Ads Top

حیا از فاخرہ وحید قسط نمبر17 Haya By Fakhira Waheed Episode No

 حیا
  از 
فاخرہ وحید


 حیا  از فاخرہ وحید
17 قسط نمبر  
Haya By Fakhira Waheed 
Episode No 17
حیا
از
فاخرہ وحید

قسط 17
آسمان پر ابھی سیاہی پھیلی تھی. فجر کی آذان ہوئے چند منٹ گزرے تھے. اسلام آباد میں واقع انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے گرلز ہاسٹل میں ابھی سویرا نہیں ہوا تھا. اکا دکا لڑکیا جاگ رہی تھیں. مگر ابھی بھی بستروں میں دبکی پڑی تھی. ہر کمرے میں تین سنگل بیڈ یعنی تین لڑکیاں رکی تھی. کمرہ نمبر 23 کی دو لڑکیاں اوندھے منہ سوئی ہوئی تھیں. اور تیسری؟ وہاں نہیں تھی. مگر واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی. دروازہ کھلا. لڑکی باہر نکلی. کالا سوٹ جس پر نیلے رنگ کی دھاریاں تھی. سفید دوپٹے کو چہرے کے گرد لپیٹا ہوا تھا.
ایک نظر اوندھے منہ لیٹی اپنی رومیٹس کو دیکھا. گھڑی پر نظر ڈالی اور سائڈ ٹیبل کے نیچے بنی جگہ سے جائے نماز اٹھایا فجر کی نیت باندھی اور اللہ کی حمدو ثنا میں مصروف ہو گئی. ابھی سجدے میں گئی تھی کہ الارم فل والیم سے شور کرنےلگا. کیا فضول ٹائمنگ ہے اس الارم کی. سجدہ کرتی حیا ڈسٹرب ہوئی تھی.
الارم بجتا جا رہا تھا اور آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی. حیا نے سنتوں کا سلام پھیرا. اکتاہٹ سے جائے نماز چھوڑا. الارم بند کیا اور الارم والی کے منہ سے کمبل اتار کر پرے مارا.
خیر ہے آج اٹھنے کا موڈ نہیں؟ اس نے لڑکی کا بازو ہلایا. ہوں. لڑکی نے کروٹ بدلی. وہ جنت تھی. جسے بالخصوس ڈاکٹر ہارون نے حیا کے ساتھ رہنے کو کہا تھا.
نماز پڑھ لو. اس نے اس کو دوبارہ ہلایا. جب وہ نہیں ہلی تو دوبارہ جائے نماز پر جا کر کھڑی ہو گئ. فرض پڑھے سلام پھیرا. اور ایک نظر سوتی جنت پر ڈال کر دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے.
ہمیشہ کی طرح ہاتھ بلند کرتے ہی دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں. ماں, باپ, بھائی. ایک ایک کر کے سب کے چہرے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے.
ماں کا اس کی پیدائش پر مر جانا. باپ کا اس کے سر پر رکھا ہاتھ کتنا سکون دیتا تھا. اور پھر ان کا بھی اسے چھوڑ جانا. اور بھائی. ہیں پر نہ ہونے کے برابر. اس کا دل بھر آیا.
تبھی ایک اور چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا. دل میں اٹھتی ٹیسوں کی جگہ اب کہ مختلف درد تھا. آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ عجیب سا جزبہ تھا. وہ کم از کم محبت نہیں تھی. یہ چہرہ اسے دیکھنا بھی اب گوارا نہیں تھا. سخت اور کھنچے ہوئے نقوش. سمٹی بھنویں. اس کا یہ ہی نقشہ حیا کے دماغ میں نقش تھا.

" جس طرح میں اکیلی رہ گئی. تم بھی اکیلے رہ جاؤ گے. یوں ہی تڑپو گے جیسے میں تڑپ رہی ہوں." تکلیف اتنی تھی کہ اس سے کم وہ حمزہ کے لیے دعا میں نہیں مانگتی تھی.
"ہونہہ." اس نے اس بن بلائے چہرے کو دماغ سے جھٹکا.
دماغ ماضی کے دھندلکوں میں کھونے لگا تھا. پھر اپنے ساتھ ہوا ہر سانحہ آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا.

" یا اللہ! میرے کون سے گناہ تھا جو سب چھین لیا تو نے مجھ سے؟" بے اختیار اس کے منہ سے نکلا اور ایک کے بعد ایک آنسو آنکھوں سے ٹپکنے لگے. شکوے تیز ہو گئے. سسکی بندھ گئی. آواز رندھ گئی. کوئی بھی تو نہیں تھا اس کا اس دنیا میں. بس وہ تھی. تنہا.
"کیا ہوا حیا؟"
"سب ٹھیک ہے؟"
"حیا؟"

کوئی اس کے ساتھ بیٹھا اسے بلا رہا تھا. دعا مانگتے کب وہ سجدے میں گر گئی اسے پتا ہی نہیں چلا. آنکھیں مسلتی وہ کھڑی ہوئی. بمشکل ساتھ بیٹھے وجود کو دیکھا. وہ اس کی رومیٹ اور کولیگ جنت تھی. وہ سوئی ہوئی تھی جب کسی کے رونے کی آواز پر وہ ہڑ بڑا کر اٹھی. حیا سجدے میں گری بلند آواز سے رو رہی تھی.
"کیا ہوا؟ "
تم ٹھیک ہو؟ وہ متفکر سی پوچھ رہی تھی.

" جنت! لوگ کیوں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں؟ "
"ماں, بابا سب مجھے چھوڑ گئے. کسی نے نہیں سوچامیں اکیلی کیسے رہوں گی... جنت.." سانس ٹوٹا. دوبارہ نام دہرایا.
"جنت! مجھ سے نہیں ہوتا اب. تھک گئی ہوں میں. "
اس نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا. شاید کندھا میسر آگیا تھا. تبھی!
" کوئی نہیں ہے جس سے جا کر دل کی بات کروں. میں کیسا محسوس کرتی ہوں. کوئی بھی نہیں ہے. جس کو بتاؤں. حس کے گلے لگ کر اپنی قسمت کو رو سکوں." رو رو کر ہچکی بند گئی.
جنت اسے اپنےدائیں بازو میں سمیٹے فکر مند سی دیکھ رہی تھی. دوسرا ہاتھ حیا کے بال سہلا رہا تھا.
" سب ٹھیک ہو جائے گا. وہ بس اتنا کہہ سکی." کیسے؟ یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی. وہ روتی رہی. یہاں تک کہ آنسو خود رک گئے. جنت نے اسے خود سے الگ کیا اور پانی لینے سائڈ میز کی طرف بڑھی. حیا نڈھال سی فرش پر ڈھے گئی.

"حیا. تم وہ دیکھ رہی ہو جو نہیں ہے. وہ بھی تو دیکھو جو تمہارے پاس ہے. " پانی کا گلاس حیا کے ہاتھ سے واپس لیتے جنت نے زور دیتے ہوئے کہا.
" کیا ہے میرے پاس؟" اس نے حیرت سے سوجی ہوئی آنکھیں پھیلائی.
جنت ایک لمحے کو رکی.
" تمہاری شادی! تمہارا ہسبنڈ؟" ہچکچاتے ہوئے اس نے کہا.
"ہونہہ." اس نے استہزائیہ ہونٹ سکیڑے. آنکھوں میں خفگی در آئی. وہ قدرے سنبھل چکی تھی.
"اسے زبردستی کہتے ہیں جنت بی بی, شادی نہیں. اور ایسے شخص کو شوہر نہیں کہتے جو کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پہلے نکاح کرے پھر اسی بیوی پر ہاتھ اٹھائے. کم از کم میری ڈکشنری میں ہسبنڈ کی تعریف یہ نہیں ہے. " منہ پر جمے خشک آنسوؤں کو ہاتھ سے صاف کرتے وہ کھڑی ہوئی. جنت کی حیا کے دل میں اس کے شوہر کے لیے احساس جگانے کی ایک اور کوشش دم توڑ گئی. وہ بھی اس کے پیچھے فرش سے اٹھی.

حیا کا رخ واش روم کی طرف تھا. سات بجے ان دونوں کو انسٹیٹیوٹ جانا تھا. وہ اپنی اپنی تیاری کرنے لگیں.
*************************
" شیری وغیرہ کی کوئی خبر ہے؟" گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حمزہ نے علی سے پوچھا. علی ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر دوسری طرف ہو گیا تھا.
"نہیں ابھی تک تو نہیں. پر پلان کے مطابق کل صبح تین بجے وہ کسی نا کسی طرح ہم سے رابطہ کریں گے. "
"ہمم.. " حمزہ نے کچھ سوچ کر گہرا سانس لیا.
"خیریت ہے ابدان صاحب نے کیوں بلایا ہے؟"
" پتا نہیں جا کر ہی پتا چلے گا. "
"مجھے امید ہے تم نے کچھ نہیں کیا ہو گا." علی نے اسے خفگی سے دیکھا.
"میں کچھ نہیں کرتا. اور پچھلے دو ہفتے سے تو بالکل کچھ نہیں کیا. " حمزہ نے شارپ موڑ کاٹتے ہوئے کہا.
جواباً علی مسکرایا.
" ہاں مسٹر حمزہ فیاض بیگ. آپ کچھ کرتے کہاں ہیں بس کسی ملزم کو دو ہاتھ جڑ کر ابدی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں. یا غلطی سے آپکا ہاتھ ٹریگر پر آجاتا ہے اور سامنے والا مر جاتا ہے. " علی نے انگوٹھے سے گلے پر دور سے ہی چھری چلائی. علی سے 'کچھ نہ کرنے' کے پیچھے چھپی تفصیلات جان کر حمزہ نے ناگواری سے اسے گھورا. علی پر اثر نہیں ہوا تھا. تبھی وہ بولا.

" خیر اب تو جا کر پتا چل ہی جائے گا. ورنہ جب کبھی بھی انہوں نے یوں ہمیں بلاوا بھیجا ہے تیرا ہی کچھ کیا ہوا سامنے آیا ہے." علی نے بھی اسی طرز پر اسے گھورا.
"دیکھو علی. " حمزہ نے سنجیدگی سے اسے مخاطب کیا.
علی نے پوزیشن لی اور اس کے الفاظ اس کے ساتھ دہرانے کے لیے منہ کھولا.

"میں ایسا کرتا نہیں ہوں مجھ سے ہو جاتا ہے." حمزہ نے اسے گھورا اور علی ہنس دیا.
"پہلی بات ہم ابدان صاحب سے ملنے نہیں جا رہے کیونکہ ان کی کال آگئی تھی وہ شہر سے باہر جا رہے ہیں. ان کو بس کیس کی پیش رفت ہی پوچھنا تھیں." وہ رکا پھر بات آگے بڑھائی.
" اور دوسری بات آپ بتائیں مسٹر علی! " اور خود کو اتنی عزت سے بلائے جانے پر علی کو توہین محسوس ہوئی تھی. لیکن وہ اس کے تاثرات کو اگنور کرتا آنکھیں سکیڑے اس کی طرف دیکھ کر بولا.
"اپنے سو کالڈ 'ہنی مون' سے آکر آپکی زبان کچھ زیادہ ہی نہیں چل رہی؟. " حمزہ نے اسٹیرنگ چھوڑ کر ہوا میں کالن بنایا. وہ یقیناً اس چڑا رہا تھا.
"ابے اسٹیرنگ پکڑ. مارنے کا ارادہ ہے. " اس کے اسٹیرنگ چھوڑ دینے پر علی نے فوراً اس کی توجہ سڑک کی طرف کروائی. اور علی ایک لمحے کو ڈھیٹ ہوا تھا پھر سنبھل کر بولا.
"دیٹ واز آ گریٹ ٹائم ود ہر. "
" پر تو نہیں سمجھے گا میرے دوست. لو, رومانس, محبت یہ سب باتیں تیرے یہاں کی ہیں. " اس نے اپنے سر کے اوپر ہاتھ لے جا کر کہا.

حمزہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا.
"ہاں نا. یار یہ بندیاں بہت کمال ہوتی ہیں. میں کتنا بھی پریشان ہوں. فرسٹریٹد ہوں. فریحہ ایسے تسلی دیتی ہے کہ لگتا ہے یہ مسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے. آئی ایم بلیسڈ." وہ چہک رہا تھا.
"اہاں اہاں. " حمزہ نے اس سنسان سڑک پر اسپیڈ بڑھاتے ہوئے علی کو چھیڑا. وہ شرمندہ ہوا. مگر جلد سنبھل گیا.
" پر یار تجھے دیکھ کر کبھی کبھی مجھے دکھ ہوتا ہے." اس نے رک کر حمزہ کو دیکھا. وہاں اب کوئی تاثر نہیں تھا. "کاش ایسی ہی کوئی تیری زندگی میں ہوتی. جو تیرا خیال رکھتی. تو تو یوں ہر وقت سڑا ہوا نہ رہتا." آخری الفاظ اس نے سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے کہے.
"مجھے اپنے مسئلوں کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں." وہ بے نیازی سے بولا.
"آئی ایم مچیور انف ٹو ہینڈل مائی پرابلمز. " اب کہ اس نے کندھے اچکائے.
"ایک بات کہوں حمزہ. پلیز ڈونٹ ٹیک اٹ آن نروز. " وہ اس کے تاثرات دیکھنے کو رکا اور پھر دوبارہ بولا.

"تجھے حیا کو یوں جانے نہیں دینا چاہئیے تھا. " علی نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا.
"میں نےا سے نہیں بھیجا تھا." وہ لا پرواہی سے بولا.
"پر تیرے رویے نے اسے یوں در بدر کیا." علی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا.
"بھائی بن کر کہہ رہا ہوں. مجھے غلط مت لینا. یار کب تک اکیلا دھکے کھائے گا؟ بی اماں بھی کب تک تیرا گھر دیکھیں گی؟ اچھی بھلی وہ لڑکی آئی تھی اس کے ساتھ بھی تو نے یوں کیا. "
"میں نے کچھ نہیں کیا. " وہ اب بھی بے نیاز تھا. لیکن کہیں دل میں وہ خود کو ہی ذمہ دار سمجھ رہا تھا.

"یاربس کر.. " اس نے خفگی سے حمزہ کو دیکھا.
"تیرے لیے ہی کہہ رہا ہوں. زیادہ نہ سہی پر وہ تیرا گھر دیکھتی. تیرا خیال رکھتی. تو کم از کم سکون میں رہتا." وہ اسے احساس دلا رہا تھا.

"نہیں وہ آس پاس ہوتی تو میں کبھی سکون میں نہ رہتا. اس کے ہونے سے مجھے عجیب سا احساس ہوتا تھا. کسی کے ہونے کا. " اس نے گاڑی سائڈپر لگائی.
"ہاں تو وہ بیوی ہے تیری. احساس ہو گا. یہ رشتہ ایسا ہے."
"نہیں چاہئیے یہ احساس اور ایسا کوئی. ناؤ اسٹاپ اٹ پلیز. "
"میری خوشیاں ان رشتوں کی محتاج نہیں ہے. سب کو مجھے چھوڑ کر جانا ہے. سب چلے جاتے ہیں. اور چلے گئے تھے. وہ بھی چلی گئی تو کیا فرق پڑتا ہے؟ " وہ بگڑ گیا تھا.
"کر لے اپنی مرضی. پر جلدی تجھے احساس ہو جائے گا." علی نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا.
اور حمزہ کی طرف سے جواب میں اسے گاڑی کے ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنائی دی تھی. گاڑی دوبارہ سڑک پر تھی.
*********************
انسٹیٹیوٹ میں صبح کب سے طلوع ہو چکی تھی. یہ ایک بڑی چار منزلہ عمارت تھی. جسے جدید طرز پر بنایا گیا تھا. ڈاکٹر ہارون نے اسے قریباً تیس برس پہلے بنایا تھا. پہلے وہ اکیلے اس سفر پر نکلے تھے اور پھر قافلہ بنتا چلا گیا. یہاں اور بھی ٹرینر, ماہر نفسیات,ماہر انسانیات اور بی ہیورسٹ (ماہر کرداریت) تھے مگر جو ملکہ ڈاکٹر ہارون کو لوگوں کے رویے پڑھنے اور زندگیوں کو بدلنے پر حاصل تھی وہ شفا کسی اور کے الفاظ میں اس قدر نہیں تھی. ہاں وہ الفاظ سے دل کے, دماغ کے مریضوں کو شفا دیتے تھے.
اس وقت وہ اپنے روشن آفس میں بیٹھے کافی کے مگ سے گھونٹ گھونٹ اندر انڈیل رہے تھے. ان کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہو گی مگر ورزش اور اچھی خوراک نے ان کو فٹ رکھا ہوا تھا. سفید شرٹ, ڈریس پینٹ, کلائی پر بندھی گھڑی جو قیمتی معلوم ہوتی تھی. آنکھوں پر نظر کا چشمہ. اور کرسی کی پشت پر لٹکا بلیو کوٹ. کالی مگر روشن آنکھیں. وہ خوش شکل تھے. اور شخصیت کے رعب نے ان کو طلسماتی کر دیا تھا. وہ بولتے تو سننے والے کسی سحر میں آجاتے. جس کے پاس بیٹھ جاتے وہ ہی مسحور ہو جاتا. ان کی ساری تعلیمی ڈگریاں باہر کی تھیں کیونکہ ان کے نزدیک مغرب نے انسانیات میں ان سے زیادہ ترقی کی تھی.
سامنے ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا پچھلے پندرہ منٹ سے یوں ہی خاموش ٹیبل پر پڑے ڈاکٹر ہارون کی نیم پلیٹ کو دیکھ رہا تھا. بھوری تختی پر سنہری حروف. ڈاکٹر ہارون, ماہر نفسیات, اینتھروپولوجسٹ (ماہر انسانیات).
مگ سے آخری گھونٹ بھرا. دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھ کر باہم ملایا. اور لڑکے کو بغور دیکھا. وہ پریشان لگ رہا تھا.
" کس کلاس میں پڑھتے ہو؟" اس کے تاثرات کو پڑھتے سوال کیا. اس نے یوں ہی نظریں جھکائے جواب دیا.
" سیکنڈ ائیر."
" فرسٹ ائیر میں کتنے مارکس تھے؟"
" چار سو اکیاسی. " اور ایک لمحے کو اٹھی نظریں دوبارہ جھک گئیں.
" ایف ایس سی؟" وہ رکے تا کہ لڑکا اپنا مضمون بتائے. اور لڑکے نے اچک کر مکمل کیا.
" ایف ایس سی پری میڈیکل. "
" ہوں." دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملاتے ہاتھ سر کے نیچے رکھے, کرسی سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر لیں. چند لمحے یوں ہی گزر گئے. لڑکے نے بے چینی سے پہلو بدلہ.
" سر! میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی. اگر میرٹ پر نام نہیں آیا تو کیا کروں؟ " آواز رندھ گئی.
" ہوں. " وہ اسے اور سننا چاہتے تھے. آنکھیں بد ستور بند تھیں.
" پہلے ایف ایس سی کے نمبروں پر گھر میں تماشہ. فلاں کے اتنے نمبر آئے فلاں کے اتنے آئے. تمہارے بس چھیاسی فیصد. سر چھیاسی فیصد کم ہوتے ہیں؟ لڑکے نے کرب سے پوچھا. بند آنکھوں سے وہ تلخی سے مسکرائے.
" بیٹا! ضرورت کو تو ساٹھ فیصد بھی بہت ہوتے ہیں. پر انسان خواہشوں پر جیتا ہے. تبھی خوش نہیں رہتا. " لڑکے کو پتا نہیں سمجھ آئی یا نہیں. وہ دوبارہ بولنے لگا.

روز روز کی چبھتی نظریں اور طعنے سن سن کر میں تھک گیا ہوں. یہاں سب اپنی زندگی کی بازی لڑتے تھکے ہوئے تھے.
"اذیت سی اذیت ہے. نیند نہیں آتی. آتی ہے تو سارا دن ساری رات سوتا رہتا ہوں. سب کو یہ دکھتا ہے کہ میرا میڈیکل میں داخلہ نہیں ہوا مگر یہ کسی کو نہیں دکھتا کہ میں نے دن رات محنت کی. اپنی نیندیں قربان کیں. گیمز, ٹی وی, موویز کچھ بھی تو نہیں کیا تھا ان دو سالوں میں. میرے سے زیادہ دکھ ہے سب کو؟ میرے سے زیدہ تکلیف ہے؟ "
" بابا کی بے رخی, ماما کا دوبارہ ٹیسٹ دینے کا پریشر, لوگوں کی باتیں, طعنے, استہزائیہ نظریں. یہ. یہ سب مجھے پاگل کر دے گا. اور پھر یہ سب مجھے کھو دیں گے."
آخری الفاظ پر ڈاکٹر ہارون نے یک لخت آنکھیں کھولیں. دونوں کہنیاں میز پر ٹکائی اور آگے کو جھکی.

" ہاں. اگر یہ یوں ہی چلتا رہا تو میں خود کو مار لوں گا." وہ لڑکا تھا مگر رو رہا تھا. نہیں شاید وہ ذہنی مریض تھا. تبھی اسے یاد نہیں رہا کہ لڑکے نہیں روتے.
ڈاکٹر ہارون نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا.
کوئی نمبر ڈائل کیا اور رسیور کان سے لگایا.
"ہاں جنت! یہ لڑکا باہر آرہا ہے. اس سے اس کے والدین کی تفصیلات لے کر انہیں دو دن بعد ہونے والے "پیرینٹنگ سیشن" پر مدعو کرو. "

ڈاکٹر ہارون کھڑے ہوئے, کرسی سے اپنا کوٹ اٹھایا. جانے سے پہلے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ دھر کر زور سے دبایا. یہ حوصلہ تھا. جو اس ہاتھ سے ہوتا لڑکے کے دل میں اترا تھا.
*************************
رات کا اندھیرا پھیلے کافی دیر ہو چکی تھی. اس مٹی کے مکان کے بڑے گھر میں گھپ اندھیرا تھا. بظاہر لگتا تھا سب سو چکے ہیں. مگر کسی کو جاننے کے لیے ظاہر نہیں, باطن میں جھانکنا پڑتا ہے. اور شیری اس باطن میں جھانکنے کو تیار تھا.
اسے سیکریٹ کوڈ مل چکا تھا. وہ اب ان کے خاص لوگوں میں شامل تھا. شیروان کو ابھی آئے چند دن ہوئے تھے اسے اعتماد حاصل کرنے میں وقت تھا. یہ سفر شیری کو اکیلے کرنا تھا.
"ببلی! وہ تو الگ ہی دنیا ہے. جب تو دیکھے گی نا تو آنکھیں چندھیا جائیں گی تیری. یہ بڑے بڑے اونچے ستون. اور حاجن بی بی کا سونے, چاندی سے آراستہ تخت. " وہ ڈرامائی انداز میں برآمدے کی چھوٹے ستون سے ٹیک لگائے آسمان پر نظر جمائے ہاتھوں کو لہراتے کہے جا رہی تھی.
چنبیلی پچھلے پندرہ منٹ سے شیری کو یہ محل نامہ سنا رہی تھی جہاں دو دن بعد شیری کو جانا تھا. وہ بغور اسے سن رہا تھا. اس نے بڑے چرچے سن رکھے تھے اس گھر کے. جو پریمیم ممبر کو ہی دیکھنا نصیب ہوتا تھا. اور اب وہ پریمیم تھا.
"کب چلیں گے ہم دن میں؟" بظاہر اس نے بے چینی دکھائی. باطن میں یہاں ایسے جزبے تھے کہ اس محل کی بنیادیں بھی مسمار کر دی جاتیں.
"اوں ہوں!" اس نے خفگی سے اسے دیکھا. "دن میں نہیں, دوسرے پہر جب دنیا سو جائے گی تب وہ محل جاگے گا." اس نے بے خودی سی کی کیفیت میں ایک ہاتھ اپنے کولہے اور دوسرے ہاتھ کو ہوا میں گھماتے ایک قدم آگے بڑھایا. وہ محل واقعی اتنا خوبصورت تھا یا چنبیلی بڑھا چڑھا کر بتا رہی تھی. شیری نے سر جھٹکا.
"گاڑی پر جائیں گے؟ " اس نے پوچھا مگر چنبیلی کے بے ساختہ ہنسنے پر وہ شرمندہ ہوا.
"پیدل جائیں گے میری جان پیدل. ٹک ٹک. " اس نے ہاتھ الٹا کیا اور چلنے کے سے انداز میں دو انگلیاں ہوا میں آگے بڑھائی. وہ زیادہ ہی ڈرامائی ہو رہی تھی. شیری کو کوفت ہوئی.

وہ جواب دیے بغیر اسے اس کی ڈرامائی دنیا میں چھوڑ کر اپنے بستر کی طرف بڑھا. کل اسے حمزہ سے رابطہ بھی کرنا تھا.
****************
" حمزہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ ہم کوشش کر رہے ہیں. جلد ان سے رابطہ ہو جائے گا. " علی نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھایا. وہ بیسمنٹ میں پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے یوں ہی ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا. آج ہفتہ ہو چکا تھا. مگر شیری اور شیروان کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا.
" کب؟ کب رابطہ ہو گا؟ ان کو بدھ کو ہمیں کانٹیکٹ کرنا چاہئیے تھا. آج اتوار ہے. اگر یہ لاپرواہی ہے تو یہ ان کا ایک ساتھ آخری کیس ہے." وہ بگڑا ہوا تھا.
"یا پھر زندگی کا آخری کیس." وہ غصے اور بے بسی کی سی کیفیت میں بڑ بڑایا.
شیری جتنا لا پرواہ سہی لیکن کام کے معاملے میں وہ غیر سنجیدہ نہیں ہو تا تھا. اور یہ ہی چیز حمزہ کو کھٹک رہی تھی. ہو نا ہو وہ مصیبت میں تھے. مگر پلان میں کوئی ہول نہیں تھا. کہیں سے بھی کچھ غلط نہیں ہو سکتا تھا. وہ پکڑے نہیں جا سکتے تھے. پھر؟ پھر رابطہ کیوں نہیں ہو پا رہا. ہر گزرتے لمحے اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھے.
میز کے ارد گرد باقی لوگ بیٹھے کسی طرح کنٹیکٹ کی کوشش کر رہے تھی. حمزہ بے چین تھا. وہ دوبارہ سر براہی کرسی پر آکر بیٹھا.
" پتا نہیں کیا کر رہے ہو تم لوگ اتنے دن سے؟" وہ اب ان پر برس پڑا تھا.
"تم سب کو کسی قابلیت کی بنا پر میں نے اپنے ساتھ جوڑ رکھا ہے. ورنہ نہ تم پولیس کے شعبے سے ہو نہ کسی ایجنسی سے. اگر تم لوگوں کی دیر کی وجہ سے شیری کو کچھ ہوا تو اپنی قابلیت سمیت تم لوگ دفع ہو سکتے ہو." اسے ہائیپر اٹیک ہو رہا تھا. ہاتھ کی رگیں پھولی ہوئی تھیں. اس نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر بھنوؤں کے درمیان پھولتی رگ کو مسلا. گلے میں گلٹی سی ابھری اور معدوم ہو گئی. سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے. حمزہ سموتھلی بولنے والا بندہ تھا. اسے چیختے کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا. اور جنہوں نے دیکھاتھا وہ یقین نہیں کر سکے تھے کہ یہ وہی حمزہ ہے. یہ حمزہ اس پرسکون, ٹھہر ٹھہر کر بولنے والے حمزہ سے مختلف تھا. وہ حمزہ یہاں میز پر موجود ہر شخص کو اون کرتا تھا. یہ اسکی فیملی تھے. مگر یہ حمزہ خود غرض تھا. اسے شیری کے ساتھ گئے شیروان کی بھی پرواہ نہیں تھی. سب کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ ان کو نظر انداز کرتا اٹھا, واش روم کی طرف بڑھا. اندر جا کر چٹخنی چڑھائی. اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا. اس نے بند آنکھوں سے گہرے سانس اندر کو کھینچے. نل کھولا. پانی کے چھینٹے منہ پر مارے. وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
جب باہر آیا تو سب دوبارہ مصروف تھے. حمزہ کا پہلی بار ان پر یوں چیخنا وہ برداشت کر سکتے تھے. وہ اچھا آدمی تھا. مگر اس وقت پریشان تھا. وہ بس اتنا سوچ سکے. حمزہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا.
"پلان اے کیا تھا؟" اس نے توقف سے پوچھا. لہجہ قدرے دھیما تھا مگر لہجے کی سختی عیاں تھی.
" یہ ہی کہ وہ جا کر تین دن بعد ہم سے رابطہ کریں گے " زویان نے آگے جھکتے ہوئے کہا.

"رابطہ کیا؟ " اس نے یوں پوچھا جیسے وہ خود نہیں جاتا. ایک دو لوگوں نے گردن نفی میں ہلائی. اس نے کسی کے بولنے کا انتظار نہیں کیا.
"پلان بی؟ " اس نے زویان پر نظریں جمائیں.
"شیروان کسی بہانے وہاں سے نکل آئے گا." اس نے سرسری انداز میں پلان بی دہرایا.
" اور یہ دونوں کام تیس سے چار دن کے دوران ہونے چاہئیے تھے نہیں ہوئے. " آواز کرخت اور قدرے بلند ہو گئی.

اب اس کا دماغ پھرکی کی سی رفتار سے دوڑ رہا تھا.
"مجھے معلعوم ہے اب ہمیں کیا کرنا ہے. انتظار. ایک دن اور انتظار. " اس نے کچھ سوچ کر میز پر ہاتھ مارا. اور اٹھ کر بیسمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتا اوپر آگیا.


(جاری ہے)

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.