Ads Top

ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر قسط نمبر 28

ﻧﺎﻭﻝ  سنائپر 

 از 

 ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر...
قسط ۔۔28
ریاض عاقب کوہلر

میں آہستہ قدموں سے اس کے پیچھے چلتا رہا۔ڈھلان اتر کر وہ درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گئی تھی۔ جونھی میں جھنڈ کے قریب پہنچا وہ وہیں میری منتظر کھڑی تھی۔ قریب جاتے ہی وہ دوبارہ چل پڑی۔گھنے درختوں کی وجہ سے اس نے اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی تاکہ میری نظروں سے اوجھل نہ ہو سکے۔پلوشہ کے سفوف سے میرے زخم کی تکلیف میں اسی وقت کافی افاقہ ہوگیا تھا اور اب رات گزرنے کے بعد تکلیف کی شدت میں مزید کمی آگئی تھی ،لیکن اس کے باوجود میں کافی نقاہت محسوس کر رہا تھا۔آہستہ چلنے کی وجہ سے ہمیں جنگل سے نکلنے میں گھنٹا بھر لگ گیا تھا۔درختوں کے اختتام پر ہلکی سی ڈھلان تھی۔مجھے اچھی خاصی تھکن محسوس ہونے لگی تھی۔
ڈھلان چڑھنے سے پہلے میں سانس لینے کے لیے ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔مجھے دیکھ کر وہ بھی رک گئی تھی۔لیکن اس نے بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔چند منٹ آرام کرنے بعد میں دوبارہ چل پڑا۔ ڈھلان پر چڑھ کر ہم پہاڑی کی دائیں جانب آگے بڑھتے چلے گئے۔ ڈھلان عبور کر کے ہم ایک نالے میں اترے۔گھنٹا بھر مزید چلنے کے بعد وہ نالہ انگریزی کے حرف ”وائی“ کی طرح دو شاخوں میں بٹ گیا تھا۔اس رستے پر میں ایک بار پلوشہ اور سردار کے ساتھ اور دوسری مرتبہ اکیلا سفر کر چکا تھا۔ہمیں اس وائی ملاپ سے بائیں جانب مڑنا تھا۔ہم موڑ سے چند قدم دور تھے کہ اچانک میرے کانوں میں کسی کی کرخت آواز گونجی۔
”سیدھا چلتے رہو ورنہ سر میں گولی اتار دوں گا۔“پلوشہ ٹھٹک کر رکی۔وہ مجھ سے چند قدم آگے چل رہی تھی یقینا اس نے بھی وہ آواز سن لی تھی۔وہ جلدی سے میرے قریب آئی اور میرے ٹھیک بازو سے پکڑ کر مجھے کھینچتے ہوئے ایک پتھر کے عقب میں ہو گئی۔یہ کافی بڑا پتھر تھا۔میں اس پتھر اور پہاڑی کے درمیان میں بننے والی ایک دراڑ میں ہو گیا تھا۔وہ پتھر کی ایک جانب سے نالے موڑ کی طرف جھانکنے لگی۔ درمیان میں پتھر حائل ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی منظر تو دکھائی نہیں دے رہا تھا البتہ ان کی آوازیں میرے کانوں میں ضرور پڑ رہی تھیں۔تین چار مختلف آوازیں اور قدموں کی چاپ میرے کانوں میں تواتر سے پڑنے لگی۔وہ ہمارے پتھر کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئے۔پلوشہ نے فوراََ میرے قریب ہوکر سرگوشی کی۔
”قبیل خان کے تین آدمی کسی غریب کو پکڑ کر لے جا رہے ہیں ....تو کیا خیال ہے ؟“
”اڑا دو ....قبیل خان کا کوئی بھی دشمن ہمارا دوست ہی ہوگا۔“
”صحیح کہا ،میں یہی کرنے لگی ہوں۔“پشت سے تھیلا اتار کر زمین پر رکھتے ہوئے اس نے کندھے سے لٹکتی ڈریگنوو ہاتھ میں پکڑی اور پتھر کے بائیں کونے کی آڑ لے کر نشانہ سادھنے لگی۔
”بہتر ہو گا ،بیٹھنے کے بجائے لیٹ کر فائر کرو۔“اس کے ٹریگر دبانے سے پہلے میں نے دھیمی آواز میں مشورہ دیا۔کیونکہ بیٹھ کر فائر کرنے کی نسبت لیٹ کر فائر کرنا زیادہ آسان بھی ہوتا ہے۔جوابی فائر کرنے پر دشمن کو کم ہدف ملتا ہے اور اس طرح صحیح طرح سے نشانہ بھی سادھا جا سکتا ہے۔
میری بات پر عمل کرتے ہوئے وہ فوراََ لیٹ گئی تھی۔وہ تینوں تیس چالیس گز سے زیادہ دوری پر نہیں تھے۔اس کے باوجود وہ چاربار سے زیادہ ٹریگر دبا چکی تھی۔
”ایک کمینہ بچ گیا ہے۔“وہ پانچواں فائر کرتے ہوئے مجھے مخاطب ہوئی لیکن متوجہ دشمن کی جانب رہی۔اسی وقت کلاشن کوف گرجنے کی آواز آئی لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ فائر نشانہ سادھے بغیر کیا گیا تھا۔
پلوشہ نے دو تین گولیاں مزید ضائع کیں۔جوابی فائر بھی سنائی دیتا رہا۔
تھوڑا پیچھے کو کھسک کر اس نے پتھر کی آڑ لی اور میگزین اتار کر تھیلے سے ڈریگنوو کی فالتو گولیاں نکال کر میگزین دوبارہ بھرنے لگی۔ڈریگنوو کی میگزین میں دس گولیاں آتی ہیں اور اس نے دو گولیاں نشانے پر مار کر باقی ضائع کر دی تھیں۔کلاشن کوف کے دو تین برسٹ آئے تمام گولیاں اسی پتھر لگی تھیں جس کے پیچھے ہم نے پناہ لے رکھی تھی۔
”ایک بھاگ کر پتھر کے عقب میں چھپ گیا ہے۔“میگزین رائفل کے ساتھ لگاتے ہوئے اس نے مجھے مطلع کیا۔
میں نے پوچھا۔”اور قیدی کا کیا بنا ؟“
”وہ دو تین پتھروں کے درمیان میں لیٹا ہوا ہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ وہ زخمی ہے یا بچ گیا ہے۔“یہ کہہ کر اس نے ایک بار پھر نشانہ سادھ کر دو تین گولیاں اس طرف داغ دیں۔
”اس طرح گولیاں ضائع مت کرو۔تم سے چند گز کے فاصلے پر تین آدمی نہ مارے گئے۔“
”گولی کی آواز سنتے ہی وہ آڑا ترچھا بھاگ کر ایک پتھر کے پیچھے چھپ گیا ،اب میں کیا کرتا۔“
”اب گولیوں کی آواز سن کر اگر قبیل خان کے اور آدمی اس طرف آ گئے پھر ....؟“
”تو کیا ....الحمداللہ میرے ہاتھ پاﺅں سلامت ہیں۔میں آسانی سے فرار ہو سکتا ہوں اور تمھاری مجھے یوں بھی کوئی پروا نہیں ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے تین چار مزید فائر اس جانب جھونک دیے۔
میں نے جھلا کر کہا۔”یار!.... کیوں گولیاں ضائع کر رہے ہو۔“
”تو کیا کروں ....اس کا سر تھوڑ ا سا نظر آتا ہے اور پھر وہ سر کو پیچھے کھینچ لیتا ہے۔“
”سنائپر رائفل کی ایک گولی سے ایک بندہ مارا جاتا ہے اورتم نے ایک بندے کو مارنے کو لیے پندرہ گولیاں فائر کر لی ہیں۔“
”پندرہ نہیں ....اٹھارہ۔“ میگزین میں موجود آخری تین گولیاں بھی فائر کرکے وہ میری جانب متوجہ ہوئی۔
میں جھک کر اس کے نزدیک پہنچا اور پتھر سے تھوڑا سا سر نکال کر دیکھا اسی وقت کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ میرے کانوں میں پڑی اور میں نے اپنا سر پیچھے کھینچ لیا۔وہ قریبا دو سو گز دور ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپا تھا۔ہماری طرف فائر کرنے کے لیے وہ اپنے سر کو پتھر کے ایک جانب سے ذرا سا باہر نکال کر پھر آڑ میں کر لیتا۔
پلوشہ نے دوبارہ میگزین بھر کر رائفل سے لگائی اور فائر کرنے کے لیے لیٹ گئی۔
”میرا خیال ہے مجھے رائفل سنبھالنا پڑے گی ورنہ ان کو کمک ملنے کی صورت میں بے موت مارے جائیں گے۔“
”رائفل پکڑنہیں سکتے اور فائر کرو گے۔“گردن میری جانب موڑتے ہوئے اس نے منھ بنایا اور دوبارہ فائر کرنے لگی۔
”ایک منٹ پلوشہ !“اس کے دو تین گولیاں چلانے کے بعد مجبواََ مجھے آواز دینا پڑی۔
”اب کیا ہے ؟“پیچھے کی جانب کھسک کر وہ اٹھ بیٹھی۔
”مجھے ایک موقع دو۔“میںنے ہاتھ کے اشارے سے اس سے رائفل مانگی۔
وہ غصے بھرے لہجے میں بولی۔”دماغ تو ٹھیک ہے نا۔“
”ہاں ٹھیک ہے دماغ۔اور جو میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو۔“
”فرماﺅ۔“رائفل میری جانب بڑھاتے ہوئے اس نے منھ بنایا۔”ایک ہاتھ سے تو تم رائفل تھام بھی نہیںپاﺅ گے۔“
”اب یہاں آکر بیٹھو۔“میں نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا۔”منھ دشمن کی طرف رکھو میں نے تمھارے کاندھے پر رائفل کی نال رکھنی ہے۔“
مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے وہ پتھر کے دائیں کونے کے ساتھ بیٹھ گئی۔اس کے دائیں کندھے پر ڈریگنوو رائفل کی بیرل رکھ کر میں نے اپنے رائفل کا بٹ اپنے دائیں کندھے میں درست کیا۔ گو رائفل سے درست فائر کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے دائیں ہاتھ سے پسٹل گرپ کو تھام کر بائیں ہاتھ سے فرنٹ ہینڈ گارڈ کو مضبوطی سے پکڑا جاتا ہے۔لیکن اس وقت میرا بایاں ہاتھ ناکارہ ہوگیا تھا اور اکیلے دائیں ہاتھ سے رائفل کو سنبھال کر درست فائر کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا۔
اپنے بائیں ہاتھ کا کام میں پلوشہ کے کندھے اور ہاتھ سے لے رہا تھا۔ٹیلی سکوپ سائیٹ پر رینج دیکھنے پر ایلیویشن ڈرم پانچ سو پر نظر آیا۔ایلیویشن کو دو سو گز کے فاصلے پر لگا کر میں نے پسٹل گرپ کو مضبوطی سے تھاما۔دائیں کندھے میں رائفل کا بٹ پھنسا کر میں نے رائفل کوحتی الوسع پیچھے کی طرف کھینچا۔ پلوشہ نے میرے کہے بغیر رائفل کے فرنٹ ہینڈ گارڈ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔اس حالت میں ، مجھ سے زیادہ پلوشہ کو خطرہ تھا پروہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی۔زیادہ حرکت دینے سے بائیں کندھے میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں لیکن وہ وقت دردمحسوس کرنے کا نہیں تھا۔
بایاں گھٹنا نالے میں بکھرے پتھروں پر ٹیک کر میں نے دوسرا پاﺅں سمیٹ کر اسی پر نشست بنا کر بیٹھ گیا۔ڈریگنوو کی ٹیلی سکوپ سائیٹ سے ہدف کا فاصلہ مزید سمٹ کر قریب آ گیا تھا۔بائیں آنکھ بند کرتے ہوئے میں نے دائیں آنکھ سائیٹ کے شیشے سے مخصوص فاصلے پر رکھتے ہوئے دایاں گال ڈریگنوو رائفل کے بٹ کے اوپر ٹیک دیا۔دشمن جس پتھر کے عقب سے جھانک کر فائر کر رہا تھا اس پر شست باندھ کر اس کے جھانکنے کا انتظار کرنے لگا۔ہماری طرف سے دو تین منٹ سے فائر نہیں ہو ا تھا، جس کی وجہ سے وہ بھی محتاط انداز میں فائر کر رہا تھا۔اس کی احتیاط کی وجہ سے مجھے مزید ایک ڈیڑھ منٹ انتظار کرنا پڑا۔اور پھر اس نے پہلے کی طرح فائر کرنے کے لیے پتھر کی اوٹ سے تھوڑا سا سر باہر نکالا۔مگر اس مرتبہ اسے سر واپس لے جانے میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔ البتہ اضطراری انداز میں اس سے ٹریگر ضرور دب گیا تھا۔اس کی کلاشن کوف ایک لمبا برسٹ فائر کر کے خاموش ہوئی۔سر میں لگنے والی گولی زیادہ دیر پھڑکنے بھی نہیں دیتی۔اسے گرتے دیکھ کر وہ خوشی سے دمکتے چہرے کا ساتھ میری جانب مڑی۔
”بس تمھاری یہی خصوصیت دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ قبیل خان کے بعد تمھیں مارنے کے ارادے میں تھوڑی سی ترمیم کر لوں۔“
میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا کیونکہ فائر سے ہونے والے ہلکے سے جھٹکے نے میرے زخم میں ہونے والی تکلیف میں اضافہ کر دیا تھا۔میرے چہرے پر ہویدا اذیت بھرے تاثرات دیکھ کروہ بے چینی سے بولی۔
”کیا ہوا۔“یہ کہتے ہوئے وہ بے ساختہ میرا زخمی کندھا سہلانے لگی تھی۔
”میرا خیال ہے نکلتے ہیں۔“تکلیف ضبط کرتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوا۔
”ہونہہ!....چلو۔“میری تائید کرتے ہوئے وہ بھی کھڑی ہو گئی۔
ہم لاشوں کی جانب بڑھ گئے دو آدمی اوندھے منھ پڑے تھے جبکہ ایک ادھیڑ عمر کا مرد لاشوں سے ایک جانب ہو کر پتھروں کے درمیان سکڑا سمٹا چھپا ہوا تھا۔اس کے دونوں ہاتھ پشت کی جانب ایک مضبوط رسی سے بندھے تھے۔پلوشہ ایک تیز دھار خنجر ہر وقت اپنی پنڈلی سے باندھے رکھتی تھی۔اس مرد کے قریب جا کر اس نے اپنی پنڈلی سے بندھا خنجر نکال کر اس کی بندشیں کاٹ ڈالیں۔
”کون ہو تم اور کیا نام ہے تمھارا۔؟“بندشیں کاٹتے ہی پلوشہ اسے مخاطب ہوئی۔
وہ محتاط لہجے میں بولا۔”قابل خان محسود....اور میں ایک تاجر ہوں۔“میں ان کے قریب جا کر خاموشی سے کھڑا ہو گیا تھا۔
”ان کی تمھارے ساتھ کیا دشمنی ہے۔“پلوشہ نے اگلا سوال پوچھا۔
” ان کی دشمنی میرے ساتھ نہیں ،ملک خوشحال خان محسود کے ساتھ ہے ،بلکہ ان کے مشر قبیل خان کی دشمنی ہے خوشحال خان کے ساتھ اور میں ملک خوشحال خان کا ماموں زاد بھائی ہوں۔“
اس کی وضاحت سن کر معاملہ سمجھنا آسان ہو گیا تھا لیکن پلوشہ کے سوال جاری رہے۔
”انھوں نے تمھیں کہاں سے پکڑا ،میرا خیال ہے دشمنی کے باوجود یوں خواہ مخواہ کسی پر ہاتھ ڈالنا لڑائی کو کھلی دعوت دینا ہے۔“
وہ تفصیل بتلاتا ہوا بولا۔”خوشحال خان محسودکے آدمیوں کے لیے انگور اڈے کے رستے افغان سرحد عبور کرنا منع ہے اس بارے خوشحال خان اور قبیل خان میں باقاعدہ معاہدہ ہوا ہوا ہے۔اور مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔گو میں کوئی چیز سمگل نہیں کر رہا تھا اور میرا مقصد صرف افغانستان جا کر کسی سے ملاقات کرنا تھا۔اسی وجہ سے میں نے اس رستے پر جانے کی ہمت کی تھی اور صبح سویرے انگور اڈے سے آگے روانہ ہوا۔ لیکن میری بد قسمتی کہ اس وقت بھی میرا ٹکراﺅ ان آدمیوں سے ہو گیا اور اب یہ مجھے پکڑ کر یہاں اپنے کسی مخصوص اڈے پر لا رہے تھے۔“
”یہاں پر موجود قبیل خان کی حویلی تو غالباََ تباہ ہو چکی ہے۔“پلوشہ نے یقینی بات کو گمان کے انداز میں بیان کیا۔
”ہاں حویلی کی تباہی کی خبر ہم تک بھی پہنچ چکی ہے۔اور اب مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس حویلی کے علاوہ بھی یہاں قبیل خان کے آدمیوں کا کوئی ٹھکانہ ہے یا نہیں ،البتہ علام خیل یہ اس لیے نہیں لے کر گئے کہ عوامی گاڑی میں جاتے ہوئے ملک خوشحال خان تک میری گرفتاری کی خبر پہنچ جاتی۔اور فی الحال یہ اس خبر کو راز رکھنا چاہتے تھے۔“
”ہونہہ!....“کہہ کر پلوشہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔
” آپ کے متعلق کچھ جان سکتا ہوں۔“اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
”ہمیں تم قبیل خان کے دشمن سمجھو۔“یہ کہتے ہی وہ لاشوں کی تلاشی لینے لگی۔ان کی جیبوں سے نکلنے والی نقدی اس نے اپنی جیب میں منتقل کی اور غیر ضروری چیزیں ان کے قریب ہی پھینک کر وہ تیسری لاش کی طرف بڑھ گئی۔ڈریگنوو کی گولی اس کے ماتھے کی بائیں جانب لگی تھی۔اس کی جیب سے بھی نقدی اور ایک موبائل فون نکال کر اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے اس نے مرنے والے کی کلاشن کوف اٹھائی اور میری طرف بڑھ آئی۔ان دو لاشوں کے پاس تین کلاشن کوفیں پڑی تھیں۔
”یہ کلاشن کوف میری ہے۔“پلوشہ کو کلاشن کوفیں سمیٹتے دیکھ کر قابل خان نے ایک روسی ساخت کی کلاشن کوف کی جانب اشارہ کیا جس کی بیرل قلم نما ترشی ہوئی تھی۔
”اٹھا لو۔“باقی دونوں کلاشن کوفیں اٹھا کرپلوشہ نے قابل خان کو اپنی کلاشن اٹھانے کا اشارہ کیا۔
”شکریہ۔“کلاشن کوف اٹھا کر وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولا۔
”اب یہاں سے بھاگنے کی کرو۔یہ نہ فائرنگ کی آواز سن کر اس خبیث کے مزید آدمی یہاں پہنچ جائیں۔“
”آپ دونوں کے نام جان سکتا ہوں۔“اپنی کلاشن کوف کندھے سے لٹکاتے ہوئے اس نے سوال کیا۔
پلوشہ اسے جواب دینے کے بجائے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
”میرا نام ذیشان اور میرے ساتھی کا پلو خان ہے۔“اس کا استفسار سمجھتے ہوئے میں نے براہ راست قابل خان کو جواب دیا۔
”آپ دونوں کا ایک بار پھر شکریہ۔اگر کبھی میرے لائق کوئی خدمت ہو تو میرا علاقہ وشلام ہے۔“ہم سے الوداعی مصافحہ کرکے وہ چل پڑا اس کا رخ دائیں جانب نکلنے والے نالے کی طرف تھا۔ہم بھی اپنے رستے پر چل پڑے تھے۔تھوڑا سا چلتے ہی وہ کہنے لگی میرا خیال ہے یہ کلاشن کوفیں یہیں چھپا دیتے ہیں۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”جو مرضی آئے کرو۔“
اور وہ سر ہلاتے ہوئے ایک طرف بڑھ گئی۔میں وہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔میرے زخم سے رہ رہ کر درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔چار پانچ منٹ بعد وہ کلاشن کوفیں چھپا کر لوٹ آئی۔یقینا تین کلاشن کوفیں ایک ڈریگنوو رائفل ،اپنا اور میرا سامان یہ سب کچھ اٹھا کر ان پہاڑوں میں چلنا کافی دشوار تھا۔ اس نے بھی اسی وجہ سے کلاشن کوفیں وہیں چھپانے کا مشورہ دیا تھا۔
اس کے قریب آتے ہی میں دوبارہ اٹھ کر چل پڑا۔چار پانچ گھنٹوں کے بعد ہم کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک میں پہنچ گئے تھے۔میرے لیے یہ سفر کافی تکلیف دہ اور مشکل ثابت ہوا تھا۔بیٹھک میں داخل ہو کر اس نے جلدی سے بستر جھاڑ کر مجھے لیٹنے میں مدد دی۔
”تم آرام کرو میں کسی ڈاکٹر کو یہاں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔“وہ جب بھی سنجیدہ ہوتی لڑکے کے انداز میں بات کیا کرتی تھی۔
میں نے اسے جواب دیے بغیر آنکھیں بند کر لیں اوروہ باہر نکل گئی۔اس کی واپسی سے پہلے کمانڈر نصراللہ آگیا وہ عمر کی اس سطح پر تھا کہ اب وہ ٹریننگ یا عملی طور پر کسی سرگرمی میں حصہ لینے کے قابل نہیں تھا۔بس کبھی کبھار اہم امور کی مشاورت کے اسے بلالیا جاتا۔باقی وقت وہ گھر ہی میں گزارا کرتا۔ اس وقت بھی بیٹھک کا تالا کھلا دیکھ کر وہ اس طرف چلا آیا تھا۔
”اسلام علیکم !....ارے یہ کیا ہوا ؟“سلام کہتے ہی اس کی نظر میرے زخمی کندھے پر پڑی اور اس نے پوچھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”وعلیکم اسلام۔“کہہ کر میں اسے زخمی ہونے کی وجہ بتانے لگا۔
”ہونہہ!....اب پلو خان کہاں گیا ہے ؟“
”وہ ڈاکٹر کو بلانے گیا ہے۔“یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ بیٹھک کا بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
”شاید پلو خان ڈاکٹر کو لے آیا ہے۔“کمانڈر نصراللہ نے کہا۔اس کی بات کی تصدیق اگلے ہی لمحے ہو گئی جب پلوشہ۔”اسلام علیکم۔“کہتے ہوئے ایک باریش شخص کے ہمراہ نمودار ہوئی۔عمومی طور پر ڈاکٹر حضرات کلین شیو ہوتے ہیں۔مگر اس کے چہرے پر بہت خوب صورت گھنی داڑھی تھی۔
سلام کا جواب دے کر کمانڈر نصراللہ ڈاکٹر اور پلوشہ سے ہاتھ ملانے لگا۔
پلوشہ نے ڈاکٹر کا دوائیوں والا بکس اٹھایا ہوا تھا۔ڈاکٹر کمانڈر نصراللہ سے ہاتھ ملا کر میرے زخمی بازو کی طرف متوجہ ہو گیا۔سب سے پہلے اس نے پلوشہ کی باندھی ہو ئی پٹیاں تیز دھار قینچی سے کاٹ کر زخم سے علاحدہ کیں اور پھر زخم کو احتیاط سے صاف کرنے لگا۔
زخم صاف کر کے اس نے چند ٹانکے لگائے کیونکہ پلوشہ کے تیز دھار خنجر نے زخم کے منھ کو کھول دیا تھا۔اور پھر دوبارہ سے تازہ پٹی باندھنے لگا۔پٹی باندھ کر اس نے درد کش انجیکشن لگایا اورمختلف گولیاں نکال کر پلوشہ کو کھانے کی ترتیب بتانے لگا۔
 پلوشہ اسے دروازے تک چھوڑنے گئی اور پھر واپس آگئی۔
کمانڈر نصراللہ نے پوچھا۔”آپ لوگوں کے لیے کھانا لاﺅں ؟“
”بھوک تو بہت سخت لگی ہے۔“پلوشہ نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔اور کمانڈر نصراللہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔
٭٭٭
رات کو میں نے آئی کام پر الفا ٹو سے رابطہ کیا۔میں پہلی بار اس سے رابطہ کر رہا تھا۔اسے کوڈ میں تازہ صورت حال بتا کر میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔میجر اورنگ زیب تک اپنے زخمی ہونے کی خبر پہنچانا لازمی تھا کیونکہ میں کم از کم مہینے بھر کے لیے تو ناکارہ ہو گیا تھا۔
الفا ٹو سے ہونے والی تمام گفتگو پلوشہ نے بھی سنی تھی لیکن اس نے یہ الفا ٹو کے بارے جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔گفتگو کے اختتام پر وہ مجھے دوائی کھلانے لگی۔گولیاں کھلا کر اس نے نیم گرم دودھ کا گلاس مجھے پکڑا دیا۔
”میرا خیال ہے تم چند دن اپنے گھر میں آرام کر لو۔“دودھ پی کی میں نے خیال ظاہر کیا۔
”شاید تم چھپنے کا ارادہ کیے بیٹھے ہو۔مگر میں تمھاری یہ ترکیب کامیا ب نہیں ہونے دے سکتی۔“
”تمھیں مشورہ دینا ہی فضول ہے۔“
”ہاہاہا۔“اس نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔
میں نے لیٹنے کے لیے اپنے تکیے کو ہاتھ لگایا اور وہ جلدی سے آگے بڑھ کر مجھے لیٹنے میں مدد دینے لگی۔
لیٹتے ساتھ ہی میری آنکھیں بند ہونے لگی تھیں یقینا میری دوائی میں خوب آور گولی بھی شامل تھی۔میری آنکھ پیاس لگنے کی وجہ سے کھلی تھی۔پلوشہ مجھے ساتھ والی چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے اونگھتی نظر آئی۔میں نے اٹھنے کی کوشش کی اور ہلکی سی آواز سن کر وہ جاگ گئی۔
”کہاں جا رہے ہو ؟“جمائی لیتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی۔
”پانی پینا تھا۔“اسے جاگتے دیکھ کر میں نے اٹھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
”تو مجھے آواز دے لی ہوتی۔“چارپائی سے اٹھ کر وہ کونے میں پڑے گھڑے کی جانب بڑھ گئی۔پانی کا بھرا گلاس پکڑا کر اس نے مجھے سہارا دے کر اٹھایا اور پانی پلا کر دوبارہ لٹا دیا۔میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہونے لگیں۔
اگلے دو ہفتے میں میرے کندھے کا زخم کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا۔اس دوران پلوشہ نے میری تیمارداری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔میں نے کئی بار اسے گھر جانے کو کہا مگر وہ مزاحیہ اندازا پنا کر ٹال گئی۔ کبھی کبھا ر جاتی بھی تھی تو شام تک لوٹ آتی تھی۔میں بازو کو ہلاجلاکر بیٹھک کے اندر ہی ورزش وغیرہ کر لیتا تھا۔اب میرا بازو ٹھیک ٹھاک کام کرنے لگا تھا ایک رات کو الفا ٹو سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ سردار خان نے ایک ماہ کی اور چھٹی مانگ لی ہے۔
پلوشہ بھی ساری گفتگو سن رہی تھی۔جونھی میں نے آئی کام آف کیا فوراََ بولی۔”اس کا مطلب ہے قبیل خان کے خلاف ہم دونوں کو ہمت کرنا پڑے گی ،سردار بھائی کا انتظار فضول ہے۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کی تائید کی۔
”تو پھر کیا سوچا۔“ مزید انتظار اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔”وہ خبیث تو کسی جگہ ٹکتا ہی نہیں۔“
”افغانستان جانے کے بارے کیا خیال ہے ؟“میں نے مشورہ مانگنے والے انداز میں پوچھا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”چلے جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک چکر اس کی حویلی کا لگا لیں آج کل وہاں زور و شور سے کام شروع ہے۔“
”ہاں اس کی عیاشی کا اڈہ جو تھا۔“
کافی دیر تک ہم منصوبہ بناتے رہے آخر میں طے کیا کہ کل صبح ہم ڈی بلاک پر جا کر وہاں سے بیرٹ ایم 107لے کر آئیں گے اور اس کے بعد قبیل خان کے خلاف کوئی ایکشن لیں گے۔
صبح سویر ے ناشتے کے بعد ہم ویگن میں بیٹھ کر علام خیل پہنچے اور وہاں سے ڈی بلاک کی طرف چل پڑے۔یہ احتیاط ہم نے ضرور کی تھی کہ علام خیل سے ایک کلومیٹر پہلے اتر کر نالے میں ہو گئے تھے۔ڈی بلاک کے سامنے والے سنتری کو اپنا تعارف کرا کے ہم پوسٹ کمانڈر کو ملے۔پہلے والا کمانڈر وہاں موجود نہیں تھا لیکن وہ اسے ہمارے بارے مکمل طور پر بتا گیا تھا۔دوپہر کا کھانا ہم نے وہیں کھایا اور بیرٹ ایم 107اٹھا کر وہاں سے نکل آئے۔
”تم مجھے سنائپر رائفل چلانا کیوں نہیں سکھاتے۔“ڈی بلاک کی اترائی پر وہ مجھے مخاطب ہوئی۔
”یہ بھی تو کلاشنکوف اور دوسرے ہتھیاروں کی طرح چلائی جاتی ہے۔بلکہ تم نے اس دن ڈریگنوو سے دو بندے مارے توتھے اور کیا سیکھنا ہوتا ہے۔“
”جی نہیں وہ تو تیس پینتیس گز دور تھے۔اتنے فاصلے سے تو انھیں پستول سے بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔بعد میں ایک آدمی کے لیے میں نے بیس سے زیادہ گولیاں فائر کیں مگر ناکام رہی اور تم نے زخمی ہوتے ہوئے بھی فقط ایک گولی چلا کر اس کا خاتمہ کر دیا۔“
میںنے مسکراتے ہوئے کہا۔”تو اس میں کمال سنائپر رائفل کا تو نہ ہوا نا ،یہ کام تو میں کلاشن کوف یا کسی اور رائفل سے بھی کر سکتا تھا۔بھول گئی ہو جب تمھارے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنایا تھا۔“
”اس دن تو تمھارے ہاتھ کانپ رہے تھے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے قہقہہ لگایا اور پھر مسلسل ہنستی چلی گئی۔
”اچھا ہی ہی بند کرو اور قبیل خان کے بارے کچھ سوچو آج سنا تھا پوسٹ کمانڈر کیا کہہ رہا تھا کہ ذخیرہ پوسٹ اور زیارت کیل کے ساتھ موجود چند اور چوٹیوں پر دہشت گردوں نے مورچہ بندی کی ہوئی ہے اور پاک آرمی کے ساتھ آئے روز فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔“
”تو اس میں قبیل خان کہاں سے آن ٹپکا۔اور تم نے پاکستان آرمی کا ٹھیکا تو نہیں لے رکھا۔“
”بکواس بند کرو ....یہ آرمی کا نہیں ملک کا کام ہے۔ملک دشمن اور دین دشمن عناصر کی سرکوبی کرنا ہر پاکستانی کا کام ہے۔“
وہ جلدی سے بولی۔”مذاق کر رہا تھا تم تو سنجیدہ ہی ہو گئے۔“
”مجھے اس قسم کا مذاق پسند نہیں ہے ،بلکہ تم تو کسی بھی قسم کا مذاق نہ کیا کرو۔“
”واہ جی واہ....وہ کیوں۔اور میںتمھیں اتنی بری کب سے لگنے لگی ہوں؟....جب لیٹی ہوتی ہوں تو چھپ چھپ کر مجھے پہروں گھورتے رہتے ہو اور سامنے یوں بے پروائی ظاہر کرتے ہو گویا میں تمھیں سچ مچ اچھی نہیں لگتی۔“
”کب گھورا ہے تمھیں۔“میں نے زچ ہوتے ہوئے پوچھا۔
وہ شوخی سے بولی۔”اب بھی گھور رہے ہو۔قسم سے فوجی جوان تو اس طرح نہیں ہوتے۔“
”میرا خیال ہے مجھے یہیں سے اپنا رستا جدا کر لینا چاہیے۔سردا خان خود تو چھٹیاں کاٹ رہا ہے اور تم جیسا سر درد میرے حوالے کر گیا ہے۔“یہ کہتے ہوئے میں رک گیا تھا۔
”اچھا ٹھیک ہے اب کچھ نہیں کہتی۔“میرے چہرے پر چھائے سنجیدگی بھرے تاثرات دیکھتے ہوئے اس نے ہتھیار ڈالنے میں دیر نہیں کی تھی۔
”آخری بار متنبہ کر رہا ہوں اس کے بعد اگر تم نے ذرا سی بھی بکواس کی تو ........“
”اب بس بھی کرو یار !“اس نے بیزاری بھرے لہجے میں قطع کلامی کی۔”تم بڑے یوسف ثانی ہو نا کہ ہر وقت تمھارا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا ہے۔“
”میں جیسا بھی ہوں اپنی ذات کے لیے ہوں ،باقی ہم دونوں کسی خاص مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ورنہ اس کے بعد ہم نے علاحدہ ہو جانا ہے اور یہ بات تم بھی اچھی طرح سے جانتی ہو۔“
”تم ایک بات بھول رہے ہو۔“اس کے لہجے میں کوٹ کوٹ کر سنجیدگی بھری ہوئی تھی۔
”وہ کیا ؟“اس کے لہجے نے مجھے پوچھنے پر مجبور کیا تھا۔
”یہی کہ قبیل خان کے بعد میں تمھیں قتل کر دوں گی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے جاندار قہقہہ لگایا اور میں افسوس بھرے انداز میں دائیں بائیں سر ہلانے لگا۔اس کا سدھرنا شاید ناممکن تھا۔
”ویسے سچ کہوں تو اب میرا ارادہ تھوڑا تھوڑا تبدیل ہونے لگا ہے۔جب سے تم نے میرے سر پر رکھے ہوئے گلاس کو نشانہ بنایا ہے ،میرا جی چاہ رہا ہے کہ تم سے کچھ سیکھوں لیکن ....اس بات کو حتمی نہ سمجھنا ہو سکتا ہے میں اپنے پہلے ارادے ہی پر عمل کرنا پسند کروں۔“
”اور اگر اس سے پہلے میں نے تمھیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا پھر ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔
میں نے پوچھا۔”کیوں ؟“
وہ شوخی سے بولی۔”کیونکہ میں تمھیں بہت پیاری لگتی ہوں۔“
میں طنزیہ انداز میں ہنسا۔”دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔“
”ہائے رے خوش فہمیاں۔“میری طنزیہ ہنسی پر بھی وہ کھل اٹھی تھی۔
”ایک بات تو بتاﺅ ؟“اسے خوش ہوتے دیکھ کر میں نے کہا۔
ایک لحظہ کے لیے اپنے پاﺅں روکتے ہوئے اس نے بیرٹ ایم 107کے تھیلے کو کندھے پر درست کیا اور پھر قدم میرے ساتھ ملاتے ہوئے بولی۔”پوچھو۔“
”کیا میں تمھیں اتنا گدھا نظر آتا ہوں کہ تم پر مر مٹوں کیا دنیا میں اور عورتیں مر گئی ہیں۔“
وہ کہاں ہار ماننے والی تھی فوراََ بولی۔”یہی بات تو میری سمجھ میں نہیں آ رہی ،کہ آخر تم ایک ایسی لڑکی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو جو تمھیں قتل کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہے۔اگر تمھارا یہ خیال ہے کہ اس طرح میں تمھیں قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دوں گی تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے۔“
”یہ بھی خو ب رہی ،ہر وقت اپنی قیمت بتانے کا شوق تمھیں چرایا ہوا ہے اور پیچھے میں پڑا ہوں۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے۔اور قیمت تو اس لیے بتائی ہے تاکہ تمھیں معلوم ہو میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں اور یہ کہ میرے ساتھ شادی کرنے کے لیے تمھیں کتنی کچھ رقم اکھٹا کرناپڑے گی۔“
”تمھارے لیے پچاس روپے خرچ کرنے والا میری نظر میں مہا بے وقوف ہو گا کجا پچاس لاکھ۔“
”یار!.... کہا تو ہے تم پچاس لاکھ سے چند ہزار کم کر لینا۔“اس ڈھیٹ پر میری طنزیہ باتوں کا ذرا بھی اثر نہیں ہوہا تھا۔
”اچھا اس فضول بحث کو چھوڑو اور کوئی کام کی بات کرو۔“
”کام کی بات یہی ہے کہ جب تک اس خبیث کو جہنم واصل نہیں کر دیتے آرام نہیں کریں گے۔“
میں نے پوچھا۔”کوئی منصوبہ بھی ہے یا بس ارادے ہی سے سب کام ہو جائے گا۔“
”تو بناﺅ نا منصوبہ ،منع کس نے کیا ہے۔میرا توکوئی بھی مشورہ تمھیں قبول نہیں ہوتا اور یوں بھی تم باس ہو سوچنا تمھار ا کام ہے۔“
”اچھا تمھیں مختلف ہتھیاروں کے بارے کمانڈر نصراللہ نے سکھایاہے ،جسمانی داﺅ پیچ کی تربیت بھی کسی استاد نے دی ہو گی ،مختلف زبانیں پڑھانے والا بھی کوئی استاد ہو گا ....“
”ہاں تو پھر ؟“مجھے بات ادھوری چھوڑتا دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی۔
”تو یہ کہ کیا بکواس کرنے کی بھی کوئی کلاس لی ہے یا قدرتی طورہی پر فضول گو ہو۔“
”ہاہاہا....اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے پورے پاکستان کے ساتھ یہی مسئلہ ہے کہ جن باتوں کا جواب نہ بن پڑے وہ بکواس ہی تو کہلاتی ہیں۔عوام کہتی ہے مہنگائی کم کرو حکمران کہتے ہیں بکواس بند کرو۔لوگ کہتے ہیں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرو واپڈا کا ادارہ کہتا ہے بکواس بند کرو ،مزدور کہتا ہے چار پانچ سو کی دیہاڑی سے میرے گھر کا چولھا کیسے جلے گا سیٹھ کہتا ہے بکواس بند کرو ........“
”بکواس بند کرو یار۔“اس کی لمبی ہوتی تقریر دیکھ کر میں نے قطع کلامی کی۔
اور وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔انھی باتوں کے دوران ہم علام خیل کے نالے کے قریب پہنچ گئے تھے۔شام کا ملگجا اندھیرا چھانے لگا تھا۔
پلوشہ نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔”آج شب یہیں قیام کرتے ہیں اور میں قبیل خان کی سن گن لینے کی کوشش کرتا ہوں۔“ 
”قبیل خان کے آدمیوں میں کم از کم دو تین بندے ایسے موجود ہیں جو تمھیں شکل و صورت سے جانتے ہیں۔“میں نے اسے خبردار کیا۔
”ایک تو تمھیں ہر وقت میری فکر لگی رہتی ہے۔“اس کے لہجے میں شوخی بھری تھی۔
اور میں کچھ کہے بنا وہاں بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگا۔ایک مناسب جگہ دیکھ کر میں نے اپنی پشت پر لدا سفری تھیلا اتارااور اسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔اس نے بھی بیٹھنے کے لیے میرے پہلو ہی میں جگہ پسند کی تھی۔میں نے اعتراض کرنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہ کی کہ اس نے جواباََ الٹی سیدھی گفتگو شروع کر دینا تھی۔
”میں نے کہا تھا کہ مجھے سنائپر رائفل سے فائر کرنا سیکھا دو۔“گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ پرانی راگنی الاپی۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”اچھا قبیل خان کی موت کے بعد سکھا دوں گا۔“
”بڑے چالاک ہو۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے وہ مسکرا پڑی۔
اندھیرا گہرا ہوتے ہی ہم وہاں سے چل پڑے کمانڈر عبدالحق تو ہمیں اپنے بیٹھک میں نہ ملا البتہ کمانڈر عبدالرشید بیٹنی وہاں موجود تھا۔وہ مجھے اچھی طرح پہچانتا تھا ،جبکہ پلوشہ تو ان کے ساتھ رہ چکی تھی۔ہمیں پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔
رات کا کھانا کھا کر پلوشہ مجھے اشارہ کر کے وہاں سے نکل گئی اس کی واپسی دو تین گھنٹوں بعد ہوئی تھی۔اسے تین دن ہوئے ہیں افغانستان سے لوٹے ہوئے اور پرسوں وہ ڈمبر یانی سے آگے واخدائی جا رہا ہے۔
”سچ۔“میں نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔
”ہاں بالکل صحیح اطلاع ہے مگر تم کس بات پر خوش ہونے لگے۔“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”ایک منٹ۔“میں اٹھ کر کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔عشاءکی نماز کے بعد وہ گھنٹا ڈیڑھ مشاورت کرتے تھے اور میرے اندازے کے مطابق وہ ابھی تک جاگ رہا تھا باقی آدمی دو تین منٹ پہلے ہی اس کے کمرے سے رخصت ہوئے تھے۔
”میں اندر آ سکتا ہوں۔“اس وقت کمانڈر عبدالرشید بیٹنی سونے کے لیے اپنا بستر ٹھیک کر رہا تھا جب میں نے اندر جانے کی اجازت مانگی۔
”آ جائیں۔“اس نے خوش اخلاقی سے اثبات میں سر ہلایا۔
”زحمت دینے پر معذرت خواہ ہوں کمانڈر۔“اندر داخل ہوتے ہوئے میں معذرت کا اظہار ضروری سمجھا تھا۔
”زحمت کی کوئی بات نہیں ،آئیں بیٹھیں ....اور قہوہ یا چاے پینا پسند فرمائیں گے۔“
”نہیں جناب !....شکریہ۔“میں زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھ گیا۔
”حکم کرو۔“وہ اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔
اس مرتبہ میں نے اپنی ضرورت اس کے سامنے دہرا دی۔
”ہاں یہ سب کچھ مل جائے گا لیکن اس کا مالک میں نہیں ہوں اس لیے معاوضا ادا کرنا پڑے گا۔“اس نے بے تکلفانہ دل کی بات واضح کر دی۔
”ٹھیک ہے جناب رقم جتنی کہیں مل جائے گی۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا۔
”یہ سامان کس وقت چاہیے ہو گا۔“
”صبح۔“یہ کہہ میں اس سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آیا۔ پلوشہ بے چینی سے میری منتظر تھی۔
”تم کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کے پاس کس لیے گئے تھے۔“میرے واپس پہنچتے ہی اس نے پوچھا۔
”اگر وہ اطلاع سچ ہے جو تم مجھ تک پہنچا چکی ہو تو پرسوں قبیل خان کے خلاف کارروائی کرنے کا منصوبہ میں نے سوچ لیا ہے۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“اس نے اشتیاق آمیز بے تابی ظاہر کی۔
”پہلے تم یہ بتاﺅ کہ تم قبیل خان کے ساتھ محافظوں کی کتنی گاڑیاں ہوتی ہیں ؟“
”چار گاڑیاں محافظوں کی اور پانچویں اس کی اپنی ہوتی ہے۔پانچوں گاڑیاں ڈبل کیبن ہیں اور ہر گاڑی میں پانچ یا چھے آدمی ہوتے ہیں۔“
”مطلب مجموعی طور پر پچیس تیس بندے ہوتے ہیں۔“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔”اب تم یہ بتاﺅ کہ ہم دو آدمی ان پچیس تیس آدمیوں پر کیسے قابو پائیں گے ؟“
اور میں اسے اپنا منصوبہ بتانے لگا۔
”اس میں کافی خطرہ ہے۔“منصوبہ سنتے ہی اس نے خیال ظاہر کیا۔
میں نے اس کی تردید کیے بغیر کہا۔”قبیل خان جیسے خبیث کو جہنم واصل کرنے کے لیے خطرے تو مول لینا پڑتے ہیں۔“
”ہونہہ !....“کر کے وہ فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی۔اس کے بعد ہم منصوبے کی جزئیات پر گفتگو کرنے لگے۔پلوشہ نے کئی بہترین مشورے دیے تھے۔وہ عملی زندگی میں بھی گھات چھاپے کی کارروائیوں میں حصہ لے چکی تھی۔
صبح رقم ادا کر کے ہم نے مجاہدین کے ٹھکانے سے بارود، ڈیٹونیٹر ،راکٹ لانچر اور اس کے چار راکٹ لے کر منصوبے میں طے کی ہوئی جگہ کی طرف چل پڑے۔راکٹ لانچر ہم نے مستعار لیا تھا جوکارروائی کے بعد کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کو واپس کرنا تھا البتہ بارود اور راکٹ ہمیں معاوضا دے کر لینے پڑے تھے۔
دو عدد کلاشن کوفیں ،بیرٹ ایم 107اور دو عدد پسٹل بھی ہمارے پاس موجود تھے۔چار پانچ گھنٹے مسلسل سفر کے بعد ہم مخصوص مقام پر پہنچ گئے تھے۔ملک ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں جاتے ہوئے یہ جگہ میری نظر میں آئی تھی۔اب جب قبیل خان کے جانے کی بابت معلوم ہوا تو میں نے فوراََ ایک خطرہ مول لینے کا فیصلہ کر لیا۔اگر سردار ہمارے ساتھ ہوتا تو یہ منصوبہ اور زیادہ کامیاب ہو سکتا تھا۔ہم تین مل کر زیادہ بہتر طریقے سے یہ گھات لگا سکتے تھے۔لیکن اس کی غیر موجودی مجھے اپنے ارادے سے باز نہ رکھ سکی۔یوں بھی پلوشہ ایک بہترین ساتھی تھی۔

اس جگہ پر ایک جانب کھڑی چٹانوں کا سلسلہ تھا جسے نقشہ بینی میں اسکارپمنٹ پڑھاتے ہیں، دوسری جانب نالہ تھا اور خوش قسمتی سے نالے کی ڈھلان بھی بالکل سیدھی ہی تھی۔نالہ عبور کر کے جو پہاڑی موجود تھی اس کا فضائی فاصلہ بھی دو اڑھائی سو گز سے زیادہ نہیں تھا۔ میں نے پلوشہ کے ساتھ اسی جگہ پر مورچہ بندی کا منصوبہ بنایا تھا۔دن کی روشنی میں ہم نے پتھروں کی مدد سے اپنے لیے دو تین مورچے بنائے اور شام ہوتے ہی میں سڑک کے اوپر مخصوص جگہوں پر بارود لگانے لگا۔اپنے مورچوں سے اس جگہ کا فاصلہ وغیرہ میں نے لیزر رینج فائینڈر کی مدد سے ناپ لیا تھا۔بارود لگاتے وقت پلوشہ نے بھی مدد کی تھی۔وہ ان کاموں کی اچھی خاصی ماہر تھی۔اس نے کسی بھی قدم پر مجھے سردار کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔
پلوشہ سے پتا چلا تھا کہ قبیل خان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے محافظوں کی دو دو گاڑیاں ہوتی تھیں اور اس کی گاڑی درمیان میں ہوتی تھی۔چونکہ تمام گاڑیوں کا رنگ کالا تھا اس لیے ہم گاڑیوں کی ترتیب ہی سے اس کی گاڑی کو پہچان سکتے تھے۔خود میں نے قبیل خان کی فقط تصویر ہی دیکھی تھی ،براہ راست اس کی منحوس صورت دیکھنے کا اتفاق اب تک نہیں ہو سکا تھا۔اندھیرا چھانے تک ہم تمام کاموں سے فارغ ہو گئے تھے۔وہ رات ہم نے وہیں گزاری اورصبح دم چاے وغیرہ پی کر ہم تیار ہو کر بیٹھ گئے۔ قبیل خان کی گاڑیوں سے پہلے پانچ چھے گاڑیاں گزر چکی تھیں۔اور پھر دو ر سے گرد کا طوفان اٹھا اور پانچ کالے رنگ کی گاڑیاں ایک قطار میں چلتی ہوئی اس جانب آتی دکھائی دیں۔ہم دونوں مکمل طور پر تیار تھے۔پلوشہ دوربین آنکھوں سے لگائے اسی طرف نگران تھی۔
”اسی خبیث کا قافلہ ہے۔“وہ بڑبڑانے کے انداز میں بولی۔اسے ریموٹ کنٹرول تھما کر میں نے راکٹ لانچر کندھے پر رکھ لیا تھا۔اگر ہمارا لگائی ہوئی IED ریموٹ کنٹرول سے نہ پھٹتی تو میں نے راکٹ لانچر کے ذریعے پہلی گاڑی کو اڑانا تھا۔وہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ گاڑی موڑ نہیں کاٹ سکتی تھی۔اور اگلی گاڑی کے تباہ ہونے کے بعد وہ آگے بھی نہیں جا سکتے تھے۔جس جگہ ہم نےIED (Improvised Explosive Device)لگائی تھی اس کے بعد ایک خطرناک موڑ تھا اس لیے اس جگہ گاڑیوں کی رفتار لامحالہ آہستہ ہونا تھی۔یوں بھی وہ سڑک کچی تھی اوراس پر بہت زیادہ رفتار سے گاڑی نہیں چلائی جا سکتی تھی۔تمام گاڑیاں ایک قطار میں چل رہی تھیں۔موڑ آنے سے پہلے ہی ڈرائیور نے رفتار کم کرنا شروع کر دی تھی۔دوربین آنکھوں سے لگائے پلوشہ کا ایک ہاتھ آئی ای ڈی کو پھٹانے والے بٹن پر تھا۔جونھی ہی اگلی گاڑی مخصوص جگہ پر پہنچی اس نے بٹن دبا دیا۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے بھی راکٹ لانچر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں پہلی گاڑی پر نشانہ سادھ لیا تھا۔لیکن مجھے فائر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔
کان پھاڑ دینے والا دھماکاہوا اور اگلی گاڑی چند فٹ ہوا میں اچھل کر الٹی ہو گئی۔پیچھے والی گاڑیاں فوراََ رک گئی تھیں۔پلوشہ نے فوراََ آخر میں لگائی جانے والی آئی ای ڈی کو پھاڑنے والا بٹن دبا دیا اس مرتبہ زور دار دھماکے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود گاڑی تباہ ہوئی تھی۔آخری گاڑی چند گز پیچھے تھی۔ میں نے فوراََ راکٹ لانچر کا رخ اس جانب کرتے ہوئے راکٹ داغ دیا۔اڑھائی سو میٹر سے ایک ساکن ہدف کو نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کہ میرا نشانہ خطا جاتا۔گاڑی اچھل کر کھڑی چٹانوں سے ٹکرائی اور دوبارہ سڑک پر گر گئی تین گاڑیاں اور ان میں موجود افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔دو سری اور تیسری گاڑی میں موجود قبیل خان کے آدمیوں نے فوراََ گاڑیوں کے عقب میں مورچے سنبھال لیے تھے۔انھیں ہمارے چھپنے کی جگہ معلوم ہوگئی تھی کلاشن کوفو ں کی گولیاں ہمارے سامنے پڑے پتھروں سے ٹکرانے لگی تھیں۔
”قبیل خان دوسری گاڑی کے عقب میں چھپا ہے۔“پلوشہ نے بغیر کسی تاخیر کے مجھے مطلع کرنا ضروری سمجھا تھا۔
میں نے اپنی شست تیسری گاڑی پر مرکوز کرتے ہوئے اسے کہا۔”راکٹ لوڈ کرو۔“
اس نے فوراََ پہلے سے تیار کیا ہوا راکٹ اٹھا کرآگے سے راکٹ لانچر کی مزل میں دھکیل دیا۔ اور میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سانس روکتے ہوئے راکٹ داغ دیا۔تیسرے نمبر پر موجود گاڑی کا حشر بھی پہلے والی گاڑی جیسا ہوا تھا اور اس کے عقب میں چھپے آدمی قبیل خان کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
اسی وقت دوسری گاڑی کے عقب میں موجود آدمی گاڑی کے عقب سے نکل کر موڑ کی جانب بھاگے۔مجھے اندازہ تھا کہ وہ کچھ ایسا ہی کریں گے اور میں اس کے لیے تیار تھا۔اس کے لیے بیرٹ ایم 107تیار رکھی تھی۔ 
”سفید کپڑوں والا قبیل خان ہے۔اسے مرنا نہیں چاہیے۔“مجھے سنائپر رائفل سے شست لیتے دیکھ کر وہ پکار اٹھی تھی۔
ان کی تعداد چھے تھی اور موڑ تک اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ میں تمام کو نشانہ بنا سکتا۔اگر وہ موڑ مڑنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینا خود بھی بچ جاتے اور ہمارے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے تھے۔ ان تمام میں قبیل خان اہم تھا اسی وجہ سے انھوں بھاگتے ہوئے اسے اپنے سامنے رکھا تھا۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا بس چند سیکنڈ ہی تھے۔سب سے پہلے میں نے قبیل خان کی پشت پر دوڑنے والے بندے کی پیٹھ پر گولی ماری۔سر کو نشانہ میں نے جان بوجھ کر نہیں بنایا تھا کہ وہ بھاگ رہے تھے اور اس حالت میں سر پر گولی مارنا مشکل ہو جاتا ہے۔جبکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ گولی کے خطا جانے کا خطرہ مول لے سکتا۔اڑھائی سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔مقتول منھ کے بل گرا تھا۔اس کے ساتھ ہی میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اور اگلی گولی قبیل خان کے کولہے میں جھونک دی۔ دو تین سیکنڈکی دیر ہونے پر اس نے موڑ مڑ جانا تھا۔وہ نیچے گرا اور اس کے ساتھ بھاگنے والے چاروں اسے سنبھالنے کے لیے نیچے جھک گئے۔اسی وقت میں نے اگلی گولی فائر کی اور ان کی تعداد میں ایک کی کمی ہو گئی۔دو آدمیوں نے قبیل خان کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اسے موڑ کی جانب گھسیٹا اور ایک نے گھٹنا زمین پر ٹیک کر کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا تھا۔کلاشن کوف تڑتڑاتے ہوئے آگ اگلنے لگی مگر یہ ایک اضطراری حرکت تھی۔اس نے مسلس ٹریگر دبائے رکھا۔گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھنے کی وجہ سے وہ ایک آسان ہدف ثابت ہوا تھا۔بیرٹ ایم 107کی گولی اسے ماتھے میں لگی۔پشت کے بل گرتے ہوئے بھی اس کی کلاشن کوف گولیاں اگل رہی تھی۔میرے دوبارہ رائفل کاک کرنے تک قبیل خان کے آدمی اسے گھسیٹ کر موڑ مڑ گئے تھے۔موڑ مڑ کر ایک بہت بڑے پتھر کے عقب میں لیٹ کر انھوں نے ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کر دیا۔
اس صورت حال میں مجھے خطرہ محسوس ہونے لگاتھا،کہ یہ نہ ہو ایک آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے اور دوسراقبیل خان کو سہارا دے کر وہاں سے نکل جائے۔ 
”پلوشے !....مجھے خطرہ ہے قبیل خان ایک آدمی کے ساتھ فرار نہ ہو جائے اور دوسرا آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے۔“سردار خان اسے پیار سے پلوشے کہا کرتا تھا۔نہ جانے اس وقت کیوں میں نے بھی اسے اتنی بے تکلفی سے پکار دیا تھا۔مگر وہ صورت حال اس طرح کی نہیں تھی کہ وہ میرے ایسا کہنے پر غور کر سکتی۔اور اگر اس نے غور کیا بھی تھا تو وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں بہ ہر حال بالکل بھی نہیں تھی۔
”صحیح کہا۔“اس نے فوراََ میری تائید میں سر ہلاد یا تھا۔
”تم یہاں سے سنائپر رائفل کے ذریعے انھیں فائرنگ کا جواب دیتی رہو میں پیچھے سے جا کر انھیں قابو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔”تم سنائپر رائفل پرمجھ سے بہتر فائر کر سکتے ہو اور میں تم سے زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر سکتی ہوں۔“
”مگر ....“
”کوئی اگر مگر نہیں ،میرا عتبار کرو۔“اس نے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ ہمیشہ کی طرح با اعتماد نظر آ رہی تھی۔

جاری ہے

No comments:

غازی از ابو شجاع ابو وقار قسط نمبر60 Ghazi by Abu Shuja Abu Waqar

Ghazi  by  Abu Shuja Abu Waqar  غازی از ابو شجاع ابو وقار  پیشکش محمد ابراہیم 60 آخری قسط نمبر  Ghazi by Abu Shuja Abu...

Powered by Blogger.