کے سر پر جھکا. ایک رنگ رانیہ کے چہرے پر آکر گزرا.
"اب کیا پلان ہے. ؟" رانیہ اب اپنا چہرہ اس کے بازو میں چھپا رہی تھی.
"ابھی تو میں ایک خوبصورت لڑکی کو ڈیٹ پر لے کر جا رہا ہوں. " حمزہ نے آنکھیں گمائیں.
"اور وہ خوبصورت لڑکی میں ہوں. " رانیہ کھلکھلائی.
"ارے یو آر سمارٹ." حمزہ نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی.

🌸🌸🌸🌸🌸
کہتے ہیں زندگی حادثہ ہے. پر یہ کیسا حادثہ تھا اس کا تو کچھ بھی نہیں بچا تھا. دو بھائیوں کی اکلوتی بہن. ماں اس کی پیدائش پر ہی انتقال کر گئی تھی. بھائی اپنی اپنی زندگی میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مگن تھے. رہ سہہ کر باپ ہی تھا جو اس کا کل سرمایہ تھا. وہ بھی اب اسے چھوڑ گیا تھا.
"بابا. آپ کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے. " نیچے کمرے میں لائٹس آف کیے تکیے میں منہ دبائے وہ رو رہی تھی.
"کیسی زندگی ہے یہ. جہاں میرا کوئی نہیں ہے. زبردستی کی شادی جس میں عزت و احترام بھی نہیں ہے.. " یہ شکوہ تھا. کس سے. پتا نہیں. شاید اللہ سے. انسان ٹوٹتا ہے تو اسی کی طرف بھاگتا ہے.
"تم یہ مت سمجھنا کہ تمہارا کوئی نہیں ہے. " کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا.
" میں تو تمہارا انتظار کر رہا تھا. تمہیں پتا ہے نا تمہارے بابا کا تمہارے سوا کوئی نہیں ہے. " ہاتھ رکھنے والے کے لہجے میں اطمینان تھا.
"بابا. آپ کہاں چلے گئے تھے. لوگ ظالم ہیں بابا. آپ کی. آپ کی گڑیا کو کھا جائیں گے. اب آپ مجھے چھوڑ کر کہیں مت جائیے گا. میں. میں کبھی آپکو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی."
خاموش آنسو اب چیخوں میں بدل گئے تھے.

"بیٹی تمہارا اللہ مالک ہے." آنے والا جا چکا تھا.
وہ چیخ رہی تھی.

"بابا. کہاں ہیں آپ. بابا." آواز بلند ہوتی جا رہی تھی.
"بھابھی. بھابھی. آر یو فائن.؟" شیری اسے آواز دے رہا تھا. وہ گھبرا کر اٹھ گئی تھی. وہ سچ میں رو رہی تھی.
چہرے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے. دل تیز گام کی طرح دوڑ رہا تھا. یہ خواب تھا. نہیں وہ تو جاگ رہی تھی. تو؟ کیا واقعی بابا یہاں آئے تھے. وہ دماغ پر زور دے رہی تھی.
"بیٹی تیرا اللہ مالک ہے" آخری الفاظ حیا نے زیر لب دوہرائے.
شیری نےا سے پانی کا گلاس تھمایا. اس نے دو گھونٹ بھر کر گلاس واپس کر دیا تھا.
"آپ ٹھیک ہیں؟. " شیری نے دوبارہ پوچھا. اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
دور کہیں فجر کی آذان ہو رہی تھی.

شیری دوبارہ لاؤنج میں آ گیا تھا. وہ اب تک سویا نہیں تھا. وہ حمزہ کو پچھلے تین سال سے جانتا تھا. اس نے حمزہ کو قریب سے جانا تھا. دن رات اس کے ساتھ گزارے تھے. وہ جانتا تھا حمزہ ایکسپریسو نہیں ہےلیکن جس طرح سے وہ پورے اسکواڈ کا خیال رکھتا تھا وہ بھی کسی سے چھپا نہیں تھا.
عنایا کو بزنس سیٹ کرنے میں حمزہ نے ہی مدد کی تھی.
اور شیری. جس کی کوئی پہچان تک نہیں تھی. حمزہ اسے گھر لے کر آیا تھا. یہ گھر ہی اس کی پہچان بنا تھا.

سمایا کو بھی ترکی جانے کے لیے حمزہ نے فورس کیا تھا.
پھر یہ کون سا روپ تھا حمزہ کا. شیری کو وہ اجنبی لگا تھا.
شیری نے اسے کبھی چیختے چلاتے نہیں سنا تھا. اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ تھا. وہ ہر کام تحمل سے کرتا تھا.
شیری کا دماغ ماضی کے جھرونکوں میں کھویا یوا تھا. کوئی ایسا وقت جب حمزہ نے یوں بی ہیو کیا ہو. اسے کچھ یاد نہیں آیا.

"شیری حمزہ سر کو کوئی پریشانی ہے؟ " شیری کا دماغ چھ ماہ قبل کہیں رک گیا تھا.
وہ دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے. سمایا اپنی گریجویشن کی ٹریٹ دے رہی تھی.

"نہیں. تم کیوں پوچھ رہی ہو.؟" اس نے پیزا کا سلائس اٹھاتے سمایا کو دیکھا.
"کبھی کبھی وہ عجیب طرح سے ری ایکٹ کرتے ہیں. " وہ شیری سے بات کرتے ڈر رہی تھی. شیری حمزہ کو لے کر بہت ایموشنل تھا. وہ کھانے میں مگن تھا.

"شیری یار." وہ کنفیوز تھی.
"تم پہلے میرے کھانے کو گھورنا بند کرو. دو دن سے پیٹ میں جگہ بنا رہا ہوں اس ٹریٹ کے لیے. " وہ اب بھی سنجیدہ نہیں تھا.
"شیری مجھے لگتا ہے حمزہ سر کو کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگز لینی چاہئیے." وہ کہہ گئی تھی. شیری کا ہاتھ رک گیا تھا.
"واٹ؟ آر یو آؤٹ آف یور مائنڈ؟ " شیری تقریباً چیخا تھا.
ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے زویان, شیروان اور عنایا نے مڑ کر ان کو دیکھا.

سمایا خاموش رہی. سب دوبارہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے تھے. پیزے کا ادھ کھایا سلائس اس نے پلیٹ میں رکھ دیا تھا.
"شیری میری بات سمجھو." کافی دیر خاموش رہنے کے بعد عنایا دوبارہ بولی.
"کیا سمجھوں؟ تم کہنا چاہتی ہو کہ حمزہ سر کو کوئی دماغی مسئلہ ہے؟ وہ پاگل ہیں؟ " شیری نے دونوں ہاتھ میز پر رکھے.
"ان کو ضرورت ہے ان سٹنگز کی. آئی کین ایکسپلین" سمایا نے وضاحت کرما چاہی.
"فی الحال مجھے یہ لگ رہا کہ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے. جب تمہارا اپنا دماغ سیٹ ہو جائے تو بتا دینا." وہ اٹھ کر چلا گیا تھا.
سمایا کوایسا کیوں لگا تھا. شیری کا دماغ ماضی سے نکل کر دوبارہ حال میں آگیا تھا. کوئی جواب نہیں بن پایا. اس نے سمایا کی پوری بات سنی ہوتی تو ہی وہ کوئی فیصلہ کر پاتا. سمایا نے تو اس کے بعد بھی کئی بار اس سلسلے میں اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی. لیکن شیری بگڑ گیا تھا.
"وہ بندہ جس نے تمہارے اور عنایا کے لیے اتنا کچھ کیا تمہیں وہ پاگل لگتا ہے؟ "
"شیری میری بات تو سن لو. پھر تم خود فیصلہ کر لینا. "
"مجھے تمہاری یہ فضولیات بالکل نہیں سننی.سائیکالوجی کی دو کتابیں کیا پڑھ لی تمہیں ہم سب پاگل لگنے لگ گئے ہیں.؟" اس کی آواز اب بلند تھی. .
"ان کو پاگل ثابت کر کے تم کیا کرنا چاہتی ہو. ؟ اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ حمزہ سر کو کوئی دماغی مسئلہ ہے تو جاؤ جا کر اپنا علاج کرواؤ. " شیری آپے سے باہر ہو رہا تھا.
حمزہ کو لے کر دونوں دوستوں میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا. اور پھر اس نے کبھی سمایا سےسیدھے منہ بات نہیں کی. عنایا دو دن بعد چھ ماہ کے لیے ترکی چلی گئی تھی اس بیچ اس نے کافی بار شیری سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تو جیسے اس کو بھلا ہی بیٹھا تھا.
اللہ اکبر اللہ اکبر.
آذان کی آواز پر وہ چونکا. پاس ہی مسجد میں آذان ہو رہی تھی. آواز بلند تھی.
"سمایا کین وی ٹاک.؟" شیری نے اسے ٹیکسٹ میسج چھوڑا تھا.

(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.