Ads Top


جنت کے پتے
از

 نمرہ احمد



ناول؛ جنت کے پتے
قسط 57
فجر کی اذان ہوئی تو جیسے وہ اس کے حصار سے نکلی۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔ بار بار ایک ہی بات کہ وہ اس کا کتنا خیال رکھا کرتا تھا۔ وہ کبھی کیوں یہ نہ جان سکی کہ نرم لہجے والا میجر احمد ہی جہان ہے۔ بس ایک دفعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ دونوں چاندی کے مجسموں کی طرح جھیل کنارے بیٹھے تھے، تب جس طرح جہان نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا، اسے کچھ یاد آیا تھا۔ میجر احمد کا انداز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آواز بے حد مختلف سہی مگر اس وقت اسے دونوں کا انداز بالکل ایک سا لگا تھا۔ پھر بھی وہ نہ جان سکی۔ جب وہ اغواء ہوئی تھی، تب ہوش کھونے سے قبل اس نے فون کال کی گھنٹی سنی تھی، وہ جہان تھا جو اسے کال کر رہا تھا تاکہ وہ اندازہ کر سکے کہ وہ کس کمرے میں تھی۔ پھر جب اس نے کسی کو اس روسی کا سر دیوار سے مارتے ہوئے دیکھا تھا، تب وہ غنودگی میں ڈوبتی جا رہی تھی۔ وہ نہیں جان سکی کہ وہ وہیں تھا۔ اس کے پاس۔ ہمیشہ کی طرح ایک فاصلے سے اس پہ نظر رکھے ہوئے۔
اور ہالے نور اس کے ہوٹل میں کام کر چکی تھی، تب ہی وہ عبدالرحمن پاشا کے ذکر پہ اتنی ٹچی ہو جاتی تھی۔ ساری کڑیاں ملتی جا رہی تھیں۔
جب تک آپ یہ باکس کھولیں گی، وہ شاید اس دنیا میں نہ رہے۔
یہ پنکی نے کہا تھا اور تب اس نے جان بوجھ کر ایسے الفاظ استعمال کیے تھے، جن سے وہ سمجھے کہ ڈولی کی زندگی بے یقینی کا شکار ہے۔ وہ اپنے بارے میں ہر وقت ایسی باتیں کیوں کرتا تھا؟ ہر وقت موت کے لیے، دنیا چھوڑنے کے لیے تیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہان سکندر ایسا کیوں تھا؟ 
اور اب وہ کہاں تھا؟
ایک دم وہ چونک کر اٹھی۔ ہاں، بھلا اب وہ کہاں تھا۔ یہ ویڈیو ذرا پرانی تھی، اس میں بہت سی چیزوں کی وضاحت نہیں تھی، مگر وہ سب اس وقت بے معنی تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ وہ اس وقت کہاں تھا۔ اس نے فون نکالا اور اس کا ہر وہ نمبر ٹرائی کیا جو وہ جانتی تھی، مگر سب بند تھے۔ 
شاید پھپھو کو کچھ علم ہو۔
وہ اٹھی، وضو کرکے پہلے نماز پڑھی، پھر باہر چلی آئی۔ دایاں پاؤں ٹخنے اور ایڑی کے قریب سے بہت درد کر رہا تھا۔ شاید موچ آئی تھی، مگر ابھی پٹی باندھنے کا مطلب اماں یا ابا کو اسے ترکی جانے سے روکنے کا بہانہ دینا تھا۔ پھپھو اپنے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھیں۔ وہ ان کے قریب کاؤچ پہ بیٹھ کر ان کو دیکھے گئی۔ وہ چہرہ ہاتھ میں چھپائے دعا مانگ رہی تھیں۔ شاید وہ اپنے بیٹے کی سلامتی مانگ رہی تھیں۔ اس کا دل جیسے ڈوب کر ابھرا۔
ارے تم کب سے یہاں بیٹھی ہو۔ پتا ہی نہیں چلا چہرے پہ ہاتھ پھیر کر انہوں نے سر اٹھایا تو اسے دیکھ کر جیسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
آپ سے کچھ بات کرنی تھی پھپھو! وہ بولی تو اس کی آواز مدھم تھی۔ کیا آپ جانتی ہیں جہان کدھر ہے؟
وہ مجھے کبھی بتایا نہیں کرتا مگر۔۔۔۔۔۔۔ وہ ذرا رکیں۔ جانے سے پہلے اس نے کہا تھا کہ اس نے تمہیں بتا دیا ہے کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ 
اچھا! اس نے اچنبھے سے انہیں دیکھا۔ اس نے کسی اور سے بھی یہی بات کہی تھی، مگر مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے کہتے وہ ایک دم رکی۔ ایک جھماکے سے اسے یاد آیا۔ لندن وہ کتنی ہی دفعہ لندن جانے کی بات کر چکا تھا۔ وہ لندن میں تھا۔ یقیناً وہ وہیں تھا۔
اوہ! اس نے واقعی مجھے بتایا تھا۔ اس نے جیسے اپنی کم عقلی پہ افسوس سے سر ہلایا۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ واپس کب آئے گا۔ 
کہہ رہا تھا ایک آخری کام ہے، پھر وہ ترکی چھوڑ دے گا۔ پھپھو احتیاط سے الفاظ کا چناؤ کر رہی تھیں۔ جیسے انہیں اندازہ نہ تھا کہ وہ کتنا جانتی ہے۔
مجھے جانا ہے استنبول کلیئرنس کروانے میں یہ کام کر کے اسے ضرور ڈھونڈوں گی پھپھو! آپ دیکھیے گا۔ 
میں اسے واپس لے آؤں گی۔
حیا! اللہ پر توکل کرو اور آرام سے بیٹھ کر انتظار کرو، وہ آ ہی جائے گا۔
نہیں پھپھو! اس نے نفی میں گردن ہلائی۔ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا توکل تو نہیں، سستی ہوتی ہے۔ میں اس کو ڈھونڈنے ضرور جاؤں گی۔ وہ کھڑی ہوئی اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ ذرا سا مسکرائی۔
ہر دفعہ وہ میرے پیچھے آیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ میں چلی جاؤں گی تو اس میں کیا برائی ہے۔
جاتے جاتے وہ ایک لمحے کو رکی۔ پھپھو، ابا اور تایا لوگوں نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔
پھپھو کے چہرے پہ حیرت ابھری، پھر جیسے انہوں نے سمجھ کر سر جھٹکا۔
یہ جہان نے کہا ہو گا تم سے۔ پتا نہیں میرا بیٹا اتنی پرانی باتیں یاد کیوں رکھتا ہے؟ تم اس کی مت سنو، وہ ایسے ہی کہتا رہتا ہے۔
اگر اسے پتا چلے کہ آپ نے یہ کہا تو وہ کیا کہے گا؟
وہ کہے گا، میری ممی کی مت سنا کرو، وہ ایسے ہی بولتی رہتی ہیں۔ وہ ہلکے سے مسکرا دی۔ اسے یقین تھا، جہان پھپھو کے بارے میں کبھی ایسا نہیں کہہ سکتا تھا۔
***
ناشتے کی میز پہ اماں نے سرسری سے انداز میں یہ بات اسے تب بتائی، جب پھپھو اور ابا اٹھ چکے تھے۔
کل دوپہر عابدہ بھابی آئیں تھیں۔
پھر؟ وہ جو کانٹے میں آملیٹ کا ٹکڑا پھنسا رہی تھی، سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔
وہ رضا کے لیے تمہارا رشتہ مانگ رہی تھیں۔
نوالہ اس کے حلق میں اٹک گیا۔ اسے لگا اس نے غلط سنا ہے۔ 
میرا رشتہ۔ آر یو سیریس؟ وہ بے یقینی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
جب تم اپنی خوامخواہ کی ضد کے پیچھے جہان کو یوں اپنی زندگی سے نکالو گی تو لوگ یہی کہیں گے نا۔
وہ چکرا کر رہ گئی۔ جہان اس وجہ سے نہیں گیا تھا۔ وہ جانتی تھی مگر باقی سب تو نہیں جانتے تھے۔ ان کے ذہن ارم کی اس بڑھا چڑھا کر کی گئی بات میں اٹکے تھے۔ دل تو چاہا، اگر رضا سامنے ہوتا تو کچھ اٹھا کر اسے دے مارتی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سر جھٹکا۔ اسے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ چیزیں اٹھا کر دے مارنے کی کتنی شوقین تھی اور وہ کتنی جلدی جان گیا تھا۔
اب مزید اس سے کچھ نہیں کھایا جانا تھا۔ اس نے پلیٹ پرے کر دی۔
عابدہ چچی سے کہیےگا، آئندہ ایسی بات سوچیں بھی مت۔ لوگوں کو میرا اور جہان کا رشتہ بھلے کمزور لگتا ہو مگر ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے اماں!
شیور! اماں نے جیسے اکتا کر سر جھٹکا۔ وہ وہاں سے اٹھ آئی۔ 
ساری رات کی بے خوابی، وہ ویڈیو، تایا کا ایکسیڈنٹ اور عابدہ چچی کا یہ قصہ۔ اس کا سر درد کرنے لگا تھا۔ ارم درست کہہ رہی تھی۔ وہ لوگ جان بوجھ کر اس کے نکاح کو کمزور کرنے پہ تلے تھے۔
آج اسے آفس نہیں جانا تھا۔ ابا آج خود آفس گئے تھے۔ وہ اب بہت بہتر محسوس کر رہے تھے۔ پتا نہیں ولید کے خلاف ایف آئی آر کا کیا بنا۔کاش جہان نے اس کے سر پر فرائی پین کی جگہ پورا پریشر ککر دے مارا ہوتا تو کتنا اچھا تھا۔
***
اس نے ابا کے آفس کے دروازے پہ مدھم سی دستک دے کر اسے دھکیلا۔ وہ سامنے اپنی میز کے پیچھے بیٹھے فائلز کی ورق گردانی کر رہے تھے۔ آہٹ پہ سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے۔ بیماری نے انہیں کافی کمزور اور زرد کر دیا تھا۔
آؤ بیٹھو۔ انہوں نے سامنے کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ وہ سیدھ میں چلتی ان کے مقابل کرسی تک آئی، پرس میز پہ رکھا اور کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔ 
مارکیٹنگ فنڈ میں سے کٹوتی کس نے کی ہے؟ انہوں نے سامنے کھلی فائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ اس کی کارکردگی دیکھ رہے تھے اور یقیناً انہیں اس میں بہت سی غلطیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
***
اور کیا ضرورت تھی شیئر ہولڈرز کو سالانہ Dividend دینے کی؟
فادر ڈیرسٹ! ایک تو میں نے بغیر تنخواہ کے اتنے دن کام کیا اوپر سے ڈانٹ بھی مجھے ہی پڑے گی۔ دو انگلیوں سے نقاب ناک سے ٹھوڑی تک اتارتے ہوئے وہ خفگی سے بولی۔
ڈاٹر ڈئیرسٹ! احسان جتانے سے ضائع ہو جاتا کرتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
رہنے دیں ابا! اچھا بتائیں، ولید کی ایف آئی آر کا کیا بنا؟
وہ پولیس کو نہیں مل رہا۔ اس کا باپ اسے گرفتار نہیں ہونے دے گا۔ بہرحال! میں اس کو ایسے جانے نہیں دوں گا۔ ایک دم وہ سنجیدہ نظر آنے لگے تھے۔ لیکن اس وقت میں نے تمہیں کسی اور بات کے لئے بلایا ہے۔
جی کہیے۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ ابا اپنی بیماری کے باعث بہت سے معاملات سے دور رہے تھے مگر پھر بھی ان کے کانوں تک بہت کچھ پہنچ گیا تھا یقیننا اور بلآخر انہوں نے حیا سے دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
یہ جہان صاحب واپس کیوں گئے ہیں؟
اسے کام تھا کچھ۔ آ جائے گا کچھ دن میں واپس۔
صائمہ بھابھی کچھ اور کہہ رہیں تھیں۔ وہ سوچتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ حیا نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔
صائمہ تائی تو دادی پہ بھی ساری عمر یہی الزام لگاتی رہی تھیں کہ وہ ان پہ جادو کرواتی ہیں۔ اگر صائمہ تائی کا جہان کے بارے میں تجزیہ درست مانا جائے تو دادی والا بھی درست ماننا چاہیے؟ وہ بھی حیا تھی۔ اس نے بھی ہار نہ ماننے کا تہیہ کر رکھا تھا۔
دیکھو! مجھے تمہارے اس برقعے وغیرہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر اس کی وجہ سے تم نے اپنے تایا ابا اور اماں کو بہت ناراض کیا ہے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ تم ان کی بات کا احترام کرتیں۔ بڑوں کا حکم ماننا فرض ہوتا ہے۔ وہ کچھ لمحے سوچتی نگاہوں سے انہیں دیکھتی رہی پھر کہنے لگی۔
ابا! آپ کو ایک بات بتاؤں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں۔ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ایسا نہیں کیا۔ جب آپﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپﷺ نے ابن عمر سے فرمایا کہ بیوی کو طلاق دے دو۔ یوں عبداللہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے والد کی بات کا احترام کرتے ہوئے بیوی کو طلاق دے دی۔ وہ لحظے بھر کو رکی۔ سلیمان صاحب سیٹ سے ٹیک لگائے ایک ہاتھ میں پین گھماتے غور سے اسے سن رہے تھے۔
پھر ہوا یہ کہ عرصے بعد ایک شخص امام احمد بن حنبلرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرا باپ چاہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ امام احمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ ایسا ہرگز مت کرنا۔ اس شخص نے جواب میں یہ واقعہ بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے کہنے پہ ان کے بیٹے نے تو اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر مجھے ایسا کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ ابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! آپ جانتے ہیں اس پہ امام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس شخص سے کیا کہا؟
کیا؟ وہ بے اختیار بولے۔ حیا ہلکا سا مسکرائی۔
انہوں نے کہا، کیا تمہارا باپ عمر جیسا ہے؟
آفس میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ صرف گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
ویل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! تم ایل ایل بی کی اسٹوڈنٹ ہو، میں بحث میں تم سے جیت نہیں سکتا۔ میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے خلع کے بارے میں کیا سوچا؟ اس کا جیسے کسی نے سانس بند کر دیا۔ وہ لمحے بھر کو شل سی رہ گئی۔
تمہیں یاد ہے میں نے ترکی جانے سے قبل بھی تم سے ایسی ہی بات کی تھی؟
جی مجھے یاد ہے۔ چند ثانیہ بعد وہ بولی تو اس کا لہجہ بے تاثر تھا اور تب میں نے آپ سے یہ ہی کہا تھا کہ مجھے ترکی جانے دے اگر وہاں جا کر مجھے لگا کہ وہ لوگ طلاق چاہتے ہیں تو میں اس رشتے کو وہی ختم کر دوں گی۔
تو پھر؟
ابا! ہمارے درمیان یہی ڈیل ہوئی تھی کہ ترکی سے واپسی تک آپ مجھے ٹائم دیں گے۔
اور اب عرصہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم واپس آ چکی ہو۔
میں واپس نہیں آئی۔ آفیشلی مجھے ابھی ترکی سے واپسی کی کلیئرنس نہیں ملی۔ پرسوں میں استنبول جا رہی ہوں واپسی پہ ہم اس بات کو ڈسکس کریں گے۔ وہ بہت اعتماد سے کہہ رہی تھی۔ ابا متفق نہیں تھے مگر پھر بھی جیسے وقتی طور پر خاموش ہو گئے۔
ابا! وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور بات بھی تھی۔ ہمت کر کے اس نے کہنا شروع کیا۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر کلیئرنس کروانے کہ بعد میں لندن چلی جاؤں۔ زیادہ نہیں بس ایک ہفتے کے لیے۔ میں صرف لندن دیکھنا چاہتی ہوں، پھر۔ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ زیادہ ہی ڈیپنڈنٹ ہوتی جا رہی ہیں، مجھے آپ کو ذرا کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔ وہ لمحے بھر میں روایتی ابا بن گے۔
ابا پلیز! اس کا لہجہ ملتجی ہو گیا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کلیئرنس کروا کہ سیدھی واپس آئیں گی۔ جتنا گھومنا ہے استنبول میں گھوم لو۔ ترکی کے کسی اور شہر جانا ہو تو بے شک چلی جاؤ، مگر اکیلے نہیں فرینڈز کہ گروپ کے ساتھ جانا۔ لندن وغیرہ جانے کی ضرورت نہیں۔
لیکن صرف ایک ہفتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا! تم نے سن لیا جو میں نے کہا۔ ان کا لہجہ نرم تھا لیکن ابرو اٹھا کر تنبیہہ کرتا انداز سخت تھا۔ وہ خفگی سے جی کہہ کر اٹھ گئی۔
*****
وہ آج پھر یونیورسٹی چلی آئی تھی۔ ڈاکٹر ابراہیم سے آج اس نے وقت نہیں لیا تھا لیکن پھر بھی وہ اس کو اپنے آفس میں مل گئے۔
آپ نے ٹھیک کہا تھا سر! ہمیں لوگوں کو وقت دینا چاہیے۔ ان کے بالمقابل بیٹھی وہ آج بہت سکون سے کہہ رہی تھی اور وہ اسی توجہ سے اسے سن رہے تھے۔ سامنے اس کے لیے منگوا کر رکھی کافی کی سطح سے دھوئیں کے مرغولے اٹھ کر فضا میں گم ہو رہے تھے۔ ان کے آفس کا خاموش پرسکون ماحول اس کے اعصاب کو ریلیکس کر رہا تھا۔
یقین کرے سر! شروع میں آپ کے حجاب کی جتنی مرضی مخالفت کر لیں، ایک وقت آتا ہے کہ وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ آپ کو اس میں قبول کر لیتے ہیں۔ چاہے انہیں حجاب تب بھی اتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو جتنا پہلے تھا۔ اب مجھے یقین آ گیا ہے کہ آہستہ آہستہ سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔
بالکل۔ انہوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا کر تائید کی۔
مگر سر! جب میں اپنے مسئلوں سے گھبرا گئی تو آپ کے پاس آئی اور تب میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ ”تواصو بالصبر“ انسانوں کو انسانوں سے ہی چاہیے ہوتا ہے۔ آپ نے میری بات کی تائید کی تھی رائٹ!
جی پھر؟ وہ پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ 
پھر سر! یہ کہ میری پھپھو کہتی ہیں کہ انسان کو اپنے مسئلے دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرنے چاہئیں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ خود کو بے عزت کرتا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے سر! کیا ہمیں اپنے مسئلے کسی سے نہیں شئیر کرنے چاہئیں؟
وہ اپنی کافی کی سطح پہ آئے جھاگ کو دیکھتے ہوۓ کہہ رہی تھی جس میں مختلف اشکال نظر آ رہی تھیں۔
مگر پھر ہم ”تواصو بالصبر“ کیسے کریں گے سر؟ جہان کی طرف کی روداد سن کر اس کے ذہن میں یہ سوال اٹک کر رہ گیا تھا۔
آپ کی پھپھو ٹھیک کہتی ہیں۔ سوال کرنا یعنی کسی کے آگے ہاتھہ پھیلانا بھلے وہ ہمدردی لینے کے لیے ہی ہو ہر حال میں ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ انسان کو واقعی اپنے مسئلے اپنے تک رکھنے چاہیے۔ دنیا کو اپنی پرابلم سائیڈ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنے مسئلے کا واقعی اشتہار نہیں لگایا کرتے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لحظہ بھر کو رکے۔
وہ نا محسوس طریقے سے کرسی پہ آگے کو ہوئی۔ اسے اسی ”مگر“ کا انتظار تھا۔
مگر انسان پہ ہر وقت ایک سا فیز نہیں رہتا میرے بچے! وقت بدلتا ہے۔ مسئلے بھی بدلتے ہیں۔ بعض دفعہ انسان ایسی سچویشن میں گرفتار ہو جاتا ہے جس سے وہ پہلے کبھی گزرا نہیں ہوتا۔ تب اسے چاہیے کہ اپنے مسئلے کا حل کسی سے پوچھ لے۔ انسان کو صرف تب اپنے پرابلم شیئر کرنے چاہئیں جب اس کو واقعی اپنے پاس سے اس کا حل نا ملے۔ کوئی ایک دوست، ایک ٹیچر یا پھر کوئی اجنبی، کسی ایک بندے کے سامنے اپنے دل کی بھڑاس نکال دینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا جو واقعتاً ”تواصو بالصر“ کرے۔ ہاں! لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ اس شخص کو کبھی اپنی بیساکھی نہ بنائیں۔ آپ کو ہر کچھ دن بعد کسی کے کندھے پہ رونے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ ہر وقت دوسروں سے تسلی لینے کے بجائے بہتر ہے کہ ہم تسلی دینے والے بنیں ”تواصو بالصبر“ صبر کی تلقین دینے کا نام ہوتا ہے، ہر وقت لیتے رہنے کا نہیں۔
اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔اس کی کافی اب ٹھنڈی پڑتی جا رہی تھی، جھاگ کی اشکال چھٹتی جارہی تھیں۔اسے خوشی تھی کہ آج وہ سر کے پاس پھر سے نئے مسئلے لے کر نہیں آئی تھی۔
میں سمجھ گئی اور مجھے کچھ اور بھی بتانا تھا آپ کو۔
اسے جیسے اسی پل کچھ یاد آیا۔ آپ نے کہا تھا میں احزاب کی پہیلی میں کچھ مس کر گئی ہوں۔ میں نے اس بارے میں بہت سوچا پھر مجھے ایک خیال آیا۔
اچھا اور وہ کیا۔ وہ دلچسپی سے کہتے ذرا آگے کو ہوئے۔
سر! جنگ احزاب کے ختم ہونے کے بعد بنوقربظہ اپنے قلعوں میں جا چھپے تھے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور ان کو جا لیا۔ اگر بنوقربظہ کا فیصلہ آپﷺ پہ چھوڑا جاتا تو آپﷺ زیادہ سے زیادہ ان کو وہ جگہ چھوڑ دینے کا حکم دے دیتے مگر ان کا فیصلہ سعد رضی اللہ عنہ پہ چھوڑا گیا جو قبیلہ اوس سے تھے۔ انہوں نے بنوقربظہ کا فیصلہ یہود کی اپنی سزاؤں کے مطابق کیا یعنی کہ تمام مردوں کو غداری کے جرم میں قتل کیا جائے۔ یہ بنی اسرایئل کے ہاں غداری کی سزا تھی۔ کیا میں نے یہی بات مس کر دی کہ آخر میں بنوقریظہ کو ان کے اپنے ہی سزا دیتے ہیں۔
ڈاکٹر ابراہیم مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے آگے کو ہوئے۔
یہ آپ کہاں چلی گئیں۔ غزوہ بنو قربطہ جس کا آپ ذکر کر رہی ہیں یہ غزوہ احزاب کے بعد ہوئی تھی یہ غزوہ احزاب کا حصہ نہیں تھی۔ آیت حجاب قرآن کی جس سورہ میں ہے اس کا نام احزاب ہے بنو قربظہ نہیں۔ آپ کو احزاب کے دائرہ کار میں رہ کر اس کا جواب تلاش کرنا تھا۔
اچھا پھر! آپ مجھے بتا دیں کہ میں کیا مس کر گئی ہوں۔ اس نے خفگی سے پوچھا۔ پتا نہیں سر اس کو کیا دکھانا چاہتے تھے۔
حیا! میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ سورۃ احزاب اور حجاب میں مماثلت ہے۔ یہ آپ نے کہا تھا۔ آپ نے اسے پہیلی کہہ کر ایک چیلنج کے طور پہ قبول کیا تھا۔ سو آپ کو یہ پزل خود مکمل کرنا ہے۔
سر! تھوڑی بہت چیٹنگ تو جائز ہوتی ہے۔
ہر گز نہیں۔ اچھا کچھ کھائیں گی آج تو میرے پاس ٹرکش کینڈیز بھی نہیں ہیں۔
نہیں سر! بس یہ کافی بہت ہے، پھر میں چلو گی۔ اگلی دفعہ میں آپ کے پاس اس پہیلی کا آخری ٹکڑا لے کر ہی آؤں گی۔ وہ ایک عزم سے کہتی اٹھی۔
ڈاکٹر ابراہیم نے مسکرا کر سر کو جنبش دی۔ انہیں جیسے اپنی اس ذہین اسٹوڈنٹ سے اسی بات کی امید تھی۔
***
یونیورسٹی کے فی میل کیمپس میں ایک دوسری ٹیچر سے مل کر وہ انٹرنس بلاک سے نکلی تو سامنے ایک طویل روش تھی جس کے اختتام پہ مین گیٹ تھا۔ اس نے گردن جھکا کر ایک نظر اپنے پیروں کو دیکھا جو سیاہ ہیل والی سینڈلز میں مقید تھے۔ ہیل کی اتنی عادت تھی کہ دکھتے پیر کے باوجود اس نے ہیل پہن لی تھی۔ مگر اب چل چل کر دایاں پاؤں ٹخنے اور ایڑی سے درد کر رہا تھا۔ وہ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ طویل سڑک عبور کر کے وہ گیٹ سے باہر آئی تو کار سامنے ہی کھڑی تھی۔ ڈرائیور نے اسے آتے دیکھ کر فوراً پچھلی طرف کا دروازہ کھولا۔ وہ اندر بیٹھی اور دروازہ بند کر دیا۔ ڈرائیور الہیٰ بخش نے فوراً کار اسٹارٹ کر دی۔
ایچ ٹین کا وہ خالی خالی سا علاقہ تھا۔ یونیورسٹی کی حدود سے نکل کر کار اب مین روڈ پر دوڑ رہی تھی۔اطراف میں دور دور فیکٹریز، عمارتیں یا انسٹی ٹیوٹس تھے۔ ابھی وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ اچانک الہیٰ بخش نے بریک لگائے۔ وہ جو ٹیک لگائے بیٹھی تھی جھٹکے سے میکانکی طور پہ ذرا آگے کو ہوئی۔ 
کیا ہوا؟
یہ گاڑی سامنے آ گئی۔ الفاظ الہیٰ بخش کے لبوں پہ ہی تھے کہ حیا نے ونڈ اسکرین کے پار اس منظر کو دیکھا۔ وہ چمکتی ہوئی سیاہ اکارڈ ایک دم سے سامنے آئی تھی۔یوں کہ ان کا راستہ بلاک ہو گیا تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ سے سیاہ سوٹ میں ملبوس شخص نکل کر تیزی سے ان کی جانب آیا تھا۔ حیا یک ٹک اس سیاہ اکارڈ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اس گاڑی کو پہچانتی تھی۔ اس گاڑی نے تایا فرقان کو ٹکر ماری تھی۔
ولید اس کے دروازے سے چند قدم دور ہی تھا۔ غصے کا ایک ابال اس کے اندر اٹھنے لگا۔
الٰہی بخش! جلدی سے ابا کو فون کرو اور بتاؤ کہ ولید نے ہمارا راستہ روکا ہے۔ میں تب تک سے ذرا بات کر لوں۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ولید اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ چہرے پہ طیش آنکھوں میں تنفر۔
اس نے کن انکھیوں سے گاڑی میں بیٹھے الہیٰ بخش کو نمبر ملاتے دیکھا۔ 
میرا خیال تھا آپ ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ مگر نہیں آپ تو یہیں ہیں۔ بہت سکون اور اطمینان سے کہتی وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ خیر چند دن کا عیش ہے مسٹر لغاری! پھر آپ کو اقدام قتل کے کیس کا سامنا کرنا ہی ہو گا۔
میری بات سنو! ایک ہاتھ کار کی چھت پہ رکھے، دوسرے ہاتھ کی انگلی سے تنبیہہ کرتا وہ بہت طیش کے عالم میں کہہ رہا تھا۔ تم اس مقدمے میں میرے خلاف ایک لفظ نہیں کہو گی۔ یہ ایک ایکسیڈنٹ تھا، اور تم اپنے بیان میں یہی کہو گی۔
میں بیان دے چکی ہوں اور تم نامزد ملزم ٹھہرائے جا چکے ہو۔
اپنی بکواس اپنے پاس رکھو۔ جو میں کہہ رہا ہوں، تم وہی کرو گی۔ تم یہ مقدمہ فوراً واپس لے رہی ہو، سنا تم نے؟ وہ بلند آواز سے بولا تھا۔ الہیٰ بخش فون کان سے ہٹا کر دوبارہ نمبر ملا رہا تھا۔ شاید رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔
اور اگر میں ایسا نہ کروں تو تم کیا کرو گے؟ مجھے دوبارہ اپنی گاڑی کے نیچے دینے کی کوشش کرو گے؟ اس نے استہزائیہ سر جھٹکا۔
ولید چند لمحے لب بھینچے اسے دیکھتا رہا، پھر ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی۔
میرے پاس تمہارے لیے اس سے بہتر حل موجود ہے۔
اچھا اور وہ کیا ہے؟ وہ اسی کے انداز میں بولی۔ اطراف سے گاڑیاں زن کی آواز کے ساتھ گزر رہی تھیں۔
ولید نے گاڑی کی چھت سے ہاتھ ہٹایا، جیب سے اپنا موبائل نکالا، چند بٹن پریس کیے اور پھر اس کی اسکرین حیا کے سامنے کی۔
کیا اس منظر کو دیکھ کر کوئی گھنٹی بجی ہے ذہن میں؟ ایک تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ وہ بولا تو حیا نے ایک نگاہ اس کے موبائل اسکرین پہ ڈالی، مگر پھر ہٹانا بھول گئی۔ ادھر ہی جم گئی۔ منجمد، شل، ساکت۔
”شریفوں کا مجرا“ اس ویڈیو کی جھلک۔ کسی نے کھولتا ہوا پیتل اس کے اوپر ڈال دیا تھا۔ اندر باہر آگ میں لپٹے گولے برسنے لگے تھے۔ بے یقینی سی بے یقینی۔
نکل گئی نا اکڑ۔ اب آئی ہو نا اپنی اوقات پہ۔ ولید نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے موبائل بند کر کے جیب میں ڈالا۔ نقاب سے جھلکتی اس کی ششدر ساکت آنکھیں ابھی تک وہیں منجمند تھیں۔
ذرا سوچو میں اس ویڈیو کے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہوں۔ وہ اب قدرے مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ حیا کا شاک اسے سمجھانے کے لیے کافی تھا کہ تیر عین نشانے پہ لگا ہے۔
اگر میں اسے تمہارے خاندان کے سارے مردوں تک پہنچا دوں تو کیا ہو گا حیا بی بی! 
کبھی سوچا تم نے؟ کیا اب بھی تم میرا نام اس کیس میں لے سکو گی؟ 
پھر اس نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ ایسی غلطی کبھی نہ کرنا ورنہ میں تمہیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔
وہ جو آندھی طوفان کی طرح آیا تھا کسی پرسکون فاتح کی طرح پلٹ گیا۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کیا۔ سائیڈ مرر میں دیکھتے ہوئے ہاتھ ہلایا سن گلاسز آنکھوں پہ لگائے اور گاڑی آگے بڑھا کر لے گیا۔
وہ ابھی تک کار کے ساتھ شل سی کھڑی تھی۔ نقاب کے اندر لب اسی طرح ادھ کھلے اور آنکھوں کی پتلیاں ساکن تھیں۔ اس کی دل کی دھڑکن ہلکی ہو گئی تھی جیسے کوئی لٹی پٹی کشتی سمندر کی گہرائی میں ڈوبتی چلی جا رہی ہو۔ نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گہرائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاتال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏بڑے صاحب فون نہیں اٹھا رہے۔ اب کیا کرنا ہے میم؟
الہی بخش گاڑی سے باہر نکل کر اس سے پوچھنے لگا۔ اس کا سکتہ ذرا سا ٹوٹا۔ بے حد خالی خالی نظروں سے اس نے الہی بخش کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا اور پھر بنا کچھ کہے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس کا سارا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ ٹھنڈا اور نیلا۔ جیسے چاندی کے مجسمے کو کسی نے زہر دے دیا ہو۔
وہ کب گھر پہنچے، کیسے نیچے اتری، اسے ہوش نہیں تھا۔ بہت چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اندرونی دروازہ کھول کر اس نے لاؤنج میں قدم رکھا ہی تھا کہ سامنے کوئی کھڑا نظر آیا۔
بلیو جینز، سیاہ ٹی شرٹ، سنہری سپید رنگت، بڑی بڑی آنکھیں، وہ ہنستے ہوئے کسی سے بات کر رہا تھا، آہٹ پہ پلٹ کر حیا کو دیکھا جو میکانکی انداز میں نقاب ناک سے اتار کر ٹھوڑی تک لا رہی تھی۔
‏یہ ہمارے گھر میں جامعہ حفصہ کہاں سے آ گیا۔ وہ خوش گوار حیرت کے زیر اثر بولا۔
حیا نے دھیرے سے پلکیں جھپکائیں۔ اس کی آنکھوں نے اس شخص کا چہرہ اپنے اندر مقید کیا پھر بصارت نے یہ پیغام دماغ کو پہنچایا دماغ نے جیسے سست روی سے اس پیغام کو ڈی کوڈ کیا اور پھر اس شخص کا نام اس کے لبوں تک پہنچایا۔
رو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روحیل۔ چند لمحے لگے تھے اسے اپنے شل ہوتے دماغ کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کو پہچاننے میں۔ 
اتنے شاکڈ تو ابا بھی نہیں ہوئے تھے جتنی تم ہوئی ہو۔ وہ مسکرا کر کہتا آگے بڑھ کر اس سے ملا۔ وہ خوش تھا ابا اور اس کا معاملہ حل ہو گیا کیا؟ وہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
‏ حیا! یہ نتاشا ہے، ادھر آ کر ملو۔ اماں نے جانے کہاں سے اسے پکارا تھا۔ اس نے دھیرے سے گردن موڑی۔ اماں کے ساتھ لاؤنج کے صوفے پر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کا دماغ مزید کام کرنے سے انکاری تھا اس نے بس سر کے اشارے سے اس انجان لڑکی کو سلام کیا اور پھر روحیل کو دیکھا۔
‏میں آتی ہوں۔ سر میں درد ہے۔ سونا ہے مجھے۔ مبہم، ٹوٹے، بے ربط الفاظ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے سے شاید اماں نے اسے پکارا تھا مگر اس نے اندر آ کر دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی۔ ذہن اس طرح سے ایک نقطے پہ منجمد ہو گیا تھا کہ وہاں سے آگے پیچھے نہیں جا رہا تھا۔
‏ کسی خودکار روبوٹ کی طرح اس نے عبایا کے بٹن کھولے پھر سر سے سیاہ اسکارف علیحدہ کیا تو بالوں کا جوڑا کھل گیا۔ سارے بال کمر پہ گرتے گئے۔ اس نے سیاہ لمبی قمیض کے ساتھ سفید چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا۔
ارد گرد ہر شے اجنبی سی لگ رہی تھی۔ وہ خالی الذہنی کے عالم میں چلتی باتھ روم کی طرف آئی، دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور باتھ روم کی ساری لائٹیں جلا دیں۔
وہ اسی انداز میں چلتی ہوئی شاور تک آئی اور اسے پورا کھول دیا۔ پھر باتھ ٹب کی منڈیر کے کنارے پہ بیٹھ گئی۔ اس کی سیاہ لمبی قمیض کا دامن اب پیروں کو چھو رہا تھا۔
شاور سے نکلتی پانی کی تیز دھار بوندیں سیدھی اس کے سر پہ گرنے لگیں۔ وہ جیسے محسوس کیے بنا سامنے سنک کے ساتھ سلیب پہ رکھے پاٹ پوری بھرے شیشے کے پیالے کو دیکھ رہی تھی جس کی خوشبو پورے باتھ میں پھیلی تھی۔
انسان سمجھتا ہے کہ گناہ بھلا دینے سے وہ زندگی سے خارج ہو جاتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ گناہ پیچھا کرتے ہیں۔ وہ عرصے بعد بھی اپنے مالک سے ملنے آجایا کرتے ہیں۔ گناہ قبر تک انسان کے پیچھے آتے ہیں۔ اس کے گناہ بھی ایک دفعہ پھر اس کے سامنے آ گئے تھے۔ انہوں نے دنیا کے ہجوم میں بھی اپنے مالک کو تلاش کر لیا تھا۔

جاری ھے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.